جمالیاتی نظریات: مارسیہ میلڈر ایٹن (ترجمہ: طلحہ شہاب)

’حُسن‘، ’فن/آرٹ‘، اور ’جمالیات‘ جیسی بنیادی اصطلاحوں کی تعریفات سے جڑے سوالوں نے فلاسفہ کو اس جانب متوجہ کیا ہے کہ ایسے مشکل تصورات کی تشریح کے واسطے نظریات کو وضع کرنے کا جتن کیا جائے ۔ زیرِنظر فصل کے اندر، میں جمالیاتی نظریات کی مثالوں کو مختصراً پیش کروں گی ۔

 معاصر عہد کی جمالیات میں ’فن/آرٹ‘ کو ’حُسن‘ سے زیادہ زیر بحث لایا جاتا ہے۔ بیشمار صدیوں تک فن/آرٹ کو نقل کی ایک نوع فرض کیا جاتا تھا۔ مجسموں کو انسانوں، ڈراموں کو انسانی اعمال، اور موسیقی کو کائناتی ہم آہنگی کی نقل سمجھا جاتا تھا۔ نظریہ سازوں نے لوازماتِ نقل اور تخلیقی مقصد کی بنیاد پر فن/آرٹ اور دیگر انواعِ نقل کے مابین امتیاز قائم کرتے ہوئے فن / آرٹ کو بیان کرنے کی ٹھانی۔ مثال کے طور پر ،ارسطو نے المیے کو ایک ایسے عمل کی لفظی نقل قرار دیا جس میں ایک عظیم الشان سورما (ہیرو) خوف ناک اور قابل رحم آفات سے دوچار ہوتا ہے اورجس (ہیرو کے احوال) کے ذریعے ناظرین رحم دلی اور خوف (کے جذبات) کی صورت مسرت بخش کتھارسس(تنقیہ) کے تجربے سے گزرتے ہیں۔ اگرچہ بعض فلسفی ہنوز نظریات برائے نقل کے ساتھ وابستہ ہیں ، تاہم گزشتہ سالوں میں ایسے نظریات کی جگہ دوسرے نظریات نےحاصل کر لی ہے ۔

جمالیاتی نظریات بسا اوقات جمالیاتی مفعول/عنصر، سرگرمی، صورتحال، یا تجربے کا اثبات کرنے کے لئے لازمی (Necessary) اور ضروری (Sufficient ) شرائط مہیا کرنے کا فریضہ سر انجام دیتے ہیں۔ ایک لازمی شرط وہ شے ہوتی ہے جس کا موجود ہونا کسی شے کے وقوع پذیر ہونے کے لئے ناگزیر ہے۔ مثلاً کسی کنوارے کے لئے غیر شادی شدہ ہونا ایک لازمی شرط ہے۔ کوئی شرط اس وقت ضروری (لائقِ کفایت) شرط کہلاتی ہے جب کسی شے کے وقوع پذیر ہونے یا موجود ہونے کے لئے صرف اسی کی ضرورت ہو۔ دس فارن ہائیٹ کا درجہِ حرارت تازہ پانی کو جمانے کے لئے کافی ہے۔

مثالی اعتبار سے ، جمالیاتی نظریات ، جمالیاتی و غیرجمالیاتی کے مابین امتیاز کو اس امر کی وضاحت کے ذریعے متعین کرتے ہیں کہ ’جمالیاتی‘ کہلانے والی اشیاء، کلی یا جزوی طور پر کون سی شرائط اور خصوصیات کی حامل ہیں۔ جسے ہم شاید ’’جمالیاتی صورتحال‘‘ قرار دیں، اس کے مختلف عناصر درج ذیل بنیادوں پر جمالیاتی نظریات کی زمرہ بندی کرتے ہیں: (الف) تخلیق کار (کم سے کم جب توجہ کا مرکز ایک فن پارہ ہو)، (ب) سامعین یا ناظرین، (ج) معروض یا واقعہ، (د) اور وہ حالات یا سیاق و سباق جس کے تحت معروض/مفعول ، واقعہ، یا کارکردگی کا تجربہ کیاجاتا ہے۔ جمالیاتی نظریات کی توجہ اکثر و بیشتر ان چاروں عناصر میں سے کسی ایک پر، یا ان صورتوں پر جن کے تحت مذکورہ عناصر ایک دوسرے سے باہمی مطابقت قائم کرتے ہیں ، مرکوز ہوتی ہے ۔ اور ایسی ہی اصطلاحوں میں لازمی اور ضروری شرائط کو اکثر و بیشتر بیان کیا جاتا ہے۔

فنکار پہ توجہ دینے والے جمالیاتی نظریات ’خوبصورتی‘ ، ’فن/آرٹ‘، اور ’جمالیات‘ جیسی کلیدی اصطلاحات کوان اشیاء کے ذریعے بیان کرتے ہیں جو فنکارانہ سرگرمی یا نفسیات کے لئے خاص ہیں ۔ ایسے نظریات ماں (نامی) پینٹگ [1] کے فنکار کے کردار سے جڑے سوالات کے جواب دیں گے۔ شاید یہ (نظریات) اس جانب اشارہ کریں کہ ایک خاص مقصد اور ارادہ ہی وہ لازمی شے ہے جس کے تحت فنکار نے اسے بنایا۔ امکان ہے کہ ایک تعریف اس نتیجہ کی جانب توجہ دلائے کہ کوئی شے اسی صورت میں جمالیاتی معروض/مفعول ہو سکتی ہے اگر فنکار اسے صرف اور صرف جمالیاتی رد عمل کے ارادے سے تخلیق کرے۔یا کچھ نظریات اس بات پر زور دیتے ہیں کہ فنکار لازمی طور پر تخلیقی قوت اور تخیل (کی صلاحیت) رکھتا ہے۔ ایک دوسری قسم کا جمالیاتی نظریہ فنکارانہ اظہار یا ابلاغ کو اجاگر کرتا ہے۔

