ایک سٹارٹ اپ کی کہانی: جون کیریرو (تاثرات: حسن رحمان)

کتاب کے تذکرے سے پہلے دو اصطلاحات کا تعارف ضروری ہے:

۱)اسٹارٹ اپ: عموماً جدّت پر مبنی ایک ایسا کاروبار جس میں بڑھوتری (growth) بہت زیادہ تیزی سے ممکن ہوتی ہے۔ اس بڑھوتری کی بنیاد میں scalability کا عمل کارفرما ہوتا ہے۔ پاکستان میں ابھی اسٹارٹ اپ کے تصور کو بوجوہ ڈھیلے ڈھالے طریقے سے بیان کیا جاتا ہے۔

۲) وینچر کیپیٹل (VC): یہ وہ مالیاتی ادارے ہوتے ہیں جو اسٹارٹ اپ اداروں کو پیسہ مہیا کرتے ہیں اور بدلے میں اُن میں مالکانہ حقوق حاصل کرتے ہیں۔

(انتباہ: آگے اس کتاب میں بیان کی جانے والی کہانی کا خلاصہ ہے! پھر نا کہنا۔۔۔۔)

Bad     Blood کہانی ہے اس ایک ایسی خاتون ایلزبتھ ہومز  کی جس نے سکول میں بہت اچھے نمبر حاصل کیے، سٹینفرڈ یونیورسٹی میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئی، اور محض 19 سال کی عمر میں Stanford میں اپنی تعلیم کو خیرآباد کہا اور خون کی پڑتال کے ایک انقلابی ادارے کی بنیاد رکھی۔ اس نے اپنے ’بظاہر‘ انقلابی کاروباری طریقے کی بنیاد پر بہت سے معتبر لوگوں کو کئی سال تک بیوقوف بنائے رکھا۔ اس فہرست میں   VCادارے، میڈیا، حتیٰ کے Stanford کے ایک آدھ سینئیر پروفیسر، امریکی فوج کے ریٹائرڈ جرنل، معتبر وکیل وغیرہ شامل تھے۔ اس کے ادارے، جسکا نام اس نے Theranos رکھا، نے اپنے سرمایہ کاروں سے تقریباً ایک دہائی میں 700 ملین ڈالر کے لگ بھگ پیسہ حاصل کیا۔ اس کا جدت پر مبنی خیال یہ تھا کہ خون کی پڑتال کے لئے درکار خون روایتی تکلیف دہ طریقے یعنی شریان میں ایک سرنج ڈالنے کی بجائے محض انگلی میں ایک سوئی چبھو کر بھی نکالا جا سکتا ہے۔ مزید یہ کہ اس پڑتال کے لیے روایتی مقدار میں خون کی ضرورت نہیں اور محض ایک قطرے سے تقریبا 200 اقسام کے ٹیسٹ کیے جا سکتے ہیں۔ اس نے ٹوسٹر کے حجم کی ایک مشین کا خاکہ پیش کیا جو یہ تمام ٹیسٹ سرانجام دینے کی صلاحیت رکھتی تھی اور تمام ٹیسٹوں کے نتیجے کو وائرلیس کے زریعے ڈاکٹر یا ادویات ساز ادارے کو نشر کر سکتی تھی۔ اس نے یہ بھی دعوی کیا کہ اسکا استعمال اتنا آسان ہوگا کہ ایک عام شخص بھی اسے اپنے گھر میں ٹیکنیشن یا ڈاکٹر کے بغیر استعمال کر سکے گا۔

