فنِ تعمیر اور جنگ: مروہ صابونی سے کچھ سوالات (انٹرویو: حازم بدر، ترجمہ: حسن ہمدانی)

مروہ صابونی ایک شامی ماہر تعمیرات اور اپنے فن میں مزاحمت کا استعارہ ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ کسی بھی معاشرے میں امن اور ثقافتی احوال کی بقا  اور ثقافتی اور قومی شناخت کی بقا میں  گلی ، محلوں اور بازاروں کی تعمیر بہت بڑا کردار ادا کرتی ہے۔ مروہ عمل کا بہترین نمونہ ہیں کہ انہوں نے جس قدیم روایتی تعمیراتی ساخت کو امن کی بقا کا ایک سبب قرار دیا عملا اپنے آبائی شہر حِمص اور شام میں دیگر کئی جگہوں پر ان تعمیرات کو عملی صورت بھی دی ہے۔ مروہ کی مشہور ترین کتاب The      Battle      for      Home  جو 2016 میں شائع ہوکر داد تحسین وصول کر چکی ہے اور اب 2021 میں ان کی کتاب Building      for      Hope بھی شائع ہوچکی ہے۔

اپنے شہر  حمص کی جنگ زدہ  برباد عمارتوں کو پس منظر میں لیے نوجوان شامی آرکیٹیکٹ مروہ صابونی کھڑی ہیں اور ان کے چہرے کی مسکراہٹ تصویر کا نقطۂ ماسکہ ہے۔ یہ وہ تصویر ہے جسے پبلشر نے ان کی کتاب ’’وطن کی خاطر جنگ: ایک شامی سول انجنیئر خاتون کی یاد داشتیں‘‘ کے سر ورق کے لیے منتخب کیا ہے۔  ہو سکتا ہے کہ آپ کہیں ان کی مسکراہٹ بے موقع ہے، کہ انہدام و سقوط کے اس منظر نامے میں یہ بے جوڑ لگ رہی ہے، لیکن ان کے خیالات جنھیں اس کتاب میں پیش کیا گیا ہے ، آپ کو یہ کہنے پر آمادہ کر دیں گے کہ مروہ ایک خوش امید خاتون ہیں، کہ ابھی تک یہ سمجھتی ہیں کہ برباد شدہ آبادیوں کی پھر بسائی کسی مختلف  فکر و فلسفہ کی بنیاد پر کی جا سکتی ہے، ایسا فکر…ایسا فلسفہ جو اب کی بار بے چارے انسان کی بھی کچھ سنے گا۔

مروہ سمجھتی ہیں کہ معاصر فن تعمیر بھی شامی خانہ جنگی کے اسباب  میں شامل ہے۔ بایں طور کہ اس نے شہر کے محلے ایک دوسرے سے کاٹ دیے ہیں اور باشندوں کو ان کی نسل و دین وغیرہ کی بنیادوں پر ایسے بانٹا کہ فرقہ بندی اور تنہائی  شدید ہو گئی اور جھگڑے کی وجوہات و مواقع بڑھ گئے۔

خاتون سول انجنیئر فن تعمیر کی تاریخ پر بحث کرتے ہوئے حمص شہر کی پرانی اور نئی آبادیوں کا تقابل کرتی ہیں۔ یہ تقابل خانہ جنگی میں ملوث و متأثر ہونے کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ وہ اس نتیجے پر پہنچی ہیں کہ آج جو ہم شناخت کی گم شدگی اور معاشرتی ہم آہنگی کے فقدان سے دو چار ہیں تو اس کی ایک وجہ ماڈرن طرزِ تعمیر بھی ہے۔

SciDev.net ویب سائٹ کے لیے کی گئی اس گفتگو میں ہم مروہ کا نقطۂ نظر سمجھنے کی کوشش کریں گے تا کہ ان کی امیدوں اور خوابوں کو حقیقی تعبیروں میں ڈھالا جا سکے۔ یہ گفتگو ٹیلی فون کے ذریعے کی گئی ہے کیونکہ مروہ شام میں ہی مقیم ہیں۔

