دوستکی۔ کہانی کار: رضوان بشیر بلوچ

 In افسانہ

”نا کی اے تیرا“ 

”عالم“

”واہ اوئے ۔۔۔ نام ہے عالم اور پڑھنا نہیں آتا، بہت اچھے۔۔۔۔ ہاہاہا، کیا سوچ کے یہ نام رکھ دیا تیرے ماں باپ نے؟“

”یار تھوڑا بہت تے پڑھ ای لینا، اسی لیے تو  کتابیں لیتا ہوں“

”اوۓ اردو پڑھن آلا کوئی پڑھا لکیھا نہی ہوندا، تعلیم یافتہ وہی ہوتا،  جو انگریزی پڑھنا لکھنا جانتا ہو اور بولنا بھی“

”صرف انگریزی بولن نال بندہ پڑھیا لکھیا ہو جاندا؟“ عالم نے حیرانی سے پوچھا۔

”ہور کی، اچھا تو دسیا نہی فیر“

”کی؟“

”کیوں تیرا نام رکھ دیتا عالم، ماں باپ نے؟“ دوکان دار کے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔

”رکھ دیتا ہونا یار، ویسے نام نال کی فرق پیندا، جومرضی رکھ لو“

”کر دی نا جاہلوں والی بات، نام ہی تو پہچان ہوتی ہے بندے کی، تاریخ کے جتنے بھی بڑے آدمی ہیں انکا نام ہی تو یاد رہتا لوگوں کو، انکے مرنے کے بعد بھی، بلکہ ہزاروں سال بعد بھی“

”صرف نام ای یاد ریندا؟“ عالم نے سادگی سے پوچھا

”ہور کی یاد رکھوانا تو، من گیا بہی تینوں، چل ہن ٹائم نا ضائع کر، شاباش سایڈ تے ہو ذرا“

عالم سایڈ پر ہو جاتا ہے، ایک نوجوان ہاتھ میں کتاب پکڑے ہوئے آگے آتا ہے

”اس بک کی کیا پرایس ہے؟“ دبلے پتلے، جینزاور ٹی شرٹ پہنے ہوئے نوجوان نے پوچھا

”دکھایں ذرا ۔۔۔ یہ سولہ سو کی ہے۔“ دوکان دار نے کچھ دیر سوچا اور نوجوان کو دیکھ کر جواب دیا

”سولہ سو تو   بہت زیادہ ہیں“ نوجوان نے حیرانی سے کہا

”سر، یہ اوریجنل ایڈیشن ہے دوستوسکی کا اور ہارڈ کور میں ہے“

”وہ تو نظر آرہا ہے، مگر پرایس بھی کافی ہارڈ ہے، فائنل بتا دیں کیا لینا؟“

”پندرہ سو دے دیں، وہ بھی صرف آپ کے لیے“

”نہیں یہ بھی زیادہ ہے، ہزار دوں؟“

”نہیں سر، ۱۵۰۰ از فائنل“ اتنا کہ کر دوکان دار نے اسکے ہاتھ سے کتاب واپس لے لی

”ٹھیک ہے، ایز یو وش“ اتنا کہہ کر نوجوان آگے نکل گیا۔

”شوق دوستوسکی دے، پر جیب نہی ڈھیلی کرنی“ دوکان دار سر جھٹک کر بڑبڑانے لگا ، اور کتاب کو واپس رکھ دیتا ہے۔

عالم سایڈ پر کھڑا تجسس سے اس کتاب کو دیکھ رہا ہے ” اے تے کافی پرانی جہی کتاب اے، سایڈ تو ذرا پاٹی وی ہوئ، فیر اینے پیسے کیوں منگ ریا“ وہ اپنےذہن میں سوچتا ہے۔

