جمال اور فن۔ محمد دین جوہر

[یہ مضمون جنوری سنہ ۲۰۱۰ء میں لکھا گیا تھا اور اسے بغیر کسی تبدیلی کے شائع کیا جا رہا ہے۔ سادہ پرستوں کے ٹڈی دَل ہماری فصلِ حیات کے ہر برگِ ہنر کو چاٹ چکے اور اب کوئی اکھوا دیدِ خورشید کو برسرِ بام نہیں آتا۔ ٹڈی دَل کے دھاوے میں رزم کی دھنیں کام نہیں آتیں۔ کہتے ہیں کہ ایسے میں ٹین بجاتے ہیں۔ سوچا کہ آج میں بھی ٹین بجا کے دیکھوں۔ یعنی، مکرر یعنی کہ میں یہ مضمون سادہ پرستوں سے معذرت کے ساتھ شائع کر رہا ہوں۔]

جمال ایک جلوہ ہے، گریزپا، عجلت نہاد اور غیاب پروردہ۔ جلوۂ جمال فہمِ انسانی اور پہرۂ اخلاقی کو طرح دیتے ہوئے فوراً جذبے میں سرایت کر کے تجربہ بن جاتا ہے۔ جلوۂ جمال پلٹتے سمے ہجر کے جوالا مکھی سے بہتے لاوے پر  لذتِ دید اور آرزوئے وصل کے چند انمٹ نقش چھوڑ جاتا ہے۔ پیچھے انسان کی یہ تقدیری کاوش رہ جاتی ہے کہ وہ اس جمال کو اپنے جذبے کی رسائی میں ایسا دوام عطا کر دے کہ وہ ہجرِ جمال کے کرب سے نجات پا جائے۔ یہیں سے فن کی نمود ہے۔ فن آسمانی بجلیوں کو ململ کی پوٹلیوں میں سمیٹنے کی انسانی کوشش کا نام ہے۔ فن کی نمود کے لمحے میں اور جمال کو انسانی جذبے کی رسائی میں  لانے کی گھڑی میں، یعنی تخلیق فن کے وقت، معنی علامت بن کر اس تقدیری کاوش میں بھرتی ہو جاتا ہے اور نفسی جانکنی خونِ جگر بن کر جمال پروری کا غازہ بنتی ہے اور کوئی شہ پارۂ فن وجود میں آتا ہے۔ جب عقلِ انسانی افکار میں، اقدار کردار میں اور تجربۂ جمال فن میں نمود کرتا ہے، تو ان کی پہلی ملاقات تاریخ سے ہوتی ہے۔ یہ صرف معجزۂ فن ہے کہ جس کے حضور اجل بھی شاد کام ہو جاتی ہے اور شمشیرِ فنا تادیر نیامِ وقت سے باہر نہیں لاتی۔ اگر جمالیاتی شعور کچھ بھی جاندار ہو تو انسان کا عقلی اور اخلاقی شعور اس کا پانی بھرتے ہیں۔ 

 فن آسمانی بجلیوں کو ململ کی پوٹلیوں میں سمیٹنے کی انسانی کوشش کا نام ہے۔۔۔ جمال، جلوہ،  جذبہ اور جگر کاوی فن کے اجزائے ترکیبی ہیں۔

جمال، جلوہ،  جذبہ اور جگر کاوی فن کے اجزائے ترکیبی ہیں۔ دوسرے لفظوں میں ماورا، اس کا فطرت میں مظہر اور تاریخ باہم آمیز ہو کر فن پارے میں ڈھل جاتے ہیں۔ جذبہ تاریخی اور زمانی ہے۔ جلوۂ جمال کی بے خودی میں جذبہ تاریخ سے صعود کر کے جمال سے وصل کا متمنی ہوتا ہے اور زمانی بیڑیاں اس کو  وجودی ثقل سے آزاد نہیں ہونے دیتیں۔ جذبے کا یہ عمل جیتے جی روح کے کھنچنے کا عمل ہے، یہاں تک کہ جذبہ، فن کی صورت میں تاریخ کی تنگنائے میں جمال کے استحضار پر راضی ہو جاتا ہے۔ فن کا درجہ اسی قدر ہوتا ہے جس قدر انسان آسمانی بجلیوں کو  اپنے کشکولِ ہنر میں بھر لا کے فن پارے میں سمو دے۔ چونکہ فن پارہ زائیدۂ جمال ہے تو اسی کی طرح یہ تاثیر پہلے ہے اور معنی مؤخر۔ تخلیقِ فن کے لمحے میں معنی کھسیانہ ہو کر، بھیس بدل کر، نقاب اوڑھ کر فن پارے میں علامت بن کر چھپ جاتا ہے۔ فن پارہ عقل و فہم، علم و معنی کے مفلسانہ کبر اور نارسائی کا مستقل اعلامیہ ہے۔ 

