کُو کلکس کلین سے نسل پرستی پہ بات کرنے کی جرات: کونر فریڈرزڈوف (ترجمہ: کبیر علی)

 (کُو کلکس کلین یا KKK متشدد  سفید فام امریکیوں کی ایک تنظیم ہے جو کیتھولکس، یہودیوں اور بالخصوص سیاہ فام  افریقیوں سے نفرت کرتی ہے۔ یہ تنظیم تشدد اور خونریزی پر  یقین رکھتی ہے اور  ڈیڑھ سو سال سے زیادہ عرصے سے قائم ہے، اگرچہ اب اس کا زور کافی حد تک ٹوٹ گیا ہے۔ اس تنظیم کے متعلق بہت سی پُراسرار باتیں بھی امریکہ میں مشہور ہیں۔ یہاں ہم ایک ایسے سیاہ فام موسیقار  کی داستان بیان کرنے جا رہے ہیں جس نے  بڑی جرات سے اس متشدد تنظیم کے کچھ نمائندوں سے برسوں تک گفتگو کی اور ان میں سے کئی لوگوں کو اپنے نظریات بدلنے  پر مجبور کر دیا۔  مذکورہ موسیقار کی  داستان صوتی شکل میں یہاں  ملاحظہ کریں ۔  اس داستان کی بنیاد پر  کونر فریڈرزڈوف نے   ایک مضمون لکھا ہے جس کا اردو ترجمہ جائزہ کے قارئین کے لیے پیش ہے۔ مدیر)

کیا  گفتگو تعصب کو ختم کرنے میں مدد دیتی ہے؟ ایک غیر معمولی مثال  سجھاتی ہے کہ  اس امکان کو  خاطر میں نہ لانا غیر دانشمندانہ  ہو گا۔

جب موسیقار ڈیرِل ڈیوس پہلی بار  کُو کلکس کلین کے ایک رکن سے ملا  تو ایک مقامی بینڈ میں   وہ واحد سیاہ فام آدمی تھا۔  وہ فریڈرک، میریلینڈ کی ایک ایسی جگہ   گِگ (gig) پیش کر رہا تھا جہاں تمام حاضرین سفید فام تھے۔  محفل ختم ہوئی تو  سامعین میں سے ایک آدمی  ڈیوس کے پاس   پیانو میں اس کی  مہارت کی تعریف کرنے پہنچا، اس نے کہا کہ  اس نے کبھی کسی سیاہ فام پیانو نواز کو  جیری لی لیوائس، ایک عظیم پیانونواز، کی طرح بجاتے نہیں  دیکھا۔ ’’ آپ کے خیال  میں جیری لی لیوائس کو اس طریقے سے بجانا کس نے سکھایا ہو گا؟ ‘‘ ڈیوس کا جواب تھا۔  دونوں کی دوستی ہو گئی ۔ وہ مداح چاہتا تھا کہ ڈیوس کو  مشروب پلائے ، اور پھر اس نے کہا کہ    وہ  اپنی  ساری زندگی     کسی   سیاہ فام کے ساتھ ہم نوش یا ہم سخن نہیں ہوا تھا۔

’’ ایسا کیوں ہُوا؟ ‘‘

’’ میں کُو کلکس کلین کا ایک رکن ہوں۔ ‘‘

پہلے تو ڈیوس کو  لگا کہ وہ مذاق کر رہا ہے۔ لیکن اس آدمی نے اپنا  بٹوہ نکالا اور  کلین کا کارڈ دکھایا۔ بعد ازاں اس نے اپنا فون نمبر لکھ دیا۔ اس نے ڈیوس سے کہا کہ اگلی بار جب  سلور ڈالر لاؤنج میں اپنے فن کا مظاہرہ کرے تو  اسے  کال کر دے۔ وہ  سننے آئے گا۔

