انسان اور گزشتہ تین صدیاں: طارق عباس

 In تاثرات

اپنے آپ کو سترھویں صدی میں تصور کیجئے۔ آپکی زندگی کا سفر آپ کے اجداد کے سفر سے مختلف نہیں ہو گا۔ آپ کا بچپن، جوانی، بڑھاپا بعینہ انہی کی زندگیوں کےمشابہ ہونگے۔ بلکہ ہزاروں سالوں سے شاید لوگ ایسی ہی زندگی جیتے رہے ہونگے۔ آپ کے پاس وزن اٹھانے کی قوت تھی، آپ اشیاء کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کر سکتے تھے، یا کوئی چیز مکمل طور پر ذاتی کوشش کے نتیجے میں بنا سکتے تھے۔ زیادہ سے زیادہ آپ کی مدد کیلئے جانور موجود تھے۔ بہت سوں کی زندگی مزدوروں اور کسانوں کی زندگی تھی۔ چند لوگ شاید دستکار، تاجر، یا پادری تھے ۔ زندگی سو برس، ہزار برس، بلکہ تین، چار یا پانچ ہزار برس قبل بھی ایسے ہی تھی۔ مگر پھر اچانک کچھ بڑا ہوا اور سب یکسر بدل گیا۔

تین عظیم معاشی انقلاب آئے۔ 1750 کے بعد سے بچوں کی زندگی کی اپنے والدین و اجداد سے مشابہت معدوم ہونا شروع ہوئی۔ فطرت کی ’تسخیر‘ اور ’فہم‘ کے نتیجے میں رونما ہونے والے سائنسی انقلاب نے ٹیکنالوجی کی ایجاد ممکن بنائی، جس نے انسانی باہمی تعلقات کو بہت بنیادی جہتوں میں بدل کر رکھ دیا۔ برطانیہ میں زرعی انقلاب 1750 کے قریب اور دنیا کے دوسرے حصوں میں اس کے کچھ بعد آیا۔ 1750 کے بعد، آلات اور مشینوں میں بہتری آئی اور نئی فصلوں کی آبیاری کا آغاز ہوا۔ کھاد بنائے جانے کے بعد کاشتکاری نے ترقی کے مزید زینے طے کئےجیسا کہ زرعی زمین کا زیادہ سے زیادہ استعمال اور اسی خطۂ زمین سے پہلے سے کہیں زیادہ فصل کی پیداوار شامل تھے۔

