یوں سمجھو دھیرے دھیرے مر رہے ہو – پیبلو نرودا (مترجم: حامد عتیق سرور)

 In ترجمہ, نظم

یوں سمجھو دھیرے دھیرے مر رہے ہو

اگر رستے بلانا چھوڑ دیں تو
کتابیں اجنبی لگنے لگیں تو
اگر سازوں سے آوازیں نہ ابھریں
اگر خود سے محبت نہ رہے تو

یوں سمجھو دھیرے دھیرے مر رہے ہو

جو اپنا آپ اچھا نہ لگے تو
مدد اوروں کی حرزِ جاں لگے تو

یوں سمجھو دھیرے دھیرے مر رہے ہو

اگر عادت غلامی بن گئی ہو
اگر ہر روز اک ہی راستہ ہو
اگر یکسانیت نے آلیا ہو
اگر رنگوں سے جی اکتا گیا ہو
اگر یوں راہ چلتے اجنبی سے
کبھی باتوں کو من چاہے ، نہ دل ہو

یوں سمجھو دھیرے دھیرے مر رہے ہو

اگر دل میں کوئی نہ آرزو ہو
محبت ہو نہ اس کی گفتگو ہو
غمِ ہجراں نہ فرطِ وصل باقی
نشاطِ مے نہ ذوقِ ہا ؤ ہو ہو
نہ دل دھڑکے ، نہی آنکھوں میں آنسو
خیالِ حسن ہو نہ جستجو ہو

یوں سمجھو دھیرے دھیرے مر رہے ہو

اگر بے کیف جینے کو نہ بدلو
اگر بے لطف پیشے کو نہ چھوڑو
اگر تکلیف دہ ناتا نہ توڑو

اگر محفوظ رہنا ۔۔
زندگی کے لطف سے اچھا لگے تو
اگر خوابوں کے پیچھے بھاگنا
کارِ گراں ہو
اگر اک بار بھی
جیون کی لایعنی و مہمل ۔۔۔بے کراں یکسانیت سے
کبھی خود کو رہا کرکے
کہیں نہ جا سکو تو ۔۔۔

یوں سمجھو دھیرے دھیرے مر رہے ہو!!!

Recent Posts

Leave a Comment

Jaeza

We're not around right now. But you can send us an email and we'll get back to you, asap.

Start typing and press Enter to search