بندگی‌ ‌کے‌ ‌تقاضے‌: ‌امام‌ ‌ابن‌ ‌قیم‌ ‌(مترجم‌:‌ ‌حسین‌ ‌احمد‌) 

مقتبس از : الوابل الصیب و رافع الکلم الطیب  از  امام ابن قیم
شیخ الاسلام ابن قیم ایک نابغۂ روزگار ہستی فخر المسلمین اور اسلامی روایت میں ان لوگوں میں گنے جا سکتے ہیں جن پر لفظ عالم کا اطلاق اس کے مکمل معانی میں کیا جا سکتا ہے ۔ اصول دین، اصول فقہ و حدیث اور سلوک و تزکیہ میں امام کی حثیت رکھتے ہیں ۔ الوابل الصیب و رافع الکلم الطیب بندگی، ذکر خداوندی اور تزکیہ کے احوال سے متعلق ایک غیر معمولی کتاب ہے ۔ درج ذیل ترجمہ الوابل الصیب کے ابتدائی پانچ صفحات کا ہے جس میں انہوں نے عبدِ خدا کی صفات اور اس کے بندے ہونے کی حثیت سے ذمہ داریوں کو انتہائی جامعیت کے ساتھ تحریر فرمایا ہے ۔ دعا ہے کہ الله تعالی ہمیں اپنا خاص بندہ بننے کی توفیق عطا فرمائیں ۔ امین بجاہ نبی الکریم صلی الله علیه وسلم

یہ رساله ہمارے استاذ، امام و علامه شمس الدین ابو عبداللہ محمد بن ابی بکر نے تحریر فرمایا ہے جو ”ابن قَیِّم“ کے نام سے معروف ہیں۔ اللہ تعالی ان کی روح کو پاکیزہ رکھیں اور ان کی قبر مبارک کو منور فرمائیں، اور ہمیں اُن کے ساتھ اپنے عظمت والے گھر میں اکٹھا کریں۔ ہمارے استاذ نے فرمایا :

ابتدا اللہ تعالی کے نام سے جو رحمان و رحیم ہے۔خیر کی انجام دہی کی استطاعت اور شر سے روکنے کی قوت اسی بلند و برتر کے پاس ہے۔ اللہ بلند و برتر ہی ہیں جن کی بارگاہ میں سوال کیا جاتا ہے اور انہی سے امید باندھی جاتی ہے کہ وہ دنیا اور آخرت میں تمہاری مدد فرمانے والے ہیں، اپنی ظاہری و باطنی نعمتیں تم پر نچھاور کرنے والے ہیں، بوقت نعمت شکر اور بوقت مصیبت  صبر کی توفیق دینے والے ہیں اور ارتکابِ گناہ پر مغفرت فرمانے والے ہیں۔درج ذیل تین امور بندے کی خوشبختی کا عنوان ہیں اور جہانِ این و آں میں کامیابی کی علامت ہیں۔ بندہ ان سے کسی آن بھی بے اعتنا نہیں رہ سکتا  لہذا  تبدیلی کے انہی احوال سے گزرتا رہتا ہے:

پہلا یہ کہ بندے پر خدا کی نعمتیں مسلسل برس رہی ہیں، تو خدا نے ان نعمتوں کو شکر کے ساتھ منسلک کردیا۔شکر تین ارکان پر مشتمل ہے: دل میں شکر کرنا، ظاہر میں اس کا اظہار کرنا اور ان نعمتوں کے مالک حقیقی اور ان کے دینے اور نہ دینے کا اختیار رکھنے والے کی خوشنودی میں خرچ کرنا۔جب بندہ یہ اعمال کر لیتا ہے  تو اپنے  شکر ادا کرنے میں کمی کے باوجود وہ ادائیگی شکر کی ذمہ داری سے عہدہ برا ہوگیا۔

دوسرا یہ کہ خدا تعالی کی جانب سے آزمائش جس میں بندہ مبتلا ہوا،  تو اللہ تعالیٰ نے اس آزمائش  کے وقت میں صبر و تسلی کو لازم ٹھہرایا ۔ صبر قدرت کے باوجود کسی نامناسب بات سے نفس کو روک دینے، زبان کو شکایت سے روک دینے اور طمانچہ زنی، کپڑوں کی بخیہ دری اور بالوں کے نوچنے اور اس جیسی دیگر نافرمانیوں  سے اعضا کو روک دینے کا نام ہے۔

