عمومی لسانیات کا نصاب۔ تحریر : فرڈی نینڈ سوسیئر (مترجمین: ابرار حسین، نعیم عباس)

 In ترجمہ

تعارف

لسانیات کی تاریخ پر ایک نظر

جس علم کا تانا بانا زبان کے حقائق کے اردگرد بُنا گیا تھا وہ اپنے حقیقی اور احتصاصی موضوع تک پہنچنے سے پہلے تین مراحل سے گزرا۔ پہلے مرحلے میں گرامر کا مطالعہ کیا گیا۔ اس مطالعہ کا آغازیونانیوں نے کیا اور بعدازاں اس میں زیادہ تر پیش رفت فرانسیسیوں نے کی۔ اس مطالعے کی بنیاد منطق پر تھی۔ یہ مطالعہ سائنسی زاویہ نظر پر مبنی نہیں تھا۔ مزید برآں،اس مطالعے کا اصل موضوع زندہ زبان تھی ہی نہیں۔ اس کا مقصد کچھ اصول و ضوابط وضع کرنا تھا جو زبان کی درست اور نادرست ساختوں کے مابین  امتیاز کر سکیں۔ یہ ایک طرح کی اصول سازی تھی جو حقیقی مشاہدے سے لاتعلق اور اپنے دائرہ کار میں محدود تھی۔

دوسرے مرحلے میں علم لسان کا ظہور ہوا۔ اگرچہ علم لسان سے وابستہ ایک مکتبہ فکر بہت پہلے سکندریہ میں وجود پذیر ہو چکا تھا لیکن اس عنوان کا اطلاق زیادہ تر اس سائنسی تحریک پر کیا جاتا ہے جس کا آغاز فریڈریک آگست ولف(1759ء تا 1824ء) نے 1777ء میں کیا۔ اور جس کا تسلسل ابھی تک جاری ہے۔ علم لسان کی اس تحریک کی واحد غرض و غایت بالذات زبان نہیں ہے۔ علم اللسان کے ابتدائی ماہرین نے خاص طور پر کوشش کی کہ وہ تحریری متون کی تصیح و تعبیر اور ان پر حاشیہ نگاری کا کام کریں۔ ان ماہرین کے مطالعات نے ادبی تاریخ، رسوم اور اداروں وغیرہم میں بھی دلچسپی کا سامان پیدا کر دیا۔ انہوں نے مختلف طریقہ ہائے تنقید کو اپنے علمی مقاصد کےلیے  برتا۔ جب کبھی انہوں نے لسانیات کے سوالوں سے اعتناء کیا بھی،  تو اس کا واضح مقصد مختلف ادوار کے متون کا باہمی تقابل، ہر ایک مصنف کے ہاں زبان کے انفرادی استعمال کا تعین اور متروک اور عسیرالفہم زبانوں میں کندہ عبارتوں کی توضیح و تفہیم کرنا تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ان تحقیقات نے تاریخی لسانیات کی بنیاد گزاری کے لئے راستہ ہموار کیا۔ رشل کے پلوٹس پر مطالعات دراصل لسانیاتی مطالعات ہیں۔ تاہم لسانی تنقید کا ابھی تک ایک مسٔلہ یہ ہے کہ یہ اندھا دھند تحریری زبان کا تتبع کرتی ہے اور زندہ زبان کو نظر انداز کر دیتی ہے۔ مزید یہ کہ اس تنقید کو دور قدیم کی یونانی اور لاطینی زبانوں کے علاوہ کم ہی کسی اور زبان سے دلچسپی ہے۔

