ساحل: روبرتو بولانيو (مترجم: حارث ظہور گوندل)

ميں نے ہيروئن چھوڑ دی اور گھر جا کر ايک شفاخانے سے ميتھاڈون کی دوا سے علاج شروع کرديا۔ ميرے پاس رات کو سونے، روز صبح اُٹھنے، اور ٹيلی ويژن ديکھنے کے علاوہ اور کُچھ کرنے کو نہيں تھا، ليکن مُجھ سے یہ بھی نہ ہو پاتا تھا۔ کُچھ نہ کُچھ تھا جو مُجھے آنکھيں بند کر کے آرام کرنے سے روک رہا تھا۔ یہ ميرا معمول بن چُکا تھا۔ پھر مُجھ سے یہ سب برداشت نہ ہوا اور ميں نے شہر کے بيچ وبيچ واقع ايک دُکان سے سياہ رنگ کا لباسِ تيراکی خريدا، وہ پہنا، اور ساتھ توليہ اور ايک رسالہ ليے ساحل کی جانب روانہ ہو گئی۔ وہاں اپنا توليہ پانی کے قريب بچھا کر ليٹ کے میں اس کشمکش ميں پڑ گئی کہ پانی کے اندر جاؤں یا نا جاؤں۔ اندر جانے کے ليے ميرے ذہن ميں بہت سے دلائل تھے، ليکن کُچھ وجوہات ايسی بھی تھيں جو مُجھے روک کے رکھے ہوئے تھيں (مثال کے طور پر کنارے کے پاس کھيلتے ہوئے بچے)، آخرکار دير زيادہ ہو گئی اور ميں گھر چلی آئی۔ اگلی صبح ميں سورج کی حدت سے محفوظ رکھنے والی کريم خريد کے پھِر ساحل پر پہنچ گئی، اور دوپہر بارہ بجے کے قريب شفاخانے جا کر ميتھاڈون کی خوراک لی اور کُچھ لوگوں سے مِلی، جو ميرے دوست نہيں تھے، بس ميتھاڈون لينے والوں کی قطار ميں کھڑے وہ چہرے جن سے ہلکی پُھلکی واقفيت تھی، اور جو مُجھے تيراکی کا لباس پہنے ديکھ کر حيران ہوئے ليکن ميں نے ايسا محسوس کروايا جيسے یہ کوئی انوکھی بات نہيں، اور پھر دوبارہ ساحل کی طرف آ گئی۔ اس بار ميں پانی کے اندر جا کر تيرنے کی کوشش کرنے لگی، مگر ناکام رہی، اور ميری بس ہو گئی۔ اُس سے اگلے دن ميں دوبارہ ساحل کی طرف آ گئی، اور اپنے پورے جِسم پہ سورج کی حدت سے محفوظ رکھنے والی کريم لگا کے ريت پہ سو گئی، اور جب آنکھ کھُلی تو خود کو کافی تازہ دم محسوس کیا، ميری جلد بھی کسی نقصان سے محفوظ رہی۔ یہی سلسلہ ايک یا شائد دو ہفتے کے ليے چلا، مُجھے پوری طرح یاد نہيں، مُجھے بس اتنا یاد ہے کہ آئے دن ميرا جسم دھوپ سے گندمی ہوتا گيا، اور حالانکہ ميں کسی سے کوئی بات چيت نہيں کرتی تھی ليکن پھر بھی آئے دن بہتر، یا مختلف (جو دو الگ الگ حالتيں ہيں ليکن ميری صورتحال ميں ايک جيسی ہیں)، محسوس کرتی گئی۔ پھر ايک دن ايک ضعيف جوڑا ساحل پر آن پہنچا، مُجھے اچھی طرح یاد ہے، ايسے لگ رہا تھا جيسے وہ دونوں کافی عرصے سے ساتھ تھے، عورت تھوڑی بھاری یا گول مٹول تھی اور اُس کی عُمر لازماً ستر کے لگ بھگ ہوگی، اور مرد پتلا، بالکل سنگل پسلی، ايک چلتا پھرتا ڈھانچا تھا، اور شائد اسی ليے ميری نظر اُس پہ پڑی۔ عموماً ميں ساحل پر آئے لوگوں کی طرف زيادہ دھيان نہيں ديتی تھی، ليکن اُسے ميں نے غور سے ديکھا کيونکہ وہ بہت زیادہ دُبلا تھا۔ اُسے ديکھ کر ميں ڈر سی گئی، خدایا،  اور ايسے لگا جيسے وہ موت بن کر ميری جانب آ رہا ہو، ليکن ايسا کُچھ نہ تھا، وہ بس ايک ضعيف جوڑا تھا، مرد شائد پچھتر برس کا اور عورت شائد ستر برس کی یا شائد حساب اس سے اُلٹ تھا۔ عورت اچھی صحت کی حامل تھی، ليکن مرد کی تو ايسے لگ رہا تھا جيسے آخری سانسيں چل رہی ہوں، یا وہ گرمياں شائد اُس کی آخری گرمياں ہوں، اور پھر جب ميرا ابتدائی ڈر ختم ہوا، ميری نظريں اُس بوڑھے آدمی کے چہرے اور اُس کی کھوپڑی—جو بمُشکل جِلد کی ايک نازُک سی تہہ سے ڈھنپی ہوئی تھی—سے نا ہٹ سکيں، اور پھر مُجھے اُن دونوں کو چوری چوری ديکھنے کی عادت سی پڑ گئی۔ ريت پہ ليٹے، سر نيچے کیے، اور چہرہ اپنے بازوؤں ميں چھپاۓ، یا لکڑی کی راہگزر پہ چہل قدمی کرتے ہوۓ، یا ساحل کے سامنے پڑے بينچ پہ بيٹھ کر، گو ميں ايسے ظاہر کرتی جيسے ميں اپنے جسم سے ريت جھاڑ رہی ہوں۔ مجھے یاد ہے وہ بوڑھی عورت ہميشہ ساحل پہ ساتھ چھتری لے کر آتی اور فوراً اُس کے نيچے گُھس جاتی تھی، اور وہ تيراکی والے کپڑے کبھی کبھار ہی پہنتی تھی، عموماً وہ ايک گرميوں والا ڈھيلا سا لباس پہنے رکھتی جس سے وہ اور زیادہ بھاری بھرکم لگتی تھی۔ اُس کے پاس ايک موٹی سی کتاب تھی، اور وہ چھتری کے نيچے بيٹھ کر پڑھتی رہتی تھی، جبکہ اُس کا خاوند چھوٹی سی چَڈی پہنے ڈھانچے کی مانند دھوپ کے نيچے ريت پہ ليٹا ايسی حرص بھری کيفيت ميں شراب پی رہا ہوتا تھا کہ اُسے ديکھ کے مُجھے بے پرواہ، سکون اور خوشی کی حالت ميں مُنجمد نشئيوں کی یاد آتی تھی، وہ نشئ جو اپنے واحد فعل یعنی نشے ميں مگن ہوتے تھے۔ انہیں دیکھتے دیکھتے ميرے سر ميں درد شروع ہو گيا اور ميں ساحل سے روانہ ہو گئی، پيسو مارتِمو سے سمورا مچھلی کھائی اور ساتھ ايک بيئر پی، اور سگرٹ سُلگا کر بار کی کھڑکی سے ساحل کو ديکھنے لگ گئی۔ اور پھر جب میں ساحل پہ واپس گئی تو وہ بوڑھا آدمی اورعورت وہیں موجود تھے، عورت اپنی چھتری کے نیچے اور وہ آدمی دھوپ میں، اور پھر اچانک، بغیر کسی وجہ کے، ميرا رونے کو جی چاہا اور میں پانی کے اندر تیرنے چلی گئی، اور جب کنارے سے کافی دور پہنچی تو سورج کو دیکھ کر کافی عجیب محسوس کیا، اتنی بڑی چیز جو ہم سے کوئی مماثلت ہی نہیں رکھتی، اور پھر میں کنارے کی طرف تیرنے لگی (دو دفعہ ڈوبنے سے بال بال بچی)، اور جب میں کنارے پر پہنچ گئی تو اپنے تولیے کے ساتھ بیٹھ کر کافی دیر تک ہانپتی رہی، لیکن میری نگاہیں اب بھی اُس ضعیف جوڑے پر تھیں، اور پھر میں شائد ریت