ملتانی ملنگ۔ خاکہ: قاضی علی ابوالحسن
”ہیلو ہیلو! ایکسیوز می۔“ اس نے ضرورت سے زیادہ بلند آواز میں سب کو متوجہ کیا اور کھانسنے کے بعد ڈائس پر رکھی تحریر پڑھنے میں لگ گیا۔ یہ رپورٹ اُس نے ابھی ابھی باہر انتظار گاہ میں بیٹھ کر لکھی تھی۔ اُس کے بال بکھرے تھے اور لگ بھگ چار پانچ دن کے بالوں نے بھری رخساروں پر سیاہی پھیری تھی۔ اُس کی توند ایک نیم فارمل قسم کی شرٹ میں تقریباً ایسے پھنسی تھی کہ جلد کی آخری تہہ لگ رہی تھی اور شرٹ کے کھلے بٹنوں سے سینہ جھانک رہا تھا۔ تحریر پڑھتے پڑھتے وہ سگریٹ کا کش لیتا اور لفظوں کے ساتھ دھواں بھی ادا ہوتا جاتا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ جاپانی بچوں کے کھیلنے کے لئے چابی والا جادوگر ہو۔جب صاحب ِ مضمون اور شاعر کلام پیش کر رہے تھے تو وہ وقفوں میں کھانستااور بلغم برابر میں نکال باہر کرتا۔گفتگو کے درمیان ایسی ہی اونچی آواز میں اُس نے اپنی رائے دی اور ہنن ہنن کر کے خاموش ہو گیا۔ وہ ایک ہاتھ سے سگریٹ پی رہا تھا اور ایک ہاتھ سے شرکاء محفل کی گفتگو کے نوٹس لینے میں لگا تھا۔ نوٹس لیتے لیتے وہ خلا میں کچھ گھورتا، سر ہلاتا اور صاحبِ گفتگو پر نظر ڈال کر پھر لکھنا شروع کر دیتا۔ محفل برخاست ہوئی اور وہ سب کو گرم جوشی سے ملنے میں لگ گیا۔ یہ نیّر مصطفی سے میرا پہلا ٹاکرا تھا جو انسٹیٹوٹ آف انگلش سٹڈیز میں ہونے والے ملتان آرٹس فورم کے اجلاس میں ہوا۔
اگلے جمعہ میں پہنچا تو وہاں کوئی نہیں تھا۔ کچھ دیر میں وہ ایک بغل میں شاپر اور ایک ہاتھ میں سگریٹ دبوچے پہنچ گیا ”سوری سوری، آئی ایم لیٹ“ اس سے علیک سلیک ہوئی اور اجلاس برخاست ہو گیا۔ کئی ہفتے میں اُسے ایسے ہی جلدی میں دیکھتا رہا اور ایک دن اجلاس کے بعد میں اُن کے ساتھ گول باغ چلا گیا۔ معلوم ہوا اس با برکت ملاقات کا دن صرف جمعہ ہی نہیں، سو اگلے دن ہم پھر گول باغ اکھٹے ہوئے اور میں نے اپنا ایک افسانہ نیّر،جنید رضا، مدھر اور فاروق ایاز کو سنایا۔ نیّر نے افسانے کی تعریف کی اور ہماری ملاقاتوں کا سلسلہ چل نکلا۔ اُس پر اتفاق یہ ہوا کہ کچھ ہی مہینوں میں میرا زکریا یونی ورسٹی کے شعبہ ابلاغیات کے بی ایس میں داخلہ ہوا تو نیّر وہاں ایم فل کر رہا تھا۔ ہر روز ہی شعبے کی راہ داریوں، سیڑھیوں اور کینٹین پر ملاقات ہو جاتی۔ اب ہمارے اڈے ملتان آرٹس فورم، زکرین لٹریری فورم اور گول باغ یا یونی ورسٹی کے چائے خانے تھے۔
