قابلیت کا استبداد۔ مصنف: مائیکل سینڈل۔ تبصرہ: اسامہ ثالث انصاری

جدید دنیا کچھ ایسے خطوط پر استوار ہے کہ اس میں کسی بھی شعبہٗ زندگی میں”نااہل“ یعنی Incompetent  افراد کی کوئی گنجائش نہیں۔ ہر  کام کے لیے قابلیت  (Merit) کے سخت معیارات وضع کئے گئے ہیں۔  لیکن مائیکل سینڈل کا کہنا ہے کہ قابلیت یا لیاقت کی بناء  پر نوکری، یونیورسٹی میں داخلہ، ترقی اور سیاسی نظام کا  استوار ہونا ہی  دراصل  امریکی معاشرے کی اخلاقی تنزلی  کی بنیادی وجہ ہے۔ امریکی معاشرے کی حالیہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ  ٹرمپ کا امریکی صدر منتخب ہونا، متوسط طبقے اور کم پڑھے لکھے امریکی شہریوں کا اسے ووٹ دینا اور دنیا بھر کے غیر امریکی باشندوں کو حقارت کی نظر سے دیکھنا، اکیسویں صدی کے دوسرے عشرے میں امریکہ میں اہم تبدیلی کی علامات ہیں۔ امریکی مزدور طبقے  نے  غیر امریکی باشندوں کے خلاف جس  غیض و غضب کا مظاہرہ کیا اس میں دانش وروں کے لیے حیرت کا اک جہان آباد ہے اور اس موضوع پر بہت سے محققین نے  مختلف  توجیہات پیش کیں ہیں۔ لیکن امریکہ میں (تب) حکمران جماعت (ریپبلکن پارٹی) کے پاس اس صورتحال کی دو انوکھی توجیہات ہیں: اول یہ کہ  آزاد منڈی اور امریکہ میں آز ادانہ آمدو رفت کی وجہ سے عام امریکی شہری کا تشخص  مجروح ہوا ہے ۔ وہ اپنے ہی ملک میں خود کو اقلیت بنتے دیکھ رہا ہے۔ دوسرا یہ کہ ٹیکنالوجی  کے وسیع  استعمال نے مستقل روز گار کو شدید دھچکا لگایا ہے۔ امریکہ میں  مزدور طبقے کے ساتھ  ساتھ درمیانے درجے کے وسائل رکھنے والا شہری بھی پریشانی میں مبتلا ہوا  اور ٹیکنالوجی کی وجہ سے  آئے روز نئی نئی صلاحیتوں کا سیکھنا اس کے لیے پریشان کن امر ہو گیا۔ لہذا امریکی عوام نے تنگ آ کر ڈونلڈ ٹرمپ جیسے قوم پرست شخص کو صدر منتخب کر لیا۔

مائیکل سینڈل کے نزدیک  یہ دونوں توجیہات جزوی صداقت کی حامل ضرور  ہیں لیکن حقیقت کی مکمل نمائندگی سے قاصر  ہیں ۔ اس کے نزدیک قوم پرستی، نسل پرستی اور مہاجرین  سے نفرت کا جذبہ پیدا ہونے کی اصل وجہ امریکی حکومت کا  حالات سے  نپٹ نہ  سکنا  ہے ۔ مزید یہ کہ ایسا قابلیت و لیاقت  کو زندگی کے ہر ہر شعبے میں معیار بنا لینے کا ثمر ہے۔

