مری پہلو تہی کے بھی نئے پہلو نکل آئے ۔ زاہد نبی

مری پہلو تہی کے بھی نئے پہلو نکل آئے
میں جس در پر بھی دستک دوں وہیں سے تُو نکل آئے

مجھے خود سے لپٹنے کی بہت خواہش تھی اور اک دن
در و دیوار سے میرے لئے بازو نکل آئے

شب ہجراں میں اے مہتاب آنکھیں مل گئیں مجھ کو
اماوس میں مرے چاروں طرف جگنو نکل آئے

جسے پتھر سمجھ کر جا کے اپنے دکھ سناتا تھا
اُسی کہسار سے میرے لئے آنسو نکل آئے

بہت بے رنگ تھے پہلے پہل یہ پھول بھی زاؔہد
سو ممکن ہے تری تصویر سے خوشبو نکل آئے!

Recommended Posts

Leave a Comment

Jaeza

We're not around right now. But you can send us an email and we'll get back to you, asap.

Start typing and press Enter to search