آدم زدہ۔ کہانی کار: عاصم بخشی

 In افسانہ

(1)

”صاب، گاؤں میں مشہور ہے کہ ان درختوں کی جڑیں نہیں ہیں،“ علاقہ  فورمین نے اس گہرے سبز جھنڈ کی طرف اشارہ کیا جو افق پر ایک دھبے کی طرح نظر آ رہا تھا۔ ”ان کے ہاتھ پیر ہیں، لمبی انگلیاں، جو ایک دوسرے میں یوں پھنسی ہیں کہ انہیں الگ کرنا ناممکن ہے۔ “

آدم شاہ پروجیکٹ سائٹ کے شروع میں ایک اونچی ڈھلان کے کنارے پر جھکا ہاتھ سے مٹی کا معائنہ کر رہا تھا۔ اس جگہ سے پھیلے ہوئے رقبے کے طول و عرض کا معائنہ کیا جا سکتا تھا۔ ”کیا یہ پھل دار درخت ہیں؟ کس قسم کے؟“ اس نے گاڑی سے دوربین نکالتے ہوئے پوچھا۔ 

”نہیں، پھل نہیں ہیں، سوائے شاید کچھ لیموں کی اقسام کے،“ فورمین نے جواب دیا۔

”تو کیا پٹوار خانے سے باقی ماندہ رقبے کی فرد ملکیت کے کاغذ پورے ہو گئے ہیں،“ آدم نے پوچھا۔ ”کس کا ہے یہ باغ؟“

”بوڑھے میاں بیوی کا۔ اب وہ  نہیں ہیں۔ بڈھا چند سال پہلے گزر گیا تھا اور کہتے ہیں کہ بڑھیا اس کے بغیر ایک سال بھی نہ گزار سکی۔ دونوں نے جوانی میں خود اپنے ہاتھوں سے یہ باغ لگایا تھا۔ ایک ایک درخت۔ اب تک تو کوئی دعوے دار نہیں آیا۔ قریب ہی کچھ قبریں بھی ہیں۔ جب بھی وہاں کسی کو دفنایا، سنا یہی ہے کہ جڑیں زمین کے نیچے پھیل کر اسے سختی سے بھینچ لیتی ہیں۔“ فورمین نے یہ کہتے ہوئے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں ایک دوسرے میں پھنسا کر یوں بھینچیں کہ جوڑوں پر سفیدی نظر آنے لگی۔ ”بالکل اس طرح۔ یعنی ایک بھی تنا اکھاڑنا ہو تو پوری کلائی کاٹنا پڑ جائے۔ نہری مزدوروں نے کبھی اسے ہاتھ بھی نہیں لگایا۔ بس سالوں سے یونہی ہرا بھرا کھڑا ہے۔“

پہلی بار آدم نے پھیلے ہوئے اونچے نیچے رقبے کے پار ایک نپی تلی نگاہ ڈالی۔ موسم  کی مناسبت سے سبزہ کچھ زیادہ ہی تھا، ارد گرد کی باقی زمین پر زردی چھا رہی تھی لیکن اس کا رنگ قائم دائم تھا۔ ”کاٹنے سے پہلے جڑوں کے اکٹھ کو سلجھانا ضروری ہوتا ہے،“ اس نے دوربین ۤآنکھوں سے ہٹائے بغیر کہا۔ ”تمہیں مرحلہ وار چلنا پڑے گا۔ چھوٹی سی خندق سے احاطہ باندھو۔ ایک ہی ساتھ باہر نکالو لیکن قطعوں میں۔ جنوب سے شروع کرو۔  دو دن لے لو۔“ اعداد و شمار پہلے ہی اس کو ازبر  تھے، پوری زمینی سطح کے مربعے اور مکعب، مشینری کی پہنچ اور بڑھنے کا راستہ، سدھائی ستھرائی کے منصوبے۔ باقی سب کچھ اس نے وہاں سنبھال رکھا تھا جہاں وہ وہ  کچھ سنبھالتا تھا جس کا حالیہ منصوبے سے کچھ لینا دینا نہیں ہوتا تھا۔ وہ اسی قسم کی زمینوں پر ہاتھ میں کدال بیلچا لیے بڑا ہوا تھا۔ مٹی اس کے کان میں کچھ ایسا نیا نہیں کہہ سکتی تھی جو اس نے پہلے سن نہ رکھا تھا۔ ”کل صبح سویرے  برمے والی مشین لانے کا کہہ دو۔“

”صاب، گاؤں کے لوگ، وہ کہتے ہیں کہ۔۔۔“ فورمین نے فوراً اپنی جگہ سے ہلے بغیر کچھ کہنے کی کوشش کی لیکن ۤآدم شاہ نے بیچ ہی میں بات کاٹ دی۔ 

”میں جانتا ہوں وہ کیا کہتے ہیں۔“ اس کا لہجہ نرم اور مطمئن تھا۔ ”انہوں نے دریا کے موڑ پر بھی یہی کہا تھا، اور پرانے قبرستان والی پہاڑی پر بھی۔ اب دونوں جگہ سڑکیں ہیں۔“ وہ واپس اپنی لینڈر روور کی طرف مڑا۔ ”آٹھ سے دیر نہ کرنا۔“  

سورج چڑھ ۤآیا تھا اور ان کے اردگرد پھیلا ہوا نشیبی میدان اب اس کی چمک میں انگڑائی لے رہا تھا۔ دور ایک تن تنہا کھڑے پھلاہی کے پرانے  پیڑ کی پھیلی ہوئی چھتری سے  جنگلی کبوتروں کا ایک جوڑا نمودار ہوا تو گہری سبز  رنگت میں یک لخت ایک سرمئی چمک دکھائی دی۔

