پاکستان میں انگریزی ادب پڑھنا: حارث ظہور گوندل (ترجمہ: اسد فاطمی)

سال 2016 چل رہا ہے اور میں اکتایا پڑا ہوں۔ میں نے نفسیات کے ہمراہ انگریزی ادب کو اپنا دوسرا تخصیصی (major) مضمون رکھنے کا فیصلہ کیا تاکہ اس اکتاہٹ سے کچھ چھٹکارا ملے۔ ادب کے پہلے سبق میں، جیسا کہ یہ تعارفی کورس تھا، مجھے میکبتھ (Macbeth) پڑھنے کا کہا گیا ہے۔ میں اسے پڑھتا ہوں، جائزہ لیتا ہوں، اس پر ایک دو مقالے لکھتا ہوں، آدھی رات کے وقت، یا جب میں کچھ کھانے کے لیے بازار کی طرف مٹر گشت کرنے نکلوں تو اس کے بارے میں سوچتا رہتا ہوں۔ اب میں اتنا بوریت زدہ نہیں رہا۔ کم از کم اب میرے پاس پڑھنے کو، خود کو کھپائے رکھنے کو، سوچتے رہنے کو کچھ ہے، ادب کی یہ طاقت، ادب کا یہ وزن، اب میرے پاس کچھ نہ کچھ تو ہے۔

اب 2017 ہے اور میں اپنے ملک کے بارے میں سوچ رہا ہوں۔ میں اپنے ملک کے سیاسی اور سماجی حقائق کے بارے میں محو فکر ہوں۔ میں جمالیات اور سیاست کے درمیان، زندگی اور ادب کے درمیان تعلق کے بارے میں سوچ رہا ہوں جس طور سے یہ ادب اور میرے درمیان اور اس سے باہر موجود ہے۔ اور ادب کی ہمارے لیے، دنیا کے جنوبی (یعنی امریکہ، یورپ سے باہر کے) ممالک کے لیے، جنوبی ایشیا کے لیے، پاکستان کے لوگوں کے لیے، مٹیالے رنگ کے انسانوں کے لیے کیا معنویت ہے۔ ایسے ملک کے باسیوں کی حیثیت سے جس نے 70 برس پہلے نوآبادیاتی جبر سے آزادی حاصل کی۔ ایسا ملک جو ابھی تک ایک نئی قسم کے نوآبادیاتی ظلم سے آزادی پانے کی جدوجہد میں ہے، جو عجیب تر قسم کا اور ایک پرفریب منصوبہ ہے۔ مجھے 19ویں صدی کے وکٹوریائی ناول پر ایک کورس رکھنے کا کہا گیا ہے۔ مجھے برونٹے سسٹرز(Brontë      Sisters)، چارلس ڈکنز، تھامس ہارڈی، آسکر وائلڈ کو پڑھنے کا کہا گیا ہے۔ یہ 2017 ہے، میں پاکستان میں ہوں، اور میں ودھرنگ ہائٹس (Wuthering      Heights) پڑھ رہا ہوں۔یہ ناول ان وقتوں میں لکھا گیا تھا جب ایسٹ انڈیا کمپنی اپنی حکمرانی سے سبکدوش ہو رہی ہے اور برطانوی راج شروع ہونے والا ہے۔ مجھے ہارڈی کو سمجھنے کا کہا گیا ہے۔ مجھے ادب برائے ادب کے بارے میں سوچنے کا کہا گیا ہے۔ مجھے مالامال وکٹوریائی ادب پر مقالہ لکھنے کا کہا گیا ہے۔ یہ سال 2017 ہے اور بلوچستان میں آئے روز لاشیں دریافت ہو رہی ہیں، اور مجھے ادب برائے ادب کے بارے میں سوچنے کا کہا گیا ہے۔