اس انقلاب کا اہم ترین جزو سیاسی توازن تھا۔ اور بالآخر دنیا نے اُس عدم استحکام سے نجات پائی جو کہ مطلق العنان بادشاہت کے باعث ہمیشہ ہوا کرتا تھا۔ برطانیہ میں پارلیمنٹ کی طاقت میں اضافہ شاہی طاقت کی کمزوری پر منتج ہوا۔ اس تبدیلی کا اہم ترین جزو زمینی جائیداد کے حقوق میں تبدیلی تھا۔ پہلے ہمیشہ سے زمین چند جاگیرداروں کی ملکیت ہوا کرتی تھی اور مزارع وہاں ملازمت کرتے تھے لیکن اب کسانوں کو بھی زمین کا حق ملکیت دیا جانے لگا، لوگ زمین کی خرید و فروخت کر سکتے تھے۔ اور اسی حق ملکیت کے باعث وہ اپنی زمین پر زیادہ محنت سے کاشتکاری کرتے، نئی ٹیکنالوجی استعمال میں لانے کیلئے پیسہ خرچ کرتے تاکہ اُن کے کھیتوں کی پیداوار میں اضافہ ہو۔ ماضی میں اگر کوئی فارم کامیاب ہو جاتا تو بادشاہ سلامت اس پر قبضے کا قانونی حق رکھتے تھے اور کسان کو اپنے حقِ ملکیت سے دستبردار ہونا پڑتا تھا۔ لیکن اب ایسا نہیں تھا۔ اگر زمینی ملکیت کا قانون تبدیل نہ ہوتا تو کبھی بھی نئی ٹیکنالوجی سے اس سطح پر استفادہ نہ کیا جا سکتا جیسا کہ کیا گیا۔ مختصر یہ کہ زرعی انقلاب کے نتیجے میں خوراک پہلے سے کہیں زیادہ مقدار اور کہیں کم قیمت میں دستیاب ہونا شروع ہو گئی۔ کاشتکاری کیلئے مزارعوں کی ضرورت گھٹ گئی اور اس کا مطلب یہ تھا کہ اب اضافی مزدور بہت سے دوسرے کاموں کیلئے دستیاب تھے۔  پیداوار میں اضافے سے یہ نتیجہ برآمد ہوا کہ  کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہوا اور  اُن کے پاس دیگر کاموں کیلئے سرمایہ جمع ہونے لگا۔ خوراک کے ساتھ ساتھ باقی شعبہ ہائے زندگی میں بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ اور جب ایڈورڈ کارٹ رائٹ نے پاور لُوم ایجاد کی تو کاٹن انڈسٹری میں ایک انقلاب برپا ہو گیا۔ انیسویں صدی کے آغاز تک  کپڑا ہاتھ سے بُنا جاتا تھا اور اسی وجہ سے کمیاب اور مہنگا تھا۔ لوگ اپنی ساری کی ساری آمدنی صرف تین ضرورتوں کو پورا کرنے میں صرف کر ڈالتے تھے: خوراک، لباس، اور رہائش (نوٹ:”روٹی، کپڑا، اور مکان“ سے یہ مماثلت محض اتفاقی ہے)   لیکن انیسویں صدی کے وسط میں یہ رجحان تبدیل ہونا شروع ہو گیا۔ اور ان چند برسوں میں برطانیہ میں ہزاروں کی تعداد میں پاور لومز نے کام کرنا شروع کر دیا۔ ٹیکسٹائل کی صنعت نے ترقی کی منازل تیزی سے طے کرنا شروع کیں۔ کپڑا تیار کرنا بہت آسان ہو گیا جس کے نتیجے میں اس کی فراہمی میں بہتات اور قیمتوں میں بہت کمی آ گئی۔ لوگ  جو صدیوں سے کپڑا صرف ستر ڈھانپنے کیلئے استعمال کرتے تھے اب اسی کپڑے میں فیشن تلاش کرنے لگے۔ اس کا ایک اہم نتیجہ یہ نکلا کہ مختلف سماجی  پس منظر کے لوگوں میں معاشرتی فاصلہ کم ہونے لگا۔ اب محض کسی کے کپڑے دیکھ کر اُس کی معاشی اور معاشرتی پوزیشن متعین کرنا ممکن نہ رہا تھا کیونکہ اب وہی کپڑا غریب کی رسائی میں بھی تھا جو کہ کچھ عرصہ قبل تک صرف امراء زیبِ تن کرتے تھے۔

سماجی مطالعہ    انسان میں رونما ہونے والی جوہری تبدیلیوں  کے مشاہدے کا ایک بہترین ٹول ہے۔ صرف کپڑے کی فراوانی سے انسان میں کیا کیا تبدیلیاں رونما ہوئیں، اس کا مطالعہ ہمیں حیرت میں ڈال دیتا ہے۔ کپڑے کی ارزانی سے لوگ نہ صرف فیشن ایبل ہوئےبلکہ اُن کی صحت بھی پہلے سے بہتر ہونا شروع ہو گئی۔ وہ اس طرح کہ  زیادہ کپڑا دستیاب ہونے کے باعث لوگ اب  کپڑے بآسانی تبدیل کر سکتے تھے، انہیں دھو سکتے تھے، اوریوں صحتِ جسمانی میں بہتری آنا شروع ہو گئی۔لوگوں کو صاف ستھرا رہنے کے باعث بیماریاں لگنا کم ہو گئیں۔انیسویں صدی کے زرعی انقلاب نے صنعتی انقلاب کیلئے راہ ہموار کی اور ایک لحاظ سے صنعتی انقلاب کی  جانب سفر کا آغاز بھی تیز تر کر دیا۔ سٹیم شپ، ریل روڈ، ریفریجریٹڈ شپس، ٹرین کی ایجاد خوراک کو محفوظ بنانے والے preservatives کی دستیابی، canning کا استعمال، ان سب امور نے مل کر خوراک کی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی کو ممکن بنایا۔ اس سے دو بنیادی فوائد حاصل ہوئے، ایک یہ کہ جہاں خوراک زیادہ مقدار میں تھی، اُس کی اُن جگہوں پر منتقلی ممکن بنائی گئی جہاں وہ خوراک بہت کم تھی یا بالکل بھی نہیں تھی۔اس طرح سے خوراک کی قلت کے مسائل حل ہونا شروع ہوئے۔ قحط عالمی کی بجائے اب ایک علاقائی مسئلہ بن کر رہ گیا۔ خوراک کی ترسیل نے ضرورت مند لوگوں تک خوراک کی فراہمی کو ممکن بنایا۔  اس سے کسانوں کو یہ فائدہ  پہنچا کہ وہ ضرورت سے زیادہ خوراک  جو پہلے صرف مقامی منڈی میں فروخت کر سکتے تھے، اب انہیں زیادہ منڈیاں میسر آ گئیں۔  اس سے خوراک کی قلت اور زیادہ پیداوار، دونوں مسائل حل ہوئے۔ اسی دوران میں مزید ٹیکنالوجی سے دنیا متعارف ہوئی جیسے ٹیلی گرام، ٹیلی فون، پرنٹنگ پریس وغیرہ، جس سے خوراک کی ترسیل و رسائی میں مزید آسانیاں پیدا ہونا شروع ہوئیں۔ خوراک نہ صرف وافر مقدار میں میسر ہونا شروع ہوئی بلکہ تازہ حالت میں بھی۔ خوراک کی  دستیابی اور تازگی، دونوں نے life   expectancy میں  اضافہ کیا۔ایک اندازے کے مطابق 1750 سے 1900 کے درمیان  life   expectancyمیں قریب قریب 50٪ کا اضافہ ہوا۔

