پروفیسر عاصم رضا (خاکہ)۔ تحریر: کبیر علی

دبستانِ سرگودھا نے اکیسویں صدی میں دو  سپوت پیدا کیے ہیں : جناب ِ ابوبکر اور پروفیسر عاصم رضا۔   دونوں میں واحد مشترک چیز سرگودھا ہے  ۔آج  مجھے   پروفیسر عاصم رضا کا تذکرہ مقصود ہے۔ کسی بھی شخص کا    خاکہ لکھنا مجھ ایسے  شخص کی بساط سے بالعموم  باہر ہوتا ہے مگر پروفیسر عاصم رضا کا یہ خاکہ ان کی ہمہ جہت  پھیلی ہوئی شخصیت  کا پہلا خاکہ ہوگا اور  اسی پہل کے لالچ میں مَیں یہ  لکھنے کی جرات کر رہا ہوں۔عین ممکن ہے کہ   پروفیسر عاصم رضا کسی زمانے میں آدمی بھی رہے ہوں مگر اب  وہ ایک کردار ، ایک علامت  بن چکے ہیں ۔  ایک ایسا زمانہ کہ جس میں سسٹم لوگوں کو عکسی نقول میں ڈھالتا جاتا ہے، فرد کی فردیت سسٹم کے مرکزی دروازے پہ  دھروا لی جاتی ہے ایسے کردار، اور علامت کے درجے کو پہنچے ہوئے  لوگ نہایت قابلِ توجہ ہیں۔پس  میرا یہ مضمون پروفیسر عاصم رضا   کی خدمت میں ادنیٰ خراجِ  عقیدت  ہے، امید ہے   مجھ سے زیادہ قابل لوگ اس سلسلے کو جاری رکھیں گے۔

پروفیسر عاصم رضا سے تعارف کچھ تین چار سال پرانا قصہ ہوگا۔ میں نے ایک ویڈیو اپلوڈ کی تھی جس پر اپنی پسندیدگی کا اظہار کرنے کے بعد قبلہ نے مجھے شرفِ دوستی بخشا۔ محض تین    دن بعد  میری  سالگرہ تھی۔ مبارکباد پیش کرنے والوں میں  قبلہ بھی شامل تھے ، ازراہِ عنایت  انباکس  میں تشریف لائے اوراس وعدے پر کہ وہ بھی مجھے تحفہ دیں گےنہایت بے تکلفی سے  تحفہ طلب کیا۔ مزید بے تکلفی اور شفقت کے اظہار کے طور پہ   اُس  پبلشر  کا اکاؤنٹ نمبر بھجوایا  جسے  ان کے حسبِ  فرمائش مجھے مبلغ تین ہزار روپے بھجوانا تھے۔ ایک خیال تو یہ آتا تھا کہ کچھ  مشترک   دوستوں مثلاً عاطف حسین یا عثمان سہیل صاحبان سے مشورہ کیا جائے مگر جب قبلہ کی صورت دیکھتا تھا  تو اسے نہایت معتبر پاتا تھا  بالآخر  تمام وسوسوں کوجھٹک کر نقد تحفہ بھجوا دیا۔رہا ان کا   جوابی تحفہ    تو اس  کے بارے  میں  یقین سے کچھ کہنا مشکل ہے۔

پھر کچھ ہفتوں کے بعد  قبلہ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں  اپنے تھسیز کے سلسلے میں تشریف لائے تو مجھے بھی یاد فرمایا۔  میں اپنے موٹرسائیکل پر جا پہنچا۔ پہلی بار ان کی مفصل گفتگو سننے کا موقع ملا ۔بعد کے تجربات سے معلوم ہُوا کہ وہ گفتگو ہمیشہ مفصل کرتے ہیں۔ اب آپ سے کیا پردہ !میری سمجھ میں ان کی ایک بات بھی نہ آئی۔  باربار یہ خیال آتا تھا کہ گفتگو نہایت بے ربط ہے لیکن جب اپنی کم علمی، کم عمری اور فکرِ نارسا کا خیال آتا تھا تو خود کو ملامت کرتا تھا۔ یہ صورتحال آج بھی اسی طرح قائم ہے البتہ  تین چار سال کے اضافے سے اب کم عمری اتنی کم عمری نہیں رہی۔ ایمانداری کا تقاضا ہے کہ میں یہ اقرار کروں کہ اگرچہ مجھے ان کی گفتگو  میں ربط کی تلاش میں ناکامی ہوئی مگر یہ بات اچھی طرح معلوم ہو گئی تھی کہ وہ کن موضوعات پہ گفتگو کر رہے ہیں: منطق، قبلہ کا منصوبہ برائے نصابِ منطق ، اقبال اور کانٹ، آئن سٹائن، نیوٹن، نیوٹن پر مولانا احمد رضا خان کے اعتراضات، کتابیں جلد کرنے اور ان پر نام کندہ کرنے کا طریقہ، استاد عبدالکریم خاں، احمد جاوید صاحب، سیٹ تھیوری، وطنِ عزیز میں تدریسِ ریاضی کے مسائل۔۔۔الخ۔  شام  ڈھلی تو فرمانے لگے کہ کسی اور دوست کو بھی ملاقات میں شامل کیا جائے۔ ایک دوست سے رابطہ کیا گیا مگر وہ دستیاب نہ تھے، نتیجتاً قرعہ فال  ابوبکر کے نام نکلا (ابوبکر نوٹ کرے کہ اُس دن کی ملاقات میں دستِ  قضا  کی شوخی خاص طور پہ شامل تھی)۔  ابوبکر نے اپنے گھر کے قریب چائے کے ایک ڈھابے پہ بلایا۔  ہم متعلقہ چوک  پہنچے تو یہ معلوم نہیں ہوپارہا تھا کہ ابوبکر کون ہے۔ قبلہ نے اس موقعے  پر بڑی سمجھداری کی بات کی اور فرمایا کہ وہ نوجوان جو گھسی ہوئی پینٹ اور قینچی چپل پہنےکنگھی کے خلاف احتجاج ریکارڈ کروا رہا ہے  واضح طور پہ فلسفی نظرآتا ہے اور ہو نہ ہو یہی ابوبکر ہے۔ قبلہ کی فراست  درست ثابت ہوئی۔ ابوبکر نے دو بار چائے پلا کر قبلہ کی مفصل گفتگو  کے مزے لُوٹے اور گھر والوں کے لیے  روٹیاں   خریدیں۔ روٹیاں ٹھنڈی ہو رہی تھیں مگر قبلہ کے عزمِ فروغِ علم  میں کوئی کمی نہیں آ رہی تھی۔ میزبان  جب قبلہ  کے   علم کی بوچھاڑ سے بالکل ہی نڈھال ہو  گیا تو  روٹیوں سمیت گھسٹتا ہُوا  اپنے گھر کو روانہ ہوا۔  مجھے ٹھیک سے یاد نہیں کہ  سلام اور  خدا حافظ کے علاوہ ابوبکر نے کوئی بات کی تھی  یا نہیں۔ قبلہ کی بے تکان گفتگو  کی صلاحیت کا مَیں قائل ہو گیا  اور آج تک ان کی ٹکر کا آدمی ڈھونڈرہا ہوں مگر نہیں ملتا۔ ہائے قحط الرجال!