صبر کا مدار انہی تین ارکان پر ہے۔ جب بندہ ان ارکان کے تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے ان کو بجا لاتا ہے تو اس کی تگ و دو اس کے حق میں عطا بن جاتی ہے اور آزمائش بخشش کی شکل اختیار کر لیتی ہے اور تمام ناپسندیدہ امور پسندیدہ ہو جاتے ہیں۔ بے شک خداوند بزرگ و برتر اس کو ہلاک کرنے کے لیے ابتلا میں نہیں ڈالتے، بل کہ اس کا ابتلا اس کے صبر و بندگی کا امتحان ہوتا ہے۔ اس لیے کہ بندے کے لیے جیسے وسعت کے ایام میں خدا کی بندگی بجا لانا ضروری ہے، ویسے ہی سختی کے ایام میں بھی اس پر خدا کی بندگی لازم ہے۔نیز یہ بندگی ناپسندیدہ امور میں بھی ایسے ہی لازم ہے جیسے پسندیدہ امور میں ضروری ہے۔ مخلوق کی اکثریت عموما پسندیدہ معاملات میں فرمانبرداری کرتی ہے مگر عظمت کی بات تو یہ ہے کہ ناپسندیدہ امور میں بھی فرمانبرداری اختیار کرے۔ اسی فرمانبرداری کے معاملے میں بندوں کے درجے مختلف ہو جاتے ہیں، اور اسی کے پیش نظر اللہ تعالی کے ہاں مراتب ہوتے ہیں۔

گرمی کی شدت میں ٹھنڈے پانی سے وضو کرنا بندگی ہے، اور خوب رو زوجہ جس سے محبت کرتا ہے، اس سے خلوت اختیار کرنا بندگی ہے، اپنی بیوی پر اور اولاد پر اور خود پر خرچ کرنا بندگی ہے اور اسی طرح سردی کی شدت میں ٹھنڈے پانی سے وضو کرنا بھی بندگی ہے اور ایسی معصیت کہ جس میں لوگوں کا خوف نہ ہو اور نفس اس کی جانب شدید رغبت رکھتا ہو، اس کو چھوڑ دینا بندگی ہے۔ اور تنگی کے ایام میں خرچ کرنا بھی بندگی ہے مگر ہر دو طرز ہائے بندگی میں بہت بڑا فرق ہے۔

پس جو بندہ بھی دونوں حالتوں میں بندگی بجا لاتا رہا اور اپنے حصے کے پسندیدہ و ناپسندیدہ امور پر ثابت قدم رہا ، تو یہی وہ شخص ہے جس کا شمار اللہ تعالی نے اپنے قول ﴿ أَلَیْسَ اللہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ ﴾ [ الزمر : ٣٦] [1]میں کیا ہے اور دوسری ایک قرات میں ﴿ عِبَادَہٗ﴾ ہے۔دونوں کا ایک ہی مطلب ہے ، اس لیے کہ مفرد مضاف ہے ، تو عموم جمع کا فائدہ دے گا ۔

مکمل کفایت کامل بندگی کے ساتھ ہے ، اور ناقص کفایت ادھوری بندگی کے ساتھ ، تو جو کسی خیر کو پائے تو شکر خداوندی بجا لائے اور اگر خیر کے علاوہ کچھ نصیب میں ہو تو اپنے آپ ہی کو ملامت کرے۔ 

اور یہی وہ بندگان خدا ہیں کہ جن پر خدا کے دشمن کا زور نہیں چلتا۔  اللہ تعالی کا فرمان ہے : ﴿ إِنَّ عِبَادِی لَیْسَ لَیْسَ لَکَ عَلَیْھِم سُلْطَانٌ ﴾ [ الحجر : ٤٢] [2] اور جب دشمنِ خدا  ابلیس کے علم میں یہ بات آئی کہ اللہ تعالی اپنے بندوں کو اس کے سپرد نہ کریں گے ، اور نہ ہی اپنے بندوں پر اس کا زور چلنے دیں گے تو کہنے لگا : ﴿ فَبِعِزَّتِکَ لَاُغْوِیَنَّھُمْ اَجْمَعِیْن ، اِلَّا عِبَادَکَ مِنْھُمُ الْمُخْلَصِیْنَ ﴾ [ص : ٨٢][3] ۔ اور اللہ تعالی نے فرمایا : ﴿ وَلَقَدْ صَدَّقَ عَلَیْھِمْ إِبْلِیْسُ ظَنَّهُ فَاتَّبَعُوہُ إِلَّا فَرِیْقاً مِنَ الْمُؤ مِنِیْنَ • وَمَا کَانَ لَهُ عَلَیْھِم مِنْ سُلْطَانٍ إِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ یُّوْمِنُ بِالآخِرَةِ مِمَّن ھُوَ مِنْھَا فِیْ شكٍّ ﴾ [ سبا : ٢٠-٢١] [4]