1800 تک %80 لوگ زراعت کے پیشے سے منسلک تھے اور اس کے باوجود قحط سالی عام تھی، خوراک کی قلت بہت شدید ہوا کرتی تھی، 1900 تک پہنچتے پہنچتے  زراعت سے صرف %20 لوگ متعلق رہ گئے۔ اور دورِ حاضر میں زراعت سے دنیا بھر میں صرف %2 لوگ متعلق ہیں۔ یعنی اس کا مطلب یہ ہوا کہ صرف انیسویں صدی  کے دوران  %60 فیصد آبادی نے زراعت کا پیشہ چھوڑ کر متبادل پیشے اختیار کئے۔ اور زرعی انقلاب کا یہی کارنامہ تھا جو صنعتی انقلاب پر منتج ہوا۔ صنعتی انقلاب کا اہم ترین ingredient  وافر مقدار میں لیبر کی دستیابی تھی۔ جو کہ زرعی ترقی کے باعث ممکن ہو پائی۔

کچھ ایجادات نے انسان کی زندگی پر ایسے دور رس اور شدید اثرات مرتب کئے ہیں کہ انسان خوفزدہ ہو کر رہ جاتا ہے۔ اٹھارویں صدی کے نصف آخر میں جیمز واٹ نے سٹیم انجن ایجاد کیا۔ اس انجن کی ایجاد نے طاقت کے پرانے تمام تصورات تہس نہس کر ڈالے۔ اس ایجاد سے پہلے یا تو انسانی طاقت سے کام لیا جاتا تھا یا پھر صحت مند جانور جیسے گھوڑے یا بیل کی طاقت کو استعمال میں لایا جاتا تھا۔ انیسویں صدی میں  سٹیم انجن 10,000 ہارس پاور کی طاقت پیدا کرنے کی صلاحیت حاصل کر چکا تھا۔ ذرا تصور کریں کہ ہم جو طاقت دس ہزار گھوڑوں کو ایک ساتھ جوت کر اور ایک رُخ میں حرکت دے کر حاصل کر پاتے وہ ایک سٹیم انجن سے ہمیں حاصل ہونا شروع ہو گئی۔ انیسویں صدی کے وسط تک اسی طاقت میں سو گنا اضافہ ہو گیا، یعنی دس لاکھ گھوڑوں کی طاقت۔ اور پاور کی یہ دستیابی ایک نسل قبل کا انسان تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔ اس طاقت کی دستیابی سے نقل و حمل میں انقلاب آیا، سڑکیں تعمیر کرنا ممکن ہوا، بڑے پیمانے پر نہریں بنائی گئیں اور ریل روڈز بنائی گئیں۔