 اتنے میں دوکان دار پھر اسکو دیکھتا ہے ”اوے تو گیا نہی اجے“

”یار اے کیندی کتاب اے“

”دوستوسکی دی“

”دوست کی؟“

”اوے دوست نہی، دوستوئیفسکی،  وڈا رائیٹر سی، روس دا، کلاسیک اے“

”کلسک ۔۔۔ اوہ کی ہوندا؟“

”بہت اچھے، او بس ہوندا، تو سوال بڑے پوچھنا ماما، اے کی ہوندا، او کی ہوندا“

”مینوں کنے دی دے گا؟“ عالم نے اچانک سے پوچھا

”کی، اے کتاب؟“

”آہو“

”دماغ ٹھیک اے تیرا، کی کریں گا ایندا؟“ دوکان دار کے چہرے پر حیرانی تھی

”میں رکھا گا کول“ عالم نے سرسرا سا جواب دیا

”رکھا گا کول ۔۔۔ اوئے سارا دن مزدوری کرنا ایں، دو پیسے جیڑے لبدے نے ، اینا کتاباں تے لا دینا، اوتوں اے انگریزی دا ایڈیشن اے، تو واقعی پاغل تے نہی؟“

”تو أپی تے کیا،  وڈا رائیٹر اے، روس دا، اوتوں کلسک وی اے، مینوں پیسے دس“

”بڑی گل اے، جے تو واقعی لینی اے تے فیر تیرے لیے ہزار دی، اونوں میں نہی دیتی، پر تیرے لیئ ہزار دی، جے تو واقعی لینی اے“

”ہم م م م ۔۔۔“ عالم نے سوچنا شروع کر دیا

”بس نکل گئی پھوک، اوے تو اوہی کتاباں لے سو سو ألیاں، نالے کی فرق پیندا، تو کیرا انگریزی پڑھنا جاننا اے“

”فرق پیندا اے، اچھا میرے کول ایس ویلے کوئ تین یا چار سو ہوئے گا“

”نا پائی، ہزار تو کٹ نہی دینی، میں وی تے کج کمانا اے کے نہی“

”اچھا اے دس، اے کتاب اینی مہنگی کیوں اے“ عالم نے پھر پوچھا

”تینوں دسیا تے ہے، وڈا رائیٹر سی  دو سو سال پہلے، اے باقی جنے وی رائیٹر بنے پھردے نے ، ایندے اگے کج وی نہی، بلکہ لکھنا تے دور دی گل، کوئ وڈا پڑھن ألا وی نہی ہو سکدا، جدو تک دوستوئیفسکی نا پڑھ لے“

”اچھا ۔۔۔ مطلب اے سب تو پاڑی اے“

”أہو ۔۔۔ تے اک ہور گل دساں، اینو کول رکھنا فیشن وی اے، لوکاں تے رعب پان أسے“

”اچھا، بڑی گل اے“ عالم نے جواب دیا، اور کچھ سوچتے ہوے اپنے گھر کی طرف چل پڑا ۔۔۔

انار کلی بازار سے نکل کر عالم مال روڈ پر آجاتا ہے، سڑک کراس کر کے اپنے گھر کی طرف چل پڑتا ہے، جو کہ پرانے مزنگ میں واقع ہے۔ اسکی عمر  پندرہ یا سولہ سال ہو گی، ابھی داڑھی مونچھ بھی صحیح طرح سے نہی آئی تھی، درمیانہ قد اور سانولہ رنگ، پاوں میں نائیلون کے سلیپر، نیلے رنگ کا ٹراوزر اور سرمئی رنگ کی ٹی شرٹ پہنے ہوے، جس پر جگہ جگہ کالک لگی ہوی تھی۔ وہ ایک موٹر ورکشاپ پر کام کرتا تھا، مگر چہرے مہرے سے سلجا ہوا لگتا تھا۔ کسی بھی شخص کے لیے صرف اسکی شکل دیکھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل تھا کہ وہ زیادہ پڑھا لکھا نہی۔ وہ اپنے ہم عمر لڑکوں سے کافی مختلف تھا، نا آوارہ گردی کرتا، نا وڈیو گیمز کھیلتا، اور ناہی فلمیں دیکھنے کا خاص چسکہ تھا۔ عالم کو صرف ایک ہی شوق تھا، کتابیں پڑھنے کا۔ ذہین تو وہ بچپن سے تھا اور اسکول میں ہمیشہ اول آتا تھا، مگر حالات کے ہاتھوں مجبور ہو کر مزدوری کرنے لگا تھا۔ عالم کا استاد اُسے ایک وقت کی روٹی اور پانچ سو روپے دیہاڑی دیتا تھا، اور آج کی دیہاڑی میں سے سو روپیہ وہ پہلے ہی لگا چکا تھا۔