 فن کی تاثیر خودفراموشی کا خواب ہے، اور علامت بیداری کا الارم۔

ادب اور فن میں علامت مال غنیمت ہے، اور لوٹ مار کے اسی میدان میں انسانی عقل کی بیکسی کا نقارۂ رسوائی بھی خوب بلند ہوتا ہے۔ اگر منبع جمال نامعلوم ہے، اور جلوۂ جمال کے روبرو خضوع بھی نہیں تو علامت میں معنی کہاں سے آئے گا؟ جس طرح تخلیقِ فن جانکاہی سے خالی نہیں، اسی طرح علامت کے معنی تک رسائی بھی آسان نہیں، کیونکہ اس تک رسائی کے لیے معنی  کے اندازِ مستوری، اس کی بنیادِ وجودی اور ہیئتِ شہودی کا علم ہونا ضروری ہے۔ اور ان باتوں کا علم اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک خود معنی کے اساسی بیانات تک رسائی حاصل نہ ہو۔ تو یوں ادب و فن کا بنیادی مسئلہ جمالیات کی فنی حدود میں رہتے ہوئے حل نہیں ہو سکتا۔ جمال فن کی تاثیر خود جلوۂ جمال کی مانند تادیر باقی نہیں رہتی، اور فن انسانی ذات کی سرشاری کا تادیر باعث اسی وقت بنتا ہے جب تاثیر کو علامت کے معنی کی کھونٹی سے باندھ  لیا جائے۔ فن کی تاثیر خودفراموشی کا خواب ہے، اور علامت بیداری کا الارم۔ صرف تاثیر تک محدود رہنا جذبے کو انارکی سے محفوظ نہیں رکھ سکتا، جبکہ معجزۂ فن کی نمود کا بنیادی مقصد اسی جذبے ہی کی تہذیب ہوتا ہے۔ جذبہ فکر کی لگام آسانی سے نہیں لیتا، مگر علامت کے دام تزویر کا چپ چاپ  شکار ہو جاتا ہے۔

علامت کے بارے میں امبرٹو ایکو کی دلچسپ گواہی سنتے چلیں تو آگے بڑھنے میں شاید آسانی ہو جائے:

تاہم ایسی تعریف کی مشکل اور اہمیت گھٹانے کی کوشش ہرگز نہیں کرنی چاہیے، خاص طور پر علامت کے معاملے میں۔ جب آندرے لالانڈے  کی فلسفیانہ لغت کے لیے یہی کام مصنفین نے اپنے ذمے لیا تو امبرٹو ایکو کے بقول نتیجہ یہ ہوا کہ  ”فلسفیانہ اصطلاحات نگاری کی تاریخ کے سب سے قابل رحم لمحے کا سامنا کرنا پڑا“۔ نہ صرف یہ کہ خود علامت پر مضمون میں تین باہم یک نگر تعریفات موجود ہیں، بلکہ  مصنفین کی بحث پر مشتمل جو ضمیمہ ساتھ لگایا گیا ہے اس میں مزید  آٹھ کا اضافہ ہو گیا ہے۔  

دوسرے لفظوں میں ہم یہ کہیں گے کہ جمال فطرت میں جلوہ گر ہوتا ہے اور فن اسے تاریخ کا حصہ بنانے کی انسانی سعی کا نام ہے۔ لیکن فطرت میں کہاں سے آتا ہے؟ اس سوال کا جواب دیے بغیر علامت کی نقاب کشائی ممکن نہیں۔ معنی کا اونٹ اسی طرف سفر کرتا رہتا ہے جدھر علامت کی نکیل لے جاتی ہے۔ جدید ادب اور فن کے معنی کا اونٹ بے نکیل ہے اور دشتِ زمان و مکاں میں گم، اور اس پر سواری کرنا جان گنوانے کے برابر ہے۔ 

انسان کی عقل اور ایمان میں ایک بات، ایک خطرہ مشترک ہے۔ عقل جذبے کے انکار کا اور ایمان  تاریخ سے انقطاع کا ایک فطری رجحان رکھتا ہے۔ ایمان اور  مذہبی شعور کا اپنے بنیادی متن سے تعامل  اور اس سے اخذ معنی کا اسلوب اگر تاریخ کو نظرانداز کر دے تو متن اور انسانی ذہن کا  تعلق منقلب ہو جاتا ہے اور شعور متن پر غالب آ جاتا ہے۔ ایسی صورت حال میں ظاہر پرستی، حرفیت اور میکانکیت جنم لیتی ہے اور متن ایسے شعور کا آلہ بن جاتا ہے۔ صرف تاریخ اور روایت ہی مذہبی شعور کو متن کے تابع رکھ سکتی ہے۔ متن کے شعور کے تابع ہو کر ایک آلہ بن جانے سے مراد یہ ہے کہ زماں متن پر غالب آ جاتا ہے۔ ایسا مذہبی شعور حیات انسانی اور فطرت کے مظاہر  جمال کا perceiver ہونے سے دستبردار ہو جاتا ہے اور معاشرے میں پورے انسان کا قیام ممکن نہیں رہتا۔ پورے شعور کے بطور ایک اکائی کام کرنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ جمال اور جذبے کی آنچ سے باہم گندھ جائے اور اپنے انسانی ہونے کی تمام جہتوں کا استحضار باقی رکھے۔ یہ کام صرف جمالیاتی شعور کو مکمل طور پر فعال رکھے بغیر ممکن نہیں۔

