ماورائے خیر و شر (شجرۂ اخلاقیات)،دیباچہ: فریڈرک نطشے (ترجمہ: عاصم رضا)

فرض کیجیے ، صداقت ایک عورت ہے  ۔ پھر کیا  ؟ کیا  یہ گمان نہیں کیا جا سکتا کہ کُل فلسفی ، جس  قدر تحکم پرست(dogmatist) واقع ہوئے ہیں ، عورت کو سمجھنے سے قاصر ہیں کیونکہ عموماً جس ہولناک سنجیدگی  اور بھونڈے تقاضے کے ساتھ فلسفی سچائی کے متعلق تقریریں جھاڑتے ہیں ،  وہ ایک عورت کو جیت لینے کی غرض سے  اناڑی اور بیہودہ طریقوں پر مبنی ہیں ؟  یقیناً ،عورت/ سچائی  نے خود کو ہار جانے کی اجازت کبھی نہیں دی ہے ؛ اور اس وقت ہر قسم کا تحکم،  افسردہ اور مایوس بشرے کے حامل افراد کے ساتھ چمٹا ہوا ہے اگر وہ بلا تفریق کسی بھی صورت میں برقرار ہے ! وہ بہت سے لعن طعن کرنے والوں کی نظروں میں ذلیل و خوار ہو چکا ہے کہ ہر قسم کا تحکم زمین بوس ہے ۔ اور اس پہ مستزاد،  وہ اپنی آخری سانسوں پر ہے۔ تاہم سنجیدہ الفاظ میں بات کی جائے، تو اس امر کا اچھا جواز موجود ہے کہ فلسفے کے تحت وضع ہونے والا تمام تر تحکم، خواہ جس قدر بھی شاندار ہو نیز دوٹوک اور  ممکنہ طور پہ غیریقینی ہو، شاید ایک شاندار بچپن اور شروعات کا حامل رہا ہے  ؛ اور شاید ابھی وقت باقی ہے جب اس بات کو ایک بار پھر سے سمجھ لیا جائے کہ تحکم پرستوں نے موجودہ زمانے تک، درحقیقت کس شے کے بل بوتے پر متاثر کن اور حتمی فلسفوں کو استوار کیا ہے: شاید قدیم زمانے کے کسی معروف توہم (مثلاً روح سے متعلق ضعیف الاعتقادی جو فاعل/موضوع اور انا  کے وہم کی صورت میں  ہنوز بنائے فساد ہے) ؛ شاید لفظوں  کے کسی کھیل ، نحوی دھوکے ، یا پھر انتہائی محدود، انتہائی ذاتی اور  انتہائی انسانی یعنی بے پایاں بشری حقائق کے سہارے ۔ شاید تحکم پسندوں کا فلسفہ ، ابتدائی زمانوں کے علم نجوم کی مانند ،  آنے والے ہزاروں برس کے واسطے واحد یقین دہانی تھی جس  کو پروان چڑھانے کی خاطر  ، شاید نسبتاً زیادہ محنت ، سونا و دولت ، باریک بینی اور ثابت قدمی سے کام لیا گیا ہے  ، بجائے اس کے کہ یہ سب کچھ کسی حقیقی سائنس / علم  کے باب میں صرف ہوتا :  ہم  ایشیا اور یورپ میں تحکم پسند فلسفے کے اور اس کے’’فلک بوس/ بلند و بالا‘‘ (super-terrestrial) دعووں اور عظیم الشان ڈھانچوں کے زیرِ بار ہیں ۔ دکھائی دیتا ہے کہ دائمی دعووں  کے ہمراہ نسل ِ انسانی کے قلب پہ اپنی چھاپ چھوڑنے کے واسطے  تمام عظیم الشان اشیاء کو غیر معمولی اور حیرت انگیز نقوش کی مانند ،  سب سے پہلے زمین پہ بے مقصد وقت گزارنا پڑتا ہے :  تحکم پسند فلسفہ بھی اسی قسم کی ایک صورت ، مثلا ً ایشیا میں فلسفۂ ویدانت اور یورپ میں افلاطونیت، میں موجود رہا ہے ،  ۔ چلیے، ہم  ناشکری سے کام نہیں لیتے ، اگرچہ اس بات کا اعتراف بھی ضروری ہے کہ  آج تک  ہونے والی خطاؤں میں سب سے زیادہ بری ، سب سے زیادہ تکلیف دہ ، اور سب سے زیادہ خطرناک بھول،  ایک تحکم پسند غلطی ہے یعنی افلاطون کی ایجاد برائے خالص روح  (Pure Spirit)اور خیر فی نفسہ (Good in Itself) ۔ لیکن اب اس کو زیر کر لیا گیا ہے  اور یورپ  اِس کابوس سے پیچھا چھڑوانے کے بعد ہی   دوبارہ سے سکھ کی سانس  لے سکتا ہے اور کم از کم ایک  قسم کی پرسکون نیند سے لطف اندوز ہو سکتا ہے ۔  ہم  لوگ  جن کی ذمہ داری ہی بذات خود  چوکس رہنا ہے   ،  اس تمام تر  ہمت  کے رکھوالے  ہیں جسے اس غلطی کے  مقابلے میں  ہونے والی جدوجہد نے اپنی آغوش میں پالا ہے ۔  یہ سچائی کی  بنیادی تقلیب اور تناظر کے انکار پہ منتہج ہوئی  یعنی روح و خدا کی بابت  حیات کی وہ بنیادی شرط  ، جیسا کہ افلاطون نے ان  دونوں کے بارے میں لکھا ؛ بلاشبہ ،  شاید کوئی شخص ایک  طبیب  کی مانند دریافت کر سکتا تھا :  ’’اُس  عہد ِ قدیم کا عمدہ ترین شاہکار  یعنی افلاطون کیسے اِس  عارضے کا شکار ہوا  ؟ کیا  واقعی  میسنا  سقراط ہی افلاطون کے بگاڑ کا باعث بنا  تھا ؟ کیا  سقراط  بہر صورت نوجوانان ِ ایتھنز کو بگاڑنے والا اور زہر کے پیالے کامستحق تھا؟ ‘‘  تاہم افلاطون کے خلاف ہونے والی جدوجہد  ، یا پھر  ” عوام ‘‘کے واسطے سادہ الفاظ میں  یوں کہا جائے  کہ عیسائیت کے ہزار سالہ متبرک کلیسائی  جور و استبداد  کے خلاف ہونے والی جدوجہد (کہ عیسائیت کی مثال وہی ہے جو ’’ عوام ‘‘کے لیے افلاطونیت کی ہے ) ، نے یورپ میں  روح  کے واسطے ایک عظیم الشان  کشمکش  کو جنم دیا  ، جس کی مثال ماضی میں اس سے پہلے کہیں نہیں ملتی ؛ اب کوئی بھی دور افتادہ منزلوں کو نشانہ بنانے کے لیے اس کمان کو چڑھا سکتا ہے ۔  حقیقتِ حال یہ ہے کہ  ایک یورپی ذہن  اس کشمکش کو ایک المناک صورتِ حال کے طور پہ دیکھتا ہے  اور اس کھنچی ہوئی کمان کو توڑنے کے واسطے بہت بڑے انداز میں دو  کوششیں ہو چکی ہیں :  ایک  مرتبہ (1534ء میں  تحریک اصلاح  ِ مذہب کے خلاف)  کیتھولک  عیسائیت (Jesuitism) کے ہاتھوں اور دوسری مرتبہ  جمہوری روشن خیالی کے ذرائع کی بدولت  ، جس نے  آزادیِ پریس  اور  اخبار بینی کے ذریعے شاید ایسے نتائج پیدا کر دیے تھے  کہ روح اپنے آپ کو اتنی آسانی سے  ’’  مصیبت ‘‘ سے دوچار محسوس نہیں کرے گی ۔  (جرمنوں نے بارود ایجاد کیا  کہ تمام سہرا انھی کے سر جاتا ہے ! لیکن انھوں نے   چھاپہ خانے کی ایجاد کے ساتھ معاملات کو دوبارہ سے برابر کر دیا ۔) ۔ لیکن ہم جو نہ تو تحریک اصلاحِ مذہب کے مخالف کیتھولک عیسائی (Jesuits)  ہیں ،  نہ ہی جمہوریت پسند  اور  نہ ہی بہت حد تک جرمن ہیں ، ہم اچھے یورپی ، آزاد  اور انتہائی آزاد طبع ، ابھی تک کشمکش ِ روح اور اس  کی چڑھائی ہوئی کمان کے تناؤ  کے بوجھ  تلے دبے پڑے ہیں !  اور غالبا ً تیر و ترکش اٹھانے کا فریضہ بھی ہمارے ہی سر ہے ۔  کون جانے ،  کہاں پہ نشانہ ہے   ۔۔۔۔۔۔

باب دوم

Recommended Posts

Leave a Comment

Jaeza

We're not around right now. But you can send us an email and we'll get back to you, asap.

Start typing and press Enter to search