ایک نظریۂ علم کی طرف پیشرفت۔ محمد دین جوہر

یہ دنیا چار ذرائع سے ’قابلِ فہم‘ ہے: (۱) بدیہات؛ (۲) تجربہ؛ (۳) نظر/تھیوری؛ اور (۴) وحی۔ جدیدیت نے پہلے تین ذرائع کو استعمال میں لاتے ہوئے اس دنیا کو اپنے لیے قابل فہم بنایا اور اس فہم پر عمل کو استوار کر کے پرانی دنیا کی جگہ ایک نئی دنیا کھڑی کر دی ہے۔  امحائے نظر (erasure               of               theory) کے بعد، ہم عصر مسلمان بھی دنیا کو تین ہی ذرائع سے اپنے لیے قابل فہم بناتے ہیں۔ اس طریقۂ کار سے مسلمانوں کی فہمِ دنیا اور جدیدیت کی فہمِ دنیا میں عینیت پیدا ہو گئی ہے، اور مسلم دنیا اپنے پورے طبعی اور تہذیبی وسائل کے ساتھ جدیدیت کا خام مال ہے۔ مسلمانوں کے ہاں امکانِ علم مخدوش ہونے سے یہ عینیت روزافزوں گہری ہوتی جا رہی ہے۔ نظر/تھیوری وجودِ شہودی کی مضمر نسبتوں کو عقلی مدلولات بنا کر علم میں داخل کر دیتی ہے اور اسے توہم نہیں بننے دیتی۔ نظری علوم چونکہ دنیا میں انسانی معاشرے کی بقا سے براہ راست متعلق ہیں، اس لیے ان سے غفلت معاشروں کی تہذیبی بقا پر بھی لازماً اثرانداز ہوتی ہے۔ امحائے نظر کی وجہ سے مسلمانوں کے ہاں ’توہم‘ کا غلبہ مکمل ہو چکا ہے اور جعلی علوم کے طومار ہماری تہذیبی ہلاکت کا پورا سامان کیے ہوئے ہیں۔ وجودِ شہودی کی مضمر نسبتوں کو مستدل کرنے کے ساتھ ساتھ نظر (theory) کی سرگرمی اگر کسی تہذیب کے حقائق پر اساس رکھتی ہو تو اسے نظریۂ علم کہا جاتا ہے۔ نظریۂ علم دنیا کے ساتھ ساتھ حقائق اور خود وظائفِ شعور کو  ’قابل فہم‘ اور ’بامعنی‘ بنانے کی ایک ارادی اور مربوط سرگرمی کا نام ہے۔

ہماری موجودہ صورت حال کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمارے پاس جوابوں کی کثرت ہے جو ہم نے دنیا کی ثقافتی مارکیٹوں میں علمی شاپنگ کرتے ہوئے خریدے ہیں، یا لوٹ سیل سے اٹھائے ہیں، اور انہیں شاپروں میں باندھ کے گھر میں ڈھیر لگا رکھا ہے۔ یہ صورتِ حال اس وقت پیدا ہوتی ہے جب یہ فراموش کر دیا جائے کہ ہر تہذیب کے اساسی حقائق مستقل ہوتے ہیں، اور سوالات عین اسی اساس کی تلاش میں سرگرداں راہگیروں کی طرح ہوتے ہیں۔ ہر تہذیب کا شعور اور اس کا زائیدہ علم سوالوں کو لاوارث نہیں چھوڑ سکتا اور بدلتے ہوئے تاریخی حالات میں سوالوں کو بنیادِ تہذیب سے متعلق رکھنے کا وظیفہ سرانجام دیتا ہے۔ پھر یہ سوال اور ان کے جوابات خانہ زاد اور ایجاد بندہ نہیں ہوتے۔ ان سے معاملہ فضائے عامہ (public               sphere) میں نمٹایا جاتا ہے۔ تہذیبی سوالات داخلیت کے ڈربے میں برائلروں کی طرح نہیں پالے جا سکتے، جو اس وقت ہماری منہج علمی ہے۔

ہر اہم اور ضروری سوال کو کئی طرح سے اڈریس کیا جا سکتا ہے، لیکن ان میں ہر ’طرح‘ کی حیثیت ایک پینترے کی ہی رہتی ہے اور پینترے بدلنے سے وجودی اور تہذیبی مسائل حل نہیں ہوتے۔ جدید عہد میں ہمارے تمام سوالوں کی نامرادی اس لیے ہے کہ ان کے جوابات کسی بنیادی اور بڑے تناظر سے جڑے ہوئے نہیں ہیں، ایک ایسا تناظر جو مسلم نظریۂ علم سے فراہم ہوا ہو۔ ہمارے سوالوں جوابوں کی چھوٹی چھوٹی ندیاں مل کر کوئی دریا نہیں بن پاتیں اور بہت جلد تہذیب حاضر کے ریگزار میں گم ہو جاتی ہیں۔ اس لیے میں زیربحث سوال کا کوئی براہِ راست جواب عرض نہیں کرنا چاہوں گا۔ اس سوال کو ایک تفصیلی فکری تناظر دے کر قابل فہم بنانے کے لیے جو وقت اور وسائل درکار ہیں، وہ بھی فی الوقت مجھے حاصل نہیں ہیں۔ یہ ضرور ہو سکتا ہے کہ اس سوال کے جواب کو ایک خاکے (outline) کی صورت میں لکھ دوں اور موقع بہ موقع مشمولہ نکات کی ضروری تفصیلات عرض کرتا رہوں۔ نئے فکری اور علمی وسائل کی دستیابی کے لیے  آج ہم قلبِ تہذیب سے پھوٹنے والی ایسی حیات آفریں جوئبار کے سراغ کو نکلیں گے جس میں خونِ دل اور خونِ جگر کی ملونی ہو، اور جو بنجر ہوتی ہوئی ہماری کشتِ ذہن و وجود کو سیراب کر دے۔ منزل معلوم ہے، مسافت طویل ہے، راستہ تیشۂ عزم کو پکارتا ہے، خرجینِ وجود زادِ معاد کا توشہ دان ہے، اور غنیم گھات میں ہے۔ تہذیبوں کے لیے ہر کام کے حالات یہی ہوتے ہیں۔

گزارش ہے کہ جدید دنیا اپنے ظہور کے تین سو سال بعد بھی، مسلم مذہبی شعور کے لیے اپنی کسی بھی جہت میں قابل فہم نہیں ہے اور جدید دنیا جس شعور اور جس علم سے پیدا ہوئی ہے وہ بھی مسلم مذہبی شعور کی رسائی سے کلیتاً خارج ہے۔ اگر جدید دنیا کے بارے میں What               is کا سوال اٹھایا جائے تو مسلم ذہن اس کی اجمالی اور تفصیلی تفہیم سامنے لانےکی استعداد نہیں رکھتا۔ جدیدیت تصور سے آگے ایک صورتحال اور ایک واقعیت کو بھی شامل ہے جو بالکل نئی ہے۔ مسلم معاشروں میں جدید دنیا کی جو تفہیم پائی جاتی ہے وہ مکمل طور پر جدیدیت ہی کی شرائط پر سامنے آئی ہے، اور اس کا بھی کوئی ایسا فکری تناظر موجود نہیں ہے جسے دینی کہا جا سکے یا جو دین کی بنیادی اقدار سے ہم آہنگ ہو۔ کانٹے کی موجودہ صورتحال میں مسلم مذہبی شعور مکمل تعطل کا شکار ہے، اور جدیدیت اور روایت کی کسی بھی بامعنی تناظر میں تفہیم سے قطعی محروم ہے۔ اس حوالے سے بنیادی ترین کام جو ہمیں درپیش ہے، وہ ایسے علم کی بازیافت ہے جس کے ذریعے ہم بطور مسلمان جدید دنیا کو اپنے تہذیبی تناظر میں، اور اس سے دستکش ہوئے بغیر، دیکھ سکیں۔ مسلم تہذیبی عمل کی صورتحال اس سے کہیں مخدوش ہے۔ اعمال صالحہ کا ظرف یہ دنیا ہے جو معاشرہ، تاریخ اور نیچر کے مجموعے کا نام ہے۔ اور مسلم عمل جن مظاہرِ تاریخ میں سامنے آ رہا ہے ان کی نگوں ساری ہمارے ذہن سے تساوی لیے ہوئے ہے۔

میں اپنی گزارش کا آغاز اپنے ایک شائع شدہ مضمون سے مقتبس پیراگراف سے کرنا چاہوں گا:

