تماشائے اہل کرم دیکھتے ہیں۔ عاصم رضا

مشتاق یوسفی صاحب نے ایک جگہ لکھا ہے کہ لکڑی جل کر کوئلہ بن جاتی ہے اور کوئلہ راکھ ہو جاتا ہے لیکن اگر کوئلے کے اندر کی آگ باہر سے زیادہ تیز ہو تو پھر وہ راکھ نہیں بنتا بلکہ ہیرا بن جاتا ہے ۔ زیرِ نظر تحریر کا مقصد  دوست احباب کو  ایسے ہی ایک  نادر و نایاب ہیرے سے آگاہی دینے کا ہے تاکہ افتادگان ِ خاک اور علم کے  متلاشی حضرات رہنمائی کے لیے اِدھر اُدھر نہ بھٹکتے رہ جائیں  ۔ اپنی آسانی کے لیے اس تعارف کو تذکرے کی صورت دی گئی ہے  تاکہ قارئین کو صرف ایک عقیدت مند کا بیان محسوس نہ ہو ۔

چند برس ہوئے کہ ایک صاحب سےانٹرنیشل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد میں ملاقات ہوئی ۔ مختلف علمی موضوعات پر ان کے خیالات سے آگاہی ہوئی تاہم اپنی کوتاہ علمی اور اپنی روایتی جلد بازی کے سبب اس ملاقات میں اپنی جانب سے خوب ہانکتا رہا اور وہ کمال شفقت اور تحمل سے میری لاف و گزاف سنتے اور مسکراتے رہے ۔ اس وقت مجھے کیا خبر تھی کہ آسمان نے مجھ پر کتنی بڑی نعمت کا دروازہ کھول دیا تھا ۔ کچھ وقت گزرا کہ میں  گاہے بگاہے  ان کی عنایاتِ کریمانہ کے دسترخوان سے حسب ِ ضرورت  ریزے چننے لگ پڑا ۔ وہ مواصلاتی رابطہ کے ذریعے میری نفسی وارداتوں کا بیان سنتے تاکہ میں اپنی بھڑاس نکال لوں ، غبارِ دل و جاں خوب باہر نکال پھینکوں ، کبھی کبھار ہلکا پھلکا تبصرہ کر دیتے ۔ ایک دفعہ کہنے لگے کہ تم کو اپنے نفس کا برتن بھرنے کی پڑی ہے سو دن رات کتابوں سے الجھے رہتے ہو ۔ اگر کبھی لکھنے بیٹھ جاؤ تو کچھ پلے نہیں پڑتا کہ کیا کہنا چاہتے ہو ۔ ہاں اگر کوئی تم سے بات کر لے تو سمجھ آنے لگتی ہے کہ تمہارے اندر کیا کچھڑی پک رہی تھی یا اندازہ ہو جاتا ہے کہ تمہاری کڑھی میں کس قدر ابال آیا ہے ۔ پھر کمال مہربانی سے مجھ احقر پر اپنا دستِ شفقت یوں سایہ فگن کر دیا کہ میں کچھ بھی لکھتا تو وہ اس کو پڑھتے ، نوک پلک سنوارتے ، متبادل الفاظ سجھاتے ، قطع و برید سے کام لیتے ۔ کبھی کبھی زبانی کلامی گوشمالی بھی کرتے رہتے کہ بس ادھر ادھر کی ہانکتے ہو، شیخ چلی سے منصوبے بناتے رہتے ہو ۔ پیچھے مڑ کے دیکھتا ہوں تو لگتا ہے کہ شاید وہ یہ بھی کہنا چاہتے ہوں گے کہ تمہارا دماغ تو چوراہے پر دھری ہوئی ہنڈیا ہے ، اِدھر سے کچھ لیا، اُدھر سے کچھ لیا، مصالحہ بنایا، تڑکا لگایا اور پھر جافنا کی موٹھ کی طرح ہنڈیا کو ہوا میں اڑا کر پھینک دیا ۔

