کورونا کے بعد، امکانات اور خواہشات: احمد جاوید صاحب (ترتیب: طارق عباس)

نوٹ: یہ گفتگو اپریل، ۲۰۲۰ میں ریکارڈ کی گئی۔

میں عرض یہ کر رہا تھا کہ جب سے کورونا وائرس کی وبا نے ساری دنیا کو لپیٹ میں لے لیا ہے،  تو اس وقت سے ہی بار بار مجھے خیال آتا رہا کہ اس کے بعد کی دنیا کیسے ہو گی یعنی  لگتا تھا کہ اب دنیا اس طرح  بھی دیکھی جائے گی کہ Post-Corona      World(مابعد کورونا دنیا)۔  ظاہر ہے سب لوگ جو اس مسئلے پہ غور کر رہے ہیں وہ  سب اس بات پہ متفق ہیں کہ بہت بڑی اور بنیادی تبدیلیاں  آ سکتی ہیں جن پر ابھی سے سوچنا ضروری اور مفید ہے۔ ہمارے لئے تو خاص طور پر تاکہ ان تبدیلیوں کے مثبت پہلوؤں سے، ان ممکنہ تبدیلیوں میں سے کچھ مثبت ہوں گی کچھ منفی ہوں گی، ہمیں ابھی سے یہ انتظام کرنا چاہیے  کہ مثبت  پہلوؤں سے فائدہ اٹھانے کی راہ نکالی جائے۔ اور جو منفی پہلو ہیں، ان سے بچنے کا، محفوظ رکھنے کا، کوئی پیشگی بندوبست کیا جائے۔ گو کہ ہم دیکھ ہی رہے ہیں، ہمارا مشاہدہ ہے، تجربہ ہے کہ ہمارا جو اجتماعی شعور ہے وہ ایسے  معاملات پہ غور و فکر کا عادی نہیں ہے، اور نہ ہی بڑے مسائل اور معاملات  پہ، جیسے کہ آج کل ہیں ؛ اور نہ ہی بڑے مباحث سے مانوس ہے۔ لیکن پھر بھی خیال یہی آتا ہے کہ ذہن کی  سطحیت اور ذوقِ حیات کی یہ گراوٹ اور پستی،  جس نے ہمیں جکڑ رکھا ہے، اس کا کچھ نہ کچھ علاج تو بہرحال سوچنا ہوگا۔ ورنہ ابھی تو یہ وائرس، جسم کو نقصان پہنچا نے والا یہ وائرس، چلو کسی وقت ٹل جائے گا اور ختم ہو جائے گا، اور اس کے خاتمے میں بھی ہماری کوششوں کا کوئی دخل نہیں ہوگا، اغیار کی کاوشوں ہی سے یہ ختم ہو گا۔ یہ تو چلو، یہ دور گزر جائے گا وبا کا، بلا کا، مصائب کا، لیکن اس کے گزرنے کے بعد اور اس کے باوجود، ایک اور وائرس ہے جس نے ہمارے ذہنوں اور دلوں کو نزع کی حالت میں رکھا ہوا ہے۔ یہ وائرس کورونا کے جانے کے بعد بھی ہمارے اجتماعی شعور میں اسی طرح پھلتا پھولتا رہے گا۔

ذہن میں کچھ باتیں گڈمڈ سی چلتی رہتی تھیں۔ فراغت بھی تھی، تو ان خیالات کا میں اپنے طور پر پیچھا بھی کرتا رہتا تھا۔ انھیں طرح طرح سے تفصیل بھی ذہن ہی ذہن میں دیتا رہتا تھا۔ آج اتفاق سے جنگ اخبار میں وجاہت مسعود صاحب ایک کالم نگار ہیں، ان کا ایک کالم میں نے دیکھا جو اسی موضوع پر ہے کہ پوسٹ کورونا صورتحال۔ وجاہت مسعود صاحب کو میں پرانا جانتا ہوں۔ یہ بہت مہذب آدمی ہیں، بہت پڑھے لکھے آدمی ہیں اور غیر دینی فکر رکھتے ہیں۔ لیکن غیر دینی فکر رکھنے والوں میں سے جیسے فیض احمد فیض کی طرح کے ہیں کہ مذہبی معاملات میں کوئی غیر ذمہ دارانہ بات نہیں کرتے اور دل آزاری سے بھی بچتے ہیں۔ اور مذہبی روایت کا، اپنی تھیوری کے مطابق، ایک تاریخی مظہرکی حیثیت سے اس کا احترام بھی کرتے ہیں، اور اس کا اہتمام بھی رکھتے ہیں۔ لیکن overall (مجموعی طور پر) اپنی کلی فکر میں یہ liberalist  ہیں یا جو عنوان بھی دے دیں، بہرحال غیر مذہبی ہیں۔ غیر مذہبی ہونے کا مطلب یہ ہے کہ مذہب کے نظامِ عقائد کو نہ ماننا، مذہب کے مرکزی کردار یعنی خدا کو ماننا، نہ ماننا، دونوں کو غیر اہم جاننا۔ اس طرح کی کچھ باتیں ہیں لیکن جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ بہت پڑھے لکھے آدمی ہیں اور انسانوں کا درد رکھتے ہیں۔ میرا خیال یہ ہے کہ موجودہ اردو کالم نویسوں میں شاید کوئی ایک بھی ایسا نہیں، جو کم از کم اس سطحِ مطالعہ میں ان کی برابری کر سکے۔ وجاہت مسعود صاحب کا مطالعہ خاصا کثیر الجہات ہے۔ کئیdisciplines(شعبوں) میں ہے، فلسفہ بھی، سوشیالوجی بھی، خاص طور پر ادبیات اور اچھا شعری ذوق ہے۔ اور پھر ان کا اسلوب بھی، جس اسلوب میں یہ کالم لکھتے ہیں، منفرد ہے۔ ان کا ذکر اس لئے کر دیا کہ آج ان کا کالم دیکھ کے، مجھے اس میں بعض چیزیں ایسی لگیں کہ جن پر ہمیں غورکرنا چاہیے۔ لیکن وہ چیزیں ایسی نہیں ہیں جو پہلی مرتبہ ان کے کالم سے ہمارے نوٹس یا علم میں آئی ہوں۔ لیکن بہرحال ان چیزوں کو جو ممکن ہے کہ ہمارے علم میں ہوں، لیکن ان پر اصرارکرنا، ان کی اہمیت کو سمجھنا، اس کالم میں ان پر زور دیا گیا ہے۔

وجاہت صاحب کے خیالات سے اختلاف رکھنے کے باوجود، ان کی نثر ایسی ہے کہ مجھے اچھی لگتی ہے۔کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ میری زیادہ تر تربیت ادبی ہے۔ ان کا اسلوب بہت ادبی ہے، زبان اور محاورے کی صحت کا مبالغہ کے ساتھ اہتمام کرتے ہیں اور اس معاملے میں گویا مولانا چراغ حسن حسرت کی طرح حساس ہیں۔ جو لوگ چراغ حسن حسرت صاحب کو جانتے ہیں وہ سمجھ سکتے ہیں کہ ز باں دانی، اردو دانی چراغ حسن حسرت پر کشمیری ہونے کے باوجود ختم تھی۔ ان کی نثر سے لفظ کے استعمال کی سند حاصل کی جاتی تھی اور ان کی زندگی میں ہی ان کا یہ درجہ تھا۔ ہمارے سلیم احمد ان کے بہت قائل تھے اور ان کے خوردوں میں سے تھے۔ سلیم احمد خود اہل زبان تھے اور زبان پر جیسی دسترس ان کی  ہو گی اسے زیادہ سے زیادہ بڑھا کر  سوچا جائے تو وہ کم نکلے گی۔ ایسی لسانیاتی صلاحیت،  مہارت  اور تبحر کے باوجودسلیم احمد،  مولانا چراغ حسن حسرت کو زبان میں سند مانتےتھے۔ اور ان کے زمانے میں جیسے یہ ایک عام سا عمل تھا کہ کسی لفظ  کے استعمال پر اگر ادیبوں میں کوئی اختلاف ہو جاتا تھا، تو چراغ حسن حسرت صاحب نے اگر اس لفظ کو اپنے کسی کالم میں استعمال کیا ہوتا تھا تو وہ (لفظ)  سند بنا کر پیش کیا جاتا تھا۔  اور  دوسرا شخص اس سند کے آگے چپ ہو جاتا تھا۔ ایسے آدمی تھے چراغ حسن حسرت۔ چراغ حسن حسرت ہی کے اسکول اور چراغ حسن  حسرت سے  تربیت پانے والی صحافیوں کی ایک پیڑھی میں  کہہ سکتے ہیں کہ وجاہت مسعود صاحب بھی ہیں۔

 ان کے بنیادی تصورات، ظاہر ہے جو لوگ جانتے ہیں وہ جانتے  ہیں  کہ،  وہ مکمل طور پر لامذہبی ہیں  اور ظاہر ہے کہ میں ان سب تصورات سے سو فیصدی اختلاف ہی  رکھتا ہوں گا۔ لیکن اختلاف بہت بنیادی اور کامل  و کلی نوعیت کا اختلاف رکھنے کے باوجود،  ان کی نثر اچھی لگتی ہے۔ بہت ادبی اسلوب ہے اور سمجھیں کہ ابہام نویسی جو ہے، آج کل  کے لوگوں میں، میں نے کسی کو ابہام نویسی میں  قدرت رکھنے والا دیکھا ہے، تو  میں کہہ سکتا ہوں کہ وہ وجاہت مسعود ہی ہیں۔  صرف کالم نویسوں میں نہیں بلکہ ادیبوں میں بھی۔ بہرحال یہ اس لئےکہا کہ میں یہ بھی بتا سکوں کہ ان  کی تحسین میں بھی بخل نہیں کرتا اور ان سے اختلاف کو ظاہر کرنا، اپنا  فریضہ سمجھتا ہوں۔ ان کے سبھی بنیادی نوعیت کے  تصورات سے سو فیصدی اختلاف  رکھتا ہوں۔ یعنی ان تصورات سے سو فیصدی اختلاف ہے جن کی اساس پر وہ معاملاتِ زندگی چلانا چاہتے ہیں۔ جن کی اسا س پر وہ، انسان کیا ہے؟ کائنات کس لئے ہے؟ان سوالوں کا جواب دیتے ہیں۔ وہ  (تصورات) مکمل طور پر غیر مذہبی ہیں۔ لیکن اس کے باوجود  جیسے کہ ہمارے سلف میں بھی بہت سے لوگوں نے، مثال کے طور پہ، کارل مارکس سے بعض جزئیات میں استفادہ کیا ہے۔