”اپنے دینی تناظر میں رہتے ہوئے ایک بدیہی بات عرض کرنا ضروری ہے۔ ہبوطِ آدم ماورا سے دنیائے فطرت میں تھا، جہاں مادی، حیاتیاتی اور تقدیری عوامل کا انسانی تجربہ، انسان اور ارض و کائنات کے خودمکتفی ہونے کی مسلسل نفی سے عبارت، اور اس کے مخلوق ہونے پر طاقتور گواہی دیتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ دنیائے فطرت سے ماورا کی طرف کھلنے والی کھڑکیاں کبھی پورے طور پر بند نہیں کی جا سکی تھیں۔ جدیدیت آدم کا ہبوطِ ثانی ہے، فطرت سے ایک جزو فطرت، یعنی مادے کی طرف۔ انسان کا ہبوط ثانی بطونِ مادہ میں ہے۔ یہاں ماورا تو دور کی بات ہے، دنیائے فطرت کی طرف کھلنے والے تمام روزن بھی تیزی سے بند ہو رہے ہیں۔ یہاں فطرت کے زمان و مکاں کی جگہ جدیدیت کے زمان و مکاں کا لشکر اتر آیا ہے۔ فطرت کا زماں جدیدیت کے علم کی دبیز پرچھائیوں میں بدل چکا ہے، اور جدیدیت کا مکاں، ٹیکنالوجی کے گھڑیالی جبڑوں کی گرفت میں ہے۔ بطونِ مادہ میں ہبوطِ انسان کی وجہ سے زمان و مکاں کے آر پار دیکھنا اب آسان نہیں۔ فطرت کے زمان و مکاں جدیدیت بہت پیچھے چھوڑ چکی ہے۔“

بنیادی ترین نکتہ جو بطور مسلمان ہمیں سمجھنے کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ جب تک ہم مغرب کی علمی تعیین کا کام اپنے تناظر میں رہتے ہوئے سرانجام نہیں دے پاتے ہم اپنی تہذیبی بقا کا  سفر آغاز نہیں کر سکتے۔ ”مغرب کیا ہے؟“ کے سارے جوابات ہم نے مغرب سے ہی اٹھائے ہیں، اور ان پر ٹیگ کاری کرتے ہوئے ”اسلامی“ اور ”غیراسلامی“ جیسے قیمتی تصورات کو بھی فنا کرتے چلے جا رہے ہیں۔ ہمارے ہاں ”اسلامی“ اور ”غیراسلامی“ ایک منہج علم کے طور پر قائم ہے لیکن خود ان تصورات کے معنوی محتویات کا کوئی جائزہ نہیں لیا گیا اور وہ مکمل طور پر مجہول ہیں۔ مسلم ذہن ’اسلامی‘ اور ’غیراسلامی‘ کے ہدایتی اور علمی محتویات سے بےخبر ذہن ہے۔ وہ جدید دنیا کے واقعاتی دباؤ میں یہ الفاظ ایسے بولتا ہے جیسے کوئی نیند میں بڑبڑاتا ہو۔ مسلم ذہن کو تطبیق کی ڈفلی ہاتھ لگ گئی ہے اور جس کے ساتھ یہی دو دانے بندھے ہوئے ہیں، اور وہ انہیں تھوڑی تھوڑی دیر بعد زور سے بجاتا اور علم پیدا کرتا ہے۔ مسلم ذہن اب ایسے کسی نظریۂ علم کو قبول کرنے کی استعداد نہیں رکھتا جو اسلام پر بطور دینِ حق دلالت کرتا ہو۔ اب ہمارے ہاں نظریۂ علم سے مراد ایسی فکر ہے جو مغرب کو ’اسلامی‘ ثابت کر دے۔

گزارش ہے کہ ’اسلامی‘ اور ’غیراسلامی‘ کا تطبیقی طریقۂ کار اصلاً  ’اسلامی‘ اور ’مسلم‘ میں گہری اور ہماری خودپیدا کردہ ثنویت کو ’علمی‘ اصول بنانے سے اخذ کیا گیا ہے۔ ثنویت چونکہ مغرب کا اول اصولِ تہذیب ہے اس لیے یہ ممکن نہیں تھا کہ تہذیبی نکبت میں وہ ہمارے ہاں بھی جاری نہ ہو۔ ’اسلامی‘  اور ’مسلم‘ میں نام نہاد علمی امتیازات مغربی  ثنویت کا شرمناک ترین مذہبی چربہ ہیں، اور ہمارے تمام متداول علوم اور مذہبی تعبیرات کی بنیاد ہیں۔ ہمارے یہاں ’اسلامی‘ سے مراد عموماً مذہبی شعور اور اس کا پیدا کردہ علم ہے، اور ’مسلم‘ سے مراد تاریخ اور مسلم معاشرے کا اجتماعی تاریخی اور سماجی عمل اور ان کے واقعی حالات ہیں۔ متداول تناظر میں ’اسلامی‘ سے مراد شعور ہے، اور ’مسلم‘ سے مراد وجود ہے، اور تہذیب مغرب کی طرح شعور و وجود کی ثنویت ہم عصر ’اسلامی‘ علوم کے قلب میں قائم ہے۔  اس طریقۂ کار کا اگلا مرحلہ ’اسلامی‘ (شعور) کو ’مسلم‘ (وجود) سے منفک کر کے اسے ایک فعال اصولِ علم کے طور پوری اسلامی تہذیب کی تاریخ اور حاصلات پر کامیابی سے مسلط کرنے کا ہے اور جو اس وقت ہمارے سامنے برگ و بار لا رہا ہے۔ ثنویت کا راستہ بھی ایک مذہبی عالم ہی کا دکھایا ہوا ہے اور جسے اہلِ مذہب میں بالعموم قبولیت حاصل ہوئی ہے۔ بیسویں صدی کے آغاز میں وہ جلوۂ افرنگ کے روبرو فرماتے ہیں کہ ”یورپ میں اسلام ہے مسلمان نہیں ہیں، اور ہمارے ہاں مسلمان ہیں اسلام نہیں ہے۔“ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ہم کس قدر گہرے تہذیبی بحران کا شکار ہیں، اور اس طرح کے ’اسلامی‘ تصورات سے جو مسلم مذہبی کردار اور ذہن تشکیل دیا جا رہا ہے وہ جدیدیت کے بدترین اجزا کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ ہمارا مسئلہ ہمارے تصور سے زیادہ گھمبیر اور سنگین ہے۔

مسلم ذہن کے ہم عصر تہذیبی مظاہر قابلِ ذکر بھی نہیں ہیں، اور اسی باعث تہذیبِ مغرب پر ہماری کوئی علمی ججمنٹ بھی سامنے نہیں ہے۔ ہدایت کے تناظر میں مغرب پر ججمنٹ صراحت کے ساتھ قابل رسائی ہے، اور وہ یہ ہے کہ مغرب اپنے جز اور کل میں باطل ہے اور وہ اپنے پورے تہذیبی مظہر میں اسی باطل کی تفصیل ہے۔ یہ امرِ عام ہے، بدیہی معلوم ہے اور اسی باعث فی الوقت ہمارا موضوع نہیں ہے۔ ہمارا موضوع یہ ہے کہ کیا تہذیبِ مغرب کی تعیین و تنقید کسی ایسے علمی تناظر میں بھی ممکن ہے جو اپنی اساس میں ردِ مذہب پر قائم نہ ہو؟ اور ہدایتی غایات کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہو؟ ذیل کی نکتہ وار گزارشات اسی ضمن میں کی جا رہی ہیں۔ یہ نکات باہم متعلق ہیں لیکن اس میں کچھ شک نہیں کہ افراتفری کی وجہ سے بہت سی ضروری تفصیلات تحریر میں شامل نہیں کی جا سکیں۔

(۱) عالمِ شہود میں شعور و وجود کی ثنویت خلقی ہے، اور اس کو اصولِ حقیقت اور اصولِ علم مان لینا مغربی تہذیب کا امتیازی وصف ہے، اور یہ دونوں مواقف مغرب کے علوم و فنون میں جاری و ساری ہیں۔ شعور و وجود کی ثنویت اس وقت قائم ہو جاتی ہے جب انسانی شعور ایسے علم تک رسائی نہ پا سکے یا اس سے محروم ہو جائے جو ان کے یک اصل ہونے پر دلالت کرتا ہو۔ ”وجود کیا ہے؟“ کا سوال مظہرِ وجود اور حقیقتِ وجود دونوں پر بالامتیاز، بیک آن اور بلاتفریق وارد ہے۔ ثنویت کو انسانی شعور میں اصولِ حقیقت اور اصولِ علم کے طور پر قائم کرنا صرف اس صورت میں ممکن ہے جب عقلِ انسانی ”وجود کیا ہے؟“ کے سوال میں بنیادی ردوبدل کر کے حقیقتِ وجود کا سوال خارج کر دے۔ حقیقتِ وجود کا سوال خارج ہوتے ہی شعور اور وجود کا سوال صرف ثنویت ہی میں باقی رہ سکتا ہے۔ وجود، شعور میں اپنی توسیط علم اور اقدار کے ذریعے سے کرتا ہے اور حقیقتِ وجود کا سوال شعور کی قلمرو سے خارج ہوتے ہی اقدار کا سوال بھی خارج ہو جاتا ہے۔ سادہ لفظوں میں ثنویت علم اور اقدار کی حتمی ثنویت بھی ہے۔

