پرچھائی اور حقیقت: جیمز میکالے (ترجمہ: عاصم رضا)

 In ترجمہ
نوٹ:    جرمن نژاد امریکی یہودی خاتون  حینا ایرنت    کا شمار بیسویں صدی کے معروف  سیاسی نظریہ سازوں میں  ہوتا ہے ۔ ہماری معلومات کے مطابق   اردو دان طبقے میں حینا ایرنت سے واقفیت اور اس کے افکار سے شناسائی  تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے ۔ چنانچہ  حیناایرنت کے افکار سے ایک عمومی واقفیت بہم پہنچانے   کی غرض سے  ہمارے دوست جناب عاصم رضا صاحب نے ’’سیاسی نظریہ ساز اور تکثیریت کی شاعرہ: حینا ایرنت  کے افکار سے  تعارف‘‘ کے عنوان سے   تراجم و مضامین کا ایک سلسلہ شروع کرنے کی ٹھانی ہے  ۔اس سلسلے کی ابتداء حینا ایرنت کے بارے میں لکھے جانے والے دو مضامین کے تراجم سے ہو رہی ہے ۔بعد ازاں ، حینا ایرنت کے  منتخب مضامین کو اردو زبان کے قالب میں ڈھالنے کی سعی  کے ساتھ ساتھ اس  حوالے سے چند طبع زاد نکات پر بھی بات ہو گی کہ حینا ایرنت کے افکار  سے ہمارے قلوب و اذہان کے لیے کیا کچھ برآمد ہو سکتا ہے ۔
 حینا ایرنت کے ابتدائی تعارف کے لیے آکسفورڈ یونیورسٹی سے وابستہ محقق جیمز میکالے  کے ایک مضمون کا اردو ترجمہ بطور قسطِ اول  پیشِ خدمت ہے ۔ جیمز میکالے  کی تحقیقات کا بنیادی موضوع ، جدید یورپی تاریخ  ہے نیز ان کی تحاریر  نیویارک ٹائمز  میگزین ، واشنگٹن پوسٹ ، اور دیگر اہم جریدوں میں شائع ہو چکی ہیں ۔  جیمز میکالے نے بیسویں صدی  کی معروف سیاسی نظریہ ساز حنا ایرنت کے بارے ایک مضمون بعنوان ’’Shadow  and  Substance‘‘ لکھا  جسے آن لائن جریدے aeon.co نے  6 جولائی 2015ء کو شائع  کیا  ۔ زیرِ نظر تحریر ، اسی انگریزی مضمون کے اردو ترجمہ پر مشتمل ہے ۔ اصل انگریزی تحریر اس لنک پر دستیاب ہے۔

 

حینا ایرنت     جانتی  تھی کہ کیسے اچھوت یا راندہ درگاہ بنا جاتا ہے ۔ کیا یہی جانکاری   اکیسیویں صدی   میں ایک عالمی شہری بننے کی کلید ہے ؟

 

حینا ایرنت    نے چالیس سال قبل وفات پائی ۔اس کی علمی میراث کا تعین ہنوز غیریقینی ہے۔ 1906ء میں موجودہ ہینور (Hanover)  میں بسنے والے ایک سیکولر  جرمن خاندان  جو معاشرے  میں  پوری طرح  جذب ہو چکا تھا،   کے ہاں جنم لینے والی  حینا ایرنت     نے ’’سیاسی نظریہ ساز‘‘ کہلانے کو ترجیح دیتے ہوئے ’سیاسی فلسفی‘ کے  لقب   کو قبول کرنےسے انکار کیا۔اس کے نزدیک نظریہ اس کے لئے گنجائش فراہم کرتا تھا  کہ وہ انفرادی انسان کے  فلسفیانہ تصور  کو پوری انسانیت کے تجربے  تک   پھیلا دے  نیز اس  اجتماعی انسانی مزاحمت  کے بارے  میں کوئی دیرپا  بات کہہ  پائے جیسا کہ انسانیت نے بیسیویں صدی میں تاریخ کی بے نظیر قتل و غارت کا سامنا کیا۔   یقیناً ، وہ (بات ) جیسی بھی تھی  ، ہنوز مبہم اور غیرواضح ہے ۔ اس کی زندگی کی مانند  اس کا علمی کام کسی مربوط اور واضح سمت میں گامزن ہونے کی بجائے  متناقض  اور متنازع نتائج کے حامل بکھرے  ہوئےمنصوبوں  پر مشتمل ہے ۔