  میں بات کو واضح کروں۔ کُل اور کُل ایک دوسرے سے متصادم  اور مختلف ہونے کے باوجود، ان متصادم دو کلُوں میں اجزا  میں موافقت ہو سکتی ہے،  یعنی ہم تمام فکر، تمام زندگی، تمام  شعور کی اساس، لاالہ الا اللہ  کو ماننے کی ذہنی اور عملی تفصیل پر رکھتے ہیں۔  یہ تو ہمارا ان حضرات سے کلی  اختلاف ہے۔  وہ اختلاف جو  اگر تصادم میں ڈھلنے لگے، تو متصادم ہونے میں بھی ہمیں کوئی تکلف نہیں ہے۔کوئی توقف نہیں کریں گے۔  لیکن اس طرح کے بنیادی اختلاف پر استوار دو کُل جن  اجزا سے مل کر بنتے ہیں، ان اجزاء میں وہ اختلاف پورے کا پورا سرایت کیے ہوئے ہونا ضروری نہیں ہے۔ ان اجزاء میں، ان میں سے بعض اجزاء میں، آپس میں موافقت اور  مطابقت ہو سکتی ہے۔ جیسے کارل مارکس  کی فکر ایک کُل ہے۔ دین سے پیدا ہونے ولی فکر بھی ایک کُل ہے۔ یہ دونوں  کُل ایک دوسرے سے رات اور دن کی طرح،  سردی و گرمی کی طرح مختلف ہیں اور وقت پر  متصادم ہیں۔ لیکن کارل مارکس کے اس فکری کُل کے بعض اجزاء ہیں جیسے تاریخ کا تجزیہ، جیسے سرمایہ داری نظام کی قباحتوں کا تجزیہ  وغیرہ۔  یہ اس کُل کے اجزاء ہیں  اور اس میں تاریخی تجزیات وغیرہ میں کارل مارکس سے فائدہ  اٹھانا،  ہمیں یہ کہلانے کی اجازت نہیں دیتا کہ ہم مارکسسٹ ہو گئے ہیں، بلکہ اس میں یہی اصول کارفرما ہو گا کہ کفر و ایمان میں کُلی اختلاف ہونے کے باوجود، ان کے تشکیلی اجزاء میں سے بعض اجزاء ایک جیسے ہو سکتے ہیں۔  تو اس پہلو سے میں ان کی تحسین ضروری سمجھتا ہوں۔

 وہ یہ ہے کہ حالات کا تجزیہ کرتے ہوئے، تاریخی حالات، اپنے زمانے کے حالات  کا تجزیہ کرتے ہوئے  وجاہت مسعود صاحب جس دراکی اور بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہیں وہ ہمارے اہل دانش میں بھی خال خال ہی نظر آتی ہے۔ وہ اہل دانش چاہے ادھر کے ہوں، چاہے ادھر کے ہوں، ہم جن اہل دانش کو جانتے ہیں اُن میں حالات کا تجزیہ، حالات کی پیچیدگی، حالات میں چھپی ہوئی  پیچیدگیوں کو مؤثر طریقے سے  کھولنے کا وصف خال خال ہی نظر آتا ہے۔ لیکن وجاہت صاحب کے ہاں یہ وصف  بہت مضبوط حالت میں ہے۔ اور پھر اکثر معاملات میں ان کا  تجزیہ، حالات کا تجزیہ، جو  ہوتا ہے وہ ایک clinical      accuracy کا حامل محسوس ہوتا ہے۔  لیکن یہ ظاہر ہے اور مجھے بار بار کہنے کی ضرورت نہیں۔  وجاہت مسعود صاحب کلی اور مجموعی ساخت رکھنے والے تاریخی اور مذہبی مظاہر کو  جن اصولوں کے تحت رکھ کر دیکھتے ہیں، وہ الف سے یے تک غیرمذہبی ڈسکورس کا حصہ ہیں۔

جہاں بھی حالات میں خرابی کے، خاص طور پہ  حالات میں خرابی کے کچھ اسباب جیسے patent طور پر، اپنی فکر سے جڑے رہتے ہوئے، یہ خرابی کے اگر سو اسباب بتاتے ہیں تو اس میں دس اسباب مذہبی ہوتے ہیں۔  ہم ظاہر ہے کہ ان نوے اسباب کے صحیح ہونے کے امکان  کو ملحوظ رکھنے کے باوجود، ان دس اسباب سے اختلاف رکھیں گے، اس اختلاف کا اظہار کریں گے اور اس کی تصحیح کریں گے۔ اپنے زمانے میں دانش کی تشکیل کرنے والے کارکنوں کو  ردو قبول دونوں perspectives(تناظروں) سے دیکھنا ہوتا ہے۔ کہیں ان کو رد کرنا ہے، کہیں انہیں قبول کرنا ہے۔ اور بعض عوامل ایسے ہوتے ہیں جو اپنے عہد کی اجتماعی دانش کی تشکیل کرتے ہیں، جن سے ہمارا اختلاف اصولی ہوتا ہے۔ بعض سے فروعی اور اجزائی ہوتا ہے۔ اسی طرح موافقت بھی ہے کہ موافقت کہیں اجزائی ہوتی ہے، کہیں کلی ہوتی ہے۔

 اُس فکر سے ہمارا اختلاف، جس کے وجاہت مسعود صاحب ایک مہذب اور competent نمائندے ہیں،  کلیت میں ہے۔ لیکن اس فکر کے استعمال کی جو تفصیلات ہیں، اس کی عملی صورتوں میں سے بعض اجزاء ہمیں اپنے کُل کی تشکیل کرنے والے عناصر میں پہلے سے ملتے ہیں۔ تو ہم ان کی تائید کرتے ہیں، ان سے موافقت محسوس کرتے ہیں۔  وہ حضرات جو ایک کُلی ڈسکورس کو ماننے والے ہوں، ان کے درمیان اختلاف اصولی اور اتفاق اجزائی ہوتا ہے۔ اور جو جزوی اتفاق بھی ہوتا ہے وہ اس طرح ہوتا ہے کہ وہ اجزاء جو ایک ناقابلِ قبول کُل میں ہیں، وہ اجزاءجب میں کہتا ہوں کہ ہاں یہ صحیح ہیں،  تو اس کے پیچھے بات یہ ہوتی ہے کہ یہ اجزاء ہمارے کُل کی تشکیل میں بھی کارفرما ہیں۔ یہ horizontality      of      knowledge (علم کی افقی جہت) کے اجزاء ہیں۔تو اس میں ہم کہہ دیتے ہیں کہ کیونکہ  یہ اجزاء ہمارے کُل میں بھی دخیل ہیں لہٰذا یہ بات ٹھیک ہے۔ لیکن  اس بات کے کہنے کا جو مقصود و محرک ہے، ہم اس سے مکمل طور پر بَری اور مکمل طور پر مختلف اور مکمل طور پر متصادم ہیں۔

انھوں نے خیر اب کچھ باتیں کی ہیں جو بالکل صحیح ہیں کہ اب سرمایہ داری نظام کے structures(ڈھانچے) جو ہیں  ان پہ سوالات اٹھیں گے، طبقاتی تقسیم میں شدت پیدا ہوگی وغیرہ وغیرہ۔ وہ (کالم) میرے سامنے ہے نہیں، ورنہ میں سنا دیتا۔  یہ باتیں بالکل صحیح ہیں کیونکہ مجھے بھی یہ لگ رہا ہے کہ اب بڑے بڑے نظریات یعنی وہ نظریات جو جدید  ذہن کی کل پونجی ہیں، جن سے جدیدیت بنی ہے، وہ نظریات اور وہ نظام جن سے جدید زندگی چل رہی ہے، یہ دونوں چیلنج  ہوں گے، یہ بڑے بڑے سوالات کی زد میں آئیں گے۔ اسی طرح مختلف علوم کی authenticity (استنادی حیثیت )سے لے کران کی افادیت اور ان کی ضرورت تک پر سوالات اٹھیں گے۔ یہ ساری جو اکھاڑ پچھاڑ ہو گی، اس میں کچھ حصہ منفی ہو گا کچھ حصہ  مثبت ہوگا۔