مائیکل سینڈل کہتا ہے کہ امریکہ جس  عوامی سیاسی نعرے کا داعی ہے وہ نعرہ شخصی قابلیت کا نعرہ ہے۔ امریکہ کا مثالی خواب  یہ ہے کہ ہر شخص اپنی قابلیت کی بناء پر خوشحال اور باوقار زندگی بسر کر سکتا ہے ۔ جتنی اس میں قابلیت ہوگی اتنا اس کو پھل ملے گا یعنی حصہ بقدر جثہ۔ اسی  مثالی خواب  کی بناء پر امریکی صدور اپنی صدارتی انتخابی مہم کے دوران یہ تبلیغ کرتے نظر آتے ہیں کہ امریکہ میں ہر شخص کے لیے اس کی صلاحیتوں کے مطابق پھل موجود ہے۔  ہر ایک  کو یکساں آزادی حاصل ہے  کہ اپنی صلاحیتوں کا لوہامنوائے اور کامیابی سے ہمکنار ہو۔  دوسرے لفظوں میں اگر آپ امریکہ میں رہتے ہیں تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ امیر ہیں یا  غریب، کالے ہیں یا گورے۔ آپ بھی ترقی کر سکتے ہیں اور خوشحال زندگی بسر کر سکتے ہیں جس میں آپ کے پاس گھر ہوگا، گاڑی ہوگی اور دولت ہو گی۔ اس کے لیے آپ کو  اپنے اندر چھپی ہوئی صلاحیتوں  کا بھرپور استعمال کرنا ہے  اور ترقی آپ کے قدم چومے گی۔

امریکہ ایک فلاحی ریاست نہیں ہے اور اس  امر کا دفاع  امریکی صدور شخصی قابلیت کی دلیل سے کرتے ہیں۔ امریکہ میں صحتِ عامہ کی صورتحال ایسی ہے کہ  غریب آدمی جس کے پاس بیمہ پالیسی نہیں ہے وہ اپنا علاج نہیں کروا سکتا۔  ایسی صورت  میں صحتِ عامہ کا بجٹ کم کرنے کا کوئی جواز نہیں  بنتا لیکن امریکی صدور شخصی قابلیت کا ڈھول  پیٹ کر صحتِ عامہ کا بجٹ کم کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں اور عوام بھی راضی ہو جاتے ہیں۔ ” اگر آپ ایک ذمہ دار شہری ہیں تو آپ کو ریاست پر بوجھ نہیں بننا چاہیے بلکہ اپنے لیے آمدنی کے ذرائع پیدا کریں، اپنی قابلیت کو استعمال کریں“، ایسا کہتے ہوئے پائے گئے ہیں امریکی صدور۔  ” بھلا ایک آدمی جو ریاست کے پیسے پر پلتا ہے  وہ بہتر ہے یا وہ جو خود کماتا ہے“؟ بڑا خوشنما نعرہ ہے۔

برسوں  قابلیت کا راگ سننے کے بعد آج امریکی عوام کہاں کھڑے ہیں؟ مائیکل سینڈل کہتا ہے کہ لوگ  احساسِ کمتری کا شکار ہوگئے ہیں۔ میرٹ یعنی شخصی قابلیت  کے حصول کی دوڑ ایک دو دھاری تلوار کی مانند ہے۔ جو لوگ اپنی صلاحیتوں کی بناء پر نوکری کے حصول یا امریکہ کی اچھی جامعات میں داخلہ حاصل کر لیتے ہیں وہ ایک خاص قسم کے تکبر اور خود اعتمادی کا شکار ہو جاتے ہیں کہ ہم نے اپنی شخصی صلاحیتوں کی بناء پر یہ رتبہ حاصل کیا ہے۔ ہم نے برس ہا برس محنت کی ہے اور ہم اس قابل تھے  جبھی تو یہ مقام ملا ہمیں! ساتھ ہی وہ لوگ جو قابلیت کے معیار پر پورا نہیں اترتے وہ خود اعتمادی سے محروم ہو جاتے ہیں کہ ہم اس قابل ہی نہیں کہ فلاں عہدہ یا فلاں مقام ہمیں ملے۔ یہ بڑی خطرناک صورتِ حال ہے ۔