دوسری طرف عقل اپنی فعلیت میں ہوتی ہی میکانکی اور تجریدی ہے اور اپنے اندر ایک غیر جذباتی پن یعنی سفاکیت رکھتی ہے۔ جب عقل اپنے اساسی بیانات کو، جنہیں یہ ایمان ہی کی طرح تسلیم کرتی ہے، علم کی شکل دیتی ہے تو جذبے کی گنجائش پیدا کرنے یا جذبے میں نفوذ کرنے سے قاصر رہتی ہے۔ آج پورے انسانی شعور میں جدید عقل کی حیثیت A               bull               in               a               China               shop  جیسی ہے۔ اب ڈیزائین التباسِ جمال اور فن غیابِ جمال کی شہادت ہے۔ ڈیزائین ہزار گرہوں سے منصۂ شہودِ جمال کی تیاری کی کاروباری کوشش ہے جو پرتوئے جمال کا کوئی چیتھڑا تھوڑی دیر کے لیے اڑس لیتا ہے۔ ڈیزائین سے مغلوب فن پارہ آخر عقل کی معاشی منطق کے سامنے سپرانداز ہو جاتا ہے۔ عقل تو کاروباری ہے اور وہ جمال سے اخذ ہونے والے وجودی انبساط کو فوراً افادیت اور لذت کے تابع کر دیتی ہے۔ عقل اور عقل کی بنائی ہوئی دنیا میں جمالیاتی شعور اور انسانی متخیلہ خانہ بدوش رہتے ہیں، اور مظاہر جمال کے perceiver ہونے کی ذمہ داری سے دستبردار ہو جاتے ہیں۔ عصر حاضر میں فن کے تمام مظاہر مکمل طور پر مسخ شدہ ہیں، اور محض غیابِ جمال پر تکمیلی شہادت ہیں۔

حیات انسانی کا ایک پہلو کام کی جانکاہی ہے۔ اگر یہ رزق کے  لیے ہو تو مزدوری ہے اور اگر قدر کے لیے ہو تو مجاہدہ۔ مزدوری سے جسم پلتا ہے، اور مجاہدہ روح کی زندگی ہے۔ مزدوری مقدر ہے اور مجاہدہ اختیار۔ مزدوری کا مجاہدہ بن جانا ہی صعودِ انسانی ہے۔ مجاہدے میں مزدوری کی چٹائی نیچے بچھائی جاتی ہے۔ مزدوری مال میں ڈھلتی ہے اور مجاہدہ، اگر اس کا رخ خارج کی طرف ہو تو فن پارۂ جمال میں ڈھل جاتا ہے اور اگر مجاہدے کی منزل انفس میں ہو تو احوال اور عمل صالح بن جاتا ہے۔ 

جمالیات میں فن پارۂ جمال کی افادیت یا حیثیت ایک بڑا مسئلہ ہے کہ آخر اس کا فائدہ کیا ہے؟ اگر جمال جذبے کو نہیں سینچتا، اور دوسرے کے لیے محبت کا وفور نہیں بنتا تو اس کی ضرورت کیا ہے۔ اگر جمال یا شہ پارۂ جمال انسان کی personal اور social               space کو مملو نہیں کرتا تو کس کام کا؟ اگر فن پارے کا نصیب ایک چیز بننا ہے تو وہ عقل کی کاروباری گھاتوں سے بچ نہیں سکتا۔  فن پارہ ایک چیز ہی ہوتی ہے، اور فن پارہ چیز بنتے ہی اپنے جواز کی تلاش میں نکل کھڑا ہوتا ہے، اور بازار سے گزرتے ہوئے اپنے دام سن کر بک جاتا ہے۔ چیز یا شے فراقِ وجود کا متحجر آنسو ہے، اس میں رنگ بھرنے سے اس کی وجودی حیثیت تبدیل نہیں ہو جاتی۔

فطرت میں جمال کا شہود ایسا ہی ہے جیسے بیان میں معنی کا حضور۔ معجزہ فن یہ ہے کہ فن پارے کو چیز بننے سے نجات دلائی جائے، اور جمال کا احتوا ایسی فنی صورتوں اور ہیئتوں میں ہو جو نفسِ انسانی اور سماجِ انسانی کو حضورِ حسن سے مالا مال کر دیں۔ ہمارے ہاں خطاطی و تعمیر کی وجودیات، اور احوال تزکیہ کے تصرفات اور اعمال صالحہ کی فعلیات یہی ہے، جہاں متقی ایک طرف حقیقت الحقائق کی علامت بن جاتا ہے تو دوسری طرف تمام نفسِ انسانی اور معاشرت کو جمال سے معمور کر دیتا ہے۔

Recommended Posts

Leave a Comment

Jaeza

We're not around right now. But you can send us an email and we'll get back to you, asap.

Start typing and press Enter to search