تخلیقی نگارش: خالد ولی اللہ بلغاری

 In تاثرات

رات کمرے میں واپس پہنچا تو ایک مختلف منظر تھا۔
دیکھا کہ صاحب، جو دن کا بھی بیشتر حصہ بستر پر دراز ہو کر گزارتے ہیں خلاف معمول کرسی پر بیٹھے ہیں اور میز پر جھک کر کوئی کتاب پڑھ رہے ہیں۔ میز بھی، جس پر چائے کے کپ، سگریٹ کے خالی ڈبے، گندی میلی ایش ٹرے، راکھ، کنگھی، الٹی سیدھی کتابیں، ٹوتھ برش، صابن دانی اور اسی طرح کی دوسری چیزیں بے ترتیبی سے پڑی رہتی ہیں اور ان چیزوں سے بچ رہنے والی خالی جگہوں پر گرد کی تہہ جمی ہوتی ہے، آج لشکارے مار رہی ہے۔ کتابیں سلیقے سے دیوار کے ساتھ ترچھی کرکے ٹکا رکھی ہیں اور انکے ترچھے پن کی حفاظت کیلیے دونوں طرف چند بھاری کتابوں جیسے ڈکشنری وغیرہ کی ٹیک مہیا کی گئی ہے۔ ٹوتھ پیسٹ اور برش سامنے ہولڈر میں منتقل ہوگئے ہیں۔ کنگھی بائیں دیوار کیساتھ لگے آئینے کے ایک طرف لٹکی ہوئی چھابی میں جا کھڑی ہوئی ہےـ صابن سلیقے سے میز کے نیچے صابن دانی میں رکھا ہے۔ میز کی بائیں طرف ایش ٹرے ہے اور صاف لگ رہا ہے کہ دھوئی بھی گئی ہے اور بعد میں کپڑے سے رگڑی بھی گئی ہے۔
صاحب کا بایاں ہاتھ جسکی انگلیوں میں سگریٹ سلگ رہا ہے، سر پر ٹکا ہے ـ دو بجھے ہوئے سگریٹ کے ٹکڑے ایک دوسرے سے مختلف زاویے پر ایش ٹرے میں اوپر تلے گرے ہوئے ہیں۔
میری موجودگی کو محسوس کرکے اُس نے ایک طویل کش لیتے ہوئے کتاب الٹی کرکے میز پر رکھی۔ جب وہ ایش ٹرے کو دائیں ہاتھ میں پکڑ کر کرسی کی پشت کو بغل میں دباتے ہوئے میری طرف گھوما تو سگریٹ ابھی اسکے منہ میں ہی تھا۔ دھوئیں کے اثر سے بچنے کی کوشش میں ماتھے پر بل پڑ گئے تھے اور ایک آنکھ تھوڑی بند تھی۔ میں ابھی دروازے ہی میں کھڑا کمرے میں برپا ہونے والے اس انقلاب کا جائزہ لے رہا تھا مگر جیسے ہی میری نظر اسکے چہرے پر پڑی مجھے حیرت کا ایک اور جھٹکا لگا۔
جناب کی داڑھی مونچھ صاف ہے، بچے کھچے بال سلیقے سے پیچھے کو کنگھائے ہوئے۔ رخ مبارک پر چونکہ امتداد زمانہ سے یہاں وہاں گڑھے پڑے ہوئے تھے اور چہرے کے مختلف علاقوں کی رنگت میں کچھ تفاوت بھی تھا، تو بقول اسی کے، امرود جیسا منہ نکل آیا تھا۔
یہ سب انقلابی تبدیلیاں میری توقع سے کچھ زیادہ تھیں اسلیے فوری تبصرے کیلئے کوئی چست جملہ نہ سوجھا۔ میں نے بیگ اپنی میز پر رکھ کر دونوں ہاتھ سوالیہ حیرت کیساتھ کھڑے کردئے اور اپنے بیڈ پر بیٹھ کر جوتوں کے تسمے کھولنے لگا۔
’’یار ہمارے شاعر لوگ، ناول نگار، لکھاری وغیرہ بڑے کنجوس اور تھڑ دلے ہیں۔ ہماری زوال یافتہ تہذیب کے عین درست نمائیندے گویا۔ ہمارے یہ لوگ، جیسے ترقی یافتہ دنیا کے تعلیمی اداروں میں ہوتا ہے نوجوان لکھاریوں کیلئے کری ایٹیو رائیٹنگ کورسز کا کیوں نہیں بندوبست کرتے؟؟‘‘
