مابعد جدید صورت حال، تحریر: فرانسوئس لیوٹارڈ (ترجمہ: عاصم رضا)

جديد مغربى تہذیب بالخصوص انگريزى طرز فكر و عمل سے ہمارا تعلق کمپنی بہادر کی برصغیر آمد سے لے کر آج تک زندہ و پیوستہ، بامعنی و مؤثر ہے۔ یہ طرز فکر و عمل اپنے اندر ایک خاص منطق سموئے ہوئے ہے جو انفرادی ملکیت، سرمایہ، ٹھوس مادی فائدہ، بہترین شخصی و اجتماعی کارکردگی، پیداوار، کھپت اور منافع کی کثرت سے عبارت ہے۔ اس ولایتی منطق کا جواب ہمارے بڑوں نے دو طرح سے دیا ہے۔ ایک از راہ احیإ (revival) جو ہمارے دینی مدارس میں رائج ہے، جس میں علوم عقلی کو پس پشت ڈال کر علوم نقلی کو فوقیت دی گئی ہے۔ دوسرا از راہ اصلاح (reform) جو ہمارے سرکاری اور نجی نظام تعلیم میں رائج ہے، جس میں ہمیں اسی ولایتی منطق کا دم بھرنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ اس انگریزی طرز فکر و عمل اور اس ولایتی منطق کا تیسرا جواب خود یورپ میں سامنے آیا ہے خصوصآ ان معاشروں سے جن کی فکری، نظریاتی اور جغرافیائی سرحدیں برطانیہ سے متصادم ہیں جیسے کہ فرانس۔ جسے ژان فرانسوئس لیوٹارڈ نے اپنی تحریر میں ’مابعد جدید صورت حال‘ (postmodern      condition) کا نام دیا ہے۔ ہمارے دو جوابوں کے برعکس یہ جواب اسی انگریزی ولایتی منطق پر حملہ آور ہے جس کا ہم دم بھرتے اور بویا کاٹتے ہیں۔ عاصم رضا نے اس تحریر کے کچھ حصوں کا ترجمہ کرکے اس تیسرے جواب کو ہم تک پہچانے کی کوشش کی ہے جو لائق تحسین ہے۔  سید حسن عارف

تعارف(از مصنف)

زیرِنظر تحریر  کا موضوع  ، بیشتر اعلیٰ ترقی یافتہ ممالک میں  پائی جانے والی  علمی صورت حال ہے  جس کو بیان کرنے کے واسطے ،  میں نے ’مابعد جدید‘ کے لفظ  کو استعمال کرنے کی ٹھانی ہے۔ آج کل براعظم امریکہ کے ماہرین سماجیات اور نقادوں کے ہاں اس لفظ کا بہت چلن ہے؛ یہ لفظ ہما ری  اُس ثقافتی  حالت کی نشان دہی کرتا ہے جس نے تبدیلیوں سے گزرنے کے بعد، انیسیویں صدی کے اخیر سے سائنس ، ادب اور آرٹ (فنون ) تینوں کے لیے کھیل کے اصول و قواعد (game      rules) بدل کر رکھ دیے ہیں۔ زیرِنظر تحریر، انھی تبدیلیوں کو  بیانیوں کے بحران نامی سیاق و سباق  کے تحت معین کرے گی۔

سائنس اور بیانیوں کے مابین ہمیشہ سے ہی کشمکش موجود رہی ہے۔ سائنس کے گز (پیمانے) کے ہاتھوں بیشتر بیانیے من گھڑت کہانیاں/افسانے ثابت ہوتے ہیں۔ مگر جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ سائنس اپنے آپ کو کارآمد باقاعدگیوں  اور تلاش صداقت کے بیان تک محدود نہیں کرتی ہے ، اس کو اپنے کھیل کے قواعد کو استناد دینے پہ مجبور کیا جاتا ہے۔ تبھی سائنس اپنی حیثیت ِعرفی (سٹیٹس)کے مطابق استنادی مباحث/کلام (ڈسکورس) کو جنم دیتی ہے، جسے فلسفہ کہتے ہیں۔ میں، اس لفظ ’جدید‘ کو ہر اس علم (سائنس) کے لیے برتوں گا جو ایک قطعی مقدمہ قائم کرتے ہوئے  ، کسی مہا بیانیے کی خاطر، اپنے آپ کو اس نوع کے ایک میٹا ڈسکورس/ماقبل کلام (مباحث کے بارے میں مباحثہ یا ماقبل مباحث) سے نتھی کرتا ہے، مثلاً، نفسی جدلیات (dialectics      of      Spirit) ، تشریح ِ معانی (hermeneutics      of      meaning)، معقول یا فاعل سے بریت ، یا تخلیق ِ دولت ۔ مثال کے طور پر ، کسی بیان کے مرسل اور مخاطب کے مابین اتفاق رائے کی صداقتی قدر (truth-value) اسی وقت قابل قبول سمجھی جاتی ہے اگراُس کو   عاقل حضرات کے مابین ایک ممکنہ ایکے (اتحادِ رائے) کے تحت بیان  کیا جائے: یہ تنویریت/نروانیت کا بیانیہ ہے، جس کے تحت علم کا جھنڈا اٹھانے والا (hero      of      knowledge) ایک عمدہ اخلاقی و سیاسی منزل یعنی عالمی امن کی جانب پیش رفت کرتا ہے۔ جیسا کہ ہم اس مثال سے دیکھ سکتے ہیں کہ اگر جوازِ علم کی خاطر   فلسفۂ تاریخ پر مبنی ایک مہابیانیہ  استعمال ہوتا ہے ، تو سماجی گٹھ جوڑکا انصرام کرنے والے اداروں کے استناد سے متعلق سوالات پھوٹتے ہیں: یعنی ان کا جواز فراہم کرنا بھی لازم آتا  ہے۔ چنانچہ استناد و جواز کو بھی،  صداقت کی مانند ، مہا بیانیے کے سپرد کر دیا جاتا ہے۔

آسان الفاظ میں کہا جائے ، تو میں مابعد جدید کو مہابیانیوں کا انکار گردانتا ہوں۔ یہ انکار، بلاشبہ ، علوم (سائنسوں) میں ہونے والی ترقی/  پیش رفت  کا حاصل ہے: لیکن وہی ترقی ، بعد ازاں، اسی انکار  کو ہی   پیش قیاسی مفروضہ بنا لیتی ہے۔ جواز و استناد کے میٹا بیانی/ماقبل کلامی راچھ (یا آلے) کی معدومیت کے پیش نظر، سب سے زیادہ قابل ذکر شے،  مابعد الطبیعیاتی فلسفے اور دانش گاہ/یونی ورسٹی کے ادارے کا بحران ہے جو ماضی میں اس پہ انحصار کرتے تھے۔ بیانی تفاعل اپنے عاملین (functors) ، اپنے عظیم الشان سورما ، اپنے مہا خطرات ، اپنے غیرمعمولی اسفار  اور اپنے اعلیٰ مقاصد سے ہاتھ دھو رہا ہے۔ حکایتی لفظیات کے عناصر یعنی بیانی ، تعبیری ، مروجہ  اور  تفصیلی وغیرہ وغیرہ کے دخانوں میں بکھر رہے ہیں۔ ہر ایک دخان /سحاب کے اندر اپنی ہی نوع سے متعلق خاص قسم کی نتیجہ خیز ترکیبی قوت کارفرما ہے ۔ ہم میں سے ہر ایک ان میں سے بیشتر کے نقطۂ اتصال پہ زندگی گذارتا ہے ۔ مگر ہم پہ  مستقل لسانی گروہ بندیوں کو روا  رکھنا لازم نہیں ہے  نیز ہماری قائم کردہ گروہ بندیاں لازمی طور پہ لائق ترسیل نہیں ہوتیں ۔

