آگامامنون۔ تحریر: ایس کلس (ترجمہ :عاصم بخشی)

تعارف

(ٹروجان جنگ کی دسویں اور آخری پت جھڑ کی ایک رات کا منظر۔ آرگوس میں آتریوس کا محل۔ سامنے ایک بے روشن چبوترہ۔ اونچی چھتوں پر نیند سے لڑتا ایک دربان ۔)

دربان
آکاش پر بسنے والےخداؤ —
تم نے مجھے اس بُرج پر دیکھا
تمام رات، بارہ ماہ کی ایک ایک رات،
پورن ماشی کی تیرہ راتیں —
محل کی چھت سے یوں بندھا
جیسے کوئی کتا۔
آن پہنچا ہے اب میری مکتی کا پَل ۔
عرصہ ہوا اِس تاریکی میں نظریں گاڑے
اُسے کھوجتے جوہوتا نہیں کبھی نمودار ۔
تھک چکا ہوں دیکھ دیکھ کر یہ جھرمٹ تاروں کے —
دمکتے جلوس عظیم راجوں مہاراجوں کے
ہر گزرتی رات ، پچھلی سے چند پل پہلے
روکے اس شے کو جس کا ہے مجھے انتظار—
کیسی اذیت کی سی سست رفتاری۔
پھر وہ چھپتا، نکلتا چاند—
جیون اجیرن ، جیسے سمندر کو تکے چلے جانا
بسترِ مرگ پر پڑے پڑے،
جیسے کسی جوار بھاٹے کو تکنا
اپنی کال کوٹھڑی میں مڑتے لپکتے
اندر باہر، باہراندر ۔
تنگ آیا میں آسمانوں سے، تنگ آیا اندھیرے سے۔
کبھی نہ آئے وہ ایک کرن جس کی میں تکتا ہوں راہ ۔
کبھی نہ آئے وہ شاید—
روشن مینار پر لپکتا شعلہ، ایک چوٹی سے دوسری پر جست لگاتا
ٹرائے کی خبر لاتا ہے—
’جیت! دس سال بعد، جیت!‘
وہ ایک شبد، کلیتم نسترا جس کی دعا کرتی ہے
رانی کلیتم نسترا —جو رکھے ہے
زنانہ بدن میں مردانہ دل
نازک بدن کی نیام میں وہ خوف ناک ارادہ
کسی مانجھے ہوئے خنجر کی طرح۔
ایک چھپا ہوا خنجر۔
کلیتم نسترا، جو خوف کی رانی ہے ۔
میں اوس میں بھیگا اٹھتا ہوں۔
یہاں وہاں پھرتا ہوں کہ درد کہیں سرک جائیں۔
لیٹ جاتا ہوں— درد کی شدت بڑھتی ہے۔
نہ خواب۔ نہ نیند۔ صرف خوف—
خوف، جیسے کوئی آماس
یہاں ، میرے شکم کے اوپر سینے میں— ایک جلن۔

(نیند سے بچنے کے لیے خود کو جھنجھوڑتا ہے۔)

گنگنانا خوف کا توڑ ہے
لیکن جو گنگناؤں تو آنکھ بھر آئے۔
پس رو پڑوں، من چھلک پڑے ۔
بدل چکا محل میں سب کچھ ۔
پرانے دن،
حق دار راجے، نظام ، امن و امان، شان و شوکت،
ایسی شان و شوکت جو دل بڑھا دیتی تھی—
سب کچھ گیا ۔
اے خداؤ،
مجھے مکتی دے دو۔
اس پوربی شعلے کو لپکنے دو
کہ وہ مجھے مکت کر دے۔
کہاں سے آئی نور کی کرن ؟ اس اتھاہ تاریکی میں
یہ نقطہ— ہاں ،یہ نیا ہے۔
وہاں نیچے، غالباً افق کے قریب ہی ،
عین اسی جگہ! بس فوراً ہی نمودار ہو گیا!
ایک جھلملاتا نقطہ۔ پھر وہ پھیلا ۔آگ کا ایک شعلہ!
روشن مینار پروہ نوری اشارہ !
خبر کرورانی کو—
دمک اٹھا روشن نور ۔
وہ بھڑکا! سینگ ہلائے ۔
ٹرائے کو مات ہوئی ۔
بادشاہ گھر واپس لوٹ رہا ہے۔
آگامامنون آ رہا ہے۔ٹرائے کو مات ہوئی!
اب رانی خوشیاں منا سکتی ہے
رقص کے لیے سب سے پہلے میرے قدم اٹھیں گے— ٹرائےکو مات ہوئی!
خداؤں نے ہمارے آقا کو نوازا۔
میرا دامن بھی بھر دیا۔
بنا دیا مجھے خبر دینے والا ہرکارہ ۔
اے کاش وہ راجا کو بھی صحیح سلامت واپس لے آئیں۔
جھکانے دیں مجھے اس کے پاؤں میں اپناسر
پھر— کیا ہوا اس کے بعد،
چلو چھوڑو اس پر کیا سوچنا۔
صرف اس گھر کی بنیادیں ہی
سنا سکتی ہیں یہ داستان ۔
ہاں،
وہ زبان جو ڈھونڈ سکے
ان شبدوں کو کیوں کہ —اس زبان ہی کو
اٹھانی پڑیں گی اس گھر کی بنیادیں ۔
وہ جو میری طرح بہت کچھ جانتے ہیں، اس گھر کے بارے میں،
رہنے دو ان کی زباں ساکت—پڑی رہے دبی۔
بنیادوں کے نیچے۔

(محل کے اندر سے کلیتم نسترا فتح کا نعرہ بلند کرتی ہے ۔ پھر اندر داخل ہوتی اور بلند استھانوں پر لوبان چھڑکتی ہے۔گائک منڈلی جو آرگوس کے ان بڑے بوڑھوں پر مشتمل ہے جنہیں ابھی فتح کی خبر نہیں ملی، اندر داخل ہوتی ہے ۔ سپیدۂ سحر نمودارہوتا ہے۔)

گائک منڈلی
دس برس پہلے
آتریوس کے بیٹوں،
منیلوس اور آگاممنون،
دونوں دیوتا راجاؤں نے،
جمع کیاہزار جہازوں کا بیڑہ
بھرے اس میں ہلس کے نوجوان
اور نکل پڑے سمندر کا سینہ چیرتے پریام کو سزا دینے۔
دو بھائی ، جنگ کے لیے جنم جنم کے بھوکے
بھوک اور وہ بھی بڑھتی چڑھتی
جیسے عقابوں کی چیخ ،
کرب میں مبتلا دو عقاب،
اُس کگر پر بیٹھے
جہاں لٹ گیا ان کا گھونسلہ—
ہوا پر ضرب لگاتے
اپنے چوڑے پتواروں سے،
سوار ہوا کی لہروں پر
بے بس طیش میں ماتم کرتے،
ان کی ساری محنت مشقت اکارت۔
جھول چنگر غائب،
گریہ وزاری کرتے
ان کی ساری ہوشیاری ناکام۔
کرب ان کے حلق چیر کے رکھ دیتا ہے۔
وہ آکاش کی جانب منہ کر کے چیختے ہیں—اور آکاش میں
کوئی دیوتا ان کی آواز سن لیتا ہے—
یہ زیوس یا پان
یا پھر شاید اپالو ہے جو انہیں سنتا
اور ان پر ترس کھاتا ہے،
اور ایک کٹھور غیظ و غضب بھیجتا ہے
کہ پاپی کو پکڑا جائے اور
اس کی آنتوں سے پاپ نوچ لیا جائے۔

تو اب زیوس—بچانے والا
اس مقدس بھروسے کو
جو مہمان او رمیزبان کے بیچ ہے—
بھیجتا ہے آتریوس کے دوبیٹوں کو
کہ وہ نوچ پھینکیں مغرور زبان کو
پیرس کے لبوں کے بیچ سے
اور ہیلن کو اس کے بستر سے۔
یونان اور ٹرائے ڈکراتے ہوئے
ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہوتے ہیں
اس لعنتی بندھن اور
ماراماری کی مشقت میں۔
بھالے ترازو ہوتے ہیں
مڑتے جسموں میں،
تنومند جوان گھٹنوں پر گرے ہیں
اپنے ہی خون میں لتھڑے
منوں تاریکی تلے دبے۔
اور جو ہور ہا ہے
اس کے علاوہ کچھ اور ممکن بھی نہیں۔
ہو نہیں سکتا کہ ہونی نہ ہو۔
ہر شخص تقدیر کے شکنجے میں ہے
ہر ایک جو اِن لڑتی ہوئی فوجوں میں شامل ہے
اپنی گدّی سے دبوچا ہوا
اپنا بے بس چہرہ
ہونی میں بھینچتے ہوئے۔
پریام شرابیں لنڈھاتا ہے
کہ آکاشوں سے نچھاور ہوتی مدد کو تر کرسکے
سب اکارت۔
وہ استھانوں پر معطر چڑھاوے سلگاتا ہے
کہ ان کے رحم کو نرمی ملے
لیکن اکارت ۔
آکاشوں کے دیوتا اور دھرتیوں کے دیوتا
اسے نظرانداز کر دیتے ہیں۔

کوئی رشوتیں نہیں،
کوئی بھی شے جو مندر کی چھت تلے گزری ہو
یا کسی تالو کے نیچے سے
آکاش کا غضب ٹھنڈا
یا اس کا نشانہ خطا نہیں کرتی۔
ہماری عمر بہت ہو چکی تھی۔
دوسرے بچپن نے
لاٹھیاں ٹیکتے
ہمیں میدانِ جنگ سے باہر رکھا۔
ہم یہیں رہے
اسی کوڑے کے ڈھیر پر
اپنے خوابوں سے کھیلتے،
آہ، وہ خوابوں کے کھلونے۔

(گائک منڈلی کو کلیتم نسترا نظر آتی ہے۔)

رانی کلیتم نسترا،
کیا ہوا؟
تم نے کیا سنا؟
کیوں تم نے بھینٹ کے لیے منادی کی
آرگوس کے طول وعرض میں—
ہر استھان
ہر ایک دیوتا کا
جل پڑا—
رسوئی مندروں کے بونے آتشکدوں سے
چوٹیوں کے دیوتا زیوس کے اونچے مندر تک
گھی تیل میں جلتے قیمتی ذخیرے
دھواں ہوتے ہوئے
صبح کاذب کو دھندلا دیتے ہیں۔
خوبصورت درندے
اپنے گھٹنوں پر گرےہیں
خون کے سیلاب میں ۔
کیا ہو رہا ہے؟
کیا ہم اس سارے میں
واقعی کوئی امید کر کرن دیکھ سکتے ہیں؟
یا بدترین خوف آ چکا ؟ کچھ تو خبر دو!
کیا یہ ساری آگ اگلتی زبانیں،
سنگینوں پر چڑھے یہ سارے چڑھاوے،
کوئی اچھی نوید دیتے ہیں یا بری؟ کچھ تو بتاؤ!
کیا یہ تاریخ کی بدی کو ہضم کر سکتے ہیں
اور اس تمام دہشت کو جو آنے والی ہے—
وہ تمام خوف جو ہم پر متلی طاری کیے ہیں—
یا پھر فضا پر اس سے بھی کسی بڑی بدشگونی کی دھند طاری ہے؟

میں ہوں وہ آدمی جسے یہ داستان سنانی ہے۔
بڑھاپا
سب کچھ سلب کر لیتا ہے
سوائے ان چند شبدوں کے جو دیوتاؤں نے جانچے ہیں،
آنکھ کے لیے
جو قبر کی طرف کھلتی
اور چیزوں کی گہرائی میں جھانکتی ، کل کو دیکھنے والی ہے۔
جونہی ہمارے دونوں راجا نکلتے ہیں،
جونہی ان کے نیزوں کا بہتا جنگل
اپنا لنگر اٹھاتا ہے،
دو پنچھی،
مڑی چونچوں ، بڑے پروں والے پنچھی،
ایک سیاہ اور دوسرا سفید پنچھی،
اڑتے نکل جاتے ہیں
دائیں —اور دائیں جانب!
اچھی تقدیر!
پوری فوج خوش خبری کا نعرہ لگاتی ہے—
جیت!
پھر ان دو پنچھیوں،
سیاہ پنچھی اور سفید پنچھی نے
ایک ڈبکی لگائی اور تیزی سے لپک کر مار ڈالا
جڑواں بچوں سے بھاری ایک مادہ خرگوش کو۔
پوری فوج نے
انہیں حاملہ خرگوش کو مارتے دیکھا۔
انہوں نے اس سیاہ پنچھی اور سفید پنچھی کو دیکھا
جو ان کے لیے فتح کی نوید لائے تھے
ماں کی کوکھ چیری اور انہیں کھینچ نکالا
سانس لیتا نازائیدہ—
پوری فوج نے شروع سے آخر تک دیکھا
ان نازائیدگان کے قتل کو۔
اگر بدی اس ہوا میں ہے، تو اسے اڑنے دو۔

قالخاس جوتشی نے
پنچھیوں کو پہچان لیا،
سفید پنچھی اور سیاہ پنچھی،
منیلوس اور آگامامنون۔
قالخاس
پوری فوج اور دونوں راجاؤں کی طرف منہ کر کے چلایا:
’اس قتل کے کیا معنی ہیں؟میں بتاتا ہوں۔
اس کا مطلب ہے
جیت ایک ترچھے پن کے ساتھ۔
تقدیر تباہ کر ڈالے گی
ٹرائے کی سب بھیڑبکریاں،
ٹرائے کی سب فصلیں،
اور آخر کار
پہنچا دے گی تمہیں شہر کے مقدس ترین ایوانوں تک ۔
لیکن جب تم ٹرائے کو اس کے خون اور بچوں سے خالی کر چکو تو
آسمانوں کے قہر کی توقع کر سکتے ہو۔
آرتمیس، چاند چہرہ دیوی،
خرگوشوں کی دیوی ماں،
حسین وجمیل آرتمیس،
کوکھ اور اس کے اسراروں کی دیوی،
ماؤں اور ان کے چہیتوں کی راکھی کرنے والی،
سن لی ہے اس نے خرگوش کی دلدوز چیخ،
دیکھ لی ہے اس نے اپنے باپ کے پنچھیوں کی کرنی،
جھانک لیا ہے اس خفیہ خو نی سوراخ کے اندر
جہاں سے خرگوش کی کوکھ چیری گئی۔
دیکھ لیا ہے اس نے پس منظر میں ہونے والے اس بڑے قتل کو
جو ابھی کیا جانا ہے
مڑے ہوئے سروں سے،
وہ سفید او روہ سیاہ پنچھی—
تو وہ اب کیا کرے گی؟
کیا ان دیو ہیکل پنچھیوں کی جیت پر مہر لگا دے گی—
کیا معاف کر دے گی
کھوکھ کے چیرے جانے کو؟
کیا معاف کر سکے گی
اس موت کی چیخ کو جو انسانوں کے کانوں تک نہیں پہنچی،
ان نازائیدگان کی وہ دلخراش چیخ؟
اپالو، اے مسیحا خداوند،
اپالو،
اپنی بہن کی آنتوں میں لگے ان زخموں پر دستِ شفا رکھو،
ٹھنڈا کر دو اس کا طیش، سکون بخشواس کے اضطراب کو،
اس سے پہلے کہ وہ تاوان مانگا جائے
جو ہم میں سے کوئی نہیں بھر سکتا،
اس سے پہلے کہ وہ کسی جزیرے کی آڑ میں بیڑہ لنگر انداز کر دے
مسلسل تیز جھکڑوں کے الٹے رخ،
کہ دونوں راجاؤں کو مجبور کیا جائے
قربان کرنے پر
ایک ایسی چیز جس پر نگاہ ڈالنے کی وہ جرأت بھی نہیں کر سکتے،
ایک محبوب، حیران پریشان، خوبصورت مخلوق،
وہ قربانی جو کھا پی کر ہضم نہیں جا سکتی،
ایک ایسی قربانی جو دل کو زہریلا کر دیتی ہے
اور راج محل پر اس کا خون لنڈھاتی ہے،
کہ اُس عورت کی غصیلی کوکھ کو بھر دیا جائے
جو راج محل میں منتظر ہے—
بدلے پر مائل آرتمیس، جو کھڑے ہوئے
ایک عظیم رانی کا سایہ بنی ہوئی ہے۔
اس وقت کلیتم نسترا کا سایہ
ایک ٹانگیں پھیلائے قتل ہوئے شخص کا روپ دھار لیتا ہے۔
اور کلیتم نسترا کے خونی نقشِ پا
ایک قربان ہوئے بچے کے پاؤں کے نشان بن جاتے ہیں—
اس راج محل میں بکھرے یہ خونی نقشِ پا
ایک سے دوسری نسل تک۔

اس طرح قالخاس جوتشی
خرگوش کے قتل کا معمہ حل کرتا ہے۔
ایک پرانی ، دیوتاؤں کی عطاکردہ فتح کے ساتھ
وہ آگامامنون کی سماعت کھول ڈالتا ہے
ایک لعنت بھری اولین سرگوشی کے لیے
اور کھول ڈالتا ہے اس کا دل
آسمانوں کے ہلاکت خیز تضاد کے لیے۔

لیکن پھر ڈھارس بندھاتا ہے اس کی امید سے—
حتمی خیر کی ایک امید۔
کیا ہے خیر ؟ کون ہے خدا ؟
نقاب اس بے نامِ عظیم کا۔
کون اس کے بارے میں کچھ کہہ سکتا ہے؟
میں خدا کو زیوس کہتا ہوں
اور زیوس یا اس بڑے نے
جوانسانی تصور کو سہارنے کے لیے زیوس کو نقاب کی طرح پہنتا ہے،
انسان کو یہ قانون دیا ہے:
حق کو
ہماری خود سر زندگیوں سے پگھلا کر نکال پھینکنا لازم ہے
بذریعہ کرب۔
سچ نہیں بولتی کوئی شے ،
نہیں بتاتا کوئی کہ چیزوں کی اصل کیا ہے،
کوئی نہیں مجبور کرتا ہمیں وہ جاننے پر
جو ہم نہیں جاننا چاہتے
سوائے درد کے۔
اور یوں ہی دیوتا اپنی محبت کا اعلان کرتے ہیں۔
حق اور کرب کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔

آگامامنون نے
دہشت کو سرسراتے اور چھاتے سنا
جوتشی کے شبدوں میں ۔
لیکن وہ اب آدمی کے جسم میں آدمی نہ رہا تھا
تنہا اپنی تقدیر سے ٹکرا چکا تھا
جو اس کی جان لے لے گی۔
وہ ایک جنگی مشین تھا،
ایک جنگی چڑھائی، انتقام پر اتری ایک پوری قوم،
خدوخال جیسے ہزار بحری جہاز چلے آ رہے ہوں۔
اسی اثناء میں ہواؤں کی زد پر آ گیا ہمارا بیڑہ
اور پھنس گیا اولس کی گھاٹی میں ۔
پھر وہ سب کچھ ہوا جو ہونا تھا۔
آغاز ہوتا تھا وہاں سے سمندر کی وسعت کا
یہ تھی ایک دیوارِ زنداں ۔
پوری فوج پھنسی رہی اسی خلیج میں ۔ بیت گئے ہفتوں ۔
زنگ پکڑ لیا جہازوں کی چرخیوں نے ۔
اور گل سڑ گئے آدمی ۔
جہاز اپنے لنگر گھسیٹتے جھکڑوں کے بیچ ، ٹکراتے اک دوجے سے ،
پسلیاں بھنبھوڑتے اک دوجے کی ، تباہ کرتے رہے اک دوجے کو ،
پھر چٹانوں سے آ لگے لہری جھاگ میں پہنچ کر ۔
ضائع ہوتا رہا گھل گھل کر سامان ۔
ذہن بھی ساتھ چھوڑنے لگے آدمیوں کا ۔
اکتاہٹ کی شوریدہ شورش، چیختی چلاتی لڑائی مار کٹائی،
پاگل پن میں ماراماری۔ بغاوتیں، فرار،
جتھوں کے بیچ چپقلشیں۔ آخرکار ، بیماری۔
اس جھکڑزدہ طوفان میں
وہ لبالب بھرا قیدخانہ جو کبھی ایک فوج تھا
اب ہسپتال بن گیا۔