اُس نے میرے متعجبانہ رویے کو بالکل خاطر میں نہ لاتے ہوئے بے تکا سا سوال داغ دیا۔
کری ایٹیو رائیٹنگ کورسز؟
لگتا ہے یہ کوئی نئی کہانی شروع ہونے والی ہے۔
میں نے دل میں سوچا۔
سوال تو کچھ بے تکا سا ہی تھا مگر زیادہ تعجب اسلیے نہیں ہوا کہ صاحب کبھی بھی کچھ بھی الم غلم سوچ اور فرما سکتے ہیں۔ دوسرے میں کوشش یہ کررہا تھا کہ اُسکے سوال کے اندر سے تازہ برپا ہونے والے اِس انقلاب سے متعلق کوئی اشارہ مل جائے تو کچھ کہوں۔
تھوڑا بہت اندازہ ہونے بھی لگا تھا کہ شاید اِس دفعہ صاحب پر ناول نگار وغیرہ بننے کی دھن سوار ہوگئی ہے۔
تھکاوٹ مجھے کچھ زیادہ ہورہی تھی اور اِس دلچسپ انقلابی صورتحال کے باوجود دل کررہا تھا کہ صاحب اور اُسکے سوال پر تین حرف بھیج کر کچھ دیر کیلئے لیٹ جاؤں۔ یہ کچھ سوچتے ہوئے میں نے جرابیں اتار کر جوتوں کے اندر رکھیں اور انکو پاؤں سے دھکیل کر بیڈ کے نیچے گھسا دیا۔ ساتھ پڑے ہوئے تکیے کو دوہرا کر کے اس پر کہنی کی ٹیک لگائی اور نیم دراز ہوگیا۔
میں ابھی بھی اُسکے بدلے ہوئے سراپے کی طرف حیرت اور کراہت کے ملے جلے تاثرات کے ساتھ دیکھ رہا تھا۔ ایک بات یہ ذہن میں آئی کہ شاید جون ایلیا سے مماثلت کے شوق میں اپنے منہ کا یہ حال کرلیا ہے؟
مگر اِس مفروضے میں پھر کمرے کی یہ ترتیب اور میز کی ایسی صفائی ستھرائی پوری نہیں بیٹھ رہی تھی۔
سوال کا جواب دینے یا کچھ کہنے سے پہلے میں نے گردن اونچی کرکے کتاب کا ٹائٹل دیکھنے کی کوشش کی تو صاحب نے خود ہی کتاب اٹھا کر میری آنکھوں کے سامنے کر دی۔
’’آن بیکمنگ آ ناولسٹ۔جان گارڈنر‘‘
جب میں بلند آواز سے ٹائیٹل اور آتھر کا نام پڑھ چکا تو اُس نے کتاب وہیں رکھ کر ایک اور لمبا کش لیا، بائیں ہاتھ سے سگریٹ کو دائیں ہاتھ میں پکڑے ایش ٹرے میں تسلی سے مسل کر بجھایا۔ ایش ٹرے میز کے بائیں طرف رکھی۔ میری طرف منہ کرکے ہونٹ سکیڑے، دھواں پنکھے کی طرف فائر کرکے دونوں ہاتھوں سے قمیص کا دامن جھاڑا اور ہاتھ سینے پر باندھ کر میری طرف جیسے مکمل طور پر متوجہ ہوگیا تاکہ میں اسکے بے سرو پا سوال کا کوئی جواب دوں۔
’’یہ اپنی شکل کیساتھ کیا سلوک کیا ہے تم نے‘‘ مجھے سوال پوچھتے ہوئے بے اختیار ہنسی آگئی۔
’’کیوں اچھی نہیں لگ رہی ؟ تم سب نے ہی تو میرا جینا دوبھر کر رکھا تھا کہ چرسی بھنگی لگتے ہو، صاف ستھرے رہا کرو! روز روز نہایا کرو۔ اور اب!‘‘
اُس نے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے اور وہیں سے گردن لمبی کرکے دیوار پر لگے آئینے میں خود کو دیکھنے کی کوشش کرتے ہوئے جواب دیا۔
’’صفائی ستھرائی کا مطلب یہ ہے کہ داڑھی مونچھ بھی۔ خیر جو تمہارا دل کرے وہ کرو۔ ویسے یہ سب اِس کتاب کا اثر ہے؟‘‘
