سالگرہ کی تقریب۔ تحریر: اسامہ ثالث انصاری

[حضرت اسامہ ثالث صاحب انصاریؔ حیاتیاتی قواعد کے حساب سے اگرچہ نوجوان ہیں مگر سادگی اور وضع داری میں پرانے بزرگوں کو مات دیتے ہیں۔ فیس بک نے انھیں سالگرہ کی مبارکباد دی تو مارک زکر برگ کی وضع داری میں رطب اللسان ہو گئے اور بار بار اسے یہودی شرفاء کا سرخیل قرار دیتے ہیں۔ میں نے بہتیرا سمجھایا کہ قبلہ! یہ مبارکبادیاں محض ٹیکنالوجی کے الگوردمز کا نتیجہ ہیں مگر قبلہ نے مان کر نہ دیا اور پرانی بورے والہ منڈی کے روڑے ہونے کے ناتے بہ نفسِ نفیس مارک زکر برگ کا شکریہ ادا کرنا ضروری سمجھا نیز بدیسی مداحوں کی اس درجہ قدردانی کو دیکھ کر انھیں یقین ہوا کہ ہو نہ ہو اہلِ وطن تو اس سے بھی بڑھ کر قدرافزائی فرمائیں گے لہذا محض اپنی چشمِ تخیل کے بل پر اپنی سالگرہ کی ایک تقریب کا حال آپ کو سنا رہے ہیں۔ مدیر]

معزز خواتین و حضرات! جیسا کہ آپ سب کو بخوبی علم ہے کہ پورے ایک برس کے طویل انتظار کے بعد فیس بک کمیونٹی نے نہایت شان و شوکت سے اس فقیر کا جنم دن منانے کا فریضہ سر انجام دیا ہے۔باوثوق ذرائع سے خبر ملی ہے کہ فیس بک انتظامیہ نے میرے  عزیز دوست احباب کو فرداَ فرداَ اطلاع بھی  دی ہے ۔ ٹویٹر اور گوگل نے بھی اس مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے۔ چونکہ یہ معاملہ ایک خاص پسِ منظر کا حامل ہے لہذا میں ضروری سمجھتا ہوں کہ قارئین کو اس  مبارک فیصلے  اور اس سے منسلک اگلے ہفتے ہونے والی   ایک تقریب کی خبر سناؤں۔ دراصل مجھے سالگرہ منانے میں   کوئی خاص دلچسپی نہیں ہے لیکن بین الاقوامی شہرت یافتہ سماجی رابطے کے ذرائع  کی خوشی دیدنی ہے۔  فیسبک انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیداران مجھ سے گزشتہ مہینے ہی سے رابطے میں ہیں۔  راقم الحروف کی سالگرہ کا عظیم الشان فنکشن  ترتیب دینے کے لئے فیس بک انتطامیہ گزشتہ چند ہفتوں سے   واشنگٹن ڈی سی  میں تیاریوں میں مصروفِ عمل رہی ہے۔    قارئین کو  یہ جان کر خوشی ہوگی کہ اب یہ تقریب  معروف و قدیم شہر  بورےوالہ میں منعقد ہوگی۔اس سلسلے میں ہنگامی بنیادوں پر تیاریاں  ہو رہی ہیں۔ فیسبک  نے نہایت دور اندیشی سے کام لیتے ہوئے بڑے بڑے خراب کاروں کے فیسبک اکاؤنٹ بلاک کر دئیے ہیں  تاکہ بین الاقوامی سطح پر کوئی خراب کار اس تقریب میں رکاوٹ نہ  بنے اور ہوائی سفر پابندیوں کا شکار نہ  ہو۔ مثلاَ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا فیسبک اکاؤنٹ بھی بند کر دیا گیا ہے اور فیسبک کی درخواست پر ٹویٹر سمیت دیگر سماجی رابطے  کے پلیٹ فارمز نے بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے اکاؤنٹ بلاک کر دئیے ہیں۔