یہ ملاقات 1983 میں ہوئی تھی۔ یہ واقعہ  کئی انٹرویوز اور  ایک کتاب میں  دہرایا جا چکا ہے،  لیکن میں نے اسے پہلی بار اسی سال  سنا جب میں  لَو  پلس ریڈیو  پہ اس انٹرویو کا پوڈ کاسٹ سن رہا تھا۔  اب اس کا تو کوئی متبادل نہیں ہو سکتا  کہ ڈیوس کی اپنی زبانی یہ کہانی  سنی جائے۔

یہ کہانی اس ہفتے    دوبارہ سے میرے ذہن میں   اس وقت آئی جب میں  ایک حالیہ تنازع پہ سوچنے  بیٹھا:  یہ خیال کیسا ہے کہ  ہمیں ’’ نسل کے متعلق  بات چیت ‘‘ کرنی چاہیے۔  بعد ازاں، اس مکالمے کی توجہ  سٹاربکس کے سی ای او کے ایک  بھدے منصوبے پر مرتکز ہو گئی  جس  میں  سٹور کے اندر  کچھ  گفتگوؤں  کا اہتمام کیا جانا تھا۔  لیکن  اس موضوع پر  اختلافات  بہت پرانے ہیں۔  میرا ماننا ہے کہ  صریح ناانصافیوں  کا تدارک کرنا  نسل پرستی مخالف تحریک کی  پہلی ترجیح ہونی چاہیے اور  یہ کہ  نسل کے بارے میں بات چیت سے    کچھ فوائد  حاصل ہو سکتے ہیں۔ دوسرے لوگوں کو اس سے اختلاف ہے۔  یہاں میں ڈیوس کے خیالات  پیش کرنا چاہتا ہوں، جو  اس قابل ہیں کہ ان پر غورو خوض کیا جائے خصوصاً آج کل کی صورتحال میں جبکہ نہایت معمولی باتوں پر قطعی حکم صادر کر دیے جاتے ہیں۔

اس کا  کہنا ہے  کہ  ایک خاص طرز کی  گفتگوئیں نسل پرستی کے خلاف جدوجہد میں  بہت زیادہ مفید ہو سکتی  ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ کہ اس نے  ان گفتگوؤں کا دفاع کیا ہے  جن کی بہت سے لوگ  مذمت کرتے ہیں، اس کا آغاز  اس وقت ہوا جب اس نے کُو  کلکس کلین کے مذکورہ  رکن  کو فون کیا، سلور ڈالر لاؤنج میں اپنے آئندہ گگ کی اطلاع دی، اورجب وہ  بعد کے گگز میں بھی، بعض اوقات دیگر  کُو کلکس کلینی  ارکان کے ساتھ،  آتا رہا تو اس سے دوستی کر لی۔  اس کے دوست، سیاہ فام اور سفید فام   ہر دو،  یہی سوچتے   تھے کہ وہ پاگل ہے۔ کلینی لوگ تو ایک قابلِ نفرت،  ابکائی انگیز، شر بھری  تنظیم سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ   مذمت کے حق دار ہیں۔

لیکن ڈیوس تو محض آغاز کر رہا تھا۔

اس کے آئندہ  افعال کو سمجھنے کے لیے  اس کے بچپن کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ یہی وہ وقت ہے جب اس نے نسل پرستی اور  عوامی کلامیے کے  متعلق  اپنے  تصورات وضع کرنے شروع کیے  ، جو ایسے پریشان کن اعمال و نتائج پرمنتج  ہوئے جنھیں اتنی آسانی  سے رَد نہیں کیا جا سکتا۔

بیرونِ ملک گزارے گئے بچپن کے بعد،  جہاں وہ ایسے بین الاقوامی اسکولوں میں پڑھا جہاں مختلف رنگ و نسل کے بچے پڑھتے تھے، ڈیوس دس سال کی عمر میں بوسٹن، میساچوسٹس،  کے   مضافات میں   منتقل ہو گیا جہاں سکول بھر کے دو سیاہ فام بچوں میں سے ایک وہ تھا۔