اس لمحے قالخاس جوتشی نے
آکاش کی طرف منہ کیا۔
ہمیں بتایا کہ
کیا کیا جائے کہ
ہوا کا رخ بدلے—
جب انہوں نے سنا کہ آرتمیس کا مطالبہ کیا ہے
تو وہ جنگجو چیخ اٹھے،
ناقابلِ یقین۔
لیکن آگامامنون—آگاممنون نے جب یہ سنا
تو وہ کرب کے مارے دھاڑا
یوں اچانک جیسے کسی تیرِ شب کا زخم۔
انہوں نے اسے سہا ، ان سبھی سرداروں نے،
ایک سسکتی بڑبڑاہٹ کے ساتھ۔
ان کے شاہی عصاؤں نے
دھرتی کو جھنجھوڑا ۔
پھرآگامامنون نے، ہمارے قابل سپہ سالار نے،
اپنا دل کھول کر سامنے رکھ دیا ان دردناک شبدوں میں:
اگر حکم مانتا ہوں میں دیوی ماں کا ،
تو جان سے جاتی ہے میری اپنی بچی ،
اور جو حکم عدولی کرتا ہوں دیوی ماں کی ،
تو کٹ مرنا ہو گا پوری فوج کو ۔

اگر میں حکم مانتا ہوں دیوی ماں کا اور قتل کر دیتا ہوں اپنی بیٹی کو —
تو کون ہوں گا؟
ایک عفریت، اپنے لیے ، پوری دنیا کے لیے،
اور آنے والے زمانے کے لیے، ایک شیطان—
اپنی بیٹی کا خون میں لتھڑا لباس پہنے
کسی پگڑی کی طرح۔ ظلم کا مہاراجہ۔
اپنے راج محل کو سرخ رنگ میں نہلاتا
خون سے افی جینیا کے ۔
اپنے حمام کو معطر کرتا، جنگ کے بعد،
لہو سے افی جینیا کے ۔
اپنے خاندان کے جام بھرتا،
لہو سے افی جینیا کے —
انسانوں کے ذہن میں یوں باقی رہے گی میری یاد۔

لیکن کیا ہو گااگر حکم عدولی کرتا ہوں دیوی ماں کی؟
کیا ہو سکتا ہے اس سے برا؟
ایک کامل شکست
ہم سب کے لیے۔اور میرے لیے—
تباہی ، اپنی قسم سے غداری ،
غیرت کی چیرپھاڑ،
لوگوں کو ٹھکرانا، لوگوں سے ٹھکرائے جانا،
اور جب بھی لوگ آپس میں بیٹھک کریں گے
بات چیت کا ایک کڑوا موضوع۔ زمین پر ایک دھتکارا ہوا۔
باقی کی زندگی کونوں کھدروں میں منہ چھپاتے،
اپنے ہی نام سے خوف زدہ۔

اگر جان سے جاتی ہے میری بیٹی — تو ہوا اپنا رخ بدلتی ہے،
آرتمیس کے ہونٹوں پر تبسم ہے۔
ہمارے اتحادی لشکر اک بار پھر جی اٹھیں گے ، جیسے منہ کےایک اشارے پر
بادبان ہواؤں سے بھر جائیں۔
اور میں نے اس سے زیادہ کچھ نہیں کیا
کہ اپنی بھینٹ دے دوں—خود اپنی،
نہ صرف میری بیٹی بلکہ میری بیٹی کا باپ بھی۔
یوں ہر سورما کو جینا چاہیے—
جیسے پہلے ہی مر چکا ہو۔

ان شبدوں کےساتھ ، آگامامنون نے ہتھیار ڈال دیے
ضرورت کے آگے۔
جیسے وہ جکڑا گیا ہوا
رتھ میں
اپنی ہی دیوانگی کی۔
اور اپنے اندر، خفیہ طور پر،
ایک طیش بھری دھاڑ کے ساتھ، جو اپنی ہی سماعت سلب کر لے،
وہ قتل کردیتا ہے اپنی بیٹی افی جینیا کا ۔
پھر عوامی بھینٹ کا حکم دیتا ہے
اس لڑکی کی بابت جس کے خون کی ندی
پہلے ہی اس کے مستقبل سے گزرتی ہے۔
یہ فیصلہ، ایک لمحے میں مقید،
اسے گھسیٹتا ہے،
جیسے گھوڑوں کی ٹاپیں،
مستقبل کو روند رہی ہوں
جہاں اس کی بیٹی کے خون کی ندی
جمع ہو کر اس کی منتظر ہے
ایک تالاب کی صورت—

تو عظیم راجا، آگامامنون،
چلا دیتا ہے اپنے ہزاروں نکیلے پشتے
ایک دوشیزہ کے خون پر۔
تاکہ حاصل کرے ایک اٹھائی ہوئی طوائف۔
ہیلن کے بدلے افی جینیا۔
حاصل کر لیتا ہے وہ جو چاہتا ہے—اور چکاتا ہے اس کی قیمت ۔

جب آگامامنون گویا ہوا،
تو پلک جھپکنے میں ،
ہر آدمی،
اُس سورما سردار آگامامنون میں ڈھل گیا—
جنگ کے پیاسے۔
جنگ کے طوفانی جھکڑ ان کو تھپیڑے لگانے لگے
جیسے آنے والے منظروں کے بگولے—گھمسان کا رن،
آنے والی خونریزیوں، اور عظمت نے
افی جینیا کی دوشیزگی اڑا کر رکھ دی،
جیسے تیز ہوا میں کوئی تنکا—

دعاؤں کی آوازیں فضا میں گونجیں۔
باپ نے اشارہ کیا۔
دربانوں نے افی جینیا کو ہوا میں معلق کیا—
لے چلے اسے عجلت میں نصب کیے چبوترے کی طرف
جیسے کوئی کسمساتا بچھڑا۔
ہوا اس کا لمبا لباس بدن سے چپکاتی ،
کُرتی پھڑپھڑاتی اور بندھے ہوئے بالوں کو کھینچتی ہے—
’ابا!‘ وہ چیختی ہے۔’ابا!‘ —
باپ منہ ایک طرف کرتا ہے، ایک ایسی بڑبڑاہٹ کے ساتھ
جو وہ نہیں سن سکتی۔
سانس گھٹتا ہے —
منہ میں کپڑا ٹھونس رہے ہاتھ ۔
رسی یوں منہ پر بندھی جیسے گھوڑے کی کچلی۔
لگام کو بھینچے ہوئے خوبصورت ہونٹ ۔
تاکہ وہ چیخ جو اگر نکلتی تو
آتریوس کے خانوادے پر لعنت بھیجتی
بدن کے اندر ہی گھٹ کر رہ گئی ،
اوپر نیچے ہوتی چھاتیوں سے دھونکنی کی سی آواز۔
کھردرے ہاتھ ریشم کو پھاڑتے
اور ہوا ان کے ساتھ رقص کناں
نیچے ساحل اور لہری جھاگ پر۔
آنسوؤں میں ڈوبی آنکھیں گھومتی ہیں۔
پہچان لیتی ہے وہ اپنے قاتلوں کو —
آدمی جو روتے تھے
کہ آگامامنون کی بیٹھک میں اس کو گاتے سن لیں
جب عظیم دیوتاؤں کے نام پر جام بھرے جاتے تھے۔
سختی سے پکڑ لیتے ہیں وہ اپنے دلوں کو
اور چراتے ہیں ا س سے نظریں ۔
نظریں جماتے ہیں اس خوبصورت چمڑی سے بنے شاہکار پر
جس پر ٹھنڈ سے مہاسے پڑے ہیں۔
رحم مٹھی میں دبی تتلی کی طرح ہے
پوریں سفید ہوتی ہیں۔

میں نے اور کچھ نہیں دیکھا—میں دیکھ ہی نہیں سکا۔
لیکن دیکھوں گا
کہ کیسے پوری ہوتی ہے جوتشی کی پیشین گوئی—
اٹھ بیٹھتا ہے ہر فعل ،
جیسے کوئی سوتا ہوا قانون،
کسی جوہر میں،
کیا چیز اسے توازن دے گی۔
پھر حق آتا ہے
کسی غیرمتوقع درد کے احساس کی طرح۔
اگر وہ آ ہی گیا، جب اس نے آنا ہے
تو اس پر آہ وزاری کا وقت ہو گا۔

کون جانے کیا ہوگا؟
حق کا حتمی توازن،
حق اپنے مدارِ استراحت میں،
اچھا ہی ہو گا۔
اسے اچھا ہونے دو۔ بس اسے اچھا ہونے دو۔
یہ دُعا ہے
بڑے بوڑھوں کی
جو آرگوس کے خالی تخت کی حفاظت کے لیے بچے ہیں
جب کہ آگامامنون، ہمارا راجا،
جواب بھی سمندر میں ہے، صبحِ صادق سے چند گھڑی قبل،
اپنی تقدیر کی بھول بھلیوں میں گھر کو ٹٹولتا ہے۔

(کلیتم نسترا بڑے بوڑھوں کا سامنا کرتی ہے۔)

کلیتم نسترا، ہم تجھے سر پر بٹھاتے ہیں،
آگامامنون کی غیرحاضری میں۔
راجا نہیں تو ہم رانی کےآگے جھکتے ہیں۔
کیا خبر ہے؟
اچھی یا بری؟
جو جلتے دیوں کو روشن رکھتی ہے
ان تمام استھانوں پر۔
یا یہ محض افواہ ہے؟ ایک اور افواہ؟
ہم کہاں پوچھنے کی جرأت کرتے، لیکن ہماری وفاداری،
ہمیں زبان دیتی ہے۔

کلیتم نسترا
اچھی خبر اس شان سے ظاہر ہوتی ہے
جیسے رات کی کوکھ سے نکلتا سورج ۔
سویرا میری راج دلاری بٹیا کا سا—
تصور سے بھی زیادہ خوبصورت۔
پریام کی آخری جائے پناہ بھی گئی —
یونانیوں نے لے لیا ٹرائے۔

گائک منڈلی
نہیں، پھر سے کہو، کیا واقعی؟
ٹرائے کو مات ہوئی؟ناممکن۔

کلیتم نسترا
ٹرائے ہمارا ہوا ۔
وہی کہتے ہیں میرے شبد جو میں کہنا چاہتی ہوں۔

گائک منڈلی کا سرپنچ
میں کیا کروں!
روتا ہوں خوشی کے مارے

کلیتم نسترا
یہ آنسو دل کی وفاداری کھولتے ہیں

گائک منڈلی کا سرپنچ
کون یقین سے کہہ سکتا ہے؟
کیسے ہو سکتی ہے ٹرائے کو مات ؟

کلیتم نسترا
صرف کوئی جھوٹا خدا ہی مجھے دھوکا دے سکتا ہے۔

گائک منڈلی کا سرپنچ
شاید خواب میں کسی سراب سے دھوکا کھا گئی ہو ۔

کلیتم نسترا
تمہارے خیال میں بہکا سکتی ہے مجھے کسی خواب کی رو ؟

گائک منڈلی کا سرپنچ
نہیں ، ہم نہیں مان سکتے۔

کلیتم نسترا
کیا میں کوئی سرپھری بچی ہوں؟
جانتے نہیں کون ہوں؟

گائک منڈلی کا سرپنچ
اچھا کب چڑھ دوڑے وہ اس شہر پر ؟

کلیتم نسترا
کل رات، کل رات۔
یہ شاندار سویرا وہیں سے ابھرا ہے—
مشرق سے نمودار ہونے والی یہ عظیم چکاچوند۔

گائک منڈلی کا سرپنچ
خبر یہاں کیسے پہنچی؟ اتنی دور؟ اس تیزی سے ؟

کلیتم نسترا
آئیدا کی چوٹی سے آگ کا ایک دیوتا لپکا
اور بجلی کی سی سرعت سے ٹرائے کی مات کی خبر لے کر
ہرمس کی گھاٹی کو شعلوں میں نہلا دیا—
لیمنوس کی چوٹی پر سرخی نمودار ہوئی۔
اب کی بارجو لپکا
تو آتھوس پر آ ن گرا۔
چشمِ زدن میں ایک چمک کے ساتھ، جل اٹھی زیوس کی چٹان —
اورتیار تھے میرے دربان اس کی بھوک مٹانے کے لیے ۔
پھر وہ شعلہ بھڑکا، ایک کڑک کے ساتھ،
پار کیا ایک ہی جست میں آژی —
بجلی کے ایک دیوہیکل پر کی پھڑپھڑاہٹ،
چمک دمک نچھاور کرتی ہوئی سمندر پر ،
گہرائیوں سے مچھلیوں کو اوپر لاتی ہوئی کہ ان کی نظر خیرہ ہو جائے—
آ ن اترا مکیستس کی چوٹیوں پر ۔
جاگتا تھا وہاں موجود دربان ،
تازہ کیا اس نے اسے
لکڑی کے ایک اداس گٹھے سے ،
اور کھینچ کر پھینکا اس آتشیں خبر کو ،
کسی شہابیے کی طرح،
تاریک میدانوں کے اوپر سے
یوریپس کے پانیوں میں ،
جہاں میساپیائی محافظ اس کے منتظر تھے۔
انہوں نے اچالیا کی جھاڑیوں اور کانٹوں سے اس کا پیٹ بھرا۔
پہلے سے بھی طاقت ور ہو کر، ایک ہی ہلے میں
وہ ایسوپس کا میدان عبور کر گیا
اور چاند کی کرنوں کی طرح
کیتھارون کی گھاٹیوں پر اترا
وہاں موجود رکھوالوں نے
اسے اور آگے بڑھایا ،
ایک کان پھاڑ دینے والے دھماکے کے ساتھ،
صنوبر کے تنوں کے ایک مینار پر سے۔
پھرو ہ گورگوپس کی دلدل سے ابھرا
ایجی پلانکٹس میں جاگتے ہوئے کوہ پیماؤں تک—
انہوں نے خوشی سے سرشار
بھر دی اپنی مشعلوں میں
ہر جلنے والی شے۔
پھر دور سے آئے شعلے نے،
دوگنا ہوتے ہوئے،
اپنی زبانیں لہرائیں اور لپک کر
سارونس کی خلیج کے بازو میں واقع میدان پار کر گیا،
آراخنی کی کگر کو چھوا
جو آرگوس میں ہمیں اونچائی سے تکتی ہے،
اور آخرکار
اپنی عظیم اڑان کے بعد—
ٹرائے کے شعلوں سے جنم لینے والا شعلہ—
اس راج محل کی چھت پر جل اٹھا۔
یہ تھی میرے مشعل برداروں کی دوڑ۔
اور یہ ہے میرا ثبوت—یہ شعلہ۔
جو مجھے بھیجا
جلتے ہوئے ٹرائے سے آگامامنون نے۔

گائک منڈلی کا سرپنچ
ہم بجا لائیں گے شکردیوتاؤں کا ۔
لیکن پہلے یہ کہانی۔
کیا بتایا شعلے نے ؟
کیسے ختم ہوئی جنگ؟

کلیتم نسترا
یونانی لشکر نے قبضہ کر لیا ٹرائے پر
اور اب وہ اسے جھنجھوڑ کر خالی کر رہے ہیں۔
ٹرائے کی مشہور دائرہ وار فصیلیں ، جو اس کی حفاظت کرتی تھیں،
بن چکی ہیں ایک بند برتن
ایسی دیگ جس میں چیخیں ابلتی ہیں،
خونی جھاگ کے بلبلے،
الٹتے پلٹتے جسم،
کٹی پھٹی ٹانگیں بازو، سر، قتلے، بوٹیاں۔
ذبح ہوئے ہوؤں کی موت کی چیخیں،
ذبح ہوتے ہوؤں کی خوف زدہ چیخیں،
گلا پھاڑ کر چلاتے ہوئے شکاریوں کا شوروغل
تنگ گلیوں اور ڈھلوانی کوچوں میں
بلوں کے اندر مڑتے راستوں تک پیچھا کرتے۔
پرمسرت ترین گھڑی اور بدترین لمحہ
پھسلتے قدموں ، ایک دوجے سے ٹکراتے اور گتھم گتھا ہو جاتے ہیں،
ذبح خانے کے شورشرابے میں۔
ٹرائے کی عورتیں
اب نوحہ گروں کی آبادیاں ہیں۔
ٹرائے کے مرد لاشوں کا کاڑ کباڑ،
لاشوں کے غلیظ ڈھیر ہیں۔
ٹرائے اپنے ٹیلے پر
یوں خون میں لتھڑا ،
جیسے آسمان سے جسموں کی بارش ہوئی ہو،
چھلنی چھلنی، ایک دوسرے میں پھنسے جسم
ہر راستے پر ایک ہی منظر—
مسلے ہوئےجسم، بریدگی کا عالم، بدن سے علیحدہ اعضا۔
عورتیں گھٹنوں پر گری، کاندھے ہچکیوں سے ہلتے، آنکھیں چھپی ہوئی،
ان کا ماتم کرتی جو کل تک
شوہر، باپ ، بیٹے تھے۔
ایک ایسے غم کا بوجھ اٹھاتی جو پہلے ہی
غلاموں کا اولین بوجھ ہے۔
اور اب فاتحین —
ہمارے شوہر، ہمارے باپ، ہمارے بیٹے—
لوٹ کھسوٹ او رماراماری کی ایک را ت کے بعد
جو بھی لوٹا یا قتل کیا جا سکے،
ناشتے کے بھوکے، مردہ میزبانوں کے بیچ اپنے مونہوں کو بھرتے۔
جنگ ختم ہو چکی۔
نظم و ضبط کا خاتمہ ہو چکا۔
اب ہر آدمی خود اپنا قانون بناتا ہے
اپنے ہی نصیب سے۔
کمبلوں میں گرم، اوس اور کہرے سے بچے ہوئے،
قتل وغارت سے تھک کر
وہ بستروں میں سوتے ہیں
اُن خاندانوں کے جو ذبح ہوئے۔
دس سال اپنے آگے پیچھے کی حفاظت کرنے کے بعد
وہ بند آنکھوں محوِ آرام ہیں۔
لیکن اب انہیں خیال رکھنے دو
کہ وہ اس شہر کے دیوتاؤں کو تکریم دیں۔
جب تک وہ کسی مقدس چیز کو پامال نہیں کرتے،
کسی گرجے، مزار، پروہت کو پامال نہیں کرتے،
یا راہبہ کو،
شاید شہر کو تباہ وبرباد کرنے والے
تباہی سے بچ جائیں۔

یہ لالچ ہے
جیتنے والے کے لیے ، جو کیا خبر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا،
کہ سب کچھ لے اڑے۔
اور جو نہ لے جایا جا سکے اسے تباہ کر دے۔
دعا کرو کہ وہ خود کو روک سکیں۔
انہیں دیوتاؤں کی اشیر باد چاہیے ہو گی۔
گھر کا راستہ دور ہے — اور آخر تک دشواریاں ہیں۔
مرے ہوؤں کو کئی بار موقع ملے گا
کہ ان سے پورا پورا بدلہ لے لیں
جنہوں نے دیوتاؤں کو غضب دلایا۔

میں ایک عورت کی حیثیت سے بات کرتی ہوں، میری بات سنو:
موت کے سلسلے کو یہیں ختم ہونے دو۔
جان کے بدلے جان، بدی کا جواب بدی سے:
اب اس سلسلے کو ختم ہونے دو۔
اور ہماری امیدکو کامیاب ہونے دو۔ مجھے بہت امید ہے۔

(کلائتم نسترا چلی جاتی ہے)

گائک منڈلی کا سرپنچ
بات کی تو نے مردوں کی طرح
مل گیا ہمیں کافی ثبوت
کہ شکر بجا لائیں دیوتاؤں کا ۔
اب ہم دل کھول کر خوش ہو سکتےہیں۔

گائک منڈلی
زیوس، اے خداوندِ عظیم،
تاریکی کی مدد سے
پھینکا تو نے اپنا جال
ٹرائے کی سلگتی ہوئی گہری راکھ میں
اور جب وہ باہر نکلا تو
غلاموں اور لوٹ کے مال سے بھرا تھا۔