VC فرمز نے تھیرانوس کو اس خاکے کو حقیقت میں بدلنے کے لیے پیسہ دینا شروع کر دیا اور کئی سال پر محیط دھوکے کی داستان رقم ہونا شروع ہوئی۔ تھیرانوس کے شعبہ اکاؤنٹس کے جن صاحب نے منافع کی شرح جسکا دعوی کیا جا رہا تھا، اور ادارے کی اپنے سرمایہ داروں سے جھوٹ بولنے کی روایت پر سوال اٹھایا، انہیں اسی لمحے بر طرف کر دیا گیا۔ کمپنی کے بورڈ کے جن ڈائیریکٹر نے اپنے اندیشوں کا اظہار کیا، انہیں بورڈ سے نکال دیا گیا۔ ایک اہم ملازم کے استعفی کے بعد ایلزبتھ نے ایک پوری کمپنی کے اجلاس میں کہا: ہم ایک مذہب کی بنیاد رکھ رہے ہیں، جو بھی اس سے متفق نہیں، وہ جا سکتا ہے۔ ادارے کو کچھ ملازمین کو لگتا تھا کہ ایلزبتھ اپنے آپ کو شاید مادام کیوری کے درجے کا سائنس دان سمجھتی ہے۔ اسے رازداری برتنے کا عارضہ بھی لاحق تھا اور اسی وجہ سے ادارے کے مختلف شعبہ جات میں باہمی رابطے کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی تھی جسکی وجہ سے کام کی رفتار سست پڑتی تھی۔ اس کا ایک دوسرا جنون اپنے آپ کو اگلا سٹیو جابز ثابت کرنا تھا۔ اس لیے اس نے اسی رنگ اور طرز کے کپڑے پہننا شروع کر دیے جیسے وہ پہنا کرتا تھا۔ جب اسکے انتقال کے دو ہفتے بعد اسکی سوانح عمری منظرِ عام پر آئی تو ایلزبتھ نے اسے پڑھنا اور ہر باب کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالنا شروع کر دیا۔ یہ تصنع اور اداکاری اتنی واضح تھی کہ ادارے کے کچھ کارکن یہ تک اندازہ لگایا کرتے تھے کہ وہ آج کل کس باب کا مطالعہ کر رہی ہے! الزبتھ کو تعلقاتِ عامہ کے فن میں بھی مہارت حاصل تھی اور اس نے وہائٹ ہاؤس تک رسائی حاصل کر لی تھی۔ اسے ایک وقت پر صدر اوبامہ نے ادویات کی ایک نئی شاخ سے متعلق کمیٹی کا حصہ بنایا۔ نائب صدر جو بڈن نے ایک مرتبہ تھیرانوس کا دورہ کیا اور ادارے کے متعلق تعریفی کلمات ادا کیے۔

ایلزبتھ  کا شریکِ جرم اور ادارے میں دوسرا کلیدی عہدہ رکھنے والا کردار ایک پاکستانی رمیش سنی بلوانی تھا جس نے 90 کی دہائی میں ڈاٹ کام کے عروج کے زمانے میں اپنا ادارہ بیچ کر بہت دولت کمائی تھی۔ اس سودے کے محض پانچ ماہ بعد وہ ادارہ دیوالیہ ہو گیا تھا مگر رمیش اپنے آپ کو قسمت کا دھنی نہیں بلکہ ایک لائق فائق تاجر گردانتا تھا! اسے رعب جھاڑنے کا اور دوسروں کے کام میں غیر ضروری دخل اندازی کا عارضہ لاحق تھا۔ جب ایک کارکن نے اپنے شعبے میں اسکی دخل اندازی کی شکایت کی تو رمیش نے کہا: میرے پاس اتنی دولت ہے کہ میری سات نسلیں گزارہ کر سکتی ہیں اور مجھے یہاں کام کی کوئی ضرورت نہیں (یعنی اسکی دخل اندازی کو سراہا جانا چاہیے!)۔ اُس کارکن نے جل کر جواب دیا: میرے پاس ایک دھیلا نہیں اور مجھے بھی یہاں کام کی کوئی ضرورت نہیں! ایک موقع پر جب ایک اہلکار نے استعفی دیا تو رمیش نے چلا کر کہا کہ میں اسے قبول نہیں کروں گا۔ اس نے جواباً جتلایا: میرے پاس تمہارے لیے ایک خبر ہے، وہ یہ کہ صدر لنکن نے غلاموں کو 1863 میں ہی آزاد کر دیا تھا! رمیش کو مشکل اصطلاحات کے بےدریغ استعمال کی عادت تھی چاہے وہ انہیں سمجھ پائے یا نہ سمجھ پائے۔ ایک مرتبہ انجینیرز کی ایک ٹیم نے اس کے سامنے  end-effectorکی اصطلاح استعمال کی اور رمیش اسےendofactor سمجھا اور پھر وہ کافی دیر یہی اصطلاح دہراتا رہا۔ اُن انجینیرز نے چارے کے طور پر اس کے سامنے crazing کی اصطلاح استعمال کی اور رمیش اس جال میں پھنس گیا اور اس نے بےدریغ یہ اصطلاح استعمال کرنا شروع کر دی۔ اس کی مسلسل دخل اندازی سے بچنے کی کچھ انجینیرز نے یہ ترکیب نکالی کہ اسے اپنی ہفتہ وار میٹنگ میں بلانا شروع کر دیا۔ وہ شروع شروع میں آتا مگر پھر آنا چھوڑ دیتا۔ ایک انجینیر نے اس سے بچنے کا ایک اور راستہ نکالا۔ اسے تجربے سے معلوم پڑا کہ اگر رمیش کی ای میل کا پانچ سو الفاظ سے طویل جواب دیا جائے تو وہ اسے پھر تنگ نہیں کرتا!