1951ء  میں اس کی کتاب ’’اصل ِ مطلق العنانیت‘‘ (The   Origins   of   Totalitarianism)  نازی ازم کو جس نے اس کی زندگی کو سرے سے ہی بدل کر رکھ دیا ؛ اور  مابعد جنگ عظیم کے کمیونزم کو سمجھنے کی کاوش ہے   جس کا مشاہدہ اس نے  امریکہ میں اپنے ایام ِ جلاوطنی  کے دوران کیا تھا ۔اس کی یہ تجزیاتی کاوش تاریخی ابہام کا شکار ہے ۔ 1958ء میں اس کی کتاب ’’انسانی  صورت حال‘‘(The   Human   Condition)  میں سیاسی دائرے کے جوہر کی حیثیت سے اس کا  بیان کردہ ’’متحرک زندگی‘‘ کا خاکہ  عمومی اعتبار سے نظری ہے ۔  1963ء میں چھپنے والی  کتاب بعنوان ’’انقلاب‘‘ (On   Revolution)   جو  فرانسیسی اور امریکی انقلاب کے مطالعہ پر مبنی ہے ، اس کے اختیار کردہ ملک امریکہ  کے نام محبت نامہ کی مثل ہے۔ اس کے نزدیک ، امریکہ میں   قدیم طرز ریاست  کی روح اور تنوع  نے  جدید عصر میں ازسرنو جنم لیا اور اپنی بازیافت  کی ۔ 1963ء میں اپنی کتاب ’’ایشمان یروشلم میں‘‘ ، جس نے امریکی مجلے نیویارکر میں اس کے   نازی افسر ایڈولف ایشمان کی رودادِ مقدمہ پر  لکھے جانے والے مضامین  سے جنم لیا تھا ، اس نے رپورتاژ کے میدان میں قدم رکھا اور  ’’شر کا عامیانہ پن‘‘ (the   banality   of   evil) نامی اصطلاح کو وضع کیا جس نے   نیویارک کے دانشوروں  کے مابین  ایک تندوتیز بحث  کو چھیڑ  دیا ۔

ایرنت ، ہولوکاسٹ کی محض تماشائی نہ تھی ۔  1933ء کے بعد جلاوطنی   پر  مجبور کیے جانے کے بعد وہ  پہلے چیکوسلواکیہ گئی ، پھر وہاں جنیوا،پیرس اور گرز(Gurs) کے فرانسیسی قید خانے گئی اور اخیر میں امریکہ پہنچی جہاں  وہ  نیویارک شہر میں رہائش پذیر ہوئی ۔ وہاں وہ مابعد جنگ عظیم کے امریکہ کی علمی زندگی میں نمایاں ترین  شخصیات  میں سے ایک شمار کی گئی  ۔ وہ  قریب قریب  تمام  معروف فلسفیوں کو جانتی تھی  :  ماربرگ جرمنی میں ایک طالبہ کی حیثیت سے اس کا اپنے استاد  ، فلسفی (اور مستقبل میں نازیوں کے ہمدر د ) مارٹن ہائیڈیگر  کے ساتھ  مختصر عرصہ کے لیے معاشقہ رہا ۔ بعد ازاں ، گرز (Gurs) میں ہی  اس نے فلسفی والٹر بنجمن (اس کے پہلے خاوند  گنتر اینڈرز  کا کزن )کے ساتھ ایام ِ اسیرے گزارے ؛  والٹر بنجمن نے نازیوں کے ہاتھوں گرفتار ہونے سے بچنے کے لیے ستمبر 1940ء میں خودکشی کر لی ۔

ایرنت  محفوظ رہی اور وہ ان لاکھوں یورپی تارکین  میں شامل  تھی جنھیں  مجبور کر دیا گیا کہ وہ اجنبی   ممالک میں  اجنبی زبانوں کے ذریعے اپنی  ذات کی  تشکیل ِ نو کریں ۔ جیسا کہ اس نے 1943ء کے  اپنے  غمناک مضمون ’’ہم پناہ گزیں‘‘(We   Refugees) میں لکھا:

’’ہمارے رویوں کو بیان کرنے کی غرض سے ایک عمدہ مختصر   طلسماتی کہانی  گھڑی گئی ہے ؛ جرمن نسل  کا لمبے دھڑ اور چھوٹی ٹانگوں والا  ایک لاچار اور بے گھر کتا ،  دکھی ہو کر یوں بات کا آغاز کرتا ہے : ایک دفعہ جب میں سینٹ  برنارڈ شہر میں تھا ۔۔۔۔‘‘

اگرچہ ایرنت ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی سماجی حرکیات کو کبھی سمجھ نہیں پائی لیکن اس لاچار جرمن کتے  نے وہاں ایک اچھی اور کامیاب زندگی گزاری  ۔ 1957ء میں لٹل راک آرکنساس کے سرکاری سکولوں میں سیاہ فام  طلباء    کو بزور قوت داخلہ دلوانے  پراس نے یوں  تبصرہ کیا  :

’’اگر ایک یہودی کی حیثیت سے میں  اپنی چھٹیاں  صرف یہودیوں  کے درمیان گزارنے کی خواہش کروں  ، تو میری نگاہ میں مجھے اس بات سے روکنے کی کوئی معقول وجہ نہیں ہے ؛ جیسا کہ میرے خیال میں کوئی معقول وجہ نہیں ہے کہ کیوں دوسرے تفریحی مقامات کو اپنے کسی گاہک کو یہ سہولت مہیا نہیں کرنی چاہیے جو اپنی چھٹیوں کے دوران یہودیوں کو نہیں دیکھنا چاہتے۔‘‘