زیوس، اے مقدس بندھن کے رکھوالے،
میزبان اور مہمان کو باندھنے والے۔
تانی تو نے اپنی کمان
انصاف کے دسویں طویل سال
اور گاڑ دیا زمین میں پیرس کو ۔
تاکہ کوندے آسمان سے بجلی ۔
زیوس صابر ہے—
اس کا قانون مبہم،
گھیرے دار،
لیکن اس سے فرار ناممکن ۔

کوئی سوچ بھی کیسے سکتا ہے کہ
قدرت نظر انداز کر دے
اس بے ادب کو
جو ٹھٹا اڑاتا اور تذلیل کرتا ہے
مقدس چیزوں کی—

کیوں کہ وہ باطل پر ہے۔
ہر جگہ عیار شخص
اپنی شاطر چال سے
خود کو تباہ کرتا ہے
اور اپنے قریب موجود ہر کسی کو بھی۔

وہ گھر جس کی بنیادیں
دولت لرزا رہی ہو
اپنے بوجھ سے
ایک ایسا زنداں ہے
جس کا مالک مر جائے
تنہائی میں۔

کتنا کافی ہے؟
کون جانے؟
ایک دفعہ جب کو ئی آدمی
دولت اور تکبر کے نشے میں
توڑ ڈالے قدرت کا قانون
اور مار دے لات
انصاف کے چبوترے کو
تو پھر بہت دیر ہو جاتی ہے۔

لذت سے بھرے وعدے،
بِلّوریں منطق،
دل کو سکون بخش تھپکیاں
اس غلام کی انگلی تھام کر لے جاتی ہیں
اسے اپنی تباہی کی طرف

جب پشیمانی جلاتی ہے
کسی ساکن ستارے کی طرح
بے نیند شخص
اپنے خون
اورآنکھوں کی روشنی کو سلب
اور تبدیل ہوتا محسوس کرتا ہے
ایک مخصوص غلاظت سے

مسرتوں کی پیچھے بھاگنا،
بے دھیانی، بے خیالی سے
اُس لڑکے کی طرح
جو کسی پرندے کے تعاقب میں ہو۔
وہ اپنے لوگوں کو تباہ کر دیتا ہے۔
دعا کرتا ہے لیکن دیوتا
تہہ نشیں پتھر بن جاتے ہیں۔
اور وہ لوگ جو اس پر ترس کھاتے ہیں
اسی کا انجام پاتے ہیں۔

تو پیرس آن پہنچا،
سکون کی کیفیت میں،
ایک مہمان کی حیثیت سے،
جسے شرف بخشا گیا دسترخوان پر
منیلوس کے—
اور دشمنی میں
اتریوس کے گھرانے کی
اور قانونِ قدرت کی،
چرا لی اپنے میزبان کی بیوی۔

پھسلتی ہوئی ہیلن
نکل پڑی پیرس کے ساتھ۔
چھوڑ دی اس نے آرگوس میں
طیش سے کڑکتی بجلیاں،
تانبے پر لگتے ہتھوڑے،
جہازوں کا اکٹھ،
اور لے گئی ٹرائے
اپنا دردناک جہیز—
تباہی بربادی۔

پاگل ہو گیا منیلوس ۔
بیٹھ گیا ان کے بستر پر—
ایک مبہوت شخص۔
اس کی روح پرواز کرتی
آژی کے اوپر سے۔
سوتے ہوئے، وہ چلّایا—
خوابوں کی اذیت سے دل برداشتہ۔
وہ بھاگ رہی تھی
کھکھلاتے پیرس کے ساتھ۔
وہاں لیٹی ہنس رہی تھی
ہنستے پیرس کے ساتھ۔
راجا منیلوس
رات رات روتا رہا
کسی کھوئے ہوئے بچے کی طرح۔

پھر جاگا تو اذیت پائی
اس کے بُت سے—
اس کی منقش آنکھوں سے
جو تکتی تھیں اسے
ایک پتھر کے جسم سے۔

تو یہ تھا قصۂ غم ہمارے عظیم ترین گھرانے کا۔
لیکن وہ ہمارے سب جوانوں کے ساتھ ٹرائے کی طرف رواں دواں ،
اپنے پیچھے وہ کرب چھوڑ گیا جس نے آرگوس کو برباد کر دیا—
آدمی جو اس کے ساتھ گئے تھے لوٹ کر واپس آنے لگے۔

وہ واپس لوٹے
بیواؤں کے پاس،
بن باپ کے بچوں کے پاس،
چیخوں کے پاس، سسکیوں کے پاس۔
وہ جوان واپس لوٹے
مٹی کے ننھے کوزوں کی طرح
جن پر نکیلی کھنگریں ہوں۔

جنگ ایک راہِن ہے—تمہارے خزانوں کی نہیں
بلکہ تمہارے جوانوں کی زندگیوں کی
سونے کی نہیں بلکہ لاشوں کی۔
دے دو اپنے آدمی جنگ کے دیوتا کو اور پاؤ بدلے میں راکھ۔
تمہارے سورما کی ٹھیک ٹھیک قیمت—جنگ کے سکّوں میں۔

ایسا عظیم سورما—اس نے بس اتنا ہی میل کچیل بنایا۔
اب بیواؤں کی آنکھوں سے بہتا ہے چہرہ کھا جانے والا تیزاب۔
آتریوس کے گھرانے نے ان کے گھر تباہ کر دیے۔
راجا نے قیمت میں دیے اپنے جوان—اور خرید لی ایک رکھیل۔

ہوا کے تیز جھکڑوں نے
جو ٹرائے کے میدانوں پر چلتے ہیں
کھینچ لی ہیں آوازیں
ان کے سینوں سے
اور بکھرا دیا ہے دھویں کی طرح
ان کے چہروں کے خدوخال کو
اور لا پھینکا ہے انہیں اندر
ہیلن کو ٹھنڈا کرنے کے لیے۔

اب آرگوس کے طول و عرض میں
قتل ہوؤں کا ماتم
کسی لعنت کی طرح پھیلا ہے۔
حکمرانوں کو ڈرنا چاہیے،
کم از کم ایک چیز سے:
پھیلتی ہوئی لعنت سے
اپنے ہی لوگوں کی۔

یہ پھٹے دودھ کی طرح کر دیتا ہے دن کی روشنی کو
تاریکی کی طرح گاڑھا—
فضا میں ایک خوف۔
ایک بوجھ جو تم محسوس کر سکو
اور تمہیں سہنا ہو۔

وہ راہنما جو ہانکتا ہے
اپنے لوگوں کو ایک ساتھ
شاندار قبروں کی طرف—
اسے یہ یقین ہونا چاہیے:
قدرت دیکھ رہی ہے۔
جب وہ من مانی کرتا ہاتھ
انصاف کو بے توازن کرتا ہے
تو فیوری دیویاں جاگ اٹھتی ہیں ۔
وہ آدمی لمبے ڈگ بھرتا
اطمینان سے سر اٹھائے
نرگ کی جانب چل پڑتا ہے۔

بجلی چوٹیوں پر گرتی ہے، چٹخا دیتی ہے اونچی کگروں کو۔
آدمی شہر تاراج کرتے ، غلامی میں گھسٹتے، مار دیے جاتے ہیں۔
لیکن دانش مند اپنے دن آزادی سے، پُرسکون پورے کرتے ہیں۔

(عورتوں کے چیخنے چلانے کی آواز آتی ہے۔ گائک منڈلی میں سے کچھ باہر جاتے ہیں اور پھر واپس آ جاتے ہیں۔)

گائک منڈلی (اول)
اس آگ نے پورے شہر کو
افواہوں سے جلا دیا ہے
کیا اس میں کوئی سچائی ہے
یا دیوتا بس یونہی شرارت کر رہے ہیں؟

گائک منڈلی (دوم)
کبھی خبروں پر اعتبار نہ کرو۔یہ شعلے جھوٹے ہیں۔
روتی آنکھیں کھلے کانوں کے کارن ہیں ۔

گائک منڈلی (سوم)
عورت ذات ہر افواہ کو اپنے خون میں سرایت کرنے دیتی ہے—
پھر قسم کھاتی ہے کہ یہ حقیقت ہے، اور اس پر عمل کرتی ہے۔

گائک منڈلی (چہارم)
عورت ذات بھی موم کی طرح ہے۔آسانی سے نرم ہو جانے والی، باآسانی پگھل جانے والی۔
انہوں نے خود کو ان شعلوں کے حوالے کر دیا ہے۔

(گائک منڈلی باہر نکلتی ہے۔)
(وقفہ۔)
(گائک منڈلی اندر داخل ہوتی ہے ۔)

گائک منڈلی
جلد ہی کھلے گا کہ آیا شعلوں کی ان روشنیوں نے
پورے آرگوس کو تبدیل کر کے رکھ دیا
چندھیائے ہوئے احمقوں اور سوتے میں چلنے والوں کے دیس میں۔
لو وہ ہرکارہ آیا ، تیزی سے—
چیتھڑوں میں ملبوس، جنگی زخموں سے بدحال،
لیکن پہن رکھی ہے اس نے زیتونی پیٹی ۔
تو اب سچائی—
شعلوں اورروشن مینار کی خبریں نہیں
بلکہ گواہ کے سادہ شبد—
چاہے وہ ہمیں بھائیں یا نہیں۔
امید ہے وہ شعلوں اور روشن مینار کی تائید کرے گا۔
جو بھی اس کے علاوہ چاہے—
اے کاش کہ اس کی قیمت چکائے۔

(ہرکارہ داخل ہوتا ہے)

نقیب
آخر میں اسی زمین پر کھڑا ہوں جس نے مجھے جنم دیا۔
آج کے سورج نے مجھے مشرق سے ابھارا
اور گھر لایا۔دس سال بعد۔
ایک امید جو بامعنی تھی سچ ہوئی۔
میری تمام امیدوں میں سب سے کم امکان—کہ اپنے وطن میں موت آئے۔
آرگوس، آرگوس کا نورِ شمس ۔
جہاں زیوس باپ ہے،
جہاں اپالو مسیحا ہے۔
تُو اپنی کمان ہم پر تانے ہے، اپالو،
ٹرائے کی فصیلوں تلے—
اب ہم گرے ہوؤں کو اٹھا اور مسیحائی کر۔
اور ہرمس، جوتشیوں کا دیوتا۔
اور تُوپرانے سورما،
اوروہ سب جنہوں نے ہم پر سایہ کیا
جب ہم اپنی پوری قوت سے نکل پڑے۔
سایہ ہو ہم سب پر جو بچ گئے
تانبے کی بوچھاڑ سے۔
راج محلو، فصیلو، تختو اور قربانی کے استھانو،
چڑھتے سورج کی طرف منہ کرنے والے ،
اپنی آنکھوں میں چمک لیے دیوتاؤ،
تخلیق کو خوش آمدید کہو
ایک نئی شان کی—
خوش آمدید کہو راجا آگامامنون کو،
ہم میں سے ہر ایک کو۔
وہ ایک عظیم شعلہ لاتا ہے—
تاریکی سے۔
زیوس نے آگامامنون کا ہاتھ اس ہَل پر رکھا
جس نے ٹرائے کی جڑیں زمین سے نکال پھینکیں۔
اُس کے مینار کھنڈر ہو چکے،
بدن تارتار اور آنتیں پیٹ سے باہر،
اس کے لوگ یا تو بدبودار غلاظت ،
یا روتے پیٹتے غلام
اپنی جمع پونجیوں کا خراج لاتے۔
اپنی انگلی اور انگوٹھے کے درمیان،
آگامامنون، آتریوس کے بیٹے نے،
ٹرائے کے شہر کو مسل کر رکھ دیا
خس وخاشاک کی طرح۔
اور اب وہ واپس لوٹتا ہے،
ایک فاتح کی صورت،
عزت وتکریم کی دولت سمیٹنے۔

گائک منڈلی
خوش آمدید کہو اس آدمی، یونانی فوج کے ہرکارے کو،
ٹرائے کی مات کے نقیب کو۔

نقیب
دس برس میں نے زندگی کی دعا کی ہے—اس لمحے کی خاطر
جب میں خوشی سے مر سکوں گا۔

گائک منڈلی
گھر کی یاد نے تمہیں بہت تڑپایا۔

نقیب
میرے آنسو اب خوشی کے ہیں۔

گائک منڈلی
تمہاری اذیت میں آدھی خوشی تھی۔

نقیب
کیسے—آدھی خوشی؟

گائک منڈلی
تمہیں اپنا وطن چاہیے تھا۔
لیکن تمہارے وطن کو تمہاری ضرورت تھی۔

نقیب
آرگوس کو ہماری ضرورت تھی؟
گائک منڈلی
ہماری ضرورت ایک اذیت تھی۔

نقیب
کس نے تمہیں دھمکایا؟
کون تھا وہ؟
کیا کسی نے تم پر ظلم کیا، یا تم پر چڑھ دوڑا؟

گائک منڈلی
بہت عرصہ ہوا ہم نے اپنی زبانوں کو تالا ڈالنا سیکھا۔
جہاں سکوت صحت کا ضامن ہو،
وہاں گویائی جان لیوا ہوتی ہے۔

نقیب
کس نے آرگوس کو تنگ کیا
راجا کی غیرموجودگی میں؟

گائک منڈلی
تم نے ہمیں بتایا کہ یہاں موت کیسے خوش خبری ہو گی۔
سمجھو یہ ہماری بات ہی تھی—موت خوش خبری ہی ہو گی۔

نقیب
ہمارا عظیم کام مکمل ہوا۔
جیسے ہم نے چاہا تھا۔
لیکن اس سب سے کیا ہاتھ آیا؟
وقت یادوں کو بکھرا دیتا ہے۔
خیر و شر
وہاں بہتات میں تھے
ہزاروں زندگیوں پر محیط۔
کرب جزو ہے
انسان کے روزوشب کا۔
ہم جہازوں میں اذیت سے گزرتے رہے،
اکتاہٹ اور کھٹملوں کاعذاب،
پسینے، قے اور پیشاب کی بدبو کا عذاب—
نیند ، درد سے چٹختے جسم اور طوفانوں کے ہچکولوں میں—
پھر خشکی پر مورچے اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ۔
بدبو، چوہے، لال بیگ ، اس سے بھی زیادہ۔
مکھیوں اور بول وبراز کی غلاظت،
رانوں کے اندرونی حصے خون سے تر ،
ہم دشمن کی فصیل تلے کھود کر بیٹھے رہے۔
وہیں رہتے رہے
اوپر سے گرتے فضلے تلے،
یا اپنے بستر لگا لیے نمک کی دلدل میں
کیکڑوں اور مچھروں سے پُر۔
انگلیوں کے جوڑوں میں شدید درد،
یا تو برف کی طرح سرد یا پھربخار سے تپتے
ہر دس میں سے نو کانپ رہے تھے۔
پھر خدا کی پناہ وہ سردی۔
ان سفید چوٹیوں سے آتے ہوا کے تھپیڑے۔
جھڑتے ہوئے ناخن، پیڑوں سے گرتے پرندے۔
کمر تڑخ جائے اگر آدمی اچانک جھکے۔
پھر وسط گرما کی تپش— آسمان سے برستی آگ!
سمندر سیسے کا جوہڑ۔
زمین ننگے تلووں کے لیے سخت گرم۔
تانبے کی چھوؤن سے بنے چھالے۔

شکر ہے سب ختم ہوا۔
ہونی پر کیا رونا دھونا۔
پھر جو مرے ہوئے وہاں چھوڑے،
وہیں آرام سے پڑے ہیں۔
ان پر دل جلانے سے کیاحاصل۔
ان کے دردوکرب کے شمار سے کیا حاصل۔
ان کا کرب تو ختم ہو گیا—سب گزر گیا۔
وہ اس سے آزاد ہو چکے ہیں اور ہم بھی۔
ماضی دفن ہو چکا۔
جو بدی ہم نے سہی اب وجود نہیں رکھتی۔
ہمارے پاس اب بچی کھچی زندگی ہی ہے—اور آنےوالا مستقبل۔
یہی ہیں—اور اچھے ہیں۔
پھر اگر ہم گیانی ہوئے تو عاجزی پر قائم رہیں گے۔
ایک بات ہم کہہ سکتے ہیں:
عظیم آرگوس نے ٹرائے کے شہر کو تباہ کر دیا
اور ٹرائے کے راج محلوں کا مالِ غنیمت چڑھاوے ہیں
ہیلاس کے دیوتاؤں کے آستانوں پر۔

تو ہمارے لوٹنے والے سورماؤں کو
سینے سے لگاؤ اور سر آنکھوں پر بٹھاؤ
اور ہمارے فاتح سپہ سالار کو تشکر بھری دعائیں دو،
لیکن اول و آخر
اوپر والے کو یاد رکھو، جو انصاف دیتا ہے

گائک منڈلی کا سرپنچ
یہ جان کر خوشی ہوئی کہ میں غلطی پر تھا
وہ بوڑھے جو سیکھ سکتے ہیں اب بھی جوان ہیں۔
لے جاؤ یہ خبر کلیتم نسترا کے پاس —
یہ خبر اس کے لیے ہے، اس نے اس کے انتظار میں زندگی گزار دی۔
میں تو بس اڑتے اڑتے سن کرہی نہال ہوا جا تا ہوں۔

(کلیتم نسترا داخل ہوتی ہے)

کلیتم نسترا
میں نے اس فتح کی خوشیاں منانا شروع کر دی ہیں
جب ٹرائے کے شعلوں کی چمک نصف جہان پر چمکی
کہ میں اسے دیکھ لوں۔
تو میری بہت ہنسی اڑی۔
مرد ہنستے ہیں ایک سادہ لوح عورت پر۔
سو وہ داڑھیاں ہلاتے اپنی راہ ہو لیے۔
’وہی شعلہ مزاجی جو عورتوں کی صفت ہے۔
ایک چمکتا شعلہ، اور ٹرائے راکھ ہو گیا۔‘
جیسے میں کوئی احمق تھی۔
پھر بھی میں آگے بڑھ گئی۔
میں نے نذرانے دیے، دیوتاؤں کا شکر ادا کیا۔
اور سارا آرگوس میرے ساتھ تھا—
عورتوں نے مجھ پر یقین کیا،مندروں میں بھیڑ ہو گئی۔
فتح کی پکار اٹھی اور آرگوس سے باہر نکل گئی
جب آسمان گرج اٹھا۔
سارے میں جلتے بالوں کی بو پھیل گئی
اور چڑھاووں کے تیل کی۔
اپنے ہرکارے کی سرکاری تفصیلات مجھے نہ ہی دو—
میں سب کچھ آگامامنون کے منہ سے ہی سنوں گی۔
کوئی عورت اس سے شیریں دن نہیں جانتی
جب وہ اپنی بانہیں کھولے گی
اپنے مسکراتے شوہر کو گلے لگانے کے لیے
جو دستِ خداوندی کی رحمت سے جنگ سے زندہ لوٹے،
لیکن پہلے—اس کو خوش آمدید کہنے کی تیاری کرو،
لے جاؤ اس کے پاس یہ پیغام۔
آرگوس اس سے محبت کرتا ہے۔
اس کی بیوی یہاں اس کی منتظر ہے
اور وہ اس سے محبت کرتی ہے
اتنی ہی جس دن ہی وہ سمندروں میں نکلا تھا—
اس سے اتنی ہی وفادار جتنا وہ بڑا سا کتا
جو اس کے دروازے پر حفاظت کے لیے موجود رہتا ہے
کہ کسی بھی گھس بیٹھیے کو چیر پھاڑ دے—
وفادار صرف ایک مالک سے۔
اس کے خزانے ان چھوئے،
اس کی رانی کو نہیں چھوا
کسی مرد کے ہاتھوں نے،
رسوائی نے اسے اتنا ہی چھوا
جتنا کوئی عورت ہتھیار سجا کر نکل آئے۔

(وہ چلی جاتی ہے)

نقیب
کیا یہ شبد ضروری ہیں؟
ایک رانی ایسی عجیب شیخیاں بگھارتی ہوئی؟
وہ کیوں ہمیں تنگ کرے
ایسے انکاروں سے؟