  تیسرے مرحلے کا آغاز تب ہوا جب علم لسان کے ماہرین نے یہ دریافت کر لیا کہ مختلف زبانوں کا ایک دوسرے کے ساتھ تقابل بھی کیا جا سکتا ہے۔ یہ دریافت تقابلی علم لسان کا نکتہ آغاز ثابت ہوئی۔ 1816ء میں فرانز بوپ (1791ء تا 1867ء) نے اپنی کتاب ’سنسکرت میں افعال سازی کا نظام‘میں سنسکرت کا جرمن،  یونانی اور لاطینی زبانوں کے ساتھ تقابلی مطالعہ کیا۔ بوپ نے ان زبانوں میں موجود مماثلتوں کو قلم بند کیا اور بیان کیا کہ یہ تمام زبانیں ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتی ہیں۔ اگرچہ بوپ یہ کام کرنے والا پہلا شخص نہیں تھا۔ انگریز مستشرق ولیم  جونز (1746ء تا 1794ء) نے بوپ سے پہلے اسی نوعیت کا کام کیا تھا۔ تاہم جونز کے غیر مربوط بیانات سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ زبان کے تقابلی مطالعہ کی اہمیت کو 1816ءسے پہلے بالعموم سمجھ لیا گیا تھا۔ اگرچہ یہ تو نہیں کہا جاسکتا کہ سنسکرت کا ایشیا اور یورپ کی کچھ خاص زبانوں سے تعلق بوپ نے دریافت کیا تاہم اس نے یہ ضرور محسوس کر لیا تھا کہ ایک دوسرے کے ساتھ تعلق رکھنے والی زبانوں کا تقابلی مطالعہ ایک مستقل علم کا موضوع بن سکتا ہے۔ ایک زبان کو دوسری زبان کے مطالعہ کی روشنی میں سمجھنا اور ایک کی ساختوں کی دوسری زبان کی ساختوں کے ذریعے وضاحت کرنا، یقیناً ایسا کام ہے جو بوپ سے پہلے کسی نے نہیں کیا۔

یہ بات مشتبہ ہے کہ کیا سنسکرت کی پیشگی دریافت کے بغیر بوپ تقابلی علم لسان ایجاد کرسکتا تھا اور وہ بھی اس قدر تیزی کے ساتھ۔ یونانی اور لاطینی زبانوں کے ساتھ ساتھ  سنسکرت نے شاہِد ثالث کی حیثیت سے بوپ کو مطالعات کے لیے ایک وسیع اور مضبوط بنیاد فراہم کردی تھی۔ کیونکہ زبانوں کے مابین تقابل کے حوالے سے توضیحی کردار ادا کرنے کے لیے ،خوش قسمتی سے سنسکرت  غیر معمولی طور پر موزوں ہے۔

مثال کے طور پر لاطینی کے لفظ genus (جنس) کے مختلف صیغوں(genes, generis, genere, generum, genera) اور یونانی کے الفاظ (Geneos, geneos, genei, geneo, geneon)کے درمیان تقابل سے کچھ بھی منکشف نہیں ہوتا۔ تاہم یہ منظر اس وقت بالکل تبدیل ہو جاتا ہے جب ہم ان کے متقابل سنسکرت کے صیغوں(ganas, ganasas, ganasi, ganasu, ganasam) کی فہرست رکھتے ہیں۔ ادنیٰ تامل سے ہی یونانی اور لاطینی صیغوں کے مابین مماثلت واضح ہو جاتی ہے۔ اگر ہم تھوڑی دیر کے لیے اس مفروضے کو تسلیم کرلیں کہ ganas ان صیغوں کی ابتدائی حالت کی نمائندگی کرتا ہے تو ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ یونانی زبان کے صیغوں میں جہاں کہیں بھی’ایس ‘ ( s) دو مصوتوں کے درمیان آتا تھا وہاں اس کا افاضہ ہوا ہوگا۔ اس سے دوسرا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مذکورہ صورت میں لاطینی زبان میں ’ایس ‘ ( s )کا حرف’آر‘ ( r )سے بدل جاتا تھا۔ سنسکرت میں گرامر کے اعتبار سے گردان ،لفظ کی اصیل اکائی کی نمائندگی کرتی ہے جو متعین اور مستحکم ہے۔ اپنے ابتدائی مراحل میں لاطینی اور یونانی الفاظ کے صیغے بھی سنسکرت سے ملتے جلتے تھے۔ یہاں سنسکرت اس اعتبار سے خاص طور پر کارآمد ہے کہ اس نے تمام ہند-یورپی زبانوں میں استعمال ہونے والے حرف ’ایس ‘ ( s ) کو محفوظ رکھا ہے۔  تاہم اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ سنسکرت دیگر اعتبارات سے اپنے مبداء اشتقاق کی خصوصیات کو محفوظ رکھنے میں ناکام رہی، مثال کے طور اس نے مصوتی نظام کو منقلب کر دیا۔ لیکن سنسکرت نے بالعموم جن عناصر اصلیہ کو محفوظ رکھا ہے وہ زبانوں کے مابین تقابلی تحقیق کے ضمن میں بہت مددگار ہیں۔ محسوس ہوتا ہے کہ قدرت نے سنسکرت کے لیے دیگر زبانوں کے مطالعات میں بہت سے نکات کے ضمن میں توضیحی کردار مقدر کر دیا تھا۔

