علم الکلام کے بارے میں چند گزارشات (تحریر: محمد بھٹی)

ان دنوں علم الکلام پر بحث و تمحیص کارِ جاری ہے۔ مختلف پسِ منظر رکھنے والے احباب اپنی اپنی آراء سامنے لا رہے ہیں۔ مسئلہ کی اہمیت کے پیشِ نظر اور علم الکلام کے ایک ادنی طالب علم ہونے کے ناتے، علمی بے بضاعتی کے باوجود خاکسار بھی شریکِ بحث ہوا چاہتا ہے کہ دیگر شرکاء بھی غزالی ؒ و رازی ؒ تو ہیں نہیں (مسکراہٹ)۔ کلام کی بحث صرف ہماری علمی تاریخ کے عہد رفتہ سے ہی متعلق نہیں بلکہ حال و آئندہ کی آئینہ دار اور راہ نما بھی ہے۔ زمان و مکان کی کایا کلپ اور اس کے قوی اثرات کے باعث ہم کلام کے آغاز و ارتقا کی تفہیم کا درست تناظر فراہم نہیں کر پا رہے، لہذا گتھی بجائے سلجھنے کے مزید الجھاؤ کا شکار ہو رہی ہے۔ سنجیدہ مطالعہ اور گہرے خوض سے اس کمی کا ازالہ کیا جا سکتا ہے بشرطیکہ ہم عبرت سرائے تاریخ میں گونجتی چنوتیوں کو سن سکیں۔

گزارش ہے کہ کوئی بھی عقیدہ، نظریہ یا موقف اپنے مانے جانے کے لئے ایک سازگار فضا کا طالب ہوتا ہے۔اور پھر عقیدہ تو ایک کامل انسان بھی مانگتا ہے۔ یعنی وہ انسان کے اخلاقی، جمالیاتی اور عقلی وجود و شعور تک رسائی چاہتا ہے اور نہ صرف رسائی بلکہ ان تمام اقالیم کی تاجوری کا بھی بجا طور پر تقاضا کرتا ہے۔ اگر عقیدہ تخت نشیں نہ رہے تو انسان جعل سازی پر اتر آتا ہے اور سراسر دھاندلی کرتے ہوئے اپنے نا اہل اور چنیدہ ’مواقف ‘ کی تاج پوشی کرنے لگتا ہے۔ جدید انسان ایسی ہی رسمِ تاج پوشی ادا کر چکا ہے مگر تسلیم کرنے سے انکاری ہے۔ وہ اسے پردۂ اخفا میں ہی رکھنا چاہتا ہے کیونکہ وہ ڈرتا ہے کہ کہیں اس کے دعوائے عقل پرستی کی قلعی نہ کھل جائے۔ آمدم بر سرِ مطلب، کسی بھی عقیدہ کو ’ مان سکنے ‘ کے لئے موافق ماحول درکار ہوتا ہے۔ (یہاں ’ مان سکنا ‘ یا ’ نہ مان نہ سکنا ‘ کسی لازمی استحالہ کو ظاہر کرنے کے لئے نہیں برتا جا رہا بلکہ ایک گونہ استبعاد بتلانا مقصود ہے )۔ یہ بات بجا ہے کہ ایمان یا ماننا اصلا انسان کا ارادی فیصلہ ہوا کرتا ہے مگر یہ بھی بجا ہے کہ یہ ارادی فیصلہ کل جس انسان کو بڑے بڑے جابروں سے بھِڑا دیا کرتا تھا آج اسی انسان میں اپنے دن گنے جاتا ہے۔ ارادہ علم و عرفان کو پیدا بھی کرتا ہے اور اس سے قوت بھی کشید کرتا ہے، منبعِ قوت نہ رہے تو اس کا کمزور پڑنا اٹل ہے۔ ارادے کا پختہ ہو کر انسانی شعور کا راہ نما بننا یا انسانی شعور میں کسی بات کا گھر کر جانا یوں ہی نہیں ہوا کرتا بلکہ اس کے لئے وسائل کو بروئے کار لا کر کچھ رکاوٹوں کا ہٹایا جانا ناگزیر ہوتا ہے۔ اسی طرح ذہن و شعور انسانی میں حق کا رسوخ بھی جبھی ممکن ہے جب حق کے لئے سدِ راہ بننے والی اڑچنوں کو دور کر دیا جائے۔ یعنی عقیدہ کے دفاع کے لئے علمی وسائل مہیا کیے جائیں۔ اسی ذمہ داری سے عہدہ برا ہونے اور اسی غرض کو بر لانے کے لئے ہمارے اسلاف نے نہایت بصیرت و فراست کا مظاہرہ کرتے ہوئے سنی علم الکلام کی بنیاد رکھی۔ یہ بات خیال نشیں رہے کہ موقف کا دفاع موقف پر اصرار سے نہیں، اس کو علم کی کمک فراہم کرنے سے ہوتا ہے، اور علم الکلام یہی ذمہ داری نبھاتا رہا ہے۔ یہاں یہ عرض کر دینا ضروری ہے کہ رسالت مآب ﷺ کے زمان خیریت نشان میں چونکہ آپ کی ذاتِ والا برکات ازخود جلوہ افروز تھی، لہذا نہ تو حکم کے ظاہری فقدان کی کوئی عمومی نوبت پیش آئی کہ مسائل کے اخذ و استنباط کے لئے باقاعدہ کسی فقہی اصولی نظام کو منظم کرنا پڑتا اور نہ ہی کسی رخنے کو سر اٹھانے کا موقع ملتا کہ اسے زیر کرنے کے لئے علم کی مدد لی جاتی۔ بعد ازاں، جب تاریخ نے کروٹ لی اور زمانی تاثیرات نے اپنی نیرنگی ظاہر کی تو نوع بہ نوع اوھام نے علم کی ڈھال لئے ہوئے ’حق‘ پر دھاوا بول دیا۔ سو اساطینِ امت نے بھی علمی مدافعت کے لئے ’کلام‘ کو میدان میں اتارا۔ ”شرح العقائد“ میں علامہ سعد الدین تفتازانی اسی حقیقت سے یوں پردہ اٹھاتے ہیں:

وقد کانت الاوائل من الصحابة والتابعين رضوان اللہ عليهم أجمعين، لصفاء عقائدهم ببركة صحبة النبي ﷺ و قرب العهد بزمانه، ولقلة الوقائع والاختلافات، وتمكنهم من المراجعة إلى الثقات، مستغنين عن تدوين العلمين وترتيبهما أبوابا و فصولا، وتقرير مقاصدهما فروعا و أصولا ، إلى أن حدثت الفتن بين المسلمين والبغي على أئمة الدين، و ظهر اختلاف الآراء والميل إلى البدع والأهواء، وكثرت الفتاوى والواقعات والرجوع إلى العلماء فى المهمات، فاشتغلوا بالنظر والاستدلال والاجتهاد والاستنباط، و تمهيد القواعد والأصول، و ترتيب الأبواب و الفصول، و تكثير المسائل بأدلتها وإيراد الشبه بأجوبتها و تعيين الأوضاع والاصطلاحات، و تبيين تلمذاهب والاختلافات.

”آنحضور ﷺ کی صحبت کی برکت اور آپ کے عہدِ مبارک کی قربت کی وجہ سے صحابہ کرام ؓ اور تابعین عظام ؒ کے اعتقادات صافی تھے اور ان میں اختلافات کا تناسب بھی نہ ہونے کے برابر تھا۔ وہ حکم دریافت کرنے کے لئے نہایت قابلِ اعتماد لوگوں تک رسائی رکھتے تھے،لہذا وہ فقہ و کلام کی تدوین اور تنظیم اور اصول و فروع کے اعتبار سے ان کی تبیین سے بے نیاز رہے۔ تا آنکہ فتنے رونما ہونے لگے،ائمہ دین پر ظلم و ستم کا چلن ہوا،اختلافِ آراء سامنے آیا،نت نئے نظریات فروغ پانے لگے،فتاوی و حوادث کی بہتات ہونے لگی اور اہم مسائل بابت علما کی طرف رجوع کا رجحان بڑھنے لگا۔ سو علماء کرام نظر و استدلال اور اجتہاد و استنباط میں مشغول ہوئے اور ان کے لئے قواعد و اصول مہیا کرنے لگے۔ انہوں نے ابواب و فصول کو مرتب کیا،کثرت سے مسائل کو دلائل کے ساتھ بیان کیا، شبہات کی جوابات سے بیخ کنی کی، اصطلاحات کو موزوں کیا اور مذاہب و اختلافات کو کھل کر بیان کیا۔ “

علامہ صاحب ؒ کے فرمان حق ترجمان سے یہ بات نکھر کر سامنے آ جاتی ہے کہ علم الکلام کی بنیاد گذاری شعور و ذہن کو حق سے معمور سے رکھنے کے لئے ہوئی۔ انسانی ذہن ’ مان سکنے ‘ کی جس سازگار علمی فضا کا مطالبہ کرتا ہے اس کو قائم کرنا اور برقرار رکھنا ہی علم الکلام کی غایتِ وجود تھا۔