”یہ والا صاف کرنا آسان ہو گا،“ آدم نے پیڑ  کی طرف اشارہ کیا اور اپنے نقشے کو سوکھے نالے کے ساتھ اس جگہ نشان زد کر دیا جہاں سے بارشوں میں نکاسی نالے نے گزرنا تھا۔دریائے سواں خاکی دکھائی دیتا تھا اور کناروں کے ساتھ ساتھ پانی درجنوں چھوٹی چھوٹی کھاڑیوں میں بٹا ہوا تھا۔ کالونی بننے کے بعد چھوٹے نالوں نے  بڑے نکاسی نالے  میں ملنا تھا جس نے یہیں آ کر گرنا تھا۔ابھی موسمی سیلاب نہیں ۤآیا تھا لہٰذا پانی کم تھا۔ ٹھنڈی ہوا کا ایک جھونکا گندھی ہوئی مٹی کی تیز باس اپنے ساتھ لایا تو آدم کو اس میں کچے گارے کی موجودگی محسوس ہوئی، اسی قسم کا گارا جو سلیں بچھانے میں استعمال ہوتا ہے۔ اس نےسوچا کہ مٹی کے ٹیسٹ کرواتے وقت اس کا خیال رکھنا ہو گا۔ دور جھونپڑیوں کے ایک جمگٹھ میں  کچھ عورتیں رسی پر دھلے ہوئے کپڑے پھیلا رہی تھیں۔ آدم نے اپنے آلے سے وہاں تک کا فاصلہ لیا، بالائی دیواریں، قریب ترین کھڑے اسٹرکچر، پلاٹ جو وہاں ۤآئیں گے جب جھونپڑیاں نہیں ہوں گی۔ اس کا ذہن تیزی سے چل رہا تھا۔

اس نے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھتے ہوئے ایک آخری اچٹتی ہوئی نگاہ ڈالی۔ ذہن میں بالکل صاف صاف تصویر بن چکی تھی۔ کسی دھندلاہٹ کے بغیر۔ سطح زمین کی ہمواری ، بالکل منصوبے کے مطابق۔ ڈھلان پوری درستگی سے نالے کی طرف جا رہی تھی۔ اس نے میدانی سطح کے ساتھ ساتھ نظر دوڑائی تو یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ زمین کٹی پھٹی نہیں تھی۔ پانی یہاں کھڑا نہیں ہو گا، اس نے سوچا۔ صبح سویرے جب اس نے ہاتھ سے  دبا کر نمی کا معائنہ کیا تھا تو ٹھنڈک محسوس ہوئی تھی۔ چار فی صد، زیادہ سے زیادہ پانچ، لیکن منصوبے کی حتمی پیشکش سے پہلے مٹی معائنے  کی رپورٹیں آنے کا انتظار کرے گا۔ ایک بڑا سا چیونٹااس کی کلائی پار کرتے ہوئے اسٹیرنگ پر رینگتا چلا گیا تو اس نے دوسری ہتھیلی سے اسے جھٹک دیا، جس میں ہتھوڑے کی سی سختی تھی۔ 

گاڑی چڑھتے سورج میں بڑھتی چلی جا رہی تھی، اس کے گرد کھلی ہوئی اترائی پوری طرح تیار تھی کہ کام شروع کیا جائے، اونچی نیچی ڈھلوانوں کا تعین، ایک ایک گز کی ٹھیک ٹھیک  پیمائش، پلاٹوں میں تقسیم، سڑک، اسکول، مسجد، مارکیٹیں، پلازے، کلب، جمنیزیم، ہر چیز منصوبے میں درج کی جا چکی تھی۔ وادی کی جھلسی ہوئی سطح پر کچھ ایسا نہیں رہ گیا تھا جس کا اندراج نہ ہو چکا ہو۔ 

کنارے پر، دریا کی خاکی جھلملاہٹ سے ذرا اوپر، باغ ایستادہ تھا۔گہرا سبز اکٹھ، موسم کی موافقت سے کہیں زیادہ سبز۔ سورج کی کرنیں اب تک اس کے اندر داخل ہونے میں کامیاب نہیں ہو سکی تھیں۔

(2)      

اسے اپنی جیپ کچی پگڈنڈی کے کنارے کھڑی کر کے پیدل اندر جانا پڑا۔ اس کا اصول تھا کہ اس وقت تک مشین زمین نہ چھوئے جب تک وہ پاؤں پاؤں معائنہ نہ کر لے۔ برما مشین اور سازوسامان نے آٹھ بجے تک پہنچنا تھا اور مزدور پہلے ہی پہنچ  کر سڑک کے ساتھ خالی میدان میں شامیانہ نصب کر رہے تھے۔ابھی ایک گھنٹہ تھا کہ پوری جنوبی سرحد پر ایک دفعہ چل لیا جائے، عین اس جگہ جہاں سے کھدائی مشین کے لمبے  بازو نے اپنا کام شروع کرنا تھا۔قبل اس کے کہ  پہلا مشینی دانت اندر داخل ہو، کٹاؤ کی پیمائش کا تخمینہ ضروری تھا۔

سورج کی روشنی اب باغ کی فصیل میں نقب لگا چکی تھی اور تمام جگہ کو تنوں کے بیچ ٹیڑھی ترچھی درزوں میں تقسیم کر رہی تھی۔ پیڑوں کی چھتریوں تلے درجہ حرارت میں یک لخت کمی آ گئی  تھی، ٹھہری ہوئی ہوا میں گلتے ہوئے نباتی مادے کی باس تھی۔زمین کوئی خاص مدافعت پیش نہیں کر رہی تھی، سال ہا سال پتوں کی گلاوٹ کے باعث مٹی ایک چپچپے مواد میں تبدیل ہو چکی تھی جو گیلی مٹی اور کیچڑ کی کوئی درمیانی حالت تھی۔

اس نے ناک کی سیدھ میں شست لیتے ہوئے، ایک کے بعد دوسرا پاؤں آگے رکھتے ہوئے  پیمائش شروع کی۔ ایک، دو، تین، وہ اپنی نگاہ زمین پر مرکوز کیے ہوئے، سلسلہ وار آگے قدم رکھ رہا تھااور ایک ایک کر کے چوبی تنے یوں گزرتے چلے جا رہے تھے جیسے کسی چرخی کے دندانے ہوں۔ ان پیڑوں میں جنگلی درختوں والی بدنظمی نہیں تھی جہاں بس یونہی بیجوں کا چھڑکاؤ ہوتا رہتا ہے۔ یہ تو پورے منصوبے کے ساتھ کی گئی شجر کاری تھی۔ بیچ کا وقفہ گو غیر یکساں لیکن سوچا سمجھا تھا جس میں ایک ترتیب کا تاثر پیدا ہوتا تھا۔ اس نے رک کر قطاروں کو غور سے دیکھا۔ کیا یہ واقعی کوئی اصل جیومٹری تھی یا اس بکھراؤ میں اس کی نظر کا دھوکا تھا؟ وہ پھر چلنے لگا۔ ترتیب کا گمان کافی شدید تھا۔ یہ بہت سی انواع و اقسام تھیں۔ ایک خود رو جنگل میں تو دو تین انواع غالب ہوتی ہیں، لیکن یہاں تنوع بہت زیادہ تھا جسے مخصوص ترتیب بھی دی گئی تھی۔ یہ سب کسی محتاط ہاتھ کا کام تھا۔