دیگر ممتاز ماہرین لسانیات نےجلد ہی تقابل لسان کے میدان میں  بوپ کے کام پر اضافے کیے۔ ان ماہرین میں جیکوب گریم (1785ء تا 1863ء) جو جرمینک مطالعات کا بانی ہے اور  جس کی کتاب ‘ Deutsche Grammatik ‘  1822ء سے 1836ء تک کے درمیانی عرصے میں چھپی۔ پاٹ جس کے اشتقاقی مطالعات نے ماہرین لسانیات کے لئے معتد بہا مقدار میں تحقیقی مواد فراہم کیا، کوہن جس کی تصنیفات لسانیات اوراساطیر کے تقابلی مطالعے سے بحث کرتی ہیں اور ہندی زبانوں کے عالم بینفے اور اوفروخت وغیرہم شامل ہیں۔

تقابل لسان کے مکتبہ فکر کے آخری نمائندگان میں سے میکس مولر(1823ء تا 1900ء)، جارج کریٹس (1820ءتا 1885ء) اور اگست شلیشر (1821ء تا 1868ء)خصوصی توجہ کے مستحق ہیں۔ ان تینوں نے مختلف انداز سے تقابلی مطالعات میں پیش رفت کے لیے غیر معمولی خدمات سرانجام دیں۔ میکس مولر نے اپنے شاندار علمی مباحث  (Lessons in the Science of Languages, 1861)  کے ذریعے تقابلی مطالعات کو ترویج دی۔ تاہم اس کا مسٔلہ یہ تھا کہ وہ علمی طور پر دیانت دار نہیں تھا۔ ممتاز ماہر علم لسان کرٹیس جو خاص کر اپنی کتاب  (Grundzunge der griechischen Etymologies, 1879) کی وجہ سے جانا جاتا ہے، ان ماہرین میں سے ہے جنہوں نے پہلے پہل تقابلی علم لسان اور کلاسیکی علم لسان جیسے مکتبہ فکر کے مابین مفاہمت پیدا کی۔ موخر الذکر نے مقدم الذکر کو مشکوک جانا اور دونوں میں سے ہر ایک نے دوسرے پر عدم اعتماد کا اظہار کیا۔ شلیشر نے پہلی مرتبہ  تقابلی علم لسان میں ہونے والی تحقیقات کے باہم غیر مربوط اجزاء کو منضبط کیا۔ اس کی کتاب( Compendium der vergleichenden Grammatik der indogermanischen   Sprachen،1861-62) نے بوپ کے بناکردہ تقابلی علم لسان کو کم وبیش ایک نظام کے تابع کردیا۔ شلیشر کی اس کتاب نے تقابل لسان کے مکتب فکر کے نسبتا ًوسیع خاکے کا احیاء کردیا جو ہند یورپی لسانیات کی تاریخ میں باب اول کی حیثیت رکھتا ہے ۔

