سادہ نویسی پر ایک گزارش۔ محمد دین جوہر

جدید تعلیم پر لکھتے بولتے بنیادی موقف کے طور پر ایک فقرہ عموماً نکل جاتا ہے کہ ”تعلیم ایک سیاسی فیصلہ ہے“، اور ایسا کہنا ہمیشہ عدم ابلاغ اور پیچیدگی، اور بسا اوقات کج بحثی کا باعث بنتا ہے۔ لسانی اعتبار سے یہ پانچ لفظی فقرہ انتہائی سادہ ہے، اس میں کوئی لفظ مشکل نہیں ہے اور ہر لفط عام بول چال کا حصہ ہے۔ لیکن اکثر اس فقرے کے معنی، مدلول یا مصداق کا ابلاغ ممکن نہیں ہو پاتا۔ اس فقرے میں سادہ نویسی کے مروج اسلوب اور معیار کی پاسداری کی گئی ہے لیکن مدعائے کلام حاصل نہیں ہوتا۔ اگر مسئلہ محض سادہ نویسی کا ہوتا تو حل ہو جاتا لیکن یہ مسئلہ کوئی اور ہے اور جو ڈھنگ سے بیان بھی نہیں ہو پاتا۔ میرا خیال ہے کہ سادہ نویسی کے قائلین کا اصل مطالبہ یہ ہوتا ہے کہ تحریر میں کوئی فکری یا نظری محتویٰ یا مشمولہ (content) نہ ہو تاکہ ذہن کو الفاظ معنی سے آگے نہ جانا پڑے۔ ہمارے ہاں خواندگی متن کے سارے مسائل لغت سے الفاظ معنی دیکھ لینے سے حل ہو جاتے ہیں، اور یہ بھی بہت مشقت طلب سمجھا جاتا ہے۔ کسی تحریر میں ایک دو لفظ بھی اگر مشکل ہوں تو ادق نویسی کا اعتراض کھڑا ہو جاتا ہے۔ اردو نثر میں معلومات، واقعات، اطلاعات، بدیہات، جذبات، اخلاقیات اور ایمانیات کے علاوہ اگر کوئی چیز در آئے تو قاری مطالعہ ترک کر دیتا ہے۔ اردو متن بالعموم ذہنی استنجے کے لیے استعمال ہوتا ہے، اور اس میں نظری مشمولات کے ڈھیلے غیرضروری خیال کیے جاتے ہیں۔

جدید دور میں تحریر و تقریر پر میڈیا کے مکمل غلبے کی وجہ سے فوری ابلاغ کی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے اور تحریر و تقریر میں معلومات و اطلاعات وغیرہ کے علاوہ باقی سب چیزوں کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ یہ امر متفق علیہ ہے کہ ”حالات حاضرہ“ کا تجزیہ بھی میڈیائی ذمہ داریوں کا اہم جز ہے، اور تجزیہ علمی اکتساب اور نظری استعداد کے بغیر نہیں ہو سکتا اور جن کا ہمارے میڈیائی تجزیوں میں نشان بھی باقی نہیں رہا۔ ہمارے میڈیائی تجزیوں کی قوتِ محرکہ لفافہ ہے، اور یہ تجزیے عموماً خفیہ اور ظاہری مراکز طاقت سے وصول شدہ پرچیوں، دور فتن کی احادیث مبارکہ سے غلط استنباطات، بے محل اخلاقی اقوال زریں اور سخن ریزوں (anecdotes) پر مشتمل ہوتے ہیں۔ یاد رہے کہ حالاتِ حاضرہ میں صرف سیاسی امور شامل نہیں ہوتے بلکہ قومی اور بین الاقوامی زندگی کی گہرائی میں کارفرما وہ تاریخی مؤثرات بھی ہوتے ہیں جو سیاسی اور قومی زندگی میں ظاہر ہوتے ہیں۔