سینڈل کہتا ہے کہ میرٹ میرٹ کا راگ الاپ کر ہم اپنی معاشرت تباہ کر رہے ہیں۔ ہمیں سوچنا چاہیے کہ قسمت اور ترقی میں بھی کوئی تعلق ہو سکتا ہے۔ لازمی نہیں کہ ایک کامیاب آدمی کی کامیابی اس کی قابلیت کی بناء پر ہی ہو۔ اس کی قسمت اس کے ماں باپ کی تربیت اور اس کے معاشرتی ماحول کی تربیت کا عمل بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن قابلیت کو معیار بنا کر معاشرے کو قابلیت کی لاٹھی سے ہانکنے کا نتیجہ بہت برا ہوگا۔ لوگ ایک دوسرے پر اعتماد کرنا چھوڑ دیں گے۔ سماجی تعلقات خراب ہوں گے اور سب سے بڑھ کر وہ لوگ جو میرٹ یعنی قابلیت کے پیمانے پر پورا نہیں اترتے وہ احساسِ محرومی  کے شکار اور خود اعتمادی سے محروم ہو جائیں گے۔  مزید سینڈل یہ بتاتا ہے کہ قابلیت کا معیار کس طرح کرپشن کے دروازے کھولتا ہے اور پوری معاشرت کے معیار ات بدل کر رکھ دیتا ہے۔ مائیکل سینڈل کے خیال میں تاریخی طور پر پروٹسٹنٹ لوگوں نے قابلیت  کوبطور معیار قبول کیا اور معاشرے میں  قابلیت اور مقدر کی دوئی کی دہائی دی۔  نتیجتاً قابلیت کو معیار کے طور پر قبول کر لیا اور مشیتِ ایزدی کو بھی قابلیت کے اصول میں مقید کر کے پیش کیا۔

