پیش لفظ (شاہراہ شوق) – احمد جاوید

 In تنقید

تخیل ذہن کی زبان ہے جس کی کوئی گرامرنہیں ہوتی۔ تاہم لفظ کے دائرے میں آ کر اسے ذہن پر حکومت کرنے کی عادت چھوڑنی پڑتی ہے اور اظہار کےبے لچک یا ڈھیلے ڈھالے قاعدوں ضابطوں کو،آزادی اورخلاقی کے ساتھ سہی ،قبول کرنا پڑتا ہے ۔ اسی لیے شاعری محض ایک جمالیاتی وفور نہیں ہے بلکہ فن بھی ہے جس کے قواعد اور باریکیوں کو بڑے سے بڑے شاعر کو  بھی سیکھنا ہوتا ہے ۔فن ،یعنی حسن اظہار کے لازمی وسائل پر قدرت حاصل کر لینے کے نتیجے میں ایک اچھا شاعر اپنے احوال کودوسروں میں منتقل کرنے کی قوت حاصل کر لیتا ہے ۔ احوال کی منتقلی کا یہ عمل اس طرح  نہیں ہوتا کہ شاعر کا تجربہ جوں کا توں قاری کا تجربہ بن جائے ۔ ایسا نہیں ہے کہ کیونکہ شعر میں ڈھل جانے کے بعد اس کے معنوی اور تاثیری کل میں کچھ ایسے اجزا بھی داخل ہو جاتے ہیں جو شاعر کے اندر ترتیب پانے والے ماقبل اظہار اجزا میں شامل نہیں ہوتے بلکہ ان سے مختلف بھی ہوجاتے ہیں ۔ ایسا اس لیے ہوتاہے کہ جمالیاتی ادراک و اظہار کی روایت میں تحدید کا کوئی تصور نہیں پایا جاتا ، نہ مفہومی نہ احوالی۔ اس روایت میں’لفظ ‘متکلم سےزیادہ مکمل اور آزاد ہوتا ہے ، جس کی بدولت مخاطب کو بھی شریک متن ہونے کی اجازت مل جاتی ہے۔شاعری کا سامع یا قاری دو سوالوں سے کبھی خالی نہیں ہوتا…….. کیا کہا جا رہا ہے ؟ اور کیسے کہا جا رہا ہے ؟’کیا‘ ہو یا ’کیسے‘ دونوں جمالیاتی تناظر میں ہیں، کوئی عقلی یا اخلاقی تقاضے نہیں۔ اس لئے ان میں قطعیت اور حتمی پن کی طلب سرے سے ناپید ہے۔بہرحال جمالیاتی شعور اورحس کے ان دونوں مطالبات کی تکمیل اس فن کاری،یعنی ذہن اورشے دونوں کے مربی ’لفظ‘ سے گہری مناسبت کے ساتھ ہی ممکن ہے جو شاعر کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ اپنے اندر برپا طغیانیوں کی ’تراش خراش‘ کر سکے اور انہیں اپنی اٹھان اور مواجی میں کمی لائے بغیر مختلف ساحلوں کے لیے پرکشش بنا سکے۔

اب اگر اس اصول کا اطلاق عاصم بخشی صاحب کی شاعری پر کیاجائے تو کچھ دلچسپ نتائج سامنے آتے ہیں ۔

1۔    یہ شاعری ، ذرا عبارت آرائی کے ساتھ ، صحرائے شعور کے گردبار اوردریائے وجود کے گرداب کی طرح دکھائی تودیتی ہے مگر محسوس نہیں ہوتی۔ ہم اس بگولے اور بھنور کا نظارہ تو کر لیتے ہیں لیکن فاصلہ اتنا زیادہ ہے کہ دونوں کا ہیبت ناک گھماؤ ہمارے تجربے میں نہیں آ پاتا۔ البتہ کہیں کہیں یہ فاصلہ کم بھی ہو جاتا ہے۔ ایسے ہر موقعے پر یہ احساس ضرور ہوتا ہےکہ ہم ایک غیر معمولی شاعری پڑھ رہے ہیں جس کو سمجھنے سےزیادہ جذب کرنے کی ضرورت ہے ۔ یہ شاعری بہت پیچید‎گی کےساتھ ذہنی اور تجریدی ہے لیکن عجیب بات یہ ہے کہ اس کا طرز احساس حیران کن حد تک سادہ ہے ۔اسے مفہوم کی شکل دینا سخت مشکل ہے ، مگر محسوس کرنا بالکل آسان ۔ اس کی کچھ مثالیں دیکھیے:

 

میں تیری آنکھ میں سنگِ مسافت دیکھتا ہوں

تجھے کیسے کہوں منزل مکاں سے ماورا ہے

 

