محترم عمران شاہد بھنڈر کی خدمت میں(۳) ۔ تحریر: محمد دین جوہر

(حصہ دوئم کا جواب)

میں اپنی دوسری پوسٹ کے جواب پر بھنڈر صاحب کا ممنون ہوں کہ انہوں نے مکالمے کو جاری رکھا۔ آغاز ہی میں یہ عرض کرنا ضروری ہے کہ میں آنجناب کو اپنے سے زیادہ قابل احترام سمجھتا ہوں اور محتوائے متن پر رائے اور ججمنٹ سے ان کی ذات مطلقاً خارج ہوتی ہے۔ میں کوئی جوابی لسٹ بنا کر مکالمے کو مناظرہ نہیں بنانا چاہتا اور ان امور کو مکالمے کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دینا چاہتا۔ یہ ضرور یقین دلانا چاہتا ہوں کہ ”مقابل کے ساتھ فکری و تجزیاتی مباحث کا راستہ ترک کر کے“ ان کی ذات کو موضوع بنانے میں کم از کم مجھے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ میری گزارش ہو گی کہ یہ معاملہ قارئین پر چھوڑ دینا چاہیے کہ وہ جانبین کے بارے میں کیا رائے قائم کرتے ہیں۔

اگرچہ بھنڈر صاحب نے اپنی پوسٹ میں ”حاصلات“ پر توجہ کچھ کم کی ہے لیکن اپنی بات کا آغاز وہیں سے کرتے ہیں۔ فرماتے ہیں:  ”یہ لکھنے کے بعد بجائے اس کے کہ وہ عقیدے کے حاصلات پر گفتگو کرتے انہوں نے خود عقل پر اعتراضات اٹھانے شروع کر دیے ہیں“۔ میری سمجھ کی حد تک یہ گفتگو عقل اور عقیدے کے حاصلات پر نہیں ہے، ان کی حیثیت اور نوعیت پر ہے۔ میری رائے میں جب تک یہ طے نہیں ہو جاتا کہ عقیدہ کیا ہے؟ اور عقل کیا ہے؟ اس وقت تک بحث فیصل نہیں ہو سکتی۔ حاصلات یقیناً دوسرا مرحلہ ہے اور اس پر گفتگو صرف اسی وقت بامعنی ہو سکتی ہے جب اول سوال طے ہو جائے۔ حاصلات کی شماریاتی بحث عقیدے اور عقل کی حیثیت اور نوعیت کے بارے میں، اور ان کے حق یا سچ ہونے کی بابت ہماری کوئی مدد نہیں کرتی، اور محض inferential ہی رہتی ہے جبکہ جانبین کے پاس ایسے وسائل موجود ہیں کہ وہ براہ راست متعینہ موضوع پر گفتگو کر سکیں۔ 

بھنڈر صاحب فرماتے ہیں: ”میری جس تحریر بعنوان ”آئیے عقیدے کو عقل کے حضور پیش کرتے ہیں“ پر وہ معترض ہوئے اس کے بارے میں ان کا موقف یہ تھا کہ اس میں عقیدے کی نمائندگی کرنے والا کوئی نہیں تھا۔ اگرچہ میں نے اس میں عقیدے کی نمائندگی نہیں کی تھی، اور نہ ہی ایسا کوئی دعویٰ کیا تھا، بلکہ صرف عقلی علوم کی اہمیت کو واضح کیا تھا“۔ گزارش ہے کہ ان کی اولین پوسٹ پر اپنے کمنٹ میں عرض کیا تھا کہ یہ تحریر صرف وہی شخص لکھ سکتا ہے جسے عقیدے کا کچھ پتہ نہ ہو اور نہ عقل کی کارفرمائی معلوم ہو۔ اور یہیں سے ہماری گفتگو کا آغاز ہوا تھا۔ ہمارے درمیان عقلی علوم زیربحث نہیں ہیں، عقیدہ فی نفسہٖ اور عقل فی نفسہٖ یعنی بطور ملکہ زیربحث ہے۔ حاصلات کا براہ راست اس بحث سے کوئی تعلق نہیں جن کے بارے میں میں نے عرض کیا تھا کہ وہ تو مشاہداتی اور تجربی ہیں اور ان میں کوئی زیادہ اختلاف بھی نہیں۔ اس میں اہم سوال یہ ہے کہ حاصلات سے کیا دلیل پیدا ہوتی ہے اور وہ عقیدے پر کیونکر وارد کی جا سکتی ہے، اور یہ علمی طور پر بالکل جائز سوال ہے۔ لیکن بھنڈر صاحب عقیدے کو مابعد الطبیعات کہنے پر اصرار کرتے ہیں جبکہ میں نے عقیدے کی ثقہ تعریف ان کی خدمت میں پیش کی تھی جس کو وہ درخور اعتنا نہیں سمجھتے۔ ہماری گزارش ہے کہ مابعد الطبیعات افلاطون سے آج تک فلسفے کا مسئلہ رہا ہے اور اب فلسفے کی موت کا اعلامیہ اور انسانی شعور میں فلسفے کی قبر کا کتبہ ہے۔ اور جب وہ عقیدے کو مابعد الطبیعات سمجھ کر اس کا رد کرتے ہیں تو اس سے یہی مراد لی جا سکتی ہے کہ وہ خودکلامی میں ہیں، اور اپنے interlocutor کے وجود کو تسلیم ہی نہیں کر رہے، اور یہ امر مکالمے کے لیے سودمند نہیں ہو سکتا۔