میں نے اُسکے سراپے کی طرف اور میز پر الٹی پڑی اُس کتاب کی طرف ہاتھ لہراتے ہوئے پوچھا۔
’’یہی سمجھ لو‘‘
’’تم نے میرے سوال کا جواب نہیں دیا۔ بہت اہم سوال ہے۔ کون شاعر اور ناول نگار ہیں ہمارے جو یہ کورسز نہیں کراتے؟‘‘
میں نے تنگ آکر پوچھ ہی لیا۔
’’تم کسی کا بھی نام لے سکتے ہو۔ نامور شاعروں ناول نگاروں سے لیکر خود مجھ حقیر تک سبکو شامل کرلو، کون کروارہا ہے لکھاریوں کیلیے کسی بھی قسم کے کوئی بھی کورسز؟‘‘
’’اکادمی ادبیات والے!‘‘ میں نے ہوائی فائر کیا۔
’’آخری اطلاعات تک، ایک ورکشاپ، جو پورے تین روز جاری رہی، دو ہزار سترہ میں منعقد ہوئی تھی۔ اس وقوعے کو پیش آئے دوسال گزر چکے ہیں۔ اور خود کہو، کہ تین روزہ ورکشاپ میں کوئی کیا سیکھتا ہے یا سکھاتا ہے؟ اس قلیل وقفے میں تو کسی پر ٹھیک طرح سے رعب بھی نہیں جمایا جاسکتا چہ جائیکہ کہ لکھاریوں کی تربیت کی کوئی راہ نکلے‘‘
وہ جیسے تیار بیٹھا تھا، بولتا گیا۔
’’لگتا ہے کچھ تحقیق بھی ہوئی ہے اِس موضوع پر‘‘
میں نے کسی قدر بیزاری سے کہا۔
اندازہ مجھے ہوگیا تھا کہ یہ اب آسانی سے جان نہیں چھوڑے گا۔
’’دیکھو یار ایک تو کورس اور ورکشاپ کو ایک ہی چیز سمجھ رہے ہو تم ۔دونوں میں فرق ہوتا ہے۔ کورس کا دورانیہ عموماً طویل ہوتا ہے۔ ورکشاپ تو تین روزہ ہی ہوتی ہے۔ ان دو چیزوں کو گڈ مڈ نہ کرو‘‘
میں نے اسے درجہ بندیوں اور اقسام میں الجھا کر چِت کرنے کی نیت سے ایک تنقیدی نکتہ اچھالا۔
’’تم جواب نہیں دے رہے‘‘
وہ ڈٹا رہا۔
’’اچھا پھر بتاؤ تمہارے حساب سے مثلاً کون شاعر، لکھاری ذمہ دار ہیں؟‘‘
میں نے ہار مان کر پوچھا۔
’’احمد فراز کو دیکھ لو‘‘
اُس نے فوراً کہا۔
’’کچھ حیا کرو یار۔ احمد فراز مرحوم ہوگئے کب کے‘‘
’’ہاں فوت ہوگئے اللہ مغفرت فرمائے، لیکن بس خود ہی شعر کہتے رہے ساری عمر، کسی کو شعر کہنا سکھایا نہیں، نہ کسی کی اصلاح تربیت ہی کی‘‘
’’یار حد ہوگئی‘‘ مجھے غصہ ہی آگیا۔
’’تمھیں ـــ یعنی ــــ ایک کتاب پڑھ لینے کے بعد، اب احمد فراز سے یہ شکایت ہوگئی ہے، کہ وہ تمھیں شعر کہنے کی تربیت دئے بغیر کیوں گذر گئے؟؟
شاعری کوئی سکھائی جاتی ہے؟ آدمی یا تو شاعر ہوتا ہے، یا پھر نہیں ہوتا۔
اور یہ تم کیسے کہہ سکتے ہو کہ فراز نے کسی کو اصلاح نہیں دی؟ سبھی شعراء اپنے جونیرز اور دوستوں کی اصلاح کرتے ہیں۔ فراز مرحوم بھی کرتے ہونگے‘‘
’’بھائی اگر وہی لگی بندھی روایتی اصلاح ہی دینی تھی تو اتنا عرصہ اکادمی ادبیات کا صدر بنے رہنے کی کیا ضرورت تھی۔ وفاق کا اتنا بڑا ادارہ ہے، سیکڑوں ملازمین ہیں، عالی شان عمارت ہے، فنڈز ہیں۔ دو ہزار سترہ میں ایک تین روزہ ورکشاپ۔ دیٹس آل‘‘
اسکا جواب بھی تیار تھا۔ پھر اُسے چند نکات مزید سوجھے۔
