پیش لفظ – انگارے: محمد عمر میمن (مرتب: عاصم رضا)

نوٹ:     آسٹرو ہنگیرین  ناول نگار  شاندورمارَئی  کےایک ہنگیرین  ناول  کا انگریزی ترجمہ بعنوان    Embers (مطبوعہ  2002ء) میں  نیویارک امریکہ سے شائع ہوا ۔   محمد عمر میمن صاحب  نے اسی  انگریزی ترجمے کو ’’انگارے ‘‘  کے نام سے اردو زبان کے قالب میں ڈھالا  جس کو شہرزاد پبلی کیشنز نے 2007ء میں شائع کیا ۔ محمد عمر میمن صاحب نے ’’ چند کلمات‘‘ کے عنوان سے ایک پیش لفظ تحریر کیا، جس کو قارئین ِ جائزہ کے واسطے پیش کیا جا رہا ہے ۔

کیا کسی لکھنے والے کی تخلیقی کائنات میں کوئی دوسرا داخل ہو سکتا ہے؟ دانش گاہوں کے معلّم اور، خاص طور   پر، ہمارے نقّاد، جن میں سے بیشتر قلم کار ہونے کے  مدعی بھی ہیں ، اصرار کرتے ہیں ، ببانگ ِ دہل نہ بھی سہی ، کہ یہ ممکن ہے ۔ شاید ہو ۔ لیکن میں اکثر کسی ایسی تحریر کو پڑھ کر ، جو وجود پر بڑی نیرنگی کے ساتھ مرتکز ہو ، اس جھکندن میں پڑ جاتا ہوں کہ میں اسے کتنا سمجھ سکا ہوں ۔ نیّر مسعود ہی کو لے لیجیے ۔ آج تک ان کے فکشن پر چھوٹے سے چھوٹے اور بڑے سے بڑے نقّاد  کی خاموشی اگر اس عجز کی انتہائی شکل نہیں تو اور کیا ہے؟ کیوں نہیں کوئی بتا دیتا کہ آخر ان کے افسانوں کے پیچھے کیا گورکھ دھندا ہے ۔ پیشہ ور نقادوں سے پوچھیے تو وہ فوراً  ’’  طاؤس چمن کی مینا‘‘  کا ذکر کر دیں گے: دیکھیے صاحب، یہ مقامی لوگوں کی برطانوی راج سے مقاومت اور مزاحمت کی کہانی ہے ۔ بس ! یہ کچھ اور نہیں؟ یہ پدرانہ شفقت کی کہانی نہیں؟ فکشن ہمیں تاریخ، سماجیات، سیاسی سائنس، بشریات کے بارے میں کیا  بتا سکتا ہے، جب کہ ایک لکھنے والے کی اولین وفاداری ان سب چیزوں کے ماورا اپنی ذات سے ہوتی ہے اور اسی لیے، وجودِ محض سے ۔ یہ یوں تو صحیح ہے کہ غدّاری ہوا میں نہیں کی جا سکتی ، کسی نظام، کسی طرزِ احساس کے خلاف مگر اس میں رہتے ہوئے ہی کی جا سکتی ہے ۔ ہو سکتا ہے کہ ’’طاوس  چمن کی مینا‘‘   کا کوئی آسان سا، سامنے کا پہلو ہمارے ہاتھ آ جائے، لیکن اس پر اصرار اس کہانی کی بوقلمونی کو محض ایک امکان تک محدود کرنا ہو گا ۔ چلیے، یہ کہانی آپ نے کسی حد تک سمجھ لی ، لیکن ’’مسکن ‘‘  یا ’’اوجھل ‘‘  کو آپ کتنا سمجھے ہیں؟

میرا فکشن کا مطالعہ محدود سہی ، لیکن یہ جس قدر بھی ہے، اس سے میں نے جو دوچار باتیں سیکھی ہیں وہ یہ ہیں : اب یاد نہیں رہا لیکن میلان کنڈیرا نے کہیں کچھ اس قسم کی بات کہی ہے کہ ناول ہمیں علم ولم نہیں دیتا ، اور نہ یہ اس کا کام ہے ، اور اگر کچھ دیتا  بھی ہے تو یہ ایک خاص قسم کی دانش ہے ، جو صرف اسی سے مختص ہے ۔ ظاہر ہے یہ دانش وہ علم نہیں جو اگر ہاتھ میں آجائے تو آپ تاریخ کے پرچے میں زیادہ سے زیادہ نمبر لے آئیں گے ، یا اپنی سائیکل کی مرمت کر لیں گے ۔ فکشنی دانش کو ایسے کسی پیمانے سے ناپا نہیں جا سکتا ، چناں چہ اس سے عملی زندگی میں کچھ بھلا ہونے کی توقع فضول ہے ۔

