کارل گستاؤ یونگ کے ساتھ ایک مذاکرہ: فری مین (ترجمہ: شفتین نصیر)

نوٹ: بی بی سی ٹیلی ویژن   سے نشر ہونے والے  جون فری مین کے ’’ آمنا سامنا‘‘  (Face      to      Face) نامی   مذاکرے  کی ایک قسط کے بارے میں  ، بلاشک و شبہ ، یہ   کہا جا سکتا ہے کہ اس پروگرام میں  دیے جانے والے  یونگ کے انٹرویو  نے دیگر صحافتی کاوشوں اور بذات خود یونگ کی تحریروں کی بہ نسبت ،  یونگ  کو زیادہ بہتر انداز  میں   متعارف کروایا ہے  ۔ فری مین اور اسکی ٹیم نے پروڈیوسر ہیو برنیٹ (Hugh      Burnett) کی رہنمائی میں مارچ 1959 ء   میں سوئزرلینڈ کے علاقے  کوئزنیٹ میں واقع   یونگ کی رہائش گاہ  پہ اس مذاکرے کو فلمایا  ۔ اور  بائیس اکتوبر 1959ء کو   ضروری کانٹ چھانٹ کے بعد    ڈیڑھ گھنٹے کا  مذاکرہ  برطانیہ عظمیٰ   میں نشر ہوا ۔بعد ازاں،  یہ مذاکرہ دوبارہ بھی نشر ہوا  نیز تعلیمی اداروں اور یونگ  کے مکتبہ فکر سے وابستہ گروہوں (Jungian      groups)  میں  ایک  فلم کی صورت میں  دکھایا جاتا رہا ہے۔فری مین کے دیگر انٹرویوز کے ہمراہ ،  اسی مذاکرے  کا  ایک حصہ ’’ آمنا سامنا‘‘ کے عنوان  سے  تحریری صورت میں بھی  شائع ہوا ۔ یاد رہے کہ جس زمانے میں یہ مذاکرہ ریکارڈ ہوا ، فری مین  اس وقت برطانیہ کے ایک سیاسی اور کلچرل میگزین    نیو سٹیٹس مین  (New      Statesman)   میں ایک    نائب مدیر تھا۔ بعد ازاں ، فری مین نیو سٹیٹس   میں خاص مدیر ؛ 1965ء تا 68ء   کے دوران   میں           ہندوستان کے  اندر    برطانوی   ہائی کمشنر،   اور1969ء تا 71ء  کےعرصہ میں   واشنگٹن  میں  برطانوی سفیر کے عہدوں پرفائز ہوا  ۔  فری مین اور یونگ کے مابین دوستی کا رشتہ ، یونگ کی  وفات تک قائم رہا۔ فری مین کے یونگ کے ساتھ انٹرویو کی کامیابی  کے باعث ،   بی بی سی نے اگلے سال یونگ سے  ایک اور انٹرویو  دینے کی درخواست کی۔ لیکن یونگ نے دو وجوہات کی بنیاد پر  انٹرویو دینے  سے انکار کر دیا : اول ، انٹرویو کرنے والے موصوف دراصل سائیکاٹرسٹ (نفسیاتی امور کے طبی معالج )   تھے اور یونگ خود کو اس سرگرمی  کے لائق نہ سمجھتا تھا ؛ دوم ،  یونگ کو اس بات سے مایوسی ہوئی کہ سائیکاٹرسٹ موصوف، یونگ کے کام سے ناواقف تھے[i]۔ قارئین ِ جائزہ کے لیے اسی مذاکرے کا اردو ترجمہ پیش خدمت ہے۔

فری مین :       پروفیسر یونگ،آپ زیورخ          میں جھیل کے قریب  واقع اس گھر میں کتنے  برسوں سے رہائش پذیر ہیں؟

یونگ:       یہی  لگ بھگ پچاس برسوں سے ۔

فری مین: کیا اب آپ  یہاں صرف اپنے خادموں  اورانگریز خانساماں  کے ساتھ رہتے ہیں؟

یونگ: جی ہاں۔

فری مین: کیا آپ کے ساتھ کوئی بچے یا نواسے نواسیاں پوتے پوتیاں نہیں رہتے ؟

یونگ: اوہ نہیں، وہ یہاں نہیں رہتے۔  مگر ان میں سے بیشتر  گردو نواح   ہی میں  رہتے ہیں۔