سب سے پہلے… شناخت کے بحران اور ہم آہنگی کے فقدان کا سبب فن تعمیر کو کیسے ٹھہرایا جا سکتا ہے؟

اس سوال کا جواب سمجھنے کے لیے حمص کے پرانے محلوں کی تاریخ جاننا ضروری ہے، تاکہ ہم جو ہو گزرا، اس میں اور جو اس کے نتیجے میں برآمد ہوا، اس میں تقابل کر سکیں۔ حمص کے (پرانے) محلوں میں قومیتیں اور مذاہب خلط ملط  تھے۔ سب لوگ ایک ہی ظرف میں ڈالے گئے تھے جہاں فنِ تعمیر کی جزئیات انھیں ایک دوسرے کے قریب لاتی تھیں۔ مثلاً محلے کے بیچ میں ہی چھوٹی موٹی دکانیں ہوتی تھیں جہاں سے ضرورت کا سامان لیا جا سکتا تھا، اسی طرح عوامی باغیچے بھی تھے جن کی وجہ سے ایک محلے کے لوگوں کو ایک جگہ پر اکٹھے ہونے کا موقع مل جاتا تھا۔ تو گویا محلے کی کٹھالی میں پڑے یہ علیحدہ علیحدہ انسان فن تعمیر کی حرارت سے پگھل کر ایک ہم آہنگ وجود میں ڈھل جاتے تھے۔

یہ وہ احوال تھے جب باشندگانِ شہر میں علاقائی  وابستگی  اور اس کی بنیاد پر قائم ہونے والی دوستی موجود تھی۔ مگر یہ وابستگی اور یہ دوستی تب کھوئی گئی جب حمص نئے فن تعمیر سے آشنا ہوا۔ جس کی بدولت شہر کنکریٹ کے بے روح بلاکوں میں بانٹ دیا گیا۔

اس صورت میں آپ اس روح اور ہمزبانی کی تجدید و احیاء کی ذمہ داری اداروں کے حوالے کیوں کرنا چاہتی ہیں؟ حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ تعمیراتی منصوبے ملکی معیشت سے گہرے طور پر متعلق ہیں جبکہ آپ کے نظریات کی اقتصادی منفعت اتنی واضح نہیں ؟

میں نے اپنی کتاب میں جن نظری بنیادوں کی دہائی دی ہے ان کا تعلق اقتصاد و معیشت سے زیادہ باشندگانِ شہر کے درمیان یکجائی و یک آہنگی  و یگانگی پیدا کرنے سے ہے۔ ہم یہ نہیں چاہتے کہ اس کونے میں چند محلے ترکمانوں کے بسا دیے جائیں، وہاں علویوں کی کالونی ہو، تیسرے کونے میں کاشتکار سوسائٹی کا ڈول ڈالا جائے اور ادھر بدوی ٹاؤن بنا دیا جائے۔ اس طرح تو ہر معاشرتی گروہ  اپنے اکیلے علاقے میں بسنے لگے گا جس کا نتیجہ آخر کار فرقہ ورانہ خانہ جنگی کی صورت میں برآمد ہو گا۔

درحقیقت میں نے اپنی کتاب میں ذمہ دار اداروں کے تعین سے تعرض نہیں کیا، لیکن جب مثال کے طور پر ہمارے ہاں  خانہ بدوشوں یا خیمہ بستیوں کے رہنے والوں کی آبادی کے پراجیکٹ بنائے جاتے ہیں تو مجھے تعجب ضرور ہوتا ہے۔ اس لیے کہ عام طور پر عالم عرب میں خانہ بدوشوں اور ان خیمہ بستیوں کے مکینوں کے لیے ایک علیحدہ اور مخصوص علاقے کا تعین کرکے وہاں کنکریٹ کے بلاک بنائے جاتے ہیں اور پھر ان میں باشندگان کو گویا محصور کر دیا جاتا ہے۔ مکان و جایگاہ کی یہی تو وہ طبقاتی تحدید و تقسیم ہے جو باہمی ربط و ہم آہنگی کی گمشدگی کا سببِ اعظم ہے۔