تھیرانوس اس مشین (Edison) کو کبھی بھی کامیابی سے پایۂ تکمیل تک نہیں پہنچا پائی جسکے بارے میں دعوی کیا گیا تھا کہ یہ تقریباً دو سو اقسام کے ٹیسٹ خون کے کچھ قطروں سے کر سکتی ہے۔ اس امر میں ایک تکنیکی رکاوٹ خون کی معمولی مقدار کی تھی کیونکہ اتنی کم مقدار سے وہ تمام ٹیسٹ نہیں کیے جا سکتے تھے جنکی بنیاد پر VC اداروں سے پیسہ اکٹھا کیا گیا تھا۔ مگر اس ناکامی کے باوجود تھیرانوس نے سوئزرلینڈ کے ادویات ساز ادارے اور امریکہ کے دو بڑے تجارتی ادارے، جنکی شاخیں پورے ملک میں تھیں، سے معاہدے کرنے کی کوشش کی جو جزوی طور پر کامیاب ہوئی کیونکہ ان اداروں کو غیر معمولی شرحِ منافع کے سبز باغ دکھائے گئے۔ تھیرانوس کی اس ایجاد کی منظرِ عام پر آنے کی تاریخ کو مسلسل آگے کھسکایا جاتا رہا۔ جب یہ واضح ہو گیا کہ مطلوبہ تاریخ تک Edison کی تیاری مکمل نہیں ہو سکتی، تو ایک حریف ادارے Siemens  کی مشین کو ردوبدل کے بعد Edison کے ساتھ ساتھ استعمال کرنے کا فیصلہ کیا گیا حالانکہ وہ مشین خون کی روایتی مقدار سے ہی ٹیسٹ کر سکتی تھی۔ جب Edison کو آخر کار منظرِ عام پر لایا گیا تو عوام کو 240 اقسام کے ٹیسٹ کی سہولت مہیا کی گئی۔ انگلی سے نکالے گئے خون سے 240 میں سے صرف 80 ٹیسٹ کیے جا سکتے تھے۔ 80 میں سے تقریباً 12 تھے جو Edisonپر سرانجام پاتے تھے،  جبکہ تقریباً 68 وہ تھے جو Siemens  کی ردوبدل کی گئی مشین پر کیے جاتے تھے۔ ان 80 ٹیسٹوں کے نتائج ’’ناقابلِ اعتماد‘‘ تھے اور یہ ٹیسٹ سرکاری اجازت کے بغیر کیے جا رہے تھے! باقی کے تقریباً 160 ٹیسٹ کے لیے درکار خون ایلزبتھ کے ابتدائی دعوی کے برعکس روایتی طریقے یعنی شریان میں ایک سرنج ڈال کر نکالا جاتا تھا اور ایک اور ادارے سے اسکی پڑتال کروائی جاتی تھی۔