(۲) وجودی اور علمی مسائل پر پوزیشن لیتے ہوئے ڈیکارٹ نے ثنویت کو مغربی تہذیب کے اصول اول کے طور پر قائم کیا اور حقیقتِ وجود کا سوال ختم ہونے کے بعد اس سوال کی جو نوعیت ہو سکتی تھی اسے اپنے مشہور قول میں درست طور پر بیان کر دیا۔ ڈیکارٹ کا اصل کارنامہ یہ ہے کہ اس نے شعور اور وجود کی بالکل نئی نسبتوں کو مغربی شعور میں قائم کر دیا اور اس کا بنیادی  موقف انہی نسبتوں کا اظہار ہے کہ وجود، شعور کے تابع ہے۔ اس کے نظامِ افکار میں ’ہونا‘ ’سوچنے‘ کے تابع ہے۔ مسئلۂ وجود سے بتدریج دور ہٹتی مغربی علمی روایت میں ڈیکارٹ کا یہ موقف ایک بڑے موڑ کی حیثیت رکھتا ہے، اور مغرب کے آئندہ سفر کا سرنامہ ہے۔ اس موقف کا نتیجہ ’علم‘ کو انسانی شعور میں مرکزیت دینے کی صورت میں سامنے آیا، اور وجود کا سوال اپنی کل معنویت میں افقِ شعور سے پیچھے ہٹنے لگا۔

(۳) تحریک تنویر یا منصوبۂ تنویر (The               Enlightenment               Project) اپنے پرشکوہ دعاوی میں   ڈیکارٹ کے موقف کا فطری اور اگلا مرحلہ ہے۔ تحریک تنویر میں ڈیکارٹ کا موقف اپنے لازمی اجزا سمیت ایک منصوبے کی شکل میں اظہار پا لیتا ہے۔ یاد رہے کہ تحریک تنویر کسی تہذیبی خلا میں ظاہر نہیں ہوئی تھی کیونکہ نشاۃ الثانیہ کی اَنسیت (Renaissance               Humanism               ) کا بنیادی موقف کہ ”انسان اپنی ذات میں قدرِ کل ہے (Man               is               the               measure               of               all               things)“ ایک بڑے تہذیبی پس منظر کے طور پر پہلے سے موجود چلا آتا تھا۔ 

(۴) ڈیکارٹ کا یہ موقف کہ وجود سوچ/فکر/شعور کے تابع ہے، اپنی طے کردہ شرائط پر انسانی شعور کی مطلق اولیت کا موقف ہے، جس میں وجود کی حیثیت متضمن کی ہے۔ یہاں دو مواقف کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔ کلامی روایت میں شعور و وجود کی یکجائی شرائطِ وجود پر ہے، اور ڈیکارٹ کا موقف بھی اصلاً یکجائی کا ہے جو شرائطِ شعور پر ہے۔

(۵) کانٹ سفرِ ثنویت کا لازمی اگلا مرحلہ ہے۔ کانٹ نے مبدائے فکر یعنی انسانی شعور کی مکمل خریطہ سازی (mapping) کی کامیاب کوشش کی ہے۔ انسان کے خود مختار ہونے کا موقف جو مغرب کی تہذیبی فضا میں نشاۃ الثانیہ سے ایک لکیر کے طور پر چلا آتا تھا، اور جو ڈیکارٹ میں ایک ندی بن جاتا ہے، وہ تحریک تنویر میں مغربی تہذیب کے مرکزی دھارے کی صورت اختیار کر کے اپنے امکانات کو تیزی سے سامنے لانا شروع کرتا ہے۔ انسان کے قدرِ کل ہونے کا موقف عقل کے خودمختار اور خودمکتفی ہونے کی صورت میں محکم ہو جاتا ہے، اور ’علم‘ کے ممکنہ دیگر ذرائع کو منقطع الامکان قرار دے دیا جاتا ہے۔ کانٹ نے مسئلۂ وجود کو کائناتِ شعور سے یک قلم خارج کر دیا اور وہ ایک بدیہی نامعلوم کی حیثیت سے افق شعور پر بھی موجود نہیں رہا۔ انسانی شعور کی گہری فکری کھدائی سے کانٹ کا مقصد انفس میں علم کی تلاشِ اساس ہے، اور a               priori کی صورت میں کانٹ شعور کے مادۂ علم کو ’دریافت‘ کر لیتا ہے۔ ڈیکارٹ اگر وجود کو شعور کے تابع رکھتا ہے تو کانٹ کی فلسفیانہ فکر کا لازمی نتیجہ علم کو انسانی شعور کا وصفِ ذاتی/ خلقی وصف (property) قرار دینے کی طرف پیشرفت ہے۔ کانٹ کے ہاں عقل کی محضیت خود نگر و خود آشکار ہے، اور جدیدیت کی شہرپناہ۔ اپنے دعوے کے بموجب جدیدیت بھی خود زا و خود نگر اور خود آشکار ہے۔

(۶) انسان کے قدرِ کل ہونے کی تہذیبی فضا تحریک تنویر میں برگ و بار لاتی ہے۔ جدید عقلِ انسانی ایک ایسے منبع علم کے طور پر خود کو مغربی تہذیب کے مرکز میں استوار کر لیتی ہے، جو خود مختار و خود مکتفی ہے۔ عقل کے خودمختار و خودمکتفی ہونے کی تقدیر پر ایک نتیجہ اس کو مستلزم لیکن محذوف ہے کہ علم ایسی عقل کا وصفِ ذاتی/ وصفِ خلقی (property) ہے، ورنہ اس کے مختار و خود مکتفی ہونے کا کوئی معنی نہیں، اور یہ قضیہ ہی لغو ہے۔ یہ مغربی تہذیب میں بہت بڑی پیشرفت ہے کہ وجود، حاملِ فکر شعور کے تابع ہے اور علم ایسے شعور کا وصفِ ذاتی ہے۔ کانٹ انسانی شعور میں مادۂ علم کو ’دریافت‘ کر کے کارٹیسی ثنویت کو تفصیل دے کر اس کے منطقی انجام تک پہنچا دیتا ہے۔ علم کو انسانی شعور کا وصفِ ذاتی (property) مان لینا شعور و وجود کی نئی نسبتوں کے تعین میں ایک بہت بڑی پیشرفت ہے۔

(۷) یورپی نشاۃ الثانیہ کی انسیت (humanism) سے شروع ہونے والا موقف کہ ”انسان قدرِ کل ہے“ تحریکِ تنویر تک آتے آتے جدید انسانی شعور میں اپنی پہلی مضبوط بنیاد کو مکمل کر لیتا ہے۔ یہ مضبوط بنیاد ایک ایسی خود مختار و خودمکتفی عقل کی استواری ہے جس کو علم ایک وصفِ ذاتی (property) کے طور پر لازم ہے۔ سادہ لفظوں میں یہ شعور میں ’قدرتِ‘ علم کی دریافت ہے۔ عقل کا خود مختار و خودمکتفی ہونا مطلق آزادی (absolute               freedom) کے ہم معنی ہے۔ آزادی ’قدرت‘ کے بغیر لایعنی تصور ہے، اور جدید شعور میں اس کا عقل کے فطری وظیفۂ علم سے متعلق ہونا وجوبی ہے۔ جدید شعور میں قدرتِ علم کے استقرار کے ساتھ ہی اس قدرت کا ارادے کی طرف منعطف ہونا بھی لابدی ہے۔ یہ مغرب کے دوسرے تہذیبی اصول کی طرف پیش رفت ہے، اور وہ ہے حریت۔ جدید مغربی انسان میں حریت، شعورِ شعور سے پیدا نہیں ہوتی بلکہ انسانی شعور میں قدرتِ علم کی ’دریافت‘ سے براہ راست متعلق ہے اور اسی پر اساس رکھتی ہے۔ شعورِ شعور ایک ایسی خود آگہی ہے جو ارادے سے متعلق ہونے کا کوئی امکان نہیں رکھتی۔ مغربی تہذیب میں حریتِ انسانی کی اساس یہ ہے کہ انسانی شعور صرف اپنے داخلی وسائل سے علم پیدا کرنے پر ’قادر‘ ہے اور یہ قدرت ارادے میں بھی ’قابل انتقال‘ ہے۔

