اختتام اور شروعات، شاعر: وسلاوا شمبورسکا (مترجم: اختر مرزا)

 In ترجمہ, نظم

ہر جنگ کے بعد

کسی نہ کسی کو تو صفائی کرنی ہوتی ہے۔

چیزیں خود تو

ٹھیک نہیں ہو جاتی ناں۔

کسی نہ کسی کو تو ملبے کو 

سڑک کے کنارے دھکیلنا ہوتا ہے

تاکہ 

لاشوں سے بھری گاڑی گزر سکے۔

کسی نہ کسی کو تو 

راکھ اور گندگی

صوفے کے سپرنگ

ٹوٹے شیشوں 

اور خون آلود کپڑے کے چیتھڑوں

میں لت پت ہونا ہوتا ہے۔

کسی نہ کسی کو تو شہتیر گھسیٹناہوتا ہے

تا کہ دیوار کھڑی ہو سکے

کسی نہ کسی کو تو کھڑکیوں پہ شیشے لگانے ہوتے ہیں،

اور دروازہ لگانا ہوتا ہے۔

ابھی تصویراتارنے کے قابل نہیں ہے یہ مقام،

ابھی کئی برس لگیں گے۔

اگلی جنگ کے لیے 

تمام کیمرے جا چکے ہیں۔

ہمیں پُلوں کی دوبارہ ضرورت ہوگی

اور ریلوے سٹیشن کی بھی۔ 

آستینیں خراب ہو جائیں گی

کیوں کہ انھیں اوپر کھینچا جا رہا ہے۔

کوئی،

 ہاتھ میں جھاڑو لیے

یاد کرتا ہے جیسا پہلے ہوتا تھا۔

کوئی ہے جو سُنتا ہے اور

اُس سر سے، جو ابھی تک شانوں پر سلامت ہے، تائید کرتا ہے۔

لیکن ابھی سے ہی  قریب ہی کچھ لوگ دکھتے ہیں

جو ہاتھا پائی کریں گے،

جنھیں یہ سب بے رنگ لگے گا۔

جھاڑیوں میں سے 

کبھی کبھار کوئی نہ کوئی 

بوسیدہ بحثوں کی قبریں کھودتا ہے

اور انھیں کچرے کے ڈھیر میں لا پھینکتا ہے۔

وہ جو جانتے ہیں

کہ یہاں کیا ہو رہا تھا

انھیں ان کے لیے راستہ بنانا چاہیے

جو کم جانتے ہیں ۔

اور کم سے بھی کم جانتے ہیں۔

اور آخر کار اتنا کم جانتے ہیں کہ وہ جانتے ہی نہیں۔

گھاس جو اسباب و اثرات 

سے باہر نکل گئی ہے

کوئی تو اس پر دراز لیٹتاہے

منہ میں گھاس کا تنکا رکھ کر

آسمان پہ بادلوں کو دیکھتے ہوئے۔

Recommended Posts

Leave a Comment

Jaeza

We're not around right now. But you can send us an email and we'll get back to you, asap.

Start typing and press Enter to search