بیادِ استاد رئیس خاں۔ تحریر: علی عدنان۔ مترجم: کبیرعلی

بھرپور، بھنبھناتی  اور لبھاتی ہوئی آواز، جسے جواری کہتے ہیں ، غالباً ستار کی  آوازوں میں سے  سب سے  زیادہ  آسمانی آواز ہے۔  یقیناً ستار نوازوں اور ستار سازوں  کے  لیے یہ سب سے  اہم آواز ہے۔  یہ آواز اس   ہموار پُل  پر  طربوں  کے ارتعاش سے پیدا ہوتی ہے  جس   کی سطح  خمیدہ ہوتی ہے اور  جسے گھوڑی کہتے ہیں۔  ایک ستار ساز کے لیے   ، بلا شبہ، سب سے  مشکل کام اسی گھوڑی   کو  بنانا اور قائم رکھنا ہے  اور  ستار بجانے  میں سب سے  چنوتی بھرا کام   غالباً جواری  کا اثر پیدا کرنا  ہی ہے۔

 مشہورِ عالم ستار نواز پنڈت روی شنکر  ‘کھلی’  جواری استعمال کرتے تھے جس کی آواز بلند اور  بھنبھناہٹ بھری ہوتی تھی۔  استاد ولایت خاں اور  پنڈت بلرام پاٹھک ایسے  ستار نواز ‘بند’ جواری کا استعمال کرتے تھے جس کی  آواز  گرمجوش، مدھم او ر  بہت ہلکی بھنبھناہٹ والی ہوتی تھی۔  بہت سے ستار نواز ، جن میں   قابلِ احترام پنڈت نکھل بینر جی بھی شامل  ہیں، جواری  کو ان دونوں انتہاؤں کے بیچ میں رکھتے تھے۔  کھلی، بند یا ان دونوں کے درمیان، بیسویں صدی کے ستار نوازوں  میں سے کسی  کی جواری رئیس خاں    سے نہیں ملتی تھی۔  یہ آوازیں   رئیس خاں  کی جواری  کی  واضح، روشن اور صاف  آواز سے   کمتر تھیں۔ اس عظیم  استاد  کی جواری ستار کی طربوں کو ایک  نپے تلے  طریقے سے چھیڑنے سے عبارت   تھی، جس سے ایک  شاہانہ آواز پیدا ہوتی تھی، جو بتدریج    مدھم ہوتی جاتی  تھی، جس  کے  زائل ہونے سے قبل    ہارمونکس کا ایک  زرخیز سلسلہ پیدا ہوتا تھا۔ یہ ، بلاشبہ، ایک جادوئی آواز تھی  جس کی نقل کوئی نہ کر سکتا تھا۔  بھارت کی مشہور مغنیہ لتا منگیشکر  کا  رئیس خاں کو  ”ستار کا جادوگر”  قرار دینا بالکل بجا تھا ۔  یوں  لگتا ہے کہ  کوئی جادوگر ہی ہو گا جو رئیس خاں کی جواری کی آواز  پیدا کر سکے۔   یہ جواری،  بلاشبہ، وہ واحد عنصر نہ تھی  کہ جس نے  رئیس خاں   کو اتنا عظیم بنایا جتنا کہ وہ تھے۔  ایک موسیقار کے طور پہ انھیں  قدرت کی طرف سے بہت سے  تحفے ملے تھے  اور وہ ان سب کو   نہایت   سمجھداری، مہارت اور عبور کے  ساتھ برتتے  تھے۔

رئیس خاں استاد محمد خاں  -ایک ستار، سُر بہار اور رُدر وینا نواز- اور  نسرین بیگم – ایک مشاق گائیکہ اور  استاد  عنایت حسین کی صاحبزادی-  کے بیٹے تھے۔ استاد عنایت خاں کے بیٹے استاد ولایت  خاں ان کے ماموں  تھے۔ جب عنایت خاں 1938ء میں  وفات پا  گئے تو استاد ولایت خاں  استاد محمد خاں کے پاس رہنے کے لیے  آئے۔  رئیس خاں اس  سے ایک سال بعد پیدا ہوئے۔  یہی وہ  گھر تھا کہ جہاں  ستار بجانے  کا گائیکی انگ تشکیل پایا اور  قائم ہوا۔  استاد  محمد خاں  کا اختراع کردہ  انگ ستار نوازی کا  سب سے مقبول   انگ بنتا چلا گیا، استاد  ولایت خاں اس  کے سب سے  زیادہ تجربہ کار  اور معروف  عامل تھے جبکہ  رئیس خاں اس  کے سب سے زیادہ   اوریجنل اور  مترنم  عامل تھے۔ رئیس خاں کا  گائیکی انگ   ایک خاص دستخطی انگ  میں ڈھلتا چلا گیا جو کہ  امدادخانی گھرانے کے  اس گائیکی انگ سے   مختلف اور بہت الگ تھا کہ جس نے  پچھلی صدی میں   گائیکی انگ کے سب سے زیادہ ستار نواز پیدا کیے ہیں۔ 

