جدیدیت کی دروں کاری۔ محمد دین جوہر

[یہ مضمون سنہ ۲۰۱۵ء میں لکھا گیا تھا اور اسے معمولی تدوین کے ساتھ شائع کیا جا رہا ہے۔]

جدیدیت انسانی تاریخ میں ظاہر ہونے والا واحد تصورِ حیات اور نظامِ زندگی ہے جس کی تفہیم کے لیے روایتی معاشروں کے پاس کوئی زبان نہیں ہوتی، اور جب تک اس کی علمی تفہیم اور اظہار کے امکانات پیدا ہوتے ہیں روایتی معاشرہ خود قصۂ پارینہ بن چکا ہوتا ہے اور اس کے پاس جو زبان رہ جاتی ہے وہ اس قدر ’جدید‘ ہو جاتی ہے کہ مذہبی روایت کے ”فطری“ اور ”فکری“ اظہار کے قابل نہیں رہتی۔ جدیدیت کا بنیادی ظہور دو جہتوں میں ہے۔ یہ بیک آن ایک وجودی موقف اور علمی بیان، اور ایک تاریخی واقعہ اور سماجی صورت حال کے طور پر ظہور کرتی ہے، یعنی یہ ایک فکر بھی ہے اور ایک واقعہ بھی ہے۔ جدیدیت کی ان دونوں جہتوں کی الگ الگ یا بیک آن تفہیم ایک غیرمعمولی پیچیدگی رکھتی ہے کیونکہ اس کا فکر و علم سرابی تلون کا حامل ہے اور اس کا قائم کردہ سماجی اور معاشی نظام مشین کی طرح متحرک اور نتیجہ خیز ہے۔ تاریخ کے کسی دیے گئے لمحے میں، جدیدیت بطور فکر اور واقعہ ایک  جوئے کہسار کی طرح تیز تر آگے اور نیچے کو لپک رہی ہوتی ہے۔ اپنی وجودی پوزیشن کو غیرمبدل رکھتے ہوئے جدیدیت کا پیدا کردہ نیا علم اور نئی تاریخی صورت حال ہر سہ ابعاد میں تغیر پذیر ہوتی ہے۔

ایک وجودی فکر کے طور پر، جدیدیت نے کائنات میں انسان کی پوزیشن کو اساسی سطح پر تبدیل کر کے عقل کی نئی بناوٹ استوار کی ہے، اور یہ نئی عقلی بناوٹ ایک نئے علم کو جنم دیتی ہے، اور یہ علم شعورِ انسانی اور انسان کے مجموعی طرزِ احساس کی نمو ایک نئے اصول پر کرتا ہے۔ اسی طرح جدیدیت اپنی ٹیکنالوجیائی جہت میں جب ایک واقعہ بنتی ہے، تو طبعی فطرت اور روایتی معاشرے میں ایسی تبدیلیاں سامنے لاتی ہے جو اسے عام انسان اور اس کی زندگی کے ہر پہلو تک مؤثر کر دیتی ہیں۔ جدیدیت ایک واقعیت کے طور پر زمان و مکان کو تبدیل کر کے اسے  پیداواری قوتوں کے تابع کر دیتی ہے، اور واقعے کو پراسث بنا کر تاریخی مؤثرات پر مکمل غلبہ حاصل کر لیتی ہے۔ اس کے براہِ راست نتیجے کے طور پر فطری زمان و مکاں کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ جدیدیت ایک فکر کے طور پر شعور میں اور ایک واقعے کے طور پر طبعی فطرت میں باہم مماثل نتائج پیدا کرتی ہے اور اس کی یہ فکری گہرائی اور ثقافتی گیرائی انسانی تاریخ میں بے مثل اور بے نظیر ہے کیونکہ یہ اپنے ہر نئے اظہار کا نیا میڈیم بھی خود تخلیق کرتی ہے۔