 (۸) تحریکِ تنویر میں مغربی انسان قدرتِ علم اور اساسِ حریت کو انسانی شعور کی گہرائیوں میں ’دریافت‘ کر کے اپنے علم اور عمل کی تقویم مکمل کر لیتا ہے اور جو علیٰ حالہٖ آج تک قائم ہے۔ آزادی (freedom) وصفِ شعور ہے جبکہ حریت (liberty) وصفِ عمل ہے۔ آزادی اور حریت کے مغربی تصورات خود مختار و خودمکتفی شعور میں یک اصل ہیں۔ جدید انسان کی sovereignty (کلی حاکمیت) اور autonomy (خودمختاری)، نشاۃ الثانیہ کے اس موقف کی صراحتی تشکیل ہی ہے کہ ”انسان قدرِ کل ہے“۔ جس طرح سے آزادی جدید مغربی شعور کی تقویم ہے، بعینہٖ حریت جدید انسانی عمل کی ہے۔ مغربی انسان کا عمل شعور میں حریت کی اساس پاتے ہی تاریخ اور نیچر میں مؤثر ہو جاتا ہے۔

(۹) علم ملاحظۂ وجود ہے اور عمل علاقۂ وجود ہے۔ انسانی شعور کو وجود سے مفر نہیں۔ علم کو انسانی شعور کا وصفِ خلقی/ وصفِ ذاتی (property) مان لینے سے یہ مراد نہیں کہ وہ مسئلۂ وجود سے مُکت ہونے پر فائز المرام ہو گیا ہے۔ اس سے صرف یہ مراد ہے کہ شعور و وجود کے فطری تعلق کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ عالمِ شہود میں علم، وجود کے تابع ہے، اور عالم غیب میں وجود، علم کے تابع ہے۔ مغربی شعور اس نسبت کو منقلب کر دیتا ہے اور عالم شہود میں وجود کو علم کے تابع کر دیتا ہے۔ مذہبی نکتۂ نظر سے یہ شہودی سلسلۂ وجود اور تاریخی روایت شعور کی مکمل ترین کرپشن اور انکار و بغاوت کی منتہیانہ تشکیل ہے۔

(۱۰) کچھ ناگزیر تکرار کرتے ہوئے عرض ہے کہ اگر انسانیِ شعور یا عقل انسانی خود مختار و خود مکتفی ہے تو قدرتِ علم وجوب کے طور پر ہو گی اور علم کا اس کو صفتِ ذاتی ہونا مستلزم ہو گا۔ ڈیکارٹ نے وجود کو شعور کے تابع قرار دیتے ہوئے ایک اساسی نسبت متعین کی ہے۔ تحریک تنویر میں دوسری نسبت بھی متعین ہوئی۔ اگر وجود، شعور کے تابع ہو، شعور قدرتِ علم کا حامل ہو، اور علم اس کا وصفِ ذاتی (property) ہو تو دوسرے مرحلے میں یعنی شعور کی اولین حرکت میں ایجادِ وجود ایسے شعور کو مستلزم ہو گی۔ ایجادِ وجود کی طرف جدید انسان کی پہلی حرکت اساسِ حریت کو شعور کی قدرتِ علم میں قائم کر لینے کے نتیجے میں واقع ہوتی ہے۔ عمل قدرت ہے، علاقۂ وجود ہے،  اور وجود میں نتیجہ خیز ہے۔

(۱۱) جیسا کہ عرض کیا کہ خودمختار و خودمکتفی انسانی شعور کو قدرتِ علم مستلزم ہے، ورنہ اس کا خودمختار و خودمکتفی ہونا لغو ہو گا۔ اور قدرتِ علم کا لزوم لغو ہے اگر علم ایسے شعور کی صفتِ ذاتی (property) نہ ہو۔ اور جب علم کو ایسے شعور کی صفت ذاتی/ وصفِ خلقی/ وصف ذاتی (property) مان لیا جائے تو ایجادِ وجود اس کو مستلزم ہے۔ میری ناچیز رائے میں یہ مغربی شعور کا مکمل بیان ہے اور یہ انکار و بغاوت سے بہت آگے کی چیز ہے۔

(۱۲) لیکن مغربی شعور ان انفسی احوال پر قائم ہوتے ہی ایک نہایت گہرے مسئلے سے دوچار ہو جاتا ہے۔ ایجادِ وجود صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب قدرتِ علم کی طرح قدرتِ عمل بھی شعور کو لازم ہو، اور انسانی شعور کا وصفِ ذاتی ہو، یعنی لفظ صرف علم نہ ہو بلکہ عمل بھی ہو۔  بالبداہت یہ قطعی ہے کہ قدرتِ عمل شعور کا وصفِ ذاتی نہیں ہے بلکہ ارادے سے متعلق ہے۔  یہ امر بھی بدیہی ہے کہ عالمِ شہود میں قدرت کے تمام وسائل و ذرائع آفاقی ہیں، انفسی نہیں ہیں۔ یہ وہ محل ہے جہاں ٹیکنالوجی اور اس کے value               neutral ہونے یا نہ ہونے کی بحث اٹھائی جاتی ہے جو میری رائے میں نادانی اور حماقت سے پیدا ہوتی ہے۔ علم کو انسانی شعور کا وصفِ ذاتی مان لینے کا موقف عین اس وجود کو خارج کر دینے سے ہی قائم ہوتا ہے جس کو کسی بھی روایتی یا غیرروایتی معنی میں ”انسان“ کہا جاتا ہے۔ یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ جدید شعور کا قدرتِ علم کا حامل ہونا، اور علم اس کا وصفِ ذاتی (property) ہونا ایجادِ وجود کو مستلزم ہے، اور ایجادِ وجود ’قدرت‘ کے بغیر استحالہ ہے اور انسانی شعور فی نفسہٖ ایسی ’قدرت‘ سے خالی ہے، تو ایجادِ وجود کیونکر ممکن ہو؟ جدید شعور اس مسئلے کا جو حل نکالتا ہے وہ مغربی تہذیب کی تفہیم و تعیین کا اصولِ اول ہے۔ 

(۱۳) قدرتِ علم اور علم کے وصفِ ذاتی کا حامل جدید شعور ایجادِ وجود کی اپنی پہلی حرکت ہی میں ’قدرت‘ کے لیے آفاقی مؤثرات کے تابع ہو جاتا ہے اور عین یہی امر نابودیت (nihilism) ہے۔ یعنی جدید شعور کی اولین حرکت اپنے مآخذ میں قدر سے قطعی غیرمتعلق ہے، اور ایجاد وجود کا عمل اپنی بنیاد اور غایت دونوں میں کسی قدر سے کوئی تعلق نہیں رکھتا اور ایجاد وجود ہی اس کی قدرِ اول ہے۔ نابودیت جدید انسان کی تقدیر ہے کیونکہ مآخذ و مآل میں اقدار کا سراغ ہی کہیں موجود نہیں ہے۔ اقدار، انسان کا مسئلہ ہے اور جو عقل اپنی محضیت پر قائم ہو اور جو عمل ایجادِ وجود میں اپنے مظاہر لاتا ہو، وہ انسانی کیونکر ہو سکتا ہے؟

(۱۴) نیچر سے جدید عقل کا تعلق کسی وجود یا مراتبِ وجود (order               of               being/s) سے تعلق نہیں ہے۔ جدید عقل نیچر سے محض کشیدِ ’قدرت‘ کے لیے متعلق ہے۔  وہ عالم شہود میں کسی سلسلۂ وجود کو نہیں ’دیکھتی‘ بلکہ صرف مادہ مقصودِ نظر اور مقصودِ عمل ہے جس میں ’قدرت‘ کا رس بھرا ہوا ہے، اور جسے وہ اپنی میکانکس سے نچوڑنا چاہتی ہے۔ جدید عقل کے لیے طبعی نیچر بطورِ وجود موجود ہی نہیں ہے اور نہ عقل کو کوئی دلچسپی ہے کہ وہ طبعی نیچر کو بطور وجود دیکھے۔  یہاں یہ فرض بھی نہیں کیا جا سکتا کہ جدید عقل وجودِ شہودی کے تابع ہے کیونکہ اس کو نیچر اور تاریخ میں موجود صرف ’قدرت‘ کے وسائل و مؤثرات سے غرض ہے تاکہ اسے اپنی ایجادِ وجود میں کھپا سکے۔