اُن دنوں وہ دھڑا دھڑ افسانے اور رپورٹس لکھ رہا تھا۔ بلکہ یوں کہیں وہ ملتان میں افسانہ لکھے جانے کا سنہری وقت تھا۔ ایک دن ساحر افسانہ لے آتا تو دوسرے دن نیّریا لیاقت علی۔ وہ لکھنے کی ایک آٹومیٹک مشین کی طرح کام کر رہا تھا۔ عموماً جمعہ کے اجلاس میں وہ حاضرین کو باتوں میں لگا کر غائب ہو جاتا اور کہیں سٹور یا پارکنگ میں گزشتہ اجلاس کی رپورٹ لکھتے پایا جاتا۔ اس افراتفری میں بھی اُس نے کسی اجلاس کی رپورٹ مس نہیں ہونے دی۔ زکرین لٹریری فورممیں ساحر شفیق کی کتاب کی تقریب ہونی تھی۔ سب انتظامات تقریباً ہو چکے تھے جب نیر پہنچا اور احباب کو ہال روانہ کر کے کینٹین پر مضمون مکمل کرنے بیٹھ گیا۔ سب کا یہی خیال تھا مضمون تو آنا نہیں، ہو سکتا ہے خود بھی فرار ہو جائے۔ اُس نے نہ صرف مضمون پڑھا، تقریب کی نظامت کی اور خوب داد سمیٹی۔
نیّرتب لکھنے کے علاوہ تھیڑ کرتا تھا، یا یوں کہیے تھیڑ کرنے سے بچنے والے وقت میں لکھتا تھا۔ کیمپس اور شہر میں اس کی وجہِ شہرت ڈرامہ کرنا ہی تھا۔ اُس نے یونی ورسٹی میں ایسے طوفانی اور جذباتی ڈرامے کیے کہ جوانوں کے دل ہاتھوں میں آ گئے۔ اُن ڈراموں کو خیر نوجوان کیا سمجھتے مگر اُن ڈراموں کے کچھ مکالمے یونی ورسٹی کے کئی نوجوانوں کو یاد ہو گئے۔ تبہی انہوں نے مشرف دور میں عدلیہ اور انصاف کے تقاضوں کے لئے سٹریٹ تھیٹر کیا اور شہر کی سڑکوں کو روکنے کے لئے رکشے والوں کو اپنے ساتھ ملا لیا۔اس گروہ میں نیّر کے نمائندہ ساتھی منظر عزیز اور رانا فاروق ہوا کرتے تھے۔ اس تھیڑ کی ریاضت نے نیّر کے اظہار یے سے جھجھک اور خوف دونوں کو بہت دور کر دیا۔
ہمارے ایک استاد پر یونی ورسٹی والوں نے جب اپنی ذاتی انا کی اڑ میں چوری کا الزام لگایا اور اُس کی پاداش میں کسی سزا کی نذر کرنے کا سوچا تو نیّر بنا کسی خوف کے بے باکی سے سامنے آیا اور استاد کی حمایت میں طلبا کو اکٹھا کرنے میں بارش کے پہلے قطرے کا کام کیا۔ پھر اس قطرے کے ساتھ ایک اور ایک اور ایک کئی قطرے ملتے گئے (قطرہ مذکر ہو یا مونث، قطرہ قطرہ ہوتا ہے، کترینہ نہیں)۔
یاروں میں اتنااِن اور کندھے پھیلا کے چلنے والا یہ شیر خواتین کی محفل میں ایک نفیس گدگدا دینے والا ایرانی بلا بن جاتا ہے، جس پہ صدقے واری ہونے کو جی چاہے۔ ایم فل کے دنوں میں وہ اپنی کلاس فیلوز سے ایسے مودبانہ فاصلے سے مخاطب ہوتا تھا کہ مت پوچھیے۔ شعبہ اور مسجد کی درمیانی گراونڈ، یہ وہی گراونڈ تھا جس کے عقب میں نیّر کے افسانے عبد الغنی جیکسن کے کردار جیسے ایک جیکسن کو ہم نے مسجد کے زیرِ سایا فرنچی (وہی سجدے والی) کرتے دیکھا تھا، تو نیّر ایک روز اسی گراونڈ میں تین چار دوشیزاؤں کے سامنے ایسے لجاجت اور شرماہٹ سے لہلہا رہا تھا گویا ابھی فلاح کے راستے کی تان لے گا۔ اُس لہلہاتے بدن میں کوئی اور ہی نیّر اتر آیا تھا کہ جیسے ’یہ راستہ صرف مستورات کے لئے ہے‘۔