عالم اب جین مندر کی طرف بڑھ رہا تھا، مگر اس کاذہن ابھی تک اُسی کتاب کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ ”کوئی تے گل ہے اوندے اچ استاد جی، ہزار روپے قیمت، کلسک وی اے، دوست، دوستتت، چلو جو وی سی، کوئی وڈا بندا ای ہونا۔ لینی تے بندی اے استاد جی، پر کس طرح“۔ اسی دوران ایک موٹر سایئکل والا ۔۔۔زززن۔۔۔ سے اس کے پاس سے گزرا اور چلایا ”اناً ہو گیاں، سایڈ تے ہو کے ُٹر“، عالم اچھل کر ایک طرف ہو گیا اور غصے سے موٹر بایک والے کو دیکھنے لگا جو اب نظروں سے دور ہو چکا تھا ۔

عالم کا گھر مزنگ اڈے کی ایک کٹری میں تھا، جہاں پانچ سات گھر آمنے سامنے تھے، اور تقریباً ایک جیسے ہی لگتے تھے، جیسے سارے غریب لوگ ایک ہی جیسے نظر آتے ہیں، حیران پریشان اور ترسے ہوے۔ عالم کے گھر میں دو کمرے، دو چارپاییاں، دو پرانے لکڑی کے صوفے اور ایک ماں تھی اور ہاں ایک باوا آدم کے دور کا ٹی وی بھی تھا، جو ابھی تک چل رہا تھا۔

گرمیوں کے دن تھے، گلی میں بچے شور مچا رہے تھے، ایک دو بڑی عمر کی عورتیں اپنے دروازے میں چوکی پر بیٹھی ہاتھ والا پنکھا جھل رہی تھیں، شاید بجلی نہیں آ رہی تھی۔ ”سلام چاچی“ عالم نے آواز لگائی اور جواب سنے بنا ہی اپنے گھر کا پردہ اٹھا کر اندر داخل ہو گیا۔

اس کے گھر کے دونوں کمرے آگے پیچھے ہی تھے، مطلب جو بھی گلی سے اندر آتا، تو سیدھا کمرے میں ہی آتا۔ ڈیڑھ مرلے کا مکان ہوگا، وہ بھی سنگل سٹوری۔ عالم کی ماں چولہے کے سامنے کھڑی کچھ پکا رہی تھی، عمر ہوگی پچاس کے لگ بھگ، مگر دیکھنے میں اپنی عمر سے بڑی نظر آتی تھی، جسم پھیلا ہوا مگر چہرہ قدرے باریک اور بڑی بڑی کالی آنکھیں جن میں ہر وقت پانی تیرتا رہتا تھا۔ اس کا اصل نام تو پتہ نہیں، پرسارا محلہ اسکو آپا رانی کہ کر بلاتا تھا۔ پینتیس سال کی عمر میں پچاس سال کے شخص سے شادی ہوگئی، جو شادی کے دس بارہ سال بعد ہارٹ اٹیک سے مر گیا، اپنے پیچھے ڈیڑھ مرلے کا مکان، بیوہ رانی اور یتیم عالم کو چھوڑ گیا۔