چنانچہ مستقبل کا معاشرہ ، لسانی اجزاء پر مشتمل شعبۂ علم جو نتائج سے بحث کرتا ہے (pragmatics)، پہ بنیاد رکھنے یا بروئے کار لانے کے  بجائے نیوٹن کے افکار پہ مبنی  علم بشریات (جیسا کہ ساختیات یا سسٹم تھیوری) کے ایک مختصر علاقے تک محدود رہتا ہے۔ بہتیرے مختلف لسانی کھیل یعنی غیرمتجانس /ناموافق عناصر موجود ہیں ۔ وہ اداروں کو محض چیپی کی مانند ابھارتے ہیں یعنی محدود پیمانے کی جبریت ۔

تاہم، فیصلہ ساز قوتیں (یعنی افراد و ادارے، از مترجم) باہمی لین دین کے قالبی سانچوں کے تحت ایسے ہی مدنی الطبع گروہوں کا انتظام و انصرام کرنے کا جتن کرتی ہیں۔ نیز ایک ایسی منطق کو بروئے کار لاتے ہیں جو اس بات کو لازم قرار دیتی ہے کہ ان مدنی الطبع  گروہوں  کے اجزائے ترکیبی  باہم  متناسب و ہم وزن  اورمجموعہ  کلی اعتبار سے  لائق تعین ہوں۔ وہ طاقت میں بڑھوتری کی غرض سے اپنی زندگیاں کھپا دیتے ہیں۔ معاشرتی انصاف اور سائنسی صداقت دونوں طرح کے معاملات میں، یکساں طور پر، اس قوت کا جواز اسی بات پہ منحصر ہوتا ہے کہ سسٹم کی کارکردگی یعنی استعداد و لیاقت کو نکھارا جائے۔ ہمارے تمام تر(لسانی)  کھیلوں پہ اس معیار کا اطلاق کرنے کا لازمی نتیجہ ایک خاص سطح کے خوف کی صورت میں برآمد ہوتا ہے ، خواہ نرم ہو یا درشت : یعنی فعال (جیسا کہ متناسب و ہم وزن) ہوں  گے یا معدوم ۔

بلاشبہ ، زیادہ سے زیادہ کارکردگی کی منطق ، بالخصوص سماجی و معاشی دائرے میں تناقض کے اعتبار سے ، گوناگوں انداز میں بے ربط اور غیرمستقیم ہے : مذکورہ منطق ( پیداواری قیمت کو کم کرنے کے لیے) بہت ہی تھوڑے کام اور (بے کار آبادی کے سماجی بوجھ کو کم کرنے کے لیے ) نسبتاً زیادہ کام کی متقاضی ہے۔ لیکن ہمارا انکار، اب اس نوعیت کا ہے کہ ہم ایسی بے ضابطیوں سے اوپر اٹھنے کی مزید توقع نہیں کر سکتے ، جیسا کہ (کارل) مارکس کو تھی۔

مابعد جدید صورت حال ، ہنوز، فسوں شکنی (disenchantment) کے واسطے اتنی ہی زیادہ اجنبی ہے جتنا کہ یہ لاقانونیت کے اندھے اثبات سے انجان ہے ۔ میٹا بیانیوں/ماقبل کلام کے بعد، استناد کے لیے جائے قرار کہاں ہو سکتی ہے؟ فعالیت کا پیمانہ ٹیکنالوجیکل ہے؛ اس امر کا فیصلہ کرنے  کے ساتھ  ذرا سا بھی تعلق نہیں ہے کہ درست یا جائز کیا ہے ۔ کیا مذاکرے کے ذریعے حاصل ہونے والے اتفاق رائے میں استناد کو تلاش کرنا ہے جیسا کہ جرگین ہیبرماس (Jürgen      Habermas) سوچتا ہے ؟ ایسےاتفاق رائے کی بدولت لسانی کھیلوں میں موجود غیرمتجانس عناصر کے ساتھ ناانصافی ہو جاتی  ہے ۔ اور ایجاد ہمیشہ اَن بن /اختلاف کی بدولت معرضِ وجود میں آتی ہے ۔ مابعد جدید علم محض اقتدار کے ہاتھوں کا کھلونا نہیں ہے ؛ یہ اختلافات سے متعلق ہماری حساسیت کو نکھارتا ہے نیز ناقابل پیمائش کو برداشت کرنے سے متعلق ہماری صلاحیت کو کمک فراہم کرتا ہے ۔ اس کا اصول، ماہر کے ہاتھوں  میں  ساخت  اور مبداء کے مابین مطابقت و مشابہت (homology)کے بجائے موجد / مخترع کی مغالطہ آمیزی (paralogy) ہے ۔

یہاں ایک سوال ہے : کیا یہ بات قرین ِ قیاس ہے کہ سماجی گٹھ جوڑ اور ایک جائز معاشرے کا استناد، ایک متناقضے کی صورت میں، سائنسی کارگزاری سے مشابہت کا حامل ہے؟ ایسے متناقضے کی کیا صورت/ہیئت ہو گی؟

آئندہ ابواب ہنگامی نوعیت کے حامل ہیں ۔ یہ اعلیٰ ترین درجہ کے ترقی یافتہ ممالک میں پائے جانے والے علم سے متعلق ایک دستاویز (رپورٹ) ہے اور کونسل برائے یونی ورسٹیز، حکومت کویئے بیک (Quebec) کے صدر کی استدعا پہ کونسل کے سامنے پیش کی گئی تھی ۔ میں اس کی اشاعت کی اجازت دینے پر ان کی عنایت خسروانہ کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا ۔

یہ بات کہنا ابھی باقی ہے کہ دستاویزِ ہذا کا مصنف ایک فلسفی ہے ، نہ کہ ایک ماہر ۔ مؤخرالذکر (یعنی ماہر) اس امر سے واقف ہوتا ہے کہ وہ کیا جانتا ہے اور کیا نہیں جانتا ہے ؛ اول الذکر انجان  ہوتا ہے ۔ ایک نتیجہ برآمد کرتا ہے جب کہ دوسرا سوالات ، یعنی دونوں  کا تعلق   مختلف دائروں سے وابستہ  لسانی کھیلوں  کے ساتھ  ہیں ۔ میں یہاں ان دونوں کو اس نتیجے کے ساتھ باہم جوڑ تا ہوں جو کبھی کلیتاً کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوتا ۔