مرا گمان ہے شاید یہ واقعہ ہو جائے

کہ شام مجھ میں ڈھلے اور سب فنا ہو جائے

 

دشت امکاں سے پرے وقت کےدرتک پہنچوں

ایک لمحے کوجکڑ لوں اسے پل پل دیکھوں

 

نکل آیا ہوں خود سے اتنا آگے

کہ اپنے آپ سے ڈرنے لگا ہوں

 

مجھے مجھ سے الگ کرنے کی خاطر

تمہیں خود سے جدا ہونا پڑے گا

 

اس طرح کے اور اشعار بھی ہیں۔ سب میں ایک چیز مشترک ہے ۔ اور وہ یہ کہ تصور اور اس کی تشکیل کاعمل اتنا پیچیدہ ،غیر رسمی اورمبہم ہے کہ ذہن کو زاویے بدل بدل کر اس سے مناسبت پیدا کرنے کی کاوش کرنی پڑتی ہے، لیکن اس کےساتھ ساتھ ایسے اشعار میں ایک احساساتی ٹھہراؤ اورقطعیت بھی ہے جسے ہم معمول کے محسوسات میں کوئی اکھاڑ پچھاڑ کئے بغیر ایک بے غبار منظر اور مانوس احساس کی طرح قبول کر لیتے ہیں ۔ یہ ایک نادر بات ہے کہ ذہن کومشکل میں ڈالنے والا بیان تصور اور تاثر کی سطح پر صاف اورغیر پیچیدہ ہو۔

2۔  عاصم صاحب کو’تنہائی کا شاعر‘ بھی کہا جاسکتا ہے ۔ یہ تنہائی گوروحانی نہیں ، ذہنی و نفسیاتی ہے ،مگر پھر بھی ایک کائناتی سیاق و سباق میں واقع ہونے کی بدولت ،اس کا پھیلاؤ بہت زیادہ ہے۔ اس میں داخلیت کاعنصر اتنا کم اورثانوی حیثیت کا حامل ہے کہ اسے ہم فرد کی ہمہ گیر تنہائی کاعنوان دے سکتےہے ۔ ایسی تنہائی جو میری ہےمگر میں خود اس کا ایک حصہ ہوں، اپنے ہونےکی حالت میں بھی اور نہ ہونے کےحال میں بھی۔ شعور چونکہ ’میں‘ کےتصور سےبنا ہوا ہے لہٰذا اس تنہائی کا بڑا حصہ اس کی گرفت سے باہر ہے ۔ اس اجنبی منطقے کی جبری سیر روداد شعور کےاندر جیسے تخیلات میں اظہار پائے گی،وہ اپنی ساخت میں ایسے ہی ہوں گے۔ پیچیدہ اور کہیں کہیں ژولیدہ :

 

چھوڑتا ہوں ہاتھ اپنا شاہراہ شوق پر

منزل مقصود پر پھر خود کومل جاتا ہوں میں

 

کون کہتا ہے کہ نابود ہے گزرا ہواوقت

کیا میں زندہ نہیں  بیتے ہوئے لمحوں کی طرح

 

کسی نرگس نے مجھ کو بددعا دی

تجھے اپنا خداہوناپڑے گا

 