رئیس خاں  نے میواتی گھرانے کی پیروی کی  جس کی بنیاد  انیسویں صدی کے آخر میں جودھ پور کے   گھگے نذیر خاں نے رکھی تھی۔  اس  گھرانے نے، جو کہ گوالیا ر گھرانے ہی کی ایک شاخ تھا،  آنے والے برسوں میں  اپنی جمالیات، تکنیک اور  اسلوب  وضع کیے۔ اس نے، بیسویں صدی کے آغاز میں،  جے پُور اور کیرانہ گھرانے  کے کچھ  بنیادی  خواص جذب کیے اور پھر آنے والے برسوں میں خود کو  ایک معروف اور  محترم گھرانے کے طور  پہ  منوایا۔

بین کار باپ اور گائیکہ ماں  کی موسیقی نے رئیس خاں کو دھرپد، خیال ، ٹھمری اور کئی دیگر   اصناف  کے مطالعے کا  موقع دیا۔ اس    مطالعے کا بطور موسیقار ان کی  تشکیل اور  بطور ستار نواز   انکے منفرد اسٹائل،  اپج اور  حسیت میں   بڑا ہاتھ  رہا۔  انھوں نے   دھرپد ، خیال اور ٹھمری  تینوں   کی جمالیات، اسالیب،   عملیات، خواص اور فلسفوں  کو جمع کر کے  ایک ایسی موسیقی   پیدا کی  جو ساری کی ساری ان  کی اپنی تھی۔

رئیس خاں  بہت سے النکار وہی  استعمال کرتے تھے  اور  وہی گندھار-پنچم   ستار استعمال کرتے تھے جو  کہ امداد خانی گھرانے کے ستار  نواز استعمال کرتے تھے لیکن  ان  کی اپج،  چال،    پیشکش، تکنیک اور اسلوب سب  بالکل مختلف  تھے۔ بالخصوص ان کا الاپ، گت  کاری، مینڈ  اور گمک   بہت ہی منفرد ہیں۔   ان کے الاپ  کی نمو  عموماً  کثیر سُری ہوتی تھی لیکن   راگ  کی فطرت، سامعین کے مزاج ، اور ان کے اپنے  موڈ کے  حساب سے یہ  صراحت کے ساتھ   سُر بہ سُر بھی ہو جاتی تھی۔   ان کی ولمبت کے ٹکڑے خیال  اور ٹھمری دونوں کے  عناصر  کو   کامل  ہم آہنگی اور  یکجائی  کے ساتھ بروئے کار لاتے تھے۔  اس  عمل کا مظاہرہ ، اپنے پورے شکو ہ کے ساتھ،   ان کی بھیرویں کی ریکارڈنگ   میں ہوتا ہے۔

رئیس خاں اپنے ستار کو رکھب پر ملاتے تھے اور    اکثر ستار نوازوں کی طرح  3  یا پھر    ساڑھے تین  گیج   کے مرکزی تار کے بجائے  4 گیج کا تار استعمال کرتے تھے۔  اس سے ان کے ستار  کی آواز  زیادہ بھرپور   زیادہ بلند  ہو گئی تھی۔  اور اس میں ایک انفرادیت بھی پیدا ہو گئی تھی۔  رئیس خاں کی مینڈ   حیران کن طور پہ   نپی تلی، درست اور مترنم  تھی۔   مینڈ کی  طوالت اور پیچیدگی  نے کبھی اس  کی مدھرتا کو متاثر نہیں کیا۔ آواز  کی  صوتی  زرخیزی، تسلسل اور بہاؤ   ایک سُر سے  دوسرے سُر تک   مینڈ بجاتے ہوئے قائم رہتا چاہے وہ   نزاکت کے ساتھ   بیچ کے سُروں کو  بھی چھو لیتے۔ ان کی مینڈیں ہمیں   ان خواتین مغنیاؤں کے گلے کی یاد دلاتی ہیں  جو  بیسویں صدی کے  نصف اول میں خیال اور ٹھمری   گایا کرتی تھیں۔ مشہور بھارتی  ستار نواز  پوربائن چیٹر جی کہتے ہیں کہ ” ان کی مینڈ کسی دوسرے  کی مینڈ سے نہیں ملتی۔ اس کی منفرد آواز  فوراً پہچانی جاتی  ہے اور  واقعتاً  لبھاتی ہے”۔