فلسفی کم از کم اس خیال کے ساتھ اپنی دل جوئی کر سکتا ہے کہ استناد کے خاص فلسفیانہ اور اخلاقی و سیاسی مباحث (ڈسکورس) کا صوری (فارمل) اور عملی (pragmatic)تجز یہ ، جو زیرِنظر دستاویز کی اساس ہے ، کسی نہ کسی روز عوام الناس کے روبرو ہو گا ۔ یہ دستاویز کسی حد تک سماجی جہت کے حامل زاویہ نگاہ  کی روشنی   میں ہونے والے تجزیہ کو متعارف کروانے میں مددگار ہو گی ، جو متذکرہ نقطہ نظر کی چھانٹی کرتے ہوئے اس کو قائم کرے گا ۔

منکہ مسمی اس دستاویز کو دانشگاہ ِ پیرس ہشتم (Vincennes) کے پولی ٹیکنیک انسٹی ٹیوٹ برائے فلسفہ سے منسوب کرتا ہے ۔ ٹھیک اس مابعد جدید موقع پہ ، جو شاید یونی ورسٹی کو اپنے انجام کے قریب پاتا ہے، جب کہ انسٹی ٹیوٹ شاید اپنی شروعات کرنے کو ہے ۔

٭٭٭٭٭٭٭

باب اول: موضوع  بحث -کمپیوٹر یافتہ معاشروں  میں علم

ہمارا اختیار کردہ (ورکنگ) مفروضہ یہ ہے کہ مابعد صنعتی نامی عہد میں داخل ہونے پر علم (نالج) کی حیثیتِ عرفی  بدل جاتی ہے نیز مابعد جدید نامی عہد میں داخل ہونے پر ثقافتیں تغیر سے دوچار ہو جاتی  ہیں ۔ یہ تبدیلی کم از کم 1950ء کی دہائی سے رونما ہے ، یعنی اس وقت سے جو یورپ کے پس منظر میں   تشکیل ِ جدید کے نقطہ عروج کی نشان دہی کرتا ہے ۔ مختلف ملکوں میں اس کی رفتار آہستہ یا تیز ہے ،نیز  ممالک  میں  مختلف شعبہ ہائے کار کے مطابق متفرق رہتی ہے : عمومی صورت حال ایک زمانی تفریق پر مبنی ہے جو ایک جائزے یا پڑتال کا خاکہ کھینچنے کو دشوار بنا دیتی ہے ۔ بیان کا ایک حصہ لازمی طور پہ قیاسی ہو گا ۔ اندریں حالات، ہم جانتے ہیں کہ مستقبلیت (futurology) کو انتہائی تیقن کے ساتھ اختیار کر لینا،  غیردانشمندانہ ہے ۔

یقینی طور پہ ادھوری رہنے والی تصویر کشی کے بجائے ، میں ایک نکتے کو بنیاد بناتے ہوئے بات کو آگے بڑھاؤں گا ، جو ہمارے موضوعِ  تحریر  کو فی الفور متعین کر دے گا ۔ سائنسی علم ایک نوع کی بحث و تمحیص / کلام (ڈسکورس) ہے۔ اور یہ کہنا جائز ہے کہ پچھلے چالیس برسوں میں ’’سرکردہ‘‘ علوم (سائنسوں) اور ٹیکنالوجیز کا زبان و لسان کے ساتھ گہرا سمبندھ رہا ہے : صوتیات (فونالوجی) ، لسانی نظریات ، ترسیل و ابلاغ نیز اور انسانوں ، حیوانوں اور مشینوں پہ مبنی نظام (سائبرنیٹکس) ، الجبراء اور انفارمیٹکس کے جدید نظریات ، کمپیوٹر اور ان کی مشینی زبانیں ،مسائل ترجمہ اور کمپیوٹر زبانوں کے مابین موافق دائروں کی تلاش، مسائل برائے ذخیرۂ معلومات (سٹوریج) اور ڈیٹا بینک، برقی مواصلات سے متعلق کمپیوٹر نظام (telematics) اور ذہین خودکار ٹرمینلوں کی کاملیت اور مطالعۂ متناقضات (paradoxology)۔ حقائق خود ہی اپنے آپ کو بیان کرتے ہیں (اور یہ مکمل فہرست نہیں ہے)۔

توقع کی جا سکتی ہے کہ ٹیکنالوجیکل تبدیلیوں نے علم پہ قابل ذکر اثرات چھوڑے ہیں۔ اس کی دو بنیادی کارگزاریاں یعنی تحقیق اور اکتسابی تعلیم کی ترسیل و ابلاغ ، پہلے ہی سے اثرات کو محسوس کر رہے ہیں ، یا آئندہ زمانے میں محسوس کریں گے۔ جہاں تک پہلی کارگزاری کا تعلق ہے ، جینیات (genetics) ایک ایسی مثال  پیش  کرتی ہے جس کو عام آدمی بھی سمجھ سکتا ہے : اس کا نظری منظرنامہ (پیراڈائم) ، انسانوں ، حیوانوں اور مشینوں پہ مبنی نظام (سائبرنیٹکس) کا زیربار ہے ۔ بہت سی دیگر مثالوں کا بھی ذکر ہو سکتا  ہے۔ جہاں تک دوسری کارگزاری کا تعلق ہے ، یہ ایک معروف بات ہے کہ مشینوں کے ضمن میں انتہائی چھوٹی جسامت (miniaturization) نیز ان کا بیوپار (commercialization) پہلے ہی سے اس طریقہ کار کو تبدیل کر رہا ہے جس کے تحت تعلیم  و تربیت ( لرننگ) حاصل کی جاتی ہے نیز اس کی درجہ بندی وجود میں آتی  ہے ،فراہم کی جاتی   ہے اور استعمال میں آتی  ہے۔ مناسب ہے کہ  اس امر  کو فرض کرلیا جائے  کہ انفارمیشن کو استعمال میں لانے والی (انفارمیشن پراسیسنگ ) مشینوں میں شبانہ روز ہونے والا پھیلاؤ ، تعلیم کے باب میں ہونے والی تقسیم در تقسیم پہ بہت گہرے اثرات مرتب کر رہا ہے اور کرتا رہے گا ، جیسا کہ انسانوں کی ایک جگہ سے دوسری جگہ ہونے والی ادلا بدلی (ذرائع نقل و حمل ) نیز صداؤں اور بصری صورتوں (یعنی صحافت ) کے ضمن میں ہونے والی پیش رفت  نےاثرات چھوڑے ۔

