محترم عمران شاہد بھنڈر کی خدمت میں- تحریر: محمد دین جوہر

[جناب عمران شاہد بھنڈر نے فیس بک پر ایک مختصر تحریر بعنوان ”آئیے، آج عقیدے کو عقل کے حضور پیش کریں“ شائع کی۔ جناب محمد دین جوہر نے اس موضوع پر فاضل مصنف کو مکالمے کی دعوت دی جو قبول کر لی گئی۔ اس متوقع مکالمے کی پہلی کڑی جوہر صاحب کی یہ تحریر ہے جو جائزہ کے صفحات پہ پیش کی جا رہی ہے۔ ہم بھنڈر صاحب کی مذکورہ بالا تحریر بھی ابتدائیے میں شامل کرنا چاہتے تھے لیکن اس کے لیے ہمیں ان کی طرف سے اجازت درکار ہو گی، ان کی یہ تحریر ان کی فیس بک وال پہ عوامی ملاحظے کے لیے موجود ہے۔ اب آپ جوہر صاحب کی جوابی تحریر ملاحظہ کیجئے۔ مدیر]

جیسا کہ ظاہر ہے اپنی مذکورہ پوسٹ ”آئیے، آج عقیدے کو عقل کے حضور پیش کریں“ میں آپ عقیدے کو عقل کے حضور ججمنٹ کے لیے  لائے ہیں۔ ہم اسے تحسین کی نظر سے دیکھتے ہیں کیونکہ عقیدے پر عقل کے فیصلے کا قضیہ کوئی نیا نہیں۔ اس میں سب سے بنیادی سوال یہ ہے کہ عقل کی نمائندگی تو آپ کر رہے ہیں، تو عقیدے کی نمائندگی کون کر رہا ہے؟ اور عقیدے کا بیان کہاں ہے؟ اس میں جو چیز علمی دیانت اور علمی انصاف کے منافی ہے وہ آپ ہی کا عقیدے کی نمائندگی کرنا ہے، اور عقیدے سے ایسی چیزیں منسوب کرنا ہے جو قطعی غلط ہیں۔ اس میں آپ کی غیرجانبداری مشتبہ ہے، اور آپ نے عقل کا فیصلہ آنے سے پہلے ہی عقیدے سے اپنی نفرت اور تعصب کا اظہار کیا ہے۔  اس سے عقیدے کو تو کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا لیکن عقل کی بھی کوئی خدمت نہیں ہو پاتی جو بظاہر آپ اس پیشی سے کرنا چاہ رہے ہیں۔ گزارش ہے کہ آپ شیر کو بکری کے پاس لے جانا چاہتے ہیں اور بکری نے گھاس پھونس کے کئی گٹھے جو اکٹھے کیے ہوئے ہیں، اس سے آپ شیر کو ڈراتے ہیں۔ یہ کون سی علمی اپروچ ہے اور آپ اس کے کیا عقلی دلائل رکھتے ہیں؟

آپ نے اپنی تحریر میں یہ باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ عقیدہ اور عقل باہم یک نگر (mutually               exclusive ) ہیں۔ اس کے لیے کوئی دلیل تو آپ نے نہیں دی، اور اس کی کمی کو آپ نے عقل کے پیش پا افتادہ کارنامے گنوا کر پورا کرنے کی کوشش کی ہے۔ عقیدے اور عقل کا جھگڑا نہ ان کارناموں پر ہے، نہ عقل کی فعلیت میں ہے اور نہ عقل کے حاصلات علم میں ہے۔ جھگڑا عین اسی جگہ ہے جس کا آپ نے پوسٹ میں عقل کے حوالے سے ذکر کیا ہے کہ ”عقل کو یہ بات قطعاًَ پسند نہیں ہے کہ کوئی شے عقل کو عقل سے ماورا جا کر اس کی حدود کا تعین کرنے کی کوشش کرے۔“ عقیدے کا بھی یہی موقف ہے کہ وہ جائز علمی بنیادوں پر عقل کو خود پر حکم بننے کی اجازت نہیں دیتا۔ جبکہ آپ کے پاس کوئی عقلی دلیل نہیں ہے۔  اس میں بنیادی نزاع یہی ہے کہ عقل عقیدے سے معرَف ہو گی یا عقیدہ عقل کا معرِف ہو گا۔ جو بات عقل کو پسند نہیں عین وہی بات بدلائل عقیدے کو بھی پسند نہیں۔ لیکن آپ نے اس مسئلے کو عقل کی پسند اور عقیدے کی پسند ظاہر کیے بغیر اپنی پسند سے حل کرنے کی کوشش کی ہے، جو علمی طور پر ہرگز valid نہیں ہے۔ آپ تو ایک proclaimed               philosopher ہیں، حیرت ہے آپ نے جائز علمی طریقہ کار کو کیونکر فراموش کر دیا۔