اللہ تعالی کے ایمان والے بندوں پر خدا کے دشمن کا کوئی زور نہیں چلتا ، چونکہ ایمان والے تو خدا کی پناہ اور نگہبانی ، اور حفاظت و چھترچھایا میں رہتے ہیں ، اور اگر دشمن خدا کسی صاحب ایمان پر اچانک حملہ کرے جیسے کوئی اچکا کسی غافل شخص پر اچانک  آ پڑتا ہے ، تو ایسا ہونا تو طے ہے اس لیے کہ بندہ کبھی غفلت ، خواہش یا غصے کا شکار ہوتا ہے ، اور بندہ جس قدر بھی بچنے کی کوشش کرے دشمن خدا ان تین دروازوں سے داخل ہوتا ہے ، یا تو لازما غفلت کے دروازے سے گھسے گا ، یا خواہش و غضب کے دروازے سے داخل ہوگا۔

ابو البشر سیدنا آدم  علیه السلام تمام مخلوق میں سب سے زیادہ ضبط و تحمل، سب سے زیادہ شعور کے حامل  اور سب سے بڑھ کر ثابت قدم تھے مگر خدا کا دشمن ان سے  ہر گز پیچھے نہ ہٹا اور بالآخر سیدنا آدم کو اس صورتحال میں لے آیا جس میں وہ لانا چاہتا تھا، تو کسی ناقص عقل والے کی بابت کیا خیال ہے؟، جب کہ اس کی عقل اس کے والد کی عقل کے مقابل سمندر میں جھاگ کی مانند ہے ‍ ؟  مگر خدا کا دشمن غفلت و لاپرواہی کی حالت میں مومن تک دھوکے سے پہنچتا ہے، پس اس پر مسلط ہوتا ہے اور خیال کرتا ہے کہ وہ اس کے بعد اپنے بزرگ و برتر  پروردگار کی جانب متوجہ نہ ہوگا، اور اس واقعے نے تو یقینا اسے سیدھے راستے سے بھٹکا چھوڑا اور نیست و نابود کر چھوڑا ہے، جب کہ اللہ تعالی کا فضل، اللہ کی رحمت اور اس کا عفو و درگزر ان تمام سے ماوراء ہے۔

جب خداوند اپنے بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتے ہیں تو اس کے لیے توبہ، ندامت، انکسار اور نیازمندی، عجز، اللہ سے مدد طلبی  اور اس کے سہارے کی سچی طلب، اور عاجزی میں استقلال اور دعا کا در وا کردیتے ہیں، اور اللہ کی قربت جس قدر نیکیوں سے ممکن ہو سکے تآنکہ اس کی وہ برائیاں بھی اللہ کی رحمت کا سبب بن جاتی ہیں اور بات یہاں تک پہنچتی ہے کہ خدا کا دشمن شیطان پکار اٹھتا ہے : اے کاش میں  اسے چھوڑ دیتا اور اس کے درپے نہ ہوتا۔

بعض سلف کے اس قول کا یہی مطلب ہے : آدمی گناہ کرتے کرتے جنت میں داخل ہو جاتا ہے اور نیکی کرتے کرتے دوزخ میں پہنچ  جاتا ہے۔ پوچھنے والوں نے پوچھا : ایسا کیونکر ہے ؟ ، فرمایا : وہ گناہ کرتا ہے اور اس کا گناہ اس کی آنکھوں کے سامنے رہتا ہے ، وہ اس سے ڈرتا ہے ، خوف کھاتا ، روتا اور نادم ہوتا ہے اور اللہ تعالی سے شرمندہ ہوتا ہے ، شکستہ دل ہو کر اس کے سامنے سر نگوں ہو جاتا ہے ، پس وہ گناہ بندے کی خوشبختی اور کام یابی کا ذریعہ بن جاتا ہے یہاں تک کہ وہ گناہ اس بندے کے واسطے ڈھیروں نیکیوں سے زیادہ سود مند ثابت ہوتا ہے کہ اس گناہ کے سبب اس سے  کئی ایسے کام سرزد ہوتے ہیں جو بندے کے لیے خوش بختی اور کام یابی کا ذریعہ بنتے ہیں ، حتی کہ وہ گناہ اس کے جنت میں داخل ہونے کا وسیلہ بن جاتا ہے۔