رئیس خاں کی گمک  بھرپور، طاقتور اور   مسحور کن   تھی۔  انھوں نے موسیقیت پر سمجھوتہ کیے بغیر اسے طاقتور بنایا تھا۔  الاپ کے   آخری حصے میں،  جہاں چِکاری کی تاروں کا خوب استعمال کیا جاتا  ہے،  جھالا رئیس خاں کی اہم خوبی تھا۔  ان کا جھالا  طاقتور، صاف، درست  اور واضح تھا اور  اس  شور شرابے  سے پاک تھا  جو  عام ستار نوازوں  کے جھالے میں در آتا ہے۔  ان کی چکاری  کی صاف، کھنک دار اور  تیز ضربیں   جارحانہ آواز پیدا نہیں کرتی  تھیں۔  ان کا جھالا ہمیشہ   مترنم اور مدھر   ہوتا تھا۔  رئیس خاں  اپنے ستار میں نہایت مہارت سے   گائیکی کی   بہت سی تانیں   شامل کر دیتے تھے۔  ان میں سپاٹ کی تان، کُوٹ کی تان، گیت کاری کی تان اور چھوٹ کی تان شامل تھیں۔   ان  کی طربیں  کھینچنے  کی تکنیک  انسانی آواز سے مشابہ  آواز پیدا کرنے میں  مددگار ہوتی تھی۔ ان کا کھٹکا اور ان کی  مُرکی بڑے لطیف اور   حساس  تھے اور سچ تو یہ ہے کہ ان  کے اندر  ایک محبوبانہ کشش تھی۔ سجاوٹ کے ساتھ ساتھ رئیس  خاں صحیح خوانی اور  جمالیات پہ  بہت زور دیتے تھے۔ اس کا  نتیجہ یہ  ہوا کہ ان کی موسیقی کے اندر ایک  شاعرانہ  خوبی  پیدا ہو گئی۔  ان کے موسیقیائی ٹکڑوں کے اندر  ایک  جمالیاتی حسن او ر توازن پیدا ہو گیا۔  وہ  اپنے  آپ میں   مکمل  کمپوز شدہ ٹکڑے تھے۔ وہ انھیں   صفائی ، درستی اور مہارت  سے   تشکیل دیتے   جس سے ہر ٹکڑا  انفرادی طور پہ بھی   لطف دیتا اور   پورے راگ  کے ایک  لاینفک جزو کے طور پہ بھی  مزا دیتا۔