 لیکن ایک بات جو، تقریباً، ہمارے خیال میں یقینی معلوم ہو رہی ہے۔  وہ یہ کہ انسانوں میں نیچرل طبقاتی تصادم  یعنی امیر غریب کا تصادم،  یہ قوموں کی سطح پر بھی اور معاشرتی، انفرادی سطح پر بھی  شدت پکڑے گا اور جو مورچے  غیر آباد تھے وہ پھر سے آباد ہوں گے۔  پوسٹ کورونا دور میں، یہ لگتا ہے کہ ہو گا۔ اس کے لئے ہمیں تیار رہنا چاہئے کہ صرف کُلی نوعیت رکھنے والے انسانوں کے بنائے ہوئے نظریات ہی  چیلنج  نہیں ہوں گے،  بلکہ دینی عقائد بھی سوالات کی زد میں آئیں گے۔ اور پھر یوں ہے کہ اس سے ہمیں سنبھلنے کا بھی موقع مل سکتا ہے اور وہ ہمیں گرانے میں بھی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ان  سے فائدہ بھی اٹھایا جا سکتا ہے ان کا نقصان بھی ممکن ہے۔ وہ یہ ہے کہ ہمارےیہاں جو ایک کراماتی قسم  کی مذہبیت ہے، اس کو اب جگہ نہیں ملے گی۔ اب اخلاقی ساخت رکھنے والی اور علمی بناوٹ رکھنے والی  مذہبیت ہی survive  کرے گی۔ یعنی جو مذہبیت کا عوامی ورژن ہے، عوامی ورژن کہنا بھی تکلف ہے،  یعنی ہمارے یہاں مذہبیت کا وہ انداز جو خطیب علماء میں نظر آتا ہے، یا  so    called (نام نہاد) علماء جن کی following ہے عوام میں، وہ عجیب طرح کی  کراماتی سی مذہبیت  ہے۔  یوں لگتا ہے کہ جیسے  اللہ ہماری آزمائش نہیں کر رہا، جیسے ہم اللہ کو آزما رہے ہیں۔ تو وہ اس کے survival (بچاؤ) کے امکانات اب عوامی سطح پر نہیں ہوں  گے یعنی کم ہو جائیں گے۔  اس کے نشوونما کی جو nurseries تھیں یعنی عوام الناس، وہ بھی ویران و بنجر ہو جائیں گی۔ اور یہ اچھا ہی ہو گا اگر ہم اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔اور وہ یہ کہ  ہم مذہب کو اپنے ذہن اور اپنے اخلاق کی پرورش کا ذریعہ بنانے کا ماحول پیدا بھی کر سکتے ہیں اور مذہب کی اخلاقی اور علمی  ابدیت کے نئے avenues (مواقع) مذہب سے سردست  دور رہنے والے طبقات کی جانب کھل بھی سکتے ہیں۔ یعنی تبلیغ کے مواقع بہت ٹھوس انداز میں پیدا ہو سکتے ہیں۔ یہ مثبت پہلو بھی ہے۔

اس کے علاوہ میں نے نوٹ کیا ہے، سوچتا رہتا ہوں تو کچھ نوٹس بناتا رہتا ہوں، تواس کو دیکھ کر اب عرض کر رہا ہوں کہ اس عالمگیر وبا نے  انسان اور کرۂ ارض کے مستقبل  کے حوالے سے کچھ ایسےسوالات  اٹھا دیے ہیں  جنھیں نظر  انداز نہیں کیا جا سکے گا۔ آزادی، ترقی،  گلوبلائزیشن، ٹیکنالوجی،  طبقاتی تقسیم، کارپوریشن، پاور سٹرکچریعنی ہمارے زمانے  میں  جو پاور سٹرکچرز ہیں، یہ سب ایک جارحانہ تنقید کی زد میں آئیں گے۔ اور تہذیبوں کے درمیان تصادم  کا جو نتیجہ، یاد ہے نا وہ  ہنٹنگٹن کی جو کتاب ہے جو بہت زیادہ چلی،  تو اس پس منظر میں کہہ رہا ہوں کہ تہذیبوں کے درمیان جو تصادم کا نتیجہ ایک تیقن اور گھمنڈ کے ساتھ  اہلِ مغرب نے یا امریکہ نے طے کر لیا تھا، قوی امکان ہے کہ وہ بڑ ی حد تک پلٹ جائے گا۔ مغرب خصوصاً امریکہ کی بالا دستی کی تکمیل  کا مسلسل عمل، گمانِ غالب ہے کہ رک جائے گا اور ایک تہذیب یا  ملک کی بالادستی کا تصور ہی خاصا بدل جائے گا۔ اور ساتھ ساتھ دوسری طرف جو ہے،  کمزور  معیشتیں اپنی بقا کیلئے غلامی کے ایک نئے دور میں داخل ہو سکتی ہیں اور عہدِ جدید سے پہلے کی  استعماری یعنی colonial  روایت کا مختلف صورتوں میں احیاء، بھائی سچ کہہ رہا ہوں کہ، جیسے سامنے نظر آ رہا ہے۔ یعنی ایک neo-colonialism (نواستعماریت) کی تشکیل ہو گی اور اس میں مضبوط معیشت اور کمزور معیشت  کا تعلق آقا اور غلام کا سا ہو گا۔ اب صرف یہ کہ استعماری قوتیں بدل جائیں گی۔ ہو سکتا ہے کہ اب چینی استعمار پھیلے یا جوبھی ہے۔  جس طرح دوسری جنگِ عظیم نے مغرب کے بنیادی تصورات اور اجتماعی نفسیات میں بہت سی جوہری، بنیادی تبدیلیاں کر دی تھیں۔  کورونا وائرس بھی عالمی سطح پر،  لگتا ہے کہ اسی نوع کے تغیرات کی بناء ڈال سکتا ہے۔  جیسا کہ میں شروع میں کہہ رہا تھا کہ ان ممکنہ تغیرات میں کچھ مثبت ہو سکتے ہیں اور کچھ منفی،  تو  مثبت تغیرات و تبدیلیوں  کی امید باندھی جا سکتی ہے ان میں سے چند یہ ہوں گی:

1۔ انسانی وحدت کا موجبِ عمل احساس یعنی اسلام

 وحدتِ ایمانی کے مقصود کو سامنے رکھ کر وحدتِ انسانی کی تعمیر کا جو پیغام ہے، اس کی ماہیت، اہمیت، او ر افادیت کو سمجھنا دنیا کیلئے آسان ہو جائے گا۔ اللہ نے  ہدایت کے اصول پر وحدتِ ایمانی طلب فرمائی ہے۔ فطرت کے اصول پر وحدتِ انسانی طلب فرمائی ہے۔ اور ان میں ربط اور نسبت اور تعلق وہی ہے جو نظامِ ہدایت اور نظامِ فطرت میں ہے کہ فطرت کو نظامِ ہدایت کے تابع آنا ہے۔ یعنی ہدایت مقصود ہے، فطرت کو  اس مقصود کی طرف سفر کا زادِ راہ بنانا ہے۔ تو پوری بات یہ ہے کہ  اللہ ہماری  اجتماعیت کو وحدتِ ایمانی کے دائرے میں لا کر، اس دائرے میں توسیع کا عمل شروع کرنے  کا حکم دیتا ہے۔ وہ توسیع جو وحدتِ انسانی کو وحدتِ ایمانی میں ڈھال دے۔ تو دونوں تصورات interactive (باہم متعامل ) ہیں کہ  وحدتِ انسانی کا تصور نہیں ہو گا تو اسلام عالم گیر دین نہیں ہے۔ یہ قیامت تک رہنے والا واحد دین نہیں ہے۔ اللہ کہتا ہے کہ وحدتِ انسانی تو well      established (معروف مسلمہ) ہے۔ اب انسانیت کو بندگی بناؤ یا اپنی انسانیت کو بندگی اورعبدیت بناؤ اور اس وحدتِ انسانی کے given (عطا کردہ) مظہر کو وحدتِ ایمانی میں منقلب کر کے دکھاؤ۔ یہ اسلام ہے۔ یہ اب آسان ہو جائے گا۔ لگتا ایسا ہے۔ اللہ کرے، ایسا ہی ہو۔

2۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ ہمارے یہاں ایک خاص طرح کی مذہبیت میں غیرِ محارب (جنگ نہ کرنے والے) غیر مسلم کیلئے بھی ایک سنگ دلی کا سا رویہ ہے۔ ایک بے حسی کا سا رویہ ہے۔  ہم لوگ خود اپنی اس دینی کمی کو دور کرنے کا مزاج اور ماحول حاصل کر لیں گے کہ نہیں غیر مسلم کی تکلیف بھی محسوس کرنی چاہئے اور اس تکلیف کو رفع کرنے میں اگر میں کوئی کردار ادا کر سکتا ہوں، تو وہ ایک دینی احساسِ ذمہ داری اور امید ِاجر کے ساتھ  مجھے ادا کرنا چاہیے۔ ایک تو یہ بات ہو گئی اور دوسرے یہ کہ سائبر ٹیکنالوجی کی پیدا کردہ جو باہمی مغائرت ہے، جو ہم لوگ ایک دوسرے کے غیر بن گئے ہیں یعنی ہماری ایک دوسرے کے ساتھ معاشرت، اپنائیت کے اصول پر نہیں رہ گئی، مغائرت کے اصول پر کھڑی ہو گئی ہے۔ ہر آدمی  جو ہے وہ اپنے بالکل ہی غیر مؤثر اور بالکل کاٹھ کباڑ حصے سے دوسرے کے ساتھ متعلق ہے،  یعنی تعلق کے جو بنیادی جذبات و احساسات، تعلق کی بنیادی اہمیتیں، تعلق کے احساس پر پیدا ہو جانے والی ایک زندہ معاشرت، یہ سائبر ٹیکنالوجی نے غارت کر کے رکھ دی ہے۔ اس کو میں کہہ رہا ہوں کہ یہ مغائرت پیدا کی ہے۔ اس غیریت اور  اس مغائرت سے نکل کر انسان کی معاشرتی فطرت کی  بحالی کا امکان، انشاء اللہ تازہ ہو جائے گایعنی ہم لوگ ایک دوسرے سے ایک مشین کے دو پرزے بن کر نہیں ملا کریں گے۔ پھر ہم گویا ایک  جذبے اور ایک organic      association  (نامیاتی تلازمے) اور relationship (نسبت) کے ساتھ، دوبارہ ایک دوسرے سے متعلق ہونے کا  امکان حاصل کریں گے۔

