شر کے عامیانہ پن سے حینا ایرنت کی حقیقی مراد کیا تھی؟ تھامس وائٹ (ترجمہ: عاصم رضا)

 In ترجمہ
نوٹ: جرمن نژاد امریکی یہودی خاتون حینا ایرنت کا شمار بیسویں صدی کے معروف سیاسی نظریہ سازوں میں ہوتا ہے ۔ ہماری معلومات کے مطابق اردو دان طبقے میں حینا ایرنت سے واقفیت اور اس کے افکار سے شناسائی تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے ۔ چنانچہ حیناایرنت کے افکار سے ایک عمومی واقفیت بہم پہنچانے کی غرض سے ہمارے دوست جناب عاصم رضا صاحب نے ’’سیاسی نظریہ ساز اور تکثیریت کی شاعرہ: حینا ایرنت کے افکار سے تعارف‘‘ کے عنوان سے تراجم و مضامین کا ایک سلسلہ شروع کرنے کی ٹھانی ہے۔ اس سلسلے کی ابتداء حینا ایرنت کے بارے میں لکھے جانے والے دو مضامین کے تراجم سے ہو رہی ہے۔ بعد ازاں، حینا ایرنت کے منتخب مضامین کو اردو زبان کے قالب میں ڈھالنے کی سعی کے ساتھ ساتھ اس حوالے سے چند طبع زاد نکات پر بھی بات ہو گی کہ حینا ایرنت کے افکار سے ہمارے قلوب و اذہان کے لیے کیا کچھ برآمد ہو سکتا ہے ۔
حینا ایرنت نے 1963ء میں ’’شر کا عامیانہ پن‘‘ (banality   of   evil) نامی اصطلاح کو وضع کیا جس نے امریکہ کے علمی حلقوں میں تندوتیز بحث کو جنم دیا ۔ تھامس وائٹ (Thomas White) نے اپنے ایک حالیہ مضمون میں حینا ایرنت کی اس اصطلاح کو موضوع بنایا۔ تھامس وائٹ کا مضمون آن لائن جریدے aeon.co میں 23 اپریل ، 2018 کو شائع ہوا ۔ زیرِ نظر تحریر ، تھامس وائٹ کے اسی مضمون کو اردو زبان کے قالب میں ڈھالنے کے بعد حینا ایرنت کے افکار سے تعارفی سلسلے کی دوسری قسط کے طور پر پیش کی جا رہی ہے۔ اصل مضمون اس لنک پر دستیاب ہے۔ 

کیا کوئی شخص بد ی کو اختیار کئے بغیر شر کا مرتکب ہو سکتا ہے؟ یہ الجھا دینے والا وہ سوال تھا جس نے حینا ایرنت جیسی فلسفی خاتون کو اس وقت اپنی گرفت میں جکڑ لیا جب اس نے 1961ء میں امریکی جریدے ’’دی نیو یارکر‘‘ کے لیے ایڈولف ایشمان نامی نازی افسرکے جنگی جرائم پر مبنی عدالتی کاروائی کو قلمبند کرنا تھا۔ ایڈولف ایشمان اس انتظام و انصرام کا ذمہ دار تھا کہ نازیوں کے طے کردہ ’’آخری حل‘‘ (Nazi’s   Final   Solution) کے تحت ، لاکھوں یہودیوں اور دیگر (نازی مخالف ) افراد کو حراستی کیمپوں میں منتقل کیا جائے۔

حینا ایرنت کو ایشمان ایک عام ، بے ضرر بیوروکریٹ محسوس ہوا جو ،حینا کے الفاظ میں ، ’نہ تو جنسی طور پر کجرو تھا اور نہ ہی اذیت پسند‘ ، بلکہ ’خوفناک حد تک ایک عام انسان‘ تھا ۔ اس کا صرف ایک ہی مقصد تھا کہ وہ خوب محنت کرکے نازی بیوروکریسی میں اپنا کیریئر بنائے۔ حینا ایرنت نے عدالتی کاروائی پر مبنی اپنی تحریر ’’ایشمان یروشلم میں : شر کے عامیانہ پن کی ایک روداد‘‘ (مطبوعہ 1963ء) میں یہ نتیجہ نکالا کہ ایشمان ، اخلاق سے عاری درندہ صفت انسان ہرگز نہ تھا۔ اس کے برعکس ایشمان کسی بری نیت کے بغیرشیطانی افعال کا مرتکب ہوا ،اس حقیقت کی بنیاد اس کی ’کج فہمی‘ (thoughtlessness) اور اپنے برے افعال کی حقیقت سے لاتعلقی میں پیوست تھی۔ ایشمان کو اس بات کا ’کبھی‘ احساس نہیں ہوا کہ وہ کیا کر رہا تھا کیونکہ وہ ’’کسی دوسرے کے زاویہ نگاہ سے دیکھنے کی اہلیت کا حامل نہیں تھا‘‘ ۔ اس مخصوص شعوری صلاحیت کے نہ ہونے کے کارن ،اس نے ایسی صورت ِ احوال کے تحت جرائم کئے جنھوں نے اس امر سے واقفیت کو اس کے لیے تقریباً ناممکن بنا دیا کہ وہ کوئی غلط کام کر رہا تھا۔