1968 میں، پال ریویر (اٹھارویں صدی میں امریکی تحریکِ آزادی کا ایک رہنما) کے سفر کی یاد میں ریاستی سطح  کے بوائے سکاؤٹ مارچ میں، اسے اپنے دستے میں سے امریکی جھنڈا تھامنے کے لیے  منتخب کیا گیا۔ وہ  وہاں موجود بوائے  سکاؤٹس میں سے واحد سیاہ فام   تھا ۔  جب لوگوں نے   اس  کی طرف  بوتلیں، کین اور  کنکر اچھالنے شروع کیے،تو اس نے سوچا ’’ یہ لوگ    ضرور بوائے اسکاؤٹس کو    ناپسند کرتے ہوں گے ‘‘ ۔ پھر اسے احساس ہوا کہ  اس رویے کا نشانہ بننے والا وہ واحد بچہ ہے لیکن اسے یہ معلوم نہ ہو سکا کہ ایسا کیوں ہے۔ گھر لوٹنے پر اس کے والدین نے پہلی بار اسے نسل پرستی کے بارے میں بتایا۔   اس کی سمجھ میں  یہ بات نہ آئی کہ جو لوگ اس کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتے وہ  کیسے  محض اسکی جلد کی رنگت کی بنا پر اسے ایذا پہنچا سکتے ہیں: ’’ میں نے واقعی یہ سوچا کہ وہ مجھ سے جھوٹ  کہہ رہے ہیں۔ ‘‘

کچھ برس بعد جب وہ دسویں جماعت میں تھا، ایک استاد نے سکول میں امریکی نازی پارٹی کے سربراہ کو مقرر کے طور پہ مدعو کیا۔ وہ اس وقت کو یاد کرتے ہوئے کہتا ہے ، اس آدمی نے اعلان کیا، ’’ ہم تمھیں واپس افریقہ بھیج رہے ہیں۔ اور تم میں سے جو یہودی ہیں  وہ اسرائیل  واپس بھیجے جائیں گے۔۔۔ اگر وہ رضاکارانہ طور پہ نہیں جائیں گے تو آئندہ  نسلی جنگ میں  انھیں فنا کر دیا  جائے گا۔ ‘‘

اس طرح عمر بھر کی ایک لگن کا آغاز ہُوا۔

ڈیوس نے نسل پرستی کی تمام صورتوں کا مطالعہ شروع کردیا:  سفید فام برتری ، سیاہ فام برتری،  یہود دشمنی۔ اس پر یہ  جاننے کا خبط سوا ر ہو گیا کہ  کیا شے نسل پرستوں کو ابھارتی ہے۔

اس کی کھوج کا سب سے نتیجہ خیز  عمل تب شروع ہو ا جب  اس نے اپنے گگ پہ آنے والے کلین کے رکن کا کارڈ نکالا، اس کا پتہ  دیکھا، اور بغیر بتائے اس کے گھر پہنچ گیا۔ اس دوران میں وہ آدمی  اس تنظیم سے نکالا جا چکا تھا ( اس نے کُو کلکس کلین  سے ایک ریلی میں شرکت کے لیے پیسے لیے تھے مگر انھیں  ہلک ہوگن، ایک ریسلر، کے ٹکٹ خریدنے میں  اُڑا ڈالا تھا)۔ ڈیوس نے پوچھا، ’’ کیا آپ   گرینڈ ڈریگن (کلین کا ایک عہدہ)راجر کیلی  کو جانتے ہیں؟ ‘‘ وہ کلین کے رہنما کے ساتھ ایک انٹرویو کرنا چاہتا تھا۔  بالآخر اسے سابقہ کلینی دوست سے اُس کا فون نمبر مل گیا، جس نے کہا، ’’ راجر کیلی کے گھر مت جانا۔ وہ تمھیں مار ڈالے گا۔ ‘‘

راجر کیلی سے اس کی پہلی ملاقات کا  حال اس پوڈکاسٹ میں بڑے  ڈرامائی طریقے سے بیان ہوا ہے۔

