بھارتی کرونا وائرس؛ ہم بیمار ہیں۔ خطاب: اروندھتی رائے ۔ ترجمہ: کبیر علی

[بھارت کی معروف ناول نگار اور مفکر اروندھتی رائے نے اتوار یکم مارچ2020 کے روز دہلی کے جنتر منتر میں ایک اکٹھ سے خطاب کیا اور دہلی میں جاری مسلم نسل کُشی پر بات کی۔  ان کی تقریر اس ویب سائٹ پر پڑھی جا سکتی ہے۔ بدقسمتی سے اس خطاب کی ویڈیو تلاش بسیار کے باوجود نہیں مل سکی۔ اس تقریر کا اردو ترجمہ یہاں پیش کیا جا رہا ہے۔ مدیر]
[مزید نوٹ: اروندھتی رائے کے مضامین کا ایک مجموعہ بعنوان ”آزادی” ستمبر 2020ء میں شائع ہوا ہے جس میں یہ تقریر بھی شامل ہے۔]

پیارے دوستو، کامریڈو اور میرے  ساتھی لکھاریو!

یہ جگہ جہاں ہم آج اکٹھے ہوئے ہیں اُس جگہ سے  تھوڑی ہی دور ہے جہاں  چار روز قبل ایک فاشسٹ ہجوم ، جو حکمران جماعت  کے نمائندوں کی تقاریر سے مشتعل تھا،  جسے پولیس کی پشت پناہی اور  فعال مدد حاصل تھی، جسے   الیکٹرانک میڈیا  کے   ایک بڑے حصے کی چوبیس گھنٹے  مدد کا یقین تھا، نیز  اس بات کا اطمینان تھا کہ  عدالتیں   ہرگز اس کی راہ میں حائل نہ ہوں گی، نے شمال مشرقی دہلی کی سفید پوش آبادی  کے مسلمانوں پر ایک مسلح اور قاتلانہ حملہ کیا۔

اس حملے کی بُو پہلے ہی فضا میں موجود تھی، لہذا  لوگ  کسی قدر تیار تھے ، اور انھوں نے  اپنا بچاؤ کیا۔  مارکیٹیں، دکانیں، گھر، مسجدیں اور گاڑیاں  جلائی گئیں۔ گلیاں پتھروں اور ملبے  سے  بھری پڑی ہیں۔  ہسپتال  زخمیوں اور  مرتے ہوئے لوگوں سے بھرے ہوئے ہیں۔  سرد خانے لاشوں سے اٹے ہوئے ہیں۔ ان میں ایک پولیس والے اور  انٹیلی جنس بیور کے ایک نوجوان  اہلکار  سمیت  مسلمان اور ہندو  دونوں شامل ہیں۔ جی ہاں۔ دونوں طرف کے لوگوں نے  خوفناک بربریت   کے ساتھ ساتھ  ناقابلِ یقین جرات اور ہمدردی کا بھی مظاہرہ کیا ہے۔

تاہم، یہاں کسی قسم  کی برابری ہو ہی نہیں سکتی۔   اس سے یہ  حقیقت   نہیں بدل سکتی کہ  حملہ ایک ایسے گنوار ہجوم نے  شروع کیا تھا جو  ”جے شِری رام“ کے نعرے لگا رہا تھا   اور جسے اس کھلم کھلا فاشسٹ ریاست   کے   کل پرزوں  کی پشت پناہی  حاصل تھی۔ ان نعروں کے باوجود،  لوگ ہندو مسلم ”دنگے“ کو  اس نام سے  موسوم نہیں کرتے۔ یہ فاشسٹ اور  اینٹی فاشسٹ  کے درمیان  جاری جنگ کا  ایک مظہر ہے –  جن میں مسلم عوام  فاشسٹ ”دشمنوں“ میں سے سرِ فہرست ہیں۔

اسے ایک  فساد یا ایک  ”دنگا“ ، یا   ”لیفٹ“ بمقابلہ ”رائٹ“ ، یا حتیٰ کہ ”صحیح“ بمقابلہ ”غلط“  قرار دینا بھی ، جیسا کہ بہت سے ایسا کر بھی رہے ہیں،  خطرناک اور  گمراہ کن ہو گا۔