حینا ایرنت نے ایشمان کی ان مجموعی خصوصیات کو ’’شر کے عامیانہ پن‘‘ کے عنوان تلے مرتب کیا یعنی ایشمان پیدائشی برا آدمی نہیں تھا بلکہ محض ایک سطحی اوراحمق، نیز حینا ایرنت کے دعوی کے ایک معاصر ترجمان کے الفاظ میں ’’رنگروٹ‘‘ تھاگویا وہ ایک ایسا آدمی تھا جو نازی فکر سےکسی گہری نظریاتی وابستگی کی بجائے اپنے انفرادی مقصد اور سمت کی تلاش میں نازی جماعت میں شامل ہوا تھا۔ حینا ایرنت کے مطابق ، ایشمان ، ہمیں البرٹ کییمو کے ناول ’’ایک اجنبی‘‘ (The   Stranger) (مطبوعہ 1942ء) کے مرکزی کردار کی یاد دلاتا ہے جس کے ہاتھوں بنا سوچے سمجھے اتفاقی طور پر ایک آدمی کا قتل ہو جاتا ہے تاہم یہ سب کچھ ہو جانے کے بعد بھی اس کا ضمیر اس کو ذرا ملامت نہیں کرتا ۔ یہاں کوئی خاص مقصد یا برائی کا کوئی واضح سبب نہیں تھا ، بس وہ فعل ’سرزد‘ ہو گیا .

ایشمان کے حوالے سے یہ ، حینا ایرنت کا اولین اور کسی حد تک سرسری تاثر نہ تھا۔ دس سال بعد اسرائیل میں ایشمان پر ہونے والی عدالتی جرح کے موقع پر حینا نے 1971 ء میں لکھا ،

’’فاعل (یعنی ایشمان ) کی اس واضح سطحیت نے مجھے حیرت میں مبتلا کر دیا تھا جس نے اس بات کو ناممکن بنا کے رکھ دیا کہ اس کے افعال کے غیرمتنازع شرکو گہرائی میں اترکر دیکھا جا ئے یا اس کے مقاصد کو باریکی سے پرکھا جائے۔ افعال (اگرچہ) ظالمانہ تھے تاہم اس وقت جرح سےگزرنے والا، فاعل نہ تو شیطان تھا اور نہ ہی عفریت بلکہ ایک ادنیٰ اور عام آدمی تھا‘‘۔

شر کے عامیانہ پن سے متعلق دعوی ، تنازع کو بھڑکا دینے کا حامل تھا ۔ حینا ایرنت کے ناقدین کو یہ بات قطعی طور پر ناقابل توجیہ دکھائی دیتی تھی کہ ایشمان نازیوں کے ہاتھوں ہونے والی نسل کشی میں امتیازی کردار ادا کرنے کے باوجود برائی کا ارادہ نہیں رکھتا تھا ۔ حینا ایرنت کے ایک ساتھی فلسفی (اور ماہر الہیٰات ) جرشوم شولم (Gershom   Sscholem) نے 1963ء میں حینا کو لکھا کہ شر کے عامیانہ پن سے متعلق اس کا دعوی ٰ محض ایک نعرہ تھا جو ’’بلاشبہ ، ایک عمیق تجزیے کے حاصل کی حیثیت سے اس کو متاثر نہیں کرتا‘‘۔ حینا ایرنت کی ایک اچھی دوست اور ناول نگار میری میکارتھی نے اپنے عدم اتفاق کو بلا کم و کاست یوں بیان کیا، ’’مجھے تو تم یہ کہتی ہوئی دکھائی دیتی ہو کہ ایشمان ایک پیدائشی انسانی وصف یعنی فکر ، شعور و ضمیر سے محروم ہے۔ تاہم اس صورت میں کیا وہ ایک عفریت نہیں ؟‘‘