یہ سال 2017 ہے اور میں بوریت زدہ نہیں ہوں۔ میں غم و غصے کی کیفیت میں ہوں۔ میں تھک چکا ہوں اور سیدھا سوچنے سے عاجز ہوں۔ میں ایک متضاد خیالی (cognitive      dissonance) کا شکار ہوں۔ مجھے ڈراؤنے خواب آتے ہیں۔ میں کسی اختلال کے قریب ہوں۔ مجھے کمرۂ جماعت سے شدید نفرت ہو گئی ہے۔ میرا وکٹوریائی ناولوں کو چاک کر دینے کو دل کرتا ہے۔ میرا دل کرتا ہے میں کھڑکی سے کود جاؤں۔ مجھے لگتا ہے کوئی میرا گلا گھونٹ رہا ہے، میری آواز کو دبا رہا ہے، مجھے چپ کرانا چاہ رہا ہے اور میرے احساسات کو دبانا چاہتا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ کوئی مجھے میرے ملک کی سیاسی حقیقتوں کے بارے میں سوچنے سے روک رہا ہے۔ جنگی جرائم میرا پیچھا کر رہے ہیں اور مجھے وکٹوریائی تحاریر کے حسن کے بارے سوچنے کا کہا جا رہا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ کوئی چاہتا ہے کہ میں اپنے ملک کی سیاسی حقیقت کے بارے میں سوچنے سے گریز کروں۔ مجھے لگتا ہے ایملی برونٹے (Emile      Bronte)کا بھوت کیمپس میں دندناتا پھرتا ہے، اور ہر کہیں میرا پیچھا کرتا ہوا، میری بے بسی پر خندہ زن ہے اور میری زندگی میں آ گھسنے کی پوری کوشش میں ہے۔ یہ بھوت ایک حملہ آور ہے، ایک جنگی مجرم ہے، یا جنگی مجرم سے ملتا جلتا ہے، یا کسی جنگی مجرم کا کوئی دوست ہے۔ جنگی جرائم میرا پیچھا کر رہے ہیں اور مجھے وکٹوریائی تحریروں کے حسن پر داد دینے کا کہا جا رہا ہے۔ ادب کا یہ بوجھ، یہ قوت، عظیم اور اجنبی، مجھ سے اٹھائے نہیں اٹھتے۔ میں وکٹوریائی حسن اور چمک دمک کے بوجھ تلے دبا پڑا ہوں۔ مجھے اس کی داد دینے کا کہا جا رہا ہے۔ مجھے اس پر کام کرنے کا کہا جا رہا ہے۔ یہ سال 2017 ہے اور میں ایک ڈراؤنا خواب دیکھ رہا ہوں۔ میرے حواس نزع کی منزل تک پہنچ آئے ہیں۔ مجھے ان سے نمٹنے کا کہا جا رہا ہے، ادب کی اس طاقت کے نیچے دب جانے کا کہا جا رہا ہے جو اپنے چال ڈھال میں مہیب اور اجنبی ہے۔ مجھے ادب کی اس طاقت کو قبول کرنے کا کہا جا رہا ہے، اس سے مطابقت پیدا کرنے، اسے اپنے تن من میں محسوس کرنے کا اور اسے انتہائی بنیادی بات ماننے کا کہا جا رہا ہے۔ یہ 2017 ہے اور مجھ سے بے پناہ تقاضے کیے جا رہے ہیں۔

ابھی 2017 ہی ہے اور میں ایک بھیانک سپنے سے گزر رہا ہوں اور مجھے شاعری کا ایک کورس رکھنے کا کہہ دیا گیا ہے۔ مجھے ملٹن، بائرن، کیٹس، شیلے، اور کچھ دوسرے عمدہ بھلے مانسوں کو پڑھنے کا کہا گیا ہے۔ میں انہیں پڑھنے کے قابل نہیں ہوں۔ میں ان کی شاعری کا مطلب سمجھنے سے قاصر ہوں۔ میں کمرۂ جماعت میں کھو سا جاتا ہوں۔ آئے روز اغوا ہو جانے والے میرے ملک کے باسیوں کے بھوت میرا پیچھا کرتے ہیں اور مجھ پر آسیب کا سا سایہ ہے۔ اور مجھ سے رومانوی شاعری پڑھنے کا تقاضا کیا جا رہا ہے۔ مجھے پتوں اور پھولوں اور انکی نرم پتیوں کے بارے میں پڑھنے کا کہا جا رہا ہے یا پھر یہ کہ آدم اپنے جنت سے نکالے جانے پر ناخوش کیوں ہے۔ میں جو کچھ پڑھتا ہوں مجھے اس پر خوش اور قانع رہنا ہوگا۔ مجھے اطمینان محسوس کرنا چاہیے۔ مجھے محنت کرنی ہوگی اور رومانوی شاعری کی تحسین میں مقالے لکھنے ہوں گے۔ جبکہ حقیقت میں مجھے مغائرت کا ایک عجیب سا احساس گھیرے ہوئے ہے، ایک ایسا بوجھ جو مجھ سے اٹھائے نہیں اٹھتا، ایک بوجھ جو ہر دن، ہر رات مجھ پر لدا رہتا ہے، جبکہ میں اپنے کمرے میں بیٹھا کھڑکی سے باہر تاک رہا ہوتا ہوں، یا پھر میں کچھ کھانے کے لیے بازار جاتے ہوئے مٹرگشت کر رہا ہوتاہوں۔ یہ سال 2017 ہے اور میں پاکستان میں ہوں، اور تجسس آہستہ آہستہ سے میرے کمرے سے چل کے باہر جا رہا ہے۔ اس کی جگہ غم و غصہ نے لے لی ہے۔