3۔ اس شاعری میں معنی کی تعمیرکاعمل ایک تدریجی حالت اور اگر کہا جا سکے تو ایک نیم تجریدی اور نیم تجربی بہاؤ کی کیفیت کی طرح نظرآتاہے ۔ یوں لگتاہے کہ معنی کے بعض ضروری عناصر کو منہا کر کےاسے زیادہ سے زیادہ غیر ذہنی بنانے کی کوشش ہو رہی ہے ۔معنی کی نقل مکانی کایہ منظر کشش اور تحیر تو پیدا کرتا ہے ،مگر ایک شدید ناتمامی، یاتنقید کی نیت سےکہا جائے تو ،سخت ادھورا پن رکھتا ہے ۔ اس منظر میں معنی کی ایک گھر سے بےدخلی تو نظر آ جاتی ہے لیکن یہاں سےنکل کر اسے کس مکان میں جاتاہے ، یہ واضح نہیں ہے ۔ اس دھند لاہٹ کے دو سبب ہو سکتے ہیں ،ایک مثبت اور ایک منفی۔ مثبت سبب تو یہ ہے کہ ذہن کا پابند رہ رہ کر معنی پر جیسے زنگ چڑھ گیاہے جسے اتارنے کے لیے اس پر سےذہن کی مہر مٹا کر اسےا یک ’وجودی پن‘دیناضروری ہو گیا تھا۔ منفی وجہ یہ ہے کہ اس منظر کےنقاش میں تصویر سوچنے کی صلاحیت ،تصویر بنانے کی قدرت سے بہت زیادہ ہے ۔ یعنی اظہار ادراک سے پیچھے رہ گیا ہے جس سے بیان میں وسعت پذیر ابہام کی جگہ ایک خلادر آیا ہے جو معنویت کو علامت یا صراحت ،کسی پہلو سےکم از کم اتنا مکمل نہیں ہونے دیتا کہ قاری کے اندر اسے سمجھ لینے یا نہ سمجھ سکنے کی کوئی ایسی کیفیت پیدا ہوجائےجس پر  وہ اعتماد کر سکے۔ میرے خیال میں عاصم بخشی صاحب کے کلام میں معنی کی ناتمام تشکیل کے پیچھے یہ دونوں ہی سبب کار فرما ہیں۔ اگر ذرا گہرائی میں جانے کی کوشش کی جائے تو اس شاعری میں ذہن اور شےدونوں سے ماورا جانے کی ایسی لگن بھی دکھائی دے گی جو کبھی کبھی انکار ِمعنی کی حد کو چھونے لگتی ہے ۔ اس فضا میں تخلیق کرنا تودور کی بات ہے ، اس میں داخل ہونے کے لیے بھی شعور کو قلب ماہیت کے مراحل سے گزرنا پڑے گا۔ عاصم صاحب کے اس وصف کےبھی کچھ نمونے ملاحظہ ہوں ۔

کلام ونطق و تمثیل  و بیاں سےماورا ہے

یہیں موجود ہے لیکن یہاں سے ماورا ہے

 

میری  فہمائش  صفرا کی  زمیں سوختہ ہے

بحرِ  مفرد    مجھے  نمدار  نہیں   کر   سکتا

 

اک مسلسل چال سے یوں تو زماں بہتا  رہا

پھر جو لمحہ وقت سے آگے بڑھا وہ میں ہی تھا

 

جمال  ِ  مستی ِ    غرقاب میں  دم  خم تو ہے لیکن

کسی  چشمِ  فنا   کی  خواہش ِ    ساحل کا کیا کہنا

 

مجھے اب وقت کی حاجت نہیں ہے

وہ اک لمحہ زمانہ ہو گیا ہے

 

ٹھہری کثرت کی طلب جہلِ بسیط

صفر بھی اصل میں اکثر ہی تو تھا

 

4۔ اللہ بخشے میرے استاد سلیم احمد فرمایا کرتے تھے کہ بھائی میں تو ایسے شاعروں کی تلاش میں رہتا ہوں جو شعر میں ان الفاظ کوبھی کامیابی سے کھپا سکیں جنہیں غیر شاعرانہ سمجھا جاتاہے۔ آج وہ ہوتے تو خوش ہوتے کہ چلو ایک تو ملا۔ عاصم بخشی صاحب کے ہاں غیر شاعرانہ لفظوں کو بے تکلفی تو شاید نہ کہہ سکیں، البتہ بے خوفی کے ساتھ استعمال کرنے کاجو رویہ نظر آتا ہے، اس سے ان کی شاعری کو بہت فائدہ ہوا ہے مگر کہیں کہیں نقصان بھی پہنچا ہے۔ فائدہ یہ کہ تخیل میں وسعت اور تہہ داری پیدا ہو گئی اور نقصان یہ کہ کچھ جگہوں پر حسنِ کلام مجروح ہو گیا۔ نئے شاعروں کی اکثریت کے برعکس ،عاصم صاحب یہ جانتے ہیں کہ شاعری ،شعوراوراس کےاندر باہرکی دنیا میں جمالیاتی غلبے اور پھیلاؤ کا ایک مشن ہے جس میں رہنمائی کامنصب ’لفظ‘ کی تحویل میں ہے ۔لفظ کے ساتھ شاعر کا برتاؤ ہر حال میں ٹھیک رہناچاہیے ورنہ معنی وغیرہ تو بدصورتی میں بھی ہوتے ہیں ۔ جبکہ شعر کا معاملہ یہ ہے کہ بھلے سےمہمل ہوجائے مگر خوبصورتی پر آنچ نہیں آنی چاہیے۔ بیدل نے یونہی تو نہیں فرمایا ہو گا کہ شعر خوب معنی ندارد۔ ابھی کل ہی دوستوں سے بات ہو رہی تھی کہ شعر میں لفظ کی اہمیت معنی سےزیادہ ہے ۔ اظہار کے حسن کی خاطر معنی کو تو بدلا جا سکتا ہے لیکن معنی کےدرست بیان کی خاطر حسن اظہار کی قربانی نہیں دی جا سکتی۔ ہاں ،اکثر بڑے شاعروں کوایسے انتخاب کا مرحلہ پیش نہیں آتا کیونکہ وہ دونوں کویکجا ن کر چکے ہوتے ہیں۔ ان کےہاں ایک وفور ہوتاہے جس میں صورت و معنی کی دوئی اس وحدت میں ضم ہو جاتی ہے جودونوں سےماورا ہے اوروہ وحدت بھی ادراک سےکم مناسبت رکھتی ہے اور اظہار سےزیادہ ۔ لیکن خیر ،یہ دوسرا موضوع ہے ۔ ابھی تو یہ کہنا تھا کہ اس کتاب میں عاصم صاحب کی شاعرانہ کامیابیوں اورناکامیوں کاحساب برابر سرابر کاہے ، دونوں میں سے کوئی پلڑا جھکا ہوا نہیں ہے۔ لیکن ان کی کامیابی عام شاعروں کی طرح ہے نہ ناکامی۔کامیابی بھی سرسری نگاہ سےنہیں نظرآتی، اور ناکامی بھی۔ ان کی نارسائی بھی زیادہ تر ایک سنجیدہ سفر کانتیجہ ہوتی ہے ۔

