رہے مکاں نہ سفر میں کوئی مکیں دیکھا – افتخار نسیم

 In غزل

رہے مکاں نہ سفر میں کوئی مکیں دیکھا

جہاں پہ چھوڑ گۓ تھے اُسے وہیں دیکھا

 

فشارِ خوں کی طرح گھٹتا بڑھتا رہتا ہے

جڑا ہوا یہ فلک میں عجب نگیں دیکھا

 

کٹی ہے عُمر کسی آب دوز کشتی میں

سفر تمام ہوا اور کچھ نہیں دیکھا

 

کھِلا ہے پھول کوئی تو اُجاڑ بستی میں

مکانِ دل میں کہیں تو کوئی کمیں دیکھا

 

یہ اور بات کے وہ دل کو بھا گیا ہے نسیمؔ

وگرنہ خواب تو ہم نے بہت حسیں دیکھا

 

 

ماخذ : اوراق

سنِ اشاعت :۱۹۹۳

مدیران: وزیرآغا، سجّادنقوی

 

Recommended Posts

Leave a Comment

Jaeza

We're not around right now. But you can send us an email and we'll get back to you, asap.

Start typing and press Enter to search