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ تقابل لسان کے مکتب فکر میں ایک نئے اور نتیجہ خیز شعبہ علم کی بنیاد گزاری کی صلاحیت تھی۔ تاہم یہ مکتب فکر حقیقی علم لسانیات کی بنیاد گزاری میں کامیاب نہیں ہوسکا۔ یہ مکتب فکر اپنے موضوع مطالعہ کی دریافت میں بھی ناکام رہا۔ ظاہر ہے کہ اس بنیادی اقدام کے بغیر کوئی علم بھی اپنے طریق تحقیق کی تشکیل نہیں کرسکتا۔

تقابل لسان کے ماہرین کی پہلی غلطی ہی ان کی دوسری تمام غلطیوں کا سبب بنی ہے۔ ہند یورپی زبانوں پر مبنی اپنی تحقیقات میں وہ کبھی اپنے تقابلی مطالعات کی معنویت اور زبانوں کے مابین دریافت کردہ روابط کی اہمیت کی طرف متوجہ ہی نہیں ہوئے۔ ان کا طریق تحقیق خصوصی طور پر تقابلی تھا نہ کہ تاریخی۔ کسی بھی تاریخی تشکیل نو کے لیے بلاشبہ تقابل کی ضرورت پڑتی ہے تاہم یہ اپنے تئیں حتمی نہیں ہوسکتا۔ دو پودوں کی بالیدگی پر غور و فکر کرنے والے ماہر طبیعیات کی طرح انہوں نے جب بھی دو زبانوں کی نشوونما پر غور کیا تو مغالطہ آمیز نتیجہ برآمد ہوا۔ مثلا شلیشر کو یہ کہنے میں ذرا ہچکچاہٹ محسوس نہیں ہوتی کہ یونانی زبان کے حروف’ای‘ ( e )اور’اَو‘ ( o )بنیادی مصوتی نظام کے ہی دو درجے ہیں۔ حالانکہ شلیشر ہمیشہ ہمیں اس طرف متوجہ کرتا ہے کہ ہمیں ہند یورپی زبانوں کے مبداء اولین سے آغاز کرنا چا ہیے اور ایسا کہتے ہوئے وہ ایک طرح سے ثقہ مورخ معلوم ہوتا ہے۔ شلیشر کے اس غلط فہمی میں مبتلا ہونے کا سبب سنسکرت ہے جس میں مصوتی تبادلات کا ایک نظام کار فرما ہے جو ان کی درجہ بندی کو ظاہر کرتا ہے۔شلیشر نے فرض کرلیا کہ گویا ہر زبان کو الگ الگ ایک ہی انداز میں اس طرح ان درجات سے گزرنا ہوتا ہے جیسے ایک نوع کے متعدد درخت ایک دوسرے سے بے نیاز نشوونما کے مماثل درجات سے گزرتے ہیں۔ اس قیاس کی بناء پر شلیشر نے فرض کر لیا کہ یونانی زبان کا حرف’ای‘  ( e )اس کے حرف’اَو‘ ( o )،اور سنسکرت کا حرف à اس کے حرف ã کا مشدد  صوتی درجہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہند یورپی زبانوں کے مبداء اولین کی صوتی درجہ بندی یونانی اور سنسکرت میں الگ الگ انداز سے منعکس ہوئی ہے اور اس کی وجہ سے ان زبانوں کے قواعد پر پڑنے والے اثرات بھی متساوی نہیں ہیں۔

اس خصوصی تقابلی طریق کار کی وجہ سے کچھ غلط تصورات رائج ہوگئے۔ ان تصورات کا چونکہ حقیقت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں تھا لہٰذا یہ بیان کے حقائق کو منعکس نہیں کرسکتے تھے۔ زبان کو دوسرے شعبہ ہائے علوم سے الگ ایک خاص شعبہ سمجھ لیا گیا جس کی بدولت اس میں استدلال کے ایسے انوکھے طریقے رائج ہوگئے جن کا اطلاق علوم کے دیگر شعبوں میں کیا جاتا تو بہت حیرت کا باعث ہوتا۔ آج کا کوئی بھی آدمی اس زمانے کی لکھی ہوئی چند سطور بھی ان کے طریق استدلال کی لایعنیت اور اس لایعنیت کو جواز دینے کے لیے استعمال کی گئی اصطلاحات میں الجھے بغیر نہیں پڑھ سکتا۔