یہ بات بھی متکلمین ؒ کی بصیرت آمیز نگاہوں سے اوجھل نہ تھی کہ مخالف نظریہ و علم کا مقابلہ علم کی معروف شرائط و اسالیب کا پالن کرتے ہوئے ہی ممکن ہے۔ وہ اس سے بخوبی آگاہ تھے کہ مخالف نظریہ جن بنیادوں پر بنا کرتا ہے جب تک انہیں بنیادوں پر اس کا رد پیش نہ کیا جائے دفاعِ موقف کی ذمہ داری نہیں نبھائی جا سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے مشترکہ استدلالی در و بست اپناتے ہوئے حق کی راہ میں روک لگانے والے علم کی مکمل ریخت کا سامان کیا۔ ہمارے بعض نام نہاد اہلِ دانش، علم کی حرکیات سے قطعی نابلد ہونے کی بنا پر مشترک طرز استدلال اپنانے پر متکلمین کو دشنام دیتے اور کلام کو یونانی علوم کا چربہ قرار دیتے ہیں۔ یہ لال بجھکڑ اس بنیادی بات سے بھی آگاہ نہیں کہ معروف علمی اسالیب کی پاسداری اور طرزِ استدلال کا اشتراک علمی بحث کے امکان اور بڑھوتری کی اساسی شرط ہے۔ ہمارا ایک مستقل المیہ یہ گھامڑ اہلِ علم ہیں جو روایتی علوم کو تو خوب آڑے ہاتھوں لیتے ہیں مگر بات جدید علوم کی آئے تو ان کی گھگھی بندھ جاتی ہے۔ ان حضرات کا اصل مسئلہ علم پروری نہیں روایت دشمنی ہے، یہ لوگ ’ جو نقشِ کہن تم کو نظر آئے مٹا دو ‘ پر دل و جان سے عمل پیرا ہیں۔ انہیں کوئی بھی روایتی چیز دکھائی دے جائے تو ناک بھوں سکیڑنے لگتے ہیں۔ انہی کی طرف سے ایک اعتراض یہ بھی وارد کیا جاتا ہے کہ متکلمین نے عقائد کا استناد قرآن سے عقل کی طرف منتقل کر دیا تھا۔ یہ بات نہ صرف معترض کی کج فہمی عیاں کرتی ہے بلکہ اس کی علمی دیانت کا پول بھی کھول دیتی ہے۔ کسی عقیدہ کا بطور عقیدہ استناد ایک الگ شے ہے اور اس پر ہونے والے علمی ایرادات کا علمی دفعیہ ایک بالکل دوسری چیز ہے۔ اگر عقیدہ کا استناد عقل کی طرف منتقل ہوتا تو متکلمین عقل کے تمام ’ واجبات ‘ کو عقیدہ قرار دیتے۔ اگر امر واقعہ یونہی ہوتا جیسے بیان کیا جاتا ہے تو بتایا جائے کہ صفات کو عینِ ذات قرار دینے اور باری تعالی پر عدل کو واجب ٹھہرانے کے معتزلی نظریات میں آخر ایسا کون سا عقلی خلل تھا جو نہ صرف ان کے تسلیم کرنے سے مانع تھا بلکہ ان کے استرداد پر بھی انگیخت کرتا تھا؟خدا لگتی بات یہی ہے کہ متکلمین نے کارزارِ عقل میں جس علمی جانفشانی کے ساتھ دفاعِ عقائد کو نبھایا اور ساتھ ساتھ عقلی انتاجات اور دینی عقائد کا امتیاز برقرار رکھا، وہ انہی کا خاصہ ہے۔

بات کو سمیٹتے ہوئے یہ عرض کرنا نہایت اہم ہے کہ انسان کی ذہنی و شعوری ساخت مرورِ زمان کے ساتھ تحول پذیر ہوتی رہتی ہے، لہذا کوئی بھی علمی اصول ایک عرصے تک ہی مکمل طور پر مفیدِ مطلب(Relevant) رہتا ہے۔ سمے کے ساتھ ساتھ اس کا لبھاؤ ماند پڑ جاتا ہے۔ ایک علمی اصول اگر ایک دور میں نہایت پرکشش محسوس ہوتا ہے تو دوسرے عہد میں وہی بوسیدگی کا عنوان ہو جاتا ہے۔ میرا مطمح نظر یہ قطعا نہیں کہ کلام تمام کا تمام از کار رفتہ ہو چکا ہے۔عرض صرف یہ ہے کہ اگر کلام کا مقصد ذہن و شعورِ انسانی میں ایمان کو رچانا ہے تو یقینا اس ذہن کو رجھانے کے لئے جاذبِ ذہن دلیل لانا بھی ضروری ہے۔ یہاں یہ سوال نہایت غیر ضروری ہے کہ آیا کلامی دلائل کا مکمل رد کر دیا گیا ہے یا نہیں، کیونکہ جب کوئی اصول یا موقف غیر متعلق ہو کر اپنی کشش کھو بیٹھتا ہے تو پھر اس کے رد یا عدمِ رد کا سوال بے معنی ہو جاتا ہے۔ آج ہمیں نئے عہد کی نئی ذہنی فضا سے معاملہ درپیش ہے۔ ہمیں علومِ قدیم نہیں، جدید سے نبرد آزما ہونا ہے۔ کرنے کا کام یہ ہے کہ اپنے اسلاف کی غیرمعمولی بصیرت سے کسبِ فیض کرتے ہوئے اور روایتی علم الکلام کے گہرے مطالعے کے بعد اپنے ایمان کی بنیاد پر ایسا علم منصہ شہود پر لایا جائے جو دانشِ حاضر کی اقلیم میں ایمان و عقیدہ کا سکہ جما سکے۔