اس کے بعد قبلہ  نے فون پہ وقت دینا شروع کیا مگر  وضع داری  کا یہ حال تھا کہ عام گفتگو  اور  فون کی گفتگو میں چنداں فرق روا نہ رکھتے ۔ دونوں  کی ترکیب ایک ہی تھی: گفت کا بار ان کے سَر اور شنید کی ذمے داری میری؛ اوسطاً ڈیڑھ گھنٹے کی کال؛ ہر کال میں اپنی دلچسپی کے  پانچ سات موضوعات پہ گفتگو فرماتے نیز تحقیق کے واسطے آٹھ دَس  موضوعات بھی عنایت کرتے۔ بعض اوقات تحقیقی موضوعات کی تعداد بڑھ بھی جاتی مثلاً ایک بار فون پر انھوں نے صرف احمد جاوید صاحب کی شخصیت اور فن  کے حوالے سے تیس عدد موضوعات  عنایت کیے۔  بعد میں معلوم ہُوا  کہ تحقیق کے نئے نئے موضوعات تلاش کرنا ان کا مشغلہ ہے۔

علم دوستی  کا وفور:

پروفیسر عاصم رضا کی شخصیت  کے لیے کوئی ایک لفظ استعمال کرنا ہوتو وہ  ہو گا ’علم دوستی ‘ ۔  علم دوست تو اور  لوگ بھی ہوں گے مگر قبلہ  نے خاص محنت یہ کی ہے کہ ہر اس کام  سے مکمل پرہیز کیا ہے جس میں انسانی پن کا کوئی امکان  موجود ہو۔ عام طور پہ علم دوست حضرات  دیگر انسانی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیتے اور اپنا وقت ضائع کرتے رہتے ہیں  مگر قبلہ   ہر تعلق، ہر موقعے، ہر محفل بلکہ ہر  لمحے کو صرف اور صرف   فروغِ علم کا ایک  ذریعہ جانتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ  دوستوں کو ان سے اس قسم کی  شکایات پیدا ہوتی ہیں کہ وہ انسانی تعلق کی  مبادیات سے نابلد ہیں، حسِ مزاح سے عاری ہیں،  ہمہ قسم انسانی پن سے محروم ہیں وغیرہ وغیرہ۔ میری دانست میں قبلہ کے تمام رویے  ان کے وفورِ علم دوستی  سے پھوٹتے  ہیں اور صرف اسی کلید سے سمجھے جا سکتے ہیں۔ ان کا مطالعہ  درجنوں شعبوں اور سیکڑوں  ذیلی شعبوں پر پھیلا ہُوا ہے اور خوبی یہ ہے کہ کسی کتاب کو پہلی بار پڑھنا  وہ توہین  جانتے ہیں ، ہمیشہ  دوسری یا تیسری  بار  پڑھتے ہیں۔ گویا انھوں  نے آواگون کے فلسفے کو  عملاً سچ کر دکھایا ہے۔

نکتہ وری:

قبلہ  کچھ ایسے ڈھب سے سوچتے ہیں جو انھی سے مخصوص ہے۔ آپ کوئی بھی بات کریں اس سے  ایک نئی  بات پیدا کرنا ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے، اس نئی بات کو وہ ” نکتہ “ قرار دیتے ہیں۔ مَیں نے بہتیرا غور کیا ہے کہ  احباب کی باتوں سے ان کے نکات کا کیا تعلق ہوتا ہے مگر یہ معمہ آج تک حل نہ  ہُوا ۔یہ تو خیر اتنی حیران کن بات نہیں مگر ان کے نکات کا آپسی تعلق بھی صرف انھیں کو معلوم ہوتا ہے۔ فرض کیجئے آپ نے لکھا کہ ، ” مَیں گلی سے گزر رہا تھا کہ  میں  نے دیکھا کہ کچھ لونڈے  ایک کتے کو پتھر مار رہے ہیں “ ۔ اس پر قبلہ کے ذہن میں جو نکات پیدا ہوں گے وہ کچھ اس قسم کے ہوں گے:

آپ کی اس پوسٹ سے میرے ذہن میں  ایک خاکہ ابھرا ہے۔میرے خیال میں کتوں کو پتھر مارنے اور  رمی کے دوران شیطان کو کنکر مارنے کے عمل میں کئی   اسرار و رموز پوشیدہ ہیں۔ ہر دو اعمال کو ملا کر دیکھنا چاہیے۔  چارلس پرس  کے تصورِ فلاں اور میکس ویبر کے فلاں مضمون کی روشنی  میں بھی سگ -سنگباری کو دیکھنا چاہیے۔ نیز یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ  یہاں مشرق میں تو کتوں پر پتھر پھینکے جاتے ہیں اور اُدھر مغرب میں لوگ انھیں گھر کا ایک فرد جانتے ہیں۔ اس سے مشرق و مغرب کی تہذیبی صورتحا ل کے ضمن میں بھی کئی قیمتی نکات ہاتھ  آ گئے ہیں۔  ایک دوست نے اپنے مقالے کے لیے موضوع  کی فرمائش کی تھی۔ اب ارادہ بن رہا ہے کہ  اس کو  یہی عنوان  تجویز کردوں: ” سگ-سنگباری اور تہذیبی تصادم: چارلس پرس اور میکس ویبر کے افکار کی روشنی میں “ ۔

سخن فہمی:

اشعار سن کر بھی ان کا ذہن اسی طرح بروئے کار آتا ہے جس طرح نثر پر۔  ان کا طریقہ یہ ہے کہ وہ  شعرپڑھتے ہیں اور پھر اس پر کچھ نکات  بیان کرنے لگتے  ہیں۔ شعر اور قبلہ کے نکات میں   محض اتنا تعلق ہوتا ہے کہ یہ نکات مذکورہ شعر پڑھ کر ان کے  ذہن میں پیدا ہوئے ہوتے ہیں۔  ہر آدمی اپنی بساط کی حد تک شعر کی گہرائی میں اترنے کی کوشش کرتا ہے  لیکن ایک عامی سے لے کر ایک بڑے نقاد تک ایک بات مشترک  ہوتی ہے کہ سب لوگ شعر کے الفاظ کے درو بست   کے اندر رہتے ہوئے اس کی پرتوں تک رسائی کی کوشش کرتے ہیں۔  لیکن قبلہ نے یہاں بھی اپنی انفرادیت برقرار رکھی ہے یعنی ان کا پیدا کیا گیا ہر نکتہ شعر کے متن کے دائرے سے باہر ہوتا ہے۔ مستقبل کا  نقاد جب قبلہ کی سخن فہمی پر غور کرے گا تو یقیناً   سخن فہمی اور تنقیدِ شعر  کی ایک انوکھی روایت کا  آغاز ہو گا۔  اشعار کے  معاملے میں قبلہ مساوات کے حد درجہ قائل اور ہمہ قسم طبقاتی تقسیم کے خلاف ہیں اس کی  دلیل یہ ہے کہ  تقریباً ہر شعر پر ان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں (  میں حیران ہوں کہ وہ مشاعرہ  کیسے سن لیتے ہیں کیونکہ دو ڈھائی گھنٹے تک رونگٹوں کا کھڑے رہنا  بہرحال کئی طبی مضمرات کا حامل ہے) ۔ شعر میرؔ کا ہو یا کسی محلے دار کا وہ ایک ہی سلوک کرتے ہیں یعنی اپنے رونگٹے کھڑے کر لیتے ہیں اور اگر زیادہ جذباتی ہو جائیں تو    آنکھوں میں آنسو بھی لے آتے ہیں۔ جب طبیعت ذرا سنبھلتی ہے تو اپنے نکات عنایت کرتے ہیں جن میں جا بجا چارلس پرس، میکس ویبر وغیرہ کا تذکرہ ہوتا ہے۔یہ کہنا ذرا مشکل ہے کہ شعر سن کر  سامنے کے جو معانی ہمارے آپ کے ذہن میں پیدا ہوتے ہیں وہ ان کے ذہن میں سِرے سے  پیدا  ہی   نہیں ہوتے  یا  وہ انھیں لائقِ اعتنا نہیں جانتے۔ بہرحال وجہ جو بھی ہو واقعہ یہ ہے کہ ایسے عامیانہ معانی انھوں نے کبھی بیان نہیں کیے اور ہمیشہ  اپنے طبع زاد  نکات  پہ اکتفا کیا۔  رونگٹے کھڑے کرلینے کے ساتھ دوسرا  کام وہ یہ کرتے ہیں کہ  شعر کو وردِ زبان بنا لیتے ہیں۔  ایک روز میں نے دیکھا کہ انھوں نے تین مختلف   پوسٹوں  پر یہ تبصرہ کیا ہُوا تھا کہ  انھوں نے پوسٹ میں مندرج شعر کو وردِ زبان بنا لیا ہے اس سے میں نے حساب  لگایا کہ  کسی بھی شعر کےمتعلق ان کا طرزِ عمل  بالترتیب تین مراحل  پر مشتمل ہوتا ہے: اول رونگٹے کر لیتے ہیں  ؛  دوم اس شعر کو وردِ زبان بنا لیتے ہیں؛ سوم اس شعر کے بارے میں اپنے منفرد انداز میں وہ باتیں عنایت کرتے ہیں جنھیں وہ ” نکات “ قرار دیتے ہیں۔