کیا آپ فن تعمیر کی رائج  فکر سے ہٹ کر کوئی عملی نمونہ پیش کر سکتی ہیں؟

’’بابا عمرو‘‘ کا علاقہ حمص شہر کا آٹھواں در ہے۔  باقی کے سات کونوں کے مقابلے میں اس کا امتیاز یہ تھا کہ یہاں شہر کے دو دروازے تھے۔ شامی خانہ جنگی میں یہ علاقہ یکسر برباد ہو کر بالکل ڈھے گیا تھا، جب میں نے اس کی پھر بسائی کا پراجیکٹ ڈیزائن کیا تو اصل میں اپنے انھی نظریات کی عملی تشکیل پیش کرنے کی کوشش کی۔ میں نے اپنے پراجیکٹ کو U.N Habitat کے عالمی مقابلے میں پیش کیا تو سنہ 2014ء میں اس پر مجھے پہلے انعام سے نوازا گیا۔ میں یہ امید رکھتی ہوں کہ جب شام کی دیگر خیمہ بستیوں کے لیے فراہمیٔ رہائش کے پراجیکٹ ڈیزائن کیے جائیں گے تو اس نمونے کو مد نظر رکھا جائے گا۔ اس وقت شام میں خیمہ بستیوں کے باشندوں کی تعداد کل مردم شماری کے 40% تک جا پہنچی ہے۔

میرے اس ڈیزائن میں مکینوں کی نفسیاتی و روحانی ضروریات کو فنِ تعمیر کی زبان میں ترجمہ کیا گیا ہے۔ مثلاً میں نے ہر رہائشی یونٹ میں پچھواڑے کی کیاری اور داخلی صحن کو ضرور رکھا ہے۔  یہ بھی میرے مدِ نظر رہا کہ یہ رہائشی یونٹ بہت زیادہ بلند و بالا نہ ہوں اور ان کے بیچوں بیچ گلی کوچے ضرور ہوں۔ اس لیے کہ ماڈرن آرکی ٹیکچر نے گلی کوچے کی زندگی کا تصور ہی ختم کر دیا ہے۔ جبکہ پرانے محلوں میں کوچہ ایک بڑے گھر کی حیثیت رکھتا تھا جہاں لوگ  رنگ و نسل اور مذہب وغیرہ کے اختلاف کے با وجود اکٹھے ہوا کرتے تھے، چنانچہ ایک قسم کی بہم دگر جُڑت وجود میں آ جاتی تھی۔

آپ نے نفسیاتی اور روحانی ضروریات کی بات کی، مگر اس ڈیزائن میں بنیادی انسانی ضروریات کو پورا کرنے کے لیا کیا تجویز کیا گیا ہے؟

ماڈرن آرکی ٹیکچر میں کمرشل ایریا اور سپر مارکیٹ بنائی جاتی ہے۔ جو کہ اپنی نہاد میں جدید رہائشی یونٹس کے نمونے سے ہٹ کر نہیں۔ کہ وہاں آنے جانے والے لوگ جدید شہر کی اکثریت ہی کی طرح اپنے آپ کو کنکریٹ کے ڈبوں میں بند محسوس کرتے ہیں۔