تو میں آپ کو بورےوالہ میں مورخہ 16 جنوری بروز اتوار  کو ہونے والی تقریب کی بابت معلومات فراہم کرنا چاہتا ہوں تاکہ آپ بآسانی تقریب میں شریک ہوکر روحانی و علمی اطمینان پا سکیں۔ بورے والہ ہڑپہ تہذیب کے پہلو  میں واقع ایک تاریخی شہر ہے۔ شیر شاہ سوری حکومت کے زمانے میں تعمیر ہونے والی معروف شاہراہ ملتان- دہلی سڑک بھی اسی شہر کو مدِنظر رکھ کر تعمیر کی گئی تھی۔ بورےوالہ کے گردونواح میں قدیم تہذیبوں کے آثار پائے  جاتے ہیں۔ آسانی کی خاطر یوں سمجھئے کہ ملتان  سے ہریانہ(انڈیا) براستہ  سڑک جاتے ہوئے  درمیان میں سب سے اہم مقام بورےوالہ ہی کا آتا ہے۔ مقامی   سطح پر دیکھیں تو بھی بورےوالہ ہر طرح سے اہم شہر ہے۔ بورےوالہ سے ملتان جاتے ہوئے سب سے پہلے ماچھیوال کا مقام آتا ہے۔ انگریزوں  نے یہ تزویراتی مقام ریلوے انجن میں پانی جمع کرنے کے لئے منتخب کر رکھا تھا۔ اس کے بعد پکھی موڑ آتا ہے جہاں کی جھگیاں علاقے  میں اپنا خاص مقام رکھتی ہیں۔ اگر بات کی جائے کہ بورےوالہ سے لاہور جاتے ہوئے کون کون سے اہم شہر آتے ہیں تو سب سے پہلے میں آپ کو گگو منڈی کا تعارف کرواؤں گا۔ ان دنوں گگومنڈی سے  ماچھیوال تک کی شاہراہ ( بسلسلہ 16 جنوری تقریب ) عوامی ٹریفک کے لئے بند ہے۔ آپ اگر تقریب میں شمولیت  کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو  ضلع ساہیوال سے براستہ چیچہ وطنی آنا ہوگا۔ یاد رہے کہ سڑک  شیخ فاضل کے مقام سے بند ہے۔ یہاں سے بورےوالہ آپ کو پاپیادہ آنا ہوگا۔ کمر راستے میں ہی کس لیجیے گا ، نہ بھی کسیں تو کوئی بات نہیں 18 کلومیٹر  پیدل چلنے سے وہ خود بخود کسی جائے گی۔ دوسری جانب بھی ماچھیوال سے آپ کو بورےوالہ پیدل چل کر ہی آنا پڑے گا۔ محکمہ ریل نے عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کیا ہے کہ  فرید ایکسپریس ٹرین بھی کراچی سے لاہور براستہ قصور کی بجائے کراچی سے ماچھیوال چلا کرے گی۔ شائقین تقریب کی خاطر ایک خصوصی ٹرین  چلانے کی بابت ابھی غوروفکر جاری ہے۔

بیرونِ ملک اور شہرسے آئے ہوئے مندوبین کے لئے تقریب کے مقام پر پہنچنا ذرا دشوار ہوسکتا ہے۔ اس لئے  ٹریفک پولیس نےشہر میں  جگہ جگہ  اردو اور انگریزی زبان میں رہنمائی کے تختے ایستادہ کر رکھے ہیں۔ شہر کے اہم مقامات پر بڑے سائز کے نقشے بھی آویزاں کئے گئے ہیں۔ جن کی مدد سے آپ بآسانی 6 گھنٹوں کی مختصر پیدل مسافت کے بعد تقریب گاہ تک پہنچ سکتے ہیں۔ نہایت سوچ بچار کے بعد یہ طے پایا ہے کہ گورنمنٹ کالج کا وسیع و عریض میدان  بطور سائیکل اسٹینڈ استعمال ہوگا۔ جسے پہلے تقریب گاہ کے طور پر منتخب ہونا تھا۔ قائداعظم اسٹیڈیم بھی بطور تقریب گاہ استعمال نہیں ہورہا۔ اسے بطور ہیلی پیڈ منتخب کیا ہے۔ فیس بک کے سربراہ جناب  مارک زکربرگ کا نجی ہیلی کاپٹر بھی یہیں قدمِ رنجہ فرمائے گا۔   چک نمبر 435 ای بھی کا وسیع و عریض میدان، جہاں ہر سال بکرا منڈی لگتی ہے، تقریب گاہ  کے طور پر استعمال ہوگا۔

ویسے تو تقریب گاہ تک پہنچنے کے لئے  ٹریفک پولیس نے  گلی گلی آگاہی نقشہ جات چسپاں کر رکھے ہیں لیکن پھر بھی  آپ کو کسی ممکنہ دشواری سے بچانے کے لئے میں مختصر الفاظ میں روٹ کا نقشہ کھینچ دیتا ہوں۔