سہولت کی خاطر اور بات کو صرف ناگزیر حد تک سادہ بناتے ہوئے کہ کہیں اس کی اصل ہی ہاتھ سے نہ جاتی رہے، ہم تہذیبِ مغرب کے اساسی تصور حیات کو، اس کے بنیادی ترین تہذیبی idea کو، جو انسان، معاشرے، تاریخ اور کائنات کو ایک لڑی میں پروئے ہوئے ہے، جدیدیت کہہ رہے ہیں۔ جدیدیت ایک وجودی پوزیشن ہے، کوئی علم نہیں ہے، بلکہ پورے جدید علم کا منبع ہے۔ جدیدیت اور اس سے جڑے ہوئے مشکل موضوعات کو زیربحث لانا کسی شوق کا اظہار نہیں ہے بلکہ تاریخ کے مسلط کردہ جبر کا سامنا کرنے اور ہم نفسوں سے ہم کلامی کی کوشش ہے۔ ہماری تمام تر ’علمی‘ حسرت اور لاغر اخلاقی غضب کے باوجود جدیدیت کے بیان کو سادہ نہیں بنایا جا سکتا۔ ہم بھی کیا کریں کہ معرضِ مسلمانی کی کٹھنائی اور جدیدیت کی بلائے ناگہانی ایسی ہے کہ صد رگِ جاں ٹوٹنے پر بھی کوئی تارِ تنزیہہ ہاتھ نہیں آتا، اور فکر تو دل کے بخیوں کی پڑی ہے کہ وہ اسی تار سے رفو ہوں گے۔

ہبوطِ آدم ماورا سے دنیائے فطرت میں تھا۔۔۔ جدیدیت آدم کا ہبوطِ ثانی ہے، فطرت سے ایک جزوِ فطرت، یعنی مادے کی طرف۔ انسان کا ہبوط ثانی بطونِ مادہ میں ہے۔

اپنے دینی تناظر میں رہتے ہوئے ایک بدیہی بات عرض کرنا ضروری ہے۔ ہبوطِ آدم ماورا سے دنیائے فطرت میں تھا، جہاں مادی، حیاتیاتی اور تقدیری عوامل کا انسانی تجربہ، انسان اور ارض و کائنات کے خودمکتفی ہونے کی مسلسل نفی سے عبارت، اور اس کے مخلوق ہونے پر طاقتور گواہی دیتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ دنیائے فطرت سے ماورا کی طرف کھلنے والی کھڑکیاں کبھی پورے طور پر بند نہیں کی جا سکی تھیں۔ جدیدیت آدم کا ہبوطِ ثانی ہے، فطرت سے ایک جزو فطرت، یعنی مادے کی طرف۔ انسان کا ہبوط ثانی بطونِ مادہ میں ہے۔  یہاں ماورا تو دور کی بات ہے، دنیائے فطرت کی طرف کھلنے والے تمام روزن بھی تیزی سے بند ہو رہے ہیں۔ یہاں فطرت کے زماں و مکاں کی جگہ جدیدیت کے زمان و مکاں کا لشکر اتر آیا ہے۔ فطرت کا زماں جدیدیت کے علم کی دبیز پرچھائیوں میں بدل چکا ہے، اور جدیدیت کا مکاں، ٹیکنالوجی کے گھڑیالی جبڑوں کی گرفت میں ہے۔ بطونِ مادہ میں ہبوطِ انسان کی وجہ سے زمان و مکاں کے آر پار دیکھنا اب آسان نہیں۔ فطرت کے زمان و مکاں جدیدیت بہت پیچھے چھوڑ چکی ہے۔ ماورا کی منزل اب بہت دور ہو گئی ہے۔ منزلیں دور ہونا کوئی نئی بات نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ اس کا راستہ مادے کی گھاٹیوں سے نکل کر، جدید علم اور ٹیکنالوجی کی عالم پناہ کو پھاند کر، فطرت کے میدانوں کی طرف آئے گا تو آگے ماورا کے سنگ میل دکھائی پڑیں گے۔ اب یہ سفر کوہ قاف پر عفاریت کی قید سے شہزادی کو رہا کرانے کی مہم  سے کم جوکھوں کا نہیں۔

جدیدیت کے ورلڈ ویو پر قرار پکڑنے کے بعد تہذیبِ مغرب نے جو علم پیدا کیا ہے، اور جس سیاسی اور معاشی عمل کو یہ سامنے لائی ہے، اور جس کلچر کو اس نے انسان کا روزمرہ بنا دیا ہے، اور جس طرز زندگی کو اس نے عالمگیر کر دیا ہے،  اس نے پرانی دنیا کو ڈھا کر اسی جگہ ایک نئی دنیا کھڑی کر دی ہے۔ ارضی زمان و مکاں پر جدیدیت کا غلبہ مکمل ہو چکا ہے۔ ہمیشہ سے فرد اور معاشرے کی طبعی اساس مادی فطرت پر ہے۔ انسانی معاشرے اور تاریخ پر جدیدیت کا غلبہ اور تمکن مادی فطرت پر غلبے اور جلبِ وسائل سے ممکن ہوا ہے۔ جدیدیت نے اپنے سائنسی اور ٹیکنالوجیائی وسائل سے طبعی فطرت کو پیچھے دھکیل کر اس کی جگہ ایک عالمگیر سسٹم کو کھڑا کر دیا ہے، اور انسانی زندگی کا انحصار اب طبعی فطرت سے سسٹم پر منتقل ہو چکا ہے۔ لیکن جدیدیت کا بنا کردہ عالمگیر سسٹم اپنی بقا اور حرکت کے لیے مکمل طور پر مادی فطرت پر ہی انحصار کرتا ہے۔