محترم عمران شاہد بھنڈر کی جوابی پوسٹ میں ایک فیصلہ کن اعتراف موجود ہے اور آنجناب اگر تھوڑی دیر کے لیے یہیں ٹھہر جائیں تو ہماری بحث سرے لگ جائے گی۔ میں جس چیز کو ثابت کرنا چاہ رہا تھا اس کا وہ خود اعتراف کر لیتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں: ”جوہر صاحب نے میری اس بات کو تسلیم کیا تھا کہ عقل کو یہ بات پسند نہیں ہے کہ اس سے باہر یا ماورا ہو کر کوئی شے اس کی ’رہنمائی‘ کی کوشش کرے، لیکن جوہر صاحب نے اس میں یہ اضافہ بھی کیا تھا کہ اسی طرح عقیدے کو بھی یہ بات پسند نہیں ہے کہ اس سے باہر یا ماورا کوئی شے اس پر کوئی حکم لگائے۔ مجھے جوہر صاحب کی اس بات پر کوئی اعتراض بھی نہیں ہے“۔ گزارش ہے کہ ہم دونوں کا یہ اتفاق فیصلہ کن ہے۔ اگر متفق علیہ امر کو دیکھ لیا جائے تو ان کا موقف بالکل فنا ہو جاتا ہے، اور ساری بحث ہی ختم ہو جاتی ہے۔ ان سے میری گزارش ہے کہ فی الوقت اس متفق علیہ امر کا عقلی اور علمی اظہار ہی ہماری ساری گفتگو کا محور ہے۔ میرے نزدیک اس متفق علیہ امر کی معنویت یہ ہے کہ ہم وحی/خبر غیب کو بلا دلیل رہنما مانتے ہیں، اور بھنڈر صاحب بھی عقل کو بلا دلیل رہنما مانتے ہیں۔ اس میں یہ عرض کرنا ضروری ہے کہ دلائل عقل کی فعلیات پر وارد ہوتے ہیں، اس کی وجودیات پر نہیں، یعنی دلائل علم اور علمی موقف کے لیے ہوتے ہیں، اور وجودی موقف بلادلیل ہوتا ہے، اور ہمارے مابین متفق علیہ امر یہی ہے۔ اگر مذہبی معنوں میں بات کی جائے تو ہمارا وحی پر ایمان لانا بھی بلادلیل ہے اور ان کا عقل بطور رہنما پر ایمان لانا بھی بلا دلیل ہے۔ یعنی ہمارے ontological               stances (وجودی مواقف) بالکل مختلف ہیں، لیکن ان کو اپنانے کا طریقہ قطعی ایک ہے، بلادلیل ہے اور اس کی حیثیت ایک فیصلے کی ہے۔ لیکن اس میں مذہبی آدمی کی پوزیشن زیادہ مضبوط ہے کہ وہ اپنا وجودی موقف وحی سے حاصل کر کے عقل کو مابعد الطبیعات کی توہم پرستی اور فلسفیانہ لغویات سے نجات دے دیتا ہے۔ جیسا کہ میں عرض کر چکا ہوں کہ عقل عقیدے کے بغیر کوئی قدم نہیں اٹھا سکتی اور مخاصمین کے مابین یہ اتفاق فیصلہ کن ہے اور اسی امر پر دلالت کرتا ہے، یعنی ’رہنمائی‘ کے لیے ہم دونوں کا موقف ایک ہی ہے کہ اگر میں عقیدے پر بلا دلیل قائم ہوں تو وہ عقل کے substantive ہونے پر بلا دلیل قائم ہیں۔ اس میں یہ واضح رہنا چاہیے کہ جس طرح میرا ماننا عقیدے سے منفک اور اس سے prior ہے، اسی طرح ان کا ماننا بھی عقل سے منفک اور اس سے prior ہے۔ میں یہی گزارش دوسرے طریقے سے کرتا ہوں کہ ہمارے درمیان reason پر نزاع نہیں ہے، بلکہ sovereignty               of               reason پر ہے۔ اور گزارش ہے کہ sovereignty               of               reason ایک وجودی موقف ہے، ایک عقیدہ ہے، کوئی عقلی موقف نہیں ہے۔ اور جب وہ حاصلات کی بحث چھیڑتے ہیں تو ان کا مقصد اس بنیادی سوال اور اس بنیادی موقف کا سامنا کرنے سے بچنا ہوتا ہے۔ حاصلات کے دلائل خرد کی نتیجہ خیزی پر تو یقیناً وارد ہوتے ہیں، عقل کے sovereign ہونے سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہاں اگر اس کے وہ کوئی عقلی دلائل رکھتے ہوں تو ضرور ارشاد فرمائیں۔