ضمیمہ:

مضمون سپردِ قرطاس کیا جا چکا تھا کہ جناب فیصل علی حیدر لاہوتی صاحب کی طرف سے علم الکلام کی عصری معنویت سے متعلق اہم سوال سامنے آیا۔ جس کا جواب بطورِ ضمیمہ منسلک کیا جا رہا ہے۔

گزارش یہ ہے کہ تحریکِ تنویر کے بعد انسانی وجود ہی کی طرح ذہن میں بھی غیرمعمولی تبدیلی واقع ہوئی ہے، لہذا علمی پیراڈائم بھی انقلاب عظیم سے دوچار ہوا ہے۔ پیراڈائم یعنی ’ مجموعی علمی ماحول ‘ جب بدلتا ہے تو کسی بھی علمی ڈسپلن کو اس سے اپنی کچھ نہ کچھ مناسبت قائم کرنا پڑتی ہے تا کہ اس کا وقار و اعتبار برقرار رہے۔ تنویریت سے پیشتر علم بڑی حد تک مذہبی مواقف سے جواز کشید کرتا تھا مگر اب صورت حال یہ نہیں ہے۔ گو کہ اب بھی علم کسی پیش قیاسی مفروضے پر ہی اپنی بنا کرتا ہے تاہم وہ مذہبی نہیں جدیدی ہوتا ہے۔ مگر مغرب یہ بات تسلیم کرنے سے انکاری ہے۔ تو ہماری اولین علمی ذمہ داری مغرب کے اس گھپلے کو آشکار کرنا ہے۔ یعنی ہمیں عقل و علم کی حرکیات اور ان کی تحدیدات کو زیرِ بحث لانا ہے۔

پیراڈائم شفٹ کی وجہ سے اب جدید انسان کو خدا کے ہونے یا نہ ہونے سے براہ راست کوئی دلچسپی نہیں رہی۔اس کے لئے یہ سوال اپنی جاذبیت کھو چکا ہے، یا کم از کم اس کے عقلی جوابات اب اس انسان کے لئے اہم نہیں رہے۔ اب انسان کے بنیادی سوالات انسان مرکز ہو چکے ہیں۔ تو اگر ہم اس نئے انسان کو خدا شناسی کی طرف لے جانا چاہتے ہیں تو خدا کی موجودگی کے کونیاتی یا وجودی دلائل کی بجائے ہمیں انسان کے انسان ہونے کی معنویت کو زیرِ بحث لانا ہو گا۔ اگر ہم نئے آدمی کے رو بہ رو اس سوال کو مکمل اعتماد کے ساتھ اٹھا سکیں تو لازم ہے کہ وہ دم بھر کے لئے ٹھٹکے اور غور کرے۔

اسی طرح اور بھی بہت سے نئے موضوعات علم کی دلچسپی کا عنوان بن چکے ہیں۔ جن میں سے ایک ’انسانی آزادی ‘ ہے۔ مغرب نے نہایت پرکاری سے آزادی کی تقدیری یا وجودی جہت (Freedom as ability) کو قانونی و اخلاقی جہت کے ساتھ گڈ مڈ کر کے مذہب کے مدمقابل لا کھڑا کیا ہے۔ انسانی آزادی کے اس جدید علمی ظاہرے سے نمٹنے کے لئے ہم ” جبر و قدر “ کے روایتی مبحث سے خاصی مدد لے سکتے ہیں۔ یہاں میں باردگر یہ وضاحت کر دینا چاہتا ہوں کہ گو علم الکلام کے کئی مباحث جاذبیت سے تہی ہو چکے ہیں تاہم یہ اپنی کلیت میں مندرس نہیں ہوا۔ اس کے خاصے مباحث(انہی میں سے ایک حسن و قبح کا مبحث) ایسے ہیں جو آج بھی نہایت کارآمد ہیں۔ بس انہیں سلیقے سے اپنے کارِ علم میں بروئے کار لانا اور بدلے ہوئے سوالات سے ہم آہنگ کر کے دکھانا ہمارا کام ہے۔

Recommended Posts

Leave a Comment

Jaeza

We're not around right now. But you can send us an email and we'll get back to you, asap.

Start typing and press Enter to search