 ہمارے مقصد کے لیے اتنا جاننا ہی کافی ہے کہ اس انٹرویو کے آخر میں، دونوں آدمیوں نے  ہاتھ ملایا  اور کلینی رہنما نے اپنا بزنس کارڈ دیتے ہوئے   کہا، ’’ رابطے میں رہنا ‘‘ ۔ ڈیوس نے کہا، ’’ میرا خیال ہے کہ  میں یہاں کلین والوں کو دوست بنانے تو نہیں آیا تھا۔ میں تو یہاں اس لیے آیا تھا کہ  جان سکوں  کہ آپ مجھ  سے  کیسے نفرت کر  سکتے ہیں جبکہ آپ مجھے جانتے تک نہیں ؟ ‘‘ خیر اس نے  کلین  کے رہنما کو اپنے گگز میں اور  پھر اپنے گھر پر بلانا شروع کر دیا۔ ڈیوس کہتا ہے ، ’’ وہ وہاں  صوفے پر  بیٹھا کرتا تھا۔  مسٹر کیلی سے شریکِ گفتگو ہونے کے لیے میں بعض اوقات اپنے یہودی، کچھ سیاہ فام اور چند سفید فام دوستوں کو بلا لیتا تھا۔ میں  نہیں چاہتا تھا کہ وہ مجھے کوئی  انوکھی مخلوق سمجھے۔ میں چاہتا تھا کہ وہ دیگر لوگوں سے بات کرے۔ کچھ عرصے کے بعد وہ اس حد تک مجھ پر  بھروسہ کرنے لگا کہ اس نے (بغیر ذاتی محافظ کے) اکیلے  ہی  آنا شروع کر دیا ۔ چند برس بعد وہ امپیریل وزرڈ یعنی کلین کا قومی رہنما بن گیا ۔ اس نے ’ مجھے ‘ اپنے گھر بلانا شروع کر دیا۔ ‘‘

اس دوران ڈیوس کلین کی ریلیوں میں بھی شرکت کرتا رہا۔ اسے بالکل واضح تھا کہ وہ  اس گروہ اور  اس کے نظریے سے شدید عدم اتفاق رکھتا ہے۔  لیکن پھر بھی وہ  ان سے ہاتھ ملاتا تھا اور  تصویروں کے لیے  پوز بناتا تھا۔

وہ اپنی منطق کی وضاحت کچھ یوں کرتا ہے:

سب سے اہم چیز جو میں نے سیکھی وہ یہ تھی کہ جب آپ   فعال طریقے سے  کسی کے بارے میں  سیکھ رہے ہوتے ہیں تو ایک غیرمحسوس طریقے  سے اسے  اپنے بارے میں   بتا بھی  رہے ہوتے ہیں۔ لہذا اگر کسی مخالف نقطہ نظر والے آدمی سے  آپ کی مخاصمت ہے تو  اس آدمی کو موقع دیں۔  اسے اپنا نقطہ نظر  بیان کرنے دیں، اس بات سے قطع نظر کہ  یہ نقطہ نظر کتنا  شدید ہے۔ اور آپ میرا یقین کریں، میں نے کلین کی ریلیوں میں اتنی انتہا پسندانہ باتیں سنی ہیں کہ آپ لرز اٹھیں گے۔

ایسے لوگوں کو سخن گاہ (پلیٹ فارم) فراہم کریں۔

آپ ان کے نظریات سے نبرد آزما ہوں لیکن  کھردرے اور تشدد آمیز طریقے سے نہیں بلکہ آپ یہ کام  نرمی اور ذہانت کے ساتھ کریں۔ اور جب آپ یہ طریقہ اپنائیں گے تو  اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ وہ  یوںہی جواب دیں گے اور آپ کو ایک سخن گاہ فراہم کریں گے۔ تو بس راجر کیلی اور مَیں  مل بیٹھتے رہے  اور ایک  عرصے تک ایک دوسرے کو سنتے رہے۔ اور اس  کے نظریات  کے شیرازےمیں دراڑیں پڑنی شروع ہو گئیں، پھر یہ شکستہ ہونے لگا اور بلاآخر یہ بکھر  گیا۔