3۔ اسی طرح تیسرا  (نکتہ) یہ ہے کہ ترقی اور طاقت کے موجودہ تصورات  میں چھپے ہوئے غیر انسانی پن کے خلاف عالم گیر اتفاقِ رائے کی پیدائش  ممکن ہو جائے گی۔ یہ بھی  ایک خواب سا ہے۔ اب اس کی تفصیل میں کیا جانا کہ ترقی جو ہے، اس کا معبود بنا کر اس کی پوجا میں لگے ہوئے ہیں اور اس کے پجاریوں میں سے چند ایک ہی ایسے ہیں جن کو اس کے قدموں پہ بوسہ دینا نصیب ہوتا ہے، اس بت کے چرن چھونے نصیب ہوتے ہیں، باقی سب کیلئے تو وہ بت غائب ہے۔ وہ جیسے بالغیب تعلق ہے باقی  لوگوں کا ترقی کے بت سے۔ بس ترقی کرنی ہے، ترقی کرنی ہے، اس آدمی کو کیچڑ ہی میں رہنا ہے مگر ترقی کرنی ہے۔ اس آدمی کو آدمیت کے تنزل والے احوال میں رہنا ہے مگر ترقی کرنی ہے۔ اسے اپنی آدمیت اور انسانیت کی قیمت پر بھی ترقی کرنے سے کوئی چیز مانع نہیں ہے۔ ایک عجیب طرح کا جذبۂ ترقی پیدا کر دیا گیا ہے۔ اور اسی طرح طاقت ہے، طاقت میں جو چھپی ہوئی destruction (ہلاکت) ہے یعنی جدید سائنسز نے طاقت کے جتنے ٹولز(آلات)  بنائے ہیں،  naked      power (ننگی طاقت )کے، وہ بہت زیادہ نہ صرف یہ کہ destructive (مہلک) ہیں  یعنی  ان کی destruction (ہلاکت خیزی) کا دائرہ بہت وسیع ہے بلکہ یہ سرمایہ داری نظام کیلئے ریڑھ کی ہڈی ہیں کہ اسلحہ بلا ضرورت بنانا، بلا ضرورت بیچنا، مطلب، اسلحے کی انڈسٹری دنیا کی سب سے بڑی انڈسٹری ہے۔ اور ایک عالمِ تجرید میں ہے، وہ ہتھیار بنائے جا رہے ہیں جو استعمال نہیں ہو رہے۔ہتھیار بیچے جا رہے ہیں جن کی ضرورت نہیں ہے وغیرہ وغیرہ۔ اسی طرح طاقت کا دوسرا پہلو ہے اقتدار کی terms (اصطلاحوں ) میں طاقت  کہ حاکم اور محکوم والی نفسیات، کم از کم تیسری دنیا  اور خصوصاً اسلامی دنیا میں امید ہے کہ بدلے گی۔

4۔ ماحولیاتی آلودگی کے حوالے سے  حساسیت اور ذمے داری میں اضافہ

 میرا خیال ہے، یہ بھی ممکن ہے کیونکہ  انسانوں کی اکثریت نے  گویا یہ چشم دید مشاہدہ کر لیا ہے،  براہ راست تجربہ کر لیا ہےکہ ماحولیات کی ضروری حفاظت نہ کرنے کی وجہ سے اب  جیسے بیماریاں اور عالم گیر effect (اثرات) رکھنے والی بیماریوں کی آمد کا دروازہ کھلتا جا رہا ہے۔ تو یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اب ہم  فطرت کےساتھ، ماحولیات کے ساتھ، ایک ذمہ دارانہ اور آدمی جیسا تعلق پیدا کریں۔کیونکہ  ظاہر ہے جب میں اپنے ساتھ آدمی جیسا تعلق نہیں رکھتا، جب میں  اپنے لئے آدمی جیسا تشخص نہیں رکھتا، جبکہ میرا  مزاجِ وجود آدمیوں جیسا نہیں رہ گیا،  جبکہ میرے ذہن کی working(فعالیت) جو ہے وہ ذہنِ انسانی  کی standard      working  (معیاری فعالیت) نہیں رہ گئی۔ جب میں خود اس سے مغائرت اختیار کرتا چلا جاؤں گا  اور خود سے  ایک جارحانہ اور مخاصمانہ  مغائرت، کہ اپنی آدمیت کے ڈھکے چھپے اور کونے کھدرے میں موجود امکانات کو بھی kill (ہلاک ) کرنے پر خوشی کے ساتھ ترقی کے عنوان سے  کمر بستہ ہوں، تو ظاہر ہے کہ باہر کی دنیا سے تعلق میں تو وہ حساسیت بدرجۂ اتم نہیں رہ جائے گی، جو اپنے سے تعلق میں درکار ہوتی ہے۔  اپنے کو بھی میں نے خلاء میں بدل دیا، ماحول کو بھی dustbin (کوڑا دان) بنا دیا بلکہ  زہر کے کنوئیں کھود دیے، تو اس کا ظاہر ہے کہ ہمیں اب تاوان دینا پڑ رہا ہے اور اس وائرس نے اس  realization(تفہیم) میں شدت پیدا کر دی ہے کہ ہمیں عالمِ فطرت کے ساتھ اپنے تعلق کی موجودہ ظالمانہ روش کو روکنا ہو گا۔

 میر ےذہن میں ایک  اور عجیب بات آتی ہے، اس وقت عجیب لگ رہی ہے لیکن  ممکن بھی نظر آ رہی ہے۔  اور وہ یہ ہے کہ پوسٹ کورونا صورت حال  میں، عالمی صورت حال میں، مذہبی ذہن  کے اعتماد میں اضافہ ہو جائے گا  اور موجودہ احساسِ پسپائی جو طاری ہے اس میں کمی آ جائے گی۔ انشاء اللہ۔ اس وائرس نے زندگی کو خدا کے حوالے کے ساتھ دیکھنے کا ایک اٹل مطالبہ کر دیا ہےکہ خدا کے بغیر دنیا اور زندگی کو دیکھو گے، تو اسی طرح کے نقصانات اٹھاؤ گےجن نقصانات سے نکلنے کا یا  جن نقصانات سے حفاظت کی اور جن نقصانات کو اٹھانے کے بعد انھیں اپنے لئے مفید  بنا لینے کا کوئی دروازہ تم پر کھلا نہیں رہ جائے گا، خدا کو مانے بغیر۔ یہ خدا ہی کو ماننا تو ہے نا کہ جو  میرے لئے تکلیف اور نقصان کو بھی مفید بنا دیتا ہے۔ خدا کو مانے بغیر، تکلیف اور نقصان کی افادیت  اول تو پیدا نہیں ہوتی،  شعور میں نہیں آتی اور اگر ہو بھی جائے تو وہ بہت خود غرضانہ ہوتی ہے اور بہت کم عمر ہوتی ہے، بہت سطحی ہوتی ہے۔ اس وائرس نے، بہرحال، مذہبی ذہن کو پراعتماد کر دیا ہے اور وہ جو ترقی، طاقت اور ٹیکنالوجی وغیرہ کی یلغار کے آگے  احساسِ پسپائی میں مبتلا ہوتا جا رہا تھا، وہ احساسِ پسپائی انشاء اللہ احساسِ تشکر میں بدل سکتا ہے۔ کیونکہ اس وائرس میں کوئی توجیہ اس وائرس کی، جو تصورِ انسان کی تصدیق کرنے والی جو قوت ہے، وہ قوت مذہبی ذہن کے ساتھ ہی علم میں آ سکتی ہے۔ مذہبی ارادے کے ساتھ ہی تصرف میں آ سکتی ہے۔ اور کوئی ذریعہ نہیں ہے۔

 اسی طرح اگلا نکتہ جو میری سمجھ میں آیا، وہ یہ ہو گا  کہ طبقاتی تقسیم کے سرمایہ دارانہ اصول پر علمی تنقید اور عملی انحراف کا وسیع البنیاد آغاز ہو جائے گا۔ اب سرمایہ داری نظام نے جس طرح لوگوں کو dehumanize (غیرانسانی) کر دیا، جس طرح کا یہ  ظالمانہ نظام ثابت ہو چکا ہے۔ اور ابھی مزید ثابت ہو گا جب اس وائرس کی دوائیں مارکیٹ میں آئیں گی یا جب معیشتی تصادم قوموں میں پیدا ہوگا، تو وہ اوروا ضح  ہو جائے گا۔  انسان نے گویا اس وائرس کی شکل میں سرمایہ داری نظام کا اصل چہرہ بھی دیکھ لیا ہے۔ اب اس سےانحراف اور اس پر تنقید  کا ایک عالم گیر سطح پر آغاز ہو جانا، عین ممکن ہے۔

تو اس کے بعد ایک اور مثبت تبدیلی جو foresee (پیش بینی ) کی جا سکتی ہے،  جس کی اللہ کے فضل سے امیدرکھی جا سکتی ہے،  وہ یہ ہے کہ مسلمان ملکوں میں  مصنوعی طریقے سے postmodern      conditions (مابعد جدید صورت حال) کی درآمد کی راہ میں مضبوط رکاوٹوں کی تعمیر شروع ہو سکتی ہے۔ یعنی مسلمان ملکوں میں جو طفیلچی بن کے رہ گئے ہیں مغرب کے اور یہ خاص طور پر  feminist      ideas (تانیثی تصورات) وغیرہ اور بھی بہت سارے، تو  ہم زبردستی مصنوعی طور پر اپنے یہاں postmodern      conditions (مابعد جدید صورت حال) درآمد کر رہے تھے جس کا سب سے بڑا  جو مظہر تھا وہ feminism (تانیثیت) تھا۔  اب انشاء اللہ، ایک روک کھڑی ہوجائے گی، اس وائرس سے۔ اس وائرس نے اللہ کو ایک تہذیبی حساسیت کے ساتھ یاد دلا دیا ہے۔  لگتا ہے کہ وہ اب ایسی رکاوٹیں تعمیر ہو جائیں گی جنھیں feminism (تانیثیت) جیسے postmodern      ideas (مابعد جدید تصورات) پھلانگ نہیں پائیں گے۔ اس کے علاوہ ایک بہت مثبت تبدیلی کی توقع ہے۔