بندہ ان خیالات  پر کسی حد تک چونک جاتا ہے ۔

ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں، ایرنت کو اس کے افکار اور عز م ِ صمیم کی بدوولت  بے پناہ  پذیرائی حاصل ہوئی ۔ کئی معتبر تجارتی اداروں نے اس کی کتابیں چھاپیں جو زیادہ تعداد میں فروخت ہوئیں  اور وہ    پرنسٹن یونیورسٹی میں پروفیسر  تعینات کی جانے والی پہلی خاتون تھی ۔ وہ شکاگو یونیورسٹی اور نیویارک کے نیو سکول (New   School) میں  بھی ایک نامور مصنف و مفکر  کی حیثیت  سے موجود رہی   جہاں  اس نے علمی دنیا میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ۔  2012ء میں مارگریٹ وان ٹروٹا  (Margarethe   von   Trotta)  کی زیرنگرانی  بننے والی فلم میں وہ اسی حیثیت سے  سامنے آتی ہے  یعنی  دن میں نارمن پوڈ ہارٹز (Norman   Podhoretz) اور کرٹ بلومن فیلڈ (Kurt   Blumenfeld) جیسی مہان شخصیات (pundits) اور رات کو  میری میکارتھی (Mary   McCarthy)اور فلپ راو(Philop   Rav) جیسے فلمی لکھاریوں  کے ساتھ وقت گزارنے والی ’ریور سائیڈ ڈرائیو‘ کی   ایک معتبر ضعیف خاتون  ۔ شراب ، سگریٹ اور سکینڈل کو شامل کر لیجئے اور یہی ایرنت   ایک یادگار  اور ایک قدیم زمانے کی اوتار بن جاتی ہے جب  ادبی اختلاف سے آگے نہیں بڑھا جاتا تھا اور ذاتی اختلاف   محض سیاسی کی بجائے نظریاتی   ہوتا تھا ۔

تاہم ایرنت  کا غیر معین علمی  ورثہ  گلیمر ، نزاع اور تاریخی و فلسفیانہ تعبیرات   کا ایک ایسا مجموعہ جو سوچنے پر مجبور کر دے ، سےآگے کی چیز  ہے ۔ اس کی وفات کے چالیس برس  بعد دنیائے افکار میں   بیسیویں صدی کی اس فلسفی خاتون  کا سب سے زیادہ دیرپا  حصہ  ، عالمگیریت کے متعلق اس کے افکار  ہیں ، ایسی عالمگیریت جو    اکیسیویں صدی  کو درپیش  آزمائشوں  کے لیے موزوں ہے  ، باوجود اس کے کہ ایرنت اس صدی کو دیکھنے سے پہلے ہی انتقال کر گئی ۔

آج کل ، ’عالمگیر‘ (کاسموپولیٹن) کی  اصطلاح سے  عموما   مختلف مشروبات  سے بننے والا ایک آمیزہ   (cocktail)، ایک میگزین یاکوئی بھی نفیس عالمی شے یعنی انواع و اقسال کی شراب مہیا کرنے والا ایک ریسٹورنٹ   مراد لیا جاتا ہے ۔ مثال کے طور پر ، لندن دنیا بھر سے تعلق رکھنے والی اپنی آبادی اور سہولیات کی بدولت ایک ’عالمگیر‘ شہر ہے ۔ لندن کے وہ باسی عالمگیر شہری ہیں جو یکساں آسانی کے ساتھ  انگریزی یا فرانسیسی بول سکتے ہیں اور پیرس و نیویارک کے متمول علاقوں میں یکساں آسانی کے ساتھ گھل مل سکتے  ہیں ۔ تاہم جب اس اصطلاح کو ’’دولتمند اور فیشن کی دلدادہ‘‘ (jet   set) عوام کے لیے استعمال کیا جاتا ہے تو اس کے عمیق معانی میں سے کچھ نظرانداز ہو جاتا ہے۔

پچھلے برس 2014ء میں  یعنی پہلی جنگ عظیم چھڑ جانے کو   ایک سو سال پورے ہونے  پر   ویس اینڈریسن (Wes   Anderson) کی فلم  ’’عالیشان بوڈاپسٹ  ہوٹل‘‘ (The   Great   Budapest   Hotel) کی ریلیز کے وقت   ہی اس   فلم کے محرکات کے ضمن میں   جنگوں سے پہلے  کی  یورپی دنیا کے حوالے سے کئی  حسرت ناک یادیں  موجود رہی ہیں  ۔ آسٹریائی مصنف سٹیفن زویگ (Stefan   Zweig)  ،  جس کےزیرِ اثر  اینڈریسن نے یہ فلم بنائی ، نے  یورپ کے اس بورژوائی آدرش  کو ایک ایسے مقام کے طور پر دکھایا جہاں ’ہر شہری  ملکی حدود سے بالاتر ہو کر ایک عالمی  یعنی ساری دنیا کا  باشندہ  بن گیا‘۔

حتی کہ 1938ء سے پہلے  جب  جرمنی کے ساتھ اتحاد (Anschluss) نے زویگ کے محبوب  شہر ویانا  کو  بقول ہٹلر ،’’جرمن ریاست  کا جدید ترین گڑھ‘‘ بنا دیا    ،  تواس وقت بھی زویگ   کی عالمگیر ’’دنیائے قدیم ‘‘ ایک آدرش تھا ۔  ایرنت نے بھی اس(آدرش )  کے فرضی ہونے کا دعوی کیا جیسا کہ  زویگ کی جذباتی یادداشتوں  کا تنقیدی جائزہ لیتے ہوئے 1943ء میں اس نے لکھا:

’’اگر مغربی اور وسطی یورپ کے یہودیوں نے اپنے زمانے کے سیاسی حقائق پر برائے نام بھی توجہ دی ہوتی ، تو وہ خود کو محفوظ نہ سمجھتے۔‘‘