آخرِ کار راجر کیلی نے کُو کلکس کلین چھوڑ دی۔ ڈیوس مزید بیان کرتا ہے کہ، ’’ وہ اپنے سابقہ نظریات سے تائب ہو چکا ہے۔ اور جب اس نے کلین چھوڑی تو اس نے اپنی قبا اور تکونی ٹوپی  مجھے دیے، یہ وہی  قبا ہے جو کلین کے امپیریل وزرڈ کے پاس ہوتی ہے ‘‘ ۔  بارہ دوسرے کلینیوں نے بھی یہی کیا۔

وہ کلین کی مقامی تنظیم  کے ٹوٹنے  کی داد اپنے منہج کو دیتا ہے۔ وہ کہتا ہے، ’’ یہاں  میری لینڈ میں  کلین کے تین رہنما تھے یعنی راجر کیلی، رابرٹ وائٹ ، اور  چیسٹر ڈولز –میں ان میں سے ہر ایک کا دوست بن گیا- جب ان تین رہنماؤں نے کلین چھوڑی اور میرے دوست بن گئے، تو  میری لینڈ  ریاست میں کُو کلکس کلین ختم ہو گئی۔  اب یہاں اسکا کوئی نام و نشان نہیں ہے۔ کچھ لوگوں نے کئی بار اس کی بحالی کی کوشش کی ہے لیکن یہ فوراً ہی ناکام ہو جاتی ہے۔ ہمسایہ ریاستوں سے کبھی کبھی چند کلینی گروہ ضرور آتے ہیں  اور  ریلی بھی منعقد کر لیتے ہیں،  لیکن یہاں تنظیم سازی دوبارہ نہیں ہو سکی۔ ‘‘

لَو پلس ریڈیو کے روحِ رواں،  دُور اندیش نک واں ڈیر کالک، نے کہانی کے اس مقام پر یہ سوال کیا ’’ کیا آپ کو لگتا ہے کہ جب آپ  ایک کلینی کے ساتھ  سٹیج پر ہوتے ہیں توآپ اسکی ایک طرح کی خاموش حمایت کا تاثر پیش کرتے ہیں؟ یعنی یہ کہ وہ آپ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہہ سکتا ہے  ، ’ یہ سیاہ  فام آدمی میرا یار ہے،  پس  میرے علیحدگی پسند  نظریات درست ہیں ‘؟‘‘

مزید اس نے یہ سوال بھی پوچھا، ’’ کیا آپ کو کبھی سیاہ فاموں کی طرف سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا؟‘‘

ڈیوس کا جوا ب تھا، ’’ بے شک۔ ایسا ہُوا ہے۔ لیکن ان سیاہ فاموں کی طرف سے نہیں جو میرے دوست ہیں، جو مجھے جانتے ہیں  اور میرے الفاظ میں پنہاں سوچ سے آگاہ ہیں۔ کچھ سیاہ فام ہیں جنھوں نے کبھی  میرے انٹرویو نہیں سنے یا میری کتاب نہیں پڑھی  اور وہ  مکمل حقائق جانے بغیر نتائج تک پہنچنے اور میرے بارے میں قطعی حکم  لگانے کی کوشش کرتے ہیں۔ مجھے انکل ٹام (سفید فاموں کا چاپلوس) کہا گیا ۔ مجھے اوریئو (سیاہ فاموں کا  غدار)کہا گیا ۔ ‘‘

لیکن اس رویے سے اسے کوئی مسئلہ نہیں ہوتا:

مجھے ناسپ (NAACP۔سیاہ فاموں کی سماجی ترقی میں کوشاں ایک تنظیم) کی شاخ کا ایک رکن ملا جس نے مجھ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہم لوگوں نے  دس قدم آگے جانے کے لیے  اتنی سخت محنت کی ہے ۔ اور یہاں تم دشمن کے ساتھ بیٹھ کر رات کا کھانا کھا رہے ہو، تم یوں ہمیں بیس قدم پیچھے لے جا رہے ہو۔