گائک منڈلی
ایک گیانی کے لیے اس کے لفظ واضح ہیں۔
لیکن آگامامنون کے بھائی کا کیا؟
عظیم راجا منیلوس؟ کیا وہ واپس لوٹا؟ کیا وہ حفاظت سے ہے؟

نقیب
میں تمہیں خوش کرنے کے لیے جھوٹ نہیں بول سکتا۔
مسرت تھوڑی دیر کی ہو گی۔

گائک منڈلی
منہ کا میٹھا جھوٹ پیٹ میں کھٹا ہو جاتا ہے۔

نقیب
سچ یہ ہے کہ
منیلوس دھرتی سے غائب ہو چکا ہے
اور اس کا جہاز بھی اس کے ساتھ ہی۔

گائک منڈلی
تمہارا مطلب ہے کہ وہ ٹرائے کے ساحل سے تمہارے ساتھ نکلا تھا؟
پھر ایک طوفان آیا— اور تم نے اسے کھو دیا۔

نقیب
اس لفظ ’طوفان ‘ کی جگہ سمجھو—’افراتفری‘۔
گائک منڈلی
کیا اسے بھول جائیں یا اب بھی کوئی امید باقی ہے؟

نقیب
شاید سورج کو خبر ہو۔
لیکن سمندر کی تہہ تو تاریک ہے۔

گائک منڈلی
مجھے شک ہے اس پر جو تم مجھے بتا رہے ہو—قدرت طیش میں تھی۔
کیا تمہارا کہنا ہے کہ ہمارے بیڑے کو سزا ہونی چاہیے تھی؟

نقیب
یہ دن ہمارے غم گننے کا نہیں۔
یہ خداؤں کا شکر ادا کرنے کا دن ہے۔
میں پھٹی پھٹی آنکھیں لیے یہاں نہیں پہنچا
اس سے خوف زدہ جو مجھے تمہیں بتانا ہے
ایک ایسے منظر کی خبر جہاں لاشوں کے انبار ہیں،
تمہاری فوج—سڑاند بساند کے نظارے۔
تمہارا ایک ایک پیاراپیارا—
لاکھوں مکھیوں تلے پگھلا پڑاہوا۔
تمہارے قبیلے کے نقصان پہلے ہی تبدیل ہو چکے ایک داستان میں۔
اگر یہ ہے جو مجھے تمہیں بتانا ہے—
تو ہم فیوری دیویوں کی بات کر سکتے ہیں،
لیکن میں فتح کی نوید سناتا ہوں،
مسرت کا ایک شبد آرگوس کے طول وعرض میں۔
ایک شبد جیسے کوئی نشہ آور گھونٹ جو خوشی سے دیوانہ کر دے۔
میں ایک ایسے پل کو کیسے خراب کر سکتا ہوں
بری یاددہانیوں سے؟
میں کیوں بتاؤں کہ
کیسے تقدیر خداؤں سے مل گئی
آگ اور پانی کے ایک سنگدل اکٹھ میں؟
کیسے ان دو پرانے لشکروں نے
اپنی قوت جمع کی ہمیں تباہ کرنے کے لیے؟
کیسے وہ ہم پر ٹوٹ پڑے
اسی پل جب ہم نے ٹرائے چھوڑا؟
کیسے انہوں نے ایک دوسرے کو قسمیں دیں
کہ ہمیں مٹا کر رکھ دیں؟

ایک شب سمندر نے جوش مارا
تھریس سےنکلے ایک طوفان تلے
آسمان یوں تھا جیسے کوئی سرپھرا چرواہا—
اپنے ریوڑ کو کسی اونچی چوٹی سے نیچے دھکیل رہا ہو
کسی ٹھاٹھیں مارتے سمندر میں۔
میلوں اونچی موجوں کے نیچے آتے چلے گئے پہاڑ ۔
سمندر کی کھال کھینچی ایک طوفان نے ،
اتاری اور پلٹا کر تہہ کردی۔
ہمارے جہاز ایک دوسرے پر جا چڑھے
منوں بھاری جھاگ تلے۔
وہ ایک دوسرے سے علیحدہ ہوئے، سر کے بل الٹے، ایک آن میں وہاں تھے اور اگلی میں نہیں۔
تیل میں لتھڑے سکوت پر بے ہوا صبح طلوع ہوئی۔
سورج اُبھرا ملبے اور لاشوں سے بھرے سمندر پر۔
اور وہاں اس سب کے بیچ ہم تیرتے ہوئے ڈول رہے تھے۔
صرف کسی دیوتا کی مدد ہی ہمیں وہاں سے نکال سکتی تھی۔
کسی دیوتا نے سودا کر لیاتھا۔
ہمارے جہاز کو کسی وجہ سے بچایا گیا تھا۔
ہم اب بھی چندھیائے ہوئے تھے کہ سمندر کی گہرائی سے نکلے تھے۔
رات بھر کی دہشت بدن باس میں رچی بسی تھی،
قے سےکمزوری الگ۔
ہم یہی سوچ سکتے تھے کہ
ڈوب چکا ہے ہردوسرا جہاز
یا پھینکا گیا ہے کسی اور سمندر میں ۔
اگر کوئی بھی کہیں زندہ بچا—تو اس کا خیال یہی ہو گا
کہ ہم کہاں بچے ہوں گے۔
لیکن ہم بچ گئے تھے،
اور شاید دوسرے بھی اتنے ہی خوش قسمت ہوں۔
شاید منیلوس اتنا ہی خوش قسمت ہو۔
ہمیں ماننا ہی پڑے گا کہ وہ خوش قسمت نکلا۔
تو جیسے میں یہاں ہوں امید یہی ہے کہ
سورج اسے دیکھ سکتا ہے،
کہ وہ اپنا سایہ حرکت کرتا دیکھ سکتا ہے۔
یہ بھی امید ہے کہ
اوپر والے کی اس گھرانے کے لیے نفرت
حتمی نہیں۔
حالات کتنے بھی خراب ہوں،
سچ تو یہی ہے—اور امید اب بھی زندہ ہے۔

گائک منڈلی
ایک عورت نے یہ سب کر دیا۔ ایک عورت۔
وہ اسے ہیلن کہتے تھے—یہ ایک پیشین گوئی تھی۔
ہیلن ، وہ ہلاکت خیزی ۔
ایک نام نہیں بلکہ ایک لقب۔
نیزے کے چوڑے پھل کی دلہن۔
ہیلن ، وہ قاتلہ
طیش کی وبا
جو قوموں پر طاری ہو گی۔
کوئی چہرہ، کوئی نام نہیں، بلکہ ایک زہر
کہ وہ پورے پورے بیڑوں کو تباہی کی طرف دھکیل دے
جیسے ان کے کپتان دیوانے ہوں—
اس کا نام چباتے اور تھوکتے—
ہیلن ، یہ نام ہیلن
نام نہیں بلکہ ایک زلزلہ
جو کسی شہر کو جلتے ہوئے ملبے میں تبدیل کر دے۔
نام نہیں بلکہ ایک وبا،
شہر در شہر، چیخ کے بعد چیخ کے ساتھ پھیلتی ہوئی،
شہر مقبروں میں تبدیل ہوتے ہوئے۔

وہ ایک عطر کے جھونکے کی طرح نکل گئی
پردہ اٹھا تی ہوئی—
سمندر کے اوپر سےگزر گئی
کسی پرندے کے پر کی سی سرسراہٹ کے ساتھ—
جب وہ چھوتا ہوا گزر جائے سمندر کو ۔
چیختے چلاتے ہزاروں اس کے تعاقب میں تھے،
ہتھیاروں سے لیس،
بپھرے ہوئے شکاری، پروہتوں کے جتھوں کے ساتھ،
اس کی بو سونگھتے—
ان کے کوہان آخرکار سیموس کے منہ سے رگڑ کھاتے۔

ٹرائے نے ایک ہی غلطی کی۔
وہ ’عہد‘ کا مطلب بھول گیا۔
وہ دہشت ناک لڑاکے
جو اس لفظ کے بطن میں تھے۔
وہ زیوس کی دی گئی ضمانت بھول گیا
جو اس شبد میں چھپی تھی۔
مہمان اور میزبان کے بیچ عہد۔
دلہن اور دولہے کے بیچ عہد۔
ٹرائے نے پیرس کو ہیلن سے بیاہ دیا
اور ان کی شادی کے غافل گیت
جنہوں نے انہیں بہرہ کر دیا ان جنگجوؤں سے
اور زیوس کے ڈکراتے طیش سے
جو اس عہد سے بہہ نکلا جو پیرس نے دو بار توڑا تھا۔
انہیں ان چیخوں کی آواز نہ آئی
جو ان کی گیتوں کی تہہ میں اٹھ رہی تھیں۔
وہ اس قیمت کو بھی نہ جان سکے
جو ٹرائے نے ہیلن کی خاطر ادا کرنی تھی—
ہیلن، وہ ہلاکت خیزی—
اور پیرس کی غلطی کے لیے—
ٹرائے پر ٹوٹی مصیبت، ٹرائے شعلوں میں،
اس کی فوج کا قتلِ عام ہوا—
شہر کے پیروں تلے زمین بھی
صفحہ ہستی سے مٹ گئی، نام ونشاں نہ رہا

ایک کسان شیر کے بچے کو گھر لایا۔
اس نے اسے بھیڑوں کے ساتھ دودھ پینے دیا۔
وہ اس کے بچوں کے ساتھ کھیلا اور انہوں نے اسے پیار کیا۔
دادی دادا خوش تھے شیر کے بچے کو دیکھ کر
بھیڑوں اور بچوں کے بیچ اچھلتا کودتا۔
چرواہے نے اسے اپنی گود میں پالا۔
وہ اس کے بازو پر سوتا ، یا پھر گھٹنوں پر۔
پڑوسی ہنستے یہ سب دیکھ کر کہ کیا شاندار بات ہے
کہ ایک شیر کا بچہ آدمی کا منہ چاٹ رہا ہے۔
لیکن شیر کی صفت بھلا کہاں چھپتی ہے۔
وقت گزرا اور شیر کا دن طلوع ہوا
چرواہے کے پورے پریوار پر—
چیخ و پکار اٹھی اور دروازوں تلے
شیر کے کیے کا خون بہنے لگا۔
موت کا راج پروہت، لاشوں کے استھان پر۔

پیرس ہیلن کو لایا۔
اس کی خوبصورتی کسی نئے شبد کا تقاضا کرتی تھی۔
اس سال کواپنے تمام بدلتے لمحوں میں ،
کچھ ایسا لطیف نہیں ملا،
اور کہیں وہ سکون نہیں ملا۔
دوادارُو کی تمام جڑی بوٹیوں میں
کوئی ایسا مرہم نہ ملا۔
کھلتے ہوئے تمام غنچوں میں
کوئی ایسا نہ تھا، کہیں ایسی شیرینی نہ تھی۔
لیکن پھر پھل نکلے—کڑوے۔
وہ مسکراہٹیں جنہوں نے اسے ٹرائے میں خوش آمدید کہا تھا
مسخ ہو کرنفرت بن گئیں۔
زیوس، بندھنوں کے محافظ نے،
اس کی دوشیزہ نظر کو بدل کر رکھ دیا۔
وہ ایک تیر بن گئی—
پیرس کے لیے ہلاکت۔
اور ٹرائے کے شہر کے لیے
ایک شہابیہ۔
خوش قسمت آدمی کا عظیم ورثہ
تباہ کر دیتا ہے اس کے بچوں کو ۔
یہ ایک پرانی دانش ہے۔
کیا یہ سچ ہے؟
یقیناً جو باپ توڑتا ہے قدرت کا قانون
تباہ کر دیتا ہے اپنے بچوں کو ۔
جو باپ ردّ کرتا ہے قدرت کے حق کو
اندھا کر دیتا ہے اپنے بچوں کو ۔
جو باپ بھول جاتا ہے عاجزی
مسل دیتا ہے اپنے بچوں کو ۔
بدی جنم دیتی ہے بدی کو ۔
لیکن آدمی کےوہ بچے جو قدرت سے ڈرتے ہیں،
قدم رکھتے ہیںپھونک پھونک کر۔ قدر کرتے ہیں خیر کی ۔
پاتے ہیں انعام ۔

تکبر غرور پر سوار ہوتا
اور ڈھٹائی کو جنم دیتا ہے۔
پچکارو ڈھٹائی کو
تو جنم لیتی ہےافراتفری۔
اور افراتفری، جہاں ہر آدمی
اپنے اپنے پندارِ ذات کی مطلق العنانی لیے،
کھلی جنگ کا کارن بنتا ہے۔

عدل فقیری میں زندہ ہے۔
وہ زندہ رہتا ہے۔
وہ ماپ تول کرتا ہے اس کا جو ضروری ہے۔
وہ صاف دلوں کو تلاش کرتا ہے، صاف ہاتھوں کو۔
وہ جانتا ہے کہ دولت اور طاقت
کیسے اپنے بیچ مسل کے ریت کر دیتی ہیں۔
اچھائی اور قوانینِ قدرت۔

(آگامامنون ایک رتھ میں کاساندرا کے ساتھ داخل ہوتا ہے۔ کلیتم نسترا خیرمقدم کے لیے راج محل سے باہر آتی ہے۔)

گائک منڈلی
راجا! ٹرائے کو ملیامیٹ کر دینے والا۔ راجا!
کون سے شبد کافی ہوں گے اس کے لیے جو تم نے کیا؟
خوشامدی ان کو بے وقوف بناتے ہیں جن کی خوشامد کی جا رہی ہو۔
دنیا دونوں ہی کی وجہ سے تنگ ہے۔
یہاں کچھ تم پر مسکرائیں گے
اور اپنی مسکراہٹوں کے پیچھے چھپیں گے
الزام سے دکھتے دل سینوں میں لیے۔
لیکن تم ان کے چہرے پڑھ سکتے ہو،
اور آوازیں تول سکتے ہو۔
ہم سارے جانتے ہیں—
دس سال پہلے جب تم نکلے بحری سفر پر
اور سارے یونان کو ترازو کے پلڑے میں
ایک بے وقعت عورت کے مقابلے میں پھینک دیا—
لوگوں نے یہی سوچا کہ تم پاگل ہو،
اور جب تم نے قربانیاں دیں
کہ اپنے بیڑے کو تیز جھکڑوں سے چھڑا لو
اور ایک پژمردہ لشکر میں جوش پیدا کردو
تو کچھ نے اسے ایک شیطانی کام قرار دیا۔
لیکن لگتا تھا کہ کام چل گیا۔
خیر یہ سب کچھ تو ماضی کا قصہ ہو۔
تمہاری جیت ہماری بھی تو ہے۔
ایک بار انجام اچھا ہو
تو بیچ کی وہ ساری بپتا
جس پر شک تھا
صفر ہو جاتی ہے۔
ہم تمہارا خیرمقدم کرتے ہیں ، آگامامنون۔
ہمارے بیچ، یعنی ہم جو پیچھے گھروں میں رہے،
تم جلد ہی پہچان لو گے کہ کون وفادار تھے—
اور پھر دوسرے، ان کا بھی پتہ چل ہی جائے گا۔

آگامامنون
پہلے مجھے ان دیوتاؤں کو پکارنے دو جو آرگوس کے ساتھ ہیں۔
اے دیوتاؤ، تم اس انتقام میں حصے دار ہو جو میں نے ٹرائے سے لیا۔
اے دیوتاؤ، میری جیت میں حصے دار بنو۔
قدرت نے آرگوس کی دعائیں سنیں کیوں کہ وہ حق پر تھے۔
لیکن ٹرائے کی دعائیں بے اثر تھیں۔
سو اس طرح اڑ گئیں
جیسے قدرت کے فرش سے کوڑا،
اور پھینک دی گئیں ایک گڑھے میں
بن گئیں قتل ہوئی آبادی کا بستر—
اس مدفن ٹیلے میں ، اجتماعی قبروں کے اوپر،
اب شہر کے کھنڈر بھی شامل ہوئے۔
امید نے کچھ عرصہ ٹرائے کو کسمسانے کی توانائی بخشی،
لیکن بالآخر ٹرائے کا دم گھٹ گیا
اپنی ہی جلتی دولت کے دھویں میں۔
ٹرائے کی شان و شوکت لوبان کی سلگتی چنگاریوں میں چمکی،
پگھلتی لاشوں کے نیلے شعلوں میں مل کر۔
بُو سمندر پر پھیل گئی، مضافاتی زمینوں تک۔
دیوتاؤں کا شکر کبھی ادا نہیں کیا جا سکتا
جیسا کہ ان کا حق ہے۔
ہر ایک کو ان کا شکرادا کرنے دو۔
ٹرائے نے ہماری عورتوں کی عزت لوٹی۔ اب ٹرائے کا نام ونشاں باقی نہیں۔
آرگوس کا شیر، ہماری ڈھالوں پر چمکتا ،
ایک گھوڑے کے پیٹ سے پھوٹا
گھپ تاریکی میں۔
بکھرا دی ہڈیاں ٹرائے کے گھوڑوں کے جسموں سے ،
نچوڑ کر رکھ دیا شاہی خون آخری بوند تک
شہر کیا تھا ،
زمین پر ایک خون کا داغ۔
رہے تمہارے گیانی شبد ،
تو میں جانتا ہوں کہ وہ بروقت ہیں۔
سب مسکراتے چہروں پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔
حسد جیت میں زہر گھول دیتا ہے۔
مایوسی اکثر قاتلانہ نفرت کو جنم دیتی ہے۔
تاجداری نے مجھے یہ سکھلایا، بچھو کے ڈنک کی طرح:
زندگی میں اوپر سے بہترین نظر آتی ہیں
وہ گہرائیاں جن میں آدمی رینگ سکتے ہیں۔
ایک اکیلا آدمی ، ان سب میں سے جو میرے ساتھ تھے،
صرف اودیسئس نے، گو وہ جنگ سے نفرت کرتا تھا
اپنے بڑے دل اور عیاری سے مجھے کوئی زک نہ پہنچائی۔
ہم اکٹھے ہونے کے لیے ایک دن طے کر لیں گے،
مجھے راجدھانی کی حالت کا معائنہ کرنا ہو گا۔
عقل مند آوازوں کی قدر کی جائے گی۔
جہاں تک گڑبڑ کرنے والے ہیں تو وہ کوئی بھی ہو،
اور شہری بیماری چاہے کیسی بھی ہو،
ہمارا نشتر گہری کاٹ لگائے گا،
جیسا کہ ہم نے ٹرائے میں سیکھا۔

لیکن اب میرے اپنے راج محل کے دیوتاؤں کے لیے ایک دعا:
یہاں ، میرے محل کے دروازے پر، کھلے بازوؤں کے ساتھ،
میں تم لافانی روحوں کو پہلا سلام پیش کرتا ہوں۔
تم مجھے فتح کے ساتھ گھر واپس لائے۔
سفر میں میری یوں حفاظت کی ، جیسے کوئی اہم مقصد ہو،
اور واپسی پر بھی مجھے محفوظ رکھا۔
میرا ساتھ دو۔ اور میرے ساتھ رہو۔