اگر آپ سے کوئی پوچھے کہ زید کو نوکری کن بنیادوں پر ملنی چاہیے یا بکر کا  میڈیکل کالج میں داخلہ کس معیار پر ہو  تو آپ کا جواب کیا ہو گا؟ جیسے ہی ہم میڈیکل کالج میں داخلے یا کسی نوکری پر بھرتی ہونے کا معیار وضع کرنے کا سوچیں تو شاید سیاسی پسِ منظر کا ہونا، ذاتی قابلیت، اہلیت، اچھے امتحانی نمبر، صلاحیت اور دیگر خصوصیات  وہ عام معیارات ہیں جو بالعموم ہمارے ذہنوں میں آتے ہیں۔ کیونکہ  ہم اپنے ارد گرد ایسا ہوتا دیکھتے ہیں۔ آج کل سیاست کا بازار گرم ہے۔ کرسیٗ وزارت  کس کو ملنی  چاہیے اور کس کو نہیں ملنی چاہیے، ہم سب نے شاید کوئی نا کوئی معیار بنا رکھا ہوتا ہے۔ ہماری  روزمرہ زندگی میں کئی مواقع ایسے آتے ہیں جب ہمیں کسی کی اہلیت کو جانچنے کا مرحلہ درپیش ہوتا ہے یا کم از کم ہم اس پر رائے ضرور دیتے ہیں۔ یہ سوال جتنا سادہ ہے اتنا ہی اہم بھی ہے۔ عام مشاہدہ ہے کہ سب سے اہم عنصر جو کسی کی اہلیت کو جانچنے کا استعمال ہوتا ہے وہ قابلیت یعنی میرٹ ہے۔ میرٹ پر فیصلہ ہونا چاہیے۔ عدلیہ میرٹ پر کام کرے۔ حکومت میرٹ پر مبنی ہو اور نوکری یا داخلہ میرٹ پر ملے۔ آئے روز ہم ا خبارات میں پڑھتے ہیں کہ فلاں ادارہ میرٹ کا قتل کر رہا ہے۔ رشوت لے کر میرٹ کا جنازہ نکالا جا رہا ہے۔ سیاسی پس منظر کسی  حقدار کےمیرٹ کو لوٹ رہا ہے۔ لہذا میرٹ پر فیصلہ ہونا چاہیے اور اعلیٰ جامعات میں میرٹ پر داخلہ ہونا چاہیے۔ امریکہ میں جامعہ ہارورڈ، سٹینفورڈ اور ییل  سمیت چند دیگر جامعات داخلے کے سخت معیارات کی وجہ سے معروف ہیں۔ دوسری جانب یہی جامعات طلبہ کو رغبت دلانے کی خاطر اپنی قابلیت کا ثبوت مختلف طریقوں سے پیش کرتی ہیں۔جن میں ان جامعات سے فارغ التحصیل ہونے والے امریکی صدور کے نام کی اشاعت سرفہرست ہے۔ نتیجتاً امریکہ میں بورژوا طبقہ ہر قیمت پر ان جامعات میں داخلہ لینے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ ایک  پیچیدہ کھیل ہےجس کی ایک جھلک ہی کی تاب لانا ہمارے لیے ممکن نہیں ہو گا۔سینڈل  لکھتا ہے کہ  امریکہ میں ایک ادارے کے سربراہ  نے اپنی بیٹی کے داخلے کے لیے غیر قانونی ہتھکنڈا استعمال کیا جس کی قیمت تقریبا ایک کروڑ بیس لاکھ روپے بنتی ہے ۔ اسی طرح ایک آدمی نے اپنی بیٹی ییل (Yale               University)  میں ساکر (Soccer) اسپورٹس کوٹے پر داخل کروانے کے لیے تقریبا ساڑھے اٹھارہ کروڑ  روپے ادا کیے (ص7-8)۔ ایسا معاشرہ جس میں اعلیٰ تعلیم اور قابلیت کے معیارات کی پرستش کی جاتی ہو اس میں غریب ، کم پڑھے یا اَن پڑھ،اور مزدور پیشہ افراد کے لیے کوئی گنجائش نہیں رہتی۔ سیاست کے دروازے ان پر بند ہوجاتے ہیں جو  نا صرف جمہوریت کی روح کے منافی ہے بلکہ اخلاقی طور پر بھی قابلِ رحم صورت حال ہے(ص104)۔ قابلیت ایسی شے ہے کہ اگر یہ کسی میں نہیں ہے تو اسے کروڑوں روپے خرچ کرنے ہوں گے پھر کہیں جا کر قابلیت کے معیار سے اس کو استثنیٰ حاصل ہو گا۔  اس طرح قابلیت کے اصول پر بنائے گئے ادارے کرپشن کی راہیں کھولتے ہیں۔ جس کے بیک وقت دو فائدے ہیں۔ پہلا یہ کہ کرپشن کا مکروہ ہونا عیاں ہو جاتا ہے نیز دوسری طرف قابلیت کے معیارات  پر عمل نہ کرنے والے اداروں اور  حکومتوں پر تنقید کی جاتی ہے۔ لیکن کبھی یہ نہیں سوچا جاتا کہ مسئلہ فی نفسہ ہے کیا۔ ایسا معاشرہ جو قابلیت کے طے کردہ معیارات پر استوار ہو وہ معاشی ناہمواریوں کو کم نہیں کرتا بلکہ عدم مساوات کو صلاحیت نامی پنجرے میں قید کر کے جواز فراہم کرتا ہے(ص 115)۔

سینڈل قابلیت کے اصولوں پر استوار معاشرے کی اخلاقی صورتحال سے پریشان نظر آتا ہے۔ اس کا خیال ہے کہ  ایسا معاشرہ ان لوگوں کے لیے بہت تباہ کن  نتائج پیدا کرتا ہے جو کسی وجہ سے قابلیت کے پیمانے پر پورا نہیں اتر سکتے۔  اس کے خیال میں، قابلیت کا خوشنما اصول بڑا دیدہ زیب ہے لیکن اس کا حصول تقریباً ناممکنات میں سے ہے۔ اگر بالفرض کوئی معاشرہ حقیقی طور پر قابلیت کے معیارات کی روشنی میں ترتیب پا بھی جاتا ہے تب بھی وہ مثالی معاشرہ نہیں کہلا سکتا  ۔ سینڈل اس پر دو اہم اعتراضات پیش کرتا ہے۔ پہلا عدل کے تصورات کے متعلق ہے اور دوسرا کامیابی و ناکامی سے منسلک رویوں  پر  مبنی ہے۔  سینڈل اس بات پر زور دیتا ہے کہ قابلیت کے معیار کے پیچھے  مساوات نہیں بلکہ Social               Mobility  یعنی اپنی سماجی حیثیت تبدیل کرنے کی صلاحیت  کا فلسفہ کارفرما ہے۔ قابلیت کا  نعرہ عدم مساوات کو ختم کرنے کا نہیں بلکہ اس کو جواز دینے کا نظریہ ہے(ص122)۔