لیکن طریق تحقیق کے زاویے سے دیکھا جائے تو تقابل لسان کے ماہرین کی غلطیوں کی بھی ایک قدرو قیمت ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک نوزائیدہ علم کی غلطیاں سائنسی تحقیق کے ابتدائی مراحل میں ہونے والی اغلاط کو مبالغہ آمیز صورت میں پیش کرتی ہیں۔ میں موقع بہ موقع اس کتاب میں ان غلطیوں میں سے کئی ایک کو بیان کروں گا۔

1870ءکے لگ بھگ ماہرین نے ان اصولوں کی دریافت کے لیے کوششوں کا آغاز کیا ، زبانوں کی زندگی جن کے تابع ہوتی ہے۔ اس کے بعد ہی انھوں  نے اس کا ادراک کرنا شروع کیا کہ زبانوں کے مابین مماثلتیں لسانی مظہر کی صرف ایک جہت ہے اور یہ کہ تقابل حقائق کی تشکیل نو کا محض ایک ذریعہ یا طریقہ ہے۔

باقاعدہ لسانیات جو تقابلی مطالعات کو ان کی صحیح جگہ پر رکھتی ہے اس کا آغاز جرمینک اور رومانی (لاطینی سے ماخوذ) زبانوں کے مطالعے سے ہوا۔ رومانی زبانوں میں مطالعات ڈائز نے شروع کیے۔ اس کی کتاب Granatum Der Romanischen  Sprachen کی تاریخ اشاعت 1836 ءسے 1838 ءکے درمیان ہے۔ یہ مطالعات لسانیات کو اس کے حقیقی موضوع سے روشناس کرنے کا ذریعہ بنے۔ کیونکہ رومانی زبانوں کے ماہرین کو  اس سلسلے میں کچھ آسانیاں حاصل تھیں جن سے ہند یورپی زبانوں کے علماء محروم تھے۔ ایک تو انہیں لاطینی زبان تک بلا واسطہ رسائی حاصل تھی جو رومانی زبانوں کا ماخذ ہے اور دوسرے یہ کہ ایسے متون بڑی تعداد میں ان کی دسترس میں تھے جن کی وجہ سے وہ مختلف بولیوں کے وجود میں آنے کی تفصیلات کا سراغ لگا سکتے تھے۔ان دو چیزوں نے تحقیق کے لیےانہیں ٹھوس تناظر فراہم کردیا اور ظن وتخمین پر ان کا انحصار کم سے کم ہوگیا۔جرمینک زبانوں کے ماہرین کی صورتحال بھی یہی تھی۔اگرچہ جرمینک زبانوں کے ماہرین کو ان زبانوں کے مآخذ تک تو رسائی حاصل نہیں تھی تاہم انہیں بھی متعدد متون فراہم تھے جن کے سبب وہ اس قابل ضرور ہوگئے کہ کئی صدیوں کے دوران میں جرمینک زبانوں کے مبداء سے ماخوذ زبانوں کی تاریخ کی بازیافت کرسکیں۔جرمینک زبانوں کے ماہرین چونکہ ہند یورپی زبانوں کے علماء کی نسبت حقیقت سے زیادہ قریب تھے اس لئیے وہ مختلف نتائج پر پہنچے۔