علم پروری:

واقعہ یہ ہے کہ وطنِ عزیز میں  علمی سرگرمیاں ہمیشہ تعطل کا شکار رہی ہیں لہذا پروفیسر عاصم رضا بجا طور پہ یہ سمجھتے ہیں کہ  فروغِ علم کی ساری ذمہ داری ان کے کاندھوں پہ آ پڑی ہے پس وہ  پچھلے کئی  برسوں  سے روزانہ کی بنیاد پہ پانچ سات علمی منصوبے تشکیل دے رہے ہیں اور اس وقت ان منصوبوں کی تعداد ہزاروں تک  جا پہنچی ہے لیکن افسوس  یہ ہے کہ کوئی ان علمی منصوبوں پر کام کرنے کو تیار نہیں۔  خود قبلہ کو منصوبہ سازی سے فرصت نہیں وگرنہ  ان منصوبوں پر  ضرور عمل پیرا ہونے کی کوشش کرتے۔ تین  چارسال  پہلے قبلہ کے ذہن میں یہ بات آئی کہ کیوں نا چند ذہین اور قابل نوجوان ڈھونڈے جائیں  اور مختلف منصوبوں کے سلسلے میں ان سے کام لیا جائے۔ اس کا طریقہ انھوں نے  یہ اختیار کیا کہ ترجمے،تصنیف یا تالیف کا کوئی  منصوبہ بنایا اور کسی موزوں نوجوان  کے حوالے کر دیا اور پھر  اسے فون، واٹس ایپ، انباکس، فیس بکی تبصروں، ای-میل غرض ہر ممکن   ذریعے سے یاددہانی کروانے لگے۔ چند صفحات کے  کام کے لیے انھیں ایک  نوجوان سے  چالیس پچاس  بار رابطہ کرنے کی زحمت کرنا پڑتی۔  ان کی اس عرق ریزی کی داد تو کیا دی جاتی الٹا بعض نوجوانوں نے ان پر یہ الزام عائد کیا کہ وہ   تحکمانہ رویہ اختیار کرتے ہیں اور   تعلق کا بے جا استعمال کرتے ہوئے  لوگوں کو  پریشان کرتے  ہیں۔ قبلہ نے بھی صاف کہہ دیا کہ یہ الزام سراسر غلط ہےکیونکہ وہ کسی  سے پچاس بار بھی رابطہ کریں تو ہمیشہ یہی کہتے ہیں کہ   ” میری تجویز ہے کہ آپ   فلاں  کام جلد از جلد مکمل کر لیں “ ، کبھی یہ نہیں کہتے  کہ ” اے فلاں! میں تمھیں حکم دیتا ہوں کہ فلاں مضمون کا ترجمہ  مکمل کر کے مجھے بھیجو “ ۔ خیرہمارے ہاں  اہلِ علم کی پہلے    کب قدر ہوئی ہے جو اَب ہو گی ،امید ہے قبلہ اپنا دِل چھوٹا نہ کریں  گے اور  اسی تندہی سے اپنا کام سرانجام دیتے رہیں گے۔

حاشیہ نویسی:

علمی سرگرمیوں میں قبلہ کا سب سے پسندیدہ کام حاشیہ نویسی ہے۔ وہ ترجمہ کریں، طبع زاد لکھیں یا کسی کےلکھے ہوئے کو ترتیب دیں حواشی ضرور لکھتے ہیں۔ تبصرہ نگاری میں تو انھوں نے باقاعدہ   ایک نئے دبستان  کی بنیاد  رکھ دی ہے۔ ایک بار ہم  ایک ہوٹل پر دیگر  دوستوں کے ہمراہ کھانا رہے تھے کہ قبلہ نے اپنے  سامنے مینیو کارڈ پڑا ہُوا دیکھا اور  ارادہ کیا کہ مینیو کارڈ پر حواشی لکھیں۔ بیرے  نے  پھرتی سے کھانا پیش کر کے ان کے ارادوں پر پانی پھیر دیا ۔ قبلہ کا رنگ تو نہیں لا سکوں گا مگر  انھیں خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے ان  کے افکار کی روشنی میں مینیو کے حواشی لکھنے کی کوشش کرتا ہوں:

1۔ روٹی:   دَس انچ قطر کا ایک پکوان  جو گندم سے تیار کیا جاتا ہے اور  جنوبی ایشیا کے کئی  ممالک میں روزانہ کھایا جاتا ہے۔  میں نے گھر کی روٹی اور ہوٹل کی روٹی کے باہمی موازنے پر کچھ نوٹس لکھ رکھے ہیں، پہلی فرصت میں  انھیں ترتیب دے کر دوستوں کی خدمت میں پیش کرتا ہوں نیز پیزے  کی روٹی (ڈو) اور  مکئی کی روٹی  کا بین الثقافتی  مطالعہ  کرنے کا بھی مصمم ارادہ کر لیا ہے۔  

2۔چکن کڑاہی: بدیسی مرغ کا ایک  نمکین سالن جو کڑاہی میں  پکایا جاتا ہے۔

3۔ چائے: مشرق کا ایک مشروب جو  دودھ ، پتی اور  میٹھے کی مدد سے تیارکیا جاتا ہے اور آج کل سوشل میڈیا پر بھی   خوب مقبول ہے۔  یہاں یہ بات غور کرنے کی ہے کہ مغربی ممالک میں چائے کا اس طرح سے رواج کیوں نہ ہو سکا جس طرح کہ یہ مشرقی ممالک میں مقبول ہے و علیٰ ہذالقیاس۔ اس  حوالے سے کچھ نکات ہاتھ لگے ہیں،  ارادہ ہے کہ جلد انھیں قلمبند کر لوں۔ مشرقی چائے اور مغربی کافی  کے باہمی  تقابل کے لیے ایک تمثیل بھی وضع کرنے کا ارادہ ہے۔

جب میری اور عاطف بھائی کی نوکری ہوتے ہوتے رہ گئی!