حیات انسانی یعنی انسانی شعور اور عمل کا کوئی پہلو، کوئی کونا، کوئی گوشہ، کوئی حصہ ایسا نہیں ہے جو جدیدیت کے براہِ راست استیلا سے باہر ہو۔ یہ ایک غیرمعمولی صورت حال ہے۔ جدیدیت کی بنا کردہ تبدیلی تاریخی تبدیلی نہیں ہے، یہ احوال ہستی (Human               Condition) میں در آنے والی تبدیلی ہے۔ یہ ارض پر نمود لانے والی لحظہ لحظہ تبدیلی اپنی کلیت میں بہت بڑی اور ریڈیکل ہے اور اپنی مجموعی حیثیت سے ایسی ہے کہ جیسے انسان خشکی پر رہتے رہتے پانی میں رہنا آغاز کرے۔

ارضی احوال ہستی پر جدیدیت کے مکمل غلبے کی وجہ سے ایک سوال کا جواب اس نے عملاً قائم کر دیا ہے اور وہ سوال یہ ہے کہ ”انسان زندگی کیسے گزارے گا؟“ اور وہ جواب یہ ہے کہ انسان جدیدیت کی قائم کردہ دنیا کے مطابق زندگی گزارے گا۔ جدیدیت انسان سے اپنی ”تعلیمات“ کے مطابق زندگی گزارنے کا مطالبہ ضمناً رکھتی ہے۔ اس کا اصل تقاضا بالفعل ہے کہ انسان اس کے پیدا کردہ ”حالات“ کے مطابق زندگی بسر کرے۔ یعنی انسان کی زندگی جن فطری اور مادی مؤثرات سے تشکیل پاتی تھی، وہ اب مکمل طور پر سسٹم کے سپرد ہو گئے ہیں۔ اس کا فوری اور دور رس نتیجہ یہ نکلا ہے کہ جدیدیت کی پیدا کردہ تاریخی اور ثقافتی صورت حال اپنی شرائط پر ہمارے طرزِ فکر اور احساس کا حصہ بنتی چلی جا رہی ہے۔ نئے طرزِ فکر اور احساس کی گرد ہمارے عقائد کو ڈھانپتی چلی جاتی ہے۔ ہمارے اخلاقی اور شرعی اعمال کی بنیاد پر بننے والی معاشرت کی جگہ ایک نئی اور میکانکی معاشرت لے رہی ہے۔

جدیدیت کی دروں کاری، اس کے پیدا کردہ میکانکی عمل اور مذہبی عمل میں تطابق سے شروع ہوتی ہے۔۔۔ اس کی بہت ہی عمدہ مثالیں سودی نظام اور دارالحرب کے مسائل ہیں۔

اس صورت حال سے انسان کے عمل، طرزِ احساس اور اس کے ذہن کی بناوٹ میں تبدیلی بتدریج آتی چلی جاتی ہے کیونکہ انسان تاریخی دباؤ کا سامنا کرنے کی لامحدود استعداد نہیں رکھتا۔ مذہبی آدمی کے لیے مشکلات دوچند ہیں کیونکہ اس سے اصل دینی مطالبہ یہ ہے کہ وہ اپنے ایمان، احوال اور اعمال کو ”تعلیمات“ کے مطابق سامنے لائے نہ کہ ”حالات“ کے مطابق۔ مذہبی آدمی سے عملی مطالبات بہت واضح، دوٹوک اور لازمی ہیں اور اس کا صرف ایک ہی مطلب ہے کہ وہ اپنی دینی ”تعلیمات“ کے مطابق ”حالات“ بھی پیدا کرے۔ اور صورت حال یہ ہے کہ جدیدیت کے پیدا کردہ سسٹم اور اس کے عملاً قائم حالات نے پوری انسانیت کو ہر سہ ابعاد سے گھیر لیا ہے، اور اس سسٹم کے پیدا کردہ حالات کو جو چیز متحرک رکھتی ہے وہ جدیدیت کا پیدا کردہ علم اور کلچر ہے، اور جن کی رسائی شعور تک بالکل اسی طرح ہے جیسے سسٹم کی قدرت حس و حرکت پر ہے۔