1804 میں برطانیہ میں پہلی حرکت کرنے والی سواری متعارف کرائی گئی جس کی تیز ترین رفتار پانچ میل فی گھنٹہ تھی۔پانچ میل فی گھنٹہ، یعنی جس رفتار سے ہم تیز چلتے ہیں اتنی رفتار۔ اور اس کے 46 برس کے اندر اندر صرف برطانیہ میں 6000 سے زائد ٹریک بچھائے جا چکے تھے۔ اور سواری کی رفتار 5 میل سے بڑھ کر 50 میل فی گھنٹہ کی رفتار تک پہنچ چُکی تھی۔ سٹیم شپ نے سمندری سفر محفوظ، آسان، اور برق رفتار بنایا۔ اس کے مقابلے میں بادبانی جہاز تھے جو ہمیشہ موسم کے مرہون منت رہتے تھے۔ اٹھارہویں صدی میں ایڈن برگ سے لندن جانے میں دو ہفتے لگتے تھے، انیسویں صدی کے آغاز میں یہی سفر اڑتالیس گھنٹوں سے کم وقت میں طے ہونا شروع ہونے لگا اور بیسویں صدی کے آغاز میں یہ سفر صرف نو گھنٹوں میں طے ہو جایا کرتا تھا۔ دنیا تیزی سے سمٹ رہی تھی اور انسان یہ سب کچھ حیرانی سے دیکھ رہا تھا ۔ یہ الگ بات کہ اس حیران ہوتے انسان کو حیران کرنے والا بھی خود انسان ہی تھا۔

انیسویں صدی  کا سب سے اہم واقعہ لوگوں کا دیہی علاقوں سے شہر میں منتقلی تھا۔ 60 فیصد کے قریب آبادی چونکہ زراعت کے شعبے سےخلاصی پا چُکی تھی، اس وجہ سے ان لوگوں نے شہروں کا رُخ کیا۔ 1800 میں برطانیہ کی آبادی دس لاکھ تھی اور لندن کے علاوہ برطانیہ کے کسی شہر کی بھی آبادی ایک لاکھ سے زیادہ نہ تھی۔1850 میں لندن کی آبادی چوبیس لاکھ سے تجاوز کر گئی، دس شہر وں میں آبادی کی تعداد ایک لاکھ سے بڑھ گئی۔ 1900 میں لندن کی آبادی ساڑھے ساٹھ لاکھ تک پہنچ گئی۔ آبادی کا یہ انتقال بہت شدید تھا۔ وہی ملک جہاں 1750 میں آٹھ میں سے ایک شخص شہر میں رہتا تھا، اب آٹھ میں سے سات اشخاص شہر میں رہتے تھے۔ اور لوگوں کی یہ منتقلی اس قدر برق رفتار تھی کہ  شہر کا انفراسٹرکچر اسے برداشت نہیں کر پایا اور collapse کر گیا۔ شہروں میں حالات  مشکل تھے اور لوگوں کیلئے رہائش بآسانی دستیاب نہ تھی۔ شہر میں منتقل ہونے والے لوگوں کی کثیر تعداد صنعتی انقلاب کے نتیجے میں وجود میں آنے والی فیکٹریوں میں کام کرتی تھی۔ مزدوروں کے اوقاتِ کار بہت مشکل تھے۔ وہ ہفتے میں چھ دن  روزانہ دس سے سولہ گھنٹے  کے درمیان کام کرتے تھے۔ انہیں بدترین زہریلے دھوئیں، بہت شدید درجۂ حرارت، اور خطرناک حالات میں کام کرنا پڑتا تھا۔حادثات کے نتیجے میں اموات معمول کا واقعہ تھیں۔ لوگوں کو رہائش کیلئے شدید دشواریوں کا سامنا تھا۔ زیادہ تر خاندانوں کو محض ایک کمرے کی رہائش میسر تھی۔ بہت سے لوگوں کو ایک کمرہ بھی میسر نہیں تھا اور انہیں عارضی رہائش اختیار کرنا پڑتی تھی جو بالعموم سڑک کنارے ہوتی تھیں۔مصنوعی روشنیاں بھی میسر نہ تھیں۔ نکاس کا مناسب انتظام نہیں تھا جس کی وجہ سے گلیوں  میں کوڑا کرکٹ اور بدبودار پانی کا کھڑا ہو جانا معمول تھا۔ طرزِ زندگی ناخوشگوار اورغیر صحتمندانہ تھا۔نکاس کے مسائل سے دریا اور ندی نالے   متاثر ہوئے۔ اور شفاف پانی کی دستیابی ممکن نہ رہی۔ جس کی وجہ سے لوگوں میں تیزی سے بیماریاں پھیلنا شروع ہوئیں۔ صرف 1848 اور 1849میں  برطانیہ میں 50،000 لوگوں کی موت ہیضے کے باعث ہوئی۔  فیکٹریوں اور گھروں میں استعمال ہونا والا واحد ایندھن کوئلہ تھا  جس نے ماحولیاتی آلودگی کو شدید تر کر رکھا تھا۔