(۱۵) جدید عقل اور اس پر استوار عمل کی ایجادِ وجود ’عدم‘ سے نہیں ہے۔ مولانا محمد ایوب دہلوی رحمۃ اللہ علیہ اپنے ایک خطبے میں فرماتے ہیں کہ ”آٹا ایک وجود ہے اور جب اس سے روٹی بنا لی جاتی ہے تو آٹے کا وجود ختم ہو جاتا ہے اور ایک نیا وجود اس کی جگہ لے لیتا ہے“۔ اس میں یہ دیکھنا چنداں مشکل نہیں کہ عمل تبدیلیِ وجود کا سبب ہے، آٹا اور روٹی دونوں بدیہی ہیں، ان کی سطحِ وجود ایک ہے، لہذا اس کو ایجادِ وجود نہیں کہا جا سکتا۔ جدیدیت جس علم اور عمل میں ظاہر ہے وہ جمادات کی سطحِ وجود میں تبدیلی ہے، اور اسی باعث ایجادِ وجود ہے۔ ایجادِ وجود عقل و مادے کی یکجائی اور یک سازی سے ہے اور جو بطونِ مادہ میں ایک singularity قائم کرنے کے لیے برق رفتار ہبوط میں ہے، اور جس میں طبائع فطرت کی معدومیت لازم ہے۔ جدید عقل، انفس انسانی میں فطرت کی فنا ہے، اور جدید عمل، آفاق میں فطرت کی فنا ہے۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ کسی ارضی عفریت (monster) کی رسی کھل گئی ہے جو شعور و وجود کی فطری حرکیات میں اودھم مچائے ہوئے ہے اور اسے تہہ و بالا کر رہا ہے۔

(۱۶) انسانی شعور کا قدرتِ علم پر حصر کرتے ہوئے علم کو اس کا وصفِ خلقی/ وصف ذاتی مان لینا اور ارادے کو قدرتِ شعور سے متعلق کر دینا حریتِ انسانی کو بھی شعور میں ایک محکم اساس فراہم کر دیتا ہے۔ جدید انسانی ارادہ، جدید شعور میں حریت کی نیو رکھتے ہی عمل کے ذریعے نیچر اور تاریخ میں مؤثر ہو جاتا ہے، اور ایجادِ وجود میں برگ و بار لاتا ہے۔ جدید شعور نے اپنی وجودیات مادے سے عینیت اور جدید عمل نے مادی حرکیات سے تساوی میں تلاش کی ہے۔

(۱۷) علم الکلام میں مراتبِ وجود کی بحث مرکزی ہے، اور اس میں پست ترین درجہ وجودِ جمادات ہے۔ مراتبِ وجود میں جمادات نقطۂ آغاز ہے، اور جدیدیت میں بھی جمادات نقطۂ آغاز ہے۔ مراتبِ وجود میں علم اور عمل جمادات سے متوازی صعود میں حرکت کرتے ہیں۔ جبکہ جدیدیت کا علم و عمل جمادات سے یکجانی اور یک آنی نزول میں حرکت کرتے ہیں۔ جدیدیت، جمادات کی سطحِ وجود میں تحول (transformation)  سے عبارت ہے۔ 

(۱۸) یہاں جدیدیت کی آسان تعریف کی جا سکتی ہے۔ جدیدیت اصلاً علم کو انسانی شعور کا وصفِ ذاتی (property) مان لینے اور قدرتِ علم کو ارادے پر منتقل کر دینے کا موقف ہے۔

(۱۹) کلامی مباحث جمادات کو نقطۂ آغاز بنا کر علم کی صعودی تشکیل کرتے ہیں، جبکہ مباحثِ جدیدیت میں جدید عقل یہیں سے اپنے علومِ نزولی کا آغاز کرتی ہے۔ جدیدیت کا علم روایتی معنی میں نہ سیرِ آفاق ہے اور نہ سیر انفس۔ حیرت ہے کہ یہ سیرِ جمادات بھی نہیں ہے۔ جدیدیت، جمادات کا بطور وجود اور بطورِ فطرت انکار ہے۔ جمادات، ایجادِ وجود کا محض ایندھن ہیں۔ صعودی علوم کا موضوع انفس تھا اور جسم کو ان کی شرائط کے تابع رکھنا مقصد تھا۔ نزولی علوم کا موضوع آفاق میں طبائع (physical               bodies) ہیں، اور انفس کو جسم کی شرائط پر ڈھالنا ہے۔ اس میں یہ دیکھنا مشکل نہیں کہ روایتی علم الکلام اور جدیدیت کا نقطۂ اشتراک جمادات ہے اور سمتِ سفر قطعی متضاد ہے۔ جدیدیت روایتی معنی میں جمادات کو نقطۂ آغاز بنا کر سیرِ بطون مادہ ہے۔

(۲۰) عالم شہود میں وجود کی مراتب میں درجہ بندی چند ایک فرجامی اور غائی تصورات کے تحت تھی، جس میں اہم ترین نکتہ یہ تھا کہ نچلا درجۂ وجود اپنی becoming کے عمل میں فنا ہو کر اوپر والے درجۂ وجود کا جزو بن جاتا ہے۔ مراتبِ وجود میں جمادات، نباتات میں کھپ جاتے تھے  علیٰ ہذا القیاس، یہاں تک کہ انسان کا مقصودِ ہستی اپنے رب میں ’صرف‘ ہو جانا ہے۔ اس تصور کے باقیات جدیدیت کی پیدا کردہ food               chain میں دیکھے جا سکتے ہیں، اور chain کا تصور ہی اس کی مکمل مادی سطح وجود کو سمجھنے کے لیے کافی ہے۔ جدیدیت جمادات کو کسی درجۂ وجود کے طور پر نہیں دیکھتی، اور انہیں ایسی موجودات قرار دیتی ہے جو مادے سے مقوم ہیں۔ یہاں اس امر پر زور دینا ضروری ہے کہ جمادات بدیہی ہیں، لیکن مادہ بدیہی نہیں ہے۔ جمادات ایسی طبائعِ فطرت ہیں جن پر عالم شہود اساس رکھتا ہے۔ جدیدیت جمادات کو مادہ بنا دیتی ہے۔  مادہ ظاہر ہوتے ہی جمادات سے خارج ہو جاتا ہے، کیونکہ یہ فطرتِ شہود سے خارج ہو جاتا ہے۔ جدیدیت کا پیدا کردہ مادہ جمادات کو replace کر دیتا ہے۔ مراتب وجود کے تصور میں جمادات اگلے درجۂ وجود میں صرف ہوتی تھیں، جبکہ مادہ، جمادات میں کھپنے کی استعداد سے بھی خارج ہو جاتا ہے۔ مادہ کسی بھی درجہ وجود میں کھپنے کی عدم استعداد کی حالت ہے۔ جدیدیت اپنی ایجادِ وجود سے مادے پر کسی بھی درجۂ وجود میں کھپنے کی روک لگا دیتی ہے۔ جدیدیت کی  پیدا کردہ مادی موجودات، جمادات کی سطحِ وجود سے گراوٹ ہے کیونکہ وہ اپنے سے برتر کسی درجۂ وجود میں کھپنے کی فطری استعداد سے خالی ہو جاتی ہیں، اور یہ لازم ہو جاتا ہے کہ ایجاد وجود سے ظاہر ہونے والی مادی موجودات کا اصولِ ترتیب و تنظیم بھی بالکل نیا ہو۔

(۲۱) جمادات طبعی فطرت کی اساس ہیں، جبکہ مادہ طبعی فطرت کا خاتمہ ہے۔ جیسا کہ ہم دیکھ چکے کہ نابودیت (nihilism) جدیدیت کے علم و عمل پر وارد ہے جو علمی اور فکری طور پر قابل رسائی ہے۔ لیکن ایجادِ وجود سے عین یہی نابودیت  شہود میں داخل ہو جاتی ہے۔ جدیدیت  کی ایجادِ وجود سے مادی موجودات کا جو سلسلہ سامنے آتا ہے وہ اپنی ’افادیت‘ پوری کرتے ہی کچرہ بن جاتا ہے۔ جمادات کچرہ نہیں ہیں، کیونکہ وہ شہودی فطرت کی اساس ہیں، جبکہ جدیدیت کا پیدا کردہ مادہ اول افادیت اور پھر فوراً کچرہ ہے۔ جدیدیت تصور و عمل میں نابودیت ہے اور اپنی واقعیت میں کچرۂ وجود ہے۔ جمادات اور طبعی فطرت میں ’مادے‘ کے ظہور سے جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اسے ماحولیاتی بحران کہا جاتا ہے۔  عصر حاضر میں ماحولیاتی غارت اور فطرت کے بحران کی بنیادی وجہ جمادات کی سطح وجود کا تبدیل ہو کر مادہ بن جانا ہے۔ جدیدیت اپنی ایجادِ وجود سے جمادات کو بھی ان کی فطرت پر قائم نہیں رہنے دیتی، کجا یہ کہ نباتات و حیوانات و انسان کے استقرار کی بات کی جائے۔