Life and growth of language (مطبوعہ 1875ء) کے مصنف امریکی ماہر لسان وٹنے(1827ء تا 1894ء) کو اس سلسلے میں شرف اولیت حاصل ہے۔ اس کے بعد نیو گرائمیرین  نے ایک نئے مکتب فکر کی بنیاد رکھی۔ ان نوجوان ماہرین قواعد کے تمام فکری قائدین جرمن تھے جن میں کارل بر گمان (1849ء تا 1919ء) اور ایچ اوس تھا ف، جرمینک زبانوں کے ماہرین ڈبلیو برنے،ای سورس،ایچ پال اور سلاوی زبانوں کے عالم لیسکن وغیرہم شامل ہیں۔ان کا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے تقابلی مطالعات کے نتائج کو ان کے تاریخی تناظر میں رکھ کر دیکھا اور یوں حقائق کو ان کی فطری درجہ بندی سے مربوط کردیا۔یہ انہی کا احسان ہے کہ اب زبان کو ایک ایسا نامیاتی کل نہیں سمجھا جاتا جو اپنی نشوونما میں خود منحصر ہے بلکہ اس کے برعکس اب زبان کو لسانی گروہوں کے اجتماعی شعور کے حاصل کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ ماہرین نے اس بات کا بھی ادراک کرلیا کہ علم لسان اور تقابلی علم لسان کے تصورات کتنے ناکافی اور کس قدر خطا پر مبنی تھے۔ اپنی تمام تر خدمات کے باوجود یہ نوجوان ماہرین قواعد مسئلے کو مکمل طور پر نہیں سلجھا سکے اور عمومی لسانیات کے بنیادی مسائل ابھی تک حل طلب ہیں۔

باب دوم: لسانیات کا موضوع، دائرہ کار اور دیگر علوم سے اس کا تعلق

لسانیات کا موضوع انسانی کلام کے تمام اظہارات پر مشتمل ہے۔ وہ اظہارات چاہے تہذیب یافتہ یا غیر تہذیب یافتہ قوموں کے ہوں یا ان کا تعلق متروک، کلاسیکی یا زوال پذیر ادوار سے ہو۔ ایک ماہر لسانیات کو چاہیے کہ وہ صرف کلام فصیح  اور ادبی اظہارات کے  بارے  میں ہی غور وفکر نہ کرے بلکہ تمام دوسرے اظہارات کو بھی پیش نظر رکھے۔ چونکہ اکثر وبیشتر وہ اہل لسان کو بلاواسط سماعت نہیں کر سکتا لہذا اس کے لیے صرف خود کو مختلف اظہارات تک محدود کر دینا کافی نہیں ہے۔ ایک ماہر لسانیات کو چاہیے  کہ وہ تحریری متون کو بھی مد نظر رکھے کیونکہ وہ صرف انھیں کے زریعے زبان کے اس محاورے تک رسائی حاصل کر سکتا ہے جس میں زمانی اور مکانی بُعد پایا جاتاہے۔

لسانیات کا دائرہ کار درج ذیل چیزوں سے متعین ہونا چاہیے:

الف)     تمام معروف زبانوں کی توضیح کرنا اور ان کی تاریخ بازیافت کرنا۔ اس کا مطلب ہے زبانوں کے خاندانوں کی تاریخ کی بازیافت اور جہاں تک ممکن ہوان میں سے ہر خاندان کے لسانی مآخذ کی تشکیل نو۔

ب)      تمام زبانوں میں کارفرماں مستقل اور آفاقی قوتوں کا تعین کرنا اور ان عمومی قوانین کا استنباط کرنا جن کا اطلاق تمام   مخصوص تاریخی لسانی مظاہر پر ہو سکے۔

 ت)     لسانیات کا اپنی تعریف و حدود کا تعین کرنا

 لسانیات دوسرے علوم سے قریبی تعلق رکھتی ہے۔یہ علوم کبھی تو لسانیات سے مواد اخذ کرتے ہیں اور کبھی اسے فراہم کرتے ہیں۔ اس اخذ و تاخذ کے مابین امتیازی خطوط واضح طور پر دکھائی نہیں دیتے۔   مثال کے طور پر لسانیات کو نسلیات اور قبل از تاریخ کے علم سے احتیاط کے ساتھ ممتاز کر دینا چاہیے۔ کیونکہ ان دونوں علوم میں زبان کا کردار صرف یہ ہے کہ ان میں زبان واقعات کی تدوین کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ زبان چونکہ ایک معاشرتی حقیقت ہے اس لیے لسانیات کو بشریات سے بھی الگ سمجھا جانا چاہیے جو انسان کا مطالعہ محض اس کی انواع کے زاویے سے کرتی ہے۔سوال یہ ہےکہ کیا پھر لسانیات کو عمرانیات کے ساتھ یکجا کر دینا چاہیے؟