اس کے بر خلاف بندہ نیکی کر کے اسے خدا پر احسان جتلانے کے در پے رہتا ہے ، اپنی نیکی کو بڑا سمجھتا ہے اور خود میں پھولے نہیں سماتا، اسے کوئی انوکھی بات سمجھنے لگتا ہے، اور کہنے لگتا ہے : میں نے ہی اس کو انجام دیا ہے، یہ میرا ہی کیا ہوا ہے، اور اس کا یہی عُجب اور تکبروتفاخر  پیچھے رہ جاتا ہے جو اس کی ھلاکت کا سبب بنتا ہے۔ جب اللہ تعالی اس تہی دامن سے بھلائی کا ارادہ کرتے ہیں تو اس کو ایسے کام میں مبتلا کردیتے ہیں جو اس کی اکڑ رفو کردے پھر اللہ اس کی گردن کو جھکا  دیتے ہیں اور اس کو اپنی ہی نظروں میں حقیر و ناتواں بنا دیتے ہیں اور اگر خداوند بھلائی کے علاوہ کا ارادہ فرماتے ہیں تو اس کی اور اس کے عجب و تکبر کی رسی ڈھیلی کردیتے ہیں اور یہی وہ رسوائی ہے جو انسان کے واسطے  ہلاکت ثابت ہوتی ہے۔

تمام کے تمام صاحبان معرفت اس بات پر متفق ہیں کہ توفیق یہ ہے کہ : خداوند تمہیں تمہارے سپرد نہ کریں جب کہ رسوائی یہ ہے کہ : خداوند تمہیں تمہارے ہی سپرد کردیں۔ اللہ تعالی جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتے ہیں اس پر نیازمندی اور انکساری کا باب کھول دیتے ہیں ، اور ہر آن کی محتاجی اور بیچارگی کا در وا کردیتے ہیں ، اور اپنے عیب ، جہالت اور ظلم و زیادتی پر نظر کرنے کی توفیق عطا فرماتے ہیں ، اور اپنے پروردگار کے فضل و احسان ، رحمت و سخاوت اور بھلائی و بے نیازی اور اس کی حمد و تعریف کے مشاھدے کی توفیق ارزاں کرتے ہیں۔  

صاحب معرفت اللہ تعالی کی جانب انہی دو پروں کے سہارے محو پرواز ہوتا ہے۔ اس کے لیے ان دو پروں کے بغیر وصال ممکن نہیں ہے ، اگر ان میں سے ایک پر بھی وہ گم کر بیٹھے تو وہ اس پرندے کی مانند ہے جس نے اپنا ایک پر گم کردیا ہو۔

شیخ الاسلام ہروی [5] کا فرمان ہے : عارف خدا کی طرف مشاہدۂ نعمت، نفس کے عیب اور عمل کے نقص کو مد نظر رکھتے ہوئے محو سفر ہوتا ہے۔ 

اور ایک صحیح حدیث میں رسالت مآب صلی الله علیه وسلم کے قول کا یہی مطلب ہے : ” سید الاستغفار أن یقول العبد : اللھم أنت ربی لا إله إلا أنت ، خلقتنی ، و أنا عبدک ، و أنا علی عھدک و وعدک ما استطعت ، أعوذبک من شر ما صنعت ، أبؤلک بنعمتک علی ، وأبوء بذنبی ، فاغفرلی ، إنه لایغفر الذنوب إلا أنت ۔ “ [6]

رسالت مآب صلی الله علیه وسلم نے مشاہدۂ نعمت اور نفس و عمل کے مطالعۂ عیب  کو اپنے فرمان : ” أبوء لک بنعمتک علی  و أبوء بذنبی “ میں یکجا کردیا ہے۔