مائیکل سینڈل کے نظریات  سے ملتے جلتے خدشات کا اظہار دیگر کئی مفکرین کے ہاں بھی ملتا ہے۔ مثلا عاطف حسین  کا کہنا ہے کہ میرٹ کو عمومی معنوں میں عدل کا متوازی سمجھا جاتا ہے جو درست نہیں ہے۔ قابلیت دراصل خوش قسمتی کے جھولے میں پلتی ہے۔ اسی طرح کسی شخص کے قابلیت کی دوڑ میں پیچھے  رہ جانے کی وجہ بھی اس کی اچھی قسمت نا ہونے کی وجہ سے ہوتی ہے۔ قابلیت پر مبنی نظام معاشی اور سماجی ناہمواری کو جواز دینے کا نظام ہے۔ اسی طرح 1958ء میں مائیکل ینگ نامی ماہرِ عمرانیات نے اپنی کتاب میں (جس کو بنیاد بنا کر سینڈل نے اس کتاب میں  اپنا نقطہ نظر پیش کیا ہے) برطانیہ میں قابلیت کے فلسفے پر زبردست تنقید کی ہے۔ مائیکل ینگ ہی وہ پہلا آدمی ہے جس نے Meritocracy کی اصطلاح وضع کی۔ ینگ کا خیال تھا کہ 2033ء تک برطانوی معاشرہ شدید عدم مساوات کا شکار ہوجائے گا کیونکہ رفتہ رفتہ تعلیم کے نام پر قابلیت کے معیارات کو لاگو کیا جا رہا ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ 2001ء میں مائیکل ینگ اس وقت کے برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر  کو متنبہ کرتا ہے کہ وہ قابلیت کے فلسفے کا غلط استعمال کر رہا ہے۔ ینگ افسوس کرتا ہے کہ اس نے یہ اصطلاح کیوں وضع کی۔ یہ اصطلاح منفی معنیٰ کی حامل ہے مگر اکیسویں صدی کے آغاز سے اسے مثبت اور تعمیری معنوں میں استعمال کیا جانے لگا ہے۔

سٹینفورڈ میں قانون کا  پروفیسر ڈینیل مارک ووٹس اپنی کتابقابلیت کا فریب“ (2019ء) میں متنبہ کرتا ہے کہ  قابلیت کے نام پر امریکی معاشرے میں زبردست معاشی ناہمواری پیدا کی جا رہی ہے۔  اسی طرح رابرٹ فرینک اپنی کتاب ”قابلیت  اور مقدر“ (2016ء) میں قابلیت کی اساطیری حقیقت کا پردہ فاش کرتا ہے۔ اسے بھی خدشہ ہے کہ قابلیت کا استبداد معاشرتی ٹوٹ پھوٹ کا باعث بن رہا ہے۔ کامیابی کے باب میں لوگ اپنی ذاتی صلاحیتوں کے نام پر خاندان، معاشرے اور دیگر عوامل کے کردار کو  ناصرف سراہنے کے خلاف ہیں بلکہ اس کے منکر بھی ہیں۔ جبکہ حقیقت میں کسی فردِ واحد کی کامیابی میں اس کے رشتہ داروں، دوست احباب سمیت دیگر کئی اہم عوامل شامل ہوتے ہیں۔