آنجناب ارشاد فرماتے ہیں: ”کیونکہ یہی میری مذکورہ پوسٹ کا مقصد تھا کہ عقیدہ اپنی اہمیت اور [افادیت] کو خود واضح کرے، نہ کہ عقلیت پسندوں کے باہمی نزاع کو وجہ بنا کر خود کو جواز دے، اور پھر عقبی دروازے سے عقل کے علاقے میں قدم جمانا شروع کر دے“۔ مجھے یہ یقین ہے کہ وہ عقیدے کے بارے میں کوئی درست معلومات نہیں رکھتے، لیکن ان کے اس طرح کے دعووں سے اندازہ ہوتا ہے کہ عقل کے بارے میں بھی کوئی فلسفیانہ موقف سامنے نہیں لانا چاہتے۔ میری گزارش ہے کہ انسانی شعور               ontological               stance (وجودی موقف) اختیار کرنے کے بعد پہلا کام ہی عقل کی طرف پیش رفت کا کرتا ہے، اور اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ یہ وجودی موقف مذہبی ہے یا خود ساختہ اور توہماتی سیکولر۔ عرض ہے کہ کوئی بھی وجودی موقف ”عقبی دروازے سے عقل کے علاقے میں قدم“ نہیں جماتا، بلکہ وہ براہ راست خود عقل ہی پر قبضہ کرتا ہے۔ وجودی موقف اور علمی موقف کے باہمی تعلق کو سمجھنا انسانی شعور کی وجودیات اور فعلیات جاننے کی اولین شرط ہے، اور بھنڈر صاحب سے گزارش ہے کہ اس پر اپنے موقف کی تصریحات عقلی دلائل سے ہمیں ارزانی فرمائیں، نعرے لگانے سے کچھ نہیں ہو گا۔  وہ مزید فرماتے ہیں: ”لہٰذا یہاں تک بات بالکل شفاف ہو گئی۔ اب وہ لوگ جو عقیدے کو عقل پر باہر سے مسلط کرتے ہیں ان کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ یا تو اپنے اس عمل سے دست بردار ہو جائیں، اور یا پھر عقیدے کے وہ پہلو دکھائیں جن میں عقل عقیدے سے ”کمتر“ ٹھہرتی ہے“۔  گزارش ہے کہ اس میں عقل کے کمتر یا برتر ہونے کا سوال زیربحث نہیں ہے کیونکہ یہ غیرعقلی بات ہے۔ یہاں دو امور زیربحث ہیں: ایک یہ کہ انسان کا ہر وجودی موقف عقل سے prior ہے اور بلادلیل ہے۔  دوسرا زیربحث امر یہ ہے کہ وجودی موقف اور عقل کا تعلق لزوم کا درجہ رکھتا ہے، اور عین یہی موقف عقل کی مکمل تشریط و تشکیل کرتا ہے۔ اس سے مذہبی آدمی کے غیرعقلی اور سیکولر آدمی کے عقلی ہونے کی کوئی دلیل نہیں لائی جا سکتی۔