دو برس ہوئے کہ میں نے لاہور کی ایک یونیورسٹی میں نوکری کر لی ۔ اسی دوران مجھے ترجمہ کرنے کی لت پڑ گئی تو انہوں نے بھی خوانِ نعمت کو پھیلا دیا ۔  میں نے جو بھی لکھا ، انہوں نے اس کو دیکھا، پڑھا ، سنوارا  اور پھر مدح و تحسین فرمائی جو یقینا حوصلہ افزائی کی غرض سے تھی ورنہ من آنم کہ من دانم ۔ لاہور آنے کے بعد ہی پتہ چلا کہ ان کے دسترخوان  کے فیض یافتہ  ، اصلاح یافتہ  اور ان کی بدولت نفسی قباحتوں سے  مجبوراً بچنے والے شہردر شہر پھیلے ہوئے ہیں ۔علاوہ ازیں ،  مجھے یہ بھی اندازہ ہوا کہ ان کے سلوک ِ جدیدیہ کا رنگ ڈھنگ سب  سے نرالا ہے۔ وہ   کڑوی کونین کو شوگر کے ساتھ باہم ملا کر طنز و مزاح کی صورت میں کھلاتے ہیں تاکہ نفس میں کبر و ریا پیدا نہ ہو ۔ سماعت کا ذوق پیدا کرتے ہوئے کلاسیکل گویوں سے نعت خوانوں تک لے جاتے ہیں ۔

سال 2019ء  کے اوائل کی بات ہے  کہ وہ چند ہفتوں کے لیے لاہور تشریف لائے ۔ مجھ پر بھی عنایت ہوئی کہ بالمشافہ ملاقات کے لیے مجھے زحمت نہ دی بلکہ خود سالم رکشہ کروا کے  یونیورسٹی مجھ سے ملنے کو آئے ۔ مجھے اپنے ساتھ کھانا کھانے کی سعادت نصیب فرمائی ۔ اس دفعہ بھی میری لاف و گزاف سن کر مسکراتے رہے۔ خیر، میری خوشی کا ٹھکانہ بھی کچھ کم نہ تھا سو میں چہکتا رہا ۔ گلستانِ دل میں بہار آئے تو مرغِ چمن کیونکر نہ چہکے اور شور مچا مچا کر سب کو بتلائے کہ دیکھو ، ذرا ہماری قسمت کو دیکھو کہ ہم کس کو مہماں کیے بیٹھے ہیں ۔ قصہ مختصر ، لاہور کے قیام کے دوران دو مرتبہ تو یوں ملاقات نصیب ہوئی کہ سامنے وہ ہیں اور ہماری نظریں ہیں کہ کبھی دیدار سے حظ اٹھاتی ہیں اور کبھی جھک کر شکر باری تعالیٰ کے لیے دل کو تلقین کرتی ہیں ۔ ایک دفعہ انہوں نے خدمت کا موقع یوں دیا کہ مجھے فون لگایا اور افطاری کروانے کا کہا ۔ مجھے کیا خبر تھی کہ یہ بھی مجھ کو نوازنے کا ایک نادر طریقہ تھا کیونکہ اس روز دیگر متعلقین بھی ان کے ہمراہ تھے ۔ ان کے دستِ کرم تلے میرے مہمان بننے والوں میں برادرم عثمان سہیل ، برادرم عاطف حسین اور برادرم ذوالنورین شامل تھے ۔ ایک عجب واقعہ یہ ہوا کہ انہوں نے میری گویائی کو سلب کر لیا ۔ سو جتنا وقت وہ نورانی محفل چلتی رہی ، میں خاموشی سے ان کو اور برادران کو سنتا رہا ، دیکھتا رہا ۔ جانے اس میں کیا حکمت تھی مگر اس بات کا اعتراف سب برادران نے کیا کہ پہلی دفعہ ایک طویل نشست ہوئی ، دنیا جہان کے افکار زیرِ بحث آئے تاہم میں خاموش ہی رہا ۔اس رمضان کچھ روز پہلےوہ مجھے الحمرا آرٹس کونسل لاہور میں منعقد ہونے والی ایک محفل موسیقی میں اپنے ساتھ لے گئے ۔ ان کی موجودگی کے سبب میری چترائی و زیرکی اس قدر بڑھ گئی کہ طبلہ نوازوں کے سبک رفتار ہاتھ ہوا کے دوش پر مجھے ایک جہان ِ حیرت میں لے گئے اور میں ایک ہی محفل میں  مختلف احساسات  سے پہلی مرتبہ آشنا   ہوا ۔ ان احساسات  کو استادانہ تجربہ کاری ، کھولتے پانی کا جوش ، گہرے سمندر سی متانت آمیز سنجیدگی اور الہڑ دوشیزہ کی شوخی جیسے عنوانات دیکر بیان کرنے کی  میری کوشش پر فرمانے لگے کہ ’’بندہ زیادہ پڑھا لکھا بھی نہ ہو‘‘ ۔ بالفاظ ِ دیگر ،     رازداری کی نصیحت فرمائی ۔ متصوفانہ ادب کی رو سے دیکھتا ہوں تو وہ علم کو حجاب ِ اکبر کہتے ہوئے اس سے وقتی دست برداری کی خاموش نصیحت تھی ۔ یا پھر محمد اقبال کے الفاظ میں،