سینڈل نظری طور پر(چند تحفظات کے ساتھ) Communitarian  مکتب فکر سے تعلق رکھتا ہے۔ اس کے نزدیک  Good ”اچھائی“ کو Right ”حق “ پر فوقیت حاصل ہے۔ اپنی اس کتاب میں جان رالز پر تنقید کرتے ہوئے سینڈل ، رالز کے تصور  حقوق پر تحفظات کا اظہار کرتا ہے۔ اس کے خیال میں   Common  Goodیعنی ”عوامی خیر“ کا حصول حکومت کا مقصد ہونا چاہیے۔ عوامی خیر  کا حصول اور اس کی تگ ود و ہی کسی حکومت کے  درست ہونے کی نشانی ہے اور اسی سے سماجی  عدم مساوات میں کمی آتی ہے۔

اگر ہم غور کریں تو معلوم ہوگا کہ قابلیت کے معیار پر سینڈل کی تنقید دراصل اخلاقی اصولوں کی برتری کا فلسفہ ہے۔ لیکن سینڈل اس کو کسی بڑے تناظر میں پیش نہیں کر سکا۔ اپنی زیادہ تر تحاریر میں وہ صرف تنقید کرتا نظر آتا ہے ۔ لیکن جب اس سے پوچھا جاتا ہے کہ  اس  مسئلے کا حل کیا ہے ؟ تو وہ یہی کہتا پایا گیا ہے کہ ہمیں اخلاقی طور پر سوچ  بچار کے بعد فیصلے کرنے چاہییں۔  وہ اخلاقی اصول کیا ہوتے ہیں؟ اس پر بھی سینڈل زیادہ تر عوامی رائے پر انحصار کرتا ہے۔ مثلا  وہ 2012ء میں شائع ہونے والی اپنی ایک کتاب ”پیسہ کیا نہیں خرید سکتا؟“ میں درجنوں اخلاقی مسائل کی نشاندہی کرتا ہے۔ وہ دوران لیکچر اپنے طلباء سے پوچھے گا کہ کیا پیسوں کے لیے گردے بیچنے چاہییں؟ ہاتھ کھڑا کریں۔۔۔ کچھ طلباء پیسوں کے عوض گردے بیچنے کے حق میں دلائل دیں گے اور زیادہ تر اس کے خلاف۔ اسی طرح  کے اخلاقی نوعیت کے سوالات اٹھا کر سینڈل یہ رائے دیتا ہے کہ ہمیں اخلاقی معاملات میں غوروفکر کر کے فیصلہ کرنا چاہیے۔ لیکن وہ اخلاقی اصول کیا ہوتے ہیں؟ سینڈل اس پر خاموش رہتا ہے اور  اخلاقیات کی کوئی واضح تعریف پیش نہیں کرتا۔  زیر بحث کتاب میں بھی سینڈل متبادل حل  پیش نہیں کر سکا ۔ متبادل کی بحث کرتے ہوئے وہ  کہتا ہے کہ ہمیں قابلیت کے فلسفے کو پس پشت ڈالتے ہوئے ہر طرح کے کام کی اہمیت کا احساس اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ معاشرے میں ہر فرد اپنے حصے کا مثبت کام کرتا ہے، وہ چاہے ریڑھی لگانے والا ہو یا جھاڑو دینے والا۔ ہمیں ان سے محبت کرنی چاییے اور ان کے کام کو سراہنا چاہیے۔ یہی ایک حل ہے جس کے ذریعے سماجی عدم مساوات میں رفتہ رفتہ کمی آسکتی ہے اور رویوں میں اعتدال ۔

