آخر تمہیں آنا ہے۔ کہانی کار: رضوان بشیر بلوچ
اشھدُ انَ لاالٰہ الا اللہ
اشھدُ انَ لاالٰہ الااللہ
اشھدُ انَ لاالٰہ الااللہ
میں نے سارا وقت حوصلے سے گزارا تھا۔ جنازے کے ساتھ ساتھ چلتا رہا، بلکہ ایک دو بار کاندھا بھی دیا، میرے ساتھ کون لوگ چل رہے تھے اور ان میں سے کون کلمہ شہادت کا ورد کر رہا تھا مجھے سنائی دے رہا تھا۔ صرف یہ ہی نہیں، بلکہ سڑک پر چلنے والے مسافر رُک رُک کر پوچھ رہے تھے کہ کس کا جنازہ جا رہا ہے، میں اُن کو بھی دیکھ رہا تھا۔ لال رنگ کی چارپا ئی پر رکھا ہوا اسکا مردہ جسم، اور اس پرلپٹا ہوا سفید کفن، جس پر سبز رنگ کی چادر پڑی تھی اور کبھی کبھی دھوپ پڑنے پر چمکتی تھی، مجھے وہ بھی نظر آرہی تھی۔ وہاں کوئی نہیں جانتا تھا کہ میں کون ہوں اسی لیے کوئی دلاسہ دینے بھی نہیں آیا اور نہ ہی کسی نے مجھے گلے لگا کہ یہ کہا:
”بس جی اللہ دی مرضی“۔
شدید گرم دن تھا اور چلچلاتی ہوئی دھوپ میں، پسینے میں شرابور، ہم بس چلتے جا رہے تھے اور منزل تھی میانی صاحب۔ میرے ارد گرد جو کچھ بھی ہو رہا تھا شاید میرا ذہن اسے ماننے سے انکاری تھا کیونکہ میں رو نہیں رہا تھا اور ابھی تک اپنے ہوش وحواس میں تھا، ورنہ یہ کیسے ممکن تھا کہ میں اپنے قدموں پہ کھڑا تھا، سب کچھ دیکھ اور سن رہا تھا۔ یہ تو میری زندگی کا سب سے بڑا غم تھا، اسکی شد ت سے میرا کلیجہ پھٹ جانا چاہیے تھا،آنکھوں کی بینائی چلی جانی چاہیے تھی مگر ایسا کچھ بھی نہیں ہوا، بس ایک بوجھ تھا دل پہ جو لمحہ بہ لمحہ بڑھتا چلا جا رہا تھا ، جیسے کوئی پتھر کی سل اس پہ رکھی جا رہی ہو۔
ہم جس سڑک پر چل رہے تھے اسکے دونوں جانب میانی صاحب تھا، مطلب یہ گزرگاہ قبرستان کا سینہ چیر کربنائی گئی تھی، شاید اسکے نیچے بھی قبریں ہوں جن میں پڑے مردے ہمارے قدموں کی دھمک سن رہے ہوں، یا پھر یہ صرف میرا خیال ہی ہو، میں نہیں جانتا۔ اور ہمارا یہ جناز گاہ سے قبرستان تک کا سفر، زندگی سے موت کی طرف تھا یا موت سے زندگی کی طرف، میں یہ بھی نہیں جانتا، شاید کوئی بھی انسان کچھ بھی نہیں جانتا، یا شاید کچھ جانتا ہو، پتہ نہیں۔
سڑک کے دونوں طرف پھول بیچنے والوں کی دکانیں تھیں، وہاں صرف دو رنگ کے پھول اور پتیاں پڑی تھیں، لال اور پیلا، ایک تو گلاب تھا اور دوسرا شاید گیندا، پتہ نہیں۔ یہ پھول بھی عجیب چیز ہے، خوشی ہو یا غم، دونوں موقعوں پر گل کھلاتا ہے، دولہے کے گلے کا ہار بھی بنتا ہے اور میت کے سینے کا سنگھار بھی۔ شاید اسی لیے مجھے پھول کبھی بھی پسند نہیں رہے، پتہ ہی نہیں چلتا یہ دوست ہیں کہ دشمن، اِن کو دیکھ کر خوش ہونا ہے یا غمگین، ایک نہ سمجھ آنے والی گومگو کی کیفیت ہوتی ہے۔ میں نے اپنے بڑوں سے سنا تھا کہ باراتیں مردوں سے سجتی ہیں اور جنازے عورتوں سے، اور اگر جنازہ ہی کسی عورت کا ہو اور مردوں نے اٹھایا ہو تو اسکی سجاوٹ کیسی ؟ پتہ نہیں۔ پھولوں کے ساتھ اگربتیاں بھی رکھی ہوئی تھیں، کچھ لوگ وہ بھی خرید رہے تھے۔ لوگوں کو اگر بتی جلانا شاید اس لیے پسند ہے کہ بعد میں انکی انگلیوں سے بھی خوش بو آنے لگتی ہے، یا پھر انکو معطر ہوتا ہوا دھواں دیکھنا پسند ہے، پتہ نہیں۔