کلیتم نسترا
میں کوئی شرمسار ہوں
کہ دنیا میری اپنے شوہر سے پریم کی باتیں سن لے گی؟
آرگوس کے بڑے بوڑھو، تم شرمساری کی بچگانہ غلطی سے واقف ہو۔
میں چیخ چیخ کر بتانا چاہتی ہوں جو میں نے دس سال کے تلخ انتظار میں سیکھا۔
میں نے کونسی گیانی سچائیاں جانیں جب میرا شوہر پڑا تھا
افواہوں میں لپٹا، ٹرائےکی فصیل تلے،
یا گھومتا تھا یہاں سے وہاں میدان جنگ میں ،
موت کے رقص میں اپنے قاتلوں سے بغل گیر ہوتا۔
کسی عورت کا اکیلے گھر پر بیٹھنا جب اس کا شوہر اپنی زندگی اچھال رہا ہو کسی سکے کی طرح، کبھی یہ سمت تو کبھی وہ سمت، کسی دوردراز جنگ کی خاک میں—
ہر رات ایک اتھاہ تاریکی ، اور ہر صبح ایک دہشت لاتی ہے، ماتم سے بڑا قاتل ہے کرب۔
مجھے مسافروں کو سننا پڑا، ایک کے بعد ایک دن، گھر پر کالک ملنا نت نئی اور بدترین چالوں سے۔
وہ زخم جو انہوں نے میرے شوہر کو دیے ساری فوج کا خون چوس لیتے۔
وہ موت جو قصوں کہانیوں میں اس کے حصے آئی راکھ کا ایک پہاڑ بن گئی۔
وہ مایوسی یوں لائے جیسے کوئی بیرونی عفریت۔
خود کو لٹکا لینا آسان تھا، پھندے نے وہ سکون دیا جو نیند نے روکا ہوا تھا—لیکن بیچ میں آتے ہاتھوں نے مجھے زندہ رکھا اس سے بدتر کا منتظر۔
تم نے دیکھا کہ ہمارا بیٹا اورستس کیوں نظر نہیں آیا؟
سوچو: اگر تم مار دیے گئے—تو اس کا کیابنا؟
ستروفس، وہ تمہارا جگری دوست، اس نے مجھے خبردار کیا
کہ اورستس کی تقدیر کیا ٹھہری
اگر تم ٹرائے میں کام آئے۔
یہاں آرگوس میں
گلی گلی کے نکڑ پر سازشی کھڑے ہیں—
اور ان کے پیچھے بدلے کی آگ میں جلتا ہجوم
سونگھتا ہوا آگے بڑھتا۔
ستروفس نے اورستس کو پالا پوسا۔
وہ فوکس میں محفوظ ہے۔اور اب جوانی میں قدم رکھ رہا ہے۔

جہاں تک میری بات ہے—
تو میرے آنسو خشک ہو چکے ہیں
جیسے ملبے کا کوئی ڈھیر۔
آنکھیں شمع کو دیکھتے دیکھتے سُن ہو چکیں
رات کے بعد رات
نیند کے بغیر۔
جب بھی اونگھ آئے تو تمہارے قتل ہونے کے منظر
تاریکی سے پھوٹ نکلتے ہیں،
میرے بستر کو خون سے بھر دیتے ہیں۔
کوئی شے میٹھی نہیں
طوفان کے بعد ایک محفوظ گھاٹی سے،
یا موت کی سزا سے فرار،
ہاں صرف یہ شیریں تر ہے—
اپنے شوہر کا گھر میں خیر مقدم کرنا۔
اس گھر کا ستون،
مجھے اس اکلوتے بیٹے سے بھی پیارا جو اپنے باپ کے پاس واپس لوٹ رہا ہو۔
یا ریت سےپھوٹتا کوئی خالص چشمہ
صحرا میں کسی پیاسے مسافر کے لیے۔
میرے لفظ آکاش کو حسد میں مبتلا کر سکتے ہیں—
لیکن ان کی قیمت یقیناً ادا کر دی گئی ہے۔
آگامامنون اپنی رتھ سے پاؤں نیچے رکھو
لیکن یہ ننگی زمین اتنی غریب ہے
اس پاؤں کے کارن جو ٹرائے کی گردن پر پڑتا ہے۔
جلدی کرو—کھولو یہ لمبا قرمزی قالین
اتارو اس کی رنگین جھالریں
شنگرفی اور ارغوانی۔
آرگوس کے بیش قیمت ریشم سجدے میں گرے ہیں
گھر لوٹتے مہاراجا کی تعظیم میں،
اور ا س کی فتح کے ہرقدم کے لیے گدیلا ہیں۔
خود عدل اس کی قدم بوسی کرے گا
اور ہر قدم راہنمائی کرے گا گھر کی جانب
جسے دیکھنے کی اسے امید ہی نہ تھی۔
اس کے بعد ہر ممکن چیز،
ایک کے بعد ایک سیاہ رات،
تاریکی سے باہر نکلے گی،
ہر شے اسی طرح ہو گی
جیسے لافانی روحوں نے منصوبہ بندی کی ہے۔

آگامامنون
رکھوالی میرے نام کی، میرے گھر کی،
کیا ہی بڑے دل کی عورت ہے تو،
لیدا کی بیٹی—
تیرے قصیدے میری غیرحاضری کی طرح ہیں:
بہت طویل، بہت زیادہ۔
اگر میری شان ہی بیان کرنی ہو تو وہ دوسروں پر چھوڑ دو۔
مشرق کے کسی خوشامدی کی طرح نہ جھکو
میری گردن میں پھولوں کے ہار ڈالنے کے لیے۔
لوگوں کے بیچ مجھ پر چکنی چپڑی تعریفوں کا لیپ نہ کرو،
اور یہ ارغوانی کپڑے مت پھیلاؤ
جو صرف دیوتاؤں کا حق ہیں،
ہاں، صرف دیوتاؤں کے قدموں کے لیے،
صرف آسمان سے نازل ہوتے دیوتاؤں کے قدموں کے لیے۔
انہیں میرے لیے نہ پھیلاؤ۔
میرا خیر مقدم ایک آدمی کی طرح کرو۔
یوں خیرمقدم کرو کہ خداوند اور لافانی روحیں
ہم سب کو سزا دیں گی۔
سچی تعریف کو اس رنگ پاشی کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔
اور خداؤں کا سب سے بڑا تحفہ
جو انسان کو اس کے آخری دنوں تک سکون کے ساتھ لے جاتا ہے
وہ ناک ہے جو ایسی کوتاہ اندیشی کو سونگھ لے۔

کلیتم نسترا
سمندر زمین کا احاطہ کیے ہوئے ہے
کون سمندر کو خالی کر سکتا ہے؟
کوئی ذہن ایسا نہیں جو سمندر کی وسعت کا اندازہ کر سکے
جہاں سے ارغوانی روغن کی ندیاں بہتی ہیں
کہ خون کے تمام رنگوں میں ہمارے کپڑے بھگو دیں—
لائیں پھیپھڑوں کا قرمزی ،
جگر کا گہرا بنفشی،
شریان کا گہرا سرخ،
لگاتار،
جیسے خود زندگی
گہرائیوں سے پھوٹتی دوسری دھاروں کے ساتھ۔
خدا ؤں کی نظرِ کرم رہی ۔
تمہارے خزانے چھلک رہےہیں
اس دولت سے۔
اگر ہاتفِ غیبی نے اس سے منع بھی کر دیا ہوتا
میں اس سے بیس گنا بچھا دیتا
اگر ضمانت ملتی
تمہارے بھلے چنگے یہاں واپس لوٹنے کی
سفر کے اختتام پر
تم یہاں اپنے گھر میں ہو—
تمہارے دیوتاؤں کے آتش دان۔
بڑے درخت کی جڑیں
جو اتنا عرصہ پیاسی رہیں، اور سوکھ گئیں ،
اب تر ہو سکتی ہیں۔
اس کے پتے دبیز ہو کر ہمیں سایہ دیتے ہیں
سورج کی جلا دینے والی آنکھ سے بچاؤ کے لیے
اور کلبِ اکبر کی دیوانگی سے۔
تم ایک بہار کے دن کی طرح آئے ہو، اپنا دل کھولتے ہوئے
بند زمستاں کے بعد
جب خداوند زیوس کچے انگوروں کو پیس کر
شراب بہنے دیتا ہے
پھر پورے گھر ہی پر نعمتیں برستی ہیں۔
جیسے اب
جب تم اپنی دہلیز سے گزر کر آئے ہو۔

آگامامنون
یہ میرے لیے نہیں
میرا دل پھڑکتا ہے
کھٹکے کے مارے

کلیتم نسترا
یہ تمہارا وعدہ ہو سکتا تھا
دیوتاؤں سے۔
تم قسم کھا سکتے تھے
کہ اپنے گھر میں داخل ہو گے ان چادروں کو پاؤں تلے مسلتے ہوئے
ان کی تکریم میں
اگر وہ تمہیں حفاظت سے نکال لائیں
کسی مایوس کونے کھدرے سے،
کسی ایسے پھندے سے جہاں موت یقینی ہو۔
اس لمحے میں
شاید تم باآسانی خود کو بچانے والوں سے وعدہ کر سکتے تھے
ایسی ٹھاٹھ کا۔

آگامامنون
میں کر لیتا۔
اگر کوئی پروہت اس کی اجازت دیتا۔

کلیتم نسترا
اور اگر دیوتا تمہیں وہاں مرنے دیتے—
تمہیں وہاں پھینک دیتے
کہ تم مسلے جاؤ اور تمہاری بے عزتی ہو
پریام کے کسی جنگجو سے—
تو پریام کیسے اس کا جشن مناتا؟
کیا وہ یہی چادریں نہ بچھاتا
اپنی فتح کے قالینوں کے طور—
کہ ان خداؤں کے شایانِ شان ہو جنہوں نے یہ عطا کی؟

آگامامنون
بے شک وہ ایسا ہی کرتا۔

کلیتم نسترا
تم اپنی جیت کی خوشیاں سمیٹنے کی جرأت نہ کرو
یا فاتح کا سا طرزِ عمل نہ رکھو۔
تم ہجوم کے ردّعمل سے ڈرتے ہو۔

آگامامنون
تمہارا مطلب ہے لوگوں کا ہجوم؟

کلیتم نسترا
روئے زمین پر کوئی آدمی جیت کا سہرا اپنے سر نہیں باندھ سکتا
باقی لوگوں کے حسد کا نشانہ بنے بغیر
جیتنے کی جرأت کے معنی ہیں حسد کا سامنا کرنے کی جرأت۔

آگامامنون
ایک عورت جو کسی شے سے نہیں ڈرتی—کیا واقعی وہ عورت ہے؟

کلیتم نسترا
تمہیں کس کا خوف؟ تم تو مطلق فاتح ہو۔
تھوڑی سی ہار مانو—میری خاطر۔

آگامامنون
تو یہ ایک مقابلہ ہے—جو تم جیتنا چاہتی ہو۔

کلیتم نسترا
تم نے اپنی جیت منا لی—مجھے میری کا مزہ چکھنے دو۔

آگامامنون
تم ہٹ کی کتنی پکی ہو۔
یہ لو—ان چمڑوں کے تسمے کھولو
جنہوں نے ٹرائے کی فصیلوں کو پامال کیا۔
میں جب اس ارغوانی سمندر سے گزرتا ہوں
جیسے یہ ساری شان میری ہی ہے
تو کوئی دیوتا اس پرناک بھوں نہ چڑھائے، یا تحقیر محسوس نہ کرے،
کیوں کہ مجھے اچھا نہیں لگتا کہ
میں ایسی امارت کو اپنے ان دھلے پیروں تلے پامال کروں۔
باہم گندھے ہوئے مخمل و کمخواب، اتنے بیش قیمت جیسے چاندی کی تاریں۔
یہ ڈھیر لگی، بکھری ہوئی دولت میرے اپنے گھر کی
کیا میں اسے کسی خاطر میں لاتا ہوں؟
یہ کاساندرا ہے۔
دیکھو اسے کوئی تنگی نہ ہو۔
خدا ایک فاتح کے رحم کو نوازتے ہیں۔
اس کا گھر راکھ ہو چکا، اس کا خاندان راکھ ہو چکا،
اور یہ اب ایک لونڈی ہے۔ اس سے میری ملکیت کا سا برتاؤ کرو۔
ٹرائے کا کوہِ نور، میری فوج کا مجھے تحفہ۔
پھر اب جب کہ تم نے اس معاملے میں مجھے زیر کر لیا ہے
کہ میں قرمزی راستے پر چلوں—
تو بالآخر مجھے اپنے گھر میں داخل ہونے دو۔

(وہ اندر داخل ہوتا ہے)

کلیتم نسترا (زور سے پکارتی ہے)
اے زیوس! اے زیوس!
تو جو ہر چیز کا پورا کرنے والا ہے—
اب میری دعاؤں کو پورا کر دے۔
مجھے قوت دے کہ تیرے ارادے کی تکمیل کروں۔

گائک منڈلی کا سرپنچ
فضا میں ایک تاریک بوجھ۔
دم گھٹ رہا ہے۔
دل گھبراتا ، سانس لرزتی ۔
خون گاڑھا ہو چکا ۔
قریب ہے کوئی سانحہ ۔
بدن میں کسی بدی کی سرد لہر دوڑتی ہے۔
اس کی جانکاری
کمزور کیے دیتی ہے پورے تن کو ۔
میں اس سے نہیں الجھ سکتا، نہ ہی فرار ممکن ہے۔
سوجھ بوجھ، سیدھا سادھا سجھاؤ
دم توڑتا ہے۔
جاگنے کی کی کوشش میں کسمساتا ہوں
ڈراؤنے خوب میں چلتے ہوئے،
جاگ نہیں پاتا۔
میں اب بھی اسی خواب میں سوتے میں چل رہا ہوں۔
میں اسے پہلے ہی جانتا تھا۔
وہ لمحہ جب بیڑے نے
لنگر اٹھایا اور رواں دواں ہوا
سلگتے ہوئےٹرائے سے
میں جانتا تھا۔
لیکن اب جب بیڑا واپس پہنچ چکا ہے
یہ جانکاری ماند پڑ چکی ہے۔
روح بہت کچھ دیکھتی ہے
لیکن ہر شے ماند پڑ جاتی ہے
جب خوف سے ششدر بدن، قدموں کی آواز سنتا ہے
آنے والے غیض وغضب کی
جب ہتھیار
سب کچھ ارغوانی کر دے گا
بھیجا گھما دے گا
اور کانپتی نسوں کو کاٹ کر رکھ دے گا
سچائی کی بے رحم دھار سے۔

گائک منڈلی
ہم دعا کر سکتے ہیں
کہ غلط ہوں۔
دعا کرو
کہ یہ خوف غلط ہوں۔
آدمی اچھے نصیب کی بات کرتے ہیں—
ہم اسے ایک خوش دلہن سمجھتے ہیں۔
لیکن وہ ہمیشہ پیٹ میں پالتی ہے
اپنا ہی قاتل۔
اور کامیابی
اچانک چندھیا جاتی ہے
جب وہ بڑھتی ہے
جیت کے نشان سے آگے،
اور فتح کا نعرہ
کمر توڑتے قرض میں اضافہ کرتا ہے۔

گائک منڈلی کا سرپنچ
خیر کچھ بھی ہو، طوفان میں پھنسا جہاز،
ہچکولے کھاتا اور بے طاقت،
خود کو بچا سکتا ہے—
اپنا سامان پھینک سکتا ہے
تاوان کے طور پر،
یعنی ایک نذر ۔
امید زندہ ہے۔
وہ گھر جو اپنی دولت میں سے اضافی پیش کر دیتا ہے
دیوتاؤں کو، حاسد، خطرناک دیوتاؤں کو،
یقیناً انہیں خرید لےگا—
زیوس اس گھر کی حفاظت کرے گا۔
اس کی فصلوں اور مویشیوں پر رحمتیں برسیں گی۔
قحط—پہلی اور آخری دہشت—
اس گھر کے قریب بھی نہیں آئے گا۔

گائک منڈلی
لیکن جب ایک آدمی کا خون زمین پر گرتا ہے،
جب وہ رستا ہوا، بہتا ہوا
ریت میں کچھ تلاش کرتا ہے—
کون سا منتر یا دعا
اسے شریان میں واپس ڈال سکتی ہے
یا موت سے بجھ جانے والی آنکھ کو روشن کر سکتی ہے؟

گائک منڈلی کا سرپنچ
زیوس نے مار ڈالا
اس طبیب کو
جو مرے ہوؤں کو زندہ کر سکتا تھا۔
یہ دانش مندی تھی۔
اس نے انسان کی زندگی کو ایک قدروقیمت بخشی۔
زمین پر انسان کی قیمت کیا ہے؟
کسی قاتل کو کیا قیمت ادا کرنی ہو گی
ایک انسانی زندگی کی
جو واپس نہ لائی جا سکے؟
لیکن میں اس بندھن کی قوت جانتا ہوں
جو علت اور اثر کے بیچ ہے۔
اور میں جانتا ہوں کہ
اوپر والے کی مبہم منطق
بے رحم ہے۔
انسانی زندگی لینے کی ایک قیمت ہے
جو ادا کرنی لازم ہے۔
اگر بات اس کے برخلاف ہوتی
تو میں اب اس کے لیے وہ شبد تلاش کرتا
جو میں سوچنے کی جرأت نہیں کر سکتا۔
میری یہ تمام بڑبڑاہٹیں
آہیں ہیں،
کبھی یہاں مڑتی تو کبھی وہاں۔
وہ بڑی اذیت سے مجھ سے باہر نچڑتی ہیں—
یہ بے سدھ آگ جو میں اپنے اندر چھپائے پھرتا ہوں
میری آنتیں کھاتی ہے
اس کی جانکاری سے جو آنے والا ہے۔

کلیتم نسترا
اندر آ جاؤ کاساندرا
تمہاری پاکیزگی بھی ضروری ہے
حمامِ مقدس میں۔
اتر آؤ اس رتھ سے۔
اب غرور کرنے کا وقت گزر گیا۔
زیوس خوش ہے
تمہارا اپنے گھر میں سواگت کرتے ہوئے۔
باندیوں کے درمیان۔
آ جاؤ، اور چبوترے پر پاکی حاصل کرو۔
اب یہ تمہارے نصیب
کہ لونڈی بنو۔
تم خوش قسمت ہو—
یہ گھر غلاموں سے اچھا برتاؤ کرنا جانتا ہے۔
یہ تو نودولتیے ہیں
جو غلاموں پر ظلم ڈھاتے ہیں۔
یہاں تم یقین کر سکتی ہو کہ
تمہیں رسمی برتاؤ کا سامنا ہو گا۔
ہاں، بلکہ اس سے بھی زیادہ۔

گائک منڈلی
کاساندرا—کیا تم نے کلیتم نسترا کو سنا؟
وہ تم سے بات کر رہی ہے۔
اب تم بےبس ہو، وہ تمہاری مالکن ہے۔
کیاتم جانتی نہیں
یا بس یہ ڈھٹائی ہے؟
اچھی بات نہیں، کاساندرا، تمہیں حکم ماننا ہو گا۔

کلیتم نسترا
کیا اس لڑکی کا دماغ چل گیا ہے؟
یا پھر غم؟ یا یہ کوڑھ مغز ہے؟
یا قیدی ہے
کسی چیں چیں کرتی زبان کی
جیسے کوئی انوکھا پرندہ، پنجرے میں لایا جائے؟

گائک منڈلی
کاساندرا—سنو۔
یہ سب اچھے ہی کے لیے ہے۔
تمہیں ماننا پڑےگا۔
نیچے جھکو۔اندر جاؤ۔

کلیتم نسترا
میں یہاں کھڑی نہیں رہ سکتی
اس انتظار میں کہ وہ اپنے ہوش و حواس میں آ جائے۔
قربان ہونےو الے
استھان پر تیار ہیں۔
اگر تم سمجھتی ہو کہ میں کیا کہہ رہی ہوں:
تو اندر آ جاؤ، ابھی۔
کیا یہ گونگی بہری ہے؟کوئی اسے سمجھائے۔
یوں مجھے نہ گھورو۔
نہ سمجھو کہ مجھے بے وقوف بنا لو گی۔

گائک منڈلی
کون اس کی تعبیر کر سکتا ہے؟ دیکھو اسے—
جیسے جال میں پھنسا کوئی جنگلی پنچھی۔

کلیتم نسترا
وہ پاگل ہے، میرے خیال میں۔
ذہن الجھا ہوا،
سر دیوانگی میں لپٹا ۔
مغز ایسے جیسے اس کے باپ کا شہر—
کھنڈر اور سلگتی چنگاریاں، اور لاشوں کی بدبو۔
ایک پاگل گھوڑی ہے یہ—
کہ مالک کو نہیں پہچانتی
جب تک سارا طیش اس کی باچھوں ابل کر باہر نہ آ جائے
ایک خونی جھاگ کی صورت۔

(وہ اندر چلی جاتی ہے)

گائک منڈلی کا سرپنچ
نہیں، وہ لڑکی ترس کی حق دار ہے۔
اور میں اس پر ترس کھاتا ہوں۔
نیچے اتر آؤ، اے اداس بچی۔
کوئی اور طریقہ نہیں۔
اپنا سر جھکاؤ
ناگزیریت کا طوق۔
تمہیں یہ پہننا ہی ہو گا۔

کاساندرا
اپالو!
نہیں!
اے دھرتی! دھرتی !
نہیں! نہیں!