ہم سب نے وہ ویڈیوز دیکھی  ہیں  کہ  پولیس والے جلاؤ گھیراؤ  کے وقت پاس کھڑے ہیں اور بعض اوقات تو  اس میں حصہ بھی لے رہے ہیں۔  ہم نے انھیں سی سی ٹی وی کیمرے توڑتے ہوئے دیکھا، عین اسی طرح جیسے انھوں نے   15 دسمبر کو  جامعہ ملیہ اسلامیہ کی لائبریری پر حملہ کرتے وقت توڑے تھے۔ ہم نے دیکھا کہ وہ  ایک دوسرے پر  گرے ہوئے زخمی مسلمانوں  کو مار رہے ہیں اور انھیں  قومی ترانہ گانے پر مجبور کر رہے ہیں۔  ہمیں معلوم ہے کہ ان  نوجوانوں میں سے ایک  دم توڑ گیا ہے۔  تمام  مقتولین، زخمی اور  تباہ حال لوگ،  مسلم و ہندو ہر  دو نریندر مودی  کے دورِ حکومت  کا شکار ہیں، ہمارے کھلم کھلا فاشسٹ وزیرِ اعظم  کہ خود جن کے اپنے   بارے میں  اب یہ بات ڈھکی چھپی نہیں رہی  کہ وہ  اس ریاست کے سربراہ تھے  جس  میں  18 سال قبل  کئی ہفتوں تک  اس سے بھی  بڑے پیمانے پر  خون کی ہولی کھیلی جاتی رہی۔

آئندہ کئی برسوں تک اس  جلاؤ گھیراؤ  کے خدو خال  کا مطالعہ کیا جاتا رہے گا۔  لیکن  مقامی تفصیل محض  تاریخی ریکارڈ کا  معاملہ بن کر رہ جائے گی  کیونکہ  سوشل میڈیا پر جو نفرت آمیز  افواہوں  کی لہریں  پیدا ہو رہی ہیں وہ  اردو گرد پھیلتی جا رہی ہیں  اور ہم ابھی سے   فضا میں  مزید   خون کی بُو سونگھ سکتے ہیں۔  اگرچہ شمالی  دہلی میں  کوئی اموات نہیں ہوئیں، لیکن  کل (29 فروری) وسطی  دہلی میں  لوگوں کےہجوم  کووہی نعرے لگاتے دیکھا گیا  جو پہلے بھی  حملوں پہ منتج ہوئے تھے: ”دیش  کے غداروں کو ، گولی مارو سالوں کو“۔

صرف چند روز پرانی بات ہے کہ دہلی کی ہائی کورٹ کے جج  ، جسٹس  مُرلی دھرن، دہلی پولیس پر خفا ہو رہے تھے کہ اس  نے  بی جے پی  کے سابقہ امیدوار برائے   ایم ایل اے کپل مشرا  کے خلاف  کوئی کارروائی کیوں  نہیں کی کہ  اُس نے  بھی اس نعرے کو   انتخابی نعرے  کے طور پہ استعمال کیا تھا۔  26 فروری کی  شب ، جج کو  آدھی رات  کو حکم ملا کہ  پنجاب ہائی کورٹ میں اپنی نئی ذمہ داری سنبھالے۔  کپل مشرا وہی نعرے لگاتا  پھر سے گلیوں  میں  دندنا رہا ہے۔  یہ نعرہ تاحکمِ ثانی  استعمال ہوتا رہے گا۔  ججوں کے ساتھ ایسا ہنسی کھیل  کوئی نیا نہیں ہے۔  ہمیں جسٹس لویا کی  کہانی معلوم ہے۔  شاید ہمیں  بابو بجرنگی  کی کہانی بھول گئی ہے، جسے 2002ء میں   نَروڑا پاٹیہ  گجرات میں     96 مسلمانوں   کے قتل کا مجرم ٹھہرایا گیا تھا۔ اسے یوٹیوب پہ سنیں: وہ بتائے گا کہ  کیسے  ” نریندر بھائی“ نے ججوں کے ساتھ ”معاملہ“ کر کے اسے جیل سے باہر نکالا۔

الیکشن سے قبل اس طرح    کی قتل و غارت  کی توقع کرنا ہم  سیکھ گئے ہیں –  یہ گویا  بربریت بھری الیکشن  مہم بن  چکی ہے تاکہ  ووٹوں  کو   قطبایا(polarise)  اور    انتخابی حلقوں کو  اپنے ہاتھ میں کیا جا سکے۔  لیکن دہلی کا  قتلِ عام الیکشن کے کچھ  دن بعد ہوا ہے ، یعنی   بی جے پی-آر ایس ایس  کے ذلت آمیز شکست سے دوچار ہونے کے بعد۔ یہ دہلی کی سزا ہے اور  بہار  کے آئندہ  الیکشنوں  کے لیے   تنبیہ  ہے۔