فکشن کو سمجھنا ۔۔۔۔ بڑا اچھا جملہ ہے! کیسے عالی شان عزم اور ولولے کا مظہر! لیکن ذرا غور کیجیے تو عجیب مخمصے میں گرفتار ہو جائیں گے ۔ کسی چیز کو اپنی ذات کے باہر نہیں سمجھا جا سکتا ۔ معلوم ہوتا ہے کہ جس چیز کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں ، اس میں صرف اپنے ہی کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں ۔ معروضیت ، معروضیت! غیر سے اپنی ذات کو منہا کر کے اسے سمجھنا، کم از کم یہ میرے بس میں نہیں ۔

دانش او ر بینش شاید بہتر طور پر کام آ سکیں ۔ میرے خیال میں ، لکھنے والا، ہم خواہ اس کی نگارش میں کچھ بھی ڈھونڈ نکالیں ، اول اور آخر وجود سے ہی سر مارتا ہے ، اس سے اٹکھیلیاں کرتا ہے ، تاکہ مصروفیت کی اس دھوپ چھاؤں کے دوران موت کی ناگزیریت سے ، وقتی طور پر ہی سہی ، غافل ہو جائے ۔ احساسِ مرگ اور اس کی قطعیت ہی وہ زہدان ہے جس میں فکشن کا نطفہ قرار پاتا ہے ۔ موت نہ ہو تو فکشن بھی نہ ہو ۔ ہم زیادہ سے زیادہ یہی کر سکتے ہیں کہ لکھنے والے کی وجود سے اس دردناک نبردآزمائی میں احساس کے ذریعے شریک ہونے کی کوشش کریں ، بھلے’’ اے‘‘ اور’’او‘‘ لیول کے امتحانوں میں فیل ہو جائیں ۔

ان چند جملوں کو لکھنے کی اذیت ناک حاجت اس لیے پیش آئی کہ ترجمے کے ساتھ یہ تقاضا بھی ہوا کہ اس ناول(’’ انگارے‘‘  ) اور اس کے لکھنے والے (شاندور مارَئی) پر بھی کچھ لکھ دوں ۔ دس ماہ اسی گومگو میں رہا کہ ناول پر کیا لکھ دوں ۔

مصنف کا معاملہ پھر بھی کسی قدر آسان ہے ۔ جو کچھ معلومات اس کی ذات کے بارے میں ، یعنی اس کے گوشت پوست کے انسان ہونے کے بارے میں ، ہیں، سب کے سامنے ہیں ۔ اور شاید انہیں خود اپنی ذات کو بیچ میں لائے بغیر بیان بھی کیا جا سکتا ہے ۔ گو یہاں بھی ایک دقّت ہے:

میلان کنڈیرا کا ایک ناول ہے ’’پہچان ‘‘   (Identity) ۔ اس کا ایک کردار ، ژوں مارک، بچپن ہی سے اس بات کا معترف ہے کہ ہر دس سیکنڈ پر پپوٹے کا جھپک کر آنکھ کو صاف کرنا تاکہ آنکھ وہ عمل بجا لا سکے جس کے لیے تخلیق کی گئی ہے، خدائے بزرگ و برتر کے اناڑی پن کا ثبوت ہے ۔ لیکن مجھے خدائے بزرگ و برتر کے کھلاڑی یا اناڑی پن سے غرض نہیں ۔  کیوں نہ متعلقہ جملے نقل کر دوں:

’’او ر وہ سوچے جاتا ہے : اپنی کارگاہ میں تامک ٹوئیے مااراتے ہوئے، اتفاقاً خدا کے ہاتھ یہ جسمائی ہیئت لگ گئی جس کی ہم سب کو ایک مختصر مدت کے لیے روح بننا پڑتا ہے ۔ لیکن کتنی قابل افسوس ہے یہ قسمت، کہ ایسے جسم کی روح بنا جائے جسے اتنے پھوہڑ پن سے جوڑا جاڑا گیا ہے کہ اس کی آنکھ ہر دس بیس سیکنڈ بعد دھلے دھلائے بغیر اپنی دیکھ داکھ انجام نہیں دے سکتی ! ہم کیسے یقین کر سکتے ہیں  کہ جسے دیکھ رہے ہیں وہ ایک آزاد، خودمختار وجود ہے، اپنی مرضی کا مالک؟ ہم یہ کیسے یقین کر سکتے ہیں اس کا جسم جو بھی روح اس میں متمکن ہے اس کا حقیقی مظہر ہے؟  اس پر یقین کرنے کے لیے، ہمیں پپوٹے کی دائمی جھپک کو فراموش کرنا ہی پڑا ۔ جس ٹامک ٹوئیے مارنے والے کی کارگاہ سے آئے ہیں اسے فراموش کرنا ہی پڑا ۔ ہمیں فراموش کرنے کے معاہدے کے آگے سرِ تسلیم خم کرنا ہی پڑا ۔ یہ خدا ہی ہے جس نے یہ معاہدہ ہم پر مسلط کیا ہے ‘‘  ۔