’’..اور تمہاری یہ سوچ بھی دقیانوسی ہے کہ شاعری سیکھنے کی چیز نہیں ہوتی۔ شاعری سیکھنے کی چیز بالکل ہوتی ہے۔ پریکٹیکل صورتحال پر بات کرو نا۔ اگر شاعری پر کورس کا کوئی ادارہ اہتمام کرتا ہے تو ظاہر ہے کورسز میں شاعری کی طرف سے کورا آدمی تو کوئی نہیں آئے گا۔ وہی شخص آئے گا جسکو پہلے سے کچھ شدھ بدھ ہوگی اور وہ دلچسپی بھی رکھتا ہوگا۔ ایسے آدمی کی حوصلہ افزائی اور ایک نظام کے تحت اُسے مطلوبہ فنی باریکیوں تک رسائی کے ساتھ سازگار ماحول فراہم کرنا ہی شاعری سکھانا ہے۔
شاعری بھی سکھائی جاسکتی ہے اور کہانی ناول نگاری میں تو تربیت کی گنجائش اور بھی زیادہ ہوتی ہے۔ موضوعات، اسلوب، تکنیک، ہر ہر زاویے پر نوجوان لکھاری کی تربیت ہوسکتی ہے اور ہونی چاہیے۔
یہی کچھ ہوتا ہے ترقی یافتہ دنیا میں۔
اسی لیے وہاں آئے روز ایک سے ایک اچھی کہانی نکلتی ہے۔ تم دیکھتے نہیں ہو؟ اب تو دوسری زبانوں کے لوگ بھی انگریزی زبان میں ناول کہانی لکھتے ہیں۔ ظاہر ہے اسکی وجہ یہی ہے کہ انگریزی زبان میں کری ایٹیو رائیٹنگ کی تربیت کا ایک باقاعدہ نظام ہے۔ اور ہمارے پاس اردو میں، ڈھنگ کا کوئی ناول بھی نہیں ملتا۔ مجھے تو خیر یہ بھی نہیں پتہ کہ کری ایٹیو رائیٹنگ کو اردو میں کہتے کیا ہونگے!‘‘
’’تخلیقی نگارش؟ شاید ــ؟‘‘
’’اچھا یار تم اب تحقیق کرکے بیٹھے ہو، میں کیا بحثوں گا تم سے اس موضوع پر ـ جہاں تک فراز صاحب کی بات ہے، تو انکو فوت ہوئے ایک عرصہ ہوگیا ہے، ہم اصولی طور پر بھی فوت شدگان سے متعلق خوشگمانی رکھنے کے پابند ہیں‘‘
میں نے بے بس ہوکر بات کو سمیٹنا چاہا۔
مگر اب بات چل نکلی تھی تو جواب دئے بغیر رہا بھی نہیں جارہا تھا۔
’’جیسے تم کررہے ہو نا، ویسا مقابلہ اردو کا انگریزی سے بنتا بھی نہیں ہے۔ بلکہ دنیا کی کسی بھی زبان کا نہیں بنتا۔
کوئی بھی زبان انگریزی کا مقابلہ کیسے کرسکتی ہے، انگریزی انٹرنیشنل زبان ہے۔ جب فرانسیسی اور جرمن جیسی تگڑی زبانیں انگریزی کا مقابلہ نہیں کرسکتیں تو بے چاری اردو کس شمار میں ہے۔
دوسرے تم دیکھو، کہ وہ پاکستانی لکھاری جو انگریزی میں لکھتے ہیں اکثر کسی یورپی جامعہ کے تعلیم یافتہ ہیں، کئی تو یورپی ممالک کی شہریت بھی رکھتے ہیں۔ ایسے پاکستانی لکھاریوں کا انگریزی میں ناول وغیرہ لکھنا ایک تہذیبی معاملہ ہوتا ہے کہ انکی پرورش انگریز سماج، یا کہو کہ غیر اردو سماج میں ہوئی ـــ تو انگریزی ایک طرح سے اُنکی دوسری زبان بن گئی، بلکہ شاید کئی صورتوں میں پہلی بھی ـ انگریزی زبان کے اندر اظہار کی جتنی وسعتیں اور اسکے جتنے اسلوب اور جتنے رنگ ہیں وہ دوسری زبانوں میں نہیں ہیں۔ اور سب سے بڑی بات یہ، کہ انگریزی پڑھنے سمجھنے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہے اور وہ دنیا کے تقریباً ہر ملک میں موجود ہیں ـ اس زاویے سے دیکھو تو انگریزی زبان کی مارکیٹ بہت وسیع ہے۔ ایک فارسی بولنے والا اور ایک فرانسیسی بولنے والا دونوں ایک دوسرے کی زبان نہیں پڑھ سمجھ سکتے مگر انگریزی دونوں ہی پڑھ سمجھ سکتے ہیں۔ کسی وقت میں چینیوں کی مثال دی جاتی تھی کہ وہ بس چینی زبان ہی پڑھتے پڑھاتے ہیں، انگریزی سے اُنکو کچھ سروکار نہیں، مگر اب چین میں بھی یہ رویہ بدل رہا ہے۔ اور اب جبکہ چین اپنے صدیوں پرانے خول سے باہر نکل کر دنیا کی معاشی تسخیر کا آغاز کرچکا ہے، وہاں انگریزی زبان سیکھنے سکھانے کی شرح میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے۔
یہاں ہمارے ملک کے ماحول کو اگر دیکھو تو حال یہ ہے کہ انگریزی کا ایک جملہ بول دے آدمی، اُسکا قد ایک فٹ بڑھ جاتا ہے اردگرد لوگوں کی نظر میں۔ بیمار مرعوبیت کی ایسی قابل ترس صورت حال میں، اور پھر مارکیٹ ڈیمانڈ کے مطابق بھی، ہمارا جو لکھاری انگریزی لکھ سکتا ہے، وہ اردو لکھنے سے بچتا ہے۔ اُسے محسن حامد اور ندیم اسلم اور محمد حنیف وغیرہ کامیاب کرئیر ماڈل کے طور پر نظر آتے ہیں۔
اسلیے یہ نہ کہو کہ انگریزی میں لکھنے کی وجہ یا اس زبان میں اچھی کہانیوں کی تخلیق کی وجہ بس کری ایٹیو رائیٹنگ کورسز ہی ہیں۔ اسکے پیچھے بہت سے پیچیدہ عوامل کارفرما ہوتے ہیں‘‘
اِس تمام گفتگو کے دوران، میں دیکھتا تھا کہ وہ گولڈ لیف کی بند ڈبی کو دائیں ہاتھ میں الٹا پکڑ کر بائیں ہتھیلی پر مارتا جاتا ہے۔ کچھ دیر بعد سگریٹ نکال تو لیا تھا مگر کبھی ہونٹوں میں دبا لیتا ہے اور کبھی پھر انگلی میں پکڑ لیتا ہے۔ لائٹر کے ساتھ بھی کھیلتا رہا تھا۔ کبھی اسکے شعلہ کم زیادہ کرنے والے بٹن کو جسکے ایک طرف پلَس اور دوسری طرف مائینس کا نشان بنا ہوتا ہے، دائیں بائیں کرتا رہتا ہے۔ کبھی اسکے سوراخ میں پھونکیں مارتا ہے۔ کبھی سگریٹ سلگانے کیلیے لائیٹر کو منہ کے بالکل قریب لے جاتا ہے مگر میری بات میں کسی نکتے پر زیادہ توجہ کرنے کیلیے جیسے تھوڑا توقف کرتا ہے۔
اور توجہ جب بڑھ جاتی تو لائیٹر پھر نیچے کرلیتا ہے۔ کچھ دیر بعد سگریٹ منہ سے نکال کر پھر انگلیوں میں دبا لیتا ہے۔
’’تو یہ ۔ ایک اجتماعی نفسیاتی مرعوبیت اور تہذیبی زوال کی صورت حال ہے، اور ہمارے اِس ہمہ جہت زوال کا اظہار زبان کے دائرے میں ظاہر ہے کہ سب سے زیادہ ہوا ہے۔ کیونکہ زبان ہی کسی تہذیب کا سب سے مکمل اور ہمہ گیر اظہار ہوتی ہے‘‘
میں نے اپنی طرف سے لمبی بات کا اثر انگیز خلاصہ بیان کرنے کی کوشش کی۔
’’اچھا اب احمد جاوید بننے کی کوشش نہ کرو یار خدا کیلیے‘‘ اُس نے ہاتھ جوڑ کر فریاد کی۔
’’تہذیب کا ہمہ گیر اظہار!
