فاؤسٹ (حصہ اول: دوسرا باب)

 In ترجمہ

خوبصورت شہر روڈا میں طاعون پھیلے مشکل سے ایک ہفتہ ہوا ہو گا مگر ان چند دنوں میں زمین آسمان کا فرق ہو گیا تھا ۔ اب یہ شہر چمکدار مسکراہٹوں سے پُر نہ تھا ۔ مسرور زندگی اور یہاں کی کیفیتِ نشاط اب معدوم ہو چکی تھی ۔ اگر کوئی غنیم اس شہر کو پورے سال بھر تک گھیرے رہتا اور برابر حملے  کیے جاتا تب بھی اتنا نمایاں تباہ کن نتیجہ برآمد نہ ہوتا ۔ کیونکہ وہ دشمن جو جہاں کے باشندوں کو غارت کر رہا تھا اِنہی کے درمیان موجود تھا ، ان کی نظروں سے پوشیدہ وہ ہر وقت ان پر داؤ گھات کر تا رہتا تھا اور خاموشی سے چپکے چپکے ان کو ہلاک کر رہا تھا ۔

اس کا سانس زہریلا تھا اور وہ سینکڑوں کی تعداد میں انہیں موت کے گھاٹ اتا ر رہا تھا ۔

بازاروں اور چوراہوں میں اب لوگ جمع ہو کر خوش گپّیاں نہیں کرتے تھے ۔ اگر کوئی مجمع نظر بھی آتا تھا تو یہ ان خاموش لوگوں کا ہوتا تھا جو اپنے مردوں کو ڈھوتے تھے ۔ جو لوگ کسی ضرورت سے باہر نکلتے تھے تیز تیز قدم اٹھاتے تھے، خائف ہو کر اپنے کندھوں پر سے باربار نظریں دوڑا کر دیکھتے جاتے تھے گویا بھیانک موت سے بچ بچا کر چل رہے ہیں کہ کہیں ایسا نہ ہو جائے کہ موت ان پر جھپٹ کر اپنی انگلی ان کے لبوں پر رکھ دے۔

کلیساؤں میں دفعِ طاعون کی دعائیں مسلسل مانگی جاتی تھیں ۔ آتش دانوں میں گندھک اور کوئلے دن رات ہر بازار میں سلگتے رہتے تھے ، اس دل سوز کوشش میں کہ وبا جل جائے ۔ پادری اور واعظ گھر گھر پھرتے تھے ، یا اگر میدانوں میں کوئی مجمع نظر آتا تھا تو اس میں پہنچ جاتے تھے اور انہیں روزے رکھنے اور عبادت کرنے کی تلقین کرتے تھے ، اپنے گناہوں پر نادم اور غلط کاریوں سے تائب ہونے کو کہتے تھے کیونکہ یہ عذاب انہیں کی سزا میں نازل ہوا تھا اور کہتے تھے کہ خدا سے مانگو کہ اس عذاب کو اس شہر سے اٹھا لے ۔

مگر ساری دعائیں اور ساری قسمیں بے اثر و بے کار ثابت ہوئیں ۔ موت کا سیاہ پھول کھِلا اور کھِلکھلا کر ہنسا ۔ ہر طرف تباہی و بربادی کی حکومت تھی ۔ لوگوں کی ہمتیں ٹوٹ چکی تھیں ۔ تنہائی میں انہیں خود اپنے خیالات سے ڈر لگنے لگا تھا اور اس سے بچنے کے لیے انہوں نے پھر بازاروں میں جمع ہونا شروع کر دیا تھا تاکہ اپنے دکھ درد ایک دوسرے کو سنائیں ، اور افواہوں پر رائے زنی کریں اور ان تمام بھولی بسری دواؤں پر غور کریں جو ان کے آباؤ اجداد طاعون سے مقابلہ کرنے میں استعمال کرتے تھے ۔

جب کوئی پادری یا واعظ نظر آتا تو اس کے پیچھے پیچھے ایک بڑا مجمع ہوتا  اور جب وہ ان سے کچھ کہتا تو یہ لوگ اپنے گھٹنوں پر جھک جاتے ۔ اور اس کی صلیب کو چومنے کے لیے اس پر ٹوٹے پڑتے تھے ۔ کیونکہ موت ہر گھر میں براج (آرام کرنا)رہی تھی ۔ امیر اور غریب دونوں یکساں طور پر مر رہے تھے ۔ مضبوط اور شہ زور نوجوان اور کنواری لڑکیاں جو اپنی جوانی کی ترنگ میں تھیں ، اور کڑیل جوان جن کی نبضوں میں زندگی دھڑک رہی تھی ، وہ بھی کمزور و اپاہج لوگوں کی طرح کھڑے کھڑے گرتے اور دم دے دیتے ۔