میں نے وہ  قبا اور تکونی ٹوپی  اسے دکھائی اور کہا، ’’ دیکھو، یہ ہے وہ کام جو میں نے نسل پرستی میں دراڑ ڈالنے کے لیے کیا ہے۔  میری  الماری میں رکھی یہ قبائیں اور تکونی ٹوپیاں  میں نے ان لوگوں سے  حاصل کئے ہیں جنھوں نے یہ عقائد رات کے کھانے پر بیٹھ کر ’ مجھ ‘ سے    گفتگو کرتے ہوئے ترک کئے ہیں۔ وہ تائب ہو چکے ہیں۔  تم نے کتنی  قبائیں  اور تکونی ٹوپی  اکٹھے کئے ہیں؟ ‘‘ اور پھر  یہ حضرات  منہ میں گھنگھنیاں  ڈال لیتے ہیں۔

جو کچھ ڈیوس نے کیا اس سے  بہت سے لوگوں کو  بے چینی ہوتی ہے  حتیٰ کہ ان لوگوں کو بھی جو  اس کے  ارادوں کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ میں خود  عوامی کلامیے  کا  کافی پرجوش  حامی ہوں جو ڈیوس کے ارادوں ، اس کے طریقۂ کار کی ندرت، اورا س کے حاصل کردہ نتائج کا احترام کرتا ہے۔۔۔ لیکن ’ پھر بھی ‘ مجھے اس کے طرزِ عمل سے بے چینی ہوتی ہے۔ لیکن کلینیوں کے ساتھ مکالمے میں شرکت کے فیصلے سے اتفاق کیے بغیر(اور ناسپ کے سودمند کام کی اہمیت گھٹائے بغیر) بھی  ہم یہ نتیجہ نکال سکتے ہیں  کہ اگر بات چیت سے  اس تنظیم کے رہنماؤں کا ذہن بدلا ہے جو  شاید  امریکی تاریخ کا  سب سے زیادہ نفرتی گروہ ہے ، تو  یہ  کم انتہا پسندانہ لوگوں کے معاملے میں تو کہیں زیادہ بھلا کر سکتی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ  ڈیوس کے مطابق نسل پرستی پر بات چیت کا طریقہ  متشدد ترین  لوگوں کے معاملے میں سب سے زیادہ  مفید پایا گیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ’’ بہت سے نیک دل سفید لبرلز بھی ہیں  اور بہت سے نیک دل سیاہ فام لبرلز بھی ہیں۔ لیکن میں آپ کو بتاؤں  کہ جب وہ اکٹھے  بیٹھتے ہیں اور   مانے ہوؤں کو منوانے  کی کوشش کرتے ہیں   تو اس سے کچھ بھی  بھلا نہیں ہو پاتا۔ اگر آپ ایک نسل پرست نہیں ہیں  تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا کہ میں  آپ سے ملوں  اور آپ کے ساتھ بیٹھوں اور  یہ بتاؤں کہ  نسل پرستی کتنی بری ہوتی ہے۔ ‘‘ یہاں مجھے ڈیوس کے ساتھ کچھ  اختلاف ہے مگر یہ اس کے بیان کا محل نہیں ۔ ہمیں تسلیم کرنا چاہیے کہ بلا شک و شبہ، نسل پرستی سے نمٹنے کے اوزاروں میں بات چیت کا  ایک مقام ہے۔ اور، جیسا کہ وہ خود بھی کہے گا، اس نے نسل پرستی کے خلاف  میری نسبت کہیں زیادہ کامیابی حاصل کی ہے۔

ماخذ: دی اٹلانٹک

Recommended Posts

Leave a Comment

Jaeza

We're not around right now. But you can send us an email and we'll get back to you, asap.

Start typing and press Enter to search