تمہارا یہ طویل بےسر و پا لیکچر میں نے کیسے سنا ہے یہ میں ہی جانتا ہوں، اب کام کی بات بھی کرو کوئی۔ اچھی خاصی بات فراز صاحب کی ہورہی تھی، تم پتہ نہیں کون سے بور سماجی اور لسانی فلسفے جھاڑنے لگ گئے۔ تمہارے جو تین قاری بچ گئے تھے نا، وہ بھی اب اونگھ رہے ہیں، کیوں اُنکے حوصلے آزمانے پر تُلے بیٹھے ہو یار‘‘
اس نے پہلو بدل کر اُس مرحوم باب میں کچھ مزید کہنا چاہا تو میں نے ہاتھ بلند کرکے اسے روک دیا۔ چوٹیں بڑی تاک کر لگا رہا تھا منحوس۔
’’بھائی میرا فلسفہ فضول سہی، فراز صاحب پر اب کوئی بات نہیں ہوگی‘‘
میں نے دوٹوک فیصلہ سنادیا۔
’’اچھا ٹھیک ہے۔ فراز صاحب کو کچھ نہیں کہتا۔
ایسے بھی تو بہت ہیں، جو اکادمی میں افسر لگے رہے اور ابھی ماشاءاللہ حیات بھی ہیں۔ اکادمی کون سی ترقی کی بلندیوں پر پہنچ کر آسمانوں میں گم ہو گئی ہے۔ انکو بھی دیکھ لیتے ہیں‘‘
آستینیں چڑھاتے ہوئے وہ جیسے تازہ دم ہو کر بولا۔
سگریٹ بھی اس نے بالآخر سلگا لیا تھا۔
’’ یہ تم اکادمی ادبیات والوں ہی کے پیچھے کیوں پڑے ہو، انکی ذمہ داری ورکشاپس کروانا کیسے ہے؟‘‘
میں نے بے زاری سے کہا۔
’’تو انکی اور کیا ذمہ داری ہے، تم بتادو‘‘
اُس نے فوراً جواب دیا۔
’’دیکھو یار میں یہ نہیں کہتا کہ یہ اکادمی کی ذمہ داری نہیں ہے۔ مگر ادارے کی کل کارکردگی کا فیصلہ صرف ادبی لکھاریوں کیلئے منعقد کی گئ ورکشاپس کی بنیاد پر کرنے والی شدت پسندی بھی مجھ سے نہیں ہوتی۔
اکادمی ایک ڈائنیمک ادارہ ہے، اسکی ذمہ داریاں کیا ہیں، یہ جاننے کیلیے تم اکادمی کا ’عزم‘پڑھ لو‘‘
’’پڑھ کے آیا ہوں، بس ایسے ہی گول مول کام چلاؤ سا ہے‘‘
سگریٹ منہ میں ہی رکھ کر وہ لاپروائی سے بڑبڑایا۔
’’اچھا اکادمی کے علاوہ اور کس کی ذمہ داری ہے پھر تمہارے خیال میں؟‘‘
راکھ جھاڑ کر اُس نے جتانے والے لہجے میں پوچھا۔
’’میرے خیال میں جہاں تک اردو میں تخلیقی نگارش کے تربیتی کورسز کا تعلق ہے تو وہ مختلف جامعات کے اندر موجود شعبہ اردو کے اساتذہ کی ذمہ داری بنتی ہے‘‘
میں نے ذرا احتیاط سے کہا۔
’’لیکن یہ صرف کہنے کی بات نہیں ہے، سمجھنا چاہیے کہ اسکی عملی تعبیر کی راہ میں کئی پیچیدگیاں حائل ہیں‘‘ بات جاری رکھتے ہوئے میں نے اضافہ کیا۔
’’جامعات کی اپنی ایک سیاست ہوتی ہے اور موجود نصاب و نظام سے ہٹ کر کسی قسم کے کورسز کروانے کی کوشش کرنا پہلے سے موجود نظام سے ٹکرانے کے برابر ہے۔ ہوتا پھر عموماً یہ ہے کہ موجود نظام کا ہر کَل اور پرزہ اس جدت اور تبدیلی کے خلاف علم جہاد بلند کردیتا ہے، بالآخر نظام کے آگے فرد ہار جاتا ہے۔ اور کہانی ختمـ
اصل میں ہماری یونیورسٹیز اور یورپ و امریکہ کی یونیورسٹیز میں تعلیمی نظام کا ایک بہت بنیادی فرق ہےـ اور یہ فرق ہمارے عملی رویوں میں بھی منتقل ہوا ہے۔ تم دیکھو گے کہ ہمارے طلبہ کی اکثریت تعلیم و تربیت کے نصاب اور عملی زندگی کے معاملات کے مابین ایک ناقابل عبور خلا محسوس کرتے ہیں۔ فارغ التحصیل طلبہ کا ایک طویل وقت عملی میدان میں اس خلا کو بھرنے میں صرف ہوجاتا ہے اور اکثر یہ بھی سوچتے ہیں کہ عملی معاملات کی انجام دہی میں انکی تعلیم انکے کچھ کام بھی آئی یا نہیں۔