معلوم ہوتا تھا کہ روڈا میں امید مٹ چکی ہے لیکن صرف ایک نام ایسا تھا جو سب کے لبوں پر اکثر آتا تھا اور اس طرح کہ گویا وہی ان سب کو نجات دلا سکتا تھا ۔ یہ نام تھا معلم و طبیب فاؤسٹ کا ۔

سارے شہر والے فاؤسٹ کو جانتے تھے ۔ سیاہ چغہ ، گلے اور چوڑے چوڑے کفوں میں بھورے رنگ کے سمور کا حاشیہ لگا ہوا ، چپٹی سیاہ مخمل کی عالموں جیسی ٹوپی اور لمبا گرہ در گرہ عصا ۔ یہ سب چیزیں ایسی تھیں جنہیں شہر والے خوب پہچانتے تھے ۔ بڑا نورانی اور رعب داب کا چہرہ تھا۔ اس کی فراست و خوش اخلاقی کا شہرہ تھا ۔ بڑی ساری سفید داڑھی  ناف تک پہنچتی تھی ۔ سفید سفید لٹوں کے پس منظر پر چہرہ  غایت درجہ لائقِ احترام نظر آتا تھا اور اس پر غم کی ہلکی سی جھلک دکھائی دیتی تھی ۔ اس کی آنکھوں سے غمگینی اور سنجیدگی ٹپکتی تھی لیکن ان میں ایک خاص روشنی کی چمک تھی۔ یہ روشنی اس شعلے کا پتہ دیتی تھی جو اس کے دل  میں  روشن تھا  یعنی اس کا واحد جذبۂ علم ۔ انسان کی عمر طبعی سے وہ کبھی کا گذر چکا تھا لیکن تحقیق و اکتشاف کا مادہ اس میں اب بھی اسی طرح جوان تھا جس طرح اس وقت تھا جب وہ پیدوا اور ویمر کی یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل ہو کر نکلا تھا ۔ اس کا گھر شاہراہ سے ہٹ کر تھا ۔ دروازے تک پہنچنے کے لیے پہلے بہت سی سیڑھیاں چڑھنی پڑتی تھیں ۔ یہاں اپنے نیچے والے کمرے میں وہ مطالعہ اور تجربوں میں منہمک رہتا تھا ۔ اور اس دُھن میں لگا رہتا تھا کہ فطرت کی بند مٹھی میں سے گہرے گہرے راز چھین لے ۔ علم آموزی کے شوق میں اس نے سارے یورپ کا سفر کیا تھا اور طب ، فلسفہ ، الہٰیات اور الکیمیا کے علوم سیکھے تھے ۔ ایک زمانے میں اسے علومِ  تاریک کا بھی شوق ہوا تھا ۔ سحر ، ہاتھ بانچھنا(بظاہر ناممکن کام کروانا) ، جادو، بلور بینی بھی اس نے سیکھی تھی ۔ مگر یہ اس کی جوانی کا ذکر ہے اور ان فنونِ تاریک کو وہ کبھی کا چھوڑ چکا تھا کیونکہ یہ علوم تعلیماتِ مذہب کے خلاف تھے ۔ کمرے میں ایک سرے سے دوسرے سرے تک طرح طرح کے آلاتِ تجربہ رکھے تھے ۔ شیشے کی ٹیڑھی میڑھی نلیاں ، عجیب عجیب وضع کی بوتلیں اور کشید کرنے کے بھپکے ۔ بُرنز (کانسی ) کے گیروں میں بلور کی گیندیں اور شیشے کے گولے لگے تھے ۔ دیواروں پر کچھ عجیب بے ترتیبی سے موم جاموں پر بنی تصویریں آویزاں تھیں ۔ ان میں چند علمِ تشریح کی تصویریں ، کہیں پنج گوشہ ستارے بنے تھے ۔ چند نجوم کے نقشے تھے ، ایک خاکہ کائنات کا تھا جس کے وسط میں انسان دکھایا گیا تھا ۔ یہ دو دائروں میں گھِرا ہوا تھا اور ہیئت کی شکلوں سے اِسے تقسیم کیا گیا تھا ۔