اچھا ہے دل کے ساتھ رہے پاسبان ِ عقل

لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے

چند روز ہوئے کہ میرے دل میں یہ بات آئی کہ میں کس قدر نالائق آدمی ہوں ، جواہرات کی قیمتی کان سے استفادہ کرنے کا خواہاں ہوں مگر دوسروں سے اس کو متعارف نہیں کرواتا ۔ یقیناً یہ میری جانب سے بدذوقی اور گھٹیا پن کا اعلی مظاہرہ ہے ۔ مجھے ببانگ دہل ان کی شفقتوں ، محبتوں اور عنایتوں کو تسلیم کرتے ہوئے دنیا کے اس سامنے اس جوہرِ قابل کا بیان رکھنا چاہیے تاکہ متلاشیان علمیہ و موسیقیہ کو اس بارگاہ کا پتہ ملے جہاں سے ہر کس و عام کو کسی تخصیص کے بغیر نوازا جاتا ہے ، جہاں سے فیض ِعام کی صدائیں شب و روز بلند ہوتی ہیں ، جہاں مردان ِ کتاب چہر ہ کی اصلاح سازی کا سامان ہمہ وقت دستیاب رہتا ہے ، جس کوچہ میں ادب ، سیاست ، موسیقی   ہر  دائرے کے لیے سامانِ فیض بہم موجود ہے ۔

یہاں ، اپنی قلتِ فہم اور طاقتِ لسانی کے عجز کا اعتراف کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے کہ میں کہاں اور ان کے مقاماتِ عالیہ اور کمالاتِ علمیہ، روحانیہ، لسانیہ اور سمعہ کا بیان کہاں ۔ تاہم تحدیثِ نعمت کے سبب آئندہ سطور میں اختصار کے ساتھ ان کے کمالاتِ عالیہ ، دائرہ ہائے برکات و فیوضات کے ساتھ بیان کرنے کی مقدور بھر  کوشش کرتا ہوں  ۔ تاہم میر تقی میر کا درج ذیل شعر  ان کے حسبِ حال ہے ،

رکھا ہے اپنے تئیں روک روک کر ورنہ

سیاہ کر دیں زمانے کو ہم جو آہ کریں

سو اے جدید دنیا کے باسیو ، واقفانِ حال اور متلاشیان حق! دل تھام کے بیٹھو ، کانوں کو متوجہ کرو ، ذہن و قلب کو متوجہ کرو کہ  تم کو اس بابرکت اور عظیم الشان ہستی کے بارے میں صرف اس لیے بتاتا ہوں کہ سند رہے ۔

سنو کہ بندۂ ناچیز ، حقیر فقیر پرتقصیر ، ہیچمدان،   بندۂ نادان ، کج  مج زبان ،  بے پرواۂ سودوزیاں  ،   منکہ مسمی  عاصم رضا    بیان کرتا ہے  رہبرِ طریقت ِ علمیہ،  پیر شریعت موسیقیہ ، اجل ِ بے بدل ، شیخ العجم والکل ( رہائشیان اسلام آباد و لاہور و گوجرانوالہ و سیالکوٹ )، ہادی سمع خراشیان طبلگان و ہمنوا ، سلطان مصلحینِ افکارِ جدیدہ ، شہسوارِ اقالیم یوٹیوب و فیس بک ، محرمِ ناکتخداں ، پیشوائے رند ہائے خانہ خرابات  قبلہ و کعبہ جناب مبشراسلام المعروف کبیر علی المختون کا   ۔

Recommended Posts

Leave a Comment

Jaeza

We're not around right now. But you can send us an email and we'll get back to you, asap.

Start typing and press Enter to search