ایک دم میرے کاندھے کو جھٹکا لگا، شاید جنازے کو کاندھا دینے کی کوشش میں کوئی شخص مجھ سے ٹکرا گیا تھا، میں ہلکا سا لڑکھڑا کر سیدھا ہو گیا۔
”جوانی میں ہی فوت ہوگئی بیچاری، ابھی اس نےدیکھا ہی کیا تھا؟“ میرے ساتھ چلتے ہوے آدمی نے اپنے ساتھ چلتے ہوے آدمی سے کہا۔
یہ الفاظ سنتے ہی میرے سینے میں ایک ٹیس اٹھی، میں نے داہنے ہاتھ سے سینے کو بھینچا، اس شخص پر ایک نگاہ ڈالی اور پھر نظریں پھیر لیں۔ سڑک کے ساتھ بیٹھی ایک بچی نے ٹافی کولفافے سے نکال کر منہ میں رکھا، اس نےلال رنگ کی کانچ کی چوڑیاں پہن رکھی تھیں۔ مجھے احساس ہوا کہ چوبیس گھنٹے سے زیادہ ہو چکاہے کچھ کھاے ہوئے، صرف ایک یا دو گلاس پانی کے پیے تھے اور اس سے زیادہ پسینہ نکل چکا تھا۔
نہ جانے یہ جنازہ ہمیشہ تیز کیوں چلتا ہے، جتنی مرضی کوشش کر لیں، لیکن رفتار کم نہیں ہوتی۔ لوگ آوازیں لگاتے ہیں ”آہستہ چلو، آہستہ چلو“ رفتار ایک لمحے کے لیے کم ہوتی ہے اور پھر دوبارہ تیز ہو جاتی ہے۔ میرے قدم بوجھل ہو رہے تھے، نقاہت کا احساس بڑھتا جا رہا تھا، جسم پسینے سے شرابور تھا اور دل تھا کہ ڈوبتا ہی جا رہا تھا۔ قریب تھا کہ میں تھک کے گر پڑتا کہ اچانک جنازہ رک گیا اور سٹرک کے ساتھ بنی دیوار کے بیچ ایک خالی جگہ سے میانی صاحب کے اندر داخل ہو گیا، وہ جگہ تنگ تھی اور لوگ رُک رُک کر جا رہے تھے، میں تقریباآخر میں داخل ہوا۔ اب ہر طرف صرف قبریں تھیں، کچی پکی، سیمنٹ کی، سنگ مرمر کی اور کچھ صرف مٹی کا ڈھیر۔ کافی تعداد میں درخت بھی تھے اور ہلکی سی ہوا کا احساس ، میں نے سکون کا سانس لیا اور ایک درخت کے نیچے ٹیک لگا کے کھڑا ہو گیا، آنکھیں بوجھل ہو کے ہلکی سے بند ہویں اور اچانک سے چوڑیوں کی کھنک سنائی دی ۔۔۔
”بتاونا کیسی لگ رہی ہیں، میری چوڑیاں؟“
کانوں میں شرارت سے بھرپور اسکی آواز گونجی، آنکھوں کے سامنے سیاہ گھنے بال لہرائے، جو سیدھے کمر تک جا رہے تھے، بادامی رنگ کی نازک کلایاں آپس میں ٹکرایں، چھن چھن کی آواز آئی۔ میرے لبوں پر ہلکی سے مسکراہٹ آ گئی، اچانک گردن میں درد کی لہر اٹھی، میں نے جھٹکے سے آنکھیں کھول دیں، شاید کسی کیڑے نے کاٹ لیا تھا، ہاتھ سے گردن کو مسلتا ہوا میں سیدھا ہو گیا۔ سامنے پھر وہی منظر تھا، ہر طرف قبریں، گھاس،کتبے، ہلکی سی ہوا، اوران کے درمیان اس کا مردہ جسم۔