عالم نے جیسے ہی گھر میں قدم رکھا تو بجلی آ گئی، رانی نے اسکو دیکھا تو بولی

”آگیا میرا پتر، چل منہ ہتھ دھو لے فیر تینوں روٹی دینی آں“

”پکایا کی اے؟“

”اوہی جو تینوں پسند اے، آلو تے شملہ“

”ٹھیک اے“

اتنا کہ کر وہ سیدھا پچھلے کمرے میں گیا اور دیوار میں بنے ہوئے لکڑی کے طاق میں ایک کتاب رکھ دی، جو اس نے انار کلی سے سو روپے میں خریدی تھی، وہاں پہلے ہی کچھ کتابیں رکھی ہوئی تھیں۔ ہاتھ منہ دھو کر اس نے کپڑے بدلے اور ماں کے قریب چولہے کے پاس پڑی چوکی پر بیٹھ گیا۔ رانی نے ایک کٹوری میں سبزی ڈالی، ساتھ دو روٹیاں اور عالم کو پکڑا دیں، ساتھ پانی کا گلاس بھی دیا، وہ کھانے لگا اور ساتھ ساتھ پانی بھی پیتا جاتا، رانی اسکو کھاتا ہوئے دیکھ رہی تھی۔

”تو وی کھا لے ماں“ عالم لقمہ چباتے ہوۓ بولا

”مینوں اجے بھوک نہی، تو کھا آرام نال“

”روٹیاں بس دو ای نے؟“

”آٹا مُک گیا پتر، جے تینوں ہور بھوک اے تے روٹی لے آ“

”جے آٹا مُک گیا تے فیر تو کی کھایں گی؟“ عالم نے مشکوک نظروں سے ماں کو دیکھا

”میں تینوں کیا تے ہے، مینوں بھوک نہی“ رانی نے نظریں چراتے ہوے جواب دیا

”اے کس طرح ہوندا کے بندے نوں بھوک ہی نا لگے“ عالم اونچی آواز سے بولا اور اٹھ کھڑا ہوا

”میں  لے کے آنا“

”کی؟“ رانی نے پوچھا

”روٹیاں، ہور کی“

”اوے ہوئے، اویں غصہ کر جانا، گل سن، صرف آپنے آسے لے کے أیں، میرے لی نہی“

مگر اس دوران عالم جوتی پہن کر دروازے سے باہر جا چکا تھا ۔۔۔

کافی رات ہو چکی تھی، عالم اپنی کتابوں کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا، وہ کبھی ایک کتاب کو چھو کر دیکھتا تو کبھی دوسری کو، ان کے صفحوں پر ہاتھ پھیرتا، کبھی انکی خوشبو سونگھتا، اس کے چہرے پر ایسے تاثرات تھے جیسے کوئی کنجوس شخص اپنی جمع پونجی گن رہا ہو۔ آج جو نئی کتاب اس نے خریدی تھی، وہ اسکی ورق گردانی میں مصروف ہو گیا۔ اچانک اس کے ذہن میں پھر وہی دوستوئیفسکی والی کتاب اُبھری، جسےوہ نہ خرید  سکا تھا، اُس کا خیال آتے ہی وہ ایک دم اُداس ہو گیا اور دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر سوچنے لگا کہ اُس کتاب کو کیسے خریدا جاے، مگر کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی، کیونکہ ہزار روپیہ اس کے لیے بڑی رقم تھی، وہ جو بھی دیہاڑی لگاتا تھا ، ماں کو لا کے دے دیتا تھا، جس سے بمشکل ان دونوں کی دال روٹی چلتی تھی، رانی کچھ سلای کڑاھی کا کام بھی کر لیتی تھی، روز کا روز ہی گزارہ ہوتا تھا، پیسے بچا کر جمع کرنے والا کام بہت مشکل تھا۔ عالم ابھی انہی سوچوں میں گم تھا کے اچانک رانی کی آواز آئی