مائیکل سینڈل ایک مشہور امریکی فلسفی ہے۔ جاپان، انڈیا اور چائنہ میں اس کی شہرت کا ڈنکا بجتا ہے۔ امریکہ میں اسے پبلک فلاسفر کہہ کر پکارا جاتا ہے۔ سینڈل عام فہم زبان میں اخلاقی اور سیاسی مسائل پر گفتگو کرتا ہے۔ بی بی سی ریڈیو پر گفتگو کرنی ہو یا ہارورڈ میں لیکچر دینا ہو، سینڈل کا اسلوب سادہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کا مرتب کردہ کورس بعنوان عدل(Justice) ہارورڈ یونیورسٹی کا پہلا باقاعدہ کورس ہے جسے انٹرنیٹ پر افادہ عام کے لیے بلامعاوضہ نشر کیا گیا اور جو بہت معروف ہوا۔ سینڈل نوجوان طالب علموں سے خوبصورت انداز میں مکالمہ کرنے اور اخلاقی و سیاسی مباحث پر گفتگو کرنے میں مہارت رکھتا ہے۔ مائیکل سینڈل کی کتاب بعنوان قابلیت کا استبداد (The               Tyranny               of               Merit) ستمبر 2020ء میں شائع ہوئی جب امریکہ سمیت پوری دنیا کرونا وائرس کی لپیٹ میں تھی۔ کرونا کی وباء کا اثر صحتِ عامہ کے ساتھ ساتھ سیاست اور معیشت پر یکساں ہوا۔ جب ہر کوئی ماسک ڈھونڈنے اور اپنے گھروں میں محصور ہونے پر مجبور ہو گیا تو دنیا کی سپر پاور امریکہ اپنے تمام شہریوں کو 5 روپے کا ماسک مہیا نہ کر سکی۔ سینڈل کے خیال میں امریکی معاشرے میں اتحاد اور محبت کی کمی، جس نے میرٹ کے استبداد سے جنم لیا، ایک اہم وجہ تھی جس نے کرونا کے دنوں میں افراتفری کو پروان چڑھایا اور ریاست اس مسئلے سے نپٹنے میں ناکام رہی۔

سینڈل کے افکار سے ہمیں اتفاق ہو یا نہ ہو لیکن جس مسئلے کی طرف اس نے توجہ دلائی ہے وہ ہمارے لیے اہم ہے۔ ہمارے ملک میں طلباء میں خودکشی کا رحجان بڑھ رہا ہے جس کی متعدد وجوہات میں سے ایک میرٹ کی دوڑ میں ناکام ہوجانا ہے۔ اسی طرح ہم آئے روز اخبارات میں پڑھتے ہیں کہ مطلوبہ میرٹ کو حاصل نہ کر سکنے کی بناء پر طلباء خودکشی کر رہے ہیں۔ یہ ایک سنگین صورتحال ہے۔ مغرب میں سیاستدان میرٹ کے نام پرکیسے ووٹ حاصل کرتے ہیں اس کا تذکرہ سینڈل اور دیگر مفکرین نے تفصیل سے کیا ہے۔ ہمارے ملک میں بھی سیاستدان قابلیت کے نعروں سے سیاست کا پُرفریب کھیل کھیلتے ہیں۔ قابلیت کے نام پر سیاست کرنے والوں نے ملک کا جو حشر کیا وہ بھی سب کے سامنے ہے۔ ہماری معاشرتی بے حسی اس قدر بڑھ چکی ہے کہ دنیا میں پیش آنے والے حادثات سے بھی ہم کچھ نہیں سیکھتے۔ قابلیت کے معیارات کے حوالے سے عصر حاضر کے دانشور جو مسائل اجاگر کر رہے ہیں ہمیں ان کو سنجیدگی سے دیکھنا ہوگا اور اپنے معاشرے کی اخلاقی قدروں کے مطابق تربیت پر زور دینا ہوگا۔ 

272 صفحات کی اس کتاب کو ایلن لین ALLEN               LANE پبلشر، امریکہ نے شائع کیا ہے۔ اپنی اشاعت کے اگلے ہی ماہ (اکتوبر 2020ء)سے یہ معروف پاکستانی کتب فروشوں کے ہاں دستیاب تھی۔ 

Recommended Posts

Leave a Comment

Jaeza

We're not around right now. But you can send us an email and we'll get back to you, asap.

Start typing and press Enter to search