گائک منڈلی
تم اپالو پر نہیں چیخ سکتی!
اپالو اپنا منہ فریاد کی طرف سے پھیرتا ہے۔
اس کے کان چیختی فریاد کے لیے بند ہیں۔

کاساندرا
اپالو! دھرتی! ہائے۔
نہیں۔ نہیں۔نہیں۔اپالو!

گائک منڈلی
توہین!
تم اپالو کا نام داغ دار نہیں کر سکتی
ایسی دردناک آواز سے۔
وہ شکست خوردہ چیخوں سے نفرت کرتا ہے
جو کرب اور مایوسی سے بھری ہوں۔

کاساندرا
اپالو! مجھے راہ دکھانے والے خداوند—
تو انگلی پکڑ مجھے اتنی دور لایا
کہ صرف تباہ کر دے۔

گائک منڈلی
یہ پیشین گوئی کا اضطراب ہے۔
وہ اپنی غلامی اور اپنے غموں کے بیچ سے
مستقبل کو دیکھتی ہے۔

کاساندرا
اپالو! مجھے راہ دکھانے والے خداوند—
یہ تو مجھے کس خوف ناک جگہ لے آیا؟

گائک منڈلی
کیا پیشین گوئی نہیں پہچان سکتی
اتریوس کا گھر؟
یہ اتریوس کا گھر ہے—
اتنی بات تو سچ ہے۔

کاساندرا
ایک گھر جسے اوپر والے سے نفرت ۔
ایک گھر جس سے اوپر والے کو نفرت ۔
خون کے آنسو روتی دیواریں
معصوموں کو ذبح کرتی چاردیواری،
بچوں کا خون اور ہڈیاں۔

گائک منڈلی
اس نے بو سونگھ لی
کسی شکاری کتے کی طرح۔
خون سے بھرے راستے پر چلی جا رہی ہے۔

کاساندرا
خون میں دوڑنے والو۔ دیکھو—
دیکھو—گواہو:
اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھتے بچے،
انگلیوں سے خون ٹپکتا،
ٹکڑے ٹکڑے ہوئے بچے، چیختے چلاتے
اور بھنے او رکھائے ہوئے شکار
اپنے ہی باپ کے۔

گائک منڈلی
ہمیں کسی کاہن کی ضرورت نہیں
جو ہمیں یہ کہانی سنائے۔

کاساندرا
وہاں دیکھو۔ ابھی۔ دھک دھک کرتا ایک دل
نفرت سے بھرا
اس دروازے کے پیچھے۔
بدی ٹپکتی ہے بدی سے۔
خون ٹپکتا ہے بدن سے
جسے محبت کی توقع تھی۔
حیرانی کا شکار،
بے لباس، بے بس—
بے رحم تقدیر کے جال میں قید
اور جال کے خانوں میں سے اندر آتی وہ تیز دھار
باربار، لگاتار۔

گائک منڈلی
تمہارا وہ پہلا کشف تو سامنے ہی کی بات تھی۔
جو تم اب دیکھتی ہو وہ تاریکی ہے۔

کاساندرا
وہ اپنے شوہر کو غسل دیتی ہے
اس کے اپنے ہی خون میں
وہ اس کےلیے اپنا ہاتھ باہر بڑھاتا ہے
جو اسے گھپ اندھیرے میں دھکیل دیتا ہے۔

گائک منڈلی
یہ کیا بات کر رہی ہے؟
کون یہ گرہ کھول سکتا ہے ؟

کاساندرا
اب یہ جال —مچھلی کی آنکھ میں وہ دہشت:
موت اسے آغوش میں لے رہی ہے، جیسے کوئی ماں
بچے کو کپڑوں میں لپیٹتی ہو۔
وہ عورت جو اس کی ہم بستر تھی
اس کے اندر تانبا اتار رہی ہے۔
انتقام کی دیویاں گھر میں آن گھستی ہیں
اس گھرانے کی خون کی پیاسی،
اس گھرانے کے خون کی شیدائی—
دیکھو ان دیویوں کو۔ دیکھو—دیکھو—

گائک منڈلی
اس کا کشف اسے بھی قتل کر رہا ہے۔
تم کیوں یہ دہائیاں دے رہی ہو؟
یہ ایک قسم کی موت کی ہچکی ہے۔
اسے تھوڑا مرنا ہی ہو گا، زندگی سے آگے دیکھنے کی لیے۔

کاساندرا
اوہ!
گائے نے اتنے بڑے بیل سےسینگ پھنسا لیے۔
اور اب کافی دیر ہو چکی۔
اس نے سوچا یہ اس کی قبا ہے، لیکن یہ اس کی موت کا جال تھا۔
اور لمبا سینگ اندر ترازو ہو چکا ہے۔
او رایک بار پھر۔ اور پھر۔
وہ لوٹتا ہے
اپنے ہی خون سے بھرے تالاب میں۔

گائک منڈلی کا سرپنچ
ہاتفوں کو ایک ماہر کی ضرورت ہے۔
میں جانتا ہوں وہ ہمیشہ بری خبر ہی لاتے ہیں۔
اور پیغمبر چاہتے ہیں کہ لوگ کانپیں اور روئیں دھوئیں۔
لیکن جو یہ کہتی ہے وہ مجھے خوف میں مبتلا کیے دیتا ہے۔

کاساندرا
اور میں وہاں اس کے ساتھ ہوں
دیکھو میری طرف—جیسے کوئی کٹی ہوئی ڈولفن مچھلی
ایک سرے سے دوسرے سرے تک۔
میں اس کے خون میں لوٹتی ہوں۔
اسی خنجر سے تراشیدہ۔
اپالو—
کیوں تو نے مجھے پھنسا دیا
اس آدمی کی ہیبت ناک موت میں؟

گائک منڈلی
خداوند کے قبضے میں، سرپھری—
ہاں، ماتم کرتی، اپنی ہی موت کا
وہ بلبل، آہ وفغاں کرتی
اور اپنے ہی گزرے دنوں کی یاد میں گھٹتی۔

کاساندرا
پنچھی اڑ سکتا ہے
لیکن مجھے نیچے جانا ہو گا
ہتھوڑے کی ضرب تلے
جو خالی کر دے گی مجھے—
جیسے سِل پر کوئی مرغی۔

گائک منڈلی کا سرپنچ
یہ سب کہاں سے آتا ہے؟
بدی کا ایسا تیزبہاؤ۔
خون کا سلگتا تیزابی لاوا،
اوپر والے کے لیے ایسی زبان اور وہ بھی لایعنی۔
پھر زمین کے بیچ سے آتی یہ صدا
جو میری آنتوں کو مروڑتی ہے۔
یہ سب کہاں اشارہ کرتا ہے؟
یہ کیا ہورہا ہے؟

کاساندرا
پیرس اپنے عشقِ عظیم کے ساتھ
تہس نہس۔
اس کا اپنا خاندان اور اس کا اپنا شہر۔
مجھے سکامندار نے زندگی دی، مسرت بھری۔
وہ شیریں ندی۔
لیکن اب مرن دھرتی کے دریا
میرے کہے سے بہیں گے۔

گائک منڈلی
ہم جانتے ہیں پیرس نے کیا کیا۔
لیکن باقی سب سے تمہارا کیا مطلب ؟
جو یہ کہتی ہے
وہ ایک سانپ کی کچلی کی تیز کاٹ ہے
جو بدن پر کسی لٹھ کی طرح لگتی ہے۔

کاساندرا
کوئی چیز میرے کہے کی اڑان نہیں روک سکتی۔
ٹرائے کی فصیلیں کافی نہیں تھیں۔
اس کے مینار کافی نہ تھے۔
ہر استھان پر روز ذبح کیے جانے والے درندے
کافی نہ تھے۔
دعائیں، ڈھالیں اور ان کی آڑ لیتے طاقتور سورما—
ان میں سے کچھ کافی نہ تھا
کہ میرے کہے کا رخ بدل سکے۔
کسی نے میرا یقین نہ کیا۔
اب وہ سب مر چکے ہیں۔
اور جلد ہی میں ان کے ساتھ ہوں گی۔

گائک منڈلی
روشن نظر، تاریک کلام۔
کیا ہے یہ شیطانی حقیقت
جو پیدا ہونے کے لیے زور لگا رہی ہے
اس اذیت ناک منہ سے؟

کاساندرا
جاننا چاہتے ہو؟
اتار پھینکوں گی میں یہ عروسی نقاب
جہاں سے میرا کہا جھانکتا اور سرگوشیاں کرتا ہے۔
جانے دوں گی میں اسے کسی جوش مارتی لہر کی طرح
جو سمندر میں چڑھتا اور گرا دیتا ہے بادلوں کے برج
کہ سورج کی روشنی کو راستہ ملے—
برآمد کروں گی میں ایک جرم
اپنے قتل ہوئے جسم سے بھی زیادہ دہشت ناک
سورج کی چمک میں ۔
مزید کوئی راز نہیں۔
دکھاؤں گی میں تمہیں
کہ کتنا پہلے
راستہ شروع ہوتا ہے خون اور خونی پشیمانی کا ،
جو آج مجھے
اور آگامامنون
اورکلیتم نسترا کو
ایک دوسرے کے آمنے سامنے لے آیا ہے۔
یہ گھر عفریتوں سے بھرا ہے
یہ نفرت انگیز جلوس
شاہی خون کا۔
ان منقش چھتوں تلے یہ پھدکتے اور بڑبڑ کرتے ہیں۔
ہر سیڑھی پر انہی کا اکٹھ لگا ہے۔
کھکھلاتے ، سرسراتے اور سرگوشیاں کرتے ،
دیواروں کے درمیان۔
چیزیں سرکاتے ، تاریکی میں
تُوتُو میں میں کرتے ہیں تہہ خانوں میں ۔
گنگناتے ہیں دیوانگی
راجگی کانوں میں۔جنون۔
یہاں تک کہ راج بھائی اپنے ہی بھائی کا بستر میلا کرتا ہے۔
کیا یہ ہوا؟
اتریوس کے گھرانے کی بنیادیں
ٹوٹ کر کھل گئیں جب یہ ہوا،
اور اندر سے بدی پھوٹ کر بہہ نکلی۔
کیا یہ سچ نہیں؟ قسم کھاؤ یہ سچ ہے۔

گائک منڈلی
قسمیں سچائی کو مضبوط نہیں کر سکتیں۔
لیکن تم یہ سب کیسے جانتی ہو؟

کاساندرا
یہ اپالو کا تحفۂ روح ہے۔

گائک منڈلی
ہم نے سنا کہ خداوند کو تمہارے جسم کی پیاس تھی۔

کاساندرا
اب گزر چکا شرمانے کا وقت ۔
ہاں اسے تھی۔

گائک منڈلی
جب آگے امید ہو تو ہم اپنے رازوں پر پردہ رکھتے ہیں۔

کاساندرا
اس نے مجھ سے اتنا ہی سخت اصرار کیا جتنا کوئی دیوتا کر سکتا تھا۔

گائک منڈلی
مقصد کیا تھا؟
ایک بچہ؟

کاساندرا
میں نے اس سے وعدہ کیا کہ خود کو اسے سونپ دوں گی— پھر انکار کر دیا۔

گائک منڈلی
لیکن کیا تم پہلے ہی نہ تھی ایک پہنچی ہوئی جوتشی ؟

کاساندرا
ہاں میں نے ٹرائے کی مات کی خبر دی—
اپنے ہی شہر کی شکست کی۔

گائک منڈلی
اپالو نے کیسے اپنی مایوسی کا اظہار کیا؟

کاساندرا
کوئی میری بتائی خبریں نہیں مانا۔

گائک منڈلی
ہم تمہارا کہا ایک ایک لفظ مانتے ہیں۔

کاساندرا
آہ۔
دور تک دیکھنا ایک کرب ہے۔
خوف ناک چیزیں، ذہن کو الجھاتی
ناقابلِ برداشت چیزیں۔
انہیں دیکھو، دیوار پر بیٹھے ہوئے—
یہ بچے جو اپنی ہی ذبح ہوئی لاشوں کو جھولا جھلا رہے ہیں—
اپنے ہی خاندان والوں کے ہاتھوں ذبح ہوئے۔
دیکھو—
اپنے ہی دل اور کلیجے تھامے بیٹھے ہیں۔
پسلیوں کے قتلے، رانیں اور پیٹھ—
جیسے ان کے باپ نے انہیں کھایا،
ہڈی سے گوشت اتارا اور شراب کے ساتھ نگل گیا
اور پھر اگلے نوالے کے لیے ہاتھ بڑھایا۔
اس جرم کی قیمت ابھی ادا کی جانی ہے۔
اس راج محل میں ایک شیر ہے۔
ایک بزدل شیر
اس عظیم راجا کی موت کا تانا بانا بنتا
جس کے بستر میں یہ برسوں زبان نکالے بیٹھا رہا ہے،
جب عظیم راجا ٹرائے کے شہر کی اینٹ سے اینٹ بجانے میں مصروف تھا۔
راجا واپس لوٹا تو
کتیا نے اس کا ہاتھ چاٹا،
بزدل شیر او رکتیا
ٹوڈی پن سے جھکے اپنی سازش کے ناچ میں۔
راجا وہ بدلے کی بھاونا نہ دیکھ سکا
جو اس کی مسکراہٹ تلے گھور رہی تھی،
پیروں تلے ظاہر ہو رہی تھی—
خون کی سی سیاہ، موت کی سی بے تہہ۔
وہ نہیں دیکھتا
اس گہرے گھاؤ کو اوپر کی طرف بڑھتے ہوئے
اپنی طرف حمام کی گہرائیوں سے
جب اس کی بیوی، وہ قاتلہ، چومتی ہے اسے،
وہ عورت جس کا دل کسی عفریت کا ہے۔
کیا اس کا کوئی نام ہو سکتا ہے—
باش ناگن ، اپنی جان لیوا، ترازو ہوتی نظر لیے،
مڑے کانوں والا، انسانوں کے شکار پر زندہ، سمندری درندہ،
نیچے سے بڑھتی کوئی شارک مچھلی۔
وہ تو بس ہمیشہ ایک چوڑی تیز دھار ہی کا تصور کرتی ہے
اپنے شوہر کے جسم میں ترازو ہوتی۔
تم نے اس کی فتح کی چیخ سنی
جب اس نے سنا کہ وہ گھر پہنچ گیا؟
اس نے یوں ظاہر کیا جیسے یہ اس کے شوہر کی جیت کی خوشی ہو۔
نہیں یقین آیا؟
کچھ بھی ہو۔ جو ہونا ہے وہ تو ہو کر رہے گا۔
اور تمہیں اسے دیکھنا ہی ہو گا۔
پھر تم مجھ پر ترس کھاؤ گے۔

گائک منڈلی
ہم جانتے ہیں کیسے توئستس نے اپنے بچوں کو کھایا۔
اور یہ ہمیں دہشت میں مبتلا کر دیتا ہے۔
لیکن اس سے زیادہ نہیں جتنا تمہاری جوتش کی سچائی ہمیں مبہوت کیے دیتی ہے۔
تم نے جو باقی سب کچھ کہا—
ہم اس سے کیا سمجھیں؟
کیا مطلب اس کا ؟

کاساندرا
اس کے معنی ہیں آگامامنون کا لاشہ۔

گائک منڈلی
کیا تم دیوانی ہو گئی ہو؟
یہ شبد تو کبھی منہ سے نہیں نکلنے چاہئیں۔

کاساندرا
میری خاموشی تو اسے زندہ نہیں رکھ سکتی۔

گائک منڈلی
اگر خددیوتا ہماری سن رہے ہیں تو وہ زندہ رہے گا۔

کاساندرا
چاہو تو اس کے لیے دعا کرو—جب کہ باقی اسے قتل کریں۔

گائک منڈلی
کوئی آدمی ایسی غلاظت میں ہاتھ نہیں ڈالے گا۔

کاساندرا
آدمی کی بات کرتے ہو؟ تم نے میری کہی نہیں سنی؟

گائک منڈلی
ایسی سازش اس راج محل میں؟
ناممکن!

کاساندرا
میں صاف صاف یونانی میں کہتی ہوں لیکن پھر بھی کوئی نہیں مانتا۔

گائک منڈلی
تمام جوتشی یونانی بولتے ہیں اور سب کی زبان ہی کالی ہے۔

کاساندرا
اپالو! میں محسوس کر سکتی ہوں۔
اپنی موت کے دھچکے
اپنی طرف آتے ہوئے۔
اپالو، مجھے کسی طرح دور کر دے۔
یہ شیرنی جس نے بھیڑیے سے ملن کیا
اپنے آقا کی غیرموجودگی میں—
وہ مجھے مار ڈالے گی۔ اس نے تانبے کی دھار تیز کر لی ہے۔
جیسے کوئی جادوگرنی جڑی بوٹیاں پیستی ہو،
وہ قسم کھاتی ہے کہ اپنے شوہر کا بھیجا گھما دے گی،
میرا خون اس کے خون میں انڈیلتے ہوئے،
ایک ہی کڑاہی میں ہمارے خون ملاتی ہوئی—
اکٹھی لاشیں کیوں کہ ہم اکٹھے ہی پہنچے۔

یہ بھیس میرے لیے مضحکہ خیز ہے—
جوتشی کی قبا
میرے اپنے پگھلاؤ میں مجھ ہی کو لپیٹتی ہوئی،
یہ عصا اور یہ ہار—
میری ہی موت مجھ تک لاتے ہیں—
دور ہو جاؤ مجھ سے ۔
لعنت بھیجتی ہوں میں تم پر جیسےتم نے مجھ پر بھیجی۔
انہیں پاؤں تلے روندتے ہوئے ، میں کچھ آزادی محسوس کرتی ہوں
اپنی زندگی کی لعنت سے۔
اپالو کو یہ سب دیکھنے دو۔
جاؤ کسی اور احمق عورت کو
شاندار تحفہ دو بے چارگی کا ۔
خداوند خوش ہوا
میری ہنسی اڑتے ، مجھ پر آوازے کستے دیکھ کر،
سیلانی ، ڈراؤنی کہہ کر ٹھٹا اڑاتے ،
کوئی سرپھری اداکارہ دیوانی سرگوشیوں کے ساتھ،
ایک پاگل کنہیا، سر پھری ،
دعوت کے بیچ کھوئی کھوئی پھرتی ایک بے چاری چیونٹی،
بدن پر سجائے اپنی مبہم سی شاہی خلعت
جو اپالو نے اسے عطا کی۔
میں نے یہ ساری تذلیل برداشت کی۔
اور اب اپالو،
جس نے مجھے یہ درد بھری چمک دی
اپنی پیش علمی کی عظیم روشنی میں سے،
جو ایک لمحے ہی میں لا پھینکتی ہے مجھے،
اس بوچڑ خانے میں ،
دھکیلتی ہے مجھے کہ میں اگل دوں یہ تحفہ
یہاں ان خون بھرے فرشوں پر—
میری آخری بے یقین اینٹھن۔
یہ وہ جگہ ہے جہاں بے یقینی آخر کار مجھے چھوڑ جائے گی۔
مزید وہ جوتشن نہیں جس کا مذاق اڑا
میرے ابا کے گھر بار میں جس پر ترس کھایا گیا—
لیکن سِل پر ٹکڑے کی گئی ایک لاش،
ایک تیل ملی ہوئی قصائی کی گرم سِل۔
لیکن خداوند ان اموات کو دیکھتے ہیں ،
وہ ہمارا بدلہ لینے کے لیے کسی کو بھیج رہے ہیں۔
اپنے باپ کے عدل کا ایک سچا بیٹا
جو اپنی ماں کو سزا دے گا۔
ہوا کے جھکڑچلاتا ایک وطن بدر،
جو سب سے آخری پتھر رکھے گا
اپنے پریوار کے
خونی جرم کے مقبرے پر۔
خدا معاہدے پر مہر ثبت کر چکے ہیں
جو باندھتی ہے آگامامنون کے بیٹے کو
کہ وہ پوری قیمت لے
اپنے باپ کی لاشے کی۔