 دعا ہے، خواہش ہے کہ با اثر  مذہبی طبقات میں تعلق باللہ کی مسلسل نگہداشت اور پرداخت کیلئے فطری طور پر درکار احساسات کی تجدید ممکن ہےجنھیں نظر انداز کرتے رہنے کی وجہ سے، یعنی تعلق باللہ کیلئے احساسات کو ہم نظر انداز کر تے رہے،  تو وہ نظر انداز کرتے رہنے کی وجہ سے ان مقتدا ء و مقتدر مذہبی طبقات کے ایک حصے کے اندر انسان اور فطرت سے محبت کا وہ مادہ کمزور پڑ چکا تھا۔  جس کی بدولت خیر اور جمال کی فطری، اخلاقی، اور  روحانی اقدار نمو پاتی ہیں اور دین کی مطلوبہ معاشرت وجود میں آتی ہے۔  ہمارا جو بہت بڑا بحران اور اللہ کو غضب  ناک کر دینے والا جو ایک رویہ اور مزاج تھا، وہ یہ تھا کہ ہمارے وہ مذہبی طبقات جو با اثر ہیں یعنی با اثری  کے موجودہ وسائل رکھتے ہیں،  مطلب کوئی بہت امیر ہے، کوئی بہت بڑا خطیب ہے، کوئی بہت بڑا واعظ ہے، کوئی حاکموں کی وجہ سے حکومت والے اختیارات رکھتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ یعنی جو بہت following (پیروکار) رکھنے والے  مذہبی طبقات  جو ہیں۔   یہ دیکھی ہوئی بات ہے کہ ان کی اکثریت میں تعلق باللہ ایک زندہ جذبے اور احساس اور آدمی کو ہر وقت حالتِ استغفار میں رکھنے والی فضا میں نہیں  رکھتا۔ تو یہ لوگ خدا کو، جس کا نام لیتے رہتے ہیں، اسی کو بھولے ہوئے ہیں۔  جب خدا کے نام کو استعمال کر کے خدا سے غفلت کو اپنا شعار بنالیا جائے، تو پھر ان بے چاروں کے اندر انسان اور فطرت سے محبت کا کیا امکان رہ جائے گا۔ پھر تو  انسان اور فطرت کی کوئی حیثیت ہے خدا کے سامنے۔ جب یہ خدا کے ساتھ ہی سچے نہیں رہے،  تو  باقی باتیں بعد میں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں مذہبی تعلیم و تعلم، مذہبی تربیت  اور مذہبی تبلیغ و دعوت کے ادارے جو ہیں وہ معاشرتی نتائج پیدا کرنے میں پوری طرح کامیاب  نہیں ہو  پائے۔    اس کا سبب یہ ہے کہ تعلق باللہ میں زندگی کی بدولت اور تعلق باللہ میں سچائی کے تقاضے کے طور پر، بندے میں عالم میں، معلم مبلغ سب میں، انسان اور فطرت سے محبت کا وہ مادہ ضرور نمو پائے گا جس کی وجہ سے فطرت   کو وہ جمال کا مظہر بنانے میں جدوجہد کرے گا اور معاشرت کو خیر کا مظہر بنانے میں کاوشیں کرے گا۔  کون کہتا ہے کہ یہ میرے اور آپ کے ایمانی فرائض نہیں ہے، کون کہتا ہے کہ یہ مسلم نفسیات کا لازمہ نہیں ہے کہ وہ خیر کو مدارِ تعلق اور جمال کو اثاثۂ فطرت بنائے۔ اور انہی کی بنیاد پر، ظاہر ہے کہ جو نیچرل اخلاقی اور روحانی قدریں ہیں وہ حالتِ نمومیں رہتی ہیں۔ اور انہی کی بدولت  یعنی پیڑ  اور آدمی کے ساتھ، دونوں کے ساتھ، اللہ سے تعلق کی روشنی میں سچا ہونے کے نتیجے میں، دین کی مطلوبہ معاشرت وجود میں آتی ہے۔ جہاں بین الانسانی  ماحول میں بھی آلودگی نہیں ہے۔ اور جہاں انسان اور نیچر کے تعلق سے پیدا ہونے والے ماحول میں بھی  pollution (آلودگی) نہیں رہتی۔

بہت امید ہے، بلکہ امید بھی رکھنی چاہیے، دعا بھی کرنی چاہیے۔ اور اپنے بس بھر کوشش سے بھی دریغ نہ کرنا چاہیے کہ ہم آگے آنے والی دنیا میں، جن مثبت تبدیلیوں کو تجزیے کی روشنی میں یا خواہش کے زور پر دیکھ رہے ہیں وہ واقع بھی ہو جائیں۔  اللہ کرے۔

 یہ سب تبدیلیاں اگر کسی بھی سطح پر اپنی ضرورت کو realize ہی کروا دیں تو ان شاء اللہ، ہم نے گویا اس آفت، اس مصیبت اس آزمائش میں سے سرخروئی کے ساتھ نکلنے کا جیسے راستہ ڈھونڈ لیا۔ ہم گویا کہ جب کورونا ختم ہو جائے گا، تو اگر ان میں سے کچھ قدریں ہم سے متعلق ہیں اگر وہ ہم میں پیدا ہو گئیں۔ ان میں سے جو احساسات  ہمیں لازماً درکار ہیں، اگر وہ حاصل ہو گئے۔   تو ہم اللہ کے فضل سے اللہ کی  رحمت سے قوی امید رکھنے کے اہل ہو جائیں گے کہ ہم اس آزمائش میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ اور اگر یہ سب ہم میں نہ ہوا، تو یہی آزمائش جو ہے یہ یہاں نہ سہی، آخرت میں عذاب ثابت ہو گی۔  

٭٭٭٭٭٭٭

اب اس میں جو اس کی پیشگی تیاریاں ہیں۔۔ ہم نے تو کچھ ایک تصویر سی فرض کر لی ہے اور وہ فرض کرنا ہمیں اچھا بھی لگ رہا ہے۔ اور اچھا اس لئے لگ رہا ہے کہ ہم جوامکانات اپنے طور پہ دیکھ رہے ہیں، ان امکانات کو دیکھنا اللہ کو بھی پسند ہے۔ ان امکانات کو لیکن صرف دیکھنا نہیں، بلکہ ان امکانات کی پیدائش کیلئے اپنے باطن اور اپنے ماحول کی زمین کو سازگار بنانا بھی ضروری ہے۔ اس ممکنہ پیش منظر میں، ہمیں یعنی مسلمانوں کو جو ہے، یہ وہ بات میں آخر میں کہنا چاہ رہا ہوں جس کیلئے یہ سب  باتیں چھیڑیں، کہ ہمیں سنجیدگی اور ذمے داری سے اور ایک جذبۂ بقا یعنی بقائے ایمانی کے جذبے کے ساتھ یہ عزم کرنا ہو گا کہ ہم چیزوں کو اپنے   worldview(اندازِ جہاں بینی)  میں رکھ کے دیکھیں  گے۔ ہمیں یہ کرنا ہی کرنا ہے کہ چیزوں کوWest(مغرب) نے جس انتشار اور جس ہوا پرستی کے سانچے میں ڈھال رکھا ہے، ہم ان تمام سانچوں کو توڑیں گے۔ ہم ان تمام توہمات کا ازالہ کریں گے جنھیں سائنس وغیرہ فلسفے وغیرہ کے عنوان سے لوگوں کے لئے واجب الیقین بنا دیا گیا ہے۔  یہ بہت بڑا دجل ہوا ہے۔  اب ہمیں یہ عہد کرنا ہو گا۔  عزم کرنا ہو گا  کہ ہم چیزوں کو، ذہن کے تمام موضوعات کو، حالات کے تمام پہلوؤں کو، علم کے تمام گوشوں کو، اپنے worldview (اندازِ جہاں بینی) میں رکھ کر دیکھنا ہے اور ان کے نفع و ضرر کا تعین یعنی چیزوں کے نفع و نقصان کا تعین جو ہے، وہ فائدے نقصان کے اس اصولی تصور کے تحت کرنا ہے کہ جو بالکل محکم اور بلا تاویل انداز سے قرآن و سنت سے ثابت ہے۔ مطلب وہ ہمارے تصورات نہیں ہیں وہ قرآن و سنت کے نصوص سے مستنبط ہیں۔  جیسے آج کی مجلس کی رعایت سے جو ہے اگر ذرا سے فلسفیانہ اسلوب میں کہا جائے، تو ہم گویا یہ عزم کرنے کے مکلف ہیں، پابند ہیں، ذمے دار ہیں کہ انفس و آفاق اور ان کے تمام احوال و حوادث کی جو actual      construct ہے، یعنی واقعیتی (واقعاتی)ساخت، اس کو اچھی طرح ملحوظ رکھتے ہوئے انھیں ایمانی perspective (تناظر)سے دیکھیں گے۔ یعنی بخار کا جو فوری سبب ہے اس سبب کو مانیں گے، خراب معیشت کے جو فوری اسباب ہیں ان اسباب کو بھی نظر انداز نہیں کریں گے۔  لیکن خراب معیشت اور اچھی معیشت کے درمیان فرق اور حکم، ہم اپنے  ایمانی perspective (تناظر) کو بنائیں گے۔  ہم اپنے فائدے نقصان، عروج و زوال، ترقی و تنزل، سب کا فیصلہ اپنے ایمانی perspective (تناظر) سے کریں گے۔ اور انسان و دنیا کو ان کے فوری، واقعاتی اور تاریخی سیاق و سباق میں رکھتے ہوئے انھی  مستقل definitions (تعریفات) سے منسوب رکھیں گے، جو ہمارے دین نے بالکل، مطلق اور حتمی انداز کے ساتھ ابدی طور پر طے کر دیے ہیں۔ جن میں مداخلت کی یا جن میں غلط فہمی کی یا جنہیں minimalize (گھٹانے/محدود) کرنے کا ہر عمل گویا دین کا انکار ہوگا۔