اگرچہ رئیس خاں کا ستار   موسیقی کے النکاروں سے بھر پور تھا  لیکن  یہ  خالص کلاسیکی موسیقی  کے تمام  تقاضوں کو بھی پورا  کرتا تھا:  راگ کی شُدھتا، سُر  کا ٹھیک ٹھیک لگنا، راگ کی بتدریج اور سلسلہ وار بڑھت،  لے کاری میں مہارت  اور بہت سے دیگر ۔  تاہم ان کی توجہ ہمیشہ  خوبصورت موسیقی  پیدا کرنے پہ  رہتی تھی نہ کہ تکنیک او ر تکنیک کاری پہ۔  نوجوان ماہرِ موسیقی اور  متعلم وِویک ویرانی  کہتے ہیں، ” رئیس خاں ہمیشہ تکنیک کو  موسیقیت کے حضور پیش کرتے تھے”۔ منچ پر اپنی تکنیکی مہارت اور ریاضت کا مظاہرہ کرنے کی بہ نسبت   استاد  کا زیادہ دھیان  موسیقی کے ذریعے  تخلیقِ جمال  پر رہتا تھا۔ موسیقیت، بلاشبہ،  ان  کے ستار  کی سب سے  بنیادی خوبی تھی۔ اس کی آواز مترنم، مدھر اور ہمیشہ  کامل سُر پہ ہوتی تھی۔ اس میں بڑی گرمجوشی، ملائمی اور  رومان بھی ہوتا تھا۔ منجھے ہوئے  سامعین  اور عام سامعین ہر دو ان کے ستار  کے سحر میں  آ جاتے تھے۔ رئیس خاں    بارعب منچ-موجودگی،  شاہانہ انداز،  عمدہ خدو خال  او  ر  شاہی چھب  کے  مالک تھے۔  نور جہاں نے ایک بار کہا  تھا، ” جب رئیس خاں جی بجا رہے ہوں   تو منچ کو سجانے کی  ضرورت ہی  نہیں رہتی۔ جیسے ہی وہ منچ پر تشریف لاتے ہیں  ہر چیز   اچھی  دکھائی دینے  لگتی  ہے۔”  رئیس خاں    اپنی پرفارمنس کے لیے   بہت تیاری  کے ساتھ  لباس پہنتے تھے اور اس عمل کو موسیقی  کے درست جشن سے تعبیر کرتے  تھے۔ وہ اپنے سامعین  کے ساتھ فوراً ہی  ایک تعلق  بنا لیتے تھے اور  اپنی ساری  پرفارمنس کے دوران انھیں   اپنے ساتھ  جوڑے رکھتے  تھے، اور  مسحور و شیدا بنا لیتے  تھے۔ نوجوان ستار نواز راکی جمیل    کہتے ہیں،” رئیس خاں کی پرفارمنس  زرق برق رنگوں، نمود اور  ایک  احساسِ  جشن  سے عبارت ہوتی تھی۔ تاہم ساتھ ہی ساتھ وہ ذائقے دار، گھمبیر اور  واقعتاً مسحور کن  بھی ہوتی  تھی۔”

 رئیس خاں کو   اپنا  اعلیٰ  ترین فن   برآمد کرنے کے لیے لازماً  منجھے ہوئے سامعین درکار نہیں ہوتے  تھے؛ انھیں صرف ایسے سامعین درکار ہوتے  تھے جو  محبت، توجہ  او راحترام  کرنے  والے ہوں۔ حقیقی زندگی میں  فاخر،  انامرکز او ر پل میں توشہ پل میں ماشہ مزاج رکھنے  والے رئیس خاں  منچ پر  محبت کرنے والے، پرجوش اور  مہربان ہوتے تھے۔ انھیں   ستار نواز  ی سے لطف اندوز ہونے کے  لیے   داد دینے والے  سامعین  کی ضرورت ہوتی  تھی اور  ایسے سامعین  کو محظوظ کرنے،   سرمست و  مگن  رکھنے کے  لیے وہ    طویل وقت تک  بیٹھے  رہتے تھے۔

رئیس خاں   25 نومبر 1939ء کو  اندور، مدھیہ پردیش، برطانوی ہند میں پیدا ہوئے تھے۔ انھوں نے ڈھائی سال کی عمر میں ستار سیکھنا  شروع کیا۔ انھوں نے  اپنی پہلی  عوامی پرفارمنس 1944ء میں   ممبئی کے سندر بائی ہال میں  دی۔ نو سال کی عمر سے بھی پہلے  وہ ایک معروف فنکار بن چکے تھے او ر پندرہ سال کی عمر میں انھیں ‘استاد’ کا خطاب مل  گیا  تھا۔ 1955ء میں  انھوں  نے  انٹرنیشنل یو تھ   فیسٹیول، وارسا میں  بھارت کی نمائندگی کی او  ر کئی سو شرکاء میں  اول انعام کے  طور پہ  گولڈ میڈل جیتا۔ وہ عمر بھر طرح طرح کے تمغے جیتتے  رہے۔ حکومتِ پاکستان نے انھیں  2005ء میں  تمغہ حسن کارکردگی او ر 2017ء میں  سٹا ر آف   ایکسی لینس کا اعزاز عطا کیا۔