میرے آنسو سوکھ چکے ہیں۔
پیشین گوئیاں ختم ہوئیں
اور تقدیر کے بے رحم کھیل بھی۔
ٹرائے بھی ختم
اور خداؤں کا ارادہ بھی۔
موت میری نئی زندگی ہے۔
مجھے اس کا خیر مقدم کرنے دو۔
کوئی جدوجہد یا سانس اور آنسوؤں سے چپکنا نہیں—
مجھے آزاد کر دینے کے لیے ایک ہی سُن کر دینے والی ضرب۔
پھر مجھے گرنے اور آرام کرنے اور گھلنے دو
ایک عظیم راحت—موت کی۔

گائک منڈلی
اذیت برداشت کرنے اور سوجھ بوجھ نے مل کر
تمہیں یہ بصیرت دی ہے
کہ زمین میں چھید کر دو۔
لیکن تمہاری موت دیکھ کر
جیسے تم اس سے گزر چکی ہو
اور ہمیں بتانے واپس لوٹی ہو—
کیسے واپس لوٹ سکتی ہو تم، اب،
اتنی خاموشی سے
اس ضرب کی جانب
جو حد سے زیادہ بھاری ہے؟

کاساندرا
جس کا ہونا لازم تھا
وہ پہلے ہی ہو چکا ہے۔

گائک منڈلی
لیکن ہماری پوری زندگی
ایک ٹال مٹول ہی تو ہے۔

کاساندرا
زندگی بھی گزر جاتی ہے۔

گائک منڈلی
اب ہم جرأت دیکھتے ہیں۔

کاساندرا
گرے پڑے بھی کیا خوب ہیں۔

گائک منڈلی
ایک دلیر موت
مدد کرتی ہے کئی زندوں کی ۔

کاساندرا
اے میرے باپ! میرے بھائیو!
میری موت تک تمہارے لیے بے فائدہ ہے۔

(وہ اندر جاتی ہے لیکن واپس پلٹتی ہے، چیختی ہوئی)

گائک منڈلی
تم نے کیا دیکھا ہے؟
جو تمہاری جوتش سے بھی برا ہو۔

کاساندرا
فرش خون میں رنگے ہیں۔

گائک منڈلی
قربانیاں شروع ہو گئی ہیں،
یہ نعمتیں ہیں۔

کاساندرا
پورے راج محل سے
کسی کھلی ہوئی بڑی قبر کی طرح بُو اٹھتی ہے۔

گائک منڈلی
تم دعوت کے لیے چھڑکے گئے عطر کو غلط سمجھ بیٹھی۔

کاساندرا
میں کوئی پنچھی نہیں
جو پتوں کی سرسراہٹ سے ڈر جائے
تم میرے گواہ ہو۔
جب تم میرے قتل کی قیمت چکائے جاتے دیکھتے ہو
ایک کنہیا کے قتل سے۔
جب تم ایک آدمی کو قتل ہوتے دیکھتے ہو
اس آدمی کی قیمت چکانے کے لیے
جو قتل ہوا اپنی مسکراتی بیوی کے ہاتھوں
تو سب کو خبر ہو—
کہ میری سارا کہا سچ تھا۔
میری یہی التجا ہے
اس سے پہلے کہ مجھے موت آئے۔

گائک منڈلی
کتنا خوف ناک ہے آنے والی موت کو اتنا واضح دیکھنا۔

کاساندرا
ایک آخری شبد۔
ایک آہ، ایک جوتش ، ایک دعا۔
اے آکاش پر چمکتے سورج،
تیری آخری کرن میرے چہرے پر پڑتی—
نیچے یہ سب کچھ ہوتا دیکھ
جب بدلہ لینے والے کا ہتھیار
آگامامنون کی پوری قیمت اینٹھ لیتا ہے
ہر قیمتی قطرے کے بدلے قطرہ
اپنے قاتل کی رگوں سے ،
اسے وہ خون یاد رکھنے دو
جو میری زنجیروں میں بندھے، غلام جسم سے خالی ہوا—
اس کی قیمت بھی ادا ہونے دو۔

یہ زندگی تھی۔
خوش قسمت ترین گھڑیاں
جیسے قلم کی لکیریں
کمرۂ جماعت کی کسی تختی پر ۔
جنہیں ہم گھورتے
اور سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
پھر قسمت اپنا پانسہ پلٹتی ہے—
اور ہر شے مٹ جاتی ہے۔
خوشی کچھ کم جگر سوز نہ تھی
بدترین غم سے۔

(وہ اندر چلی جاتی ہے)

گائک منڈلی
کسی آدمی کی تقدیر اسے کافی نہیں ہوتی۔
جہاں حاسد آنکھ جلن کے مارے تصور کرتی ہے
اس آدمی کی بے شمار نعمتوں کا
وہ جانتا ہے کہ اس کے پاس کیا نہیں۔
وہ بھی خواب دیکھتا ہے اچھی تقدیر کا
جیسے قسمت کی دیوی نے اسے ٹھکرا دیا ہو۔

دیوتاؤں نے بخشا ہمارے راجا کو
ٹرائے کا تحفہ۔
پورا یونان اس کے لیے خوش ہے۔
لیکن اب غسل کرنا اور ڈوب مرنا ہے
اس بہتے خون میں
جو اس کے اپنے ہی بڑوں نے بہایا۔

اور اس کے قاتل بھی اپنی باری پر
اس کے خون میں گھٹ مریں گے۔
قسمت کی دیوی نے اسی طرح ہماری ہستی ترتیب دی ہے۔
اس زمین پر کون امید کر سکتا ہے
ایک خاموش زندگی
اور بے داغ نام کی ؟

(آگامامنون محل میں چیختا ہے۔)

گائک منڈلی
یہ کس کی آواز تھی؟ کسی کو قتل کیا جا رہا ہے۔

آگامامنون
مدد! مدد! انہوں نے مجھے مار ڈالا۔

گائک منڈلی
یہ موت کی چیخ تھی—
او ریہ راجا تھا۔
جلدی کرو—ہمیں کیا کرنا چاہیے؟
ہماری کوئی حکمت ِعملی تو ہونی چاہیے۔

گائک منڈلی (۱)
پورے شہر کو
فوراً جمع ہونا چاہیے
ہتھیار سجائے۔

گائک منڈلی (۲)
بہت سست اور مبہم
ہمیں اندر گھس جانا چاہیے، دروازے توڑ کر
اور انہیں رنگے ہاتھوں پکڑنا چاہیے۔

گائک منڈلی (۳)
ہاں—فوراً کچھ کرو۔
کچھ بھی کریں
مگر ہمیں فوراً کچھ کرنا ہو گا۔

گائک منڈلی (۴)
راجا مارا گیا!
ہر خونی راج کشی
ایک ظالم کو آگے لاتی ہے۔

گائک منڈلی (۵)
باتیں ، باتیں، بڑبڑ، بڑبڑ۔
اگر ہمیں کچھ کرنا ہوتو
احتیاط کو روند ڈالیں۔

گائک منڈلی (۶)
لیکن ہمارا منصوبہ کیا ہے؟
منصوبہ عملی ہونا چاہیے۔
کیا ہمیں انتظار نہیں کرنا چاہیے
ان کے اگلے واضح قدم کا؟

گائک منڈلی (۷)
ایک بات تو یقینی ہے
ہم جو بھی کریں
راجا زندہ نہیں ہو سکتاْ۔

گائک منڈلی (۸)
کیا، غلام بن جائیں
پیروں میں گر پڑیں
ان بدمعاشوں کے
صرف امن کی خاطر؟

گائک منڈلی (۹)
مرمٹیں بہتر ہے
اس سے کہ ہمارے منہ بند ہوں
ایک ظالم کی ایڑی سے۔

گائک منڈلی (۱۰)
ہم بہت جلدی میں ہیں۔
چیخوں کی آوازیں کان میں پڑیں۔
لیکن کیا راجا مر گیا؟

گائک منڈلی
تو پھر اس پر اتفاق ہوا؟
کہ خبر تو لیں
راجا کی صحت کی۔

(لاشیں نظر آ جاتی ہیں۔)

کلیتم نسترا
تم نے مجھے شبد کہتے سنا لمحے کی مطابقت سے ۔
وہ پل گزر گیا۔ وہ شبد اب بے معنی ہیں ۔
میں اور کیسے اس آدمی کو قتل کر سکتی تھی—
میرا خونی ترین دشمن؟
بس جھوٹے چتر ہی میرا سادہ سا طریقہ تھے۔
جال کی وہ گرہیں جنہوں نے اسے پھنسا لیا۔
میں نے بہت عرصہ اس پر غور کیا۔
پھر جب آئی عمل کی ساعت
تو ذرا ہاتھ نہ چوکا ۔
دیکھ لو میرا نپا تلا کام۔
میں اس سے دست کش نہیں ہوتی۔
غلطی کا ہر امکان
میں نے ایک عظیم جال میں لپیٹا—
ایک مچھلی تک اپنے جھول سے علیحدہ نہیں ہو سکتی۔
اس کی کشمکش محض جھول کو اور کستی ہے۔
پھریہی اچھا ہو گا کہ بہترین جگہیں چنو
اس کے بے بس جسم پر۔
میں نے ایک دفعہ اس میں خنجر اتارا۔ ایک وار، پھر دوسرا۔
دو بار وہ چیخا۔
تم نے سنا تو۔
پھر ا س کی آنکھیں کہیں اور پلٹ گئیں۔
بدن کسی کمان کی طرح تن گیا۔
ایک ایک جوڑ زندگی کو ترستا۔
میں نے تیسری اور آخری دفعہ نوک رکھی
اور خنجر سیدھا آرپار کر دیا۔
یہ خداوند کے لیے میری شکرگزاری تھی
کہ میری دعائیں قبول ہوئیں۔
میں نے یہ قتل پیش کیا
اوپر والے کے لیے—مرے ہوؤں کا رکھوالا۔
پھر خون کی دھار اس کے بدن سے پھوٹی ایک ڈکراتی آواز کے ساتھ۔
جھاگ کا ایک فوارہ درودیوار پر برسا
پھر مجھ پر برسا بہار کی گرم بارش کی طرح
جو تازہ بوئی ہوئی مکئی کو پھلا دیتی ہے مسرت سے
اور غنچے کھل اٹھتے ہیں۔
میں نے اپنے پورے بدن میں جوش کی لہر اٹھتی محسوس کی۔

تو یہ ہے، آرگوس کے بڑے بوڑھو۔
ہنسو یا روؤ، جو تمہاری خوشی۔
میں تو جوش سے تھراتی ہوں۔
اس نے اپنے گھر کے جام بھرے
بدی سے۔ شراب سے نہیں بلکہ خون سے۔
ویسے ہی جیسے ہم خداؤں کے تشکر کی خاطر شراب بہاتے ہیں
کہ مسافر خیر سے واپس لوٹا،
ویسے ہی ہم نے خون بہایا
جس نے اس گھر میں زہر بھر دیا، آرگوس کو زہر دے دیا،
پھر اب جب کہ اس کے آخری چند قطرے اس کے داڑھی میں جمے ہیں،
اسے زہر دے دیا۔

گائک منڈلی
تمہارے لفظ گھما کر رکھ دینے والے ہیں۔
ایسی بے شرمی سے خوشی کا اظہار
اس شوہر پر جسے تم نے ابھی ابھی مار ڈالا!

کلیتم نسترا
تم سوچتے ہو میں کوئی غیر ذمہ دار عورت ہوں؟
تم غلطی کر رہے ہو۔
میرا دل ودماغ اس تیز دھار کی طرح ہے،
تانبا اور وہ بھی کسی مقصد سے ڈھلا۔

یہ ہے میرا گھر والا، آگامامنون،
اس فرش کی طرح مردہ جسے وہ محسوس نہیں کر سکتا،
جس سے وہ کبھی نہیں اٹھے گا۔
اور یہ رہا وہ ہاتھ جسے انصاف نے سپاری دی
کہ اسے مار ڈالے۔ اور اس نے اسے مار ڈالا۔
ہاں میں نے اسے قتل کیا۔
تو یہی پورا سچ ہے۔

گائک منڈلی
ظالم عورت!
کسی نشے نے تمہارا دماغ ماؤف کر دیا ہے ۔
کسی زہریلی بیل نے
تمہاری نسوانیت کے گرد لپٹ کر
حیوانی گرہوں کو جنم دیا ہے—
تم اب نہیں دیکھ سکتی
کہ تم نے کیا کر ڈالا،
چھو نہیں سکتی تمہیں پشیمانی ،
قتل پر پشیمانی کی سخت پکڑ۔
پورا آرگوس اسے اُگلے گا،
تمہارے اس کیے کو
کسی زہریلی پھپھوندی کی طرح،
نفرت کی صداؤں کے ساتھ
جو تمہیں آرگوس سے نکال باہر کریں گی—
جرم میں ڈوبی، غلاظت سے بھری، لعنتی۔

کلیتم نسترا
کیسے تلے بیٹھے ہو تم، یک دم
لعنت ملامت پر۔
عوام کی برحق گالی!
ہجوم کا مقدس فیصلہ۔
کہاں تھے یہ اور کہاں تھے تم
جب اس شیطان نے یہاں
اس سِل پر
اپنی بیٹی کو ذبح کیا؟
اسے یہ آسان لگا کہ
اپنے قیمتی مویشیوں میں سے ایک کی قربانی کی بجائے
میری بیٹی کو ذبح کرے—
کسی اور کی بکری کی طرح۔
صرف اس لیے کہ ہوا اپنی سمت ذرا تبدیل کرے
اور چند ملاحوں کو خوش کر دے،
اس نے میری بیٹی کی شہ رگ کاٹ کر خون نچوڑ لیا۔
اپنے ریں ریں کرتے عاشق ِ زار بھائی کو خوش کرنے
اور ایک بھاگی ہوئی رکھیل کو قابو کرنے کے لیے۔
تم کیوں آگامامنون کا فیصلہ نہیں کرتے؟
اس نے اپنی ہی بیٹی کا قتل کیا، میری بیٹی کا،
ایک کپکپاتے کاہن کی بکواس پر
جس نے کچھ نہ کچھ تو کہنا ہی تھا۔
یہ آدمی وہ مجرم تھا
جسے سزا ملنی تھی اور دیس نکالا سنایا جانا تھا۔
تمہیں اس کا خیال نہیں آیا۔ کیوں نہیں؟
تم اس سے ڈرتے تھے۔
لیکن اب تم سمجھتے ہو کہ تمہارے پاس طاقت ہے
عدل کی۔
سوچتے ہو مجھے قابو کر لو گے۔
کوتوالی تمہارے اپنے ہی ہیں
جیسا کہ تمہارا خیال ہے۔ کیوں نہ اسے آزمائیں۔
آؤ دیکھیں تمہاری طاقت کتنی ہے
جب تم یہ جان لو کہ تمہاری اوقات کیا ہے۔
میں تم بڑے بوڑھوں کو سکھاؤں گی
وہ سبق جو تم بچے ہوتے ہوئے سیکھنے میں ناکام ہوئے۔

گائک منڈلی
ہاں، طاقت۔ یہ طاقت ہے جس کا نشہ تمہارے سر چڑھا۔
طاقت ، اور مزید طاقت کے لالچ نے
تمہیں ایک عیار احمق بنا ڈالا ہے۔
تمہاری قبا پر یہ خون آگامامنون کا ہے،
اتنی ہی سچی حقیقت یہ ہے کہ وہ گھڑی قریب آتی ہے
جب تمہارا اپنا خون اس میں جا ملے گا۔
تمہارے یہ سب زرق برق ریشم و کمخواب ، اس روز
سرخی میں لتھڑے ہوں گے۔
انتظار کرو:
بے یارومددگار، بے عزت، ہر ایک ہاتھ تمہارے خلاف،
زخم کے بدلے زخم، تم قیمت ادا کرو گی۔

کلیتم نسترا
تم کچھ بھول رہے ہو،
میں بھی ایک مقدس قسم کھا سکتی ہوں—
خدا میری آواز بھی سن سکتے ہیں۔
میری بیٹی کی رکھوالی ، انصاف کی دیوی،
یہاں خوب دِکھتی ہے—جیسے تم دیکھ سکتے ہو،
افی جینیا کی بغل میں ، فیوری دیویوں کے ساتھ
جنہوں نے اس کا بدلہ لینا ہی تھا
اور لیا—یہ مقدس فیوریاں
جن کی خاطر میں نے یہ خون بہایا،
میں ان کی قسم کھاتی ہوں کہ خوف زدہ نہیں ہوں
اس قتل کے بدلہ لینے والے سے
جب کہ میرا اپنا نگہبان ، آئیگستوس،
میرے آتش کدے پر میرے ساتھ کھڑا ہے۔
ایسی ڈھال کے ہوتے ہوئے میں اپنی قوت محسوس کر سکتی ہوں
او رکسی شے سے خوف زدہ نہیں۔
جب کہ یہاں یہ، یعنی یہ بیج بونے والا
ٹرائے کی ساری بدقماش عورتوں میں
جنہوں نے اپنی شراب لنڈھائی اور میرے جیون میں کڑواہٹ بھر دی،
کسی کٹی ہوئی مچھلی کی طرح پڑا ہے۔ دیکھو:
اس وجیہہ چہرے میں آنکھیں خالی ہیں۔
اور ا س کا وہ تمغہ، اس کی جوتش—
جس نے گھر واپسی کا راستہ سہل کر دیا
اور اس کے سوتے بدن کو اپنے حسن کی چادر میں لپیٹ میں دیا
اور اب میرے بستر میں ایک طلسم پرو نے ہی والی تھی—
وہ پڑی ہے، کسی مری ہوئی بلبل کی طرح
جب اس کا آخری گیت—
کسی مجسمہ تراش کی میری فتح کی یادگار پر ڈھلائی کی طرح ہے۔
اِس کی لاش، اُس کے لاشے پر
خون کے ایک ہی تالاب میں مستقبل کو تکتی خالی آنکھیں۔

گائک منڈلی کا سرپنچ
وہ ہمارا راجا تھا۔ ہمارا مقدس راہنما۔
ماتم کرو اس کا۔اس نے اپنے پرجا کی حفاظت کی۔
میں اب آسانی سے مر سکتا،
اور اس کے ساتھ روانہ ہو سکتا ہوں۔
اس کے بغیر آرگوس کا کیا ہوگا؟
کاش میں بس آنکھیں بند کر کے اگلے جہان روانہ ہو سکتا۔
دس سال کی جنگ میں گِھسٹ کر
ایک سنگ دل عورت، ہیلن کے ہاتھوں،
اب ایک اور کے ہاتھوں۔
ہیلن نے بدمستی میں پھونکی
دونوں فوجوں کے بہترین سورماؤں میں
ان کی موت کی ہچکی ،
نچوڑ لیا ان کا خون
کہ خوراک دے اُن جڑوں کو
اس لعنت کی
جس نے چیر دیا آگامامنون کا سینہ
اور اس کے گھر کی بنیادیں۔

کلیتم نسترا
تم نہیں بدل سکتے اسے جو ہو چکا۔
موت پر رونا دھونا چھوڑو
اور ہیلن کو دوش دینا بند کرو
لشکروں کے ملیامیٹ ہونے کا۔
جیسے اس کی ننھی سی پھڑپھڑاہٹ، اپنے آپ ہی میں
چلا سکتی تھی یہ سارے جھکڑ بربادیوں کے
اتنے بہت سے لوگوں پر۔

گائک منڈلی
بے یقین بدی! بدی کی روح
نے پہنا ہے چہرہ
کلیتم نسترا کا—
طنطالوس کا شراپ نازل ہوتا ہے
ایک پیڑھی سے دوسری پیڑھی تک
کہ تمہارے ہونٹوں کے پیچھے اینٹھے۔
یہ تمہارے شبدوں کو شکل ،
آنکھوں کو چمک
اور تمہاری سوچ کو جنم دیتا ہے۔
ایک بڑے پنچھی، ایک مردار خور کی طرح،
اپنا سایہ ہم پر ڈالتا ہے۔