 ایک تو یہ بات ہو گئی کہ اپنے ورلڈ ویو کو بحال کریں۔ دین نام ہےاس عینک کا، جو  اپنے اندر جھانکتے ہوئے یا اپنے باہر دیکھتے ہوئے کبھی نہیں اتارنی۔ ہماری ساری بینائی کا نظام، اس عینک کے تابع ہے۔کورونا وائرس سے پہلے جو ہے نا، میں نے تو نہیں دیکھا،  کسی عالم گیر وبا کا تجربہ نہیں تھا۔ ہمارے تناظر میں یہ وبا، قیامت کی یاددہانی ہو سکتی ہے یعنی ہم اپنا worldview(اندازِ جہاں بینی )  apply(اطلاق)  کریں اسے دیکھنے میں، تو یہ وبا قیامت کی یاددہانی ہو سکتی ہے۔  اس کے علاوہ انسانوں کے لئے ایک ابتدائی وارننگ ہو سکتی ہے کہ سنبھل جاؤ، سدھر جاؤ۔ اور ایسی آزمائش ہو سکتی ہے جس میں کامیابی اس سیارے پر انسانی بقا کیلئے ضروری  ہے۔  مطلب، کسی بھی پہلو سے ہم دیکھ لیں۔  یہ تینوں پہلو ہمارے ایمانی perspective (تناظر)سے نظر آئیں گے۔ تو گویا ایک کثیر الجہات علامت کی حیثیت رکھنے والی اس وبا کے بارے میں، یعنی کورونا وبا کے بارے میں ہمارا مؤقف کونیاتی  بھی ہے یعنی cosmological بھی ہے، وجودیاتی بھی ہے یعنی ontological  اور نفسیاتی  یعنی psychological بھی ہے۔ اور ہم پڑھ ہی چکے ہیں پہلے کہ فلسفہ انھی تینوں (جہات)  میں تھا پہلے۔ یعنی   ہمارا  مؤقف، ہمارا ایمانی مؤقف، ہمارا principle      perspective(بنیادی تناظر) کلی نوعیت کا ہے۔  اور اس میں ہونے کے تمام احوال اور جاننے اور جانے جا سکنے یعنی علم اور معلومیت کے سب  اطوار کا احاطہ ہو جاتا ہے۔  جو ہے، جو ہونا چاہیے،  جو نہیں ہے، جو جس طرح جانا گیا، جس طرح جانا جا سکتا ہے، یعنی گویا شعور اور وجود کی تمام ضرورتوں کی حتمی اور شافی تکمیل ہے اس مؤقف میں۔ تو یہ مؤقف جس worldview(اندازِ جہاں بینی)  پر قائم ہے۔ ۔۔worldview (اندازِ جہاں بینی)  کسے کہتے ہیں؟  بنیادی سوالات کا، ناقابل تغیر سوالات کا،  ناقابل تغیر جواب دینا۔ اسے کہتے ہیں worldview(اندازِ جہاں بینی)۔  ہمارا بھی worldview(اندازِ جہاں بینی ) ہے اور worldview(اندازِ جہاں بینی ) کی عام تعریف پر اس سے سب مانوس ہیں۔  جو بھی worldview(اندازِ جہاں بینی ) کا نام لیتے ہیں وہ اسے جانتے ہیں۔ تو ہمارا  ایمانی worldview(اندازِ جہاں بینی )  بھی اسی definition(تعریف) پر ہےکہ وہ بھی ان بنیادی سوالات کا جواب دیتا ہے۔یعنی وجود کیا ہے ؟اور اس کی غایت کیا ہے؟ علم کیا ہے ؟اور اس کا مقصد کیا ہے؟  آپ اس پہ اگر ثابت قدم ہو جائیں نا  کہ انھی دو سوالات میں زندگی بھی ہے، موت بھی ہے، وجود  بھی ہے، عدم بھی ہے۔  سب کچھ اسی میں آ گیا نا کہ وجود کیا ہے اور اس کا مقصد کیا ہے؟ اور علم کیا ہے اور اس کی غایت کیا ہے؟  یعنی وجود ہے، تو کیا ہے اور کس لئے ہے؟ علم کیا ہے اور کس لئے ہے؟  بس یہ پورا سوال ہے۔ تو ظاہر ہے کہ اگر وجود کسی غایت کے تابع ہے، تو علم بھی لازماً کسی مقصد کیلئے ہوگا۔ اس بات پہ غور کیجیے گا۔  یہ بات یاد رکھیے گا کہ اگر وجود کا کوئی مقصد ہے، توعلم کا بھی کوئی نہ کوئی مقصد ضرور ہو گا۔ کیونکہ علم تابع وجود ہوتا ہے۔

 تو اب اس کا جو اگلا نکتہ ہے وہ ہے کہ وجود کیا اور علم کیا ہے،   کا جواب عقل کے ذمے ہے اور ان دونوں کی غایت کیا ہے،  اس کا جواب وحی نے دیا ہےاور وحی ہی دے سکتی ہے۔ عقل اپنی ذمے داری پوری کرتی ہے، تو مختلف علوم پیدا ہوتے ہیں۔ یعنی کیا کے جواب میں  مختلف علوم پیدا ہوتے ہیں جو سب falsifiable (لائق خطا) بھی ہیں،  جو ٹھیک بھی ہو سکتے ہیں،  غلط بھی ہو سکتے ہیں۔   ٹھیک ہوں یا غلط ہوں، ان کی ایمانی افادیت برقرار رہتی ہے۔ اور وحی کا فراہم کیا ہوا جواب مان لیا جائے، تو بندگی کی نفسیاتی  اور تہذیبی تشکیل کرنے والے اخلاق بھی وجود میں آ جاتے ہیں۔ اب ہمارا مسئلہ یہ ہے، ہماری کوتاہی یہ ہے کہ علم واخلاق ہم دونوں میں پسماندہ ہیں، سچی بات یہ ہے۔ ہم دونوں میں پسماندہ ہیں  اور اس پسماندگی کا سبب ہی یہ ہے کہ دین    نہ ontological      perspective (وجودیاتی تناظر)رہا، نہ knowledge      perspective (علمی تناظر) رہا۔  کچھ بھی تو نہیں۔  کہاں مانا  وانا،  بس ایسے ہی۔ ہم بہرحال دونوں میں پسماندہ ہیں اور اس پسماندگی کو realize (جان) بھی کر لیں، تو اس سے نکلنے کے وسائل رکھتے ہیں، نہ صلاحیت۔ یعنی مان بھی لیں کہ ہم اللہ کے ساتھ سچے نہیں ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھی دھوکے بازی کر رہے ہیں۔ یعنی مان بھی لیں۔ چلو، مان لیا۔  کسی نے منوا لیا۔  لیکن یہ ماننا بھی ہمارا بالکل بے نتیجہ رہ جاتا ہے۔

بہت سے لوگ یہی کہتے ہیں،  مانتے ہیں۔  ہماری اکثریت مانتی ہے نا کہ ہم علم میں بھی کم تر ہیں اور اخلاق میں بھی اور اس کا سبب یہ ہے کہ ہم اللہ کے ساتھ سچے نہیں ہیں۔ آپ سروے کر لیجئے،ننانوے فیصد مسلمان اس بات کو ماننے والے ہوں گے، مطلب انھوں نے realize کر لیا ہے۔ لیکن یہrealization (واقفیت) ایک بانجھ realization (تفہیم) ہے ایک بے نتیجہ realization(سمجھ بوجھ) ہے۔ کیونکہ اس پسماندگی سے نکلنے کے نہ ہمارے پاس وسائل ہیں، نہ صلاحیت ہے، نہ جذبہ ہے۔   ایک عجیب طرح کے چکرمیں ہم پھنس گئے ہیں۔ کیونکہ ہم وہ چیز مان لیتے ہیں جس کو ماننے کا ہمیں کوئی دنیاوی نقصان نہ ہو یا بعض غیر اہم چیزوں کی طرح مان لیا کہ  ہم اللہ کے ساتھ سچے نہیں ہیں۔ غیر اہم سی چیز ہے۔ چلو، مان لیا۔ لیکن سچے نہیں ہیں، سے جو اس realization (تفہیم) سے زلزلہ پیدا ہونا چاہیے،  وہ تو  پیدا ہو گا ہی نہیں۔ کیونکہ سچے ہو جاؤ،  تو بھی کیا۔  نہ ہو، توبھی کیا۔  ہم رہتے اس فضاء میں ہیں۔  لاکھ مانتے رہیں۔ کیا ہوتا ہے۔

 اس میں جو  حاصل کلام  ہے کہ اس وبا کو جسمانی طور پر خطرہ مانتے  ہوئے، ایمانی طور پر اپنے ایمانی وجود کے لئے پیغامِ صحت بنا لو۔ آزمائش کا پورا فلسفہ ہی یہ ہے کہ آزمائش کی سختیوں میں رہتے ہوئے، وہ سختیاں جھیلتے ہوئے، اسے اپنی روحانی راحت اور سعادت کا یقینی ذریعہ بنا کے دکھاؤ۔ آزمائش اس لئے ہوتی ہے۔ آزمائش اس لئے تھوڑی ہوتی ہے کہ کڑوی ہے  تو میں کہوں میٹھی ہو۔ اس سے تھوڑی  آزمائش کا حق ادا  ہو گا، یا ڈائیلاگ بولنے سے تھوڑی آزمائش کا حق ادا ہو گا۔ آزمائش کا حق ادا جن بھی صورتوں میں ہوگا ان میں عاجزی اور خشیت الہیٰ مشترک ہوگی۔ ایک جھکا ہوا، اللہ سے ڈرا ہوا، بندہ ہی آزمائش سے سرخرو ہو سکتا ہے اور یہی بندہ  ہی ا للہ کی توفیق سے اس لائق ہوتا ہے کہ  وہ اس عارضی  تلخی کو دائمی شیرینی میں بدل دے۔  اب آپ سمجھواب ہماری زندگیوں میں باہر سے نازل ہونے والی عارضی تلخی کا یہ سب سے بڑا تجربہ ہے۔ تو اس سب سے بڑے تجربے کو اپنے لئے درکار سب سے بڑی مٹھاس کے حصول کا وسیلہ بنانا چاہئے یا نہیں۔  یہ ہمیں دیکھنا ہے۔  ایک اخلاقی تجدید تو ہو ہی جائے گی۔  اگر  ہم ذرہ بھر بھی اللہ کے ساتھ تعلق میں انتہائی غیر سنجیدگی کے ساتھ بھی مخلص ہیں،  تو ہم اس بات کو سمجھ سکتے ہیں، ایک واجب التسلیم حالت میں سمجھ سکتے ہیں کہ اس سے اخلاقی بہتری کے دروازے مجھ پر، کسی بار بار دستک کے بغیر، کھل گئے ہیں۔  اس میں یہ نعمت چھپی ہوئی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ دوسری جو اس میں افادیت اس میں built      in(خلقی) ہے وہ یہ ہے کہ ہم اس سے اپنے ذہن کو نمو پانے کا وہ موقع فراہم کر سکتے ہیں۔ اپنے ذہن کو حالتِ کمال کی طرف رجوع کرنے کی وہ طاقت فراہم کر سکتے ہیں جس کی وجہ سے ایمان اپنے basic      perspective(بنیادی تناظر) کے ساتھ اپنے مستقل perspective (تناظر) اور متحرک تفصیلات کے ساتھ ذہن کی تربیت اور پرورش کرتا ہے۔  ذہن کو اچھا بنا لو، طبیعت کو اچھا بنا لو۔ ارادے کو اللہ کی طرف یکسو کر لو، اعمال کو دنیا میں productive(زرخیز) ہونے کے ساتھ ساتھ اس کی productivity  (زرخیزی) کے دائرے کو آخرت  تک کھینچ کے لے جاؤ۔  یہ ممکن نہیں ہے،  ایمان سے  سیرابی کی حالت میں رہنے والے اور دنیا کے حقائق اور mechanics (میکانیات) پر ایک قادرانہ قدرت رکھنے والے ذہن کے بغیر۔   اس میں یہ پیغام چھپا ہوا ہے۔ دنیا کو تصرف میں لاؤ، اس وائرس کا علاج سوچ کر۔ اور آخرت کو تصرف میں لاؤ،  اس وائرس  سے پیدا ہونے والی گھبراہٹ میں تعلق باللہ سے حاصل شدہ  طمانیت کی قوت سے لڑ کر۔