جیسا کہ میں نے شروع میں عرض کیا تھا کہ بھنڈر صاحب ایک proclaimed فلسفی ہیں، اور اردو کی حد تک تو وہی ہیگل، وہی کانٹ اور وہی نٹشے اور وہی مارکس ہیں۔ ان سے گزارش ہے کہ وہ ہمیں فلسفہ ضرور سکھائیں اور ہمیں اس میں کوئی باک بھی نہیں، لیکن وہ ہماری دلیل کی عقلی غلطی واضح فرمائیں۔ لیوتار کی ”کنڈیشن“ کے بعد سارا فلسفہ اب کچرے کا ڈھیر ہے، اور جدید عقل کی لاش اس پر بےگورو کفن پڑی ہے، اور اس کی مجاوری کرتے چلے جانے سے کوئی عقلی موقف برآمد نہیں ہو پاتا۔ فرماتے ہیں: ”حیرت کی بات یہ ہے کہ محترم موصوف عقیدے اور عقل کے الگ علاقوں کو تسلیم کرنے کے بعد دوبارہ اسی غلطی کا ارتکاب کر رہے ہیں جس کا میں نے اپنی پہلی تحریر میں ذکر کیا تھا“۔ یہ تو بالکل ہی صحافیانہ رپورٹنگ ہے۔ بھنڈر صاحب سے گزارش ہے کہ عقیدے اور عقل کے ”الگ علاقوں“ کا مسئلہ نہیں ہے، ان کی سطحِ وجود زیربحث ہے، اور یہ وہی فرق ہے جو قدر اور علم میں پہلے سے موجود ہے۔ عقیدہ اور خرد اپنی وجودیات میں مختلف ہیں، اور وہ عین اسی چیز میں التباس کا شکار ہیں۔ مزید فرماتے ہیں کہ ”یہ بات واضح رہے کہ میں نے جب بھی عقیدے کا ذکر کیا ہے اسے مذہبی مفاہیم کے تحت ہی پیش کیا ہے“۔ یہاں ہمارا جواب یہ ہے کہ مذہبی عقیدہ اور سیکولر وجودی موقف اپنی ontology میں ایک ہیں، اپنے احتوا میں مختلف ہیں، اس لیے ان کا موقف غلط ہے۔ آنجناب گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے فرماتے ہیں: ”کہتے ہیں کہ ’عقل عقیدے کی تصدیق کے علاوہ اور کچھ کر ہی نہیں سکتی۔‘ تضاد کی گہرائی اور ایک باطل دلیل کی سطح ملاحظہ ہو کہ عقل اس شے کی ”تصدیق“ کرتی ہے جو عقل کا موضوع ہی نہیں ہے، جس کو وہ خود ماورائے عقل قرار دے چکے ہیں۔ موصوف کی دوسری فکری قباحت یہ کہ چونکہ وہ فلسفے سے قطعی طور پر نابلد ہیں اس لیے وہ یہ معمولی سی بات بھی نہیں جانتے کہ عقل کا کام ”تصدیق“ کرنا نہیں ہوتا، بلکہ اصولوں کی تشکیل کرنا ہوتا ہے۔ ”تصدیق“ ایک الگ انسانی صلاحیت ہے اور وہ اس وقت بروئے کار لائی جاتی ہے جب دو تصورات میں مطابقت یا عدم مطابقت دکھانا مقصود ہوتا ہے“۔ اس میں دو امور زیربحث ہیں۔ ایک یہ کہ عقل کی اصول سازی اس کے وجودی موقف ہی کی علمی تشکیل کا نام ہے۔ اور ان کا فرمانا کہ ”تصدیق“ ایک الگ انسانی صلاحیت  ہے،  تو یہ ”الگ انسانی صلاحیت“ کا موقف مضحکہ خیز ہے کیونکہ مترشح یہی ہوتا ہے کہ اس صلاحیت کا تعلق انسانی شعور/عقل سے نہیں ہے۔  فرماتے ہیں: ”چونکہ جوہر صاحب نے اب عقل کے علاقے میں قدم رکھ دیا ہے اس لیے ہمارا فرض ہے کہ انہیں عقل کے تفاعل سے آگاہ کر دیا جائے“۔ ہم تو تفاعل کے بے نتیجہ ہونے پر بھی چشم ما روشن دل ما شاد ہی کہیں گے۔ پھر مزید فرماتے ہیں: ”عقل کسی تصور کو اپنے ہی طے کردہ اصولوں کے تحت راستہ دے سکتی ہے جیسا کہ مابعد الطبیعاتی آئیڈیاز وغیرہ۔ لیکن اس میں مضمر تعینات کے بارے میں فیصلہ اس وقت تک التوا میں رکھتی ہے جب مختلف ادراکات اور تصورات کی باہمی پیکار سے اس تک کوئی تصدیق پہلے ہی سے نہ پہنچ چکی ہو۔“ یہ منتشر تفہیم اور مضطرب متن کی عمدہ مثال ہے اور کسی معنی کی حامل نہیں ہے۔