نیچے والی سرحد پر ایک نالہ چلتا چلا جا رہا تھا۔ اس کی  گہرائی نہایت کم تھی اور تہہ کیچڑ سے بھری ہوئی، لیکن ڈھلوان بالکل درست تھی۔ اس نے بہت نپی تلی نظر سے سیدھ میں دیکھا۔ نالہ ایک اونچے کونے سے نیچے گر رہا تھا۔ جڑوں کے پاس سے بہتے چلے جاتے ہوئے وہ اس جگہ خالی ہو گیا جہاں زمین پر جوہڑ  بننے کی جگہ نہیں تھی۔ جس نے بھی یہ کٹائی کی تھی وہ پانی کو خوب جانتا تھا۔ زمینی  ڈھلوان کا خوب حساب رکھتے ہوئے، ایک ایک انچ کے بہاؤ کی خوب منصوبہ بندی کی گئی تھی۔ وہ اپنے مقررہ وقت کو نظر انداز کرتے ہوئے  کچھ دیر مزید  نالے پر کھڑا رہا۔اس تمام بنیادی ڈھانچے کو دوبارہ استعمال میں لایا جا سکتا تھا۔ایک دفعہ درختوں کی صفائی ہو گئی تو زمین کی سطح ہموار ہو جائے گی۔ وہ نئی لکیر کھینچنے پر مزدوری ضائع نہیں کرے گا، بس کھدائی مشین لگائے گا، کٹاؤ کو گہرا کرے گا اور اپنی سائٹ کی نکاسی کے لیے استعمال کرے گا۔

نسبتاً نوخیز پیڑوں اور زمین کی نمی سے نرم ہوئے تنوں پر کپڑے کی دھجیاں بندھی تھیں۔ کپڑے کا رنگ بالکل اڑ چکا تھا۔ گرہیں سختی سے بندھی تھیں اور تنے کی زندہ چھال دھاگے کو مکمل طور پر نگل چکی تھی۔ وہ فوراً انہیں پہچان گیا۔ یہ ایک قسم کی گرہ بندی تھی، نوخیز پودے کو جزوقتی استحکام دینے  کا طریقہ کار جب تک وہ اپنی  پکی جگہ نہ پکڑ لے۔ جوں جوں لکڑی میں تناؤ بڑھا تو گرہ میں لچک پیدا ہوئی اور پھر دوبارہ کس دی گئی۔ کم و بیش اسی طرح جیسے سیمنٹ گارے کی دیوار کو سریے کی تاروں کا سہارا دیا جاتا ہے، یہاں تک کہ مسالہ سخت ہو کر اپنے ہی وزن پر کھڑا ہو جاتا ہے۔ کسی نے یہاں طے شدہ شیڈول کے ساتھ دیکھ بھال کی تھی۔ ہر سال وہ واپس آتے رہے کہ گرہیں ٹھیک کریں ، انہیں کھولیں، پھر بند کریں ۔

زمین کو بیچوں بیچ ایک راستہ منقسم کرتا چلا جا رہا تھا، مٹی کو دبا کر ایک دبیز سختی دی گئی تھی۔ یہ خالی جگہ تقریباً چھ فٹ پر پھیلی ہوئی تھی، یعنی اتنی چوڑی کہ دو مزدور، بلکه شاید تین بھی اکھٹے چل سکیں۔ یہ راستہ کسی سیدھی لکیر کی طرح بے روک ٹوک باغ سے گزرتا چلا جاتا تھا یہاں تک کہ گھنا چھتر سورج کی روشنی کو مکمل طور پر نگل لیتا اور زمین گھاس سے بالکل صاف ہو جاتی۔ وہ مٹی میں اس جگہ کے ماہ و سال گن سکتا تھا۔ کوئی بھی راستہ ایک موسم میں تو اس درجے کی ٹھوس کثافت اختیار نہیں کر سکتا تھا۔ اسے تو  برسوں کی مسلسل میکانی رگڑ درکار تھی کہ زمین پتھر  ہو جائے۔

وہ باغ کے بیچ میں پہنچ کر رک گیا،  عقب میں اس کی خندق  کی ادھوری پیمائش تھی۔ پھر ایڑی پر گول گھومتے ہوئے واپس مڑا اور ایک گرہ بند پیڑ تک پہنچ کر کپڑے کی دھجی پر ہاتھ رکھ دیا۔ انگوٹھے کے نیچے گانٹھ کافی سخت تھی، حلقے بہت عرصے سے اندر دھنس چکے تھے، چھال ان کے اوپر یوں لپٹ  چکی تھی کہ  تنے کو آزاد کرنے کے لیے گرہ کو زندہ  چھال میں سے کاٹ کر باہر نکالنا پڑتا۔

جس نے بھی یہ گرہ لگائی تھی، کوئی یونہی  بے سوچی سمجھی  مزدوری نہیں کی تھی۔ اس ہاتھ نے گرہ ٹھیک جگہ پر بٹھائی تھی، پھر واپس آ  کر معائنہ بھی کیا تھا کہ کیا وہ اپنی جگہ صحیح بندھی ہے، پھر اسے کھولا تھا اور پھر بار بار یہی عمل دہرایا تھا۔ اس نے انگوٹھا کچھ دیر وہیں رہنے دیا، اس لمحے وہ نہیں بتا سکتا تھا کہ اس نے ایسا کیوں کیا۔ 