نصابی تربیت اور عملی میدان کے درمیان کچھ فاصلہ تو ظاہر ہے کہ فطری ہے مگر جدید دنیا نے اپنے تعلیمی نظام کو عملی زندگی کے ساتھ سنکرونائز کرکے اس فطری خلا کو بہت حد تک کم کیا ہے۔
جو کتاب تم نے پڑھی ہے کسی گورے کی کتاب ہے؟‘‘
’’جان گارڈنر‘‘
اُس نے لقمہ دیا۔
مجھے حیرت ہورہی تھی کہ وہ کسی حد تک توجہ سے میری بات سن رہا ہے۔
’’ہاں جان گارڈنر ۔ امریکی ہے؟‘‘
’’ہمم۔‘‘
’’ہاں ۔تو گارڈنر صاحب نے اگر کری ایٹیو رائیٹنگ کورسز کی بات کی ہے تو یورپی اور امریکی یونیورسٹیز کے حساب سے بات کی ہوگی ظاہر ہے۔
اِن ظالم گوروں کے نظام تعلیم کی ایک بڑی خاص صفت ہے ۔ یہ لوگ کوشش کرتے ہیں، اور یہ کوشش اچھی خاصی تحقیق کے بل پر ہوتی ہے ۔ کہ تعلیمی اداروں میں مختلف شعبوں کے اندر طالب علم کو اُس شعبے سے متعلق عملی زندگی کا ایک محدود پیمانے پر سہی، پورا ماحول فراہم کردیا جائے۔ عملی میدان میں پیش آنے والے مسائل کے مختلف نمونے یہ لوگ اپنے طلبہ کو تعلیمی اداروں کے اندر ہی دکھا دیتے ہیں۔ ایک زاویے سے دیکھو تو یورپ اور امریکہ کی ترقی کا سارا راز تمھیں اس اندازِ تعلیم کے اندر پوشیدہ ملے گا۔
ایسے نظام کے فارغ التحصیل طلبہ کیلیے، جنکو ورکشاپس اور انٹرنشپس اور عملی پراجیکٹس کے سلسلوں سے گزارا جاتا ہے، اور اس کارکردگی کی بنیاد پر پھر انکے نتائج مرتب کیے جاتے ہیں، عملی زندگی کے مسائل سے نمٹنا بہت حد تک آسان ہوجاتا ہے اور وہ بہت جلد اپنے اپنے دائرہ عمل کے اندر مفید نتائج پیدا کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔
جہاں تک مجھے علم ہے، وہاں پر جامعات کی سطح پر سارا نصاب ہی اسی طرز کے کورسز کی صورت میں پڑھایا جاتا ہے۔
دیگر شعبوں کی طرح ادبیات میں بھی یہ کورسز عام طور پر ایسے اساتذہ پڑھاتے ہیں جو عملی میدان میں بھی مثلاً معروف لکھاری وغیرہ ہوتے ہیں اور شعبے سے اُنکا ایک زندہ اور فعّال تعلق بھی ہوتا ہے۔ اپنے شعبے سے متعلق عملی میدانوں کے اندر بھی سرگرم یہ اساتذہ طلبہ کی تربیت بھی عملی نہج پر کرنے کی طرف مائل رہتے ہیں۔ یہ اساتذہ صرف ادبی تھیوری اور ادبی تاریخ پڑھا ہاتھ جھاڑ کر اٹھ نہیں کھڑے ہوتے ــ کہ بس اہم سوال یہ ہیں۔ پچھلے امتحانوں میں یہ پوچھے گئے تھے۔ ٹھیک سے یاد کرلو، پاس نمبر لے لو کسی طرح ۔ اور ڈگری تمہارے ہاتھ میں ہو گی!
دھوئیں کے پردے کے پیچھے سے مجھے اُسکا متفکر چہرہ کسی حد تک نظر آرہا تھا۔ جھکا ہوا ۔
دائیں ہاتھ کی انگلی میں سگریٹ ۔ کہنی اِس ہاتھ کی، الٹے ہاتھ کی کٹوری میں ٹکی ہوئی ۔ سیدھا ہاتھ کبھی بالوں میں پھیرتا کبھی کان میں۔ کبھی کش لگا کر اپنے گرد معلق دھویں کے بادل کو مزید گہرا کرتا ۔ اور کبھی ہمارے درمیان حائل اس غبار آلود خلا کے اندر گھورتا رہتا۔
غور کر رہا ہے، میں نے دل میں سوچا۔ بہرحال، موقع غنیمت جان کر میں نے اپنی بات جاری رکھی۔
’’نظام و نصابِ تعلیم کے کڑے معیارات نے اِن اساتذہ کو ایک سلسلے میں یوں باندھا ہوا ہوتا ہے کہ طلبہ کو پراجیکٹس دینے ہیں، اُن پر تنقیدی نشستیں کروانی ہیں اور طلبہ کی کارکردگی انہی بنیادوں پر مرتب بھی کرنی ہے۔