نیّر، دو اداروں سے ڈسا دو آتشہ مزہ لے چکا ہے۔ پہلے اُسے نشتر میڈیکل کالج سے اُس کے باغیانہ رویوں پر نکال باہر کیا گیا۔ یہ وہ باغیانہ روئے تھے جو ہمارے ہاں سوال اٹھانے اور جواب دینے پر سمجھے جاتے ہیں۔ نیّر نے وہ غصہ اپنے بھرپور تخلیقی پیرائے میں اپنی پہلی کتاب ’نرکھ میں نرتکی‘ کی صورت کم کیا۔ اور دوسری دفعہ شعبہ ابلاغیات نے اُسے ایک غیر ضروری مضمون میں فیل کر کے ایم فل کی دوڑ سے باہر کر دیا۔ اس بار وہ اکیلا ہی نہیں اپنی ایک کلاس فیلواور ہماری موجودہ بھابی (کل کی کس کو خبر) کے ہمراہ فیل کیا گیا۔ پہلی بار نکالے جانا ایک کتاب دے گیا تھا اور اس بار رزلٹ کے ساتھ نوکری کا رقعہ ملا اور ہمارا یار آفسر بن گیا۔
شعبے کی کینٹین پر پہلی دفعہ نیّر نے مجھے فورم کی سیکریٹری شپ لینے پر اکسایا اور میں نے ہاتھ کھڑے کر دیے، وہ مسلسل اکساتا رہا اور پھر اپنے آخری اجلاس کے دن تقریباً زبردستی رجسٹر میرے حوالے کر دیا۔مارچ 2010میں نیّر لاہور کو پیارا ہو گیا۔ ملتان آرٹس فورم کی سیکریٹری شپ پر آمادہ کرتے ہوئے نیّر مجھ پر ایسا احسان کر گیا کہ وہ مجھے کہکشاؤں کی ایک دنیا میں لے گیا جہاں چمکتے ستاروں نے میری ایسی تربیت کی کہ کھوٹا سکہ کام کا نکل آیا۔
میرا پہلا اجلاس اُسے الوداع کہنے کے لئے تھا جس میں مدھر ملک نے نیّر کا خاکہ پیش کیا اور یہ دونوں ایک لڑکی کے ہمراہ خالد سعید کے گھر جا پہنچے۔ ایک دوشیزہ سے شادی رچانا چاہتا تھا تو لڑکی دوسرے کی خاتون ِ خانہ بننے کے خواب دیکھ رہی تھی جو بطور گواہ ساتھ ہو لیا تھا۔ اور پھر خالد سعید کے اوسان خطا ہو گئے۔ مدھر نے لکھا تھا جب بھابی ارشاد کی آواز آئی ”کون ہے خالدی“ تو خالد صاحب کی آواز کے سب ساز اوپر کے سروں میں تھے اور وہ بوکھلاتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے۔ مدھر کا خیال ہے وہ خاکہ پھاڑ دیا گیا تھا مگر ایسی تحریر تو بیوی کے ڈر سے بھی پیلے کاغذوں میں دبائی جا سکتی ہے پھاڑی نہیں جا سکتی۔
خاکے کے ساتھ مدھر کا یہ خواب بھی چکنہ چور ہو گیا کہ عدنان صہیب اور نیّر مصطفی کی کُشتی میں وہ بطور ریفری اپنا کردار نبھا سکے۔ موجِ بلا تو مدھر کی طرف ہی آنی تھی۔ نیّر کی جسامت بھی کچھ ساتھ دے جاتی اور وہ ویسے بھی راستہ نکال لینے کے ہنر سے واقف تھا۔ ایک روز ہم کینٹ والے بالی سے چائے پی کر اُٹھے اور واپسی کے راستے میں نشتر روڑ والی نکڑ پر ٹریفک پولیس والے نے روکا تو رکتے رکتے تقریباً موٹر سائیکل اُلٹ گئی اور ہینڈل پر شاپر میں لٹکتی کتابیں شاپر کا منہ کھول کر باہر نکل آئیں۔ نہ کاغذات تھے نہ لائسنس مگر کتابیں تھیں۔ پولیس والے نے پوچھا”یہ کیا ساری ایک جیسی کتابیں لئے پھر رہے ہو، کرتے کیا ہو؟“ نیّر نے فٹ جواب دیا ”کتابیں لکھتا ہوں۔“ اور پھر ایک کتاب پولیس والے کے نام بصد خلوص و محبت اور ہم وہاں سے فرار۔