”سو جا ہن، کی ویلا ہو گیا، ہر وقت کتاباں اچ وڑیا رینا“

”اچھا ماں، سو جانا“

 اتنا کہ کرعالم پھر کتابوں کو الٹ پلٹ کر دیکھنے لگا، اتنے میں رانی اٹھ کر اسکے پاس آ گئی۔

”پتر، سوندا کیوں نہی، فیر سویرے اٹھیا نہی جاے گا، نالے کی سوچی جا ریاں؟“

”کج نہی ماں، تینو نہی سمجھ آئے گی“ اس نے بےزاری سے جواب دیا

”او دس تے سہی، ماں توں کی لُکانا“

”دوستکی“ عالم نے چمکتی آنکھوں سے جواب دیا

”ہیں کی۔۔۔؟“ رانی نے حیرانی سے پوچھا

”اوہو، کیا سی نا، تینو نہیں سمجھ آے گی، کس ان پڑھ نال پالا پے گیا“

”اچھا میں ان پڑھ آں، تے تو جیویں بی اے کیتا ہویا، نالے دوستکی کی؟؟؟ ہائے  اُوے کسے کڑی نال دوستی تے نہیں لا لیتی، تیرا بیڑا تر جائے، ایسے گل دا ڈر سی مینوں، نکلیا نا فیر اپنے پیو ورگا، میں وی کواں راتاں نو جاگدا کیوں ریندا“

عالم حیرت زدہ ہو کر ماں کا منہ تکنے لگا، پھر جھنجلا کر بولا

”او ماں جی، ایویں بولی جا رے او، میں کی یاری لانی کسے کڑی نال، میرے کول تے موبیل وی نہیں ہے، جاو سو جاو، میں وی سون لگا ہن“

”چنگے پلے دوستکی نوں کڑی بنا دتا، لے دس“ وہ بڑبڑاتے ہوۓ اٹھا اور کمرے کی بتی بجھا دی۔

مگر نیند اُس  کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی، کبھی کوئی خیال ذہن میں آتا، کبھی کوئی،  اور پھر سوچوں کی اڑان اُسی دلخراش منظر پر آ کر رکی، جو برسوں سے اُس کے دماغ سے چمٹا ہوا تھا ۔۔۔ گلی میں باپ کی لاش پڑی تھی، رانی بین ڈال رہی تھی اور وہ اسکول کا یونیفارم پہنے ، گلے میں بستہ لٹکاے، دہشت سے سُن کھڑا تھا۔ وہ دن صرف عالم کے باپ کو ہی نہیں، بلکہ اسکے روشن اور پڑھے لکھے مستقبل کو بھی ساتھ ہی لے گیا تھا ۔۔۔

عالم کی ورکشاپ جنازگاہ پر تھی، جہاں ہر وقت رش لگا رہتا تھا، وہاں صرف موٹر سائیکل کا ہی کام ہوتا تھا، ورکشاپ کے ساتھ سپیر پارٹس کی  دکانیں بھی تھیں۔ اسکا استاد پینتالیس سال کا سخت مزاج شخص تھا، دل کا برا نہیں تھا، پر زمانے کی سختیوں نے اسکو تُرش بنا دیا تھا، وہ عالم کے باپ کا واقف تھا اور بچپن سے ہی اسکو جانتا تھا۔

”سلام استاد جی“، عالم نے دکان میں داخل ہوتے ہی آواز لگائی

”ادھا کینٹا لیٹ ایں توں، والیکم سلام، چل اوزار کڈ تے موٹر سایکلاں بارلا“

”اچھا استاد جی“

دن چڑھ آیا تھا، سڑک پر بھی کافی رش ہو چکا تھا، عالم اور استاد دونوں کام کرنے میں مصروف تھے، کہ اچانک ایک آواز آئی،