ایک روز قبلہ نے حال پوچھا تو  عرض کی کہ بے روزگاری کے مزے لُوٹ رہا ہوں، قبلہ نے فوراً خوشخبری سنائی کہ  وہ مجھے نوکری دینے  کا کامل ارادہ رکھتے ہیں اور پھر کمپیوٹر گیمز کے ایک منصوبے کی تفصیلات  سنائیں۔  میں نے پوچھا کہ میں کروں گا کیا؟ فرمایا: اسکرپٹ رائٹنگ۔ اب چونکہ   میں نے یہ کام کبھی نہیں کیا تھا لہذا ان کی دانست میں اس کام کے لیے سب سے موزوں آدمی میں ہی تھا۔  میری تنخواہ  کے متعلق انھوں نے   ” پچاس ساٹھ ہزار روپے “ کا عندیہ  دیا۔ اب واقعہ یہ ہے کہ میں نے زندگی میں کبھی کوئی پیسے نہیں کمائے (البتہ ایک روز صبح کی سیر کرتے ہوئے  سواں نالہ اسلام آباد کے قریب  سَو روپے کا نوٹ ضرورملا تھا مگر    ظاہر ہے کہ اسے ہم  آمدنی   قرار  نہیں دےسکتے)۔  قبلہ کی  خوشخبری کے بعد ایک دو دن تک   میرا دماغ  حیرت اور خوشی سے ماؤف رہا ۔ جب ذرا طبیعت سنبھلی تو میں نے غور کرنا شروع کیا کہ ان پیسوں کا کیاکیا جائے گا۔کچھ سمجھ  میں نہ آیا تو یہ سوچنے لگا کہ دوسرے  لوگ پیسوں کا کیا کرتے ہیں۔ بالآخر میں اس نتیجے پر پہنچا کہ لوگ گاڑی  خریدلیتے ہیں  لہذا میں بھی ایک سال کی تنخواہ اکٹھی کر کے گاڑی خرید  لوں گا مگر اس سوال کا کوئی جواب میرے پاس نہ تھا کہ گاڑی کا میں کروں گاکیا؟   ایک آدھ دن بعد  انھوں نے اطلاع دی کہ وہ عاطف بھائی (عاطف حسین) کو بھی  اپنے منصوبے میں شامل کر چکے ہیں اور ان کی تنخواہ ان کی موجودہ  تنخواہ کا ڈیڑھ گنا  قرارپائی ہے۔    اس اطلاع سے مجھے دہری خوشی حاصل ہوئی یعنی ایک تو یہ  کہ عاطف بھائی کی تنخواہ بڑھ جائے گی اور دوسرا یہ کہ اب مجھے  اطمینان ہو گیا تھا کہ  خطیر رقم کے خرچ کے معاملے میں  مَیں ان سے مشورہ کر لیا کروں گا۔  دو تین دن بعد قبلہ کی کال آئی تو  اس منصوبے اور میری نوکری کا ذکر تک نہ  تھا اور وہ نہایت سنجیدگی سے کچھ نئے منصوبوں کی تفصیلات مجھے سنانے لگے۔ آپ جانتے ہیں کہ  اپنی نوکری کے متعلق پوچھنا  خلاف وضع  ہوتا ہے پس میں  خاموش رہا اور یوں میری زندگی کی پہلی نوکری ہوتے ہوتے رہ گئی وگرنہ کیا عجب کہ آج میں ایک اسکرپٹ رائٹر ہوتا اور گاڑی کے مزے لُوٹ رہا ہوتا۔

 مہمان نوازی اور توحید پسندی:

عام طور پہ لوگ  یہ کرتے ہیں کہ کسی کو دعوت دیتے وقت  متوقع کھانوں کی تفصیل مہیا نہیں کرتے اور موقعے پہ جو  بھی ملتا ہے پیش کر دیتے ہیں مگر قبلہ کا یہ مزاج نہیں۔ وہ اس معاملے میں کسی قسم کے ابہام کے قائل نہیں اور فون، فیس بک  یا براہِ راست جس بھی طریقے سے  دعوت دیں ، کھانے کی تفصیل بلا کم و کاست بیان کردیتے ہیں یعنی، ” اے فلاں! میں آپ کا منتظر ہوں جب آپ تشریف لائیں گے تو میں گُڑ والے چاول پیش کروں گا “ یا پھر ” آپ تشریف لائیں، چائے  پلائی جائے گی “ ۔  ایسی صاف گوئی میں نے اور کہیں نہیں دیکھی لیکن  مہمان نوازی کے ضمن میں قبلہ کی ایک انفرادیت ایسی ہے کہ جو انھیں کے ساتھ خاص ہے  اور  جس سے ان کے مزاج پر خاص   طور پہ روشنی پڑتی ہے۔  دراصل ہُوا   یوں کہ  ایک روز میں ان کی یونیورسٹی  میں حاضر ہُوا تو وہ مجھے چائے پلانے کے لیے میس لے گئے۔  چائے کے ساتھ ” ایک ایک سموسہ “ طلب کیا۔ جواب ملا  سموسے ختم ہوگئے ہیں۔ فرمایا ” چلیے پھر ایک ایک گلاب جامن دے دیجئے “ ۔میں نے اپنے حصے کا ایک گلاب جامن  کھا کر چائے پینا شروع کی اور سوچنے لگا کہ ” ایک “ پر ایسا اصرار میں نے پہلی بار دیکھا ہے۔بعد ازاں جب   دیگر احباب نے بھی تائید کی کہ قبلہ  گلاب جامن، سموسے وغیرہ  منگواتے وقت ” فی کس ایک “   کا  مبالغے کے ساتھ التزام کرتے ہیں تو میں اس نتیجے پر پہنچا کہ قبلہ کے مزاج میں توحید اس حد تک رچ بس گئی ہے کہ سموسوں اور گلاب جامنوں میں بھی اب کسی قسم کی دوئی، تثلیث یا شرک  وغیرہ کے روادار نہیں ہیں۔