ہر چیز ریکارڈ پر ہے۔  ہر شے ہر آدمی کے لیے دستیاب ہے کہ وہ دیکھے اور سنے-  کپل مشرا، پرویش ورما، یونین  وزیر اَنو رَگ ٹھاکر، اتر پردیش  کے چیف منسٹر یوگی  آدتیہ ناتھ ،  وزیرِ داخلہ امیت شاء اور حتیٰ کہ  خود وزیرِ اعظم  کی اشتعال انگیز تقاریر۔  لیکن اس کے باوجود  سب کچھ  یکسر  پلٹا کر رکھ دیا گیا ہے – یوں دکھایا جا رہا ہے گویا ہندوستان    مکمل طور  پہ  پُر امن  احتجاجیوں  کا شکار ہے جن میں سے اکثریت خواتین  کی ہے،جن میں سے  اکثر یت مسلمانوں کی ہے،  جو  تقریباً 75 دنوں سے ، لاکھوں کی تعداد میں، گلیوں  میں  موجود ہیں تاکہ  ترمیمی قانون برائے شہریت کے خلاف  احتجاج کر سکیں۔

ترمیمی قانون برائے شہریت، جو غیر مسلم  اقلیتوں کو شہریت فراہم  کرنے کے لیے  تیز ترین راستہ فراہم کرتا ہے،  کھلم کھلا غیر آئینی اور کھلم کھلا  مسلم دشمن ہے۔ جب یہ  آبادی کے قومی کھاتے اور  شہریوں کے قومی کھاتے کے ساتھ مل کر آتا ہے تو  اس کامطلب   ہے کہ یہ   نہ صرف مسلمانوں بلکہ کروڑوں دیگر ہندوستانیوں  کو بھی، جن کے پاس مطلوبہ کاغذات نہیں ہیں،  غیر قانونی  قرار دینے،  غیر مستحکم اور مجرم بنانے  کے لیے ہے  – اور ان میں وہ بھی شامل ہیں جو آج  ”گولی مارو سالوں کو“ کے نعرے لگا رہے ہیں۔

ہماری شہریت پہ سوالیہ نشان ہے، ہر شے پر سوالیہ نشان ہے – تمھارے بچوں  کے حقوق پر، تمھارے  ووٹ کے حق پر، تمھارے  زمین کے حق پر۔  جیسا کہ   حناہ  آرنت  نے کہا، ”شہریت  آپ کو یہ حق دیتی ہے کہ  آپ کے بھی حقوق ہوں“۔  اگر کسی کو لگتا ہے کہ ایسا نہیں ہے تو اسے چاہیے کہ  آسام کی طرف دھیان دے اور   دیکھے کہ  وہاں بیس لاکھ لوگوں – ہندوؤں، مسلمانوں،  دَلتوں ، آدیواسیوں  کے ساتھ کیا  ہوا۔  اب ریاست  میگھالیہ میں  مقامی قبیلوں اور  غیر قبائلی عوام کے مابین     جھگڑا شروع ہو گیا ہے۔  شیلونگ میں کرفیو ہے۔  ریاست  کی سرحد غیر مقامیوں  کے لیے بند ہے۔

ان تینوں  قوانین (NPR-NRC-CAA) کا واحد مقصد یہ ہے کہ   نہ صرف ہندوستان  بلکہ پورے    برصغیر  کے لوگوں کو  غیر مستحکم  اور تقسیم کیا جائے۔  اگر وہ لاکھوں  ہیولے واقعی کوئی وجود  رکھتے ہیں ،جنھیں  بھارت کے موجودہ  وزیرِ داخلہ  بنگلہ دیشی  ”دیمک  کےکیڑے“ قرار دیتے ہیں ،  تو انھیں  قید خانوں  میں رکھا جا سکتا ہے اور نہ ہی ملک بدر کیا جا سکتا ہے۔  اس طرح  کی لفظیات استعمال کر  کے اور  اتنے   تضحیک آمیز اور  شیطنت بھرے  منصوبے کی تشکیل سے ،  یہ حکومت  دراصل ان لاکھوں کروڑوں  ہندوؤں  کو خطرے میں ڈال رہی ہے جو  بنگلہ دیش، پاکستان  اور  افغانستان میں رہتے ہیں اور جن کے متعلق یہ حکومت بظاہر متفکر نظر آنے کی کوشش   کرتی ہے، لیکن وہ لوگ  نیو دہلی  سے پھوٹنے والے اس تعصب  کے  ردِ عمل   کا شکار ہو سکتے ہیں۔

آہ! ہم کہاں  آن پہنچے ہیں۔

1947  میں ہم نے  استعماری حکومت سے   آزادی حاصل کی جس  کے لیے تقریباً ہر شخص  نے جنگ لڑی سوائے  ہمارے موجودہ حکمرانوں کے۔  اس کے بعد سے  اب تک کا ہمارا سفر سماجی تحریکوں، نسلیت مخالف  جدوجہد،   سرمایہ داری مخالف جدوجہد، حقوقِ نسواں کی جدوجہد  سے معمور ہے۔

1960 کی دہائی میں ،  جدوجہدِ انقلاب  انصاف کے حصول، دولت کی  تقسیمِ نو اور  حکمران طبقے  کو اتار پھینکنے  کے لیے تھی۔