محولہ بالا فقرے میں زیادہ مسئلہ ”سیاسی“ کے لفظ سے پیدا ہوتا ہے جو انگریزی لفظ political کا ترجمہ ہے۔ انگریزی لفظ کی معنوی کائنات زیادہ وسیع اور قدرے مختلف ہے جبکہ اردو لفظ کافی ٹھٹھرا اور سکڑا ہوا ہے اور معنی کی کئی سلبی پرتیں اس کے سوا ہیں۔ فرض کریں  ”political“ اپنی معنویت میں ایک فٹ بال کے برابر ہے تو ”سیاسی“ اپنی معنویت میں ادھرنگ زدہ مٹر کے دانے جیسا ہے۔ اپنی اپنی زبانوں میں یہ لفظ جس مدلول یا مصداق کے لیے برتے جاتے ہیں وہ تقریباً مماثل ہیں۔ جب ہم انگریزی فقرے Education               is               a               political               decision کو اردو میں کھینچ لاتے ہیں تو political کی کئی اہم معنوی پرتیں جھڑ جاتی ہیں اور ”سیاسی“ ہاتھ آتا ہے جس سے ہم عموماً سیاستدانوں کی چالبازیاں، اقتدار کی ہوس، طاقت کے لیے نبرد آزمائی، جھوٹ، مکاری وغیرہ مراد لیتے ہیں۔ ”سیاسی“ کے وہ معنی جن کی طرف اشارہ مقصود ہوتا ہے وہ کئی دیگر روزمرہ تراکیب میں موجود تو ہیں جیسے سیاسی حقوق، سیاسی نظام وغیرہ لیکن ان کی طرف ہمارا دھیان نہیں جاتا۔

فقرے کی وضاحت میں اگر یہ عرض کیا جائے کہ اس سے مراد ریاست کی صورت میں قائم اجتماعی طاقت کے نظام کا فیصلہ ہے، تو بھی بات واضح نہیں ہوتی۔ اور جب یہ کہا جائے کہ اس سے مراد قانون بنانے والی اجتماعی قوت ہے تو جواب آتا ہے کہ اس کا تعلیم سے کیا تعلق ہو سکتا ہے۔ اگر یہ عرض کیا جائے کہ یہاں ”سیاسی“ سے مراد ریاست کی طے کردہ ترجیحات کے تحت کیا جانے والا فیصلہ ہے تو جواب آتا ہے کہ ”حکومت“ تعلیم میں سہولتوں کی طرف دھیان نہیں دیتی۔ ہمارے معاشرے میں تعلیم کے بارے میں عمومی موقف اخلاقی نوعیت کا ہے، جو بہت جلد معاشی ضروریات کے حوالے پا کر بالکل ہی مادی بن جاتا ہے۔ تعلیم کے بارے میں اخلاقی موقف کا حامل شعور جدید تعلیم کی معنویت اور ماہیت سمجھنے کی خلقی استعداد سے محروم ہے۔  ہمارے ہاں چونکہ جاہل آدمی حد درجہ خود اعتمادی رکھتا ہے اور ذرا علمی درک والا ہر آدمی بے اعتمادی کا شکار ہے، اس لیے بات یہاں پہنچتی ہے کہ ہمارے ہاں تعلیم تو ہے تربیت نہیں ہے۔ ابھی تعلیم کا مسئلہ نمٹا نہیں ہوتا کہ تربیت کی اٹھک بیٹھک شروع ہو جاتی ہے اور تعلیم کے ”سیاسی فیصلہ“ ہونے کا موضوع ایسا گم ہوتا ہے کہ آدمی کو اسے پھر سے چھیڑنے کی جرات نہیں ہوتی۔ اس سے صرف یہ واضح ہوتا ہے کہ سادہ نویسی یا سہل نویسی وغیرہ کی شرائط ایک مہمل بات ہے۔ ہمارے معاشرے میں نثری اور شعری متن کا کام ہمارے ملتہب (!inflammation-ed) قومی ذہن کی ٹِکور سے زیادہ اب کچھ باقی نہیں رہا۔ 