عاصم رضا ناطقؔ: تخلص پیشِ خدمت ہے

جب بھی قبلہ کا تصور ذہن میں لائیں تو وہ بولتے ہوئے ہی آتے ہیں۔  اگر آپ کے ذہن میں خاموش عاصم رضا آتے ہیں تو  اس کا ایک ہی مطلب ہے : آپ کی  قبلہ سے تاحال  ملاقات نہیں ہو ئی ۔بے تکان بولتے چلے جانا وہ اپنی  ذمے داری جانتے ہیں  اور  اس میں سے معنی  اور ربط وغیرہ کی تلاش کو سامع کی صوابدید پہ چھوڑ دیتے ہیں۔  جاگنا اور بولنا ان کے ہاں ہم معنی ہو گیا ہے۔ عین ممکن ہے نیند میں بھی یہ شغل جاری رکھتے ہوں مگر اس بارے میں مجھے کچھ معلومات نہیں۔ ایک بار  ان کی بے تحاشا گفتگو سننے کے بعد میں نے سوچا کہ وہ سوچتے کب ہیں۔ بالآخر میں اس نتیجے پر پہنچا کہ وہ  سوچنے کا کام نہیں کرتے؛ محض بولتے ہیں ۔  ہماری آپ کی طرح سوچنے پہ گھنٹوں وقت ضائع نہیں کرتے۔  ویسے تو وہ شاعر نہیں ہیں لیکن اگر کبھی  میدانِ شعر میں طبع آزمائی کریں تو ان کے لیے سب سے موزوں تخلص ” ناطقؔ “ ہو گا: پروفیسر عاصم رضا ناطقؔ۔

تاریخ میں انہماک:

دیگر اذواق کی طرح قبلہ کا ذوقِ تاریخ  بھی  نہایت منفرد ہے۔  ایک ٹھیٹھ علمی آدمی کے طور پہ وہ اپنی تحریروں میں  حوالوں کا جابجا استعمال کرتے ہیں۔ ہر حوالہ ان کے تئیں تاریخ نویسی کا  ایک  موقع ہوتا ہے۔ مثلا ایک موقعے پر انھوں نے اقبالؒ، قائداعظم اور نیلز بوہر کے حوالے دیتے ہوئے تاریخ نویسی کا  مظاہر کچھ یوں کیا:

” کتاب کو کھول کر پڑھنے سے پہلے میں یہ سوچ رہا تھا کہ اگر مجھے نیلز بوہر کے لئے کچھ لکھنا پڑے تو پہلا فقرہ کیا ہونا چاہئیے ۔ اس وقت درج ذیل باتیں ذہن میں اتریں:

دیموقراطیس اور زینو سے ہوتے ہوئے گلیلیلو، لائبنز، نیوٹن، میکسویل اور آئن سٹائن کے بعد قدرت نے اپنے خزانوں کو منکشف کرنے کی غرض سے ایک اور نابغے کو جسد انسانی کی صورت زمین پر اتارنے کی ٹھانی ۔ تاہم اس بار قرعہ فال ڈنمارک و کوپن ہیگن کے نام نکلا جہاں 1885ء میں نیلز بوہر کا جنم ہوا ۔ اس سے نو برس پہلے ڈنمارک سے بہت دور جنوبی ایشیا کے ایک ساحلی علاقے کراچی میں محمد علی جناح پیدا ہوئے اور آٹھ برس پہلے 1877ء میں جنوبی ایشیا ہی کے ایک دوسرے شہر سیالکوٹ میں ایک بچے کا جنم ہوا جس کو دنیا محمد اقبال کے نام سے جانتی ہے ۔آج ہم محمد علی جناح کے پاکستان میں نیلز بوہر کے بارے میں پڑھ رہے ہیں ۔ راقم الحروف کے نزدیک محمد اقبال اور نیلز بوہر کے مابین بھی گہری علمی نسبتیں موجود ہیں جن کو دریافت کرنا ابھی باقی ہے ۔ “

آپ دیکھ سکتے ہیں کہ قبلہ نے قائد اعظمؒ ، علامہ اقبالؒ اور پاکستان سے نیلز بوہر  کی تاریخی نسبتوں کا حساب لگانے میں کس قدر عرق ریزی  اور حب الوطنی سے کام لیا ہے۔   کہنے کو یہ  ساری معلومات  انٹرنیٹ پر   چند سیکنڈز میں مل جائیں گی  مگر اصل  بات یہ ہے کہ جب تک  اپنے وطن اور اس کے بانیوں  سے  گہری محبت نہ ہو تب تک  ان کڑیوں کو ملانے کا  خیال بھی ذہن میں نہیں آتا۔