جنازہ ایک کھلی قبر کے پاس رکھ دیا گیا تھا، جس کے چاروں طرف تازہ مٹی پڑی تھی، لوگ بھی کھڑے ہوے تھے، گورکن قبر کے اندر ا تر کر کچھ صفائی کر رہا تھا، اب لوگ ذرا بکھر کر ٹولیوں میں بٹ گئے، بڑی عمر کے افراد قبروں کے ساتھ ٹیک لگا کے بیٹھے ہوئےتھے، ایک دو نے پیچھے ہٹ کر جیب سے سگریٹ نکال کر سلگا لی اور گپ لگانے لگے۔ میں نے قبروں کے کتبوں کو پڑھنا شروع کر دیا، ان پر طرح طرح کے اشعار لکھے ہوئےتھے ۔۔۔۔
”بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی“
”تیری یاد آئی تیرے جانے کے بعد“
ایک پر پیاری امی جان اور دوسری پر پیارے ابو جان بھی لکھا ہوا تھا۔ کچھ قبریں تقسیم ہند سے پہلےکی تھیں، جن پر تاریخِ وفات ۱۹۴۰، ۱۹۴۷ اور ۱۹۵۰ بھی لکھا ہوا تھا۔ مطلب ۱۹۴۰ والا ہندوستان میں مرا تھا اور ۱۹۵۰ والا پاکستان میں۔ پر یہ ۱۹۴۷ والا کہاں مرا تھا، ہندوستان میں یا پاکستان میں؟ پتہ نہیں۔ جانے لوگ یہ کتبے کیوں لکھواتے ہیں؟ جانے والا تو چلا گیا، اسنے اب کونسا پڑھنا ہے، یا شاید زندہ لوگوں کو اپنے احساسات بتانے کے لیے لکھے جاتے ہیں، یا صرف اپنا ذوق دکھانے کے لیے، پتہ نہیں۔
قبروں کی تعمیر دیکھ کر صاحب قبر کی مالی حیثیت کا بھی اندازہ ہو رہا تھا، مٹی کے ڈھیر والا غریب آدمی ہوگا اور سنگ مرمر والا امیر وکبیر، یہ طبقاتی فرق مرنے کے بعد بھی انسان کی جان نہیں چھوڑتا۔ مجھے اپنے پیروں کے پاس ایک سرسراہٹ سی محسوس ہوئی، دیکھا تو ایک نیولہ تیزی سے نکل کر دوسری طرف جا رہا تھا، اس نے ذرا دور جا کر رک کر میری طرف دیکھا، کچھ لمحے توقف کیا اور پھر قبر کےکتبے کے پیچھے غائب ہو گیا۔ عین اسی وقت ایک کَوّےنے زور سے کائیں کیا، میں نے اوپر دیکھا تو وہ بالکل میرے سر کی سیدھ میں ایک شاخ پر بیٹھا تھا اور میری طرف ہی دیکھ رہا تھا۔ پتہ نہیں یہ ویرانوں کے جانور میری طرف ہی کیوں دیکھ رہے ہیں، ۵۰ ، ۶۰ اور لوگ بھی کھڑے تھے، پھرصرف میری طرف ہی کیوں؟ پتہ نہیں۔
ایک دم سے مجھے پھر شدید نقاہت اور بھوک کا احساس ہوا، شاید کچھ کھانا چاہیے تھا، مگر میانی صاحب میں قبروں کے درمیان کچھ کھانے کو ملنا نا ممکن تھا، ویسے بھی مردہ لوگوں کا کھانے پینے سے کیا واسطہ، میرا دل بیٹھا جا رہا تھا، ایک شدید چکر آیا اور آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا، میں نے سر کو جھٹکا دیا اور بوجھل ہوتی پلکوں کو زور لگا کے بمشکل اٹھایا تو نظر سیدھا لال چارپائی پر پڑی، جس پر اسکا مردہ جسم، سفید کفن میں لپٹا ہوا تھا۔
قبر تیار ہو چکی تھی، ایک لڑکے نے چٹائی پکڑی اور قبر کے اندر اتر کر بچھانے لگا، پھر اس نے آبِ زم زم سے بھری بوتل پکڑی اور چاروں کونوں میں زم زم چھڑکنے لگا، باہر کھڑے لوگ تجسس سے قبر کے اندر جھانک رہے تھے، جیسے کچھ تلاش کر رہے ہوں، مگر وہاں تھا ہی کیا سوائےبھربھری مٹی اور کیڑوں مکوڑوں کے۔ یہ میرا اندازہ تھا ورنہ جس جگہ میں کھڑا تھا وہاں سے قبر کے اندر جھانکنا ممکن نہیں تھا، اور نہ ہی میں جھانکنا چاہتا تھا، نہ ہی میں یہاں آنا چاہتا تھا، اور نہ ہی اسے اس حالت میں دیکھنا چاہتا تھا، پھر بھی میں آ گیا، پتہ نہیں کیوں۔