پر لیٹی لیٹی سو گئی، اور جب اُٹھی تو ساحل خالی ہو رہا تھا، لیکن وہ بوڑھا آدمی اور عورت ابھی تک وہیں موجود تھے، عورت اپنی چھتری کے نیچے اپنی کتاب لیے، اور آدمی اپنی پُشت سورج کی طرف کر کے آنکھیں بند کیے اپنے کھوپڑی نما چہرے پہ عجیب تاثرات کے ساتھ، جیسے وہ ہر گزرتے لمحے کومحسوس کر کے اُس سے لطف اُٹھا رہا ہو، حالانکہ دھوپ کی حدت کم تھی، اور سورج ساحل کے ساتھ کھڑی عمارتوں کے پیچھے، ٹیلوں کی دوسری طرف ڈوب چکا تھا، لیکن اس سے اُس کو کوئی فرق نہیں پڑ رہا تھا، اور پھر میں نے اُسے دیکھا، سورج کو دیکھا، اور وقتاً فوقتاً میری کمر پہ چُبھن محسوس ہو رہی تھی، جيسے شائد اُس دوپہر وہ دھوپ سے جل گئی ہو، میں نے اُنہیں دیکھا اور اُٹھ کھڑی ہوئی، اور اپنا تولیا کندھوں پہ اس طرح لٹکایا جیسا کہ وہ کوئی جادوئی پوشاک ہو، اور پھر جا کے پیسو مارتِمو کے ایک بینچ پہ بیٹھ کہ اپنی ٹانگوں سے غیرموجود ریت کو جھاڑنے لگی، اور وہاں بیٹھے مُجھے اُس جوڑے کا ایک الگ زاویہ نظر آ رہا تھا۔ میں نے اپنے آپ کو بتایا شائد وہ ابھی مرنے کے قریب نہیں، شائد وقت کا وجود میرے تصورِ وقت سے مُختلف ہے، میں وقت کے بارے میں سوچنے لگی اور سورج کی دوری کے ساتھ ساتھ عمارتوں کے سائے دراز ہوتے گئے، اور پھر میں گھر جا کے نہائی اور اپنی جلی ہوئی کمرکا جائزہ لیا، وہ کمر جو گویا میری نہیں بلکہ کسی ایسے شخص کی تھی جسے جاننے میں مُجھے کئی برس کا عرصہ درکار ہے، اور پھر میں نے ٹیلیویژن پہ، جب تلک میں اپنی کرسی پہ سو نہ گئی، ایسے پروگرام دیکھنے شروع کر دیے جن کی مُجھے کوئی سمجھ نہیں تھی۔ اگلے دن وہی پُرانا سلسلہ، یعنی ساحل، شفا خانہ، پھر ساحل، ايسا سلسلہ جو کبھی کبھار ساحل پہ نئے لوگوں کی آمد سے خلل کا شکار ہوتا رہتا تھا، نئے لوگ مثال کے طور پر وہ عورت جو ہمیشہ کھڑی رہتی تھی، جو کبھی ریت پہ نہ لیٹتی، جس نے جانگیہ اور نیلے رنگ کی قمیض پہنی ہوتی تھی، اور جو پانی میں جا کر جسم صرف گھُٹنوں تک گیلا کرتی تھی، جو بوڑھی عورت کی طرح کتاب پڑھتی رہتی لیکن وہ یہ عمل کھڑے کھڑے ہی سرانجام ديتی، اور وہ کبھی کبھار بڑے عجیب انداز میں نیچے جھُک کے پیپسی کی ایک بڑی بوتل اُٹھا کے، واپس کھڑے ہو کے پیتی، اور پھر نیچے اپنے تولیے پہ رکھ ديتی تھی۔ مُجھے نہیں معلوم وہ اپنے ساتھ توليہ کيوں لے کر آتی تھی، کيونکہ نہ تو وہ تيرتی اور نہ ہی اُس پہ ليٹتی تھی، اور کبھی کبھی مُجھے اُس سے خوف آتا تھا، وہ مُجھے بہت عجيب لگتی تھی، ليکن اکثراوقات ميں اُس کے ليے افسردہ سی ہو جاتی تھی۔ اور ميں نے ساحل پہ کُچھ اور عجيب مناظر بھی ديکھے، ساحل پہ تو ہر طرح کے معاملات ہوتے ہيں، کيونکہ شائد یہ واحد جگہ ہے جہاں ہم سب نيم برہنہ حالت ميں ہوتے ہيں، ويسے ادھرکبھی کوئی اہم واقعہ رونما نہ ہوا۔ ايک دفعہ ميں کنارے کے ساتھ چل رہی تھی اور مُجھے گُمان ہوا کہ ميں نے ريت کے ڈھير پہ گود ميں بچہ ليے اپنی طرح کی ايک سابق نشئی بيٹھی ديکھی، اور ديگر اوقات ميں نے کُچھ روسی لڑکياں ديکھیں، تين روسی لڑکياں جو شائد طوائفيں تھيں، اور ايک ہی موبائل فون پہ بات کر کہ تينوں ہنس رہی تھيں، ليکن ميں تو اکثر اُس ضعیف جوڑے کو ہی تاڑتی رہتی تھی، کسی حد تک اس ليے کيونکہ مُجھے لگتا تھا وہ آدمی کسی لمحے بھی مر سکتا تھا، اور جب ميں یہ سوچتی، یا مُجھے احساس ہوتا کہ ميں ايسا سوچ رہی ہوں تو ميرے ذہن ميں عجيب و غريب خيالات آنے لگتے، جيسے کہ اُس بوڑھے آدمی کی موت کے بعد سونامی آئے گا اور ايک بلند و بالا لہر اِس بستی کو نيست و نابود کر دے گی، یا زمين لرزنا شروع ہو جائے گی اور ايک بھيانک زلزلہ ايک ہی وار ميں اِس پورے شہر کو نِگل جائے گا، اور ميں نے جب ايسے مناظر کا تصور کيا تو اپنے سر پہ ہاتھ رکھ کہ رونے لگ پڑی، اور روتے ہوئے مُجھے خواب و خيال  میں یوں لگا کہ گویا رات کا وقت تھا، تقريباً رات تين بجے کا، اور ميں اپنے گھر سے نکل کہ ساحل کی طرف آئی، اور ساحل پہ وہ بوڑھا آدمی ليٹا ہوا تھا، اور آسماں پر ستاروں کے نزديک ليکن زمين سے دوسرے ستاروں کی نِسبت پاس ميں ہی ايک سياہ سورج چمک رہا تھا، ايک قوی ہيکل، خاموش اور سياہ سورج، اور ميں بھی ساحل پہ جا کر ريت پہ ليٹ جاتی ہوں، ساحل پہ صرف دو ہی لوگ موجود ہيں، ميں اور وہ بوڑھا آدمی، اور جب ميری آنکھ کُھلی تو احساس ہوا کہ روسی طوائفيں، وہ عورت جو ہميشہ کھڑے رہتی تھی، اور وہ چھوٹا بچہ اٹھائے سابق نشئی، سب ميری جانب تجسس بھری نگاہوں سے ديکھ رہے تھے، وہ سب شائد اِس سوچ ميں مُتبلا تھے کہ یہ جلے ہوئے کندھے اور کمر ليے کون گنوار کھڑی ہے، حتی کہ وہ بوڑھی عورت بھی اپنی چھتری کے نيچے سے، کُچھ لمحات کے ليے اپنی طویل کتاب چھوڑ کے مُجھے ديکھ رہی تھی، شائد تعجب ميں مُتبلا تھی کہ یہ نوجوان لڑکی، جِس کے چہرے پر خاموش آنسو بہہ رہے ہيں، یہ آخر کون ہے، یہ پينتيس برس کی لڑکی جِس کے پاس سوائے اپنی ہمت اور حوصلہ بازیافت کرنے کے اور کُچھ بھی نا تھا، جِسے شائد یہ معلوم تھا کہ کہيں نا کہيں اِس کے اندر اب بھی تھوڑا جيون باقی ہے۔

ماخذ: گرانٹا

Recommended Posts

Leave a Comment

Jaeza

We're not around right now. But you can send us an email and we'll get back to you, asap.

Start typing and press Enter to search