لسانیات اور سماجی نفسیات کے درمیان کیا تعلق ہیں؟

 مواد اور میکانی اظہارات سمیت زبان میں موجود ہر شے کا تعلق بنیادی طور پر نفسیات سے ہے جیسے کہ صوتی تبدیلیاں۔ چونکہ لسانیات سماجی نفسیات کے لیے ایسا قابل قدر مواد فراہم کرتی ہے تو کیا یہ لسانیات کا لازمی جز نہیں بن جاتی؟ یہاں میں اس سے ملتے جلتے کئی سوالات اٹھاؤں گا جن پر بعد میں تفصیلی بحث کروں گا۔ لسانیات اور آوازوں کے عضویاتی مطالعہ کے درمیان تعلق کے مسئلہ کو سمجھنا قدرے آسان ہے۔ یہ تعلق اس اعتبار سے  یکطرفہ ہے کہ زبانوں کا مطالعہ آوازوں کے عضویاتی علم سے اپنے لیے کئی طرح کی وضاحتیں حاصل کرتا ہے لیکن یہ مطالعہ بدلے میں آوازوں کے عضویاتی علم کو کچھ بھی فراہم نہیں کرتا۔امر واقع کچھ بھی ہو ان دو علوم کو آپس  میں گڈ مڈ نہیں کیا جاسکتا۔جیسے کہ میں بعد میں وضاحت کروں گا کہ جو امر زبان کی تشکیل کرتا ہے وہ تلفظ کی جہت سے لسانی نقوش کے ساتھ کوئی تعلق نہیں رکھتا۔

جہاں تک علم لسان کی بات ہے ہم یہ پہلے ہی متعین کر چکے ہیں کہ بعض نظری اور عملی اشتراکات کے باوجود یہ لسانیات سے الگ تھلگ ایک مستقل علم ہے۔لسانیات کا آخرکار کیافائدہ ہے؟چند لوگ ہی اس بارے واضح تصورات رکھتے ہیں اور ظاہر ہے کہ یہ ان تصورات کے تعین کا موقع نہیں۔ لیکن یہ واضح سی بات ہے کہ لسانیاتی سوالات مؤرخین اور علم لسان کے ماہرین جیسے ان تمام لوگوں کو کشش کرتے ہیں جو متون پر تحقیقی کام کریں۔ اور پھر  عمومی تہذیب کے لیے تو لسانیات کی اہمیت اور بھی واضح ہو جاتی ہے کیونکہ افراد اور معاشروں کی زندگیوں میں کلام کی اہمیت کسی بھی چیز سے زیادہ ہے۔یہ تو بعید از قیاس ہے کہ لسانیات کے میدان میں کام کرنے کا استحقاق چند ایک ماہرین کو حاصل ہونا چاہیے۔ ہر ایک کا کسی نہ کسی طرح اس سے تعلق ہے۔تاہم ایسا کوئی دوسرا شعبہ نہیں ہے جہاں اتنے زیادہ لایعنی تصورات، تعصبات، غلط فہمیاں اور افسانے وجود میں آئے ہوں اور یہ لسانیات میں دلچسپی کا متضاد نتیجہ ہے۔ نفسیاتی نقطہ نظر سے تو یہ غلط فہمیاں دلچسپی کی حامل ہیں لیکن ایک ماہر لسانیات کا بنیادی وظیفہ یہ ہے کہ اس سے جس حد تک بن پڑے وہ ان غلطیوں کی مذمّت اور تدارک کا سامان کرتا رہے۔

Recent Posts

Leave a Comment

Jaeza

We're not around right now. But you can send us an email and we'll get back to you, asap.

Start typing and press Enter to search