مدھر اور نیّر کا تعلق ایسا ہے کہ اکبر انتھنی یا چڈی کے یاروں جیسی مثالوں سے بھی سمجھایا نہیں جا سکتا۔دونوں الگ الگ مٹی کے بنے ہیں مگر یہ مٹی الگ الگ گوندھی نہیں جا سکتی۔ یار تو نیّر کا ایک اور بھی ہے جو اپنی اور اس کی روح کو دو اجسام میں بٹا سمجھتا ہے وگرنہ ان کی روح ایک ہے۔
خواتین مارچ والوں نے تو اپنے لئے’میرا جسم میری مرضی‘ والا نعرہ اب نکالا ہے نیّر اس اصول کا حق مدتوں سے حاصل کر رہا ہے۔ ہم ماس کام کی عقب کینٹین کے پارک میں کرسیوں پر پھیلے تھے اور نیّر نے ایک کھلی ڈلی بیگی ٹی شرٹ پہن رکھی تھی۔ جس کے بازوؤں سے اُس کی بغلیں جھانک رہیں تھیں۔ مدھر ایک عالم ِ فرط میں کودا اور اپنے گاڑھے لہجے میں گویا ہوا ”بھئی یہ تم بالوں کے باغیچے صاف کرو، وگرنہ پوری آستینوں کی قمیض پہنا کرو، یہ کیا تعفن پھیلائے پھرتے ہو۔“ نیّر اول تو اس اچانک حملے پر چونکا اور پھر شرٹ کی آستینوں کو مزید اوپر کرتے ہوئے بولا ”بھائی اگر نظارہ پسند نہ ہے تو رخ بدل لو اور آگر میرے پسینے کی خوشبو تمہارے نتھنوں سے سنبھالی نہیں جاتی تو رومال حاضر کروں؟“
وہ ہر ہفتے دو ہفتے بعد ملتان آ جاتا اور ہماری ملاقاتوں کی صورت نکل آتی۔ نیّر کے ایک جسم میں کئی روحیں ہیں۔ روحیں کیا آتمائیں ہیں، اچھی بری،شریف، شرارتی کئی طرح کی آتمائیں۔ لاہور رہتے ہوئے اُس نے افسانوں پر کام کیا، کام سے مراد افسانوں کی خراش تراش ہے۔ یوسفی کے عشق اور تونسوی کی شاگردی نے اُسے تراش خراش کی ایسی لت لگائی کہ وہ افسانہ لکھنے سے دگنا وقت اُس کی ایڈیٹنگ میں لگا دیتا ہے۔ یا یو ں سمجھیے ایک افسانہ کئی بار لکھا جاتا ہے اور کئی بار مٹایا جاتا ہے۔ افسانے کے ضد ایسی ہے کہ اُس کی شادی کی خبر کوئی دوست اخبار میں لگانا چاہتا تھا تو عزیزواقارب نے چاہا ایک مجسٹریٹ کی شادی کی خبر لگ جائے مگر اُس نے آخر ایک افسانہ نگار کی رشتہِ ازدواج میں بندھ جانے کی خبر بنوائی، یہی اُس کا تعارف تھا۔