تو آج،  بھئی  ہم نے مولانا روم کی اس نصیحت پر عمل کیا،  ذرا ٹھیٹ  لفظی انداز میں بھی   کہ

چند خوانی حکمتِ یونانیہ

حکمتِ ایمانیہ  را نیس خواں

یا

 حکمتِ ایمانیہ را حمد خواں

کب تک یونانی فلسفہ پڑھتے رہو گے، ایمان والوں کی حکمت بھی سیکھو۔

 میری بات مکمل ہو گئی، اب جوصاحب بھی کچھ فرمانا چاہیں، فرما لیں۔

٭٭٭٭٭٭٭

سوال:   سر(جناب)، یہ جو آپ نے بتایا ہے، یہ سارا Narrative(بیانیہ)  جو ہے، یہ مذہبی طبقوں کا ہے۔ میری ذاتی رائے ہے  کہ اسلام کا ذکر خصوصیت کے ساتھ نہیں ہے۔ کم ازکم، زمینی حقائق مجھے ایسے ہی نظر آتے ہیں۔

احمد جاوید صاحب:      ذرا دوبارہ کہیے گا۔ مجھے کچھ سنائی نہیں دیا۔

سوال : یہ جو narrative آپ نے ابھی بیان کیا ہے خواہشات اور خوابوں کی صورت میں، مفروضات اور امکانات کی صورت میں، یہ مذہب کا narrative(بیانیہ ) ہے۔   regardless (قطع نظر) کہ وہ اسلام ہو یا کوئی بھی اور مذہب ہو۔  مجھے  ایک ہندو بھی اتنے ہی  جوش کے ساتھ، اپنے عقائد کا تحفظ کرتا ہوا، ان  کا دفاع کرتا ہوا نظر آتا ہے جس طرح مسلمان کر رہے ہیں یا کوئی بھی اور مذہبی شخص کر رہا ہے۔ ایک تو یہ مذہبی  narrative  (بیانیہ) ہے۔  اب چونکہ، اس وقت یہاں (مذکورہ نشست) موجود ہیں،  ہم  سارے مذہبی ذہن رکھتے ہیں، اس لئے ہم نے  مذہبی  perspective (تناظر) میں ہی اپنی خواہشات کا  بھی اظہار کیا ہے اور چیزوں کو interpret  (تعبیر) کرنے کی کوشش بھی کی ہے۔   وجاہت مسعود صاحب جن کا آپ نے ذکر کیا، جو غیر مذہبیnarrative(بیانیے)  کی ایک نمائندہ figure (شخصیت) ہیں۔ کیا آپ کو ان کی تحریر میں، ان کی باتوں میں کوئی ایسے آثار، ایسی علامات نظر آ رہی ہیں جن کی آپ نے خواہش کی ہے؟ کیا  واقعی کوئی تبدیلی ہونے جا رہی ہے؟ 

احمد جاوید صاحب:      بھائی!  چونکہ میں نے صبح وہ کالم پڑھا ہے،  تو اس میں یہ جو دو باتیں میں نے   کہی ہیں یعنی طبقاتی کشاکش  ایک نیا روپ لے گی، یہ غالباً انھوں نے لکھا ہے۔ اور سرمایہ داری نظام کو نئے چیلنجز پیش آ سکتے ہیں،  یہ بھی غالباً اس کالم میں ہے، یہ جنگ اخبار میں چھپا ہے آج ہی۔

سوال:   سر، وہ میں یہی کہنا چاہ رہا تھا  کہ سرمایہ داری نظام کو چیلنج کرنا، یہ تو ظاہر ہے  وہ socialist      point-of-view(اشتراکی نقطہ نگاہ) سے بات کر رہے ہیں، کرنا چاہ رہے ہیں۔  ان تمام چیزوں کا اطلاق  شاید اس بات پر نہیں ہوتا کہ مذہبی revival (احیاء) کی کوئی امید نظر آ رہی ہے۔ یا مذہبی حوالے سے کسی قسم کےrevival  (احیاء) کی کوئی امید نظر آ رہی ہے۔

احمد جاوید صاحب: یہ امید، کس آدمی کو نظر نہیں آ رہی؟اگر وہ آدمی کہہ رہا ہے جو خود غیر مذہبی ہے، تو یہ بات  justified (جائز) ہے۔  ہر آدمی مسئلے کی نشان دہی کوئی positionلے کر کرتا ہے۔position  لئے بغیر نہ کسی مسئلے کی تشخیص کی جا سکتی ہے، نہ کوئی  retrospective      approach  (گزرے ہوئے واقعات  کے لئے تجزیاتی طریقہ کار ) اختیار کی جا سکتی ہے۔ اب وجاہت مسعود صاحب ہوں یا کوئی بھی ہوں۔  چلو، یہ چھوٹے نام ہیں۔ کارل مارکس ہو، ایرک فرام ہو، سینٹ آگسٹائن ہو، جو بھی ہو، وہ ایک holistic      perspective (کُلی تناظر) کا پابند ہے۔  اس holistic      perspective (کُلی تناظر) کا جو چیزوں کے تجزیے سے لے کر  چیزوں اور  معاملات کے نتائج تک کا احاطہ کرتا ہے۔ چونکہ انسانی ذہن  اپنی ساخت میں قیاس اور تصور اور خواہش کی قوت کا نام ہے، تو اب آدمی  چاہے مذہبی ہو یا غیر مذہبی ہو، وہ جو  retrospective      approach  (تجزیاتی طریقہ کار)اختیار کرتا ہے کہ کل یہ ہونا ہے، اس کے اندر falsifiability (لائق خطا) کے امکا نات یکساں ہو سکتے ہیں۔   یہ کہنا گویا اپنی حد سے، اپنے آدمی ہونے سے، تجاوز کرنا ہے کہ کل یہ ہو گا، کل یہ یقیناً ہوگا۔ یہ تو کوئی نہیں کہہ رہا ہے، چاہے وہ کسی بھی تناظر سے چیزوں کو دیکھ رہا ہو۔ لیکن ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ rate      of      probability (تناسبِ احتمال)، rational(عقلی) سطح پر، empirical (اختباری و تجرباتی) سطح پر، اور اعتقادی سطح پر کہاں زیادہ ہے۔  جہاں بھی  ratio of probability (تناسبِ احتمال) ہے، اس کو ہم کہہ رہے ہیں کہ اس کی دریافت، مذہبی perspective (تناظر) (کے ذریعے) سے زیادہ قوت اور زیادہ وسعت کے ساتھ ممکن ہے۔

سوال: جی سر،  میں اسی پوائنٹ پہ عرض کرنا چاہ رہا تھا کہ میرا یہ  خیال تھا، جومیں اپنے ارد گرد دیکھتا ہوں کہ یہ مجھے ابھی بھی مذہبی طبقہ وہیں کھڑا نظر آ رہا ہے جہاں کورونا سے پہلے تھا اور  کورونا کے بعد بھی، وہ غالباً وہیں کھڑا ہو گا۔ وجاہت مسعود صاحب یا ان کی قسم کے جتنے بھی لوگ ہیں ان کی جو بھی ایک holistic      approach (کُلی  طریقہ کار) ہے، اس میں اللہ پہلے بھی شامل نہیں تھے۔  اللہ اب بھی شامل نہیں ہوں گے۔ جہاں تک مسلمانوں کا اپنا حال ہے، تو وہ اخلاقی تنزل اس حد تک ہے ان میں کہ ان کے اپنے طبقات آپس میں  ایک مشترکworldview(اندازِ جہاں بینی)  نہیں رکھتے۔  اس لئے کسی قسم کی منظم جدوجہد،  یکسو یا  focused جدوجہد کے بھی آثار،  مجھے ممکن نظر نہیں آ رہے۔ مطلب اس ایک مہینے کا crisis (بحران) ہے  شایدیا تو پھر اس کی duration (مدت) بڑی کم ہے۔ تمام توبہ تسبیحات اور اس طرح کے جو بھی  یہ کچھ رسمیں کرتے ہیں ہم بحیثیت مسلمان، لیکن عملاً اخلاقی طور پر ہمارا اتنا ہی دیوالیہ نکلا ہوا ہے،  جتنا کورونا سے پہلے نکلا ہو ا تھا۔ اب اگر ایک مہینے کے بعد یا دو مہینے کے بعد یہ کورونا ختم بھی ہو جا،ئے تو ہم اتنے ہی متفرق ہیں جتنے کورونا سے پہلے تھے۔

