کبوتری۔ کہانی کار: رضوان بشیر بلوچ

 In افسانہ

“ہاے دے نا، اللہ دے نا ں دا، سانوں وی کجھ”

“شالا جوانیاں مانے”

“واہ چکنے، بڑا سوہنا ایں تو”

روز صبح ہونٹوں اور گالوں پر سرخی پاوڈر چپکا کر، جسم پرچمکیلے کپڑے پھسا کراور سر پر بالوں کی وگ لگا کر، ٹریفک سگنل پر کھڑے ہونا میرا معمول تھا۔ میں کہاں پیدا ہوا تھا یا ہوئی تھی، کس نے پیدا کیا تھا اور کیوں پیدا کیا تھا، یہ تو صرف اوپر والا ہی جانتا ہے۔ جب سے ہوش سمبھا لا آنکھوں کے سامنے تھرکتے پاوں اور کانوں میں گونجتی ہوی گھنگھرووں کی آواز تھی۔ گرو نے جب پہلی نظر مجھ پر ڈالی، میرے معصوم چہرے اور حیران آنکھوں کو دیکھا تو بے ساختہ بولا “اے تے میری کبوتری اے”گرو اب کافی بیمار رہنے لگا تھا، اس کی یہ حالت میرے سے دیکھی نہیں جاتی تھی، کیا کمال کی جوانی تھی اسکی، بڑی بڑی نشیلی آنکھیں، سیاہ گھنے بال، لمبا قد اور مضبوط جسم۔ ایسے ناچتا تھا جیسے دھرتی پھاڑ کے رکھ دے گا، لوگ دیوانے تھے اسکے، ہم سارے مل کر بھی کبھی اتنی کمائی نہیں کر سکے، جتنی وہ اکیلا کر لیتا تھا۔ اور اب یہ حال کے ناچنا تو دور کی بات، پاوں اٹھانا بھی محال ہے۔رات بھر وقفے وقفے سے بجلی کڑکتی رہی، تیز ہوا کے ساتھ بارش ہوتی رہی، اور صبح بھی موسم ابرآلود تھا۔ آج کام پر جانے کا من نہیں تھا، بلکہ کچھ بھی کرنے کا دل نہیں تھا، سوچا کے صرف سوچا ہی جائے، یاپھر کھڑکی کے پاس بیٹھ کر ان آوارہ بادلوں کو دیکھا جائے، جن کا نا کوئی مقصد تھا اور نا ہی کوئی منزل، بس ہوا کے دوش پر اِدھر سے اْدھر گھومتے رہنا ہی ان کا کام تھا۔ یہ مجھے کچھ اپنے جیسے ہی لگے ۔۔۔ لیکن نہیں! یہ میرے جیسے نہیں، کیونکہ کچھ بادل بارش تو برسا ہی دیتے ہیں۔گرو بار بار درد سے کراہ رہا تھا، حکیم نے دواکے ساتھ دیسی مرغی کی یخنی بھی بتائی تھی، تاکہ جسم کچھ جان پکڑے۔ میں نے کچھ دیر سوچ کر ایک لمبا سانس لیا اور اْٹھ کھڑا ہوا۔ کوئی خاص تیاری بھی نہیں کی، جو ہاتھ لگا پہن لیا، بے دلی سے میک اپ کیا اور باہر نکل گیا۔ گلی میں نکل کر دیکھا تو ایک کھجلی کا مارا کتا کھڑا تھا، اسکا جسم کانپ رہا تھا اور حالت خراب تھی، شاید رات بھر بارش میں بھیگتا رہا ہو گا، چلتے پھرتے لوگ اس سے بچ کر گزر رہے تھے، اس کتے نے ایک دو لوگوں کے قریب ہونے کے کوشش کی تو انہوں نے ماں بہن کی گالی دے ڈالی، جیسے کتا اس گالی کا مطلب جانتا ہو اور ماں بہن کے رشتوں کو بھی پہچانتا ہو۔ اسکو دیکھ کر مجھے بھی اپنے جسم پر خارش کا احساس ہوا، شاید کافی دنوں سے نہ نہانے کا اثر تھا، مگر وہ کتا تو ساری رات نہاتا رہا تھا، پھر بھی کھجا رہا تھا، میں نے ایک جھرجھری لی اور سڑک کی طرف چلنا شروع کردیا۔جیسے ہی سگنل پر پہنچا تو دیکھا ایک بڑی سی کار سڑک کے کنارے کھڑی تھی۔ جس میں بچے بیٹھے تھے اور دروازے سے سر باہر نکال کر اِدھر اْدھر دیکھ رہے تھے۔ جیسے ہی بچوں کی نظر میرے پر پڑی، انہوں نے ہنسنا شروع کردیا۔ عجیب بات ہے کہ بچوں کے مسکرانے یا آواز کسنے سے مجھے کبھی تکلیف نہیں ہوئی اور نا ہی بےعزتی کا احساس ، بلکہ مجھے ہنستے مسکراتے ہوے بچے اچھے لگتے تھے۔ میں سیدھا گاڑی کے پاس جا کے رکا اور بچوں سے لاڈ پیار کرنے لگا۔”