جدیدیت کی دروں کاری، اس کے پیدا کردہ میکانکی عمل اور مذہبی عمل میں تطابق سے شروع ہوتی ہے، خاص طور پر ایسے میکانکی اعمال جن کی سطح اجتماعی ہو، اور جو سسٹم کے طور پر واقع ہوئے ہیں۔ اس کی بہت ہی عمدہ مثالیں سودی نظام اور دارالحرب کے مسائل ہیں۔ اس میں نکتہ یہ ہے کہ شرعی حکم نہ صرف امتثال امر کا مطالبہ کرتا ہے بلکہ ساتھ ہی اس عمل پر ججمنٹ بھی ہے اور اس کا مخاطب مسلمان ہے۔ جب شریعت اور جدیدیت کے پیدا کردہ سسٹم میں براہ راست تساوی قائم کر دی جائے تو شریعت کی قیمت پر جدیدیت کی دروں کاری عملاً واقع ہوتی ہے۔ دوسرا مرحلہ جدید کلچر اور نفسی احوال میں یگانگی تلاش کرنے سے عبارت ہے۔ جدیدیت کی دروں کاری اس وقت مکمل ہو جاتی ہے جب ایمانی قضایا کی اساس کو مادی علوم پر منتقل کرنے کی کوشش ہمارے ہاں ایک باقاعدہ علم کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ بڑا مسئلہ یہ ہے کہ فوری طور پر درپیش عملی مسائل کا ہم کوئی نہ کوئی جگاڑی حل سامنے لے آتے ہیں اور ضروری غور و فکر سے اپنی انفرادی، سماجی اور تہذیبی صورت حال کے تجزیے کی طرف مائل نہیں ہوتے۔

مسلم معاشروں میں جدیدیت کی دروں کاری کا سب سے مؤثر ذریعہ ”اسلامی“ اور ”غیراسلامی“ کا موجودہ طریقۂ کار ہے اور جس میں جدیدیت کے پیدا کردہ افکار و اعمال زیربحث ہوتے ہیں اور ان پر مذہبی ججمنٹ درکار ہوتی ہے۔ موجودہ کلچر کی مجموعی فضا میں اسلامک انڈیکس جیسے کئی ادارے کام کر رہے ہیں  جن کے نزدیک ”اسلامی“ اور ”غیر اسلامی“ میں مسلمان ہونا غیرضروری ہے۔ مثلاً ایک ایسی ہی حالیہ رپورٹ میں دنیا کے ملکوں کو ”اسلامی“ کے اشاریے پر ترتیب دیا گیا اور پہلے اکیالیس ممالک میں کوئی مسلم ملک نہیں تھا۔ یہ طریقۂ کار ہمارے بزرگان ہی کے موقف سے اخذ کردہ ہے جس کے مطابق یورپ میں اسلام ہے، مسلمان نہیں ہیں اور ادھر مسلمان ہیں اسلام نہیں ہے۔ جدیدیت کی دروں کاری کے خلاف مزاحمت میں سب سے ضروری چیز ایسا علم ہے جو دنیا کو اُس حقیقت کے مطابق مبرہن کر دے جو دین سے حاصل ہوئی ہے، اور یہ کہ مکارم الاخلاق پر اپنی اخلاقی خودی تعمیر کرتے ہوئے اسے مذہبی خودی کی بنیاد بنایا جائے۔

جدیدیت علم میں روشن اور حق میں مُظلم ہے۔ جدیدیت آئینہ در آئینہ شش جہات میں جہاں آرا ہے، اور ہر آئینہ اس کے اپنے عکس سے چھلکا جاتا ہے۔ مذہبی آدمی اپنے جملہ احوالِ نحافت میں  شعبدوں کو معجزہ شمار کرتا ہے، اور ہچکیوں میں سوچتا ہے کہ بھلا ایسا معجزہ بھی ”غیر اسلامی“ ہو سکتا ہے! جدیدیت نے دنیا کو پرکشش، ضروری اور انسانی شناخت کا واحد وسیلہ بنا دیا ہے۔ ہم جدیدیت کی روشن اور روشن خیال دنیا میں انکارِ حق سے پیدا ظلمت کو نہیں دیکھ پاتے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ جدیدیت کی بتدریج دروں کاری سے ہم بھی خوگر پیکر محسوس ہوئے جاتے ہیں۔ ہم نے ”تفہیم دین“ میں بڑی زور آزمائیاں کی ہیں اور ابھی تک جتے ہوئے ہیں۔ تحصیل دنیا سے آگے ہمیں بہت کچھ ”تفہیم دنیا“ کی بھی ضرورت ہے تاکہ ہم علم میں بھی یہ جان لیں کہ دنیا کی حقیقت عین وہی ہے جو ہمارے دین نے بتائی ہے۔ جدیدیت آئینہ خانۂ دہر کی نئی تقویم ہے اور ہمیں اس سے آگے سفر درپیش ہے۔ ہم بہت تیزی سے بھولتے جا رہے ہیں کہ ہمارا سفر طویل اور کٹھن ہے اور ہماری زادِ راہ کا سرنامہ ’زاد معاد‘ ہے!