حتی کہ قدیم یونان میں جہاں دیوجانس لائرتیوس (Diogenes   Laertius) نے پہلی مرتبہ ’’عالمی‘‘ (Kosmou   Polites) کی اصطلاح متعارف کروائی تھی  ، (وہ معاشرہ ) بھی ایک پدرسری اور غلامی  پر قائم سماج  تھا ۔   قدیم یونان   اور جدید مغرب کے نقائص اور ہولناکیوں کے باوجود ، عالمگیریت کے تصور و آدرش نے  مفکرین کو صدیوں تک گرویدہ بنائے رکھا ہے ۔ 1994ء میں بوسٹن  ریویو (Boston   Review) میں فلسفی مارتھا نوسبام (Martha   Nussbaum)  نے ’’عالمگیری تعلیم‘‘ کے تصور کی حمایت کی یعنی  وہ تعلیم  جوامریکیوں کی ایک ایسی نسل پیدا کرے   جن کی ’’بنیادی وفاداری  دنیا بھر کے انسانوں  پر مبنی معاشرے کے ساتھ ہو گی‘‘۔ 2004ء میں ماہر سیاسیات سائیلا  بن حبیب (Seyla   Benhabib) نے ایک ایسی  عالمگیر سیاست کے حق میں دلائل دیے جو قومی ریاستوں کے سیاسی تناظر  کے لیےبطور نمونہ خدمات سر انجام دے سکتی ہو ۔

روایتی عالمگیریت کے  یہ تصورات بعض لوگوں   کو  اکثر  رو مانوی اور پرکشش دکھائی دیتے ہیں ، تاہم شاید  اکیسویں صدی کا ترمیم شدہ تصور ِ عالمگیریت  سب سے چھوٹی اکائی یعنی    ایک  فرد ، اکیسویں صدی کا باسی ،  کے درجے پر نسبتاً بہتر توجہ دے پائے   جو اکثر و بیشتر متناقض نسبتوں اور متعدد  وابستگیوں  کے ساتھ  ایک پیچیدہ اور  کثیر الجہتی  شناخت  کے تحت زندگی بسر کرتا ہے ۔اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے اکیسویں صدی کے تصورِ  عالمگیریت  کو محض تجریدی  سطح  کی بجائے  عالمگیر   شہری کے  تصور پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے ۔

عالمگیر  شہری  اس حقیقت سے آگاہ   لوگ ہیں کہ شناخت کا کبھی کوئی واحد معیار نہیں  ہوتا ۔ اور قومیت ، مذہب ، جنس ، طبقہ  اور نسل کے روایتی سانچے برقرار  رہتے ہیں  لیکن  شناخت کے  ان قدیم سانچوں کے ظاہر اور ان کے  مابین مشترک مقامات   کے ضمن میں نئی لفظیات بھی موجود ہیں ۔ آج کل بیشتر لوگ  اس حوالے سے حقیقی آزادی کے حامل ہیں کہ  ان میں سے ہر ایک شناخت کے بارے میں خود  ہی فیصلہ کر  سکیں  نیز  اپنی مرضی کے مطابق ان کی قدر کا تعین کر پائیں ۔ شناخت ہمیشہ ایک وحدانی کل  سے مرکب ہے ۔ تاہم  فرد کو کوانٹم   کی چھوٹی اکائی  میں سمجھنا ایک متواتر چیستاں کو جنم دیتا ہے اور فرد سے بالاتر ذمہ داریوں ، انصاف اور انسانیت کے منصوبوں کے لیے ضرررساں بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ لہذا اکیسویں صدی کے تصورِ  عالمگیریت کو لازم ہے کہ وہ آفاقیت  کو قربان نہ ہونے دے  تاہم  متفرق اقسام کے تصورات برائے  آفاقیت  کی  موجودگی کو تسلیم کرے ۔ لوگ اپنے ہی خاکوں کے مطابق جڑوں  کے حامل ہو سکتے ہیں اور وہ   اپنی شخصیات کی تعمیر کے لیے مختلف آفاقی تناظر ات کا انتخاب کر سکتے ہیں ۔ دوسرے الفاظ میں  ، ہر شخص مختلف ہے تاہم کوئی بھی کسی ایک سانچے میں مکمل طور پر نہیں سماتا کیونکہ اکثر و بیشتر متعلقہ سانچا ہی چھوٹا پڑ جاتا ہے ۔

جوہری اعتبار سے عالمگیر شہریوں کے لیے یہی امکان ہے : کثیر الجہتی شناختوں کے حامل لوگ  جو اپنا تشخص  نہ تو کبھی قربان کرتے ہیں اور  نہ ہی  ترک کرتے ہیں ، تاہم انہی  خصوصیات کے اندر رہتے ہوئے   وہ ایک  مٹتی ہوئی مشترکہ انسانیت  کا سراغ لگا سکتے ہیں ۔ 2007ء میں عالمگیریت پر اپنے کام میں ، فلسفی کوام انتھونی اپیا (Kwame   Anthony   Appiah)  نے اس بات کو  یوں بیان کیا : چیلنج یہ ہے کہ ’’مقامی علاقوں میں صدیوں تک رہنے  کی بدولت   بننے والے اذہان و قلوب کو کیسے   اکٹھا کیا جائے نیزانہیں   ان  تصورات اور اداروں کے ساتھ آراستہ کیا جائے جو ان کو ایک دوسرے کے ساتھ رہنے کی اجازت دیں گے جیسا کہ ہم سب اب  ایک عالمی قبیلہ  بن چکے ہیں‘‘۔