رئیس خاں کی پہلی شادی سولہ برس  کی عمر میں ہوئی۔ یہ شادی کچھ مہینے ہی برقرار رہی اور    ایک عوامی او ر  بھدی طلاق پہ منتج ہوئی۔ جب وہ اٹھارہ سال  کے تھے تو انھوں نے   ایک  چونتیس سالہ خاتون سے شادی کی۔ دوسری شادی بھی  پہلی جتنی ہی کامیاب ثابت  ہوئی او رباقی نہ رہ پائی۔ان کی تیسری شادی    انٹیرئر ڈیزائنر تسنیم  خان کے ساتھ  ہوئی جو  زیادہ دیر تک رہی لیکن اس وقت ختم ہو گئی جب ان  کی بیگم نے   ان کی  ازدواجی بے وفائی  کی  روز افزوں افواہوں کے بعد انھیں چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ تسنیم خان سے ان کے دو بیٹے ہوئے: ستار نواز سہیل خاں او ر اداکا ر سیزان خاں۔ اپنی چوتھی بیوی  گلوکارہ بلقیس خانم کے ساتھ ان کی ملاقات 1979ء میں پاکستان کے دورے  کے دوران ہوئی۔ نشیب و فراز  کے باوجود  یہ  شادی کامیاب رہی۔ بلقیس خانم  آخری دم  تک رئیس خاں کے ساتھ رہیں۔ ان   سے ان  کے دو بیٹے ہیں ، فرحان خاں او ر حضو ر حسنین خاں۔  یہ دونوں ستار بجاتے ہیں۔

مزاجاً رئیس خاں پارہ صفت  آدمی تھے۔ وہ سرد او ر  گرمجوش، سنگ دل او  ر محبتی، ناراض او ر  خوش،  اور   حلیم او ر منتقم  ہو سکتے ہیں۔ جب وہ  گرمجوش  ہونا چاہتے  تو وہ بڑے مہربان اور شفیق ہو جاتے۔ ستار نواز اشرف شریف خاں استاد کے ساتھ اپنی آخری ملاقات  کو اداسی کے ساتھ  یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں، ” وہ اُس وقت بڑے بیمار تھے مگر ذہنی طور پہ  چاق تھے۔ انھوں نے   اس ملاقا ت  میں میرے ساتھ ایک بیٹے کا سا سلوک کیا، مجھے اتنی دردمندی او ر خلوص سے دعائیں دیں کہ  میری آنکھوں میں آنسو آ گئے”۔

رئیس خاں  بہت  زیادہ حساس طبیعت کے آدمی  تھے اور اکثر وہ زخم بھی تصور کر لیتے جو حقیقت میں  موجود نہ ہوتے۔ انھوں نے اپنے غصیلے مزاج ، حساسیت اور  غرور کی وجہ  سے بہت سے دوست کھو دیے لیکن ہمیشہ  یہی ظاہر کیا کہ انھیں اس کی کوئی پرواہ نہیں۔ انھیں اشتعال دلانا بہت آسان تھا۔ 2012ء میں  جذبہء امن   کے نام سے ممبئی میں ہونے والی ایک بڑی محفلِ موسیقی میں استاد ولایت خاں کی بیٹی یمن خاں  نے پہلی قطار میں بیٹھ کر انھیں  چنوتی دی کہ وہ  گائیکی انگ  کے مبداء کے بارے میں   اپنے دعاوی کا ثبوت لائیں۔  بجائے اس کے کہ وہ    لڑاکا  اور  بھٹکی ہوئی  گائیکہ کو نظر انداز کرتے، رئیس خاں  نے  بھدے ترین انداز میں جواب دیا،  بے وقوف خاتون کو  لفظوں کی ایسی مار دی کہ  وہ ساری زندگی  یاد رکھے گی۔

رئیس خاں بطور موسیقار اپنی قامت سے آگاہ تھے لیکن   اس آگاہی نے ان کے کیرئیر کو نقصان پہنچایا۔ انھوں نے بے شما ر محافلِ موسیقی  کی درخواستیں  اس لیے رد کر دیں کیونکہ  انھوں نے محسوس کیا کہ انھیں  ان کی قامت کے مطابق ادائیگی نہیں کی جا رہی، وہ اکثر دیگر فنکاروں  کی بہ  نسبت اچھی خاصی زیادہ رقم  کا تقاضا کرتے۔ انھوں نے بھارت اور  پاکستان دونوں جگہ موسیقی  کی دھنیں تشکیل دیں۔ ان  کے کئی  گانے مثلاً نورجہاں کا گایا ہوا ‘کبھی کتابوں میں پھول رکھنا’، اور مہدی حسن کا گایا ہوا ‘میں خیال ہوں کسی او ر کا’ بے پناہ مقبول ہوئے لیکن انھیں  اس قدر مقبول گانے بنانے کے بعد  بہت تھوڑا کام ملا۔ وہ دیگر میوزک کمپوزرز کی بہ نسبت چار سے پانچ  گنا زیادہ معاوضہ چاہتے تھے۔ پروڈیوسرز انھیں ان کا  تقاضا کردہ   معاوضہ دینے  کی سکت نہیں رکھتے تھے او  ر کم معاوضے والے کمپوزرز کے ساتھ کام  کر لیتے تھے۔