اس طویل  اقتباس میں ، سرِ دست ، مجھے صرف ان جملوں سے دل چسپی ہے : ’’ ہم کیسے یقین کر سکتے ہیں کہ جسے دیکھ رہے ہیں وہ ایک آزاد، خودمختار وجود ہے ، اپنی مرضی کا مالک؟ ہم کیسے یہ یقین کر سکتے ہیں اس کا جسم جو بھی روح اس  میں متمکن ہے اس کا حقیقی مظہر ہے؟‘‘   

بہ الفاظِ دیگر، جو شخص  ہمیں اپنے سامنے چلتا پھرتا نظر آ رہا ہے ، ہم اس کے بارے میں بڑے محدود دائرے میں ہی بات کر سکتے ہیں ، صرف اس کے مرئی اور محسوس اور قابلِ لمس وجود کے بارے میں ہے۔

تو اس حساب سے ، شاندور مارئی کے تاریخی وجود کے بارے میں چند موٹی موٹی باتیں یہ ہیں؛

شاندور مارئی 1900ء میں آسٹروہنگیرین ایمپائیر کے شہر کسّہ میں پیدا ہوا ۔ انیس سو تیس کی دہائی میں اس کا شمار ہنگری کے ممتاز ترین ناول نگار کی حیثیت سے ہوتا تھا ۔ یہ فاشزم کا بڑا متشدد مخالف تھا ۔ دوسری جنگِ عظیم میں کسی نہ کسی طرح بچ نکلا ، لیکن جنگ کے بعد اشتراکیوں نے اس کی جان ضیق میں کر دی اور اسے اس کے سوائے کوئی چارہ نظر نہیں آیا کہ ملک چھوڑ دے ۔ 1948ء میں وہ اٹلی چلا آیا اور بعد میں امریکا، جہاں سان دِیاگو میں 1989ء میں نواسی سال کی عمر میں خودکشی کر لی ۔

مارئی نے اپنی زندگی تنہائی اور گمنائی میں گزاری ۔ ہنگری پر اپنے سیاسی تسلط کے دور میں اشتراکیوں نے اس کی کتابوں پر پابندی لگا دی اور اس کی کثیر مطبوعات کی ایکو ایک جلد ، جو ہاتھ لگی ، تلف کر دی ۔ اور یوں چالیس کی دہائی کا مشہور ترین ناول نگار منظرِ عام سے یوں روپوش ہو گیا جیسے اس کا کبھی وجود ہی نہ رہا ہو ۔

مارئی کی تصانیف کی تعداد کوئی ساٹھ کے لگ بھگ ہے ، جس میں تئیس ناول ہیں ا  ور کوئی بیس جلدیں ڈائیریوں پر مشتمل ہیں ۔ اس کی ایک کتاب Memoirs      of      Hungry (1944 – 1948) ہنگری پر جرمن قبضے اور اشتراکیوں کے عروج کے درمیانی عرصے میں اس ملک کے شب و روز کے بڑے بے ٹوک بیان پر مشتمل ہے ۔

اگر مارئی کے ناول یوں دہائیوں تک منظرِ عام سے غائب نہ کر دیے جاتے تو عین ممکن تھا کہ یہ ہم سے جدید مغربی فکشن کی تاریخ بہ اندازِ دگر مرتب کرواتے ۔ ان دو درجن سے زائد ناولوں میں سے صرف سات کا اور ساری ڈائریوں کا پہلے جرمن زبان میں ترجمہ ہوا، انگریزی میں نہیں ، جو دنیا میں شاید سب سے زیادہ مستعمل زبان ہے ، تاہم غیرانگریزی ادب  کی تصنیفات کے معاملے میں ، بلاشرکتِ غیرے ، سب سے پھسڈی واقع ہوئی ہے ۔