ناظرین کو مرکز ِ نگاہ بنانے والے جمالیاتی نظریات ناظرین کے ایک مخصوص تجربے کی ناگزیریت پر زور دیتے ہیں۔ یہ نظریہ ساز اس یقین کے حامل ہیں کہ ’فن/آرٹ‘، ’جمالیات‘ یا ’حُسن‘ کو سمجھنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ناظرین کا تجزیہ کیا جائے، مثلاً اس امر کو دیکھا جائے کہ میرے خاندان کے فرد ماں (نامی پینٹگ) کو دیکھ کر کیا ردعمل ظاہر کرتے ہیں ۔ ایک مخصوص ردعمل (مثلاً وہ ردعمل جس میں اخلاقی پہلو موجود نہ ہو)، عموماً ناظرین پر مبنی نظریات کا مرکز ہوتا ہے۔ اس ردعمل کو جمالیاتی تجربے کی ایک مخصوص قسم، مثلاً حسِ ذائقہ کو برتنے یا ایک مخصوص رویہ اختیار کرنے کی اصطلاحوں کے ذریعے متنوع انداز سے بیان کیا گیا ہے۔ ناظرین کو مرکزِ نگاہ بنانے والے دیگر نظریات ایک مخصوص قسم کےجذباتی یا ذہنی فعل پر توجہ دیتے ہیں۔

معروض / مفعول کو سب سے اہم ترین حیثیت دینے کے قائل جمالیاتی نظریہ ساز خالق یا ناظر دونوں کی بعض خصوصی صلاحیتوں پر انحصار کیے بغیر جمالیاتی یا فنکارانہ حیثیت کی حامل اشیاء کو غیر جمالیاتی، غیر فنکارانہ حیثیت کی حامل اشیاء سے جدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ امکان ہے کہ ایسے نظریات کسی ایک مخصوص صفت مثلاً حُسن پر زور دیں۔ بعض نظریات ’’رسمی صفات‘‘ (مثلاً آواز، رنگ یا شکل) پر توجہ دیتے ہیں نیز اس بات کو واضح کرنے کا جتن کرتے ہیں کہ جمالیاتی صورتحال میں مذکورہ صفات ہی تنِ تنہا لائقِ توجہ متعلقہ عناصر ہیں۔ ایسے نظریات کے مطابق، ماں (نامی پینٹگ) کے حوالے سے فنکار یا ناظر کے ردعمل کی بجائے، محض صفات ضروری ہیں۔ معاصر فلسفیانہ جمالیات کی بعض اہم ترین تحقیقات کا ظہور اس امر کو بیان کرنے کی خاطر ہونے والی کاوشوں کے نتیجے میں ہوا ہے کہ جمالیاتی عناصر ایک خاص لفظیات کے حامل ہیں۔ فن پاروں کو علامتیں خیال کیا جاتا ہے جنھیں اس علامتی نظام سے واقف لوگ ہی سمجھ سکتے ہیں ۔ (بعض جمالیاتی نظریہ ساز یہ دلیل دیں گے کہ میری ماں کے ردعمل سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ مصوری کی ’’قرات‘‘ سے ناواقف ہے۔)

آخرکار اس یقین کے حامل نظریہ ساز ہیں کہ حقیقی طور پر یہ بات اہم ہے کہ تخلیق کار ، ناظرین اور معروض / مفعول کو پیش کرنے والا سیاق و سباق جمالیاتی اعتبار سے قبولیت کے لائق ہے یا نہیں۔ مثال کے طور پہ ادارہ جاتی نظریہ ساز اس بات پر زور دیتے ہیں کہ جمالیات کو بامعنی بنانے سے قبل ضروری ہے کہ کارکردگی یا جانچ پڑتال سے متعلق افعال کے حامل مخصوص ادارے مثلاً عجائب گھر یا اجتماعات موجود ہوں ۔ مثال کے طور پر شکاگو کے ماہرین کی غیر موجودگی میں ماں ایک اچھی پینٹنگ تو درکنار، ایک پینٹنگ نہیں ہو سکتی۔ا ن پیچیدہ معاشرتی رسومات کے بغیر چند پتھروں کا مجموعہ سٹون فیلڈ (Stone       Field) [2]نامی فن پارہ نہیں کہلا سکتا۔ بعض نظریہ ساز تاریخی یا معاشی یا معاشرتی حالات کی طرف اشارہ کرتے ہیں جن کی موجودگی جمالیاتی تجربے کے وقوع پذیر ہونے کے لئے لازمی ہے۔


[1] وسلرز کی ماں (Whistler’s       Mother) کے نام سے مشہور پینٹنگ امریکی مصور جیمز میکنیل وسلر (James      McNeill      Whistler)  نے 1871 میں تخلیق کی۔ پینٹنگ کا موضوع وسلر کی ماں اینا میکنیل وسلر (Anna      McNeill      Whistler) ہے۔ یہ بیرون امریکہ مقیم فنکاروں کے مشہور ترین کام میں سے ایک کام ہے اور اسے وکٹورین مونا لیزا (Mona      Lisa) کے نام سے بھی منسوب کیا جاتا ہے۔

[2] سٹون فیلڈ (Stone      Field) امریکی مرصع ساز فنکار کارل آندرے (Carl      Andre) کا تخلیق کردہ مجسمہ ہے جو 1977 میں (Hartford, Connecticut) میں نسب کیا گیا۔

Recommended Posts

Leave a Comment

Jaeza

We're not around right now. But you can send us an email and we'll get back to you, asap.

Start typing and press Enter to search