 و اللہ اعلم بالصواب۔

Recommended Posts
Comments
  • سعید ابراہیم
    جواب دیں

    محترم احمد جاوید کے دو لیکچرز سے دو اہم اقتباسات جو میرے خیال میں آپکے مضمون پر ایک عمدہ تبصرہ ثابت ہوں گے۔
    “مغرب اپنی تہذیبی بنت مکمل کرنے کے عمل میں تھیوری اور میتھڈ ، آئیڈیا اور پریکٹس دونوں کی آئیڈیل ہم آہنگی دریافت کرچکا تھا۔ اپنی جدید ہئیت میں یہ تھیوری اور پریکٹس کی ہم آہنگی سے پیدا ہونے والا ایک سٹرکچر ہے۔ اس کی ہر پریکٹس ایک تھیوری سے براہِ راست زندہ اور نامیاتی ربط رکھتی ہے اور اس کی ہر تھیوری اپنی پروڈکشن کے بے شمار شواہد رکھتی ہے۔۔۔ ویسٹ نے ذہن کی جو اعلیٰ درجے کی تھیورائزیشن کو نتیجہ خیز اور پروڈکٹو بنانے میں کامیابیاں حاصل کیں اور اس کے نتیجے میں انسان پر اس کی بعض صلاحیتیں غالباً پہلی بار منکشف ہوئیں۔ یعنی انہوں نے کومپلیکس تھیریز کو بھی عمل میں لانے کے مؤثر اسالیب دریافت کرکے دکھا دیے۔ یعنی جو تھیوریز ذہن کے لیے پیچیدہ تھی، اس پیچیدہ تھیوری میں زبردستی کی عامیانہ سادگی پیدا کیے بغیر اس کی تمام تہہ داری کے ساتھ اس کے عمل میں آنے کے راستے کھول دیے۔ ”
    ویسٹرن کلچر اینڈ سوسائٹی کے موضوع پر لیکچر سے اقتباس

    “ہمارے علمی انحطاط کی نوعیت ہمہ گیر اور کُلّی ہے۔ایسا نہیں ہے کہ ہماری تہذیب کا کوئی ایک خاص طبقہ اس زوال اور انحطاط میں مبتلا ہو اور دیگر کلاسز اس سے محفوظ ہوں۔ ذہن کا جو بھی مذہبی یا دنیاوی رول ہے ، عقل اور فکر کا جیسا بھی سماجی ، اخلاقی، روحانی اور سیاسی اظہار ہے وہ سب کا سب اُمتِ مسلمہ میں پسماندگی کی انتہائی حد کو چھو رہا ہے۔ اور ہمیں ایسا لگنے لگا ہے کہ ہماری مجموعی ذہنی ساخت اب زندگی کو لازماً درکار اِدراکات کے قابل نہیں رہی۔۔۔ ہماری صورتحال یہ ہے کہ ہمارے اِدراک کی سطح ہماری بینائی کی حدوں تک محدود ہوکے رہ گئی ہے۔اور ہمارے اظہار کی سطح ہماری دیکھی ہوئی چیزوں کو بیان کرنے کے قابل بھی نہیں رہی۔ تو یہ جو ایک انتہائی مکینیکل اظہار اور ادراک کی سطحوں پر بھی جو ہماری بے بسی اور عاجزی ہے، وہ زندگی کے ہر شعبے سے واضح اور ظاہر ہے۔ ہماری بنیادی تعلیم کے تمام ادارے ذہن کو ایک حیوانی حافظے سے زیادہ سمجھ کر پروان نہیں چڑھا رہے۔ ایک بالکل مشینی حافظہ بناکر علم کو اس میں ٹھونسا جارہا ہے، اور معلومات کو محض چند فارمل شناختوں کی حد تک محدود کرکے رٹوایا جارہا ہے۔ مطلب یہ کہ ہم جس چیز کو بھی جانتے ہیں وہ صرف دیکھے جانے کی حد تک جانتے ہیں۔ سمجھے جانے کی حد تک ہم کسی ایک چیز کو بھی نہیں جانتے۔”
    امام غزالی بارے لیکچر سے اقتباس

Leave a Comment

Jaeza

We're not around right now. But you can send us an email and we'll get back to you, asap.

Start typing and press Enter to search