مشاہدۂ نعمت ، نعمت کے مالک حقیقی و احسان کرنے والے کے واسطے محبت ، تعریف کرنے اور شکر بجا لانے کو لازم کرتا ہے اور نفس میں عیب اور عمل میں کمی کو زیر غور رکھنا اس کے لیے نیاز مندی، انکساری ، محتاجی اور ہر گھڑی توبہ کرنا اور اس بات کو لازم  کرتا ہے کہ وہ خود کو تہی دامن سمجھے، اور اللہ تعالی تک پہنچنے کا سب سے قریبی دروازہ افلاس کا دروازہ ہے ، بندہ اپنے لیے نہ تو کسی وقت کو بہتر سمجھتا ہے اور نہ ہی کسی مقام کو اپنے واسطے بھلا جانتا ہے ، اور نہ خداوند تک پہنچنے کا کوئی سبب پاتا ہے اور نہ ہی کوئی وسیلہ پاتا ہے کہ اس کے ذریعے خداوند پر احسان جتلائے ، بل کہ بارگاہ خداوندی میں تہی دست و دامن اور افلاس محض کے ساتھ ایک ایسے بندے کی طرح باریابی پاتا ہے جس کا دل فقر و مسکنت نے شکستہ کردیا ہے اور مسکنت اس کے دل کی گہرائیوں تک سرایت کر گئی ہے اور اس کو شکستگی نے چار سو گھیر لیا ہے ، اور وہ اپنے بزرگ و برتر پروردگار کی ضرورت محسوس کرتا ہے اور اس کی کامل احتیاج کا احساس پاتا ہے ، اور اپنے  ظاہری و باطنی حصوں تک میں رب کی کامل احتیاج اور مکمل ضرورت محسوس کرتا ہے، اور رب تعالی اگر اسے پلک جھپکنے کی مقدار بھی چھوڑ دیں تو وہ نیست و نابود ہو جائے ، اور اسے اس قدر خسارہ ہو کہ جس کی تلافی نہ ہو سکے سوائے اس صورت میں کہ اللہ تعالی اس کو دوبارہ اپنے دامن میں سمیٹ لیں اور اپنی رحمت سے اس کی تلافی فرمائیں۔ اللہ تعالی کے وصال کا قریب ترین راستہ بندگی کے سوا کوئی نہیں ہے اور دعوئ نیکی سے بڑھ کر کوئی دبیز تر پردہ نہیں۔

بندگی کا مدار دو قاعدوں پر ہے جن کی دو بنیادیں ہیں یعنی  کامل محبت اور مکمل نیاز مندی اور ان دو بنیادوں کا اصل الاصول گزشتہ دو بنیادیں ہیں ، مشاہدۂ نعمت جو کامل محبت کو پہنچا ہوا ہو اور مطالعۂ عیبِ نفس و عمل جو مکمل نیازمندی پر منتج ہونے والا ہو۔جب بندہ خدا کی جانب اپنے راستے کا سنگ میل ان دوبنیادوں پر رکھے تو کوئی وجہ نہیں کہ خدا کا دشمن شیطان سوائے غفلت و لاپرواہی کے لمحے کے کام یاب ہو پائے۔اور اللہ تعالی نہایت جلد  اس کے اثر کو زائل کردیں گے اور اپنی رحمت سے اس کا تدارک فرمائیں گے۔

{ ابن القیم الجوزیة ، الوابل الصیب و رافع الکلم الطیب ( مکتبة دار البیان ، دمشق ) مطبوعة ١٩٨٦ء ، صفحة ٥ – صفحة ١١ }


[1]  کیا اللہ اپنے بندے کو کافی نہیں ؟

[2] بے شک میرے بندوں پر تیرا کچھ بھی بس نہیں چلے گا۔   

[3] تیری عزت کی قسم ! میں ان سب کو گمراہ کر دوں گا مگر ان میں میں جو تیرے خالص بندے ہوں گے ( ان پر میرا بس نے چلے گا)

[4] اور البتہ شیطان نے ان پر اپنا گمان سچ کر دکھایا  سوائے ایمان داروں کے ایک گروہ کے سب اس کے تابع ہو گئے حالانکہ ان پر اس کا کوئی زور بھی نہیں تھا مگر یہی کہ ہم نے ظاہر کرنا تھا کہ کون آخرت پر ایمان لاتا ہے اور کون اس سے شک میں پڑا ہوا ہے۔  

[5] عبداللہ بن محمد ، ابو اسماعیل الھروی ، مشہور صوفی اور محدث ، علم سلوک میں منازل السائرین لکھی جس کی شرح امام ابن قیم نے مدارج السالکین کے نام سے کی جو علم سلوک و تصوف کا شاندار مجموعہ ہے۔ مندرجہ بالا عبارت ابن قیم نے منازل السائرین سے ہی نقل کی ہے۔

[6] اے ﷲ! تو میر ا رب ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو نے ہی مجھے پیدا کیا اور میں تیرا ہی بندہ ہو ں میں اپنی طاقت کے مطابق تجھ سے کیے ہو ئے عہد اور وعدہ پر قائم ہوں، ان بر ی حرکتوں کے عذاب سے جو میں نے کی ہیں  تیری پناہ ما نگتا ہوں، مجھ پرجو تیری نعمتیں ہیں ان کا اقرار کرتا ہوں ، اور اپنے گنا ہوں کا اعتراف کرتا  ہوں ۔ میری مغفرت کر دے کہ تیرے سوا اور کوئی بھی گناہ معاف کرنے والا نہیں

Recommended Posts

Leave a Comment

Jaeza

We're not around right now. But you can send us an email and we'll get back to you, asap.

Start typing and press Enter to search