انوکھی حسِ مزاح:

لوگوں میں یہ خیال عام پایا جاتا  ہے کہ قبلہ حسِ مزاح سے عاری ہیں یا ہر وقت  خشک علمی باتوں میں  مگن رہتے ہیں۔ یہ بات بہت حد تک درست ہے یعنی   مزاحیہ  باتوں پر معمولی لوگوں کی طرح ہنسنے کو  وہ درست نہیں جانتے۔ عام لوگ   اگرسنجیدہ بات کو  بھی لطیفہ بنا دیتے ہیں تو  قبلہ  لطیفے  کوسنجیدہ بنا نے کا خصوصی اہتمام کرتے  ہیں۔  کسی لطیفے یا جگت پر انھیں ہنسی سے قبل کوئی علمی نکتہ یاد آ جاتا ہے اور اس طرح  قہقہہ ملتوی ہو جاتا ہے لیکن  کبھی  کبھی اگر  ان کی طبیعت زیادہ شوخ ہو  تو وہ عملی مذاق (پرینک) ضرور کرتے ہیں جو اتنا باریک ہوتا ہے کہ  اسے سمجھنے میں برسوں بھی لگ سکتے ہیں۔ ایک ذاتی مثال پیش ہے: ابتدائی سلام دعا   کے بعد سے ہی قبلہ نے یہ طریقہ اختیار کیا کہ  فیس بک پر جہاں کہیں  مَیں  کسی کتاب کے بارے میں کسی دوست سے استفسار کرتا، قبلہ  ناگہاں  وہاں  پہنچ کر   یہ وعدہ فرما لیتے کہ اُس کتاب  کی فکر مجھے چھوڑ دینی چاہیے کیونکہ  قبلہ وہ کتاب مجھے بہ طور تحفہ بھجوانے والے ہیں ( ” بہ طور تحفہ “ کی صراحت وہ ضرور فرماتے ہیں کیونکہ  اس کے بغیر یہ اندیشہ ہوتا ہے کہ و صول کنندہ  کتاب وصول کرنے کے بعد کہیں اس کی قیمت ہی ادا کرنے پر نہ تُل جائے)۔    اس طرح  کوئی ساٹھ ستر کتابوں کے وعدے انھوں نے کر لیے ۔میں بہت زیادہ کتابیں پڑھنے والا آدمی نہیں  اور جو تھوڑی بہت پڑھتا ہوں وہ خود خرید کر پڑھتا ہوں لیکن  ظاہر ہے کہ قبلہ کی ان پُر خلوص پیش کشوں کوٹھکرانا بھی سراسر گستاخی ہوتا لہذا میں  اپنی حماقت کے سبب ان کے اس عملی مذاق کو سنجیدہ وعدوں پہ محمول کرنے لگا اور  ہر  دو چار  مہینوں بعد انھیں یاد دہانی  کروا دیتا  جس پہ  وہ اطلاع  دیتے  کہ فلاں فلاں  کتابیں پہنچ گئی ہیں ، فلاں پہنچنے والی ہیں اور اکٹھی کر کے تمھیں بھجواتا ہوں۔  حماقت کی انتہا تو یہ تھی کہ اگر موعودہ کتابوں میں سے کوئی    کتاب اپنے شہر کی پبلک لائبریری میں  یا کسی  بے تکلف دوست کے ہاں  دیکھتا تو کامل بے اعتنائی برتتا کہ جب  میرا اپنا نسخہ   مجھ تک پہنچنے  والا ہے تو   غیر کی منت   کیوں اٹھاؤں۔  غرض کتابوں اور وعدوں کی تعداد بتدریج بڑھتی رہی اور  تین سال سے بھی زائد  کا عرصہ بیت گیا۔ بالآخر ایک روز قبلہ کے اس عملی مذاق اور اپنی حماقتِ مسلسل کا راز مجھ پر عیاں ہو گیا۔ خوب پشیمان ہُوا اور انھیں  اطلاع دی کہ ان کے عملی مذاق کا راز میں جان گیا ہوں  اور لہذا اب  اس کا  خاتمہ ہونا  چاہیے (آپ زیادہ خوش نہ ہوں۔ میری جگہ آپ بھی ہوتے تو قبلہ کے مذاق کو سمجھنے میں برسوں لگاتے۔  دراصل قبلہ اس زمانے کے ہیں ہی نہیں، ان  کے فکری نکات کی طرح ان کے عملی مذاق کی پرتیں بھی آنے والی  کئی صدیوں  تک کھلتی رہیں گی)۔

ہم نثر کے دورِ عاصم رضائی میں  جی رہے ہیں!

پروفیسر عاصم رضا نے   اردو نثر لکھنے کا ایسا راستہ نکالا ہے جس پر تاحال  اصحابِ  علم کی نظر نہیں گئی۔  قبلہ  نے لفظ و معانی کے پرانے رشتوں کو پوری طاقت سے توڑ ڈالا  ہے۔ تشبیہ و استعارہ  اور  دیگر ادبی   صنعتوں کو اس طور سے برتا ہے کہ اب ان کی نئی تعریفیں متعین کرنا پڑیں گی۔  ان کی نثر  کا ایک نمونہ الل ٹپ یہاں  پیش کرتا ہوں:

” اگست 2019ء کی بات ہے کہ میں نے ” روشن خیالی کیا ہے؟ “ کو باقاعدہ موضوع مطالعہ بنایا ۔ اب میں ٹھہرا گنے کا کھیت یعنی رس سے لبریز منہ زور لیکن گھامڑ بندہ جس نے خود ہی سے ذمہ داری اٹھا لی کہ اس موضوع کے بنیادی ماخذوں کو پڑھا اور پھر ان کا ترجمہ کیا جائے ۔ “