”انکل میری موٹر سائیکل دیکھیں ذرا، شاید چین مسئلہ کر رہا ہے“

استاد شاگرد دونوں نے سر اٹھا کر دیکھا،  ۱نیس بیس سال کی لڑکی کھڑی تھی، اُس نے جینز کے اوپر کڑتا پہنا ہوا تھا اور ہاتھ میں ہیلمٹ پکڑ رکھا تھا، ساتھ ایک موٹر سائیکل اسٹینڈ پر کھڑی تھی۔ گرمی کی شدت کی وجہ سے اس لڑکی کو کافی پسینہ آیا ہوا تھا، وہ اپنے دوپٹے سے منہ کو صاف کر رہی تھی، جو اسنے الٹا کر کے گلے میں ڈالا ہوا تھا۔ گلے میں ایک بیگ بھی لٹک رہا تھا، شاید کسی یونیورسٹی کی طالب علم تھی، اسکا رنگ سفید تھا اور دیکھنے میں خوبصورت تھی۔

استاد نے لڑکی کا اوپر سے نیچے تک جائزہ لیا اور بولا،

”ابھی دیکھ لیتے ہیں جی، کوی مسئلہ نہیں“، پھر ساتھ بیٹھے عالم سے کہا ”جا چین چیک کر“

عالم نے کپڑے سے ہاتھ صاف کیے، ٹول بکس پکڑا اور لڑکی کو دیکھتا ہوا اسکی موٹر سائیکل کے پچھلے حصے کی طرف بیٹھ کر چین کور اتارنے لگا، اسی دوران لڑکی کے فون کی گھنٹی بجی۔

”ہاں پنکی، یار I am stuck somewhere بایئک خراب ہو گی ہے“

”نہئ نہئ، میں آوں گی، تھوڑا ویٹ کر لو، کیا ہو گیا، مجھے کیا پتہ تھا کے میری بائیک  بےوفائی کر جائے گی”

”ہاں لے لی ہی بُک، میرے بیگ میں ہے“

”وہی لی ہے بابا، White Nights by Dostoevsky“

عالم جو بایک کا چین ٹھیک کرنے میں مصروف تھا، اور لڑکی کی گفتگو بھی سن رہا تھا، جیسے ہی اس نے دوستوئیفسکی سنا اسکے کان کھڑے ہو گئے، اس نے چونک کر لڑکی کی طرف دیکھا، مگر کچھ بولا نہیں۔

”ہاں کی مسلہ اے؟“ استاد نے پوچھا

”چین ٹیلا اے استاد جی، نالے لاک وی مسلہ کر ریا“ عالم نے جواب دیا

”نواں لاک لا دے اندروں لیا کے، جینوین لایں ہلکا نہیں“

”ٹھیک اے استاد جی“

 ”نالے چین کَس کے، تیل وی دے دے“

عالم جو اٹھ کر دکان کے اندر جا رہا تھا، اس نے چلتے چلتے استاد کی بات سن کر سر ہلایا،

”تسی بیٹھ جاو  بینچ تے،   پکھے  تھلے“ استاد نے بینچ کی طرف اشارہ کرتے ہوے، لڑکی سے کہا

”نہیں میں ٹھیک ہوں ادھر، شکریہ“

عالم نے چین ٹھیک کر دیا، لڑکی نے پیسے دیے، استاد نے پیسے پکڑ کر جیب میں ڈالے اور ساتھ والی سپیر پارٹس کی دکان کی طرف چل پڑا۔

جیسے ہی لڑکی بائیک پر بیٹھی، عالم پہلے تو ہچکچایا، پھر ہمت کر کے لڑکی کے پاس آیا اور ہلکی آواز میں بولا

”آپ جانتی ہیں، دوستکی کو؟“

”کس کو۔۔۔” لڑکی نے حیرانی سے پوچھا

”دوستکی، وہی جسکا نام لیتا تسی فون تے“

”دوستکی؟؟؟ اوہ تم شاید دوستوئیفسکی کی بات کر رہے ہو“

”ہاں جی وہی“ عالم نے خوشی سے جواب دیا

”ہاں بالکل جانتی ہوں، اُس کی بُک لی ہے میں نے، ایک فرینڈ کو گفٹ کرنی ہے“ لڑکی نے کچھ سوچتے ہوے جواب دیا