ایک امریکی پیتھالوجسٹ کو اس تمام عمل پر شک گزرا کیونکہ تھیرانوس نے Edison کے طریقۂ کار کا کبھی طبی برادری سے اشتراک نہیں کیا تھا۔ اس نے اپنے بلاگ پر اپنے شکوک کا اظہار کیا اور جلد ہی ایک اور ڈاکٹر، جو ایلزبتھ کے پرانے ہمسائے  تھے اور تھیرانوس سے پہلے پیٹنٹ تنازعے پر ڈسے جا چکے تھے، نے ان پیتھالوجسٹ سے رابطہ کر لیا۔ ان دونوں کا رابطہ تھیرانوس کے سابق لیب ڈائیرکٹر سے ہوا جس نے کچھ ہی عرصہ قبل وہاں سے استعفی دیا تھا کیونکہ اس کے نزدیک Edison کو زیرِتکمیل حالت میں منظرِ عام یعنی عوامی استعمال میں لانا غیر اخلاقی اور غیر قانونی تھا۔ اس پیتھالوجسٹ کو یقین ہو گیا کہ دال میں کچھ کالا ہے اور اس نے ساری کہانی ایک صحافی، جم کیریرو، کو لکھ بھیجی۔ اس صحافی نے تھیرانوس کے سابق ملازمین سے رابطہ کرنے کی کوشش کی اور اسکا رابطہ ٹیلر شلز اور اریکا چنگ سے ہوا۔ ان دونوں نے کچھ ہی عرصہ قبل تھیرانوس سے استعفی دیا تھا کیونکہ انہیں یقین ہو چلا تھا کہ تھیرانوس VC اداروں اور عوام کو دھوکا دے رہا تھا۔ ان دونوں whistle     blower  یعنی بھانڈا پھوڑنے والوں نے  جم کیریرو کو تھیرانوس کی دھوکادہی کے کئی ثبوت مہیا کیے۔ ٹیلر شلز کے  دادا سابق امریکی سیکرٹری آف سٹیٹ (وزیرِ خارجہ) تھے اور تھیرانوس میں ڈائرکٹر تھے۔ ایلزبتھ نے انکے ذریعے ٹیلر کو کسی صحافی سے رابطہ کرنے سے منع کرنے کی کوشش کی مگر اسے صرف جزوی کامیابی حاصل ہوئی۔ اس دوران ایلزبتھ نے نجی جاسوسوں کے ذریعے دونوں ٹیلر شلز اور اریکا چنگ کی نگرانی بھی کروائی۔ ٹیلر روپوش ہو گیا اور اُس صحافی سے رابطہ منقطع کر دیا۔ اس صحافی نے اس دوران اپنی تفتیش جاری رکھی اور ان ڈاکٹروں سے ملا جنہیں یقین ہو چلا تھا کہ تھیرانوس کے خون کے ٹیسٹ قابلِ اعتبار نہیں۔ کچھ ماہ بعد ٹیلر نے نتائج سے بے نیاز ہو کر صحافی سے رابطہ بحال کیا اور مزید انکشافات کیے۔ اس دوران Theranos  نے ہزاروں مریضوں کو تقریباً دس لاکھ جھوٹی بلڈ رپورٹس مہیا کیں جنکے بارے میں ایک پیتھالوجسٹ نے کہا کہ یہ رپورٹیں محض قیاس آرائیاں تھیں! (ایک مریض کے خون میں پوٹاشیم کی وہ سطح بتائی گئی جو کسی زندہ انسان میں ممکن ہی نہیں)۔ تھیرانوس کے وکلا نے اس صحافی کو اسکی تہلکہ آمیز کہانی کی اشاعت سے باز رکھنے کی بہت کوشش کی مگر انہیں ناکامی ہوئی۔ یہ رپورٹ چھپ کر رہی اور تھیرانوس کا پورا ڈھانچہ زمیں بوس ہو گیا۔ وہ ادارہ جسکی مالیت 9 ارب ڈالر کے لگ بھگ تھی، اسکی مالیت صفر رہ گئی۔ سرکاری اداروں نے تھیرانوس کو خون کے ٹیسٹ سے روک دیا اور الزبتھ اور رمیش بلوانی کے خلاف مقدمات درج کیے گئے۔

مجھے یہ کتاب پڑھ کر پہلا خیال تو یہ آیا:

!O,     what     a     tangled     web     we     weave     when     first     we     practise     to     deceive