کلیتم نسترا
تو شراپ کو الزام دو۔
ہاں الزام دو شراپ کو۔
خون آشام فیوری دیوی
جو ہمارے گھر سے نفرت کرتی ہے۔
اپنی پیاس اور نفرت بجھانے کی کوشش کرتی ہے
ہر پیڑھی میں۔
اور اس کی ہر ایک دعوت کا نمکین خون
اگلی پیاس سے اسے دیوانہ کر دیتا ہے۔

گائک منڈلی
یہ ہیبت، یہ بدی
جو تم نے اتنی سچائی سے بیان کی
ان مِٹ ہے۔
راجاؤں کی تباہی،
فوجوں کی، شہروں کی،
اس کے ہونٹوں پر رہتی ہے۔
پھر بھی اوپروالا اسے بھیجتا ہے۔
خداوند زیوس،
ہر چیز کا بنانے والا—
اس کی اڑان کا راستہ معین کرتا ہے۔

آگامامنون مر چکا ۔
وہ ہمارا راجا تھا۔
آرگوس کو اس کا ماتم کرنا چاہیے ۔
جب سب کچھ کہا جا چکا
تو وہ مارا گیا
اپنی شاطر بیوی کے ہاتھوں۔
مکڑی کے جال نے
اسے پھانس کر بے بس کر دیا۔
پھر ایک پیتل کی دھار
نہ جانے کہاں سے آئی۔
ایک عظیم راجا مر گیا
گھومتی مکھی کی طرح۔

کلیتم نسترا
تم کہتے ہو میں نے اسے مار ڈالا
اور میں اس کی بیوی تھی۔
تم نے ٹھیک دیکھا
جب تم نے دیکھا وہ شراپ،
وہ نفرت انگیز پرمپرا
اتریوس کے گھرانے کی
جو یہاں کھڑا ہے
میری صورت میں۔
وہ خون کی جلی فیوری دیوی،
اس کا باس مارتا منہ،
پہلے قدیم جرم سے،
جو آتریوس نے کیا،
اب بھی ٹھونس ٹھونس کر بیمار ہوتا،
اس دسترخوان سے جو اس نے
اپنے بھائی کے لیے بچھایا۔
وہی فیوری دیوی، اسی نے
خنجر اتارا،
آگامامنون کے اندر۔
میں نےنہیں۔ میرا ہاتھ نہیں تھا۔
ہماری بیٹی افی جینیا نے سہارا دیا
اس فیوری دیوی کے ہاتھ کو
کہ وہ نچوڑ لے خون
اس جوڑے کا۔
ان دونوں بچوں کی طرف سے
ان کے خون میں جلے
آتریوس کی طرف سے—
اور اگلے ہوئے اس کے بھائی
تھیاستس سے۔
ان سارے سالوں کے بعد
افی جینیا نے مجبور کیا اپنے باپ کو
کہ وہ اکٹھا کرلے یہ سارا گند—
فرش پر سے
اپنے گھر سے۔

گائک منڈلی
تم بے گناہ نہیں۔
شاید کسی جناتی مخلوق نے
تم پر سایہ کر کے
تمہیں یہ دیوانہ وار قوت دی ہو۔
لیکن تم نے خود اس کی دعا کی۔
تمہی نے خنجر تیز کیا
اور تمہارے ہی ہاتھ نے اسے تھاما۔
جنگ کا دیوتا، موت کا دیوتا،
طیش سے بھرپور تکبر کا دیوتا،
غیظ و غضب کا دیوتا
کبھی تھکتا نہیں۔
کسی چڑھتی لہر کی طرح
جو ساحلی شہروں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے،
وہ پھوٹ پڑتا ہے
بھائیوں کے دلوں سے ،
کھوج کرتا ہے انصاف کی
خون سے اندھی ہوئی
آنکھوں کے راستے۔

ہمارے راجا کی موت درد انگیز ہے۔
ہماری محبت کو آتے آتے بہت دیر ہو گئی۔
وہ مارا گیا
اپنی دغاباز بیوی کے ہاتھوں۔
مکڑی کے جال نے
اسے پھانسا اور منہ بند کر دیا—
پھر کہیں سے چمکا ایک کانسی کا خنجر ۔
ہمارا عظیم راجا مارا گیا
کسی گھومتی مکھی کی طرح۔

کلیتم نسترا
اگر میں دغاباز ہوتی،
تو جب آگامامنون نے اس گھر کو تازہ شراپ دیا،
دیواروں کو رنگا شراپ کے ایک نئے سلسلے سے
اپنی بیٹی کو مار کے، میری بیٹی،
اس کی دغابازی بدتر تھی۔
جب میری بینائی رو رو کر خشک ہو رہی تھی
تو اس نے آنکھیں بند کر لیں۔
پھر اس تلوار نے جو وہ لایا
اس کی گردن تک
چٹخایااس کی اپنی ریڑھ کی ہڈی کو۔
شراپ جو اس نے آزاد کیا
اس کے کنوارے بدن سے
بہا کر لے گیا اسے جہنم تک۔
سنانے دو اسے یہ کتھا مرے ہوؤں کو۔
مارنے دو اسے شیخیاں جہنم میں
اس بارے میں۔

گائک منڈلی کا سرپنچ
غلط اور صحیح کیا ہے
اس ڈراؤنے خواب میں؟
ہر کوئی بن جاتا ہے بدروح دوسرے کی۔
ہرکوئی ہو جاتا ہے دیوانہ
دوسرے کی بدروح سے۔
کون بحث سکتا ہے؟
دلیل ناکام ٹھہرتی ہے، ذہن شکار بنتا ہے
اس خونی تسلسل کا۔
آرگوس کا تخت
خون پر تیرتا ہے، گرتے ہوئے درودیوار کے بیچ—
ہر شے تیزی سے دوڑتی ہے
کسی کان پھاڑ دینے والی چیخ کی جانب۔
جیسے چیخ اٹھے خود تخلیق۔
جیسے انصاف کی دیوی خود
چیرتی ہو تخلیق کو ۔
اچھا ہے موت آئے مکتی ملے ۔
دھرتی ، اے دھرتی ،
تو کیوں مجھے واپس نہیں لیتی،
اپنے ٹیلوں
اور بے انت خاموشی میں ڈوبے افقوں میں
کیوں نہیں لپیٹ لیتی،
اس سے پہلے کہ میں راجا کا بدن دیکھوں
پھنسا ہوا جال میں کسی چڑیا کی طرح، ٹوٹی گردن کے ساتھ؟
کون اسے چتا دے گا؟
کیا تم؟
پہلے اسے مارا، پھر ماتم کیا،
پھر اس کی مرن بھومی پر اپنے جھوٹ کا پہاڑ بناؤ گے؟
انصاف کی دیوی کیا کہتی ہے ؟
کون اسے ایک عظیم راجا کی سی چتا دے گا؟

کلیتم نسترا
میں نے اسے مارا۔
میں ہی اسے چتا دوں گی۔
کوئی اودھم نہیں ہو گا،
نہ کوئی شورشرابا، نہ کوئی بے کار ہلچل۔
سب کچھ چپ چاپ—
اور افی جینیا، اس کی پیاری بٹیا
جو محض کم سنی میں ماری گئی،
اس کا خیرمقدم کرے گی
سورگ میں
ایک خاموش بوسے کے ساتھ۔

گائک منڈلی
بدلہ بدلے کو جنم دیتا ہے،
سچ گھومتا اور اڑ جاتا ہے
جیسے خون سر سے نچڑتا ہے۔
یہ خداوند زیوس کا قانون ہے:
زندگی کا بدلہ زندگی۔
انسانی زندگی کا کیا مول ہے؟
اس سے زیادہ، ایک زندگی سے زیادہ،
یا کم؟ یا ٹھیک ٹھیک اتنا ہی؟
زیوس کا قانون مانگتا ہے
زندگی کے بدلے زندگی۔
سب کچھ کا بدلہ— سب کچھ
لیکن زیوس کا یہ قانون
ایک بیماری کی طرح ہے
خون میں چلنے والی، ایک پیڑھی سےدوسری تک۔
دیکھو کیسے اس نے دیوانہ کیا
اس گھرانے کے ہر فرد کو۔

کلیتم نسترا
اب تمہاری بُدھی میں بات آنا شروع ہوئی۔
قاتل کو مرنا ہی ہو گا۔
اے شکتی کی دیویو جو بھی تم ہو،
اپنی سنگ دل منطق کا ہتھوڑا مارنے والی ،
اس گھرانے کے دل کی دھڑکن پر ،
میں مطمئن ہوں۔
جو بھی ہو چکا ،
جتنا بھی ہیبت ناک تھا،
مجھے قبول ہے۔
اب ہمارا پیچھا چھوڑ دو۔
میرے سینے میں ساری تلخی دم توڑ چکی۔
اب یہاں مزید کچھ نہیں
جس پر تم جیو۔
اس بوچڑ خانے اور ہسپتال جیسے گھر کی
اب کھول کھول کر صفائی ہونی ہے۔
بھول جاؤ ہمیں۔
ڈھونڈ لو کوئی اور خون آشام
قتل پر تلا ہوا پریوار—
جاؤ اپناانصاف کا بھونڈا ناچ ناچو
ان کی شاخوں میں۔
چھوڑ دو ہمار اپیچھا۔
میں کچھ نہیں مانگتی۔
اب ماراماری تھم چکی—
بس چھوڑ دو ہمیں اپنے حال پر۔

(آئگیستوس داخل ہوتاہے)

آئگیستوس
انصاف! آخر کار انصاف کی گھڑی آ ہی گئی۔
یہ زبردست ثبوت ہے اس بات کا کہ خدا
انسانوں کو دیکھتے اور بدی کی سزا دیتے ہیں۔
کیا ہی خوبصورت منظر ہے
اس آدمی کا منہ ٹھونسا جانا اور پھنس کر رہ جانا
اس جال میں جو فیوری دیویوں نے بنا!
اس کے بدن کو دیکھنا
خون سے خالی ہوتے ہوئے۔
آخرکار اس نے قیمت چکائی
ان حیوانی جرائم کی جو اس کے باپ نے کیے
میرے باپ کے خلاف۔ پتہ ہونا چاہیے تمہیں کہ
اس کا باپ اور میرا باپ آپس میں لڑے۔
آگامامنون کےباپ، آتریوس نے
آرگوس پر حکومت کی ۔
آتریوس نے شہر سے نکال باہر کیا
میرے باپ کو، اپنے بھائی توئستس کو۔

توئستس واپس لوٹا۔
معافی مانگی، معافی کی بھیک مانگی،
آتریوس کے آتشدان پر بیٹھا، ایک فریادی بن کر،
صرف اس پر خوش کے بھائی کے ساتھ سکون سے گزر ہو گی۔
صرف زندہ رہنے پر خوش۔
آتریوس نے اپنی نفرت پر پردہ ڈالا۔
میرے باپ کو ایک دعوت دی۔
میرے دونوں بھائیوں کو لے لیا،
توئستس کے دونوں بڑے بیٹوں کو،
کاٹ ڈالے ان کے حلق اور بہایا خون،
ذبح کر ڈالا انہیں اور پکایا ان کا گوشت۔
پیر اپنی انگلیوں کے ساتھ، ہاتھ اپنی انگلیوں کے ساتھ
چھپ کر جا بیٹھا تھال کے نیچے۔
ان کے اوپر سجائے اس نے قتلے اور پارچے،
بوٹی بوٹی ہوئے گردے کلیجے، دل اور بھیجے۔
ہر مہمان کا دسترخوان علیحدہ۔
دھواں اٹھتا یہ تھال میرے ابا کے سامنے رکھا گیا۔
اس نے خوب اڑایا سب کچھ، دعوت کی عزت میں
اس سے پہلے کہ جان پاتا وہ کیا نگل رہا ہے۔
جب اس نے یہ سب جانا
دیکھا ہاتھوں اور پیروں کو
تو الٹا وہ پیچھے کو فرش پر اگلتا ہوا قے میں
اپنے ہی بچے۔
لات ماری دسترخوان پر اور جب پیالہ کرچی کرچی ہوا ہے تو
یہ شراپ نکلا اس کے منہ سے—
دھرتی اور آکاش اور نرگ کو اس نے چیخ کر چتاؤنی دی ان شبدوں میں:
’جیسے کرچی کرچی ہوا یہ پیالہ
ویسے ہی آتریوس کی پوری نسل
ٹوٹ کر کرچی کرچی ہو جائے۔‘

یہ دن آگامامنون کے لیے ہلاکت خیز تھا—
جس کا ثبوت یہ لاش ہے۔
میں نے اس قتل کا جال بنا۔
انصاف کی دیوی کے نام پر۔
میں تیسرا بھائی تھا—
ایک دیس نکالا بچہ ، اپنے بیمار باپ کی دیکھ بھال کرتا۔
انصاف کی دیوی انگلی تھام کر لے آئی
مجھے اس راج محل تک۔
ہاتھوں میں تھامے ہوا تھا میں پھندہ۔
اب ایسا خوب انصاف دیکھ کر
میں شاید خوشی سے مر سکوں گا۔

گائک منڈلی
آئگستوس تم نے جرم تسلیم کر لیا۔
جو یہ سارا جال تمہارا بنا ہوا تھا
تو تمہاری زندگی ہی اس کی قیمت ہے۔
تمہیں سنگسار کیا جائے گا
آرگوس کے عوام کے ہاتھوں۔

آئگستوس
کیا میں تختوں کے نیچے سے کوئی کھسر پھسر سنتا ہوں—
کیا تمہیں غلاموں کی آواز سنائی دی؟
تم بڈھے اب کچھ سیکھنے ہی والے ہو—
اور یہ سبق سخت ہو گا۔
کال کوٹھڑی اور بھوک کارنامے دکھا سکتے ہیں
زبان صاف کرنے ،
اور حقائق سامنے لانے میں۔
اس پر سوچو۔ دھیان کرو کہ
جو تم سب کے سامنے کہتے ہو
وہ تمہارے دانت توڑ سکتا ہے۔

گائک منڈلی
آئگستوس، تم ایک عورت ہو۔
جب راجا لڑا اور ہزاروں کام آئے
تم اس کے پلنگ پر پاؤں پسارے پڑے رہے
اور اس کی بیوی کو داغ دار کیا،
اور جب وہ واپس لوٹا تو تم غائب ہو گئے۔

آئگستوس
تم جو کہتے ہو وہ کسی ایسے شخص کی طرح ہے
جو بس رونے ہی والا ہو۔
اورفیس کی طرح نہیں
جس کا گیت بھیڑیوں اور چیتوں کو سدھا دیتا تھا۔
تمہاری بک بک ہماری ایڑیوں پر مسلسل بوجھ ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ تم اپنے آقا کا بوجھ محسوس کرو۔

گائک منڈلی
تمہارا بوجھ! تم ہمارے آقا
آگامامنون کے تخت؟
جس نے اس قتل کا کیا خو ب تانابانا بنا،
بجائے اس کے کہ ایک عورت کو یہ کرنے دیا جائے؟

آئگستوس
اس کے لیے ایک عورت درکار تھی۔ وہ میرا دیا گیا چارہ تھی۔
اس نے اسے جال میں پھنسایا۔
جو میری چال کے لیے ضروری تھا۔
وہ کیسے مجھ پر بھروسہ کر سکتا تھا ہمارا ماضی جانتے ہوئے؟
اب میرے ہاتھوں سے بہتے اس کے خزانے
لوگوں کو میری محبت او راطاعت پر اکسائیں گے۔
لیکن ان میں سے ڈھیٹ اور گردن اکڑائے
خود کو ٹوٹا ہوا پائیں گے۔

گائک منڈلی
تم ہمارے سامنے تو دلیر ہو، لیکن رفو چکر ہو گئے
آگامامنون کی نظروں سے بچ کر۔
تم نے ایک عورت کو خراب کیا
کہ زمین پر داغ لگا سکو
اور اس کے پریوار پر
اور اس کے خداؤں، آرگوس کے خداؤں پر،
کہ اسے مارا جائے جسے مارنے کی تم میں جرأت نہیں تھی۔
کہاں ہے اورستس؟
اے اچھی تقدیر، اے پاک تقدیر،
اورستس کو راستہ دکھلا،
اس کی انتقام لینے والی تلوار کو حکم دے
کہ دھرتی کو اس جوڑے سے صاف کر دے۔
پوری قیمت لینے دے اسے
اپنے باپ آگامامنون کی زندگی کی۔

آئگستوس
سنتے ہو ان انقلابی چوزوں کو،
یہ سرمئی چمڑی والا جنین
نکلتے ہوئے اپنا انڈا توڑ کر؟
دربانوں ۔ کردوکام تمام۔

گائک منڈلی
تیار ہیں ہماری تلواریں،
اور تیار ہیں ہم
موت اور عزت کے لیے۔

آئگستوس
موت، ہاں ہاں، کیوں نہیں۔ ضرور۔
تم موت کی دعا کرتے تھے۔
اب تم اسے پا سکتے ہو۔

کلیتم نسترا
رکو۔ رکو۔
ماراماری ختم ہو چکی۔
پیارے آئگستوس—
ہم نے خوب بوائی کر لی
اس خوف ناک پھل کی
جو ہماری تھالیوں میں پھٹتا
اور ہمیں سرخی میں بھگو دیتا ہے۔
پھلنا پھولنا
اس پہلی فصل کا
لائے گا ہماری لیے
بہت ہی زیادہ غم۔

تم بڑے بوڑھو، عقل کے ناخن لو ۔
جو ہونا تھا
وہ تو ہو چکا۔
تقدیر سے کوئی فرار نہیں ۔
اس کی تلوار
دو بار میرے آرپار ہوئی ہے۔
میں جھکتی ہوں۔مانتی ہوں۔
تم بھی مان لو۔
یاد کرو کہ کیسے دانشمندی
عورتوں کی زبان سے پھوٹتی ہے۔

آئگستوس
تم بچ کر نہیں نکل سکتی۔
میں نے ان کا طیش محسوس کیا،
تم نے ان کی گالیاں سنیں۔
کیا تم انہیں یہ سب کچھ دھکیلنے دو گی
واپس اپنی نیاموں میں؟

گائک منڈلی
آرگوس کا کوئی آدمی ایک کتے کے سامنے سر نہیں جھکائے گا۔

آئگستوس
لیکن وہ اس کے سامنے سر ضرور جھکائیں جو انہیں کتوں کی طرح مارے گا۔

گائک منڈلی
اورستس! قسمت کی دیوی—ڈھونڈ لا اورستوس کو!

آئگستوس
کوئی شک نہیں کہ وہ کہیں دربدری کی جگالی کر رہا ہو گا۔

گائک منڈلی
جب کہ تم خوب مزے سے انصاف کا لاشہ اڑا رہے ہو—
جتنے موٹے ہو سکتے ہو ، ہو لو۔

آئگستوس
گھامڑو، یہ شبد جو تم اتنے جوش سے اپنے منہ سے نکال رہے ہو
تمہاری جان لینے کے لیے واپس آئیں گے۔

گائک منڈلی
غلاظت سےبھرے مرغے—تمہاری تو مرغی کو بھی تم سے شرم آتی ہے۔

کلیتم نسترا
جو بھی ان کے مونہوں سے باہر آتا ہے—
کسی کام کا نہیں۔
ان کے پاؤں ہوا میں ٹھوکریں مارتے ہیں۔
تم اور میں، آئگستوس، ہم قانون ہیں۔
آرگوس کے سارے عوام کی زندگیاں
ہمارے ایک اشارے سے لٹک رہی ہیں۔
جو بھی شبد ہم بولتے ہیں، وہی قانون ہیں۔
آخرکار، آرگوس کا تخت ہمارا ہے۔

Recommended Posts

Leave a Comment

Jaeza

We're not around right now. But you can send us an email and we'll get back to you, asap.

Start typing and press Enter to search