1990 کی دہائی تک آتے آتے،  ہم  ان لاکھوں لوگوں  کی دربدری کے خلاف لڑنے تک محدود ہو کر رہ گئے تھے جنھیں ان کی زمینوں اور  دیہاتوں سے  نکال دیا گیا تھا  اور جو اُس  نئے بھارت  کی تعمیر  میں  کھیت رہے جس کے اندر  بھارت کے  صرف  63 امیر ترین لوگ  120 کروڑ لوگوں کے سالانہ بجٹ سے زیادہ    دولت  رکھتے ہیں۔

اور   نوبت یہ آ گئی ہے کہ اب   ہم ان لوگوں سے   شہری ہونے کے حق کے  لیے لڑ رہے ہیں جن کا اس  ملک  کی تعمیر سے کوئی لینا دینا  نہیں  ہے۔ اور جب ہم اس کے لیے  لڑ رہے ہیں  تو ہم دیکھ رہے ہیں کہ  ریاست  نے ہماری حفاظت سے   ہاتھ کھینچ  لیا ہے، ہم دیکھتے ہیں کہ   عدلیہ  اپنے فرض   سے بتدریج    دستبردار ہوتی جا رہی ہے، ہم دیکھ رہے ہیں کہ میڈیا  کا مقصد تو یہ ہوتا ہے کہ وہ  عیاشوں کو   مشکل میں ڈالے  اور   بدحالوں کا سہارا بنے لیکن وہ  عین اس کے خلاف  کر رہا ہے۔

جموں   اور کشمیر کو اس کی  خصوصی حیثیت سے غیر آئینی طور پہ محروم  ہوئے آج 210 واں دن ہے۔  تین سابقہ  چیف منسٹروں  سمیت  ہزاروں کشمیری تب سے جیل میں ہیں۔ ستر لاکھ لوگوں کو ورچوئل  انفارمیشن  سے  محروم کر  دیا گیا ہے جو  انسانی حقوق کی اتنے بڑے پیمانے پر  خلاف ورزی کی انوکھی مثال ہے۔ 26 فروری کو ، دہلی کی گلیاں  سرینگر کی گلیاں  معلوم پڑتی تھیں۔  یہ وہ دن تھا جب  سات مہینوں میں پہلی بار  کشمیری بچے سکول گئے۔  لیکن   یہ کیسا سکول جانا ہے کہ جب آپ کے گرد موجود ہر شے کی سانس   بتدریج   بند ہو رہی ہو۔

ایک جمہوریہ جس پر آئین کی حکمرانی نہ رہی ہو اور جس کے ادارے  کھوکھلے  کر دیے گئے ہوں وہ  صرف  اکثریت کی ریاست بن  کر رہ جاتی  ہے۔  آپ کلی یا جزوی طور پہ آئین سے  اتفاق یا اختلاف کر سکتے ہیں  –  لیکن اس طرح بروئے کار آنا کہ گویا  یہ وجود ہی نہ رکھتا ہو، جیسا کہ یہ حکومت  کر رہی ہے  ،  جمہوریت کو مکمل طور پہ  تباہ کر دیتا ہے۔ غالباً مقصد بھی یہی ہے۔ یہ ہمارا کرونا وائرس ہے۔ ہم بیمار ہیں۔

دور دور تک کوئی  سہارا نظر نہیں آ رہا۔ نہ کوئی ہمدرد ملک، نہ اقوامِ متحدہ۔

اور کوئی بھی  سیاسی جماعت جو  الیکشن جیتنے کا ارادہ رکھتی ہو وہ  اخلاقی  موقف  اختیار  نہیں کرے گی یا  ایسا کرکے جانبر نہیں  رہ سکتی۔  کیونکہ اس  راہ میں ہر طرف آگ ہے۔ نظام  ناکام ہو رہا ہے۔

ہمیں ضرورت ہے ایسے لوگوں کی جو  غیر مقبول ہونے کے لیے تیار ہوں۔  جو خود  کو خطرے میں ڈالنے کے لیے تیار ہوں۔  جو سچ بولنے پر آمادہ ہوں۔  بہادر صحافی ایسا کر سکتے ہیں ، اور وہ کر بھی رہے ہیں۔ بہادر  وکلاء ایسا کر سکتے ہیں ، اور وہ کر بھی رہے ہیں۔   اور فنکار – خوبصورت،  ذہین، بہادر لکھاری، شاعر، موسیقار، مصور اور   فلمساز  ایسا کر سکتے ہیں۔   خوبصورتی ہمارے ساتھ  کھڑی  ہے۔ ساری کی ساری۔

ہمارے پاس کرنے کو بہت کام ہے اور جیتنے کے  لیے ایک دنیا ہے۔

Recommended Posts

Leave a Comment

Jaeza

We're not around right now. But you can send us an email and we'll get back to you, asap.

Start typing and press Enter to search