دوسرا تاثر ایک گھٹیا سی خوشی اور تسلی کا تھا یہ جان کر کہ دھوکہ دہی اور فریب دینے میں پاکستانی ہرگز اکیلے نہیں ہیں۔ کتاب کے شروع شروع میں جو کوفت تھیرانوس کی دھوکہ دہی کی مسلسل وارداتوں کے بیان سے ہوئی، وہ تب رفع ہوئی جب ان لوگوں کا بیان شروع ہوا جنہوں نے اپنے اپنے طریقے سے فریب کو سمجھنے یا اس سے نپٹنے کی کوشش کی۔ بیدار مغزی کے حصول کے لیے ایسی کئی وارداتوں کا بیان مفید ثابت ہو سکتا ہے (مزید دیکھیے جان کیسیڈی کی کتاب Dot Con)۔ دوسرا لطف ایک وسل بلوئر کے دھوپ چھاؤں طرزِ عمل کے بارے میں جان کر ہوا۔ پہلے وہ شکوک کا شکار ہوا، پھر اس نے بہادری سے بھانڈا پھوڑا۔ پھر وہ تھیرانوس کے جارحانہ وکلا کے ڈر سے خاموش ہو گیا مگر پھر وہ دوبارہ بہادر بن گیا اور مزید انکشافات کیے ۔یہ ’دھوپ چھاؤں‘ انسانی نفسیات کا ایک ناگزیر پہلو ہے۔ وہ شخص جو اچھائی یا برائی نیز بہادری یا بزدلی کا کیری کیچر نہیں، بلکہ ایک عام انسان ہے جو متضاد کیفیات رکھنے پر قادر ہے۔

دو اصطلاحات جو سیکھنے کو ملیں وہ ہیں:

Vaporware۔ وہ مشین یا سافٹ وئر جسے مکمل تیاری سے پہلے ہی بیچنے کا دعوی کر لیا جائے۔

Folie_à_deux۔ ایک دورازکار خیال یا مٖغالطہ جو دو قریبی لوگوں میں سانجھا ہو جائے۔

مصنف نے ایک جگہ سلیکون ویلی کی حیوانی روح کا تذکرہ کیا ہے، نجانے اس سے اسکی کیا مراد تھی؟ شاید کوئی قاری استعانت کر سکے! یا یہ بتا سکے کہ glassdoor سے منفی تبصرے کیسے ختم کروائے جاتے ہیں (ایک ہی تو سہارا ہے غریبوں کا۔)

کتاب کی طوالت پر مجھے کچھ اعتراض ہے۔ شاید ضخیم کتاب لکھنے سے زیادہ فائدہ ہوتا ہے یا شاید اختصار کے گاہک کم ہیں، واللہ اعلم۔

یہاں آسان ہوگا اگر تمام معاملے کو محض الزبتھ ہومز اور رمیش بلوانی کی لالچ کا شاخسانہ قرار دے دیا جائے۔ یا ان انجینیرز کو ملامت کر لی جائے جو H1B ویزہ پر امریکہ گئے، تھیرانوس میں نوکری کی اور سچ بولنے میں ناکام رہے کیونکہ وہ اپنے ویزے سے محرومی برداشت نہیں کر سکتے تھے۔ یا میڈیا کو بہتان دیا جائے جو تھیرانوس کی کہانی پر اعتبار کرتا گیا اور مناسب سوال اٹھانے میں ناکام رہا۔ مشکل کام یہ ہوگا کہ اپنے ذاتی اور معاشرتی، اُن رجحانات اور اس نفسیات کو ٹٹولنے اور پرکھنے کی سعی کی جائے جو ایک انسان سے اس قسم کے افعال سرزد کراتے ہیں۔ میں اس کی افادیت ضروری سمجھتا ہوں مگر یہ نہیں جانتا کہ یہ کام ہوگا کیسے!

پاکستان میں یہ کتاب لبرٹی بکس پر دستیاب ہے اور اسکی قیمت 1325 روپے ہے۔

Recommended Posts

Leave a Comment

Jaeza

We're not around right now. But you can send us an email and we'll get back to you, asap.

Start typing and press Enter to search