اوئےکھسریا، بچے تو پرا ہو کے کھلو، ہاتھ نا لا اونوں”پیچھے سے اچانک قدرے اونچی آواز سنای دی، ایسے لگا جیسے کسی نے گھونسا مار دیا ہو، میں جھٹکا کھا کر سیدھا ہو گیا، مڑ کے دیکھا تو کالی شلوار قمیض میں ملبوس، گھٹے ہوئےجسم والا ایک شخص جس کی رنگت سانولی تھی، چلا آ رہا تھا۔ اس کے چہرے پر بھاری مونچھیں تھیں اور وہ میری طرف غصے سے دیکھ رہا تھا۔”کی ہویا صاب جی، اے تے اللہ دی زمین اے، جتھے دل کرے گا کھلو واں گا” میں نے تالی بجا کر مخصوص انداز سے جواب دیا۔”دساں تینو کندی زمین اے؟” اس شخص کا پارہ مزید چڑھ گیا۔”ایویں غصہ کر رئے او، میں تے کجھ وی نہی کیا””تو کجھ کہہ وی نہی سکدا””کہہ تے میں بڑا کجھ سکنا” ایک آنکھ کو دبا کر میں نے شرارت سے جواب دیاساتھ کھڑے ہوئے ایک دو لوگوں نے میرا جواب سن کر ہنسنا شروع کر دیا، وہ میری طرف ہی متوجہ تھے، کوئی دس فٹ دور ایک ٹریفک پولیس والا بھی کھڑا تھا۔ لوگوں کو ہنستا دیکھ کراس کالی شلوار قمیض والے شخص کا غصہ انتہا کو پہنچ گیا۔ وہ اس کو اپنی توہین سمجھ بیٹھا، اس کو لگا کے لوگ اس پر ہنس رہے ہیں، اصل میں تو وہ میرے پر ہنس رہے تھے اور میرے پر تو لوگ ہمیشہ ہی ہنستے ہیں، میں نے تو کبھی غصہ نہیں کیا، انسان تو میں بھی ہوں، کیا ہوا، اگر جنس کی قید سے آزاد ہوں، مرد اور عورت کی شناخت سے مبرا ہوں۔ شاید ان سارے منفی جذبات کی وجہ جنس کا غیر متوازن ہونا ہے، یہ مرد اور عورت دونوں ہی ایک طرح کی انتہا ہیں، اپنے مرکز سے ہٹے ہوے، غصیلے اور بےقرار ۔اس شخص نے بپھر کر ہنستے ہوئےلوگوں کی طرف دیکھا اور اچانک مڑ کر ایک زوردار تھپڑ رسید کر دیا، جو سیدھا میرے بائیں کان اور گال پر پڑا، میں لڑکھڑا گیا، شدید درد کا احساس ہوا اور کانوں میں سیٹیاں بجنے لگیں، ایسے لگا جیسے کسی نے گال پر جلتا ہوا کوئلہ رکھ دیا ہو، منہ میں خون کا ذائقہ بھی آیا، شاید گال اندر سے پھٹ گیا تھا۔ تھپڑ اس قدر شدید تھا کہ میری آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا اور کچھ دیر کے لیے نظر آنا بند ہو گیا۔ میرے ہاتھ میں جو بیگ تھا وہ ہوا میں لہرایا، زپ تو پہلے ہی ٹوٹی ہوئی تھی، کچھ سکے اس میں سے نکل کر زمین پر لڑکھتے ہوے اسی شخص کے جوتوں سے جا ٹکرائےجس نے مجھے تھپڑ مارا تھا۔ٹریفک پولیس والے نے بھی یہ منظر دیکھا، وہ تیزی سے ہماری جانب لپکا، اسی دوران اس شخص نے ایک بھرپور لات میرے پیٹ میں ماری، میں دوہرا ہو کر زمین پر گر پڑا، کیچڑسے میرے کپڑے لت پت ہو گئے۔”او بس بس کی ہو گیا؟””مارو تے نا ، جناب””اینی وی کیڑی گل ہو گئی”لوگوں نے بولنا شروع کر دیا اور آگے ہو کر اس شخص کو روکنے کی کوشش کرنے لگے، مگر اس کے اندر جنموں سے پکتا ہوا مردانگی کا لاوا پھٹ چکا تھا، وہ پھر آگے بڑھا اور قریب تھا کے دوبارہ مجھے مارتا، اسی لمحے پولیس والے نے پیچھے سے اسکو پکڑ لیا اور اس طرح جکڑا کے اسکے دونوں بازو منجمد ہوگئے۔ اب وہ مغلظات بکنے لگا۔” تیری پین نوں، تیری ماں نوں، کھسریا، تو جاندا نہی میں کون آں”جانتا تو میں اپنی ماں بہن کو بھی نہیں تھا، مگر ان کا ذکرسن کرعجیب سا احساس ہوا۔ اسی دوران بچوں نے رونا شروع کر دیا۔ میں کچھ دیر زمین پر بیٹھ کر سانس درست کرتا رہا، پھر اٹھ کھڑا ہوا، زندگی نے سخت جان بنا دیا تھا، مشکل حالات سے لڑنا سیکھا دیا تھا، شاید اسی کو مردانگی کہتے ہیں۔