امریکہ میں تو، اور مجھے یقین ہے کہ دیگر ترقی یافتہ ممالک میں بھی، پروفیسر حضرات کو اپنی پروفیسری برقرار رکھنے کیلئے اپنے شعبے کے اندر اعلی معیار کے مختلف تحقیقاتی کام کرنے اور کروانے کی مسلسل ضرورت رہتی ہے بصورت دیگر انکی پروفیسری ہی کالعدم ہو جاتی ہے۔
اس طریقہ کار کا کچھ اطلاق ہمارے ہاں کی جامعات میں بھی ہوا ہے مگر عام طور پر یہاں تحقیقاتی کاموں کا ایک تو معیار پورا پورا ہوتا ہے، دوسرے سرکاری ملازم ہونے کے ناطے اِن پروفیسروں کو بھی معلوم ہوتا ہے کہ سرکار کو آگے بڑھ کر ناراض کرنے کی غلطی اگر نہ کی جائے تو انکی ملازمت کا کوئی بال بیکا نہیں کرسکتا ۔اور سرکار ہماری کیسی ہے یہ تم زیادہ بہتر جانتے ہو ـ‘‘
’’یار تم نے تو اب باقاعدہ بور کرنا شروع کردیا ہے قسم سے۔
میں تم سے فراز پر، شاعری پر، ناول نگاری پر، منظر نگاری پر، تکنیک اور پلاٹ جیسے دلچسپ موضوعات پر گفتگو کرنا چاہ رہا تھا۔ اور تم بیچ میں نظام و نصاب تعلیم کے کڑے معیارات پروفیسروں سمیت گھسیٹ لائے ـ
بہت مایوس کیا یار۔
بہرحال ۔یہ کتاب دیکھ لو، جب پڑھ لو تو پھر اس موضوع پر مجھ سے کچھ کہنا‘‘
یہ کہہ کر وہ اٹھا، کتاب میز سے اٹھا کر میری طرف اچھال دی ۔ اور چشمہ ہاتھ میں پکڑ کر باہر دروازے کی طرف جانے لگا ۔مگر جاتے جاتے پھر واپس پلٹ آیا جیسے کچھ یاد آگیا ہو ۔اور میرے بیڈ کی پائینتی کے پاس جلالی انداز میں کھڑا ہوگیا ۔چشمہ سر پر ٹکایا ہوا۔
’’انیس سو بیاسی میں فوت ہوگیا تھا یہ آدمی !‘‘
اُس نے میرے ہاتھ میں موجود کتاب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جتانے والے لہجے میں کہا ۔
’’جب تم تو شاید ابھی دنیا میں آئے بھی نہیں تھے۔ اور تخلیقی لکھاریوں کیلئے ایسی شاندار اور جاندار کتاب لکھ گیا ہے کہ تمہاری سوچ ہے۔
امریکہ سے مقابلے کی باتیں کرتے ہو تم۔
کم ازکم بھی ایک صدی پیچھے ہو تم اُن سے تہذیبی طور پر‘‘
’’اچھا تو داڑھی مونڈ کر تم نے اپنی طرفسے اِس تہذیبی فاصلے ہی کو کم کرنے کی کوشش کی ہوگی!‘‘
میں نے اپنے اِس چست تبصرے پر دل ہی دل میں خود کو داد دی۔
’’اگر ایک صدی کا فاصلہ ہے تو اسکو کم کرنے کی کوئی تدبیر کوئی لائحہ عمل سوچو نا ۔اکادمی کی کارکردگی سے ناراض ہو کر مجھ پر برسنے سے تمھیں کیا ملے گا۔ اب خود کہہ رہے ہو کہ فوت ہوگیا تھا میری پیدائش سے پہلے، میں اس سلسلے میں کیا کرسکتا ہوں ۔مرحوم کے حق میں دعا کے علاوہ ۔
اچھا جا کدھر رہے ہو اس ٹائم؟‘‘
’’سنوکر کھیلنے”
اُس نے منہ پھیر کر جواب دیا۔
’’شاباشے‘‘
میں نے نعرہ لگایا۔
دروازہ دھڑام سے بند کرکے صاحب باہر نکل گئے تو میں نے با دلِ نخواستہ کتاب کھول لی۔ انیس سو تراسی کا چھپا ہوا پہلا ایڈیشن تھا۔
کوئی ڈیڑھ سو صفحوں کی کتاب۔
ایک جگہ پر صفحہ فولڈ کیا ہوا ملا۔
وہیں ایک جملے پر نظر پڑی۔ لکھا تھا

No     critical     study,      however     brilliant,      is     the     fierce     psychlogical     battle     a     novel     is

ناول نگاری کے پراسیس کو ایک شدید نفسیاتی جنگ سے تشبیہہ دینے والے آدمی کو تو پڑھنا چاہیے۔ میں نے خود سے کہا اور دیباچہ پڑھنا شروع کردیا۔

Recommended Posts

Leave a Comment

Jaeza

We're not around right now. But you can send us an email and we'll get back to you, asap.

Start typing and press Enter to search