عمومی معلومات کے اس سیاق و سباق کے تحت ماہیت علم کے واسطے لازم ہے کہ وہ تغیرات سے دوچار ہو۔ اگر تعلیم  و تریبت (یا  اکتساب)  کو مقداری معلومات میں ڈھال دیا جاتا ہے ، تو وہ (ماہیت ِ علم) نت نئے ذرائع (چینلز) سے موافقت اختیار کر سکتی ہے نیز فعال ہو سکتی ہے۔ ہم اس امر کی پیش بینی کر سکتے ہیں کہ علم کی تشکیل کردہ صورت میں شامل کوئی بھی ایسی شے ، جس کو اس انداز میں ڈھالا نہیں جا سکتا ، متروک ہو جائے گی اور نئی تحقیق کی سمت کا تعین اس کے امکانی نتائج کے ہاتھوں ہو گا جنھیں کمپیوٹر کی زبان میں ڈھالنا ممکن ہے ۔  اب علم ’’پیدا کرنے والے‘‘ (پروڈیوسرز) اور اس کو استعمال میں لانے والے /صارفین پر  لازم ہے کہ کسی بھی قسم کی ایجاد یا آموزش  کو ان (کمپیوٹر) زبانوں میں  ڈھالنے اور پیش کرنے سے وابستہ وسائل و اسباب سے لیس ہوں۔ مشینی ترجمہ پہ ہونے والی تحقیق میں پہلے ہی سے بہت زیادہ پیش رفت موجود ہے۔ کمپیوٹرز کی سیادت کے ساتھ ہی ایک خاص منطق اور بنا بریں، ایک خاص قسم کا مجموعۂ ہدایات بھی منظرعام پہ آتا ہے، جو اس بات کا تعین کرتا ہے کہ کون سے قضایا کو بطور ’’علمی‘‘ بیان تسلیم کیا جائے۔

چنانچہ ، عین ممکن ہے کہ ہم ’’جان کار/ باخبر‘‘ (knower) کی رعایت سے، علمی پراسث کے دوران میں کسی بھی نقطے پہ وجود میں آنے والی علم کی تفصیلی تجسیم (exteriorization) کی امید رکھیں  ۔ قدیم اصول کہ اکتساب علم کو تربیتِ اذہان /تہذیب ِنفس (Bildung) ، یا افراد سے کاٹ کر نہیں دیکھا جا سکتا ، متروک ہو رہا ہے اوردن بہ دن پہلے سے زیادہ نظرانداز ہو جائے گا۔ علم سکھانے والوں اور صارفین علم کا، حاصل کرنے اورزیرِ استعمال آنے والے علم کے ساتھ تعلق، اب اس ہیئت /صورت کو فرض کر رہا ہے، اور دن بہ دن اس میں اضافہ ہوگا، جو کسی جنس (commodity) کے ساتھ اس جنس کے پیدا کرنے والوں اور استعمال کرنے والوں کا پہلے ہی سے موجود ہے، یعنی قدروقیمت (value) کی صورت۔ علم  بطور جنس (یعنی خریدوفروخت کے لیے) پیدا ہوتا ہے اور ہوتا رہے  گا۔  نیز اس کو کسی  نئی  مصنوعہ شے کی قیمت معین کرنے کے لیے خرچ  کیا جاتا ہے اور کیا جائے گا : دونوں صورتوں  کے اندر مطلوبہ شے  تبادلہ (exchange) ہے ۔ علم بذات خود مقصود  بن کے رہ جاتا ہے نیز  اپنی ’’افادی قدروقیمت‘‘ کھو دیتا ہے ۔

بڑے پیمانے پہ تسلیم کردہ ہے کہ پچھلی چند دہائیوں کے اندر علم دراصل پیداواری قوت کا ایک اصول بن چکا ہے؛ اس امر نے بیشتر اعلیٰ ترقی یافتہ ممالک  میں  افرادی قوت کی تشکیل پہ پہلے ہی سے قابل ذکر اثرات چھوڑے ہیں نیز ترقی پذیر ممالک کے واسطے گل گھوٹو (bottleneck) کا باعث ہے۔ مابعد صنعتی اور مابعد جدید عہد میں، بلاشبہ ،سائنس نے قومی ریاستوں کی پیداواری صلاحیتوں کے سازوسامان کے ضمن میں اپنی برتری کو برقرا ر رکھا ہے  اور رکھے گی ۔ بلاشبہ ، یہی صورت حال اس نتیجے  تک پہنچانے والی  وجوہات میں سے ایک ہے کہ مستقبل میں ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے مابین حائل  خلیج،  پہلے سے کہیں زیادہ گہری ہو جائے گی ۔

مگر ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ مسئلے کی ایک جہت دوسری پہ حاوی ہو جائے ، جو کہ پہلی سے یکسر الٹ ہے (یعنی دونوں جہات ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں ، از مترجم) ۔ ایک معلوماتی جنس (انفارمیشنل جنس) کی صورت میں علم (نالج) کو پیداواری قوت سے الگ کرنا، پہلے ہی سے ، طاقت کے حصول کے واسطے دنیا بھر میں ایک بڑی ، غالباًسب سے بڑی بازی ہے ، اور آئندہ بھی ایسا ہی رہے گا ۔ قرین قیاس ہے کہ ایک دن قومی ریاستیں معلومات پہ اجارہ داری کی خاطرایک دوسرے کے ساتھ الجھ جائیں  ، جیسا کہ ماضی میں عملداری (territory) اور بعد ازاں خام مال و سستی بیگار پہ رسائی اور استحصال کے پیش نظر صف آرا ہوئی تھیں ۔ ایک جانب ، صنعتی اور کاروباری (کمرشل) جب کہ  دوسری جانب سیاسی اور فوجی حکمت عملیوں حکمت کے واسطے نئے در وا ہوں ۔

تاہم ، پچھلی سطور میں بیان کردہ تناظر اس قدر آسان نہیں ہے جیسا کہ میں نے دکھایا ہے ۔ کیونکہ لازم ہے کہ علم کی خریدوفروخت ، تعلیم کی پیداوار اور تقسیم کے باب میں ، قومی ریاستوں کےاس استحقاق کو متاثر کرے جس سے انھوں نے فائدہ اٹھایا ہے اور ہنوز اٹھاتی ہیں۔ یہ تصور کہ تعلیم ریاستی یعنی اجتماعی شعور یا ذہن کے دائرہ کار میں آتی ہے ، ایک مخالف اصول کی شبانہ روز بڑھتی ہوئی طاقت کے ساتھ نسبتاً زیادہ دقیانوسی و متروک ہو جائے گا ۔ اس مخالف اصول کے مطابق معاشرہ اسی صورت میں موجود رہتا ہے اور ترقی کرتا ہے جب تک اس کے اندر متحرک پیغامات معلومات افزا ہوں نیز ان کی رمز کشائی آسان ہو۔ ترسیلاتی ’’شفافیت‘‘ کا نظریہ جو علم بطور بیوپار (commercialization      of      knowledge)  کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کے چلتا ہے، ریاست کو ابہام اور ’’ملاوٹ‘‘ کے ایک عنصر کی حیثیت سے فرض کرنا شروع کر دے گا ۔ یہی وہ زاویہ  نگاہ ہے جو اس اندیشے کو ہوا دیتا ہے کہ  معاشی اور ریاستی قوتوں کے مابین تعلق کا مسئلہ  ایک نئی معنویت کے ساتھ نمودار ہو جائے ۔