ستمبر 2002ء میں کہیں جا کر نیویارک کے اشاعتی ادارے ’’ وینٹیج‘‘   سے Embers کا کیرول براؤن جین وے کا کیا ہوا انگریزی ترجمہ شائع ہوا ۔ ستم ظریقی یہ کہ انگریزی ترجمہ اصل ہنگیرین سے نہیں بلکہ جرمن اور فرانسیسی ترجموں کو سامنے رکھ کر کیا گیا ہے ۔ اور اس اشاعت کی بھی ایک داستان ہے ۔ الغرض ، اشاعتی ادارے knopf  نے مارئی کے ستائیس کے ستائیس ناولوں کے انگریزی ترجمے کے لیے حقوق حاصل کر لیے ہیں ا ور جین وے ہنگرین زبان کے شاعر Sgetti کے ساتھ مل کر ان سب کا ترجمہ آئندہ سالوں میں کرنے والی ہیں ۔ 2002ء  میں مارئی کے ایک اور ناول Conversations      in      Bolzano کا ترجمہ بھی انگریزی  میں ہوا اور اس سال ایک اور ناول The      Rebels کا ترجمہ بھی ہو گیا ہے ۔ حال ہی میں Embers کی فلم بھی بن گئی ہے ۔ اس ناول کا اردو ترجمہ ، جو آپ اب پڑھنے والے ہیں ، میں نے ، ستم بالائے ستم ، جین وے کے انگریزی  ترجمے سے کیا ہے ۔ اس طویل سفر میں (ہنگیرین – جرمن – انگریزی –اردو) جانے کیا کچھ بچھڑ گیا ہو گا ۔

’’انگارے ‘‘    کا موضوع کیا ہے؟ معاف کیجیے گا، آپ کے تجسس کو آسودہ کرنے کی میری کوئی نیّت نہیں ۔ نیّت تو میں  نے یونہی کہہ دیا : میں اس کی ہمت ہی نہیں کر سکتا ۔ ظاہری طور پر تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ مردوں میں دوستی کی نوعیت کے تعین کی ایک کوشش ہے ، ان پر ایک طویل مراقبہ ، کہ دیکھیں تو اس میں صرف دو ہی فعّال کردار ہیں ، بلکہ کردار، فعّال کردار ، تو شاید ایک ہی ہے ، دوسرا تو بس پس منظر فراہم کرتا ہے ۔ لیکن ناول میں اس ظاہری  اقتصاد کے باوجود زیریں لہروں کی وہ دھن دولت ہے جو آسٹروہنگیرین اشرافیہ کی اقدار کے ماتم سے لے کر دوستی،غدّاری ،  شہوت ، انتقام وغیرہ تک سب کچھ سمیٹ لیتی ہے ۔ ہاں ایک کردار اور بھی ہے ، اکیانوے سالہ کھلائی یا اَنّا ، نینی ، لیکن نینی کے بارے میں کوئی کہے بھی تو کیا: ’’ نینی‘‘     جس ’’ کا چہرہ گلابی رنگت اور جھریوں سے پُر تھا ۔۔۔ نفیس پارچے اسی طرح پرانے ہوتے ہیں ، اور صدیوں پرانے ریشم جو اپنی بافت کے دھاگوں میں ایک پورے خاندان کی مجموعی مہارت اور خواب سنبھالے ہوتے ہیں ‘‘  ۔ نینی، جس کا ’’ گھر میں کوئی عہدہ تھا نہ خطاب ۔ بس ہر شخص اس کی توانائی کا معترف تھا ۔۔۔ ]۔۔۔[ نینی وہ قوّت تھی  جو سارے گھر سے ، اس کے مکینوں ، اس کے درودیوار ، اس کی تمام چیزوں سے اس طرح اُبلی پڑتی تھی جیسے وہ غیر مرئی برقی لہر جو کسی چھوٹے سے گشتی کٹھ پتلی کے تماشے کے اسٹیج پر کبڑے پنچ اور سپاہی کے کرداروں کو جان دار بنا دیتی ہو‘‘  ۔

تو صاحب، موضوع کا فیصلہ آپ کریں ، میں تو اس ناول کے ساتھ یہ بے ادبی نہیں کر سکتا ۔ میں تو صرف اس سے یہی گزارش کر سکتا ہوں کہ مجھے اپنی ذات کے حسن و قبح کے ساتھ زیست کی بابت اپنے تجربے میں شریک ہونے کی اجازت عنایت کرے ۔

Recommended Posts

Leave a Comment

Jaeza

We're not around right now. But you can send us an email and we'll get back to you, asap.

Start typing and press Enter to search