ایمان پر میری گزارش کے حوالے سے وہ فرماتے ہیں کہ: ”ویسے تو جوہر صاحب کی ساری تحریر ہی اغلاط کا مجموعہ ہے، بہرحال میں یہاں ایک مزید نکتے کا مختصر جائزہ لینا چاہوں گا۔۔۔ ”ضمناً“ ہی سہی، لیکن ایمان کو ماورائے عقل قرار دینے کے بعد ایک بار پھر انہوں نے اسے ”علمی یا عقلی قضیہ“ تسلیم کر لیا ہے۔ اور یہی بات میں پہلے بھی کر چکا ہوں کہ وہ ایک دروازے سے عقل کی حدود میں داخل ہوتے ہیں، تاہم جونہی شکست سے آمنا سامنا ہوتا ہے تو دوسرے دروازے سے نکلنے کے لیے تیار بیٹھے ہوتے ہیں، خود جوہر صاحب کا اپنا رویہ اس بات کی تصدیق کر رہا ہے“۔ جیسا کہ میں عرض کر چکا ہوں کہ  عقیدے/وجودی موقف کی تشکیل کے بعد انسانی شعور کا پہلا کام ہی عقل پر قبضے کا ہوتا ہے۔ اور جب عقیدے/وجودی موقف پر عقلی سوالات اٹھائے جائیں گے تو علم میں ان کی توسیط کے تمام ذرائع بھی عقلی ہی ہوں گے۔ حیرت ہے کہ اس پر وہ کن علمی بنیادوں پر اعتراضات اٹھاتے ہیں؟

آنجناب بات کو جاری رکھتے ہوئے کہتے ہیں: ”موصوف کی دوسری بڑی غلطی یہ ہے کہ انہوں نے ایمان کو ایک فیصلہ قرار دے کر ”ارادے کی آزادی“ کو ”انسان کی مکمل وجودی پوزیشن کا مظہر“ قرار دے ڈالا ہے۔ جبکہ حقیقت اس سے قطعی طور پر برعکس ہے۔ جدید فلسفے میں ”ارادے کی آزادی“ کا قضیہ عظیم جرمن فلسفی عمانوئل کانٹ نے عقل کے اے پرائیورائی اصولوں کو بروئے کار لاتے ہوئے حل کیا تھا۔ اور ان میں منطقی مقولات کی انتہائی گہری بحث کے بعد اخلاقی عمل کے جواز کے لیے جو پہلا آئیڈیا تشکیل پایا تھا وہ ”ارادے کی آزادی“ تھی“۔ اس میں پہلی گزارش یہ ہے کہ ”حقیقت“ فلسفے کا موضوع نہیں ہے، اور یہاں وہ عقل سے prior جس وجودی موقف پر کھڑے ہیں اسی کا اثبات کر رہے ہیں، جو ظاہر ہے کہ غیرعقلی ہے۔ دوسری گزارش ہے کہ جو آدمی نہایت ادنیٰ درجے پر بھی کانٹ سے واقف ہے، اسے معلوم ہے کہ کانٹ کا یہ موقف نہیں ہے اور نہ یہ دعویٰ کانٹ کے فلسفے کی درست تفہیم کا اظہار ہے۔ شوپنہائر کا حوالہ دینے سے تفہیمِ کانٹ کی غلطی ازخود درست نہیں ہو جاتی۔ کانٹ کے a               priori تصورات ان کے نظریۂ علم کی بنیاد ہیں، جبکہ آزادی کا مسئلہ کانٹ نے شعورِ شعور یعنی self-reflective consciousness یا consciousness               of               consciousness کے اثبات اور imperatives کی بحث سے حل کیا تھا۔ یہاں سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ علم اور اقدار کے مسئلے پر کتنا کچھ فلسفیانہ شعور رکھتے ہیں اور ان کے عقلی دلائل کی کیا اہمیت ہے۔ لیکن کانٹ نے Newtonian               Mechanics کے امکاناتِ جبر، انسانی آزادی کے لیے خطرات، اور تحریک تنویر کے فکری بحران کو حل کرنے کے لیے اپنا جو غیرمعمولی فلسفہ پیش کیا تھا، وہ اپنے تہذیبی مقاصد کو پورا کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا ہے۔