پچھلی چند ایک دہائیوں میں معاشی قوتیں ،  پہلے ہی سے ، سرمائے کی گردش  سے وابستہ  نئی صورتوں کے ذریعے ریاستی استحکام کو خطرے میں ڈالنے کی نوبت پہ پہنچ چکی ہیں ۔ ان نئی ہیئتوں کو ملٹی نیشنل کارپوریشن  (بین الاقوامی تنظیم )کے عمومی نام سے پکارا جاتا ہے ۔ اور متذکرہ  نئی ہیئتوں  کی صلاح  ہے کہ سرمایہ کاری سے متعلق فیصلوں کا کم از کم جزوی حصہ قومی ریاستوں کی اجارہ داری سے باہر نکل چکا ہے ۔ کمپیوٹر ٹیکنالوجی اور برقی مواصلات سے متعلق کمپیوٹر نظام (telematics) کے وجود میں آنے سے مذکورہ سوال پہلے سے بھی کہیں زیادہ پُرخار ہونے کا خطرہ رکھتا ہے ۔ مثال کے طور پہ ، فرض کیجیے کہ آئی بی ایم جیسی ایک فرم کو اجازت دی جاتی ہے کہ وہ کرۂ ارض کے مدار میں واقع ایک پٹی کو استعمال میں لائے نیز مواصلاتی سیٹلائٹس یا ڈیٹا بینک سے لیس سیٹلائٹس کو خلا میں بھیجے  ۔ کس کو ان تک رسائی حاصل ہو گی؟کون اس امر کا تعین کرے گا کہ کون سے چینلز یا ڈیٹا ممنوع ہے ؟ ریاست؟ یا  دیگر صارفین کی مانند، ریاست بھی  محض ایک صارف  ہو گی ؟ نئے قانونی مسائل جنم لیں گے اور ان کے ساتھ ہی یہ سوال بھی ابھرے گا کہ ’’کون علم حاصل کرے گا؟‘‘

اس وقت ، ماہیتِ علم میں ہونے والی تبدیلی کے بالواسطہ اثرات موجودہ عوامی قوتوں پہ مرتب ہو سکتے ہیں نیز سول سوسائٹی کے ساتھ بڑی کارپوریشنز اور بالعموم سول سوسائٹی کے ساتھ اپنے (قانونی اور حقیقی دونوں قسم کے) تعلقات پہ نظرثانی کرنے پہ مجبور کر سکتے تھے۔ عالمی مارکیٹ کا دوبارہ سے کھلنا، ایک زوردار معاشی مسابقت کی جانب واپسی، امریکہ  میں سرمایہ داریت (کیپیٹل ازم) کے غلبے کا انہدام، اشتراکی /سوشلسٹ متبادل کا زوال، چینی مارکیٹ کا ممکنہ افتتاح، یہ سب اور بہت سے دوسرے عناصر پہلے ہی، 1970ء کی دہائی کے اخیر سے ریاستوں کواس کردار پہ سنجیدہ نظرثانی کرنے کے واسطے آمادہ  کر رہے ہیں جو وہ 1930ء کی دہائی سے ادا کرنے کی عادی ہو چکی ہیں : یعنی سرمایہ کاری کے واسطے رہنمائی یا ہدایات ۔ اس امر کی روشنی میں دیکھا جائے تو نئی ٹیکنالوجیز اس قسم کے  نت نئے تجزیوں  کی اہمیت و افادیت میں محض اضافہ کر سکتی ہیں ، کیونکہ وہ فیصلہ سازی (اور پھر اجارہ داری کے واسطے استعمال ہونے والے ذرائع و وسائل ) میں بروئے کار آنے والی معلومات کو نسبتاً زیادہ سیال بناتی ہیں نیز چوری (پائیریسی) کے واسطے مہیا کر دیتی ہیں ۔

اس امر کو تخیل کی گرفت میں لینا زیادہ دشوار نہیں ہے کہ تعلیم بھی اپنی ’’علمی‘‘ قدروقیمت یا سیاسی (انتظامی ، سفارتی ، فوجی) اہمیت کے بجائے ، سرمائے سے مشابہ خطوط پہ محو حرکت ہے ؛ علم اور جہالت کے مابین درست امتیاز روا نہیں رہے گا، بلکہ سرمائے کی مانند ’’علم بطور معاوضہ‘‘ (payment      knowledge) اور ’’علم بطور راس المال‘‘ (investment      knowledge) کے مابین حد فاصل کھنچے گی ۔ بالفاظِ دگر ، روزانہ کی دیکھ بھال پہ مبنی فریم ورک (افرادی قوت کی تشکیل ِ نو اور ’’بقا‘‘) کے تحت ادلا بدلی سے گزرنے والی علمی اکائیوں اور کسی منصوبے (پراجیکٹ) کی کارکردگی (پرفارمنس) کو نکھارنے کے واسطے مختص علمی سرمائے کے مابین ۔

اگر ایسی ہی بات تھی ، تو مواصلاتی شفافیت کا حال لبرل ازم جیسا ہو گا ۔ لبرل ازم کسی تنظیم (آرگنائزیشن) کو سرمائے کی ایسی گردش سے نہیں روکتا ہے جس میں بعض ذرائع (چینلز) فیصلہ سازی میں استعمال ہوتے ہیں جب کہ دیگر صرف قرضوں کی ادائیگی کے واسطے  بہتر  ہوتے ہیں۔ بعینہ، کوئی شخص، ایک جیسی ماہیت کے یکساں ذرائع کے تحت حرکتِ علم کو بھی فرض کر سکتا تھا ، جن میں سے بعض کو ’’فیصلہ سازوں‘‘ کے لیے مختص کیا جائے گا ، جب کہ دیگر کو سماجی بندھن کے اعتبار سے ہر ایک شخص کے دائمی ادھار کی ادائیگی کے واسطے استعمال کیا جائے گا ۔

٭٭٭٭٭٭٭

باب دوم: مسئلہ استناد  

یہی اختیار کردہ/زیرِاستعمال(ورکنگ) مفروضہ اس دائرے کا تعین کرتا ہے جس کے تحت، میں علم کی حیثیتِ عرفی کے سوال پہ سوچ بچار کرنے کا متمنی ہوں۔ ’’معاشرے کی کمپیوٹر کاری‘‘ / (معاشرے میں کمپیوٹر کا بڑھتا ہوا چلن)( computerization      of      society ) کے عنوان سے معروف یہ منظرنامہ ، اصلی/ اوریجنل یا درست ہونے کا دعوے دار نہیں ہے۔ کسی اختیار کردہ /زیراستعمال مفروضہ سےایک ہی چیز درکار ہوتی ہے کہ وہ امتیاز قائم کرنے کے واسطے عمدہ صلاحیت کا حامل ہو ۔ بیشتر اعلیٰ ترقی یافتہ معاشروں کے ہاں  موجود کمپیوٹر کاری کا منظرنامہ، ہمیں علمی تبدیلیوں کے خاص پہلوؤں نیز عوامی طاقت اور سول اداروں پہ ان کے اثرات کو مرکز ِنگاہ بنانے کی اجازت دیتا ہے (اگرچہ ضرورت سے زیادہ بڑھا چڑھا کے دکھانے کا اندیشہ بھی رہتا ہے) ۔ وہ اثرات جنھیں دوسرے نقطہ ہائے نگاہ کے ذریعے حیطۂ ادراک میں لانا دشوار ہو گا ۔ چنانچہ ہمارے مفروضے کو ، حقیقت کے رخ پہ ، شماریاتی اعتبار سے مستقبل بینی کی قدر سے ہم آہنگ ہونے کے بجائے ، اٹھائے گئے سوال کی نسبت سے حکمت عملی پہ مبنی قدر کا حامل ہونا چاہیے ۔