5۔   یہ شاعری مجموعی طور پر تجریدی تخیل اورعمومی احساسات کوجوڑنے کی کوشش سے وجود میں آئی ہے ۔ جہاں یہ جوڑ ٹھیک بیٹھ جاتاہے وہاں ایک شاعرانہ کرامت کا ظہور ہوجاتاہے ۔ ذرا یہ شعر دیکھیے :

میں خود کو دور سے پہچان لوں گا

تعارف غائبانہ ہو گیا ہے

انار اور شعور کی اکائی کی آخری تہہ میں انتہائی پوشیدگی کےساتھ کار فرما دولختی کو تخیل میں لا کر اس کے بیان میں ایسا’ماحول‘ پیدا کردینا جو روزمرہ محسوسات کاحصہ بن جائے، یہ شاعرانہ کرامت ہی تو ہے ۔ ایسی کوئی دس کرامتیں تواس کتاب سے نکالی جا سکتی ہیں ۔جدید شاعری کے کتنے مجموعے ہوں گے جن میں اس درجے کے پانچ شعر بھی دکھائے جاسکیں۔ مگر عاصم صاحب صرف باکرامت ہی نہیں ہیں، ان سے ’استدراج‘ کاظہور بھی ہوتارہتاہے ، جیسے

نقل منشا؟ حملِ معنی؟ آخرش ابہام ہے

لفظ سادہ لوح ہے ، معصوم پر الزام ہے

لفظ کو سادہ لوح کہناکمال ہے ۔ یہ بالکل نئی بات ہے جس کے معنی قدیم  ہیں۔مگر اس کمال کو شعر کے باقی لفظوں نے گویا بڑےبڑے پتھروں سے سنگسار کرڈالا۔ میری خواہش ہے کہ عاصم صاحب ’لفظ سادہ لوح ہے ‘کے بےمثل فریز کواس کےشایان شان سیاق و سباق میں استعمال کریں ، ان شاء اللہ ایک بڑا شعر وجود میں آ جائے گا ۔

رومی نےفرمایا تھا : ’’داں کہ یک ’من‘ نیست درمن دو’من‘ است‘‘۔ ایک غیر عارفانہ معنویت کے ساتھ ’انا فی الشعور ‘اور ’انا فی الوجود‘ کی یہ دوئی اورمغائرت جیسی گہرائی کےساتھ عاصم بخشی صاحب کےتخیل اورطرزِ احساس میں رچی بسی دکھائی دیتی ہے، اس کی ایک جھلک بھی آج کل کی شاعری میں نایاب ہے ۔ بس انہیں وہ ’تو‘‘ نہیں مل رہا جو ان کےدوسرے ’من‘ کو فقط تصور نہ رہنے دے ،حال بنادے ۔

میں اس پیش لفظ کے لئے کوئی اختتامی فقرہ سوچ رہا تھا کہ اچانک ذہن سے ایک زور دار تقاضا ابھرا کہ عاصم بخشی صاحب کی شاعری ایک ایسی تلاش کی روداد ہے جس میں کچھ پا لینے کاخوف تو ہے ، لگن نہیں ۔

احمد جاوید

۳۰اپریل ۲۰۱۵

لاہور

Recommended Posts

Leave a Comment

Jaeza

We're not around right now. But you can send us an email and we'll get back to you, asap.

Start typing and press Enter to search

aasem_buxi