یہ تنازع آج تک چلا آرہا ہے۔ فلسفی ایلن وولف (Alan   Wolfe) اپنی کتاب ’’سیاسی عفریت کیا ہے اور اس کا مقابلہ کیونکر ہو؟‘‘(Political   Evil:   What   it   is   and   How   to   Combat   It) (مطبوعہ 2011ء ) میں حینا ایرنت پر اس سبب تنقید کرتا ہے کہ وہ ’’ایشمان کے یکسانی وجود (humdrum   existence) کے محدود تناظر میں مسئلہ شر کو شر کی حیثیت سے متعین کرنے کی بجائے ، اسے نفسیاتی جہت دیتے ہوئے گریز کی راہ اختیار کررہی ہے‘‘۔ وولف نے نکتہ اٹھایا کہ حینا ایرنت نے ایشمان کے فعل کی بجائے اس کی ذات کو بہت زیادہ توجہ دی۔ حینا ایرنت کے ناقدین کو یہ ایک ’’بے سروپا انحراف ‘‘ دکھائی دیتا تھا کہ ایشمان کے برے افعال کی بجائے اس کی غیراہم اور بے وقعت زندگی پر توجہ دی جائے ۔

حالیہ زمانے کے چند دوسرے ناقدین نےحینا ایرنت کی تاریخی فروگذاشتوں کو مرتب کیا ہے جنھوں نے اس کو ایشمان کے وجود میں مخفی ایک عمیق برائی کے مشاہدہ سے محروم کر دیا ۔ (خاص طور پر اس وقت ) جب اس نے یہ دعوی کیا کہ ایشمان سے وابستہ برائی (دراصل ) ’’فکر کی گرفت میں آنے سے انکاری‘‘ (thought   defying) ہے جیسا کہ ایرنت نے فلسفی کارل جیسپر (Karl   Jasper) کو عدالتی مقدمہ کے تین سال بعد لکھا۔ داؤد ارونگ (David   Irving) کے معروف عدالتی مقدمہ برائے انکارِ ہولوکاسٹ جس کا فیصلہ 2000ء میں ہوا تھا، اس (مقدمے ) کی مدعا علیہ یعنی تاریخ دان ڈیبورہ لیپسٹاڈ (Deborah   Lipstadt) اس دستاویز کو حوالہ بناتی ہیں جس کو اسرائیلی حکومت نے قانونی کاروائی میں استعمال کرنے کی غرض سے نشر کیا تھا۔ لیپسٹاڈ (Lipstadt) اپنی کتاب ’’ایشمان کا مقدمہ‘‘(The   Eichmann   Trial) (مطبوعہ 2011ء ) میں لکھتی ہیں کہ مذکورہ دستاویز اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ حینا ایرنت کی استعمال کردہ اصطلاح ’’عامیانہ‘‘ (Banal) ناقص تھی :

میرے مقدمے کے لیے اسرائیلی حکومت کی جانب سے پیش ہونے والی ایشمان کی سوانح حیات اس بات کو آشکار کرتی ہے کہ ایشمان کے متعلق ایرنت کس حد تک غلطی پر تھی۔ مذکورہ سوانح حیات نازی نظریات سے بھرپور ہے۔ ایشمان نسلی برتری کا قائل تھا اور اس نظریے کی ترویج کر رہا تھا۔

لیپسٹاڈ مزید بحث کرتی ہے کہ ایرنت اس بات کو واضح کرنے میں ناکام رہی کہ اگر ایشمان حقیقی معنوں میں اپنی خطاؤں سے ناواقف تھا تو اس نے اور اس کے ساتھیوں نے اپنے جنگی جرائم کے تمام ثبوت تباہ کرنے کی کوشش کیوں کی ؟