باہر سڑک پر ڈیزل انجن کے اسٹارٹ ہونے کی آواز آئی جو ذرا سا ابھری، اونچی گھررر میں تبدیل ہوئی اور پھر بھاری یکسانیت سے رواں ہو گئی۔ کھدائی مشین اپنے وقت پر پہنچ گئی تھی۔ آدم نے اپنی گھڑی پر نظر ڈالی اور الٹے قدموں اسی لکیر پر مڑ گیا جو اس نے قدم به قدم کھینچی تھی۔ اس کے ذہن کے اندرونی ڈیٹا بیس میں یہ معلومات مستقل محفوظ ہو چکی تھیں۔ وہ درختوں کے بیچ سے نکل کر کھلے میدان میں بڑھنے لگا، اس کے بھاری بوٹ سخت زمین پر پڑتے ہوئے ایک  آہنگ دار چرمراہٹ پیدا کر رہے تھے۔ کھلی فضا میں قدم رکھتے ہی وہ مشینری کو علاقہ صاف کرنے کا اشارہ کر چکا تھا۔ 

(3) 

باغ اپنے وقت پر گرتا چلا جا رہا تھا جوں جوں لمبا مشینی بازو جنوبی سرحد کےساتھ ساتھ اپنا کام کر رہا تھا۔ مشین ہر تنے کی بنیاد میں کسی کف گیر کی طرح جاتی، اسے اوپر اٹھاتی اور پھر درخت کو  خالی جگہ پر ڈال دیتی۔ پیچھے پیچھے زمینی مزدور شاخیں گھسیٹ کر آرا مشین تک لے جا رہے تھے۔ ڈیزل انجن مسلسل اپنی دھن بجا رہا تھا۔ برما اپنی باری کا منتظر تھا۔ایک کے بعد ایک پیڑ کٹتا چلا جا رہا تھا، اور گھنا جھنڈ آخر کار سورج کے لیے برہنہ ہوتے ہوئے، گندھی ہوئی مٹی  کی پردہ کشائی کر رہا تھا، جہاں کنکریٹ کی بنیادیں رکھی جانی تھیں۔ 

ہر چیز ٹھیک ٹھیک منصوبے کے مطابق چل رہی تھی اور آدم شاہ کھلے میدان کے کنارے پر کھڑا اس سب کا معائنہ کر رہا تھا۔ 

پھر پہلے جسیم تنے نے مشین کا مقابلہ کرنے کی ٹھانی۔ فولادی دانتوں نے جڑوں کے اُس گنجلک جال کو بھنبھوڑا جن کا اس نے چند روز قبل معائنہ کیا تھا۔ مقصد یہی تھا کہ پوری بنیاد ہی کو اکھاڑا جائے لیکن زیرِ زمین جال نے اپنی جگہ پکڑے رکھی۔ وہ ٹس سے مس ہونے کو تیار نہیں تھا۔ مشینی بازو پر وزن پڑنے لگا، ٹریک پہلے ہی مٹی میں اندر تک دھنسے ہوئے تھے۔ مدفون جڑیں سختی سے اپنے ہمسائیوں کو بھینچے ہوئے تھیں اور پورا باغ ایک ساتھ ہی لرزتا محسوس ہوتا تھا۔ ایک درخت کو نکالنے کا مطلب تھا کہ دوسروں کو بھی ساتھ ہی اکھاڑا جائے۔ پھر  آخر کار زمین کی تہہ سے  تڑاخ کی اونچی گونج سنائی دی۔ مزاحمت ٹوٹ چکی تھی۔ تنا پہلے تو آہستگی سے باہر آیا، پھر  اچانک دھڑام سے زمین پر آ گرا اور ٹوٹتے ہوئے اپنی زردی مائل، گیلی، چمکدار لکڑی عیاں کر دی۔ جڑوں کا ایک بہت بڑا مڑا تڑا، ٹوٹا پھوٹا جال  کسی جسیم بھربھری گیند کی طرح اوپر اٹھا اورزمین پر مٹی کی بارش کر دی۔ 

ساتھ ہی ایک تیز باس ہوا میں پھیل گئی۔ یہ سب کچھ اچانک ہوا، جیسے کوئی تنگنائے کھلتے ہی پانی پھوٹ پڑا ہو۔ خام چوب رس، گیلی لکڑی اور مسلے ہوئے پتوں کی ملی جلی بُو۔ اس بھاری بھرکم  وجود کا سرد، مرطوب اندروں ہوا میں کھلا پڑا تھا۔

اُس نے اِس کے ساتھ وہی کیا جو وہ  دریائی گلاوے کے ساتھ کر چکا تھا۔فوراً معائنے کے لیے آلے کی طرف بڑھا۔ گلاوے سے اس نے چکنی مٹی حاصل کی تھی، وہ بھی پھولی ہوئی، جس کا اندراج وہ اپنے دستاویزات میں کر چکا تھا۔ اس نے اپنے ذہن کے اسی گوشے سے رجوع کیا جو کبھی اسے لمحہ موجود کی پیمائش و تخمینہ میں ناکام نہیں کرتا تھا۔ تمام مال مواد،  نمی کے درجات، اس کے خواص،اور ان تمام معلومات کی قیمت صرف وہی جانتا تھا۔ 

لیکن آلے پر کچھ نہیں ٓایا۔ 

اس نے دوبارہ ریڈنگ لی۔ گرے ہوئے تنے کے کٹاؤ کے بالکل سامنے، سیدھے کھڑے ہو کر اس نے اپنے آلے کی موٹی سوئی دوسری بار اس جگہ ڈال دی جہاں سے  باس اٹھ رہی تھی۔ وہ اسی طرح خالی واپس آیا، اسکرین پر کچھ بھی نمودار نہ ہوا۔ اس نے اچھی طرح دیکھ بھال کر آلے کا معائنہ کیا۔ شاید کٹی ہوئی جگہ پر موجود سبز ماس نے  برقی سینسر کو بند کر دیا ہو۔ شاید ہوا میں ڈیزل کی بُو کی وجہ سے ناکامی ہو رہی ہو۔ یہ بھی ممکن تھا کہ نامیاتی مادہ آلے کو کوئی پیمائش مہیا ہی نہ کر رہا ہو۔ سبز لکڑی اور پتھریلی سطح میں بہت فرق تھا۔ اس کا ۤآلہ تو بنا ہی زمین کے لیے تھا۔ ظاہر ہے پیمائش کیا ہوتی۔ ہاں یہی بات تھی، یہی معقول توجیہہ تھی۔ اس نے ایک لحظہ توقف کیا اور پھر تیسری بار ریڈنگ لی۔ جواب وہی تھا، ہندسے کہیں تھمنے ہی میں نہیں آ رہے تھے۔ اس میں نہ تو کوئی گارا تھا، نہ ہی مٹی، نہ ہی کوئی  ہندسی خاصیت، کچھ ایسا نہ تھا جو اس کے ذہن کے مخصوص سانچے کو جواب دہ ہوتا۔