آپ نے عقیدے کو عقل کے حضور پیش کرنے کے بعد کوئی جرح کرنے کی بجائے عقل کے کافی کچھ کارنامے گنوائے ہیں، اور شاید آپ کو وہم ہوا ہے کہ کوئی حاملِ عقیدہ ان کا معترف نہیں ہے، یا عقل کے ان کارہائے نمایاں کو مان لینے سے عقیدے پر حرف آتا ہے۔ یہ آپ کا سنگین مغالطہ ہے۔ گدھے کا کام اسی کا نصیب ہے، اور گھوڑے کا کام اسی کو زیبا ہے۔ عقیدے کے وہ کام ہیں نہیں جو آپ نے گنوائے ہیں، وہ عقل ہی کی مزدوری ہے اور اسی نے کرنی ہے۔ مناقب عقل بیان کرنے سے تو کچھ ثابت نہیں ہوتا۔ لیکن وہ سارے کام کر کے بھی عقل کے لیے فخر و مباہات کی کوئی گنجائش نہیں نکلتی اور وہ پھر بھی عقیدے کے برابر بیٹھنے کے قابل نہیں ہوتی۔ عقیدے اور عقل کے حوالے سے اس چیز کو سمجھنا ضروری ہے۔ علوم کی مثال دیتے ہوئے آپ یہ بالکل بھول گئے کہ  Sisyphean               Labour  تو Luciferian               Reason کی تقدیر ہے اور آپ نے اس چیز کو کمالات اور دلائل سمجھ لیا، اور عقیدے کے خلاف بے تیغ ہی لڑنے لگے۔ عقیدے کے رد کے لیے شماریاتی کی بجائے عقلی دلائل لائیے تاکہ ہم بھی آپ سے کچھ استفادہ کر سکیں۔

عقل کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ سارے آفاق کا علم جمع کرنے کے بعد بھی ان علوم سے کوئی قدر برآمد نہیں کر سکتی۔ عقیدہ عقل کی substantive               posturing کو بجا طور پر ”ظلم“ سے تعبیر کرتا ہے کیونکہ اس کی کوئی علمی بنیاد ہی نہیں ہے اور عقل بضد ہے کہ وہ اپنی اقدارِ علم اور اقدار وجود متعین کرنے میں خودمختار ہے۔ آپ ذرا عقل کے حاصلاتِ علم کی تہہ میں کارفرما خود ساختہ اقدار کو ظاہر کیجیے تو عقیدہ آپ سے ضرور بات کرے گا۔

آپ نے اپنی پوسٹ میں علم البشریات (Anthropology) کے بارے میں کافی عقیدت مندی کا اظہار کیا ہے جو میری رائے میں ایک بالکل fake               discipline ہے۔ اگر آپ ہمیں یہ سمجھا دیں کہ وہ عقل کی معراج کیسے ہے تو یہ کم از کم میرے جیسے لوگوں کی آموزش کا ایک اچھا موقع ہو گا۔