رئیس خاں ایک زبردست حسِ مزاح کے حامل تھے۔ وہ  سامعین کے جمِ غفیر کو اپنی دلچسپ گفتگو سے گھنٹوں تک محظوظ رکھ سکتے  تھے۔ وہ    پُر لطف، مزاحیہ اور  محظوظ کن قصے سنا کر   مزا لیتے۔ ٹی وی  کے پروگرام ورثہ ہیریٹیج میں طبلہ نواز تاری نے  ان کی سنگت کرتے ہوئے ایک  غلطی کر دی۔  انھوں نے موقعے پر ہی اس کی اصلاح کر دی او ر پھر یہ جملہ کہا کہ  تاری یہ غلطی ہرگز نہ کرتا اگر اس نے مردوں والے  کپڑے پہنے ہوتے۔ تاری کی بھڑکیلے، چمکدا ر اور شوخ  کپڑے پہننے کی عادت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انھوں نے مزید کہا کہ اگر وہ  نسوانی کپڑے پہننا ترک کر دیتا تو ایک اچھا طبلہ نواز  ہوتا اور یہ کہہ کر انھوں نے قہقہہ لگایا۔

رئیس خاں  حد درجہ جذباتی تھے۔  وہ چیزوں کو بہت زیادہ محسوس کرتے، شدید ردِ عمل دیتے،  اور بہ آسانی دل شکنی کا شکار ہو جاتے۔ بعض اوقات وہ مفت بجاتے اور بعض اوقات چھ ہندسی معاوضہ مانگ لیتے۔ ان کی سیماب وَشی ان  کی چھب کا ایک حصہ تھی اور، حیران کن طور پہ ، ان کی دلکشی میں اضافہ کرتی۔ جب ان سے ان کے اس مزاج کے بارے میں سوال کیا جاتا تو  وہ کہتے،”میں تو ایسا ہی ہوں۔ جن لوگوں کو میں اس  انداز میں  نہیں بھاتا انھیں مجھ سے دور رہنا چاہیے۔ اچھا ستار بجانے کے لیے  بہت زیادہ  جذبے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر میں ویسا نہ ہوتا جیسا کہ میں ہوں  تو میں میکانیکی طریقے سے ستار بجا رہا ہوتا جیسا کہ آج کل دوسرے لوگ بجا رہے ہیں!”

ایک طویل علالت کے بعد رئیس خاں 06 مئی 2017ء کو کراچی میں انتقال کر گئے۔ ان کی وفات سے نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں حقیقی مترنم ستار کا خاتمہ ہو گیا۔  آج دنیا میں  بہت سے  باصلاحیت ستار نواز موجود ہیں۔ وہ  بڑی مہارت سے بجاتے ہیں اور   راگ اور تال کا اچھا علم رکھتے ہیں۔ ان کی تیاری اور  رفتار شاندار ہے۔ بعض نے  اس ساز اور اس کے  خزینے میں نمایاں  اضافے  بھی کیے ہیں۔   ان میں سے بعض ہندوستانی سنگیت اور کرناٹکی سنگیت کے ساتھ ساتھ  دنیا کے دیگر خطوں کی موسیقی  کافہم بھی  رکھتے ہیں۔ بعض اچھے ستار ساز بھی ہیں۔  چند ایک  لَے کاری کو  نئی تاریخی بلندیوں پر لے گئے ہیں۔ تاہم ان میں سے کوئی بھی  رئیس خاں کے ستار کی زرخیز، رومانوی اور   شیریں آواز  کا مقابلہ  نہیں کر سکتا۔ کوئی بھی نہیں!

اور یہ  بڑی اداسی کی بات ہے۔  

Recommended Posts
Comments
  • عثمان سہیل
    جواب دیں

    All great artists are sensitive and perhaps a self realization of their position is manifested in an egocentric personality. He was a musician par excellence amongst the greats. Thank you Kabir Ali Sb for bringing this piece before us,

Leave a Comment

Jaeza

We're not around right now. But you can send us an email and we'll get back to you, asap.

Start typing and press Enter to search