تیزی سے  عالمگیریت کو اختیار کرنے والی دنیا میں  ان ’’تصورات اور اداروں‘‘ کے مابین تفاوت یقینی ہے ۔  بہترین نقطہ آغاز اس  امر کی واقفیت ہے کہ ان ’’اذہان و قلوب‘‘ کی انسانیت   ، ان کے خصوصی (امور) کا تعامل ہے  اور ایک بامعنی عالمگیر احیاء  کا دارومدار ان کی مفروضہ یکسانیت کی بجائے انفرادی شناختوں کے مابین بنیادی تفریق   پر ہے ۔

حینا ایرنت     نے کبھی کھل کر عالمگیریت پر نہیں لکھا   اور نہ اس اصطلاح کو کبھی استعمال کیا ۔ تاہم وہ ایک مثالی عالمگیر شہری تھی۔  اس نے اپنے اختیار کردہ وطن   امریکہ سے محبت کی ، تاہم  اس نے  ایک  جدید   حال کو تعمیر کرنے کے لیے کبھی اپنے ماضی کو فراموش نہیں کیا ۔ ایک متفاوت و متفرق  کلیت کو واضح کرنے میں مدد فراہم کرتے ہوئے ، یہودی تاریخ   سے متعلق اس کی تفہیم اور اپنے یہودی پن کا تجربہ اس کی زندگی اور تحقیقات کا مرکز رہا  ۔ ایرنت  کو ’’اچھوت‘‘ بننے   یعنی برادری سے باہر ہونے کا تصورجو اس کے خیال میں یورپ میں یہودیوں پر بیتنے والے تجربے کو بیان کرتا ہے ،   ہمیشہ لبھاتا رہا ۔ جیسا کہ اس نے اپنی کتاب ’’اصل ِمطلق العنانیت‘‘  میں لکھا  کہ یہودیوں کو ’’ہمیشہ  سماجی عزت کی قیمت سیاسی بدحالی اور سیاسی کامیابی کی قیمت  سماجی بدنامی  کی شکل میں  چکانا پڑی‘‘۔

ایرنت کی نگاہ میں ، ایک  اچھوت ہونا  خلقی اعتبار سے منفی نکتہ نہیں ہے ؛ اس کی بدولت ایک خاص فائدہ بھی مل سکتا ہے ۔ 1940ء میں لکھے جانے والے ایک سلسلہ مضامین میں اس نے  ہنرش ہین (Heinrich   Heine)، راحیل وارن ہیگن (Rahel  Varnhagen)، برنارڈ لازارے (Bernard   Lazare) اور فرانز کافکا (Franz   Kafka)  جیسے شعراء اور لکھاریوں کو  ’’باشعور اچھوت‘‘ قرار دیا ۔  اس کے ذریعے اس کی مراد تھی کہ انہوں نے کبھی اپنے یہودی پن سے فرار حاصل  نہیں کیا ، بلکہ انہوں نے  اپنے تفرقات کو  ’’قومیت کی سرحدوں سے اوپر اٹھنے اور  اپنی یہودی عبقریت کے دھاگوں سے  یورپی زندگی کے عمومی نقش و نگار کو بُننے‘‘  میں استعمال کیا  نیز جنھوں نے ’’مناصب ِ انسانیت میں یہودیوں کے بطور یہودی   داخلہ‘‘ کا انتظام کیا ۔ بالفاظ ِ دگر ، جنھوں نے اپنی انفرادیت کو فراموش کرنے کی بجائے سراہا اور اس انفرادیت میں ایک آفاقی درجہ کی معنویت کا سراغ لگایا  ۔

یہ اس کی  عالمگیریت کا  مرکزی خلاصہ تھا ۔ اپنی وطنی اور نسلی جڑوں سے جدا    لیکن  ہمہ وقت مضبوط  رہنے والی ایرنت   پر برے وقت بھی آئے تاہم  انہی کی بدولت ایسا ہوا کہ اپنے طویل اور بے باک کیریر میں وہ  عالمگیریت پر مبنی ایک خواب کے نقش و نگار کو بیان کر سکتی تھی ، وہ عالمگیریت جو اس کی  پچھلی  زندگی سے کم اور نئی زندگی سے زیادہ مطابقت رکھتی تھی  ۔ حیات ِ ایرنت اورفکرِ ایرنت  ایک ایسے شخص کی کہانی ہے جو ایک  خاص  گروہ  یعنی آل ِ یہود کے تناظر سے ایک  آفاقی انسانیت   کے تصور کی کھوج میں لگا ہے (اگرچہ وہ   یہود ی برادری سے  تقریباً  سارا وقت  الجھتی  ہی رہی ) ۔

اپنی ذات سے متعلق ’’اچھوت  پن‘‘ میں پائے جانے والے آفاقی احساس  کو پہنچاننے کی بدولت  وہ ایک سچی عالمگیرشہری تھی ۔ اس کی  میراث  میں سے ایک یہ ہے کہ  اس کی یاد،   تکثیریت    کا ثبوت ہے یعنی   یہ تصور کہ انسان کلی طور پر یکساں نہیں ہیں  لیکن  اپنے تفرقات   سے مودبانہ شناسائی انسانوں کو ایک دوسرے سے جدا کرنے والی سرحدوں سے اوپر  اٹھا سکتی  ہے ۔ ایرنت  کے ہاں عالمگیریت عمومی  انسانی حیات کی برتری کے ساتھ پیوست نہ تھی بلکہ  تفرقات  سے    تعلیم پانے والی اور متاثر ہونے والی مخصوص انسانی زندگیوں    کی انفرادیت میں جاگزیں تھی ۔