اس کے ارد گرد کام معمول کے مطابق جاری تھا۔ مشینی بازو کھدائی کا بیلچہ لہرا رہا تھا۔ اگلا تنا اپنی باری کا منتظر تھا۔ مزدوروں نے کلہاڑیوں اور آریوں سے چھتری صاف کی۔ اسے یہ سب محسوس نہیں ہو رہا تھا۔ وہ وہیں  کھلے ہوئے تنے کے سامنے جما  ہوا تھا جس سے باس اٹھ رہی تھی، بار بار ریڈنگ لیتا، پھر دیکھتا،وہاں کچھ نہ پاتا اور ایک بار پھر ریڈنگ لیتا، یہی عمل بار بار دہرائے چلا جا رہا تھا، آلے پر ہندسے نمودار ہوتے ہوئے تیزی سے تبدیل ہوتے، لیکن کسی ایک مقدار پر تھم کر نہ بیٹھتے۔

بیلچہ اگلی جڑ  کے اوپر لہراتے ہوئے اس کے اشارے کا منتظر تھا۔ لیکن اس نے اشارہ نہ دیا۔ وہ ایک لحظہ، وہیں سانس روکے، اپنے ہی آلے کی ناکامی میں کھو چکا تھا۔ وہ شے جو پیڑ کی چھال کے اندر تھی، وہ شے جس کا کوئی نام نہ تھا، وہ مقدار جو آلہ اپنے اندر نہ تو دکھا پا رہا تھا اور نہ ہی رد کر پا رہا تھا، وہ شے اس کے کہیں بہت قریب تھی، اس کے اندر موجود کسی ویسی ہی شے کا ایک جزو تھی، ناقابلِ تعین، ناقابلِ تخمینہ اور ناقابلِ پیمائش، اس کے پیشے کی نسبت اس  کے دل سے زیادہ قریب تر، اس کی کاروائی کے شیڈول سے کہیں زیادہ زود رفتار، وہ اس کی نظروں کے سامنے تھی، لیکن نادیدہ تھی، وہ نہ تو اس سے نظریں ہٹا پا رہا تھا اور نہ ہی اسے سمجھ پا رہا تھا۔

(4) 

کھدائی مشین کا بیلچہ ہوا میں معلق تھا،آپریٹر اب تک  آدم کے حکم  کا منتظر تھا۔ لیکن وہ خالی آلے کے طلسم میں جکڑا ہوا تھا۔ اس مرطوبیت کے سامنے منجمد کھڑا تھا جس سے اب تک گہری باس اٹھ رہی تھی، آلہ بدستور  مقدار کی تلاش میں تھا، سارا آپریشن اس ایک اشارے کی وجہ سے رکا ہوا تھا جو  کرنے پر آدم شاہ اب تک خود کو  آمادہ ہی نہیں کر پا رہا تھا۔

پھر وہ اچانک یوں ٹھٹکا جیسے پہلی بار آلے پر کوئی مقدار دیکھنے کی توقع میں ٹھٹکا تھا۔ اس مشکل  کا ایک واضح اور مناسب حل اس کے سامنے تھا۔ اسے اگلے،  اس سے بھی بڑے  درخت کو گرانے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ اتنے بڑے درخت کو مکمل ہی باہر نکالا جا سکتا تھا، پہلے اس کے گر د ایک دائرہ کھینچنا ضروری تھا،پھر جڑ کی پوری گیند کو ایک ہی ساتھ اٹھانا، پھر مکمل درخت کو جڑوں سمیت ٹریلر پر لادنا اور پہلے سے کھدائی  کیے ہوئے گڑھے میں پہنچا دینا۔ یعنی کاٹ کر نہیں گرانا۔ بلکہ جگہ تبدیل کر دینا۔ 

اس خیال کے آتے ہی ذہنی ٹٹول تھم گئی۔ 

وہ نادیدہ مقدار جو اس کا پیچھا ہی نہیں چھوڑ رہی تھی بالآخر اپنی راہ ہو لی۔ بُو پھر ویسی ہی ہو گئی جیسی کوئی بھی بُو ہوتی ہے۔لکڑی اب واپس آرے کا شکار بننے کے لیے تیار تھی۔ زمین ویسی ہی زمین تھی جس پر بنیادیں کھودی جاتی ہیں۔ وہ سب کچھ جو ایک سانس پہلے  اس کے بہت قریب آ چکا تھا، واپس اپنے معمول کے فاصلے پر چلا گیا، اتنا ہی فاصلہ جہاں کسی بھی سائٹ پر موجود کوئی بھی چیز اس سے ہوا کرتی تھی۔ سانس معمول کے مطابق چلنے لگی۔ پسلیوں کے نیچے کوئی ایسی چیز جو دباؤ  بڑھا رہی تھی، اور اس نے اب تک گردن جھکا کر اس پر نظر نہ ڈالی تھی، مطمئن ہو گئی۔ اتنا اطمینان تو اسے صبح سے نہیں تھا جتنا وہ اب محسوس کر رہا تھا۔

”رکو،“ اس نے کہا۔ ”ہم یہ نہیں کاٹیں گے۔ اسے پورا اٹھائیں گے۔ یہ رکھنے والا ہے۔“

فورمین  آگے بڑھ کر اس کے بازو میں کھڑا ہو گیا اور اس درخت کو دیکھنے لگا جسے اب زندگی کی بشارت سنائی  گئی تھی۔ پھر اس نے پیچھے مڑ کر آج صبح کی تمام کاروائی پر ایک نگاہ ڈالی، صاف کی ہوئی زمین، کٹی پھٹی چھتریاں،مسلسل چلتی آرا مشین جو اب تک ریشے اگل رہی تھی، آدھا باغ تو  پہلے ہی  گھاس پھوس کی تہہ میں تبدیل ہو کر چڑھتے سورج تلے جھلس رہا تھا۔اس سب میں بس ایک ہی تنا بچا کھڑا تھا، اس ۤآدمی کے ساتھ جس نے اس سب کا حکم دیا تھا۔ سوالیہ نشان اس کے چہرے پر صاف دیکھا جا سکتا تھا۔ لیکن اس نے یہ سوال پوچھا نہیں۔ 