آپ کی پوسٹ میں میرے لیے سب سے حیرت انگیز بات آپ کے ہاں عقیدےکا rudimentary اور قطعی غلط تصور ہے۔ آپ کے بقول عقیدے کا تعلق مابعد الطبیعیات سے ہے۔ مابعد الطبیعیات بھلے speculative ہو، بھلے عرفانی، اس کا عقیدے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔  مابعد الطبیعیات علم الحقائق ہے اور وہ قطعاً عقیدے کا موضوع نہیں ہے اور نہ عقیدے کو اس طرح کی ”لغویات“ میں کوئی دلچسپی ہے۔ speculative اور عرفانی علم الحقائق کے حاملین یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے کبریت احمر پا لی ہے۔ ہو سکتا ہے ایسا ہی ہو۔ حامل عقیدہ شخص کو اس میں کوئی دلچسپی نہیں۔ مابعد الطبیعیات اپنی ہر جہت میں فلسفے کا موضوع ہے، یا اگر آپ کچھ گنجائش دیں تو عرفان کا موضوع ہے۔ آپ سے زیادہ اس امر سے کون باخبر ہو گا کہ مابعد الطبیعیات کے حوالے سے فلسفے اور عقل نے کچرے کے پہاڑ جمع کیے ہوئے ہیں، اور وہ اس سے اب سنبھل نہیں رہے۔ فی زمانہ صورت حال یہ ہو گئی ہے کہ علم کا ہر discipline اپنی اپنی وجودیات (ontology) تھیلیوں میں لیے پھرتا ہے۔ اب اتنی ontologies ہو گئی ہیں کہ گروسری سٹور سے بھی مل جاتی ہیں۔ آپ عقیدے کے بارے میں جن خیالات کا اظہار کرتے ہیں، ان کی ontology کا مارکہ بھی آپ کو بتانا چاہیے تاکہ ہم بھی اپ کی علمیات کو جان سکیں۔ مابعد الطبیعیات یا ontology کی مستقل اور ناکام تلاش ہی تو جدید علوم کی Achilles’               heel ہے۔

گزارش ہے کہ عقیدے کا تعلق غیب اور خبرِ غیب سے ہے۔ حامل عقیدہ آدمی یہ موقف ہرگز نہیں رکھتا کہ اسے کوئی علم الحقائق حاصل ہو گیا ہے، بلکہ وہ یہ کہتا ہےکہ جاء الحق و زھق الباطل اور اس حق کو مان لینا ہی اس کا عقیدہ ہے۔ وہ حق پر ایمان لاتا ہے، کسی مابعدالطبیعیاتی یا خیالی علم الحقائق پر نہیں۔ حامل عقیدہ آدمی سے کسی مابعد اطبیعیاتی مسئلے کے حل کا مطالبہ کرنا فلسفے، علم، عقیدے اور مذہبی آدمی سے بےخبری پر دلالت کرتا ہے۔ عقیدہ تو بھائی مخبرِ صادق کی  لائی ہوئی خبر کی تصدیق کرنا ہے۔ ظاہر ہے آپ وحی کے منکر ہیں، لیکن وحی کا انکار کرنا اور اس کا عقلی رد کرنا دو مختلف چیزیں ہیں۔ آپ ایمان بالغیب پر بننے والے عقیدے کا رد کر کے دکھائیں تاکہ ہمیں آپ کا علم معلوم ہو اور یہ شبہ رفع ہو کہ آپ متعصبانہ پروپیگنڈے میں مصروف رہتے ہیں۔ ہم وحی نبوی پر ایمان لائے ہیں، آپ نہیں لائے، تو عقل کا بول بالا اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ آپ اپنے موقف کے کوئی محکم عقلی دلائل سامنے لائیں۔

آخر میں ایک ذاتی گزارش کرنا چاہوں گا کہ اقبالؒ چونکہ آپ کا نفسیاتی مسئلہ ہے اس لیے ان کو بیچ میں نہ لائیں۔ ان کے ساتھ آپ کا جھگڑا فی الوقت میرے لیے کوئی دلچسپی نہیں رکھتا۔ وہ قلندر جانے اور آپ جانیں۔

Recommended Posts

Leave a Comment

Jaeza

We're not around right now. But you can send us an email and we'll get back to you, asap.

Start typing and press Enter to search