اب یہ 2018 ہے اور مجھے ڈراما میں ایک کورس لینا ہے۔ وہاں، میری شیکسپیئر سے دوبارہ ملاقات ہوتی ہے۔ لیکن اب میں ایک متجسس آدمی نہیں رہا۔ اب میں کتابوں کو تحیّر کے احساس کے ساتھ اٹھانے والا وہ شخص نہیں رہا جو کچھ نہ کچھ نیا جاننا چاہتا ہو۔

اب 2018 ہے اور میں ایک ڈراؤنا سپنا دیکھ رہا ہوں، اب مجھے تخلیقی انشاء پردازی (creative      writing)رکھنے کا کہا گیا ہے۔ وہاں، اس کمرۂ جماعت کے اندر، وہاں اب کوئی سامراجی دیو میرا پیچھا نہیں کر رہے۔ یہاں کوئی سفید فام بدروحیں میری بے بسی پر نہیں ہنس رہیں۔ وہاں، میں گلوریا آنزالدؤا (Gloria      Anzaldua) سے ملتا ہوں۔ میں رابرتو بولانو (Roberto      Bolaño) سے ملتا ہوں۔ میرا جمیکا کِنسیڈ (Jamaica      Kincaid) سے ملنا ہوتا ہے۔ میں بالدوِن (Baldwin) اور ایلی‌سن (Ellison) سے ملتا ہوں۔ وہاں، میرا مہاسویتا دیوی (Mahasweta      Devi) سے آمنا سامنا ہوتا ہے۔ سارا شگفتہ میرے کمرے میں آتی ہے اور ڈراؤنے خواب سے جگاتی ہے۔ وہاں، میرا عالمی جنوبی یکجہتی اور ترجمے کی طاقت سے آمنا سامنا رہتا ہے۔ میری بورخیس(Borges) اور کورتازار (Cortázar) سے ملاقاتیں رہتی ہیں۔ میرا ادب پر ایمان بحال ہو گیا ہے۔ مجھ پر اب اپنی چال ڈھال میں مہیب اور اجنبی لفظوں کی طاقت کا بوجھ نہیں ہے۔ بلکہ اب مجھے کچھ نئی طاقتوں کا سہارا میسر ہے، ایک نئی توانائی کا، اور اب مجھ پر ایملی برونٹے کے بھوتوں کا سایہ نہیں ہے۔ وہاں پر مجھے ایک یقین ملتا ہے اور میں ایک سہمے ہوئے بچے کی ماند، جو کوئی برا خواب دیکھتے ہی اپنی ماں سے لپٹ جاتا ہے، اس یقین کو تھامے ہوئے ہوں۔

میں نے مختلف انداز میں پڑھنا شروع کیا۔ میں ادب کو مختلف راہوں سے دیکھنے لگا ہوں، جو بالکل کھری ہیں، جو بہت گہری سیاسی ہیں، اور ان لوگوں کی طرف مراجعت کرنے والی نہیں ہیں جو میری سیاسی سماجی حقیقت کے ٹھٹھے اڑاتی ہوں۔ اب میں ایسی چیزیں نہیں پڑھتا جو میرے وزن میں سبکی لاتی ہوں۔ میں نے ان لوگوں کو پڑھنا شروع کیا جنہوں نے ایسا کچھ لکھا ہو جو میرے لیے مرہم بنے، اور مجھے قوت بخشے، اور زندگی کی سمتوں کو جاننے بوجھنے میں مدد دے۔ ایسا ادب جو لچکدار، سرکش اور انقلابی ہو۔ ایسا ادب جو مجھے ان بدروحوں سے نمٹنے میں مدد دے جنہوں نے مجھے خستہ اور بے بس کر دیا تھا۔ ایسا ادب جو سیاسی روح کو پھر سے زندہ کر دے۔ کیا ہوتا اگر میں تخلیقی انشاء پردازی (creative      writing) کا مضمون نہ چنتا اور برونٹے کے کمرے میں اٹک گیا ہوتا؟ اس کے تصور سے میں چکرا سا جاتا ہوں۔

اس وقت میں Giovanni’s      Room پڑھ رہا ہوں۔

ماخذ: medium.com

Recommended Posts

Leave a Comment

Jaeza

We're not around right now. But you can send us an email and we'll get back to you, asap.

Start typing and press Enter to search