بایں ہمہ ، یہ (مفروضہ) نہایت اعتبار کے لائق ہے اور اسی مفہوم کے تحت اس مفروضے سے متعلق ہمارا انتخاب اضطراری نہیں ہے ۔ ماہرین نے اس کو نہایت شرح و بسط کے ساتھ بیان کیا ہوا ہے نیز ایسی حکومتی ایجنسیوں او ر نجی فرموں کی بدولت ہونے والے مخصوص فیصلوں کے باب میں پہلے ہی سے رہنمائی کر رہا ہے ، جو ٹیلی مواصلات /فاصلاتی مواصلات /ٹیلی کمیونیکیشن کی صنعت کا انتظام و انصرام کرتے ہیں اور اس مفروضے سے براہ راست تعلق رکھتے ہیں ۔ لہٰذا کسی حد تک ، یہ مفروضہ پہلے ہی سے مشاہدے میں آنے والی حقیقت کا ایک جزو ہے ۔ آخرکار، (مثال کے طور پر ، کرۂ ارض کے توانائی سے متعلق مسائل کے حل کے باب میں متواتر ناکامی کے نتیجے میں) معاشی جمود یا ایک عمومی معاشی بحرا ن کو ایک طرف رکھتے ہوئے ، اس امر کی خاصی گنجائش  موجود ہے کہ متذکرہ منظرنامہ وقوع پذیر ہو : اس امر کو ملاحظہ کرنا دشوار ہے کہ معاصر ٹیکنالوجی ، معاشرے کی کمپیوٹر کاری کے متبادل کی حیثیت سے کون سی دوسری سمت اختیار کر سکتی تھی ۔

یہ کہہ دینا کافی ہے کہ متذکرہ مفروضہ معمول کی بات/بدیہی (banal) ہے ۔مگر صرف اس حد تک کہ یہ سائنس و ٹیکنالوجی میں ہونے والی ترقی کے عمومی پیراڈائم کو چنوتی دینے میں ناکام رہتا ہے ۔دکھائی دیتا ہے کہ اسی عمومی پیراڈائم کے تحت ، معاشی بڑھوتری اورسماجی و سیاسی طاقت میں توسیع ایک دوسرے کے قدرتی (نیچرل) معاون ہیں ۔ سائنسی و تکنیکی علم (نالج) حاصل مجموعہ ہوتا ہے ، اس نکتے پہ کبھی سوال نہیں اٹھایا جاتا ہے۔ (بلکہ ) ، زیادہ سے زیادہ، حاصل مجموعہ کی ہیئت پہ بحث ہوتی ہے ۔ بعض اس ہیئت کو باقاعدہ (ریگولر) ، متسلسل اور کلی اتفاق رائے پہ مبنی سمجھتے ہیں ، جب کہ دوسرے لوگ اس کو میعادی (periodic) ، منفصل اور متنازعہ گردانتے ہیں ۔

مگر ایسی مسلمہ حقیقتیں مغالطہ آمیز ہیں ۔ پہلی بات یہ ہے کہ سائنسی علم، کلیت کا ترجمان نہیں ہے ؛ اس کے اور دیگر انواع علم کے مابین ہمیشہ سے معاونت ، مسابقت اور تصادم کا معاملہ رہا ہے ، جس کو میں، آسانی/ سہولت کے پیش نظر، بیانیہ کہوں گا (اس کے خصائص کو بعد میں بیان کیا جائے گا)۔ میں یہ کہنے کا متمنی نہیں ہوں کہ بیانیے میں ڈھلنے والا علم (narrative      knowledge ) ، سائنس پہ حاوی ہو سکتا ہے ، مگر اس کے ماڈل (نمونے) کا تعلق داخلی توازن اور تازہ کاری (conviviality) کے تصورات کے ساتھ ہے۔ نتیجتاً معاصر سائنسی علم دیگر انواع سے غیرموافق محسوس ہوتا ہے بالخصوص جب وہ ’’جان کار/باخبر‘‘ کی نسبت سے عمل تجسیم سے گزرتا ہے نیز صارف و علم کے مابین ، ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ احساس بیگانگی سے دوچار ہوتا ہے۔ اس کے نتیجے میں محققین اور اساتذہ کے ہاں پیدا ہونے والی اخلاقی پستی کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا ہے؛ معروف بات ہے کہ کم و بیش سارے ہی اعلیٰ ترقی یافتہ معاشروں میں ، 1960ء کی دہائی کے اندر ، ایسے تمام شعبوں سے وابستہ افراد یعنی طلباء میں یہ چیز (اخلاقی پستی) بہت بڑے پیمانے پہ سرایت کر چکی تھی ۔ معملات (لیبارٹریز) کے حاصلات /پیداوار میں قابل ذکر کمی واقع ہوئی تھی نیز دانشگاہیں/یونی ورسٹیاں اپنے آپ کو اس متعدی مرض سے بچانے میں ناکام رہی تھیں ۔اس امر کو کسی قسم کی امید یا خوف کے ساتھ انقلاب کے ساتھ نتھی کر لینے (جیسا کہ اس زمانے میں ہوتا تھا) کا تو کوئی سوال ہی نہیں بنتا : مابعد صنعتی معاشرے کے اندر یہ چیز (یعنی انقلاب اشیاء کی ترتیب و تنظیم کو) راتوں رات تبدیل نہیں کرے گا۔ مگر سائنس دانوں کے اٹھائے ہوئے اس شبہ کو ایک اہم عنصر کی حیثیت سے ضرور شامل بحث کرنا چاہیے جب حال و مستقبل میں سائنسی علم کی حیثیتِ عرفی (سٹیٹس) کی جانچ پڑتال مطلوب ہو ۔