آخر میں یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ جدید مغرب کی پوری فکری روایت وحی کے انکار اور               sovereign               reason کی سربلندی اور اس کی عقلی اساس تلاش کرنے کی روایت ہے۔ اس تلاش میں ناکامی کے بعد اس روایت میں ”مذہب دشمنی“ غالب آ چکی ہے، یعنی انکار کی علمی روایت اب ثقافتی سطح پر مذہب دشمنی میں ظاہر ہو رہی ہے۔ انکار مذہب اور مذہب دشمنی دو بالکل مختلف چیزیں ہیں۔ اول الذکر کے ساتھ مکالمہ ممکن ہے، لیکن مؤخر الذکر اپنے اندر مکالمے کا کوئی امکان نہیں رکھتی۔ ممدوح محترم سے میری گزارش ہو گی کہ وہ مذہب کے انکار کے عقلی دلائل کو سامنے لائیں تاکہ اردو میں اس ڈسکورس کے خدو خال واضح ہو سکیں۔ ہمارے ممدوح محترم مذہب کے جس تصور کو رد فرما رہے ہیں وہ صرف ان کے خیال میں موجود ہے۔ معاشروں میں انسانی عمل کے مظاہر سے کوئی عقلی دلائل پیدا نہیں ہوتے، کیونکہ واقعاتی صورت حال میں ہر ممکنہ اور متصورہ انسانی عمل موجود ہوتا ہے جس کو عقل اور مذہب دونوں سے جواز نہیں دیا جا سکتا۔

آنجناب فرماتے ہیں: ”جوہر صاحب کی باطل ’’دلیل‘‘ کے تحت ایک ’’ملحد‘‘ تو کبھی اپنے وجود کا اظہار کر ہی نہیں سکے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ ایمان انسان کا اپنا انتخاب نہیں ہوتا، وراثت میں ملتا ہے۔ اور ’’ترقی یافتہ‘‘ ممالک میں یہ اپنی افادیت کھو چکا ہے“۔ کیا اس الزام سے یہ فرض کیا جائے گا کہ ایمان اور مذہب تو وراثت میں ملتا ہے لیکن مغرب کا ہر آدمی ہیگل اور کانٹ وغیرہ کے براہ راست مطالعے سے اپنا عقلی موقف اخذ کرتا ہے؟ کیسا لایعنی موقف ہے۔ علمی بحث کی یہ اپروچ مذہب، عقل اور عقلی علوم سے بےخبری پر دلالت کرتی ہے۔ اس سے بھی اہم تر یہ کہ مغربی فکر کی شہادت تو یہی ہے کہ ”ملحد“ نہ کوئی وجود رکھتا ہے اور نہ اس کے اظہار کے وسائل و امکانات سے بہرہ مند ہے، اور نہ ان علوم میں بطور وجود اس کی کوئی خبر لائی جا سکتی ہے۔  مغربی علوم میں ”انسان بطور وجود“ مفقود الخبر اور معدوم ہے۔ مغرب کی فکری روایت نے ”ملحد“ انسان کو نیچرل سائنسز اور سوشل سائنسز کے جن بڑے بڑے علمی  disciplines میں معرف (define) کیا ہے، وہاں انسان کی حیثیت بالترتیب ایک natural               phenomenon اور ایک historical               phenomenon کی ہے۔ مغربی علوم میں انسان کی حیثیت ابھی تک provisional ہے، اور اسے ایک ذی حیات اور ذی شعور وجود کے طور پر define نہیں کیا جا سکا۔ ان علوم میں انسان محض ایک dispensable               thing ہے، کوئی وجود نہیں ہے۔ مغرب کی علمی روایت کے تمام مظاہر صورت اور حرکت تک محدود ہیں، کیونکہ ملحد  کا وجودی موقف تو محض توہمات ہیں اور عقلی اعتبار سے بھی قابل مذمت ہیں۔ اس پر تو محترم ممدوح کو خوش ہونا چاہیے کہ موقف اور مظاہر میں تساوی ہے اور یہی مغربی تہذیب کی سب سے بڑی کامیابی بھی ہے۔ اس پر احتجاج بےمعنی ہے۔ 

Recommended Posts

Leave a Comment

Jaeza

We're not around right now. But you can send us an email and we'll get back to you, asap.

Start typing and press Enter to search