اگر آپ ماچھیوال کی طرف سے آرہے ہیں تو  ماچھیوال کے بعد آپ کا پہلا پڑاؤ 37 پھاٹک ہوگا۔ جہاں آپ کی ضیافت کے لئے دمچی اور روح افزاء کاسامان تیار ہوگا۔ اس کے بعد آپ کا دوسرا پڑاؤ  چنوں موڑ ہوگا۔ یہاں سے پیدل رختِ سفر باندھ کر آپ  اندرون بورےوالہ میں داخل ہوں گے۔ شہر داخل ہوتے سمے   آپ اپنی بائیں   جانب جنوبی پنجاب کی سب سے بڑی سبزی منڈی کو اپنے سامنے پائیں گے۔ گدھا  گاڑیوں کی ریل پیل اس دن نہیں ہوگی؛ بسلسہ تقریب ِ سالگرہ سبزی منڈی بند رہے گی اور  اہالیانِ شہر فاسٹ فوڈ پر گزر بسر کریں گے جو ٹویٹر کی جانب  سے گھر گھر پہنچائی جائے گی۔چنگ چی رکشے بھی پولیس نے اپنی   تحویل میں لے لئے ہیں تاکہ ان کی آواز آپ کی سماعتوں  پر گراں نہ ہو ۔   سبزی منڈی سے آپ نے ملتان دہلی شاہراہ کا ساتھ دامن سے باندھ لینا ہے اور خلقِ خدا کی پرواہ کئے بغیر سیدھا گگومنڈی کی سمت چلتے رہنا ہے۔ راستے میں کئی اہم مقامات آئیں گے۔جن میں  بابا روڑے شاہ کا دربار ،آستانہ عالیہ  پیر پتنگ شاہ  اور انمول دواخانہ بطورِ خاص ہیں۔  بابا روڑے شاہ کے دربار کی سمت ہرگز نہ جائیے گا کیونکہ وہاں سے آپ کو  سوائے بھنگ اور روڑے کے کچھ نہیں ملنا۔ اگر آپ کے من کی کچھ مرادیں ہنوز پوری نہیں ہوئیں تو آپ  پیر پتنگ شاہ کے دربار پر حاضری دے سکتے ہیں۔  انمول دواخانہ چونگی نمبر پانچ سے کامیاب شادی کورس   بآسانی دستیاب ہوتا ہے۔ حکیم صاحب تقریب کے دنوں میں پچاس فیصد ڈسکاؤنٹ پر شادی کورس اور کرونا کی دوا دیں گے۔ انمول دواخانے کے بعد آپ کو ایک شاہراہ بائیں جانب نیچے اترتی دکھائی دے گی۔ آپ نے ادھر نہیں جانا۔ اُس سمت سے بھی لوگ جوق درجوق آرہے ہوں گے ۔112 ای بی راجے والی اسی سمت واقع ہے۔

چونگی نمبر پانچ بورےوالہ کا اہم مقام ہے۔ یہ چار شاہراہوں کا سنگم ہے۔ ایک طرف کی شاہراہ دربار بابا حاجی شیر کو جاتی ہے۔ اگر آپ کے کسی عزیز کو کوئی  نفسیاتی عارضہ ہو تو اسے بابا حاجی شیر دربار پر تین مہینے باندھنے سے نفسیاتی عارضہ رفع ہوجانےکے   قوی امکانات ہیں، کیونکہ سابقہ واقعات اس امر پر شاہد ہیں   ۔ دوسری شاہراہ 112 راجے والی اور  تتلیاں والا  کوجاتی ہے۔ تیسری دشا سے آپ آرہے ہوں گے اور چوتھی سمت تقریب گاہ کی جانب جانے کا واحد راستہ ہے۔   اسی شاہراہ پر بورےوالہ کا دریائے ایمسٹر واقع ہے۔  تقریباَ 2 گھنٹے پیدل چلنے کے بعد آپ ایک پُل پر سے گزریں گے جس پر بچے  قمیض اتار ، شلوار کے پائینچے  اڑیسے اس میں ہوا بھر کر قطار اندر قطار   گندے نالے میں چھلانگ لگانے کو تیار کھڑے ہوں گے۔ اہلیانِ بورےوالہ پیار سے اس نالے کو دریائے ایمسٹر کہتے ہیں۔ آپ یہ نہ سمجھئے گا کہ یہ بچے میرے استقبال کو کھڑے ہیں۔   دریائے ایمسٹر، میرا مطلب ہے گندے نالے، کے بعد آپ کو ایک جگہ لوگوں کا جمگھٹا     دکھائی دے گا۔ اس مقام پر پیپل کے درخت کے پتوں پر متبرک ہستیوں کے نام لکھے  ہیں  ۔ ایسا کہتے ہیں لوگ۔ایک نیک آدمی نے اس درخت کے گرد شیشے کی باڑ نما آڑ لگوا دی ہے۔ آپ اس طرف بالکل  بھی نہ  جائیے گا۔ 