ۤآدم شاہ پہلے ہی اسے دلائل دے رہا تھا۔ یہ سب اچھے درخت تھے۔ لیکن ماسٹر پلان کے مطابق کالونی کے بیچوں بیچ ایک سبز پٹی گزرنا ہے، آر پار، شروع سے آخر تک۔پلان کے مطابق ہر گرائے گئے درخت کی جگہ دو پودے لگائے جائیں گے، وہ بھی کوئی تیز اگنے والی نوع، بس تین موسموں کی بات ہے کہ کچھ نہ کچھ نام کا سایہ ہو جائے گا، پانچ موسم گزرنے دو کہ چھتری اتنی بڑی ہو گی کہ ایک ۤآدمی باآسانی اس کے نیچے بیٹھ جائے۔اور یہ ہے ایک پوری عمر کی پھیلی ہوئی چھتری، جو تیار کی تیار مل گئی ہے۔ اتنی عمر کا درخت خریدا ہی نہیں جا سکتا۔ آپ یا تو اسے پوری زندگی سینچتے ہیں، یا پھر اس کے بغیر ہی گزارا کرتے ہیں۔ اگر سب سے بہترین درخت سبز روش  کے کونے میں لگا دیا جائے تو کالونی کھلتے ہی بالکل سامنے ایک سایہ دار مقام دکھائی دینے لگے گا۔ پٹی کے  ساتھ والے پلاٹوں کی قیمت آپ ہی آپ بڑھ جائے گی۔ وہ اسی طرح یہ سب کچھ کہے چلا جا رہا تھا جیسے باقی تمام ضابطے بتاتا تھا، رکن بہ رکن، ایک ایک چیز کا ٹھیک ٹھیک تعین۔ پھر جب اس کی بات ختم ہوئی تو ا س کے سامنے درخت بچاؤ آپریشن چل رہا تھا جہاں ابھی کچھ دیر پہلے کچھ ایسا تھا جو قطعاً  ناقابلِ گرفت تھا۔ ضروری نہیں تھا کہ وہ اس  زود گزر کیفیت کو کوئی نام بھی دیتا۔ 

(5) 

وہ اس کی طرف اسی طرح بڑھے جیسے اس صبح دوسرے تمام درختوں کی طرف بڑھے تھے۔

وہی لمبا مشینی بازو لہرایا اور اس کے ساتھ ضرب لگائی، وہی دانت زمین میں داخل ہوئے، اس بار جڑ کی بنیادوں میں نہیں بلکہ تنے سے کافی دور، جہاں ایک دائرہ کھودا گیا تھا کہ گنجلک جڑوں کی گیند کو سالم نکال لیا جائے۔ مزدور مشین کے پیچھے چلتے ہوئے ہاتھ سے نچلی شاخوں کی صفائی کر رہے تھے تاکہ وہ پکڑ میں ۤآ سکے۔کام بہت سست رفتار اور تھکا دینے والا تھا، سورج سوا نیزے پر تھا اور  سیدھے گرا دینے کی نسبت بہت زیادہ دن لگ گیا۔ لیکن یہ تو ہونا ہی تھا۔ تحفظ کی قیمت بہر کیف کٹائی سے زیادہ ہی ہوتی ہے۔

جڑوں نے اس بار بھی  پہلے جتنی ہی مزاحمت دکھائی۔ درخت زیرِ زمین اپنے ہمسائیوں سے اسی طرح جڑا ہوا تھا جیسے اُس کے خیال میں وہ سب جڑے ہوئے تھے۔ وہ اُس دن باغ میں کھڑے یہ دیکھ ہی چکا تھا کہ یہ کسی باصبر ہاتھ کی کاروائی تھی اور ایک کو نکالنے کا مطلب تھا کہ اسے دوسروں سے علیحدہ کیا جائے۔ ایک کو باہر کھینچ نکالنے کے لیے دوسروں کے ساتھ زورآزمائی لازم تھی۔  یہ سب ہدایات تو وہ خود بھی کام شروع ہونے سے پہلے دے ہی چکا تھا۔ لہٰذا انہوں نے پہلے تو جال کو  تارتار کیا، دانت اور آرا بلیڈ  باہم مدغم جڑوں کے اندر اترے اور اس تنے کو باقی تمام تنوں سے علیحدہ کیا جو اس کے ساتھ ہی اگے ہوئے تھے۔ جڑیں کٹ کر باہر ۤآئیں تو زردی مائل اور نم تھیں، بالکل ویسی ہی زردی مائل لکڑی، جو خون کی طرح  سیاہ مٹی تھوک رہی تھی۔  

تیز بُو ایک بار پھر اٹھی، وہی چوب رس اور گیلی لکڑی،ویسا ہی مسلا ہوا سبز مادہ، اس کی اندرونی ٹھنڈک کو کھلی ہوا لگنے لگی۔ اس بار اسے یہ سب کسی خانے میں رکھنا ہی تھا۔ یہی تو اسے اٹھانے کی قیمت تھی۔ آپ اتنی بڑی زندہ شے کو کیسے کاٹے بغیر اٹھا سکتے ہیں۔ کاٹنا ہی بچت تھی۔ اس نے ریڈنگ لی اور وہ ویسی ہی ۤآئی جیسے متوقع تھی اور ایک جگہ تھم گئی۔ ۤآلہ اس بار اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں نہیں مار رہا تھا۔ اسے کوئی ضرورت ہی نہ تھی۔ آدم نے اس سب کے لیے ایک خانہ تیار کر رکھا تھا، بُو اس خانے میں ٹھیک ٹھیک جا بیٹھی اور فائل کا حصہ بن گئی۔