اپنی کتاب ’’ایشمان یروشلم کے سامنے‘‘ (Eichmann   Before   Jerusalem) (مطبوعہ 2014ء) میں جرمن تاریخ دان بِتینا سٹینگ نیتھ (Bettina   Stangneth) ، ’’عامیانہ‘‘ کے ساتھ ایشمان کی ایک دوسری جہت کو منکشف کرتی ہے یعنی بظاہر ایک غیر سیاسی آدمی جو نوکری کے پیچھے بھاگنے والے (career   oriented) کسی بھی دوسرے ’’عام‘‘ بیوروکریٹ کی مثل اداکاری کررہا تھا۔ نازی صحافی ولیم ساسین (William   Sassen) کو دیے گئے ایشمان کے انٹرویوز پر مبنی آڈیو ٹیپس سے اخذ کرتے ہوئے سٹینگ نیتھ (Stangneth) ایک ایسے ایشمان کو پیش کرتی ہے جو اپنے منہ سے نازی عقائد کا کٹر حامی اور جارحیت پر آمادہ نظریہ ساز ہونے کا اعتراف کرتا ہے جس نے (نازیوں کے مجوزہ ) ’’آخری حل‘‘ میں اپنے کردار پر نہ کبھی پچھتایا نہ ہی کسی احساس جرم کا اظہار کیا یعنی ایک بے ضرر بیوروکریٹ کے بظاہر سادہ لبادے میں چھپ کر کامل شر پر مبنی تیسری اقلیم کا افسر (Third   Reich   operative   living) ۔’’غافل‘‘ ہونے سے کہیں بڑھ کر ، ایشمان اپنی محبوب نازی جماعت کی خاطر ہونے والی نسل کشی سے متعلق بے شمار خیالات کا حامل تھا ۔ آڈیو ریکارڈنگ میں ایشمان معصوم بھیڑ یے (Jekyll   and   Hyde) سے مشابہ ایک قسم کے دو رخے پن کو تسلیم کرتا ہے :

’’بلاشبہ میں ایک محتاط بیوروکریٹ تھا تاہم اس محتاط بیوروکریٹ پر ایک جنونی (نازی ) جنگجو سوار ہو گیا تھا جو اپنی نسل کی آزادی کی خاطر لڑ رہا تھا اور یہ میرا پیدائشی حق ہے‘‘۔

ایرنت سے ایشمان کی یہ بنیادی شیطانی جہت بالکل چھوٹ گئی جب اس نے مقدمہ کے دس سال بعد لکھا کہ ’ایشمان میں کسی مضبوط نظریاتی یقین یا برائی کے ارادوں کا سراغ نہیں پایا گیا‘۔ یہ فروگزاشت شر کے عامیانہ پن سے متعلق ایرنت کے دعوی کو عامیانہ اورغلطی پر مبنی ثابت کرتی ہے۔ اور اگرچہ ایرنت نے کبھی ایشمان کے بارے یہ نہیں کہا کہ وہ نازی نوکرشاہی میں ایک معصوم ’گراری‘ (cog) ہے یا ’’محض حکم بجا لانے والا‘‘ کہہ کے اس کا دفاع کیا، جیسا کہ ایشمان سے متعلق اس کے حاصلات کے بارے میں دو عام غلط فہمیاں ہیں، ایرنت کے ناقدین بشمول وولف اور لیپسٹاڈ ، شر کے عامیانہ پن سے متعلق ایرنت کے دعوی سے پھر بھی غیر مطمئن ہیں ۔

پس ہمیں ایرنت کے دعوی سے کیا نتیجہ اخذ کرنا چاہیے کہ ایشمان (اور دوسرے جرمن) برائی کو اختیار کیے بغیر شر کے مرتکب ہوئے؟

یہ سوال ایک چیستاں ہے کیونکہ ایرنت نے اپنی تحقیق کوماہیت ِ شر کے عمومی مطالعہ تک وسعت نہ دے کر ایشمان سے متعلق مخصوص شر کے ایک وسیع تر معانی کی چھان بین کے موقع کو گنوا دیا۔ ایشمان کے مقدمے سے کافی پہلے شائع ہونے والی ’’اصلِ مطلق العنانیت‘‘ نامی کتاب میں ایرنت نے لکھا :

’’یہ نکتہ ہماری پوری مغربی فلسفیانہ روایت میں گندھا ہوا ہے کہ ہم ’شرِ بطور اخلاقی بنیاد‘ (radical   evil) کا تصور نہیں کر سکتے‘‘۔

شر بطور اخلاقی بنیاد کی روایتی تفہیم کو آگے بڑھانے کے لیے ایشمان کے واقعہ کو استعمال کرنے کی بجائےایرنت نے فیصلہ کیا کہ ایشمان کا شیطانی فعل ’’عامیانہ‘‘ ہے جو ’’فکر کی گرفت میں آنے سے انکاری‘‘ ہے (یعنی خود پر کوئی لیبل لگوانے سے منکر ہے)۔ اس نے مقدمے کو ایک محدود قانونی اور رسمی عدسے کے ذریعے دیکھتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ایشمان کی گناہگاری یا معصومیت کے قانونی حقائق سے ماورا کسی قسم کے عمیق مسائل وجود نہیں رکھتے تھے۔ اور یوں ایشمان کے ہاتھوں سرزد ہونے والے شر کی عمیق وجوہات کی کھوج میں ایرنت نے خود ہی اپنے آپ کو ناکامی کے راستے پر ڈال دیا ۔