دوسری طرف صورت یوں ہے کہ اُس کے حلیے پر کوئی اور تعارف جاتا بھی نہیں۔ ایک رات خواجہ صاحب کی بیٹھک پر چائے پیتے پیتے تھک گئے تو ہم پیدل چلتے جلال چوک غوری تکہ کی زیارت کو نکل گئے۔ تکہ کھاتے کب خواجہ صاحب کی دکان بند ہونے کا وقت ہو گیا معلوم نہیں پڑا۔ واپس آئے تو موٹر سائیکل غائب تھی۔ ہمارے طوطے ابھی ہواؤں میں اڑنے ہی والے تھے کہ تباش المعروف دال تغاری والوں کے اوپر کی کھڑکی کھلی اور کسی نے بتایا نامعلوم موٹر سائیکل سمجھ کر پولیس والے لے گئے۔ سکھ کا سانس آیا کہ چوری نہیں ہوئی (مسنگ ویکلز کی لسٹ میں ہی گئی ہے)۔ اب ہم مطلوبہ جگہ کولگنے والے تھانے کا معلوم کرتے رکشے میں بیٹھے اور تھانے پہنچ گئے۔ ابھی تھانے میں داخل ہو رہے تھے کہ نظر آیا تقریباً پولیس والوں نے موٹر سائیکل اٹھا کر ڈالے سے باہر پھینکی۔ جا کر اطلاع دی بھائی ہمارے ہی سامنے بچاری کے ساتھ ایسا سلوک تو نہ کرو تو معلوم ہوا صاحب اوپر بیٹھے ہیں جو بات کرنی ہے انہی سے ہو گی۔ صاحب کو پیغام بھیجا، کمرے میں گئے، صاحب فون پر مصروف تھے۔ نیّر نے اپنا تعارف دیا تو انہوں نے اوپر سے نیچے ایک جائزہ لیا اور تقریباً دل میں کہا ہو گا یہ آدھی رات کو مجسٹیریٹ کے نام پہ کیسا مذاق کرتا ہے نوجوان۔ انہوں نے ہمیں کمرے سے باہر بھیج دیا۔ نیّر کے موبائیل کی بیٹری جواب دے چکی تھی اور کسی دوست کا نمبر بھی یاد نہیں تھا۔ بات صبح پر ڈالتے تو اگلے روز موٹر سائیکل کے بچے کچے پرزے ہی ملتے۔اب کے نیّر دوبارہ کمرے میں گیا اور صاحب کو پھر یقین دلایا کہ وہ مجسٹریٹ ہی ہے اور یہ کہ موٹر سائیکل ہمارے جانے پر پولیس والے لے آئے۔ صاحب نے موٹر سائیکل لے جانے کی اجازت دے دی اور ہم کانسٹیبل کے پاس آ گئے۔ پہلے تو کانسٹیبل نے پھر ہمارا جائزہ لیا اور مجھے مخاطب ہوا“اے چٹکی سامنے کی دکان سے دو بوتل پانی لے آ؟“ نیّر کا پارہ اب کے اوپر آ چکا تھا اور وہ فٹ بولا ”جناب چٹکی نہیں میرا چھوٹا بھائی ہے، یہ کوئی پانی نہیں لائے گا، ہمارا موٹر سائیکل واپس کرو، صاحب سے بات ہو گئی ہے۔“ کانسٹیبل کی اس لہجے پر ہوائیاں ہو گئی پھر وہ صاحب کے پاس گیا، آ کر ایک اور جایزہ لیا مبادہ دھوکہ کھا رہا ہو اور ہمیں موٹر سائیکل واپس کر دی۔
اس سادگی پر صرف پولیس والے ہی نہیں ہمارے ناقدین بھی نیّر کو آسان لیتے رہے ہیں۔ اُن کے ساتھ تو ہاتھ ہوتا ہی رہتا ہے۔ وہ صرف بظاہر حلیے میں ایک سادہ ملنگ نہیں بلکہ یہ بے نیاری اور لا پرواہی اُس کی ذات کی خوب صورتی ہے، جسے نہ تو وہ اپنے لئے الجھن بناتا ہے نہ کسی اور کے لئے بننے دیتا ہے۔بس اُس کے انتظار کی کوفت ایک تکلیف بن سکتی ہے۔ اگر وہ آپ کو پانچ بجے ملنے کا کہے تو آپ سات بجے چائے پی کر گھر سے نکلیں اور اگر راستے میں کوئی کام پڑ جائے تو اُسے بھی نبٹا لیں۔ جب آپ ملاقات کے لئے پہنچ کر تیسری سگریٹ جلا رہے ہوں گے تو ملنگ حاضر ہو جائے گا۔