(۲۲) جیسا کہ عرض کیا کہ جدیدیت نے انسانی شعور کو جس طرح سے redefine کیا ہے، ایجاد وجود اس کو لازم ہے، اور مادہ اس ایجاد کا substance ہے۔ طبائع فطرت یعنی جمادات، نباتات اور حیوانات میں مادے کو ایک قابلِ منفک جزوِ وجود کے طور پر دریافت کرنا اور اسے ایک نئے سلسلۂ وجود کی ایجاد میں صرف کرنا جدیدیت سے خاص ہے۔ طبائع فطرت بدیہی ہیں لیکن مادہ بدیہی نہیں، بدیہی نظری ہے۔ وجودی اعتبار سے مادہ، جمادات سے بدتر ہے کیونکہ اپنی ایجاد کے بعد یہ جمادات میں کھپنے کے قابل بھی نہیں رہتا، اور انہیں replace اور displace کرتا چلا جاتا ہے اور اپنی افادیت پوری ہونے کے بعد کچرہ (waste) بن جاتا ہے۔ یعنی مادہ طبعی فطرت کے قیام کو بھی ناممکن بنا دیتا ہے۔ جدید ماحولیاتی بحران کی وجہ جمادات سے پست تر درجۂ وجود کی دریافت اور اس کا قیام ہے۔

(۲۳) ایجادِ وجود کے سلسلے کا آغاز مشین کی ’ایجاد‘ سے ہوتا ہے۔ اس میں بنیادی ترین سوال یہ ہے کہ کیا مشین جمادات ہے؟ جمادات اپنے مظہر میں مکمل بدیہی ہیں۔ بدیہی مدرک اور معقول میں تساوی کا نام ہے۔ مشین مادی ہے اور جمادات کے برعکس بدیہی نہیں ہے کیونکہ مادہ بدیہی نہیں ہے۔  فطری جمادات بدیہی ہیں اور مادہ بدیہی نظری ہے۔  مشین ایک ایسی مادی ہیئت ہے جو تجریدی اصولِ حرکت کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ مشین جس مظہر کو سامنے لاتی ہے وہ بدیہیات میں رہتے ہوئے قابلِ وضاحت نہیں ہے کیونکہ بدیہات صرف حس میں قائم ہیں۔ مثلاً پتھر کو زور سے اچھالنا اور اس کا گرنا بدیہیات میں قابلِ وضاحت ہے، لیکن خلائی راکٹ کا مسلسل بلند ہوتے چلے جانا بدیہیات کی ضد ہے اور صرف نظری وسائل سے قابلِ وضاحت ہے۔ مشین کی ایک تعریف طبیعات (Physics) میں ہے، اور وہ بالکل درست ہے لیکن ادھوری ہے کیونکہ وہ مشین کی وجودیات کو نظرانداز کرتے ہوئے اس کی فعلیات کو بنیاد بناتی ہے، اور اصلاً میکانکس کے تحت میں آتی ہے۔ یہ کہ مشین ایک ایسی مادی ہیئت ہے جو حرکت کے تجریدی مادی قوانین کے تحت interplay               of               forces کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ مشین کی کلامی تعریف درکار ہے جو یہ ہو سکتی ہے کہ مشین ایک ایسا مادی وجود ہے جو بیک وقت جامد (concrete) اور مجرد (abstract) ہے۔ جامد ہونے کی حیثیت سے یہ بدیہی ہے، اور مجرد ہونے کی حیثیت سے یہ نظری ہے۔ یعنی مشین بطور وجود بیک آن بدیہی نظری ہے۔ مشین ارضی فطرت میں ’مادے‘ کی دریافت کا اگلا فطری اگلا مرحلہ ہے۔

(۲۴) مشین اس طرح سے ’خودمختار‘ (autonomous) نہیں ہے جس طرح مراتبِ وجود (order               of               being) میں مثلاً کوئی ندی یا شجر ہے۔ سادہ لفظوں میں فطرت بظاہر self-sustaining ہے۔ مشین بطور مادی وجود اسی ہدف کی طرف ’ارتقا پذیر‘ ہے اور مصنوعی ذہانت (AI) کو جامد میں ملفوف کرنے کا مقصد یہی ہے۔ اقتضائے توانائی، نمودِ طاقت اور پیداواری لحاظ سے مشین بدیہی ہے اور اسے نیچر اور انسانی فعل خام مال کے طور پر درکار ہے، جبکہ خود پر حاکم اصولِ حرکت کے قیام کے لیے مشین کو ذہانت بھی ایک لازمی خام مال کی حیثیت سے درکار  ہے۔ مشین بطور وجود، نیچر اور انسانی وسائل کو اپنے اندر مکمل کھپائے ہوئے ہے۔ فطری مراتب وجود (order               of               being) میں خالق اور خلق کا رشتہ علم میں ’نامعلوم‘ ہے اور وحی میں مبرہن ہے۔ جامد (concrete) میں مصنوعی ذہانت کی ملفوفی، مشین اور اس کے ’خالق‘ میں ایسے ہی رشتے کی متلاشی ہے، اور یہی singularity جدیدیت کا مقصود ہے جس کے ہر تدریجی لمحۂ تحقق کو انسان اور فطرتِ ارضی کی معدومیت مستلزم ہے۔ جدیدیت علم و عمل میں جس وحدت کی متلاشی ہے وہ ٹیکنالوجی میں بتدریج ظاہر ہو رہا ہے اور اس کا منتہائی مقصود پست ترین سطح وجود میں singularity کا قیام ہے۔

(۲۵) جدیدیت کی ایجادِ وجود شے کی ایجاد تک محدود نہیں، بلکہ ایک سلسلے میں ظاہر ہے۔ جدیدیت کے پیدا کردہ سلسلۂ وجود میں مراتب نہیں ہیں کیونکہ اس کی ایجاد کردہ تمام موجودات کی سطحِ وجود ایک ہی ہے اور ان میں کوئی جوہری فرق نہیں ہے۔ یہ درجات کی بجائے مراحل میں ہے۔ اور یہیں سے مراتب (order) اور نظام (system) کا بنیادی ترین فرق پیدا ہوتا ہے جو میں ابھی عرض کرتا ہوں۔ یاد رہے کہ order اور system کی بنیادی معنویت شہودی اور واقعاتی وجود کے حوالے سے ہے۔

(۲۶)  جدیدیت کا پیدا کردہ سلسلۂ موجودات ایک ہی سطح وجود پر مراحل میں مرتب ہے جو میری رائے میں چار ہیں۔ اس میں  سے ہر مرحلے کو domain یا اقلیم بھی کہا جا سکتا ہے، اور جو یہ ہیں: (۱) مشین؛ (۲) آرگنائزیشن؛ (۳) سائبر؛ (۴) سسٹم۔ جدیدیت کے پیدا کردہ ہر وجود، ہر موجود، یا ہر ایجاد کی تعریف (definition) ایک ہی ہو گی کیونکہ ان کی سطح وجود ایک ہے۔ مثلاً آرگنائزیشن کی تعریف یہ کی جاتی ہے کہ:

Organization               is               an               entity               set               up               by               the               force               of               law.