تاہم ایرنت کا نام ہنوزمتنازع ہے ۔  اس کا سبب ، اس کی کتاب  ’’ایشمان یروشلم میں‘‘ ہے جو تین لاکھ سے زائدتعداد  میں فروخت ہو چکی ہے ۔ لیکن  یہی وہ کتاب ہے جو ایرنت کی عالمگیریت کی ماہیت کو بہترین انداز میں اجاگر کرتی ہے ۔

1960ء میں (اسرائیلی ایجنسی ) موساد نے ہولوکاسٹ کے مرکزی منتظمین میں سے ایک ، ایڈولف ایشمان کو ارجنٹائن کے دارالحکومت    بیونس آئرس سے گرفتار کیا   اوراس پر  لاکھوں یہودیوں کی  نازی کیمپوں میں منتقلی  جو ان کی  اجتماعی موت پر منتج ہوئی ، کے ذمہ داروں میں سے ایک ہونے کا  الزام عائد کیا ۔  انہوں نے اس کو اسرائیلی  مسافر بردار تنظیم  ایل ایل (El   Al) کے ایک ملازم کی وردی میں ارجنٹائن سے سمگل کیا  ۔اس کا مقدہ ، بقول ایرنت ، ’’دکھاوے پر مبنی مقدمہ‘‘ (Show   Trial) ،  ٹیلی ویژن سے دکھایا جانے والا وہ پہلا واقعہ تھا جس کے ذریعے اس ہولناکی کو دنیا بھر کے سامنے رکھا گیا ، یہی ہولناکی بعد ازاں ’’ہولوکاسٹ‘‘ کے نام سے معروف  ہوئی ۔  یہ پہلا موقع تھا جس کے ذریعے ہولوکاسٹ کے سینکڑوں ستم رسیدوں کو اپنے محسوسات بیان کرنے کا موقع دیا گیا ، ان میں سے کچھ لوگ دوران ِ سماعت کمرۂ عدالت ہی میں ہیجان کا شکار ہوئے نیز بے ہوش ہو گئے ۔اور ، اس  واقعہ کی روداد بیان کرتے ہوئے   ایرنت نے  ان مظلومین کے ضمن میں کسی خاص ہمدردی کا مظاہرہ نہیں کیا  ۔

ایشمان جیسے افراد کے ہاتھوں خود ستم برداشت کرنے والے ایک  فرد کی حیثیت سے وہ یروشلم آئی تھی تاکہ  شیطان کو خود  اپنی آنکھوں سے دیکھ پائے ۔ تاہم اس  نےایشمان کو   اذیت پسند فرد کی بجائے کیریر کو مقصد بنا نے والا  ایک روایتی  بیوروکریٹ پایا  ۔ ایرنت کے نزدیک، ایشمان ’’شر کے عامیانہ پن‘‘ کا نمائندہ تھا ، یہ ایک ایسی تعبیر تھی   جس نے ایرنت کے   بیشتر قارئین کو سوچنے پر مجبور کر دیا کہ   کیا  اس نے اپنے مجرم  کو معاف کر دیا تھا ۔ تاہم یہ وہ لاتعلق اور کھردرا  انداز تھا جس کے ساتھ اس نے یہودی ستم رسیدوں اور پسماندگان  کے ساتھ برتاؤ کیا  اور  اپنے تحقیقی نتائج برآمد کئے  جس نےتنقیدی  آگ کا الاؤ بھڑکا  دیا ۔

طبقہ اشرافیہ سے تعلق  کی بدولت خودپسندانہ تعصب  کے ساتھ ایرنت نے مقدمہ کے   سرکاری وکیل گیڈون ہوزنر (Gideon  Hausner) کو ’’اسپین کے شہر گیلی سے تعلق رکھنے والا ایک عام یہودی بتایا جو  کہ بے درد ، بیزار کن، اور متواتر  غلطیاں کرنے والا شخص ہے ۔اور  غالباً ان لوگوں میں سے ہے جو کسی زبان سے واقفیت نہیں رکھتے‘‘ ۔ اسی اثناء میں  کمرۂ عدالت سے باہر موجود فلسطینی یہودی ’’ایک  روایتی مشرقی ہجوم‘‘ تھا ۔ اس نے برلن سے تعلق رکھنے والے فاضل  ربی اور شہر کے جنگی رہنما لیو بائک (Leo   Baeck)  کو  ’’یہودی ہٹلر‘‘ (Jewish   Fuhrer) کا خطاب دیا  ۔ دھیان رہے کہ  فاضل  ربی نے بذات خود(چیکو سلواکیہ میں واقع ایک قلعہ  بند شہر )   ٹریزن (Terezin) کے نازی کیمپ سے بمشکل جان بچائی تھی ۔

نازیوں نے جن پسماندہ علاقوں میں یہودیوں کو محصور کیا، وہاں کے یہودی رہنماؤں پر مبنی کونسل (Judernate) کے بارے میں ایرنت  نے جو کچھ بھی لکھا ، وہ اس کو تاریخ اور حافظہ کے مابین ہونے والی   سخت جنگ   کے  اگلے  مورچوں پر جگہ دے گا :

’’جہاں  بھی یہودی  محصور کیے گئے  تھے ،ان علاقوں کے معروف یہودی رہنماؤں نے بغیر کسی استثناء  کے نازیوں  کے ہاتھ بٹائے ۔  پورا سچ یہ تھا کہ اگر یہودی لوگ درحقیقت بکھرے ہوئے اور کسی رہنماء کے بغیرہوتے تو یقیناً   خلفشار  اور بے حد تکالیف کا سامنا کرنا پڑتا  ، تاہم  ستم زدگان کی تعدادبمشکل ساڑھے چار تا چھ ملین لوگوں کے درمیان ہوتی‘‘۔