دوسرا نکتہ جس کو زیرِبحث لانا نسبتاً زیادہ ناگزیر ہے، وہ یہ ہے کہ سائنس دانوں میں پائی جانے والی اخلاقی پستی ، استناد کے مرکزی مسئلے پہ اثرات چھوڑتی ہے ۔معاصر جرمن نظریہ سازوں کے مباحث میں مقتدرہ (authority) کے سوال کے مقابلے میں ، راقم السطور  اس لفظ کو وسیع تر مفہوم میں استعمال کرتا ہے ۔ مثال کے طور پہ کسی بھی دیوانی قانون(سول لاء) کو لے لیجیے : اس کے بقول ، شہریوں کی ایک مقررہ تعداد کو  ایک خاص قسم کے عمل کی پابندی کرنا لازمی ہے ۔ استناد (legitimation) وہ پراسث ہے جس کے ذریعے قانون ساز کو اختیارحاصل ہے کہ وہ اس قبیل کے کسی قانون کو بطور رسم (norm) نافذ کرے ۔ اب ایک سائنسی قضیے /بیان کی مثال لیجیے : وہ اس قاعدے سے متصف ہے کہ کسی بیان /قضیے کو سائنسی تسلیم کرنے کے واسطے لازم ہے کہ وہ فراہم کردہ شرائط پہ پورا اترے ۔ اس صورت میں ، استناد  سے مراد  وہ پراسث ہے جس کی بدولت سائنسی مباحث (ڈسکورس) سے معاملہ کرنے والا ایک ’’قانون ساز‘‘ اس بات کا مجاز ہے کہ وہ بیان کردہ شرائط (بالعموم داخلی استحکام اور تجرباتی تصدیق و توثیق سے متعلقہ شرائط) کو مقرر کرتے ہوئے اس بات کا تعین کرے کہ آیا کسی بیان /قضیے کو سائنسی کمیونٹی /ماہرین کی جماعت کے زیرِغور مبحث (ڈسکورس) میں شامل کیا جا سکتا ہے یا نہیں ۔

متوازی الامر شاید جبری دکھائی دے ۔ مگر ایسا نہیں ہے ، جیسا کہ ہم دیکھیں گے ۔افلاطون کے زمانے سے استنادِ سائنس کا سوال اور قانون ساز کو حاصل استناد ایک دوسرے سے باہم پیوست رہے ہیں ۔ اس نقطۂ نگاہ کے مطابق ، کسی شے کے درست ہونے کا فیصلہ کرنے کا حق ، کسی شے کے جواز سے متعلق فیصلے کے حق سے جدانہیں ہے ، خواہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے دو مختلف عہدے دار وں کو یہ ذمہ داری سونپی جائے ۔ نکتے کی بات یہ ہے کہ سائنس اور اخلاقیات و سیاسیات نامی انواعِ لسان کے مابین ایک مضبوط/قوی باہمی رابطہ موجود ہے : دونوں ہی یکساں تناظر سے پھوٹتے ہیں ، ایک جیسے ’’انتخاب‘‘ (choice) سے، جس کو مغرب (Occident) کہا جاتا ہے ۔

جب ہم سائنسی علم کی موجودہ حیثیت ِ عرفی (سٹیٹس) کا جائزہ لیتے ہیں ۔ ایک ایسے وقت میں جب سائنس، ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ، برتر قوتوں کی کامل ماتحت /غلام دکھائی دیتی ہے نیز نئی ٹیکنالوجیز کے ہمراہ باہمی مناقشات کے باب میں ایک اہم چال   کے چنگل میں پھنسنے کے خطرے سے دوچار ہے ۔ تو دہرے استناد کے سوال  کے واسطے لازمی امر ہے کہ وہ  پس پردہ جانے کے بجائے منظرِعام پہ آئے۔ کیونکہ یہ اپنی سب سے مکمل صورت یعنی اس امر کی بازیافت کو لوٹ جاتا ہے کہ علم (نالج) اور طاقت (پاور) ایک ہی سوال کے دو رخ ہیں : کون اس بات کا فیصلہ کرتا ہے کہ علم (نالج) کیا ہے ، اور کون اس امر سے باخبر ہے کہ کس شے کا فیصلہ کرنے کی حاجت ہے؟ کمپیوٹر عہد میں، سیادت و حکومت کے سوال کے مقابلے میں، علم کا سوال زیادہ اہمیت کا حامل ہے ۔

٭٭٭٭٭٭٭

باب سوم: لسانی کھیل بطور منہاج/میتھڈ

قاری اب تک اس بات کا اندازہ لگا چکا ہو گا کہ پیش کردہ فریم ورک کے تحت مسئلہ ہذا کا تجزیہ کرتے ہوئے، میں نے ایک خاص طریقہ کاریعنی لسانی حقائق اور بالخصوص ان کی نتیجہ خیز جہت (pragmatic      aspect) پہ اصرار کو ترجیح دی ہے۔ تاہم، اس کے نتائج کی توضیح کے پیش نظر، اس امر کا مختصر خلاصہ مفید ہو گا کہ یہاں، ’’نتیجہ خیز‘‘ (pragmatic) کے لفظ سے کیا مراد ہے ۔

کسی مذاکرے  یا انٹرویو کے سیاق و سباق میں ’’فلاں دانشگاہ بری ہے‘‘ (the      university      is      sick) جیسے تعبیری کلمات اپنے متکلم (وہ شخص جو اظہار کرتا ہے)، مخاطب (جس سے بات ہوتی ہے)، اور اپنے زیرِ حوالہ شے (جس کے بارے میں بات ہوتی ہے) کو ایک خاص انداز میں پیش کرتے ہیں : اظہار رائے ، متکلم کو ’’جان کار/باخبر‘‘ کی حیثیت دیتا ہے (یعنی وہ شخص جو یونی ورسٹی سے متعلقہ صورت حال کو جانتا ہے)، مخاطب کو وہ حیثیت دیتا ہے کہ وہ ردوقبول کرے، اور زیرِحوالہ شے فی نفسہ مخصوص تعبیرات کےتوسط سے زیرِبحث آتی ہے ، یعنی ایک ایسی شے جو خود کو حوالہ/موضوع بنانے والے بیان /قضیےکے ہاتھوں درست نشان دہی یا اظہار کی محتاج ہے ۔

اگر ہم ، کانووکیشن /سالانہ جلسہ تقسیم اسناد پہ ڈین یا ریکٹر کی جانب سے کہے جانے والے بیان کہ ’’دانشگاہ کھلی ہے‘‘ (the      university      is      open) کو سامنے رکھتے ہیں ، تو یہ بات واضح ہے کہ اس فقرے پہ محولہ بالا تصریح کا اطلاق نہیں ہو سکتا ۔ یقیناً، اس کلمے کی تفہیم درکار ہے ، مگر یہ ابلاغ کی ایک عمومی شرط ہے اور مختلف النوع کلمات یا ان کے مخصوص اثرات کے مابین امتیاز کرنے کے حوالے سے ہمیں کچھ مدد فراہم نہیں کرتی۔ ’’عمل کو ظاہر کرنے والے‘‘ (performative) یعنی اس دوسری قسم کے کلمات کا امتیازی وصف یہ ہوتا ہے کہ زیرِحوالہ شے پہ ان کے اثرات اور منھ سے ان کلمات کی ادائیگی (enunciation) کے مابین مطابقت ہوتی ہے ۔ دانشگاہ کھلی ہے ، کیونکہ محولہ بالا صورت حال کے اندر اس کے کھلنے کا اعلان کر دیا گیا ہے ۔ یہ شے ، مخاطب کے درجہ میں ، کسی قسم کی بحث یا تصدیق کی محتاج نہیں ہے ، جس کو کلمے کی ادائیگی کے فوری بعد ایک نئے سیاق و سباق میں جگہ مل جاتی ہے ۔ جہاں تک متکلم کا تعلق ہے ، اس کے لیے لازم ہے کہ وہ ایسا بیان دینے کا مجاز ہو ۔ درحقیقت ، ہم اسی بات کو دوسرے طریقے سے بھی کہہ سکتے تھے : متکلم ڈین یا ریکٹر ہے یعنی وہ اس قسم کا بیان جاری کرنے کا مجاز ہے ۔ صرف اس حد تک کہ وہ زیرِ حوالہ (دانشگاہ) اور مخاطب (دانشگاہ کا عملہ) دونوں کو براہ راست اسی انداز میں متاثر کرتا ہے ، جیسا کہ میں نے اشارہ کیا ہے ۔