لیکن اس کمرے میں جو چیز سب سے نمایاں تھی وہ کتابیں تھیں ۔ یہ ہر جگہ الماریوں میں چنی ہوئی تھیں ۔ فرش پر ان کے بڑے بڑے ڈھیر لگے تھے اور ہر کونے میں رکھی تھیں ۔ سارا کمرہ ان سے ٹپا پڑا (اٹا پڑا)تھا ۔ ان میں ہر شکل  اور ہر ضخامت کی کتاب  تھی ۔ جلدوں کی بھی اتنی قسمیں تھیں کہ ان سے زیادہ کا تصور بھی مشکل ہے ۔ کچے چمڑے ، عمدہ رنگے ہوئے ملائم چمڑے ، لکڑی، اور سانپ کی کھال سب کی جلدیں موجود تھیں ۔ اور ایک تو ایسی تھی کہ اسے دیکھے سے ڈر لگتا تھا ، یہ جلد انسانی چمڑے کی تھی ۔ کسی قاتل کی جسے پھانسی پر لٹکایا گیا تھا ۔

یہ کتابیں گویا فاؤسٹ کے بچے تھے ۔ اس کا سارا فرصت کا وقت ان میں صرف ہوتا تھا ، اس خیال سے کہ کہیں کوئی نئی بات معلوم ہو جائے اور تشنگیِ علم سیراب ہو ۔ یا کوئی گہرا خیال مل جائے جس پر غوروخوض کرنے سے کوئی جدید بات نکل آئے ، ایسی کہ فلاح و بہبود یِ انسان کے لیے صرف  کی جا سکے ۔ کیونکہ فاؤسٹ ان بے مثل ہستیوں میں سے تھا جن کو تجسسِ علمی نے انسانیت سے خارج نہیں کر دیا تھا ۔ اس میں اب بھی عقیدہ و تقویٰ  شدت سے موجود تھا ۔ اور تجربۂ بسیط نے اس کے جذبۂ محبتِ انسانیت کو فنا نہیں کیا تھا ۔

فاؤسٹ اُس زندگی میں بہت دلچسپی لیتا تھا جو اس کے چاروں طرف تیزی سے گردش کر رہی تھی ۔ روزمرہ کے واقعات جو آئے دن اس کی  نظر سے گذرتے تھے ، ان کے مشاہدے میں اسے بہت لطف آتا تھا ۔ لوگ فاؤسٹ سے ہمیشہ مشورہ لیا کرتے تھے اور وہ ان سب کا رازدار بن گیا تھا جن سے اس کی جان پہچان تھی ۔ سب آ کر اس کے سامنے اعتراف کر لیا کرتے تھے ۔ کیونکہ وہ اس کی عقلمندی اور وسیع علمیت پر اعتماد اور بھروسہ کرتے تھے اور اس کے احترامِ انسانیت کی وجہ سے اس سے محبت کرتے تھے ۔

اپنے شہر میں یکایک جو وبا پھیلی تھی اس سے فاؤسٹ اس درجہ متاثر ہوا کہ اس نے اپنے سارے اور کام اور دلچسپ مشغلے چھوڑ دیے اور ساری توجہ اس پر مرکوز کر دی کہ اس وبا  کے بڑھتے ہوئے سیلاب کو روکے اور اس خوف کو زائل کرے جو شہر کے ہر گلی کوچے میں فتح مندی سے گشت لگا رہا تھا ۔

پورے ایک ہفتے سے فاؤسٹ دفعِ طاعون کی دوا معلوم کرنے میں منہمک تھا اور اس وقت اپنے تجربے کے اختتام پر تھا ، بھاپ ٹھنڈی ہو کر ایک شیشے کے برتن میں مقطر(بوند بوند  ٹپک) ہو رہی تھی ۔ اس کے قریب ہی ایک بڑی سی انجیل کھلی ہوئی تھی اور ایک حمد اس وقت اس کے پیش نظر تھی جسے پڑھ پڑھ کر وہ اپنی روح کو تازہ کرنا چاہتا تھا اور اس طرح تجربہ کے طویل وقفے اس کے لیے اجیرن نہ بنتے تھے ۔

اس نے اپنے دل سے کہا ۔ ’’اللہ میری مدد کرے گا کیونکہ طاعون خدا نے نازل نہیں کیا بلکہ یہ کام ابلیس لعین کا ہے‘‘۔

فاؤسٹ نے اپنی ریت گھڑی کی طرف دیکھا اور پھر بغور اس بھورے رنگ کے ابخرات (بخارات) کو دیکھا جو ٹھنڈے ہو کر قطروں کی صورت میں جمع ہوتے جا رہے تھے ۔

پھر آپ ہی آپ بولا ۔ ’’کام ختم ہوا‘‘۔

پھر بھبکے سے نلی الگ کی اور قیمتی عرق کی بلوری صراحی کو کپکپاتے ہاتھوں سے اٹھا کر روشنی کے رخ کر کے دیکھا ۔