اس صورتحا ل میں لوگوں کی صحت شدید متاثر ہونے کے علاوہ  لوگوں کی آمدنیوں میں بھی بہت زیادہ فاصلہ پیدا ہونا شروع ہو گیا۔ برطانیہ میں  1801 میں قومی آمدنی کا 25٪ صرف 1٪ فیصد لوگوں کے پاس تھا۔ 1848 میں یہ ہندسہ 35٪ کو پہنچ چکا تھا۔ اور یوں پہلے صنعتی  انقلاب نے  عوام میں بے چینی اور عدم اعتماد پیدا کیا۔ 1810، 1813، اور 1818 میں  تاریخ ساز ہڑتالیں ہوئیں، یونینز وجود میں آئیں۔ انگریزی زبان میں ٹیکنالوجی کے  مخالف شخص کو Luddite کہا جاتا ہے۔ Luddites  نے فیصلہ کیا کہ مشینوں کی توڑ پھوڑ ہی سے غریبوں کے مسائل ختم ہونگے۔ کیونکہ مشینیں ہی تھیں جو آمدنیوں میں تیزی سے فاصلہ پیدا کر رہی تھیں۔ پیرس، ویانا، اور روم میں عوام نے بغاوت کر دی، روم میں پوپ کو اپنی جان بچانے کیلئے بھاگنا پڑا۔ انیسویں صدی کے نصف آخر نے دوسرا صنعتی انقلاب دیکھا۔ یوں کہ اس نے اولین صنعتی انقلاب کے مسائل کو address کرنے کی کوشش کی۔ بہت سے لوگوں کو اضافی آمدنی حاصل ہونا شروع ہوئی۔ اشیاء کی پیداوار میں بے بہا اضافہ کیا گیا جس سے قیمتیں بہت زیادہ گر گئیں۔ انسانی سوچ میں ایک بنیادی تبدیلی آئی،  اب وہ صرف اپنی بقا کے بارے میں نہیں سوچتا تھا بلکہ اب اُس میں خواہشات بھی پیدا ہونا شروع ہوئیں۔ تجارت اور ذرائع آمد و رفت میں اضافے سے بہت سے لوگوں کی آمدنیوں میں اضافہ ہوا۔  اولین صنعتی انقلاب کی طرح  سائنسی ترقی نے ان سہولیات کو ممکن بنایا۔ تھرمو ڈائنامکس اور الیکٹرومیگنیٹک قوانین کی دریافتیں، عناصر کی کیمیائی تھیوری نے پوری کی پوری صنعتوں کو جنم دیا۔ کیمیکلز، فارماسوٹیکلز، فرٹیلائزیرز، بجلی۔۔ ان سب ایجادات نے انسان کی جگہ مشین کو دے ڈالی۔ 1850 سے 1900 کے مابین  پیداوار اور کھپت دونوں کے نئے pattern دیکھنے میں آئے۔آبادی میں حیران کُن اضافہ ہوا۔ صرف یورپ کی آبادی میں 70٪ اضافہ ہو گیا، جس کی بنیادی وجہ شرحِ اموات میں کمی اور life   expectancy میں اضافہ تھا۔ 1750 میں %33 کے قریب بچے زندہ رہ پاتے تھے جبکہ 1900 تک یہ شرح %85 کو پہنچ چُکی تھی۔ اور اس کی سب سے بڑی وجہ ادویات تھیں۔ antiseptic طریقہ ہائے کار  متعارف کرائے گئے جس کے تحت ڈاکٹرز کے ہاتھ دھونے پر بہت زیادہ زور دیا گیا۔ جس سے بچوں کی شرح اموات میں حیران  کُن طور پر کمی واقع ہوئی۔

انسانی تاریخ میں  نکاسی کے نظام  میں کامیابی ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کی وجہ سے لوگ شہروں میں رہتے ہوئے ایک صحت مند زندگی گزارنے کےقابل ہوئے۔ پینے کا صاف پانی مہیا ہوا۔ گندگی اور فضلات سے آب و ہوا کو آلودہ ہونے سے بچایا۔ اور نتیجتاً اس نے انیسویں صدی  میں موجود بیماریوں کے دو عوامل کا خاتمہ کیا۔