اب میرا حال یہ تھا کے تن کے کپڑے کیچڑ سے لتھڑے ہوئے، بالوں کی وگ جسکی سایڈ پن نکل چکی تھی، آدھا میرے سر پر اور آدھی سایڈ پر لٹکی ہوئی ، ہاتھوں کی چوڑیاں ٹوٹ کر کلائیوں میں گھسی ہوئی، جلد سے خون رستا ہوا، چہرے پر وحشت اور میک اپ پاوڈر پھیلا ہوا۔ میں نے ایک نگاہ روتے ہوےبچوں پر ڈالی، زور لگا کر ہلکا سا مسکرایا، پھر اس شخص کی طرف متوجہ ہوا جو اپنے مرد ہونے کا قرض اتار چکا تھا۔”بس اینا ای سی؟” میں نے خون سے بھری تھوک پھینکتے ہوے اس شخص سے کہا جو پولیس والے کے بازووں میں جکڑا ہانپ رہا تھا۔”ہور مار لے جے ہمت ہے تے، ہیں ۔۔۔ تو تھک جایں گا، میں نہی، بڑے ویکھے نے تیرے ورگے، بس دو منٹ اچ ای ساہ چڑھ گیا، ہیں ۔۔۔ آیا وڈا پلوان “”کبوتری، بند کر لے ہن منہ” پولیس والے نے چیخ کر مجھے کہا”کیوں بند کراں اوئے ۔۔۔ ایندیاں لتاں باواں بند کر، میرا منہ نہی، اے مینوں کُٹ سکدا، گالاں کڈ سکدا، تے میں بول وی نہ سکدا؟ جے میں اپنی آئی تے آ گیا تے بڑا پیڑا ہوئے گا فیر””ایتھے سڑک تے ننگا کراں گا تینوں، تیری میں ۔۔۔” اس شخص نے منہ سے کف اڑاتے ہوئے کہا،”اوے، کر لے مینوں ننگا، میرے کول ہے کی لوکان آسے؟ تو اپنی فکر کر، جے میں تیرے کپڑے پاڑ دیتے، تے تیرے پلے کی رہ جائے گا ۔۔۔ تو کی لانے نے، لے میں آپی لا دینا” اتنا کہ کر میں نے اپنی کیچڑ سے بھری قمیض اتار کر زمیں پر پھینک دی اور ابھی شلوار کو ہاتھ ڈالا ہی تھا کہ ساتھ کھڑے لوگوں نے مجھے پکڑ لیا۔”او چھڈومینوں، لاو ایندے وی کپڑے، میں وی لانا، ویکھی جائے گی اج” اپنے آپ کو چھڑوانے کی کوشش کرتے ہوئے میں نے کہا،”او شرم کر لے کجھ، سڑک تے کھلوتا ہویا ایں، بچے وی تک رےنے” ایک آدمی نے کہا”ہو جاندا یار، بندا آجاندا غصے اچ، تو ای کجھ عقل کر لے ہن” اب دوسرا آدمی بولا، جو ابھی تک خاموش تھامیں نے اپنی شلوار سے ہاتھ ہٹا لیا”اچھا چھڈومینوں، میں کیا نا، بس ٹھیک اے، نہی کردا کجھ”لوگوں نے مجھے چھوڑ دیا”تسی مرد سرعام گالاں کڈ سکدے او، لوکاں نو کُٹ سکدے او، تے اک کھسرے دے کپڑے لان تو اینا ڈردے او؟” میرے چہرے پر پھر ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی،کالی شلوار والا شخص بھی اپنے حواسوں میں آ چکا تھا، اب وہ مجھے صرف گھور رہا تھا۔ پولیس والے نے اسکو بھی چھوڑ دیا اور ساتھ بولا”سر، ایویں تسی ماریا وچارے نوں، تھوڑا خیال کرو، نہی تے نقص امن دا مسلہ بن سکدا اے” یہ سن کر وہ شخص کچھ بولا نہیں، بلکہ سیدھا اپنی گاڑی کی طرف لپکا، جہاں بچے بیٹھے ہوئےتھے۔میں نے زمین پر پڑے ہوئے بیگ پر ایک نظر ڈالی، اسکے ساتھ گرے ہوے سکوں کو بھی دیکھا، اور کچھ سوچنے لگا۔ میری قمیض جو کیچڑ سے لت پت تھی اور میرے قدموں میں ہی پڑی تھی، ایک نگاہ اس پر بھی ڈالی، سوچا کے جھک کر اٹھا لوں، مگر میں جھکا نہیں اور نا ہی اپنے پیسوں کو اٹھایا، بلکہ اسی حالت میں واپس چل پڑا، اپنے گھر کی طرف، بنا قیمض کے۔

Recommended Posts

Leave a Comment

Jaeza

We're not around right now. But you can send us an email and we'll get back to you, asap.

Start typing and press Enter to search