ایک دوسری مثال اس قسم کے کلمات پہ مشتمل ہے یعنی ’’دانشگاہ کو رقم دیجیے‘‘ ؛ یہ کلمہ امر ہے (حکم نامہ ہے)۔ ایسے کلمات میں احکامات، ہدایات ، تجاویز ، درخواستیں ، دعائیں اور اقرار وغیرہ شامل ہو سکتے ہیں ۔ یہاں ، متکلم کو واضح طور پہ ، وسیع تر معنوں میں ، صاحب اختیار کی حیثیت دی جاتی ہے ( رحم دل ہونے کے دعوے دار ایک دیوتا پہ گناہ گار کے اختیار سمیت): یعنی وہ مخاطب سے توقع رکھتا ہے کہ وہ فلاں فلاں عمل   سرانجام دے۔ کلمۂ امر کی نتیجہ خیزی ( pragmatics) اپنے اندر مخاطب اور زیرِحوالہ شے (موضوع) کے مقامات میں تبدیلی کو لازم و ملزوم قرار دیتی ہے ۔

کسی سوال ، وعدے ، ادبی تشریح ، اور بیان وغیرہ کی کارگزاری / استعداد کا تعلق دوبارہ سے ایک مختلف سطح کے ساتھ ہے ۔ میں تلخیص کر رہا ہوں۔ وٹگنسٹائن ، مطالعہ لسان کو بنیادوں سے دیکھتے ہوئے ، مباحث (ڈسکورس) کے مختلف اسالیب (modes) کے اثرات پہ اپنی توجہ مرکوز کرتا ہے ؛ اپنی تحقیق کے دوران میں وہ منھ سے ادا ہونے والے مختلف انواع کے کلمات کی نشان دہی ’’لسانی کھیلوں‘‘ (language      games) کے عنوان سے کرتا ہے (میں نے ان میں سے چند ایک کا ذکر کیا ہے)۔ اس  اصطلاح سے اس کی مراد یہ ہے کہ مختلف ا نواع کے کلمات میں سے ہر ایک کی تعریف اس طور سے کی جا سکتی ہے کہ ان کے خصائص کا تعین کرتے ہوئے اصول و قواعد مقرر کیے جائیں نیز ان کے استعمالات کو بیان کیا جائے ۔ اور یہ کام ٹھیک اسی انداز میں ہو سکتا ہے جیسے شطرنج کے کھیل کی تعریف یوں  ہوتی  ہے کہ ہر ایک مہرے کے خصائص کا تعین کرتے ہوئے اصول و قواعد مقرر کیے جائیں یعنی بالفاظ ِ دگر، شطرنج کی چالوں کا طریقہ کار متعین کیا جائے ۔

لسانی کھیلوں کے بارے میں درج ذیل تین مشاہدات کا ذکر کرنا کارگر ہے ۔ اول یہ ہے کہ ان کے اصول و قواعد خود اپنے استناد کے حامل نہیں ہوتے ۔ مگر وہ کھلاڑیوں کے مابین ہونے والے معاہدے کے اجزاء ہیں خواہ وہ معاہدہ سرِعام ہو یا نہ ہو ۔ (یہ اس بات کے مترادف نہیں ہے کہ کھلاڑی اصول و قواعد کو ایجاد کرتے ہیں)۔ دوم یہ ہے کہ اصول و قواعد کے موجود نہ ہونے کی صورت میں کھیل کا کوئی وجود نہیں ہے۔ یہاں تک کہ کسی ایک قاعدے میں انتہائی چھوٹی سی تبدیلی، کھیل کی نوعیت (نیچر) کو بدل کے رکھ دیتی ہے۔ یعنی ایک ’’چال‘‘ یا کلمہ جو قواعد پہ پورا نہیں اترتا ہے ، وہ ان کے ہاتھوں وضع ہونے والی کھیل سے کوئی ناطہ نہیں رکھتا۔ تیسرا تبصرہ /مشاہدہ پچھلی بات پر ہی مبنی ہے: ہر ایک کلمے کو ’’کھیل‘‘ کے اندر ایک ’’چال‘‘ کے برابر سمجھنا چاہیے۔

یہ آخری مشاہدہ ہمارےمجموعی منہاج /میتھڈ کے پس پردہ اولین اصول کی جانب لے جاتا ہے : کھیلنے کے مفہوم میں ، بات کرنے سے مراد گتھم گتھا ہونا ہے اور افعال ِ گفتگو (speech      acts) کا تعلق ایک عمومی فن ِ حرب (agonistics) کے دائرے کے ساتھ ہے۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ نہیں ہے کہ ایک کھلاڑی صرف جیتنے کے لیے کھیلتا ہے۔ کوئی چال (صرف) لذتِ ایجاد کے واسطے بھی کھیلی جا سکتی ہے : مقبول عام گفتگو اور ادب کے ہاں زبان دانی کی مشقت اس (لذتِ ایجاد) کے سوا اور کیا ہے؟ حقیقی لسانی کارگزاری (parole) کی سطح پہ کلمات، الفاظ اور معانی، اور لسانی ارتقاء کے پس پردہ پراسث/عمل کے اندر عظیم الشان سامانِ لذت ہی موجود ہے۔ لیکن، بلاشبہ، اس لذت کا انحصار بھی کسی مخالف کے بالمقابل ہونے والے احساسِ کامیابی پر ہوتا ہے۔ کم از کم ایک مخالف اور وہ بھی ہیبت ناک: یعنی ایک مسلمہ زبان یا اشارتی مفہوم۔

لسان بطور فنِ حرب کے اس تصور کی بدولت ہمیں دوسرے اصول سے نگاہ نہیں چرانی چاہیے ، جو پہلے اصول کو درجۂ تکمیل تک پہنچاتا ہے اور ہمارے تجزیے کا  انتظام و انصرام کرتا ہے : یعنی قابل مشاہدہ سماجی بندھن لسانی ’’چالوں‘‘ پہ مشتمل ہے۔ اس قضیے کی توضیح ہمیں زیرِنظر معاملے کے عین مرکز تک لے جائے گی۔

Recommended Posts

Leave a Comment

Jaeza

We're not around right now. But you can send us an email and we'll get back to you, asap.

Start typing and press Enter to search

RobertoBolano