انیسویں صدی  میں انسان نے سب سے زیادہ ہجرت کی۔ مشرقی اور وسطی یورپ سے لوگ مغربی یورپ اور امریکہ منتقل ہوئے۔ سٹیل ملز میں مزدوروں کی ڈیمانڈ اس قدر زیادہ تھی کہ locals اُس ضرورت کو پورا کرنے سے قاصر تھے۔ خصوصاً برطانیہ، فرانس، جرمنی، اور امریکہ میں۔ اور انیسویں صدی میں ہی بجلی کی دستیابی نے اس عمل کو مزید تیز کر دیا۔ ایڈیسن نے بلب ایجاد کیا اور  ساتھ میں انسانی تاریخ کا پہلا بجلی گھر بنایا۔ بجلی سے چلنے والی موٹروں نے صنعتی پراسس میں  ایک مرتبہ پھر  انقلاب برپا کر دیا۔ بجلی ہی کے باعث رابطے کے نئے ذرائع پیدا ہونا شروع ہوئے۔ گراہم بیل نے ٹیلی فون اور مارکونی نے ریڈیو ایجاد کیا۔ اور بالآخر internal   combustion انجن کی مدد سے مسافت آسان، تیز تر، کم پُر خطر، اور  کافی individual ہوگئی۔ 1896 میں پہلی فورڈ موٹر کار منظرِ عام پر آئی۔

قومی آمدنیوں میں دو سے تین گُنا اضافہ دیکھنے میں آیا ۔ برطانیہ میں مزدور کی تنخواہوں میں دو تہائی اضافہ ہو گیا۔ بیسویں صدی کے دوسرے عشرے میں تنخواہیں دوگنا ہو گئیں۔ لیکن مزدور کے اوقا ت کار اب بھی پانچ سے دس گھنٹے ہی تھے۔ اسی طرح   پبلک ایجوکیشن میں بھی انقلاب آیا۔ انیسویں صدی کے اواخر میں قریب قریب تمام یورپی اور جنوبی امریکی ممالک فری پرائمری ایجوکیشن آفر کرتے تھے۔ اس کا ایک مذہبی محرک بھی تھا۔ Protestants چاہتے تھے کہ ہر ایک بائبل پڑھنے کے قابل ہو جائے۔

رابطے کے ذرائع میں بہتری نے لوگوں کی آگاہی کو بہتر کیا اور لوگوں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ سیاست میں حصہ لیں۔تعلیم کا حصول کم و بیش آفاقی حیثیت اختیار کر گیا۔ یہاں تک کہ خواتین کو بھی حصولِ علم کے مواقع میسر آنا شروع ہوئے۔ اخبارات اور میگزینز کی mass   circulation شروع ہو گئی۔ اس سے موسیقی اور کھیل کو قومی اور بعض کیسز میں عالمگیر شہرت حاصل ہو گئی۔ 1903 میں پہلی ورلڈ سیریز منعقد کی گئی جس میں Boston  اور Pittsburg کا مقابلہ ہوا۔

انیسویں صدی کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ شاید یہ مذہب کی صدی تھی، نہ صرف خدا پر بلکہ  علم، سائنسی طرزِ استدلال,اور ترقی پر یقین کی بھی۔ ترقی اب صرف ایک تصور نہیں تھا بلکہ ہم انسان اس کے مسافر تھے۔  روم کے گرنے کے بعد سے لے کر اب تک کے تمام انسانوں سے بہتر زندگی بیسیوں صدی کا انسان گزار رہا تھا۔سائنس کی ترقی نے ایک اوسط انسان کی زندگی  بہتر بنا ڈالی تھی۔ یہ الگ بات کے اس صدی کے آخر تک پہنچتے پہنچتے یہی ترقی انسان کیلئے ایک ڈراؤنا خواب بن کر رہ گئی۔ انسان کا خدا پر ایمان کمزور ہوتے ہوتے ختم ہو کر رہ گیا۔ اور وہ کسی بھی سچ پر ایمان لانا تو درکنار کسی بھی حقیقت کو سچ تسلیم کرنے کو تیار نہ تھا یعنی سچ کے وجود ہی کا منکر۔  ایک نسل کے اندر اندر یورپ پہلی جنگِ عظیم کا شکار ہو گیا جو کہ انسانی تباہی کی جانب پہلی چنگاری تھی۔ اس مضمون میں ہم نے انسان کی اچانک ترقی دیکھی۔ یہی ترقی تنزلی میں کیسے تبدیل ہوئی۔۔ یہ کہانی پھر سہی۔

 

نوٹ: اس تحریر میں موجود تمام معلومات دورِ حاضر کے نامور اور شہرۂ آفاق  مؤرخ جے ایم رابرٹس کی تصنیف The Penguin History of the World سے ماخوذ ہیں۔

Recommended Posts

Leave a Comment

Jaeza

We're not around right now. But you can send us an email and we'll get back to you, asap.

Start typing and press Enter to search