”قبر تیار ہے جی، میت کو اُٹھا کر احتیاط سے لے آئیں۔“ گورکن نے آواز لگائی۔
”عورت ہے، صرف محرم حضرات ہی ہاتھ لگایں“
یہ سنتے ہی میں نے لاشعوری طور پر ایک قدم اُٹھایا اور پھر رک گیا، میں محرم تھا یا نامحرم؟ پتہ نہیں۔ ابھی اسی کشکمش میں تھا کہ دو لوگ آگے بڑھے اور انہوں نے اس کے مردہ جسم کو سر اور پیروں کی طرف سے پکڑ کر اُٹھایا، اسی دوران ایک باریش شخص نے قران کی تلاوت شروع کر دی، میری آنکھوں کے سامنے اسکا مردہ جسم جس پر سفید کفن لپٹا تھا، لحد میں اُتارا جا رہا تھا۔
”سنو مجھے یہ سفید رنگ بالکل اچھا نہیں لگتا۔“
”میرے دل کو صرف شوخ رنگ ہی بھاتے ہیں۔“
وہ رنگوں میں کھیلنے والی آج سفیدی میں کیوں لپیٹ دی گئی؟ کوئی اِن کو بتاتا کیوں نہیں کہ اسکو سفید رنگ نہیں پسندـــــــنہیں پسندــــــــ نہیں پسند۔
دل کیا کے چیخ چیخ کر پوچھوں کیوں پہنایا ہے یہ سفید رنگ، تمہیں کوئی اور رنگ نہیں ملا، مرنے والے کا کچھ تو خیال کیا ہوتا ، اسکے آخری سفر کو یادگار تو بنایا ہوتا، جو زندگی میں وہ چاہتی تھی وہ تو تم نے ہونے نہیں دیا، اب مرنے کے بعد تو اسکی پسند کا لحاظ کیا ہوتا۔ اُف میرے خدا یہ کیا ہو گیا، کیا سوچا تھا اور کیا ہو گیا، کیا بگاڑا تھا ہم نے کسی کا، لوگ کسی کو خوش کیوں نہیں دیکھ سکتے، ہم نے تو صرف خواب دیکھا تھا، یہ عذاب کہاں سے آگیا۔ کتنی نازک ہے وہ، یہ کہاں لے آئے ہیں اس کو، کیسی وحشت ہے یہاں، کیسے رہے گی وہ یہاں، وہ تو ڈرتی ہے اندھیرے سے، کوئی ان کو بتاتا کیوں نہیں، کوئی ان کو بتاتا کیوں نہیں۔ یا اللہ میں کیا کروں، یہ غم میرے بس کا نہیں، میرا کلیجہ پھٹ جائے گا، یہ کیسا درد ہے جو میرے دل کو نچوڑ رہا ہے۔
میرے جسم پر ہلکا سا لرزہ طاری ہو گیا، ایسا لگ رہا تھا جیسے مجھے قبر میں اُتارا جا رہا ہو، آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا رہا تھا، مجھے نہیں جانا، میں تو زندہ ہوں، تم دیکھتے نہیں، کیوں دفنا رہے ہو زندہ شخص کو، چھوڑ دومجھے، چھوڑ دو میرے پیروں کو، چھوڑ دو میرے سر کو، کیوں پکڑ رکھا ہے مجھے۔ شدید بے بسی اور درد کا احساس بڑھتا جا رہا تھا، پھر میں نے باقاعدہ کانپنا شروع کر دیا، سینے کا بوجھ اپنی انتہا کو پہنچ چکا تھا۔
اشھدُ انَ لاالٰہ الا اللہ
دھم
پہلی سلیب کو قبر کے اوپر رکھا گیا اور اسکے گرنے کی آواز سنتے ہی میں نے دل دوز چیخ ماری۔
اشھدُ انَ لاالٰہ الا اللہ
دھم
دوسری سلیب کے گرنے کی آواز نے ایک دم سے نیلے آسمان کو کالا کر دیا۔
اشھدُ انَ لاالٰہ الا اللہ
دھم
تیسری سلیب کی آواز آتے ہی میں اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھا اور چکرا کر زمین پر گر پڑا۔