ہم فورم کی سالگرہ کی تقریب میں شرکت کے بعد اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہوئے۔ وہ بہاول پور اور میں لاہور کی بس میں بیٹھا۔ منزل سے ذرا پہلے اُس کی آنکھ لگ گئی اور پھر وہ تقریباً سندھ کی سرحدوں کی سیر کرتا پھرا۔ میں صبح لاہور پہنچ گیا مگر نیّر تب تک بہاول پور نہ پہنچا تھا۔
اُس کی ذات صرف آرٹ کی کئی صورتوں میں نہیں پھیلی، بلکہ اُس کی ذات میں کئی طرح کے نیّر موجود ہیں۔ جیسے تجربے وہ اپنے افسانوں میں کرتا ہے، ایسے ہی تجربے زندگی میں کرتا رہا۔ ایک زمانے میں اُسے مقابلے کے امتحان کی تیاری کرانے کا شوق ہوا تو جناب نے بینک سے ادھار پکڑا اور ایک اکیڈمی کھول ڈالی، اکیڈمی باقی کسی کام آئی یا نہیں مگر اُس کی ذات کے کئی اور پہلو اور پڑھانے اور مکالمہ کرنے کی ٹھرک پوری ہو گئی۔ وہ ایک ساتھ کئی چیزیں مینیج کر لیتا ہے۔ ایسے ہی وہ ایک ساتھ کئی دوستیاں چلا سکتا ہے اور دوستی وہ صرف چلاتا ہی نہیں نبھاتا بھی ہے، مشکل وقتوں میں نبھانے والی دوستی۔ اُس کی سچائی کے لئے یہی ایک بات کافی ہے کہ وہ سچا اور مخلص مشورہ دیتا ہے۔ صرف وہ مشورہ جسے کسی صورت وہ اپنے لئے بھی ٹھیک سمجھتا ہو۔ وہ یاروں اور محفلوں کا آدمی ہے، چوکوں اور پارکوں کے تھڑوں کا ساتھی ہے۔ وہ ساحر شفیق کی طرح خود ساختہ تنہائی یا کسی فرار کا متحمل نہیں۔ ہر لمحہ کسی کھوج اور نئے کرنے کی لگن میں محو رہتا ہے۔ سگریٹ سلگاتے ہوئے شفیق پان والی کی دکان پر لگی قدِ آدم سکرین پر تیرتی پریتی زنٹا جب دل سے رے، پر نیا آسن بنا کر ایک آنگ نکالتی ہے تو ملنگ پر جمالیات کی کئی نئی راہیں اتر آتی ہیں۔ وہ خالد سعید کا شاگرد ہے جو نثری غزل کا شائق ہے تو نیّر نثری نظموں کو گنگنانے کے خواب دیکھتا ہے۔
وہ ایک بے پرواہ بھنورہ ہے اور ایک ایسا رنگ جو کسی بھی رنگ کے ساتھ میچ کر جاتا ہے۔ وہ ایک ہی طرح کی جوتی سہولت کے ساتھ کسی بھی لباس کے نیچے پہن لیتا ہے اور بولتے ہوئے تھوکیں نکالنے سے بالکل نہیں شرماتا نہ ہی اُسے کسی آداب کے خلاف جانتا ہے۔ تھوک تھوک ہے اور اُس کا کام منہ سے باہر ہی آنا ہے، پھر شرمانا کیا۔ اور اگر کسی نے اعتراض کیا تو وہ تھوکوں کی ایک اورپھنوار چھوڑتے ہوئے کہے گا۔۔۔
BINGO
کھلاڑی جب کوچ بنتا ہے تو پریکٹس چھوڑ ہی دیتا ہے، نیّر ایسا کھلاڑ ی ہے جو کوچ بن کر بھی پریکٹس نہیں چھوڑتا اور میدان ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔ وہ ایسا کوچ ہے جس پر اشتیاق سحر لطیفے بنا بنا کر لوگوں پر چھوڑتا رہتا ہے اور کوچ مائنڈ نہیں کرتا۔ نیّر میرا یار بھی ہے، استاد بھی اور بھائی بھی۔ اب اور کیا کہوں _____ وہ ملتان کا ملنگ ہے، ایسا ملنگ جو سب کا یار ہے اور سب کی خیر مانگتا ہے۔