”میں بھی جانتا ہوں اسے“ عالم نے سینہ پھلاتے ہوئے کہا

”تم اور دوستوئیفسکی،  I mean کیسے، کیا جانتے ہو؟“ اب کی بار لڑکی کی آنکھوں میں کافی زیادہ حیرانی تھی اور وہ گہری نظروں سے عالم کو دیکھ رہی تھی

”میں سب جانتا ہوں اسکے بارے میں، بڑا وڈا بندہ سی روس دا، کتابیں لکھدا سی، او وی کلسک“ عالم نے فخریہ انداز میں جواب دیا،

”کلسک، you mean classic ہا ہا ہا، but very impressive، یار تم نے تو مجھے سچ میں حیران کر دیا“

تعریف سن کر عالم کی آنکھوں میں ستارے چمکنے لگے، اور وہ خوشی سے پھولا نہیں سما رہا تھا،

”خیر اچھا لگا تم سے مل کر، I am getting late پھر کبھی اس طرف آئی توتمھارے ساتھ ضرور گپ لگاوں گی“

”ہاں جی، ہاں جی“ عالم نے بے صبری سے جواب دیا۔

باقی کا سارا دن اس نے بڑی سرشاری میں گزارا، سب سے ہنس کھیل کر بات کرتا رہا، اور رات کو گھر جاتے ہوے اپنی ماں رانی کے لیے آئس کریم بھی لے کر گیا۔ خوشی کے ساتھ ساتھ اس کے دل میں کسک بھی اٹھ رہی تھی اور وہ پھر سے سوچنے لگا کے دوستوئیفسکی کی کتاب کو کیسے خریدی جائے؟  رات کو حسب عادت جب وہ اپنی کتابوں کو دیکھ رہا تھا تو اسکے دل کے ساز پر صرف دوستوئیفسکی کا ہی راگ چل رہا تھا، وہ ساری کتابیں جو اسکے سامنے تھیں اب اسکا دل لبھانے میں ناکام تھیں۔ وہ دیر تک سوچتا ہا، پھر اچانک سے اسکی آنکھوں میں چمک اور ہونٹوں پر مسکراہٹ آ گئی ۔

اگلے دن اتوار تھا، وہ صبح صبح ہی اُٹھ گیا، ناشتہ کر کے سیدھا انارکلی پہنچا، اور اسی دکان کی سامنے کھڑا ہو کر دیکھنے لگا، آخر اسے دوستوئیفسکی کے ناول Crime and Punishment  کا اصل ایڈیشن نظر آ گیا۔

”ہاں عالم سنا کیسا ہے، وہ اُدھر پڑی ہیں سستی کتابیں“ دکان دار کتابوں کو ترتیب سے رکھتے ہوے بولا،

”مجھے وہ چاہیے“ عالم نے دوستوئیفسکی کی طرف اشارہ کیا

”کیا یہ، دوستوئیفسکی لے گا؟“

”ہاں، دوستکی“ عالم نے پرعظم لہجے میں جواب دیا

”فیر اوہی گل، اچھا چل ٹھیک اے، کڈ ہزار روپے“

”ہزار تے نہیں ہے“

”تے فیر کی، فری لین آ گیاں“ دکان دار غصے سے بولا

عالم نے ہاتھ میں پکڑا ہوا شاپنگ بیگ آگے کر دیا

”یہ کیا ہے؟“ دکان دار نے پوچھا

”اس میں کتابیں ہیں، جو میں نے آج تک لی ہیں، آدھی تو تیرے سے ہی خریدی ہیں“

”تو“

”تو یہ ٹوٹل بیس کتابیں ہیں، ساری رکھ لے، اور مجھے دوستکی دے دے۔“

Recommended Posts

Leave a Comment

Jaeza

We're not around right now. But you can send us an email and we'll get back to you, asap.

Start typing and press Enter to search