آزاد پنچھی۔ مصنف: مدیحہ ضرار (تبصرہ: عثمان سہیل)

 In تنقید

لگ بھگ چار مہینے قبل محترمہ مدیحہ ضرار کا دوسرا ناول ”آزاد پنچھی“ لے تو لیا تاہم علائق روزگار اور کاہلی کے سبب تاوقتیکہ  ہفتۂ گذشتہ مطالعہ واسطے مطلوب استحضار میسر ہوتے ہی چار نشستوں میں ناول پڑھ ڈالا گیا۔ ناول کی زبان سہل، رواں اور ہمارے ہاں کے روزمرہ میں ہے چنانچہ مطالعہ میں زبان کے حوالے قاری کو الجھن اور دقت نہیں ہے۔ ایک چونکا دینے والے واقعہ سے آغاز کے بعد ناول کی فضا بحیثیت مجموعی حقیقی زندگی سے قریب تر ہے۔ ناول کی عمومی روایت کا پاس کرتے ہوئے  کہانی میں کرداروں کا باہمی ربط ضبط رومانوی دائرے میں روبہ عمل رہتا ہے  تاہم یہ رومان کسی بعید ازقیاس یا ماورائی جہت کے بجائے ارضی نوعیت کا ہے۔ کہانی کے کردار عملی زندگی میں بھی سرگرم ہیں اور رومان ان کی زندگیوں کا غالب حصہ نہیں ہے۔ ناول میں ماحولیات، ڈیجیٹل عہد میں سوشل میڈیا روابط، نسائیت اور صنفی شناخت جیسے سماجی معاملات کو بھی موضوع بنایا گیا ہے اور اس خوبصورتی سے سمویا گیا ہے کہ کردار ان موضوعات پر کسی فلسفیانہ یا ٹھوس علمی نوعیت کی مدرسی گفتگو کرتے نظر نہیں آتے اور ایک ہم آہنگ اسلوب برقرار رہتا ہے یعنی یہ سب کہانی میں اجنبیت کا عنصر نہیں لگتا ایک نامیاتی جزو کی مانند رہتا ہے۔ مصنف نے ان موضوعات پر کوئی فیصلہ کن رائے دینے سے احتراز برتا اور موعظہ کے بجائے کرداروں کے مکالمہ اور احوال کی صورت رکھا ہے۔ ناول میں کرداروں کی جذباتی کشمکش نہ صرف انکی رومانوی بلکہ دیگر آدرشوں اور معاشی سرگرمی کے اتار چڑھاؤ سے بھی منسلک ہے۔ یہ سب عناصر  اور ٹریجڈی ناول کو ایک اچھی پیشکش بناتے ہیں۔ارے ہاں ناول کا دیدہ زیب کور بہت اچھا لگا۔


تبصرہ میں کہانی بتانا غیر اخلاقی حرکت سمجھتا ہوں اس کیلیے خواتین و حضرات، آپ کو ناول پڑھنا چاہیے۔

Recommended Posts

Leave a Comment

Jaeza

We're not around right now. But you can send us an email and we'll get back to you, asap.

Start typing and press Enter to search