یہ امر معنی خیز ہے کہ روزمرہ گفتگو میں یہ سادہ فقرہ بھی اپنی معنوی مرادات کی ترسیل نہیں کر پاتا۔ عمومی شعور کی اس نارسائی کا تجزیہ ضروری ہے کیونکہ سلاست نویسی کے مطالبے کو ضرورت سے پیدا ہونے والی ایک اخلاقی تائید حاصل ہے اس لیے اصل مسئلے کی طرف دھیان نہیں جاتا۔ عرض ہے کہ اردو نثر میں فکری تحریروں کے عدمِ رواج کی وجہ سے ایسے کسی اظہار کی کوشش بھی نہیں کی گئی اور نہ اردو نثر کی استعداد کے امکانات کا جائزہ ہی لیا جا سکا ہے۔ زبان میں انسان اور انسانی شعور کی حیثیت مرکزی ہے، لیکن صنعتی منہج پیداوار (mode               of               production) کی عالمگیر توسیع، تمدنی زندگی میں آرگنائزیشن کے نفوذ اور احوال ہستی پر مشین کے مکمل استیلا نے زبانوں پر بہت گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ زیادہ تر زبانیں تو ویسے ہی ختم ہو گئی ہیں، اور جدید یورپی زبانوں کے علاوہ زندہ بصورت مردہ ہیں۔ مشین نے زبانوں کو میکانکی اور نظری بنا دیا ہے اور ان کے بطون سے انسانی رچاوٹ کے پہلوؤں کو کھرچ کر الگ کر دیا ہے۔ شاعری کی مقبولیت سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ اردو میکانکی اور نظری امکانات کے روبرو وجودی مزاحمت میں ہے۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ اردو ہماری نفسی اور انسانی تشکیل میں بہت اہمیت کی حامل ہے، لیکن انسانی بقا میں میکانکی اور نظری وسائل کے بنیادی کردار  کی وجہ سے سیادت ذہن کو منتقل ہو چکی ہے۔

متن کی پیدا کردہ معنوی رو میں معلومات، احساسات اور تصورات تینوں شامل رہتے ہیں۔ اردو نثر کے متون عموماً معلومات اور احساسات کے اظہار تک محدود رہتے ہیں۔ اردو نثر میں تصریح شدہ تصورات پر مشتمل متون بھی کمیاب ہیں، اور شاعری سے عمومی رغبت کی وجہ سے تحریر کا دماغی محتویٰ (cerebral               content) قاری میں شدید اکتاہٹ پیدا کرتا ہے۔ مولانا الطاف حسین حالی کی ”مساعی عظیمہ“ کے باوجود اردو میں احساسات و تصورات کے اظہار کی ذمہ داری شاعری نبھاتی چلی آئی ہے، اور شعری خیالات متخیلہ کی یک گونہ خودکار فعلیت کے ثمرات کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ شعری متخیلہ کی اقلیم میں عقل ’چھوٹے‘ کی حیثیت سے شامل ہوتی ہے اور زیادہ تر مکھیاں اڑانے، پوچا لگانے، ٹاکی مارنے اور جھنڈی ہلانے کا کام کرتی ہے، لیکن متخیلہ سے باہر انفس و آفاق میں شہنشاہی اب عقل کی ہے۔ شاعری میں خیالات کی باہمی نسبتیں جذبات و احساسات سے چپکائی گئی ہوتی ہیں اور پیکرات ایک خاص شعری منطق سے گھڑے گئے ہوتے ہیں۔ لیکن نظری اور فکری تحریروں میں تصورات کی باہمی نسبتیں عقل ہی طے کرتی ہے اور تدقیق (precision) سے ان کو ارادی مربوط کر کے ان کے جوازات و دلائل بھی سامنے لاتی ہے۔ متخیلہ اپنی وجودیات میں ’ورا و غیب‘ سے مانوس ہے جبکہ عقل ’حاضر و موجود‘ سے متعلق رہتی ہے۔ ہمارے عمومی شعر پسند مزاج کی وجہ سے زبان میں بھی حاضر و موجود کا سامنا کرنے کے فکری اور تہذیبی وسائل مجتمع نہیں کیے جا سکے۔ ہمارے تہذیبی شعور کی وہ ہیئت جس میں شاعری ہمارے ذہن و نفس کی تشکیل کے ساتھ ارادے کو بھی حرکت دیتی تھی اب ٹوٹ چکی ہے، اور جب تک نثر کو نئے شعور کی پرداخت میں مرکزی اہمیت نہیں دی جاتی ہمارے ملی راستوں کی بازیافت ممکن نہیں ہو سکتی۔

