”عرفان میں عارفاں کے یاراں“۔ تحریر: عثمان سہیل

 In تاثرات

ایک کتاب کے ختم ہونے اور دوسری کتاب کی شروعات کے بیچ ایک مہم کے کامیاب اختتام کی خوشی اور نئی شروعات کا وقت ولولہ آمیز ہوتا ہے۔ اپنی ان مہم جوئیوں کا میں روزنامچہ مرتب نہیں کرتا ہوں لیکن جیسے چھچھورے سیاح تاریخی عمارتوں کی دیواروں پر نام لکھتے اور تاریخی مقامات پر ایستادہ درختوں پراپنا اور اپنی محبوبہ کا نام کندہ کرتے ہیں ایسے ہی کتاب کے حاشیوں پر لکھتا اور پینسل، بال پوائنٹ یا ہائی لائٹر میں سے جو بھی ہاتھ آئے سطروں کے نیچے لکیریں کھینچتا یا نشان زدہ کرتا جاتا ہوں۔ میرے یہ سفر نہایت سست روی سے ہوتے ہیں۔ لیکن آپ یہ ہرگز نہ سمجھیے کہ سفر کے ہر منظر نامے کو ذہن نشین کرتا جاتا ہوں۔ یہ تو بتا ہی چکا ہوں کہ روزنامچہ لکھنے کی عادت نہیں ہےاب یہ بتانے میں بھی حرج نہیں ہے کہ یادداشت بھی بس واجبی سی ہے۔ سو مناظر ذہن سے محو ہوئے جاتے ہیں۔ ایسا بھی نہیں کہ مسافر بگٹٹ منزل پر منزل مارتا جا رہا ہے۔ اصل صورتحال تو یہ ہے کہ ہر چند کوس کے بعد پڑاؤ ڈال لیتا ہے اور کئی روز محو خواب گذر جاتے ہیں۔ کئی بار ایسا ہوا کہ ہڑبڑا کر اٹھا چند کوس معکوس سفر محض اس واسطے کیا کہ اس سے پہلے کہاں سے گذرا تھا وہ یاد نہیں آ رہا تھا۔ تجسس بری بلا ہے سیانوں نے منع کیا ہے۔ لیکن ہمارا سیانی باتوں سے کیا لینا دینا! تو صاحبان ناقدردان، مطالعہ کا اپنا کچھ ایسا غیر تحریری دستور ہے چنانچہ یہی وجہ ہے کہ جب بھی کسی ایڈیٹر (ہم رشید احمد صدیقی صاحب کی پیروی میں آبروباختہ ایڈیٹر نہیں لکھ سکتے ازبسکہ دو برقی مجلوں میں ہمارا نام بھی بطور ایڈیٹر نقش ہے) نے تازہ پڑھی کتاب پر تبصرہ کی فرمائش کی ہم فوراً قریبی پتلی گلی سے سٹک لیے۔

متجسس قارئین، سبب اس خامہ فرسائی کا یہ ہوا ہے کہ چند روز ہوئے نطشے کی ماورائے خیر و شر ختم ہوئی۔ اختتام ہفتہ پر اسی کے ابتدائی باب کے چند حصے محض چسکے لینے کی خاطر دوبارہ پڑھے گئے جہاں اس نے مشکل باتیں لکھنے والے چند فلسفیوں کی خبر لے رکھی تھی۔ ان فلسفیوں میں چیدہ نام سقراط، ڈیکارت اور کانٹ کے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ گھما پھرا کے لکھنے پر نطشے خود بھی کان کھینچے جانے کے لائق ہے۔

اس گمراہ فلسفی نطشے کے بعد لازم ہوگیا تھا کہ طہارت قلب و ایمانی تازگی کا بندوبست کیا جائے۔ چنانچہ تصوف کی طرف رُخ ہوا ہے۔ پروفیسر قیصر شہزاد اور جناب سراج الدین امجد صاحبان بیک وقت صوفی اور فلسفی کے زمرے میں آتے ہیں ۔ تصوف کی روایت کے مطابق انہی دو حضرات کی اجازت سے شیخ اکبر محی الدین ابن عربی کی تعلیمات کا مطالعہ بوساطت ولیم چیٹیک صاحب کی تصنیف ”ابن عربی: ہائیر ٹو دی پرافٹس “ شروع کر دیا گیا ہے۔ اس ضمن میں جواں سال عارف عمر کی سفارش بھی یہی تھی۔ ارے ہاں ہم سے حاصل مطالعہ بصورت تبصرہ کی توقع کوئی نہ رکھے ، یہ بات اوپر کی سطروں میں لکھی جا چکی ہے۔

Recommended Posts

Leave a Comment

Jaeza

We're not around right now. But you can send us an email and we'll get back to you, asap.

Start typing and press Enter to search