’’ایشمان یروشلم میں‘‘ نامی کتاب میں ایرنت کا ارادہ  نازی  ریاست میں اخلاقی انہدام کی کلیت کو بیان کرنا تھا  یعنی ایک ایسا موضوع جس کی تحقیق اس نے اپنی کتاب ’’اصل ِ مطلق العنانیت‘‘ میں  لگ بھگ ایک دہائی سے کچھ پہلے ہی کر دی تھی ۔ ایرنت کے نزدیک ، اپنے ہی ہم مذہبوں کے خاتمہ میں   یہودی رہنماؤں کی کونسل(Judernate) کی ملی بھگت  اس کلیت کی محض ایک نشانی تھی ، ایک مہیب صورتحال جس میں  ظالم نے  اپنے شکار کو بذات خود  شکاری بنا  دیا تھا ۔ بدقسمتی سے ، اس کے کڈھب لہجے نے اس کے بنیادی   نکتے   کو گہنا دیا  ۔  ایک نامور نقاد کے بقول ، اس کتاب نے نیو یارک کے اہل علم کے مابین ایک ’’تندوتیز تکرار‘‘ کوجنم  دیا ۔ جیسا کہ مؤرخ انتھونی گرافٹن (Anthony   Grafton) نے اپنے بچپن  میں 1960ء کے سیکولر  یہودی حلقوں  کو یاد کرتے ہوئے 2009ء میں لکھا کہ ایسا دکھائی دیتا تھا کہ ’’دنیا کے سب سے بڑے یہودی شہر اور قوم کے سنجیدہ ترین اور اعلی ادارتی مہارت کے حامل   مجلے ’نیویارکر‘ میں ایک یہودی نے ہی  یہودی  قوم سے دغا کیا‘‘۔  ایک مختصر کتاب کے ذریعے معروف سیاسی نظریہ ساز ایرنت  نے خود کو ایک اچھوت  میں تبدیل کر  لیا تھا ۔

ایرنت کے اچھوت پن کی ایک جہت جنس کے ساتھ بھی وابستہ تھی (جیسا کہ راہل وان ہاگن (Rahel   Varhagen) نامی اٹھارویں صدی کی ایک جرمن مشاطہ (salonnière)  کے ساتھ تھا  ، جس کی سرگزشت حیات کو لکھنے کا آغاز   ایرنت  نے 1930ء کی دہائی میں کیا ) ۔ ایرنت کے دوستوں اور نقادوں نے اس کو ایک ایسی خاتو ن سمجھا جس نے مردوں کی  ذہنی اقلیم   پر دھاوا بول دیا تھا  ۔مثال کے طور پر ، 1964ء میں  اس نے (Zur   Person) نامی  ٹیلی ویژن پروگرام میں  گنتر گاز (Gunter   Gaus) کو انٹرویو دیا جو چارلی روز (Charlie   Rose) یا داؤد ڈمبلے (David   Dimbleby) کا جرمن متبادل تھا ۔ گاز نے(ان کلمات کے ساتھ ) آغاز کیا : ’’حینا  ایرنت ،اس  پروگرام میں  بطور مہمان آنے والی آپ پہلی خاتون ہیں ۔ ایک  خاتون جو ایسے شعبہ سے تعلق رکھتی ہے جس کو شاید کچھ لوگ مردوں کی ملکیت سمجھتے ہیں ۔ آپ ایک فلسفی ہیں‘‘۔

بعینہ ، ینگ بریئل (Young   Bruehl) کے قلم سے لکھی جانے والی ایرنت کی سرگزشت حیات پر اپنے تنقیدی تبصرے میں امریکہ کے ادبی نقاد  الفریڈ کازین  (Alfred   Kazin) نے ایرنت  کو  مفکر کی بجائے ایک عورت کی حیثیت سے متعارف کروایا تھا    جو ’’اپنے متحرک خاوند‘‘ یعنی جرمن شاعر اور فلسفی ہنرش بلوشر (Heinrich   Blucher) کے ساتھ ’’ویسٹ 95 سٹریٹ میں واقع خستہ حال کمروں‘‘ تک ہی محدود رہتی تھی ۔کازین  (Kazin) نے 1982ء  میں (The   New   York   Review   of   Books) میں لکھا کہ ’’وہ چالیس برس کی ایک خوش شکل اور زندہ دل عورت تھی  جس   نے  مجھے اور دوسروں کو نسائی کشش اور دانش دونوں کے ساتھ مسحور کر رکھا تھا‘‘۔

یہ تعصبات جس قدر بھی جابر تھے  ، وہ کبھی بھی  ایرنت کو اپنا قیدی نہیں بنا پائے  ۔ یقیناً وہ اس کے اچھوت ہونے کی وجوہات تھے لیکن وہ اس کی انفرادیت کی بنیادیں بھی تھے  اور اس کی عالمگیریت کا جوہر بھی ۔

ایشمان والے تنازع کے نتیجے میں ایرنت اور اس کے دوست جرمن نژاد اسرائیلی فلسفی جرشوم شولم  کے مابین تندوتیز خطوط کا تبادلہ ہوا۔ جرشوم نے  سوال اٹھایا کہ وہ ان واقعات  پر حکم لگانے کا حق کیونکر لگا سکتی تھی جہاں  وہ موجود نہ تھی ۔ اس نے 1963ء میں لکھا کہ ’’نہ ہی میں حکم لگانے کا سوچ سکتا ہوں کیونکہ میں  بھی وہاں موجود نہ تھا‘‘۔