اکبر الہ آبادیؒ اور اقبالؒ کی شاعری اردو کے جمالیاتی اظہار پر ایک بارِ عظیم کی حیثیت رکھتی ہے اور شدید عصری دباؤ میں شاعری کو بہ اکراہ تہذیبی آفاق کی طرف ملتفت ہونا پڑا تھا۔ ان کے ہاں اردو شاعری میں روایتاً  موجود جذبات و تصورات کا توازن ایک بالکل نئے اور نامانوس اسلوب اور ترتیب میں ظاہر ہوا ہے۔ ان دونوں کے ہاں نئے اور نامانوس تصورات چوٹیوں سے گرتے ان گلیشیئروں کی طرح تھے جو اردو شاعری کے دریا کی سمائی سے کہیں فزوں تر تھے اور اردو شاعری اپنی استعدادِ اظہار کی تنگنائی کے باعث جا بہ بجا تڑخ سی گئی ہے۔ جذبات و تصورات کا یہ نیا توازن برصغیر کے مسلم شعور کے لیے آج تک نامانوس ہی چلا آتا ہے اور کبھی اس کے جدید ملی شعور کا حصہ نہیں بن سکا۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ ان بزرگوں کا شعری اظہار جمالیاتی تقاضوں کو بھی اتم درجے میں پورا کرتا ہے، لیکن ان کی شاعری کا بڑاحصہ ایسے تصورات پر مشتمل ہے جو فطری طور پر نثر میں ظاہر ہونے چاہئیں تھے۔ یہ تنازع کہ ”ضرب کلیم“ شاعری ہے ہی نہیں اور یہ کہ وہ اعلیٰ ترین شاعری ہے اسی وجہ سے ہے کہ اردو شاعری نے اپنی بساط سے بڑھ کر تہذیبی ذمہ داری اٹھائی تھی اور اس کی کمر دہری ہو گئی ہے، اور جسے نثر کی ’لاٹ‘ سے اب سیدھا کرنے کی ضرورت ہے۔  ہو سکتا ہے ”ہمارے ملی شعور کا حصہ“ نہ بن سکنے والی بات احباب کو گراں گزرے، لیکن نمونے کے طور پہ اقبالؒ کے تصور خودی اور اکبرؒ الہ آبادی کے تصور تعلیم پر اب تک دی جانے والی داد سخن دیکھ لینا کافی ہے۔ تصورات کے اظہار کی ذمہ داری اردو نثر کو اس لیے منتقل نہ ہو سکی کہ فورٹ ولیم کالج میں نئی اردو نثر کی تولید کے لیے استعماری سی سیکشن ہوا تو آپریشن کے دوران ضربِ دماغی کی وجہ سے فالج کا دورہ ہو گیا تھا۔ اور بڑی بدنصیبی یہ بھی ہوئی کہ آگے چل کر اردو نثر کا جو برج البروج منظر نامے پر ابھرا وہ انگریزوں کا تنخواہ دار جاسوس تھا۔ اردو نثر کو بہت کچھ بے دماغی اول روز سے رہی ہے لیکن شاعری کا دل کبھی بوڑھا نہ ہوا۔ دل بڑی قیمتی چیز ہے لیکن کیا کریں دنیا میں تاج سر پر ہی سجتا ہے۔ تاریخی اسباب کچھ ایسے رہے ہیں کہ اردو نثر تہذیبی تصورات کے اظہار کا بوجھ سہار نہیں پاتی۔ متن اور سیاسی طاقت کی حرکیات کے حوالے سے جدید فکری مباحث میں یہ امر بھی ضروری طور پر مؤکد نہیں کیا جا سکا کہ اس کا دست تصرف نثر تک محدود رہتا ہے اور یہ شاعری کو اپنا لے پالک نہیں بنا سکتی، اور اردو نثر کی نشو و نما اور اردو شاعری کے عنوانات اس امر پر اپنے وجود سے گواہی دیتے ہیں۔