اس کا رنگ گہرا بھورا تھا اور سورج کی روشنی جب اس میں سے گزری تو وہ کندی (دھلے ہوئے کپڑے) کی طرح دمکنے لگا ۔ گرم ہونے کی وجہ سے اب تک اس میں ننھے ننھے سے بلبلے اٹھ رہے تھے ۔

فاؤسٹ نے بہ آواز بلند کہا ۔ ’’یا اللہ ، اس کارِ نجات میں برکت دے ۔ صرف تو ہی ہماری مدد کر سکتا ہے‘‘۔ پھر بلوری صراحی کو اوپر اٹھایا۔ برابر کی الماری  میں سے کئی شیشیاں نکالیں اور ان کو اس عرق سے جو ابھی تک گرم تھا ، بھر بھر کر رکھتا گیا ۔

آخری شیشی کی ڈاٹ(ڈھکن)  لگاتے ہوئے بولا ۔ ’’اللہ تعالیٰ ہم پر رحم فرمائے اور ہمیں بچائے‘‘۔

اس وقت اس کے دروازے کی سیڑھیوں پر کسی کے جلدی جلدی چڑھنے کی آواز سنائی دی ۔ پھر گھبرا کر کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا  اور تیز اور پھولے ہوئے سانس کی آواز آئی ۔ فاؤسٹ نے آگے بڑھ کر دروازہ کھول دیا ۔ ایک زرد چہرے اور بڑی بڑی آنکھوں والی لڑکی گرتی پڑتی کمرے میں داخل ہوئی ۔ ننگے پاؤں، ہانپتی کانپتی اور دور سے بھاگ کر آنے کی وجہ سے خستہ حال ، کپڑے پھٹے پرانے تھے اور راتوں کو جاگنے کی وجہ سے آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے نمودار تھے ۔ رُخساروں پر آنسوؤں کی لڑیاں بندھی ہوئی تھیں اور اِس حالت میں وہ فاؤسٹ کی طرف چیختی چلاتی دوڑی: –

’’بچاؤ! بچاؤ!  میری ماں مر رہی ہے‘‘۔

فاؤسٹ نے پوچھا:- ’’تمہاری ماں وہی ہے نا جو چوراہے پر پھول بیچتی ہے ‘‘۔

’’ہاں ۔ ہاں ۔ وہی ہے‘‘۔

’’اور وہ بیمار کب سے ہے ؟‘‘

’’آج تیسرا دن ہے ۔ طاعون تو نہیں ہے نا اسے فاؤسٹ ؟‘‘

لڑکی نے کچھ اس التجا سے یہ بات کہی کہ گویا اس کی ماں کی قسمت کا دارومدار فاؤسٹ کے جواب پر تھا ۔

فاؤسٹ نے افسوس سے کہا ۔ ’’کون کہہ سکتا ہے ۔ بعض دفعہ طاعون میں آدمی فوراً چٹ پٹ ہو جاتا ہے ۔ لیکن ایسا بھی ہوتا ہے کہ ابلیس اپنے شکار کے ساتھ دنوں کھیلتا رہتا ہے ۔ مگر تم پریشان نہ ہو‘‘ ۔ فاؤسٹ نے لڑکی کی آنکھوں میں مایوسی کی جھلک دیکھ کر جلدی سے ڈھارس بندھانے کو کہا۔’’ میں ابھی تمہارے ساتھ چلتا ہوں ۔ یہ دیکھو اس شیشی میں ایک دوا ہے جو خدا کی ہدایت سے میں نے بنائی ہے ۔ اس کے رحم و کرم سے تمہاری ماں بچ جائے گی اور ابلیس کو شکست ہو گی ۔ آؤ میری بچی ۔ مجھے اپنے گھر کا راستہ بتاؤ‘‘۔

وہ ایک دم پیچھے ہٹی ، ایک ہاتھ تعجب سے اٹھا ہوا تھا اور پھٹی ہوئی آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی ۔ پھر ایک دم سے اس کا خوف جاتا رہا اور چہرے پر خوشی کی جھلک پیدا ہوئی ۔ لب سے لب جدا ہوئے اور اپنے آنسوؤں میں سے وہ مسکرانے لگی ۔ بے خیالی میں خودبخود آگے جھکی اور فاؤسٹ کے ہاتھوں کو چوم کر انہیں خوشی کے آنسوؤں سے تر کر دیا ۔

تیسرا باب

Recommended Posts

Leave a Comment

Jaeza

We're not around right now. But you can send us an email and we'll get back to you, asap.

Start typing and press Enter to search