تاہم ’’ایشمان یروشلم میں‘‘ نامی کتاب میں اس نے درحقیقت ایک متضاد رائے کو اختیار کیا تھا ۔ ’’اصل ِ مطلق العنانیت‘‘ نامی کتاب میں اس نے بحث اٹھائی کہ نازیوں کا شر مطلق اور غیر انسانی تھا، اور عمیق اور ناقابل توجیہہ ہے نیز یہ شر اپنے آپ میں جہنم کی استعاراتی تجسیم تھا یعنی ’’(یہودیوں کی نسل کشی کی خاطر بننے والے ) کیمپوں کی حقیقت ، قرون وسطی میں جہنم کی تصاویر سے زیادہ کسی شے سے مشابہت نہیں رکھتی‘‘۔

ایشمان کے مقدمہ سے پہلے کی تحاریر میں اس موقف کے ساتھ کہ نازیوں کے ہاتھوں رونما ہونے والے مطلق شر کے پس پردہ خود انسانیت کی تباہی کے ارادے سے ایک سرکش اور عفریتی ارادہ کارفرما تھا ، ایرنت دراصل شیلنگ اور افلاطون جیسے فلسفیوں کے مزاج سے مطابقت اختیار کر رہی تھی جو شر کے عمیق تر شیطانی پہلوؤں کی چھان بین سے عار محسوس نہ کرتے تھے ۔ تاہم یہ نکتہ نظر تبدیل ہو گیا جب ایرنت کی ایشمان سےملاقات ہوئی جس کے ہاں پائے جانے والے نوکر شاہی خلا (bureaucratic   emptiness ) نے سوائے پھیکی روزگار پرستی (prosaic   careerism)اور ’’ناقابلِ تفکر ہونے‘‘ کے سوا کسی قسم کے شیطانی عمق کا سراغ نہیں دیا۔ اس مقام پر عمیق شر کے بارے میں اس کی پرانی تخیلاتی سوچ کا رخ تبدیل ہو گیا اور ’’شر کے عامیانہ پن‘‘ کے نعرے نے جنم لیا ۔ مزید براں ، 1975ء میں ایرنت کا انتقال ہو گیا ۔ غالباً اگر وہ تھوڑا مزید وقت زندہ رہتی تو شر کے عامیانہ پن سے اٹھنے والے ان معمات کی وضاحت کرتی جنھوں نے آج بھی نقادوں کو تذبذب میں ڈال رکھا ہے۔ مگر یہ ہم کبھی نہیں جان پائیں گے۔

چنانچہ ہمارے پاس اس کا حقیقی دعوی ہی باقی بچتا ہے ۔ اس کے پیچھے بنیادی التباس کیا ہے ؟ ایرنت نے ایشمان کے نوکرشاہی پر مبنی عامیانہ پن سے متعلق اپنے تاثرات اور تیسری جرمن اقلیم (Third   Reich) کے شیطانی و غیر انسانی افعال کے بارے میں اپنی پرانی گہری تفہیم کے مابین کبھی موافقت پیدا نہیں کی ۔ حینا نے ایشمان میں ایک عام سرکاری نوکر دیکھا مگر اس کی ذا ت میں شر کی خاطر لڑنے والے ایک نظریاتی جنگجو کو نہیں دیکھ پائی ۔ ایشمان کی یکسانیت زدہ زندگی کیسے اس ’دوسری‘ شیطانی برائی کے ساتھ گزارا کر سکتی تھی ؟ اس بات نے حینا کو الجھا دیا ۔ بہر حال ایرنت نے ایشمان کے جرم کو کبھی چھوٹا ثابت کرنے کی کوشش نہیں کی، بارہا اس کا ذکر ایک جنگی مجرم کی حیثیت سے کیا اوراسرائیلی عدالت کی جانب سے اس کو دی جانے والی سزائے موت سے اتفاق کیا ۔ اگرچہ اس کے نزدیک، ایشمان کے جرم کی اغراض مبہم اورفکر کی گرفت میں آنے سے انکاری تھیں لیکن قتلِ عام میں اسکا کردار مبہم اور معمولی نہیں تھا۔ آخری تجزیے میں ایرنت نے ایشمان کے شر کی اصل سنگینی کو سمجھ لیا تھا۔

Recommended Posts

Leave a Comment

Jaeza

We're not around right now. But you can send us an email and we'll get back to you, asap.

Start typing and press Enter to search