جاوید صاحب: یہاں میرا اختلاف ہے۔  جب آدمی یہ کہتا ہے کہ فلاں نتیجہ ممکن ہے۔  اس کا مطلب یہ  نہیں ہوتا کہ آج میں بد اخلاق ہوں، کل خوش اخلاق ہو جاؤں گا۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ کچھ ایسے اسباب و محرکات میرے خارج میں بھی پیدا ہونے ممکن ہیں،    جو مجھے بد اخلاقی کی موجودہ دلدل میں  پورا غرق ہوجانے سے بچا لیں۔ تو امکانات انھیں کہتے ہیں۔  امکانات کی کچھ قسمیں ہیں،  تو کچھ اخلاقی امکانات  ہوتے ہیں۔  اس کے پیچھے یہ دعویٰ نہیں ہوتا  کہ آج جاوید جھوٹ بولتا ہے، کورونا گزر گیا تو یہ سچ بولنے لگے گا۔ لیکن یہ ہوتا ہے کہ جھوٹے جاوید کو یہ realize (سمجھ لینا) کرنا آسان ہو جاتا ہے کہ جھوٹ کی قباحت کیا ہے اور سچ کی افادیت کیا ہے۔  یعنی اسے ایک سمجھیں کہ basic      existential      wave      of      change (تبدیلی کی بنیادی وجودی لہر) میں آجانے  کا تجربہ،  اس کے ماحول سے فراہم ہو سکتا ہے۔  اب یہ اس کی مرضی ہے کہ وہ اس  سازگار ماحول سے اخلاقی یا علمی فائدہ اٹھاتا ہے یا نہیں۔ ہم نے کہیں بھی  یہ نہیں توقع باندھی کہ یہ سب نتائج عملاً نکل آئیں گے۔ ہم تو یہ کہہ رہے تھے کہ یہ سب نتائج پیدا ہونے کے امکانات  post-Corona (مابعد کورونا) دنیا میں بڑھ گئے ہیں۔

سوال:  سر، میں صرف اتنا عرض کروں گا کہ یہ امکانات جو تھے  مسلمانوں کی حد تک،   کورونا سے پہلے بھی بہت سی وجوہات  کی بنا پہ تھے۔ہم بڑی بری طرح پس رہے ہیں ہر لحاظ سے، جیسا کہ آپ نے کہا کہ ہم علم اور اخلاق دونوں سے ہی فارغ ہیں۔ اور جو ہم اس کیلئےconsequences (نتائج) بھگت رہے ہیں وہ  اپنی جگہ پر ہیں۔ تو یہ امکانات یا یہ realize (سمجھنے) کرنے کا چانس تو ہمارے پاس پہلے بھی تھا۔ اور کورونا کی وجہ سے ایک نئی جہت مل گئی ہے اسے۔ ہاں یہ کہا جا سکتا ہے کہ مغرب ۔۔۔۔

جاوید صاحب: نئی شدت اور نئی وسعت مل گئی ہے۔

سوال:  لیکن مغربی دنیا  کی حد تک کہا جا سکتا ہے کہ وہ پہلی دفعہ ہلے ہیں اس شدت سے۔ میرا مطلب ہے، ورلڈ وار (جنگِ عظیم )کے بعد۔

جاوید صاحب: مغربی دنیا ہم سے زیادہ ہلی ہے۔  دو جنگِ عظیم سے، ایک وبا سے، وہ جو جاپانی فلو ہے اس کے پھیلاؤ سے۔  وہ جتنے بڑے بڑے خطرات سے گزرے ہیں،  اتنا عالمِ اسلام نہیں گزرا۔  لیکن یہ  کہ انہوں نے ہر مصیبت کو اپنے انداز سے اپنے perspective (تناظر) سے  productive(کارآمد)  بنایا۔ پہلی جنگِ عظیم کے بعد سے انھوں نے  بلاک  بنانے کی کوشش کی۔ دوسری جنگِ عظیم  کے بعد سے انھوں نے racism (نسل پرستی ) کا خاتمہ کیا۔ اور جیسے فرد کی اہمیت اور فلاں ڈھماں،  جدیدیت کا طلوع  ہوا۔ تو کورونا کے بعد، کورونا دوسری جنگِ عظیم سے بڑی آفت ہے، چاہے اس میں ہلاکتیں اتنی نہ ہوں لیکن یہ بڑی آفت ہے۔ اس کا وہ، اپنے worldview (اندازِ جہاں بینی) سے وفادار رہنے کی وجہ سے، اپنے لئے کوئی مثبت نتیجہ نکال لیں گے۔ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہمارا worldview (اندازِ جہاں بینی ) ہمارے حافظے کا حصہ تو ہے،  لیکن وہ ہمارے لئے کوئی وجودی قوت نہیں بن پا رہا۔  میں جو سوچ رہا ہوں جسے آپ خواہش کا بھی نام دیں تو بجا ہے، وہ یہ کہ اپنا worldview(اندازِ جہاں بینی )  کے وجودی قوت اور شعور کے principle      perspective (مرکزی تناظر) میں ڈھل جانے کا امکان،  غالباً دو تین صدیوں میں پہلی دفعہ مسلمانوں کے ہاتھ لگا ہے۔

سوال : ابھی  جو آپ نے فرمایا ہے، اس سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ مغرب کے اندر  ایک خلا پیدا ہوا ہے کیونکہ اسباب کا نشہ ٹوٹا ہے وہاں پہ۔جب خلا پیدا ہوتا ہے تو اس کا مطلب ہے  کسی شے کو ٹھونسنے کی گنجائش  موجود ہے۔دوسری بات یہ ہے ہمارے ان کے درمیان ایک مشترک بات بھی آ گئی کہ ہمارا درد ایک ہے نا۔یعنی ایک ہی وبا، وہاں پر بھی ہے یہاں پر بھی ہے۔اس اشتراک کو ہم کس طرح سے استعمال کر سکتے ہیں اپنےworldview(اندازِ جہاں بینی)  کے اعتبار سے۔

جاوید صاحب: وہ تو میں نے عرض کیا نا ں کہ وحدتِ انسانی کا ایک    دینی آئیڈیل ہے،  اس کو نظر میں اور عمل میں رکھنے سے۔ لیکن ہمیں اس state      of      mind (ذہنی حالت) سے نکلنا چاہیے کہ ہم فوجدار بن کے سوچتے ہیں۔ مطلب، ہم انتہائی دست نگر، کشکول بردار ہونے کے باوجود، جو ہمارے کشکول کو بھر رہے ہیں ان کے آگے جیسے حاکمانہ رویہ اختیار کرتے ہیں اپنے خیالوں میں۔  اس mindset سے نکلنا چاہیے  اور اپنی اخلاقی اور علمی برتری کے جو معروف ذرائع ہیں وہ establish (قائم ) کرنے پہ توجہ دینی چاہیے اور اپنے اندر  تعلق مع اللہ کے فطری آداب کی خلاف ورزی کے نتیجے میں انسانوں کے ساتھ ضروری محبت  کے مادے میں جو کمزوری پیدا ہو گئی ہے۔ اس کمزوری کا فوری ازالہ کرنا چاہیے۔  پھر اس کے بعد خادمانہ انداز میں انسانیت کی ممکنہ نئی وحدت کی تشکیل میں اپنا دینی کردار ادا کرنا چاہیے۔

سوال: دو تین گزارشات تھیں۔   پہلی بات،  سر میں بالکل  آپ کی یہ والی بات سے متفق ہوں، کیونکہ کچھ روز پہلے میری اپنے وہاں کے دوستوں سے بات ہوئی تھی جرمنی کے، اور ایک نے مجھے بتایا کہ ان کے گھر کے سامنے ایک فیملی رہتی ہے جو کہ بوڑھے حضرات تھے۔ وہ سالوں سے وہاں ساتھ رہ رہے تھےلیکن یہ پہلا موقع تھا کہ انہوں نے ان کو offer کی کہ آپ لوگ  باہر نہیں نکلیں گے ہم آپ کیلئے سودا سلف لا کے دیں گے۔اب یہ ان کیلئے نیا experience (تجربہ )تھا۔ کہنے کو وہ ہمسائے تھے لیکن اجنبی تھے۔ مطلب solidarity (وحدت) کی نئی form (صورت) ضرور وہاں emerge (نمودار) ہوئی ہے۔  میرا سوال  یہ ہے کہ کیا یہ چیز، آپ نے جن بھی، جو changes  (تبدیلیاں) وہاں آئیں گی جن کا آپ نے ذکر کیا، ’’انسان کیا ہے‘‘، کیا یہ ماحول انسانی ذہن کو اس چیز پر مجبور کرے گا کہ وہ اس سوال پر بھی غور کرے۔

احمد جاوید صاحب: میرے خیال میں پہلا جو paradigm  شفٹ ہو گا وہ اسی سوال کے دباؤ سے ہو گا کہ انسان آخر ہے کیا۔ ہم آج تک انسان کو misread (غلط پڑھنا) کرتے رہے۔  ہم آج تک انسان کو dehumanize (غیرانسانی) کرتے رہے۔ یہ بہت صحیح نکتہ آپ نے نکالا ہے کہ یہ سوال بہت زیادہ بنیادی اہمیت کے ساتھ ساری دنیا میں زلزلہ پیدا کر سکتا ہےکہ انسان کیا ہے۔

سوال:         سر،  اجازت ہو تو مولانا کا ایک شعر عرض کروں۔

 نہ دام ایست نہ زنجیر ہمہ بسہ چرا یم

چہ بند است چہ زنجیر کہ برپا است خدایا

احمد جاوید صاحب:          واہ، کیا کہنے۔ مولانا کی کیا ہی بات ہے۔ واہ۔

ماخذ: Youtube.com

Recommended Posts
Comments
  • عثمان سہیل
    جواب دیں

    This is though provoking and encouraging to rethink our lives

Leave a Comment

Jaeza

We're not around right now. But you can send us an email and we'll get back to you, asap.

Start typing and press Enter to search