تاہم اس کے اعتراض میں بنیادی نکتہ، ایرنت میں  ’’حب ِ اسرائیل‘‘ (Ahavat   Israel)  یعنی آل یہود سے محبت  کی عدم ِ موجودگی سے  متعلق تھا ۔ ایرنت کا جواب عالمگیریت  کے بارے اس کے مخصوص زاویہ نگاہ کے بارے میں تھوڑی  بہت جانکاری دیتا ہے :

’’میں اس  قسم کی کسی ’محبت‘ کی قائل نہیں اور ایسا دو وجوہات کی بنا پر ہے : میں نے اپنی ساری زندگی میں کسی    قوم یا  اجتماعیت  کو ’’پیار‘‘ نہیں کیا ، نہ  تو جرمن ، فرانسیسی ، امریکی اور نہ ہی  مزدور  طبقے کو یا اس نوع کی کسی دوسری شے کو ۔ بلاشبہ  مجھے ’صرف‘ اپنے دوستوں سے محبت ہے اور میں محبت کی اسی  واحد صورت کو جانتی ہوں اور یقین رکھتی ہوں کہ یہی انسانیت سے محبت ہے‘‘۔

یہودی شناخت کی بابت جرشوم شولم کے سوال کے بارے میں اس نے لکھا :

’’میرے نزدیک یہودی ہونا میری زندگی کے  غیرمتنازعہ حقائق میں سے ہے اور میں  نے اس قسم کے حقائق کو بدلنے یا  ان سے دست بردار ہونے  کی کبھی خواہش نہیں کی ۔ ہر نعمت  ، وہ جیسی بھی ہو ، کے لیے ایک بنیادی احساس ِ  تشکر ہونا چاہیے‘‘۔

اس کا جواب درحقیقت  اس کے اپنے اچھوت پن کا ایک پرزور  دفاع ہے  ۔ وہ شولم کو مطلع کرتی ہے کہ  اس کی زندگی کی ایک ’’غیرمتنازعہ حقیقت‘‘ یعنی اس کا یہودی ہونا   ،  قطعی طور پر ایک مخصوص تلازمہ  ہے جس کی مذمت سے  وہ انکاری ہے کیونکہ وہ اس کی شناخت میں ایک عنصر کی حیثیت سے ایک امکان کا حامل ہے ۔

وہی خط ،1957ء میں مکمل ہونے والی  وان ہا گن  کی سرگزشت کے  اس آخری منظر کو دہراتا ہے جو کئی حوالوں سے ایرنت سے مشابہ  شخصیت ہے ۔ ایک مرصع قول میں ایرنت نے وان ہاگن کے  چند خطوط  کے مخصوص اقتباسات  پر نظرِ التفات نہ ڈالی ، (خاص طور پر  ان  کو )  جن میں وہ اپنے قبول ِ عیسائیت کو تسلیم کرتی ہے یعنی مصنف (ایرنت) ، وان ہاگن کو زندگی بھر کی پریشانی  کو سلجھاتے ہوئے آخر کار  ایک  پرسکون موت کوگلے لگانے کی اجازت دیتی ہے : ’’وہ شے  جو میری پوری زندگی میں سب سے بڑی شرمندگی دکھائی دیتی تھی ، جو میری زندگی کی بدقسمتی اور آفت تھی یعنی یہودی  عورت کے روپ میں جنم لینا  ،  اب میں اس  شناخت کو کسی طور  اپنے سے جدا  نہیں کرنا  چاہتی‘‘۔ پھر داستان گو کی آواز ، وان ہاگن   کے بارے  میں  ایرنت کے حتمی موقف کی جانب لوٹ جاتی ہے : ’’وہ ایک یہودی اور اچھوت بن کر رہی ۔ صرف اس لیے  کہ  وہ ان دونوں جہات کے ساتھ  جیتی  رہی  ،  اس نے یورپی انسانیت کی تاریخ میں ایک مقام پا لیا‘‘۔ یہی اصول  ایرنت پر بھی عائد ہوتا ہے ۔

کئی حوالوں سے یعنی  نازی یورپ میں ایک یہودی کی حیثیت  سے  ، قومی ریاستوں کی بساط پر ایک پناہ گزیں کے طور پر  ، اور مردوں کی علمی دنیا میں ایک عورت کی حیثیت سے ، ایرنت ایک اچھوت کردار تھی ۔ تاہم اس تنہائی نے اس کو  ایک ممتاز عالمگیر شہری  بنا دیا ، دوسرے لوگو ں کے مابین کئی دنیاؤں کے ایک باشندے  کی مثل –    ’’دنیا بھر کی ایک شہری‘‘  جو کسی ایک دنیا سے تعلق رکھنے کی بجائے سب میں تربیت یافتہ تھی  ۔  اگر وہ اپنے آپ کو ایک سیاسی نظریہ ساز گردانتی تھی تو  وہ  بذات خود  ایک زندہ و جاوید  نظریہ اور  تکثیریت    کی شاعرہ  تھی ۔

Recommended Posts

Leave a Comment

Jaeza

We're not around right now. But you can send us an email and we'll get back to you, asap.

Start typing and press Enter to search