اردو نثر کے حوالے سے کہیں حیران کن آقائے سرسید کا منصوبۂ تجدد تھا۔ اس منصوبے کے کل فکری وسائل کو زیادہ سے زیادہ تیسرے درجے کی عالمانہ صحافت (scholarly               journalism) کہا جا سکتا ہے، اور اس فکر کے نثری اظہار کی سطح بھی مطلق صحافیانہ یا زیادہ سے زیادہ ادبی صحافیانہ رہی ہے۔ آقائے سرسید کا منصوبۂ تجدد جس فکر پر دلالت کرتا ہے اور جس سے جواز پاتا ہے وہ اردو نثر کے اندر موجود نہیں ہے بلکہ اس سے باہر انگریز آقاؤں کی زبان میں ڈھیروں موجود ہے۔  اس لیے اس منصوبے کی تحریروں کو زیادہ سے زیادہ مشاری نثر کہا جا سکتا ہے جس کا مشارٌ الیہ ہمیشہ انگریزی زبان میں ”پایا جاتا ہے“ اور جس تک رسائی کے لیے علی گڑھ قائم کیا گیا۔ آقائے سرسید کے منصوبۂ تجدد کی نثر کو ”خیالاتِ عالیہ“ کی ہوا تک نہیں لگی، اور یہ انگریز آقا کے سرپرستانہ مطالبات کی بجا آوری میں بوزنہ سازی کے لیے تشکیل دی گئی تھی۔ حیرتوں کی حیرت تو یہ ہے کہ آقائے سرسید کے صحافتی سطح کے منصوبۂ تجدد نے بالمقابل روایتی مذہبی فکر پر بالکل جھاڑو ہی پھیر دیا، اور جو روایتی فکر کی ”صلابت و ثقاہت“ کا اندازہ لگانے کے لیے کافی ہے۔ میں تو دو رکعت کی حفاظت پر اپنے علما کو اوج ثریا پر متکمن مانتا ہوں، لیکن آگےچل کر یہ اوج ثریا بان کی چارپائی سے ملتی جلتی کوئی چیز ہی نکلی جسے آگے پیچھے، اوپر نیچے مکمل صفائی کے بعد دھرا گیا تھا۔ ہمارے علما جدیدیت، استعمار و استشراق اور آقائے سرسید کے روبرو جو اخلاقی رویے، انسانی عزیمت، علمی استعداد اور تہذیبی بصیرت بروئے کار لائے ہیں اس پر گریہ کے لیے میں ہمیشہ کسی دریا کا کنارہ پکڑتا ہوں۔ کیا یہ دکھ کم ہے کہ صحافتی سطح کی اردو نثر نے ایک پوری تہذیب کے علمی ورثے کو گٹھڑی بنا کے تاریخ برد کر دیا؟

یہ ظاہر ہے کہ فکر اور علمی تصورات کے حوالے سے اردو نثر زبردست ابلاغی مسائل کا شکار ہے۔ انسان کی نفسی تشکیل میں شاعری اہم ہے جبکہ ذہن کی تشکیل میں نثر اولیت رکھتی ہے۔ وہ قومی ذہن جسے آقائے سرسید نے اپنی صحافیانہ نثر سے وجود بخشا تھا اب بالکل بکھر چکا ہے اور مذہبی ذہن اپنی مادی تشکیل مکمل کرنے کے بعد تاریخی مؤثرات کا محض آلہ کار ہے۔ ایسی مایوس کن صورت حال میں بہتر تو یہی ہے کہ آدمی خاموش رہے۔ لیکن خاموشی کی منزل سناٹے سے آگے ہے، اور نثر کی لاٹھ لہرائے رکھنا اس وقت تک ضروری ہے جب تک یہ دکھائی نہیں دیتی۔

واللہ اعلم بالصواب۔

Recommended Posts

Leave a Comment

Jaeza

We're not around right now. But you can send us an email and we'll get back to you, asap.

Start typing and press Enter to search