شرح:

اب میں قبلہ کے اس مختصر نثر پارے کی شرح بیان کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ جملے کا آغاز سَن اور مہینے سے کیا ہے۔ اس سے تاریخ میں ان کی دلچسپی  صاف ظاہر ہو جاتی ہے  لیکن  اس میں انکساری کا پہلو بھی ہے  یعنی   قدرت  رکھنے کے باجود انھوں نے گھنٹے، منٹ اور سیکنڈز  کی تفصیلات  فراہم  نہیں کیں۔   ” باقاعدہ موضوع “   کے الفاظ سے ان کی شخصیت کا  یہ رخ سامنے آتا ہے کہ وہ پہلے ” بے قاعدہ “ مطالعہ کرتے رہتے ہیں اور جس لمحے  کسی  موضوع پر  انھیں کوئی نکتہ  سوجھ جاتا ہے تو وہ اسے باقاعدہ موضوع بنا لیتے ہیں  اور یہ تو میں بتا ہی چکا ہوں کہ ان کے علمی منصوبوں ( اور لہذا ان کے ” باقاعدہ موضوعات “ ) کی تعداد ہزاروں  میں پہنچ  چکی ہے۔

اب  اگلا جملہ ان کی  تہہ دار نثر کا شاہکار  ہے ۔ خود کو گنے کے کھیت سے تشبیہ دی ہے لیکن   جب وجہ شبہ بیان کرنے لگے تو  واضح ہُوا کہ وہ  کھیت کے بجائے  محض ایک  گنے سے خود کو تشبیہ دینا چاہتے  تھے  لیکن  چونکہ اس میں  ذم کا پہلو موجود تھا  لہذا انھوں نے  احتیاطاً  ایک گنے  کے بجائے گنے کے کھیت  کی ترکیب پسند  فرمائی ۔  پھر اس میں ضمنی طور پہ یہ بات بھی آ گئی کہ جس طرح گنے کے کھیت میں سیکڑوں ہزاروں گنے ہوتے ہیں اسی طرح ان کی شخصیت  میں بھی  سیکڑوں ہزاروں     پہلو ہیں   گویا   نہایت  وسعت  کی حامل ہے۔ ” رس “ سے مراد یہاں علم  و حکمت ہیں اور ” منہ زور “ سے مراد ان کے اظہار کی طاقت اور حق گوئی کی عادت ہے۔ خود کو ” رس سے لبریز “   اور پھر ” منہ زور “ قراد دے کر اظہارِ تعلی کیا ہے لیکن چونکہ  تصوف میں بھی انھیں گہرادرک حاصل  ہے لہذا  تعلی کے فوراً بعد  عاجزی کا  اظہار کرنا نہیں بھولے  اور  خود کو  ” گھامڑ “ اور پھر ” بندہ “ قرار دیا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ دونوں  خرابیاں ان میں موجود نہیں یعنی نہ تو وہ گھامڑ ہیں اور نہ ہی  آدمی ہیں۔  ان کے ہاں انسانوں والے اعمال کا صدور ہوتے  کسی نے نہیں دیکھا۔  ان کے موضوعات کے تنوع،  بے  تحاشا مطالعے،  حیران کن یادداشت اور نئے نئے نکات  پیدا کرنے کی صلاحیت کو دیکھتے ہوئے انھیں  ایک جِن کہنا زیادہ مناسب ہو گا۔ ” خود سے ہی ذمہ داری اٹھا لی “ یہ ان کی  زندگی کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ  پورے ملک میں  کوئی ایک  شخص  بھی ایسا نہیں ہے جو انھیں کوئی علمی ذمہ داری  سونپے لہذا  بیچارے خود ہی ذمہ داریاں ڈھونڈتے رہتے ہیں اور جیسے ہی کسی ذمہ داری کو دیکھتے ہیں تو فوراً  اسے اٹھا لیتے ہیں۔ ” بنیادی ماخذوں کو پڑھا اور پھر ان کا ترجمہ کیا جائے “   اس جملے سے قبلہ کے  علمی   مزاج  کا  ایک خاص  پہلو ظاہر ہوتا ہے یعنی  ان کا خیال ہے کہ انھیں کسی موضوع پر اُس وقت تک طبع زاد  تحریر نہیں لکھنی چاہیے جب تک کہ اس   سے متعلق تمام  ناگزیر  کتابوں اور مقالوں کا اردو ترجمہ  عوام کے سامنے پیش نہ کر لیں۔   ان کے اس خیال کی ندرت اور بے نظیری  اظہر من الشمس ہے۔  خیر بات طویل ہوئی جاتی ہے ۔ سچ تو یہ ہے کہ قبلہ کی شخصیت کا پھیلاؤ  اس قدر ہے کہ پوری کتاب لکھی جا سکتی ہے مگر  اب  اسے ختم کرتا ہوں۔  مستقبل کا مورخ جب کئی دبستانوں کے بانی پرفیسر عاصم رضا کی شخصیت پہ قلم اٹھائے گا تو امید ہے کہ وہ   اس  اولین خاکے کو  ضرور پیشِ نظر رکھے گا۔ کیا عجب کہ   یہ خاکہ تاریخ میں میرے زندہ رہنے کا واحد سبب  بن  جائے۔

Recommended Posts

Leave a Comment

Jaeza

We're not around right now. But you can send us an email and we'll get back to you, asap.

Start typing and press Enter to search