جب کہ پرانی شکل و صورت کا بازار لوگوں کی ضرورتوں سے زندہ و اثر پذیر تعلق رکھتا تھا، چنانچہ سپر مارکیٹ سے بریڈ خریدنے کی بجائے پرانے بازار میں نانبائی بنفس نفیس نظر آتا تھا۔ جب کسی دوسرے سامان کی ضرورت پیدا ہوتی تھی تو اس کی فروخت کے لیے ایک چھوٹا سا کھوکھا شروع ہو جاتا تھا۔ اس شکل و صورت کی بنیاد پر خریدار اور دکاندار کے درمیان ایسا انسانی تعلق بن جاتا تھا جو ان کے نسلی اور مذہبی پس منظر سے بالا تر ہوتا تھا۔ اسی طرح جو لوگ اس بازار کی کشادہ و تنگ گلیوں میں ایک دوسرے سے ملتے تھے ان کے ما بین بھی ایک قسم کی ہم نفسی وجود میں آتی تھی۔

بابا عمرو کے علاقے کے لیے میں نے جو ڈیزائن پیش کیا، اس میں میرا بڑا لالچ یہی تھا کہ ان نظاروں کو لوٹا سکوں۔

آپ کے فکر کی اساس اس بات پر قائم ہے کہ ایسا فن تعمیر اختیار کیا جائے جو لوگوں کے درمیان ان کے معاشرتی، نسلی اور مذہبی پس منظر کی بنیاد پر کوئی فرق نہ کرے۔ کیا یہ خیال شام کے ان بہت سے پرانے محلوں سے متعارض نہیں جو واضح طور پر اسلامی چھاپ کے حامل ہیں؟

یہ سوال اس بات کا متقاضی ہے کہ ہم پہلے ’’اسلامی عمارت‘‘ کا مفہوم طے کر لیں۔ ماضی میں اسلامی ’’طرز‘‘ کی تعمیر اس انسانی پہلو سے متصادم نہیں ہوتی تھی جس کی بات میں کرتی ہوں۔ محلے میں رہنے والوں کے لیے اس تعمیر میں تفرقے کی کوئی بنیاد نہیں ہوا کرتی تھا خواہ ان کے پس منظر اور انکی وابستگیاں کتنی ہی متفرق کیوں نہ ہوتیں۔ جب کہ ہمارے زمانے میں عمارت کو ایک ’’اسلامی‘‘ ظاہر کا فریبِ نظر دینے کے لیے بنیادی طور پر غیر مقامی اور غیر مستند تعمیراتی عناصر کو ادھر ادھر سے اکٹھا کر کے کسی بھی طرح تعمیر میں ٹھونس دیا جاتا ہے۔ مگر شناخت کا شعور پیدا کرنے کے لیے محض چند تعمیراتی خصوصیات  کو اکٹھا کر لینا کافی نہیں ہوتا، بلکہ اس کے لیے ایک بر محل اور جمیل منصوبے کی ضرورت ہوتی ہے، جو پوری طرح جایگاہ کی روح سے مطابقت رکھتا ہو۔

آخر میں… آپ کو ان افکار و خیالات کا کوئی حامی بھی ملا؟ جو ارضی حقیقت کے طور پر ان کے نفاذ کا قائل ہو؟

میں نے جس کتاب میں اس فکر کو مرتب طور پر پیش کیا اسے یورپ میں خاصی پذیرائی ملی، یہ کتاب چونکہ  انگریزی میں شائع ہوئی تھی اس لیے اسے خاصی شہرت ملی اور بڑے پیمانے پر فروخت کی گئی۔ مگر ابھی تک عالم عرب میں اسے نشر نہیں کیا جا سکا۔ میں امید کرتی ہوں کہ یہ عربی میں ترجمہ ہو گی اور شام کے خرابات کی تعمیرِ نو کے وقت ان افکار و خیالات کو بھی سننے والے کان نصیب ہوں گے۔

ماخذ: https://www.scidev.net/mena/engineering/feature/Marwa-AlSabouni-architect-conflict-Syria.html

Recommended Posts

Leave a Comment

Jaeza

We're not around right now. But you can send us an email and we'll get back to you, asap.

Start typing and press Enter to search