آرگنائزیشن کی یہ تعریف بالکل درست ہے، مادی اور نظری ہے اور یقیناً سب کے لیے مفیدِ مشترک ہے۔ اس سے ایک امر تو بالکل واضح ہے کہ آرگنائزیشن ایک entity یعنی وجود ہے۔ لیکن اس کی کلامی تعریف بالکل وہی ہو گی جو مشین کی ہے یعنی آرگنائزیشن بطور وجود بیک وقت جامد (concrete) اور مجرد (abstract) ہے۔ مثلاً سکول ایک آرگنائزیشن ہے اور اس کی عمارت، فرنیچر، کلاس روم، لائبریری، بلیک بورڈ وغیرہ کنکریٹ ہیں اور بطور وجود اس کے توامی ’حصے‘ مثلاً ذریعۂ ایجاد، مینجمنٹ، ڈسپلن، قواعد و ضوابط، کلچر، آموزش وغیرہ مجرد ہیں۔ یاد رہے کہ کنکریٹ اور مجرد دونوں مادے کی وجودیات کا ہی مظہر ہیں۔

(۲۷) اگر موجودات متفرق اور کثیر ہوں تو ان کا ترتیب پانا وجوبی ہے۔ عالم شہود میں/ فطرت میں موجودات کثیر ہیں، اور ان سب کی سطح وجود ایک بھی نہیں۔ سطحِ وجود کے فرق سے موجودات کی نشاندہی کرنا اور ایک order بنانا مراتبِ وجود ہے۔ اسی طرح جدیدیت کے ایجادِ وجود کا عمل بھی کثیر موجودات میں ظاہر ہوتا ہے، اور ان کا ترتب بھی وجوبی ہے جو نظام (system) میں ظاہر ہوتا ہے۔ order (مراتب) اور system (نظام) اپنے تصور میں اور اپنی موجودیت میں mutually               exclusive (باہم یک نگر) ہیں۔ یعنی یہ تصور میں نقیضین ہیں یعنی نقیضِ یک دیگر ہیں، اور واقعیت میں ایک دوسرے کو replace کر دیتے ہیں، یعنی یہ یک آن و یک مکان نہیں ہیں۔ جہاں فطرت کا order قائم ہو گا وہاں system غیرموجود ہو گا، اور اس کے برعکس بھی۔

(۲۸) وجود کے حوالے سے مراتب (order) اور نظام (system) کی کچھ مزید تفصیل ضروری ہے۔  اول یہ کہ ان دونوں تصورات کی معنویت وجود کے تناظر میں سطح وجود کے فرق سے ہے۔  عالم شہود کے فطری موجودات میں جوہری فرق کی وجہ سے ان کو مراتب یا درجات میں بیان کیا جاتا ہے۔ لہٰذا، مراتبِ وجود  (order               of               being/s) طبیعاتی اور مابعد الطبیعاتی ہے، یعنی فطری ہے۔  مراتبِ وجود  (order               of               being/s)  مختلف درجات وجود کے مابین جوہری فرق سے پیدا ہونے والی نزولی صعودی ترتیب کو ظاہر کرتا ہے، مثلاً مادہ، مادہ ذی حیات اور مادہ ذی حیات و ذی شعور میں جوہری فرق ہے اور مراتب (order) میں درجہ بندی اس فرق سے پیدا ہوئی ہے۔ مراتبِ وجود (order               of               being/s) پورے مظہرِ وجود کو ایک تارِ حقیقت میں پروئے ہوئے ہے۔ نظام (system) جدیدیت کے سلسلۂ ایجادِ وجود کی تنظیم کاری ہے جس میں درجات کا کوئی جوہری فرق موجود نہیں ہے۔ اس میں زمان و مکاں کے فریم ورک میں نئے وجود پر حاکم اصولِ حرکت کا فرق ہے، اور جو domain کا فرق پیدا کرتا ہے۔ نظام (system) جدیدیت کے پیدا کردہ موجودات کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ سادہ لفظوں میں، عالم شہود میں فطری وجود کو order کے تصور کے ذیل میں بیان کیا جاتا ہے، جبکہ جدیدیت کے پیدا کردہ سلسلۂ موجودات کو system کے زیرعنوان لایا گیا ہے۔ یاد رہے کہ نظام (system) خود بھی ایک وجود ہے۔ سادہ لفظوں میں متفرق اور کثیر فطری موجودات کی ترتیب کو order کہا جاتا ہے اور یہ ترتیب موجودات کے جوہری فرق پر قائم اور مرتب ہے۔ جبکہ جدیدیت کا پیدا کردہ سلسلۂ موجودات ایک ہی سطح وجود رکھتا ہے اور اس کو طاقت کی جس گٹھڑی میں باندھا گیا ہے اسے system کہا جاتا ہے۔ order کی ترتیب کا اصول ’قدرت‘ ہے جو تاثیر میں ہے آثار میں نہیں ہے۔ جبکہ system کی ترتیب کا اصول ’طاقت‘ ہے جو  آثار میں ظاہر ہے۔ 

(۲۹) مولانا حافظ محمد ایوب دہلوی رحمۃ اللہ علیہ اپنے ایک خطبے میں فرماتے ہیں کہ: ”وجود مبدائے آثار ہے۔“ یہ وجود کی بہت قیمتی لیکن ایک تعریف ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ ہر وجود بھلے وہ مادی یا نامیاتی ہو، آثار رکھتا ہے جو تاثیر کے برعکس ظاہر ہیں۔ جدیدیت نے جمادات کی سطحِ وجود کو تبدیل کر کے ایک جوہری فرق پیدا کر دیا ہے۔ زیربحث موضوع کی ضرورت کے تحت مولانا علیہ الرحمہ کی تعریف کچھ اضافے کے ساتھ یہ ہو سکتی ہے کہ ”جدیدیت کا پیدا کردہ وجود بیک وقت مبدائے آثار و افعال ہے“۔ جدیدیت کا ہر پیدا کردہ وجود اور اس کا پیدا کردہ نظمِ وجود مبدائے آثار اور مبدائے افعال کی حیثیت سے اب ثقہ علم کا موضوع ہو سکتا ہے۔ 

(۳۰)  جدیدیت کے بِنا کردہ سلسلۂ وجود نے انسانی زندگی کے آفاقی حالات اور انفسی احوال کے لیے موجودیت کی پہلے سے قائم فطری شرائط کو قطعی طور پر تبدیل کر دیا ہے۔ یہ تبدیلی بالکل اس طرح کی ہے کہ کسی خشکی پر رہنے والے جانور کی شرائط ہستی کو اس حد تک بدل دیا جائے کہ وہ آبی جانور کی تحدیدات پر زندگی گزارنے سے دوچار ہو جائے۔ جدیدیت کے پیدا کردہ نئے سلسلۂ وجود نے ایک نئی تقدیری صورتحال کو جنم دیا ہے۔ اس صورتحال کا اہم ترین پہلو یہ ہے کہ یہ کوئی تاریخی تبدیلی نہیں بلکہ فطری سلسلۂ وجود کے خاتمے یا ’اوجھل‘ ہو  جانے کے بعد ایک نئے سلسلۂ وجود کا ظہور ہے، یعنی نیچر، معاشرے اور تاریخ میں جدیدیت کی پیدا کردہ تبدیلی کو ’تاریخی‘ کہنا سادہ لوحی ہے، کیونکہ یہ تبدیلی تاریخی تبدیلی کی طرح صرف واقعات میں ظاہر نہیں ہے بلکہ وجود اور سلسلۂ موجودات میں لمحہ بہ لمحہ بروز کر رہی ہے۔

(۳۱) تحریک تنویر ایک ایسی تہذیبی حرکت ہے جس نے انسانی شعور کو اس کی قیمتی ترین متاع سے محروم کر دیا ہے اور جس کے بغیر یہ ”انسانی“ ہونا قرار نہیں پا سکتا اور نہ انسانی ہونا کسی جہت میں باقی رکھا جا سکتا ہے۔ انسانی شعور کی بقا کا واحد لازمہ حقیقی معروض (The               Absolute               Objective) ہے، اور انسانی شعور کا حقیقی معروض صرف وہی ہو سکتا ہے جو ادراک میں منقطع الامکان ہو اور معلومیت میں ممکن ہو۔ ہر وہ چیز جو مدرک اور معقول ہو، انسانی شعور کا معروض نہیں بن سکتی، کیونکہ آخر الامر وہ اس کا چارہ ہی بنتی ہے۔ معروض انسانی شعور کی فعلیت کے لیے اس قدر ضروری ہے کہ جدید شعور کو معلوم کائنات میں ایک جعلی Unknown ’فرض‘ کرنا پڑا ہے۔ واحد حقیقی معروض حق کا ماورائی تصور ہے، بھلے وہ توہم سے حاصل ہوا ہو (جیسے کہ جدید سائنس کا فرضی نامعلوم ہے)، بھلے ملکۂ خیال (speculation) کا زائدہ ہو، یا وحی سے حاصل ہوا ہو۔ معروض کے بغیر انسانی شعور کا فی نفسہٖ باقی رہنا ممکن نہیں ہے۔ جس طرح شہود میں قیامِ وجود، بقائے وجود اور فنائے وجود کی بنیادی ترین شرط زمان و مکان ہے، اسی طرح شعورِ انسانی کے قیام و بقا کی بنیادی ترین شرط شہود و غیب کا تصور ہے۔ اس تناظر کے خاتمے کے بعد جدیدیت کے پیدا کردہ سلسلۂ وجود میں انسانی شعور کا باقی رہنا کوئی امکان نہیں رکھتا اور وہ مادے کی شرائط ہستی پر اپنی ’تشکیل نو‘ کر چکا ہے۔ سادہ لفظوں میں جدیدیت کا بنا کردہ سلسلۂ وجود خود انسان پر بھی اسی طرح وارد ہے جیسے کہ وہ تمام فطری موجودات پر استیلا حاصل کیے ہوئے ہے۔