ایک آدمی ہاتھ والی آری لیے تنے کی طرف بڑھا کہ لپیٹے ہوئے کپڑے کی دھجیاں کاٹی جا سکیں۔ دھیجیاں کافی نیچے بندھی ہوئی تھیں اور جیسا کہ اس نے اس دن معائنہ کیا تھا، کپڑا بے رنگ اور بھربھرا ہو چکا تھا، گرہیں بہت سختی سے لکڑی کے اندر تک گھس چکی تھیں۔ چھال عرصہ ہوا اوپر چڑھ ۤآئی تھی، کچھ اس طرح کہ وہ اب درخت کے اوپر موجود ایک چیز نہیں بلکہ اس کے اندر ملی ہوئی چیز تھی۔ کاٹنے کے لیے زندہ چھال کو کاٹنا ضروری تھا۔ اس نے آری چھال کی نیچے رکھی اور پرانی گرہ کو کھولنے کی کوشش کی، پھر اسے چھیل کر  یوں علیحدہ کر دیا کہ تنا صاف ہو گیا۔ آدم نے اسے باہر  نکلتے دیکھا۔ وہ پرانا سہارا، وہ بندھی ہوئی دھجی، ابھی اس پل تھی اور اب نہیں۔ آدمی نے اسے کوڑے میں پھینکا اور اگلی کی طرف بڑھا۔ آدم پہلے ہی زنجیروں کی طرف بڑھ چکا تھا۔ 

اب ایک بار پھر مشین نے کافی دباؤ برداشت کیا۔ پورا گیند یوں باہر آیا کہ اپنے جال میں بند تھا لیکن کٹی پھٹی جھالریں سی لٹک رہی تھیں اور زمین پر ذرا نیچے ہی معلق ہو گیا۔ اسے لوڈر گاڑی میں رکھ کر زنجیروں سے باندھ دیا گیا۔ ایک درخت جو عمر میں اس کمپنی سے بھی زیادہ تھا اور اس کالونی سے بھی جس کے لیے اسے بچایا جا رہا تھا،  اپنی زمین کی گود سے اچک لیا  گیا تھا اور کچے راستے کے جنوب میں اس گڑھے کی طرف لے جایا جا رہا تھا  جو سبز پٹی  پر اس کا منتظر تھا۔ 

وہ صاف ہوئے راستے پر کھڑا اسے جاتے ہوئے دیکھتا رہا۔ یہ کام بہت اچھا ہو گیا تھا۔ ایک ایسے مسئلے کا جواب بھی مل گیا جس کا کوئی اور جواب نہ تھا، اور پراجیکٹ کو اس کی کچھ ایسی قیمت نہیں دینا پڑی جو واپس وصول نہ ہو سکے۔ اسے محسوس ہوا کہ وہ خود کو  دن کے باقی ماندہ کام کی نسبت اس کام سے زیادہ مطمئن محسوس کر رہا ہے۔ آخر اس نے زمین سے ایک ایسا زندہ وجود نکالا ہےجو پوری زندگی بھی دوبارہ نہیں اگایا جا سکتا اور اسے ضائع نہیں ہونے دیا۔ اسے لگا کہ ایک گھنٹہ قبل اس کے ذہن پر جو دباؤ تھا وہ ہٹ گیا ہے۔ ا س نے واپس جا کر اس دباؤ کو  مزید جاننے کی کوشش نہیں کی۔

باقی ماندہ باغ اندھیرا ہونے تک سپاٹ ہو جائے گا۔ اس نے مشینی بازو کے لیے راستہ چھوڑ دیا اور پیچھے دوبارہ کٹائی شروع ہو گئی، ایک کے بعد ایک تنا اس زمین پر گرنے لگا جس پر  تعمیری بنیادوں کی کھدائی ہونا تھی۔ 

وہ چڑھتے سورج میں گاڑی دوڑاتا دور نکل گیا۔ ایک ایسے آدمی کے طور پر مطمئن جس نے ایک اچھا کام کیا تھا اور اسے جانتا بھی تھا۔ ایک درخت بچ چکا تھا اور باقی سب شیڈول کے مطابق گرائے جا رہے تھے۔

(6)

کالونی  تعمیر  ہو چکی تھی اور کام اپنے اختتام پر تھا جب ۤآدم شاہ نے واپس اسی علاقے کا رخ کیا۔ 

جو دو گرمیاں پہلے وادی کی جھلسی ہوئی زمین تھی وہاں اب تعمیرات اور آبادی تھی۔ بجلی کا گرڈ ایک سرے سے دوسرے تک برقی جال بچھا چکا تھا،  سڑکوں کو نام، گلیوں کو نمبر دیے جا چکے تھے، اس نے جن بنیادوں کا معائنہ کیا تھا وہ اب مکانوں کا وزن سہارے ہوئے تھیں اور مکان اپنے مکینوں کا۔ شام قریب  تھی اور کہیں کہیں پکوانوں کی خوشبو بھی اٹھ رہی تھی۔ پائپوں میں پانی چل رہا تھا، کھڑکیوں سے روشنی جھلکتی تھی، بچے گھروں کے سامنے کھیل کود میں مصروف تھے۔وہ نشیبی زمین جو کھلی پڑی تھی اب ایک آبادی بن چکی تھی اور وہی سب کچھ کر رہی تھی جیسا آدم نے اسے کرنے کے لیے تیار کیا تھا۔ وہ بس یوں اس کے بیچ سے گاڑی گزار رہا تھا جیسے کسی بھی ایسے منصوبے سے گزرتا تھاجو اس نے ابھی ابھی تکمیل کے بعد حوالے کیا ہو، یعنی ایک آنکھ یہاں تو ایک آگے۔ 