ذرا آگے جانے پر آپ کو وسہ سموسے والا اور ملاں پان شاپ کے ساتھ ایک دشوار گزار سڑک گزرتی دکھائی دے گی۔   اس سڑک کے بعد اگلا میدان چک نمبر 435 ای بی کی بکرا منڈی کا ہے جہاں تقریبِ سالگرہ کا پنڈال سجا ہوگا۔ اس پنڈال میں آپ کو قدیم و جدید کا خوبصورت امتزاج ملے گا۔ مہمانوں کی ضیافت کے لئے  بوندی نمک پارے اور کوک ہروقت دستیاب ہوں گی۔ بریانی کی ریل پیل ہوگی کہ  شایقین ِ بریانی داتا صاحب کو بھول جائیں گے۔  پنڈال کے دو حصے ہوں گے۔ ایک میں روایتی میلے کا سماں ہوگا اور دوسرے میں جدید طرز کی تقریب۔ میلے والے حصے میں گُلی ڈنڈہ، باندر کلا اور پٹھو گرم جیسے کھیل پیش کئے جائیں گے۔ کشتی کا خاص انتظام ہوگا جس میں  گرمڑ شریف سے چک لو پہلوان، شڑمڑ شریف سے چھادا پہلوان، کھڈیاں خاص سے مادا پہلوان، 65 گجراں والی سے ماجھا پہلوان سمیت ساجھو پہلوان کشتی کرنے کے لئے تشریف لائیں گے۔ 

تقریب سالگرہ کا دوسرا حصہ علم و ادب کے دلدادہ افراد کی دلجوئی کے لئے رکھا گیا ہے۔ بطور خاص حضرت مارک زکربرگ صاحب امریکیؔ نے اس پر زور دیا ہے۔  اس تقریب کے مہمانِ خصوصی جناب مدیرِ جائزہ  ماضی کی بازیافت، حال کی پڑتال اور مستقبل کی کاشت کی ایک ’علمی کاوش والے‘، حسن رحمان صاحب ہوں گے۔ کرسی صدارت پر  جناب قبلہ  کبیر علی چشتی قادری نقشبندی سہروردی صاحب ہوں گے۔ شعراء کرام کی تفریحِ طبع کے لئے ایک عدد مشاعرےکا خاص انتظام ہوگا جس کی صدارت ملک الشعراء جناب پروفیسر زید سرفراز صاحب صدر شعبہ اردو عوامی کالج میاں چنوں فرمائیں گے۔  مشرق و مغرب کے درمیان ہونے والے تہذیبی و علمی مکالمے کی یاد تازہ کرانے والے موضوعات  پر بھی بات ہوگی۔ اس سلسلے   میں فلسفیء دوراں جناب  امجد اسلام امجد (جونئیر) صاحب صادق آبادی ثم لاہوری اپنا تحقیقی مقالہ بعنوان ’علم الکلام اور مشرق و مغرب کی کشمکش‘ پیش فرمائیں گے۔  پروفیسر محمد افضل صاحب قصوریؔ   ابنِ تیمیہ کی کتاب الواسطیہ میں مابعدالطبعیات پر اپنا مقالہ حاضرین کی سماعتوں کی نذر کریں گے۔

تقریب کی براہِ راست نشریات کے لئے  گڑبڑ نیوز سے معاہدہ طے پایا ہے۔ روزنامہ کھینچا تانی کے خصوصی نمائندے تقریبِ سالگرہ پر خصوصی فیچر کالم لکھیں گے۔  تقریب کے اختتام پر راقم الحروف تحائف قبول کرے گا اور مندوبین کو اپنی تازہ تصنیف ’دانیوال میں شعری روایت‘ رسم ِدستخط  کے بعد پیش کرے گا۔

Recommended Posts
Showing 2 comments
  • عثمان سہیل
    جواب دیں

    Wah wah

  • Ahmad Abdullah
    جواب دیں

    سچی مچی نستعلیق آدمی ہیں

عثمان سہیل کو جواب دیں جواب منسوخ کریں

Jaeza

We're not around right now. But you can send us an email and we'll get back to you, asap.

Start typing and press Enter to search