(۳۲) فطری مراتبِ وجود (order               of               being/s) میں انسان بھی ایک وجود کے طور پر شامل ہے۔ جدیدیت کے پیدا کردہ سلسلۂ وجود نے خود کو ایک نظام (system) کی صورت میں ترتیب دے کر فطری مراتبِ وجود کی جگہ لی ہے۔ انسان بطور عقلی وجود بطون مادہ میں ہبوط میں ہے اور بطور ایک نامیاتی وجود نظام (system) کے بطون میں منضبط ہے۔ جدیدیت نے جو سلسلۂ وجود یا نظمِ وجود تشکیل دیا ہے، اس نے انسان کے احوالِ ہستی کو یکسر تبدیل کر دیا ہے، اور کائنات جدیدیت میں انسان بطور اخلاقی وجود ’نامعلوم‘ ہے۔ سلسلۂ وجود کی تبدیلی انسان سے جس تسویے (adjustment) کا مطالبہ رکھتی ہے وہ اس پر وارد ہے، اور اس کی نوعیت جبری ہے، اور وہ صرف ایک علمی قضیے کے طور پر اس کو درپیش نہیں ہے۔ جدیدیت کے پیدا کردہ سلسلۂ وجود کے آثار انفسِ انسانی پر بالفعل مرتب ہیں، اور اس کے افعال انسان پر اس کے اختیار کے علی الرغم عملاً وارد ہیں۔ ’انسانی‘ عمل معاشرے، تاریخ اور نیچر میں ظاہر ہوتے ہی جدیدیت کے سلسلۂ وجود سے نمود پانے والے افعال میں لپٹے بغیر رہ ہی نہیں سکتا۔ مشین، آرگنائزیشن، سائبر اور سسٹم کے آثار انفسِ انسانی پر مرتب ہیں اور اس کے مقوم ہیں۔ مشین، آرگنائزیشن، سائبر اور سسٹم کے افعال مکمل ترین معنی میں میکانکی ہیں، اور ’انسانی‘ عمل کے لیے کوئی گنجائش نہیں رکھتے۔  ایسی صورت میں اعمال صالحہ کی حیثیت اور نوعیت کیا ہو گی، وہ ہمارے لیے ابھی نامعلوم کے زمرے میں ہے اور اس کو زیربحث لانا ہماری اولین دینی ذمہ داری ہے۔

(۳۳) مسئلۂ وجود مذہبی شعور کا علمی قطب نما ہے جبکہ جدید شعور کے لیے آسیب کا درجہ رکھتا ہے۔ انکارِ خدا آخر الامر انکارِ وجود ہے اور جو شعور میں استقرار پاتے ہی ایجاد وجود کو مستلزم ہے۔ عالم شہود میں عقلِ محض کا قیام کسی صورت ممکن نہیں ہے۔ مراتبِ وجود کے روبرو انسان کچھ سوالوں سے بچ نہیں سکتا کیونکہ وہ اس پر بدیہی وارد ہیں۔ اسHuman               Condition سے نجات کے لیے مغربی انسان نے مراتب وجود کو displace کر دیا ہے تاکہ اپنے پیدا کردہ سلسلۂ وجود کی اوڑھنی میں وہ اِن فطری طور پر وارد سوالات سے بچ سکے۔

(۳۴) نظام (system) کی صورت حال میں جدیدیت کا علم اس کے اپنے پیدا کردہ وجود کے تابع ہے۔ جدیدیت کے نظام نے مذہبی عمل اور نئے سلسلہ وجود کے تابع علم نے مذہبی شعور کے سامنے جن سوالات کو کھڑا کر دیا ہے، مذہبی انسان شاید ان کا سامنا کرنے کی سکت بھی نہیں رکھتا۔ اہم تر یہ کہ نئے سلسلہ وجود پر قائم ہونے والا سسٹم زبان/لسان پر بہت گہرائی میں اپنی تجاوزات قائم کر چکا ہے اور زبان انسان کے نفسی اقتضآت سے بالکل ہی غیرمتعلق ہوتی جا رہی ہے۔ جدیدیت کا سلسلۂ ایجاد وجود ارضی اور انسانی ’فطرت‘ کی transformation  ہے۔ جو علمی اور مذہبی معنوں میں اصلاً فطرت کی destruction ہے۔ اس وقت جو فوری چیلنج درپیش ہے وہ ہدایت کے وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے عنفوانی فطرت ارضی اور فطرتِ انسانی (primordial               human               and               earthly               nature) کی نگہبانی ہے۔ یعنی اس وقت انسان کا بنیادی ترین چیلنج انسان رہنا ہے، اور اس میں صرف اور صرف ہدایت ہی کفایت ہے۔

(۳۵) عین وہی ہدایت جس کے ساتھ حضور علیہ الصلوۃ  و السلام مبعوث ہوئے، عین وہی ہدایت بغیر کسی نظری اور فلسفیانہ تعبیر کے آج بھی ویسے ہی رہنما ہے جیسے ہمیشہ سے تھی۔ لیکن اس کا مخاطب انسان ارضی فطرت کے جن احوال و حالات میں رہتا آیا ہے ان میں وجودی تحول واقع ہو چکا ہے۔ انفس اور آفاق میں وجود بدل رہا ہے اور انسان بھی عین اسی تحول کی گرفت میں ہے۔ نئے نظری اور علمی وسائل کی ضرورت اس لیے ہے کہ بدلتے ہوئے سلسلۂ وجود میں گھرے ہوئے انسان کے ساتھ ہدایت کی بالکل نئی اور ضروری نسبتوں کو مستدل کیا جا سکے جو اب بدیہیات میں قابل حصول نہیں ہیں۔ یہ ذمہ داری مسلمانوں کی ہے مغرب کے اہل دانش کی نہیں ہے۔ 

گزارش ہے کہ ایک اہم سوال کے جواب میں چند ایک بنیادی باتیں میں نے عرض کر دی ہیں۔ لیکن کوئی انسان عقلِ کل نہیں ہے، اس کی ہر گفتگو ادھوری ہے اور اس کی ہر تحریر نامکمل ہے۔ اس امر کا امکان بہرحال ہے کہ ان میں سے کچھ گزارشات ناظرین کے لیے مفید ہوں، اور کچھ باعثِ خلجان ہوں۔ لیکن میں دیانتداری سے سمجھتا ہوں کہ اسلامی تہذیب کے ایک بدحال اور بے بضاعت فرد کی حیثیت سے میں نے اپنے حصے کا کچھ کام کر دیا ہے۔ ان گزارشات سے جدید دنیا ایک ایسے علمی تناظر میں معلوم اور قابل فہم ہو گئی ہے جو روایتی علمِ کلام سے جڑا ہوا ہے،  ہدایت کے سامنے حالتِ تسلیم میں ہے اور دنیا سے ایک جاندار روبروئی رکھتا ہے۔ اس سے ہمیں ایک ایسی بنیاد مل گئی ہے جو اصول اور فروع میں تہذیب اسلامی کی تعمیر نو کا بوجھ اٹھانے کے قابل ہے۔ یہ گزارشات نہ صرف  What               is کے جوابات دینے کی استعداد رکھتی ہیں بلکہ ہم عصر دنیا میں بطور مسلمان ہمارے عمل کو جو راستہ مطلوب ہے اس کی طرف بھی پیشرفت ممکن ہے۔ آئندہ گزارشات میں ہم کوشش کریں گے کہ اول آرگنائزیشن اور پھر جدید ریاست کو اس نظریۂ علم کی تحدیدات میں رہتے ہوئے قابل فہم بنایا جائے اور دینی پوزیشن لینے کی کوشش کی جائے۔

واللہ اعلم بالصواب۔

Recommended Posts
Comments
  • Nazeer Ahmed
    جواب دیں

    اوہ بخش دے بخش دے😀😀
    گنجلک لفظوں سے معدودے چند کو بخش کر، مستحسن اقدام کا تتبع کر کے خوابیدہ صلاحیتیں بالفعل متحرک فرما۔

Leave a Comment

Jaeza

We're not around right now. But you can send us an email and we'll get back to you, asap.

Start typing and press Enter to search