منصوبے کے مطابق کالونی کے بیچوں بیچ سبز روش گزر رہی تھی، پانی لگایا گیا تھا اور گھاس خوبصورتی سے کٹی ہوئی تھی، پودوں پر دو موسم گزر چکے تھے اور وہ سبز تھے گو ابھی قد نکلنا باقی تھا۔ پٹی کے سرے پر وہی درخت کھڑا تھا جسے باغ سے نکال لایا  گیا تھا۔ وہ مر چکا تھا۔ چھتری بالکل ننگی اور سرمئی ہو چکی تھی، تنے پر سے چھال اتر رہی تھی، کچھ خود رو جنگلی شاخیں اب بھی ساق کے نچلے حصے سے پھوٹنے کی کوشش کر رہی تھیں جہاں کچھ سبز حصہ جھانکتا ہوا محسوس ہوتا تھا، لیکن شدید جدوجہد کے باوجود انہیں ناکامی کا سامنا تھا۔ اس نے گزرتے ہوئے اس پر اچٹتی سی نگاہ ڈالی جیسے کسی بھی ایسی چیز پر ڈالتا تھا جو منصوبے کے مطابق نہ چل سکی ہو۔ ایک ناکام پیوندکاری۔ ظاہر ہے ہمیشہ ہر  پیوند تو کامیاب نہیں ہوتا۔ اتنی بڑی چیز کو ایک جگہ سے دوسری جگہ اٹھانے میں کچھ خطرہ تو مول لینا ہی پڑتا ہے کہ وہ دوسری جگہ نہ چلے۔ سبز پٹی کی مٹی ویسی تو نہیں تھی جیسی اس باغ کی تھی جہاں وہ اتنا بڑا ہوا تھا۔ پھر بدقسمتی کہیے  کہ پہلے موسم میں اتنی بارشیں بھی نہیں ہوئیں۔ خیر جو ہونا تھا وہ تو ہو گیا، اب کیا ہوسکتا تھا۔ اسے ذرا سی بے چینی محسوس ہوئی، بالکل ویسا ہی ہلکا سا اضطراب جو کوئی بھی ناکامی اس کے اندر پیدا کر دیتی تھی، لیکن اگلا موڑ مڑتے ہی  وہ ختم ہو چکی تھی۔

اس نے خوب اچھی طرح اپنی نگرانی میں یہ سب کروایا تھا۔ اس پہ تو اسے پورا یقین تھا کہ کام میں کوئی کمزوری نہیں تھی۔ حالانکہ شیڈول سے تاخیر ہوئی، پھر بھی اس نے سب سے بہتر درخت کو بچانے کی پوری کوشش کی۔ یہ واقعی ایک کارِ خیر تھا جس کی گرم جوشی اب تک باقی تھی۔عقب میں رہ جانے والی سبز روش پر کھڑا وہ مردہ درخت اور اس کا کیا گیا وہ  کارِ خیر دونوں ایسے متوازی خطوط تھے جو اس کے اندر کہیں مرتکز نہ ہوتے تھے۔ وہ ایک کو اٹھائے، دوسرے کے ساتھ سےگزر گیا اور اسے دونوں ہی کا کوئی بوجھ محسوس نہ ہوا۔ 

 وہ اب کالونی کے پرلے کنارے پر  پہنچ چکا تھا، چوڑی سڑک اور آخری پلاٹ، جس کے بعد اگلا مرحلہ، یعنی ایک نیا فیز شروع ہوتا تھا، پھر ویسا ہی نشیبی، اونچا نیچا میدان، کہیں کہیں سے کٹا پھٹا خاکی، کہیں سرسبز، سروے والی ٹیم کا منتظر کہ  وہ فولادی میخیں گاڑ کر اپنا کام شروع کرے۔ اس نے کنارے پر جیپ کھڑی کی اور زمین پر  پیدل نکل پڑا، جیسے وہ اس سے پہلے بیسیوں زمینوں پر چلا تھا، اونچی  نیچی  ایڑیاں جماتے اور کہیں کہیں ہاتھ سے مٹی کا جائزہ لیتے ہوئے۔

پھر نہ جانے اس کے ذہن میں کیا آئی  کہ اس نے اپنے آلے کا صندوق کھولا اور سکرین کھول کر آلے کو زمین پر رکھ دیا۔ 

چند سیکنڈ تک اسکرین پر کچھ نظر نہ آیا۔ ہندسوں کی جھلمل اسی طرح کسی نتیجے پر پہنچنے کی کوشش کر رہی تھی جیسے اس سے پہلے ہزاروں دفعہ کرتی تھی لیکن کہیں رکنے میں نہ ۤآ رہی تھی، اس کا دل دھڑکا،  یوں محسوس ہوا جیسے کوئی نشانہ خطا ہو جائے اور ہاتھ کچھ بھی نہ آئے، لیکن پھر اچانک ہندسے رکنے لگے، ڈھلوان، نمی، مواد کی شرحیں، زمین سب کچھ صاف صاف اگل رہی تھی، اس پر ظاہر کر رہی تھی کہ وہ اندر سے کیا تھی اور وہ اس  کا کیا کیا کچھ کر سکتا تھا۔ تمام ریڈنگ بالکل صاف صاف دکھائی دے رہی تھی۔صرف وہی چند لمحات تھے جن میں وہ ٹھٹک سا گیا تھا۔

وہ کوئی نوآموز تو نہیں تھا۔ نہ جانے کتنی زمینوں کی نبض شناسی کر چکا تھا  کہ اب تو اس کا شمار بھی نہیں تھااور ابھی نہ جانے کتنی اور کی نباضی باقی تھی۔ ایک آلہ بھی انسان ہی کی طرح عمر رسیدہ ہو جاتا ہے، آپ اسے برداشت تو کرتے ہیں، لیکن اس کے لیے رک نہیں جاتے۔ اس نے اپنی نوٹ بک کے اس حصے میں غلطی درج کی جہاں وہ سب کچھ لکھا جاتا تھا جو کام میں آڑے آئے، دوبارہ ہاتھ زمین پر رکھا اور آلے کے ساتھ ایک اور درست ریڈنگ لی۔ پھر اپنے پیروں پر اٹھ کھڑا ہوا۔ 

اس کے پیچھے کالونی کا نظام چالو تھا۔شام گہری ہو چکی تھی اور برقی قمقمے جل پڑے تھے۔ اس کے آگے اگلی زمین تھی جسے پڑھا جانا تھا، قطعات میں تقسیم ہونا تھا، پھر بنیادوں کی کھدائی اور تعمیر۔ اس نے پہلی جگہ منتخب کی اور سوچا پاؤں پاؤں چل کر فاصلے کا تخمینہ ہی لگا لیا جائے۔ اس کے اندر موجود، امکانات سے بھرے ان چند لمحات کی  جگہ پھر ایک خلا لے چکا تھا، جسے اس نے بھرنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔

Recommended Posts

Leave a Comment

Jaeza

We're not around right now. But you can send us an email and we'll get back to you, asap.

Start typing and press Enter to search