فری مین:  کیا وہ اکثرو بیشتر  آپ سےملنے  آتے ہیں؟

یونگ:اوہ، جی ہاں۔

فری مین:آپ کے کتنےنواسے نواسیاں اور پوتے پوتیاں ہیں ؟

یونگ:  انیس ۔

فری مین: اور ان  کےکتنے  بچے ہیں ؟

یونگ: میرے خیال میں آٹھ۔  قیاس ہے ، ایک آنے والا ہے۔

فری مین: اورآپ ان  (بچوں) کی موجودگی  سے محظوظ ہوتےہیں؟

یونگ: خیر، یہ بات عمدہ محسوس ہوتی ہےکہ آپ کی ذات سے ایک ایسی جیتی جاگتی خلقت وابستہ  ہے۔

فری مین: آپ کے خیال میں ، کیا وہ  آپ سے خوف زدہ ہوتے   ہیں؟

یونگ:میرے خیال  میں،  ایسانہیں ہے ۔ میرے نواسے نواسیوں اور  پڑپوتے  پوتیوں    سے ملاقات  ہونے پر ،  آپ اس خیال کو ترک کر دیں گے ۔وہ میری چیزیں چُرا لیتے ہیں ، یہاں تک کہ  کل   انھوں  نے میری ٹوپی بھی چرا لی۔

فری مین: اب ،کیا میں آپ کو بچپن میں واپس لے جا سکتا ہوں؟ کیا آپ کو وہ موقعہ   یاد ہے جب آپ  کو پہلی دفعہ خودشعوری محسوس ہوئی ؟

یونگ:   میں اس وقت گیارہ برس کا تھا ۔ میں    سکول  کو  جانے والے راستے پر  تھا  کہ   خودشعوری کا احساس ہوا  ۔یہ اسی طرح تھا کہ جیسے میں   اوٹ  میں  تھا ، اسی   کے  تحت سب کچھ چل رہا تھا   اورجب میں نے اس سے باہر قدم رکھا، تو میں  نے جانا کہ   ’’ میں ہوں‘‘ ۔ ’’میں جو ہوں،وہ  ہوں‘‘۔ اور پھر میں نے سوچا، ’’مگر اب سے پہلے  میں  کیا تھا‘‘۔ اور پھر مجھے معلوم پڑا کہ میں ایک چار دیواری میں مقید تھا،   اس بات سے انجان کہ  اپنی ذات کو کس طرح دوسروں سے   ممیز کرنا ہے۔  میں دیگر اشیاء کےمابین    فقط ایک شے  تھا۔[ii]

فری مین: کیا  وہ واقعہ  آپ کی زندگی کے  کسی مخصوص واقعے کے ساتھ جڑا ہوا   تھایا  پھر بلوغت کا محض ایک  معمولی فعل  تھا؟   

یونگ: خیر ،یہ کہنا دشوار ہے۔ جہاں تک مجھے یاد ہے، اس سے قبل ایسا کچھ نہیں ہوا تھا   جو خودشعوری کی اس حالت  کے پہنچ جانے کو بیان کر پائے ۔

فری مین:مثال کے طور پر  ، آپ   کا اپنے والدین کے  ساتھ کوئی جھگڑا  ہوا تھا یا  اسی قبیل کی کوئی دوسری بات؟

یونگ: نہیں، نہیں۔

فری مین: آپ اپنے والدین کو کس طرح   یاد کرتے ہیں ؟   کیا وہ آپ کی پرورش کے سلسلے میں سخت گیر  اور دقیانوسی  تھے؟

یونگ:خیر، آپ جانتے ہیں ، ان کا  تعلق قرون وسطی کےآخری زمانے سے تھا۔میرے والدایک پادری تھے اورآپ تصور کر سکتے ہیں کہ پچھلی  صدی کی سترویں(70)  دہائی میں لوگ کیسے تھے ۔وہ ان عقائد  کے حامل   تھے جن  کے تحت  لوگ اٹھارہ سو برس   سے زندگی  گزار چکے ہیں ۔

فری مین:آپ کے والد گرامی  نے کس طرح آپ پر ان عقائد کو نقش کرنے کی کوشش کی؟ مثلاً  ،کیا وہ آپ کو  ڈانٹ ڈپٹ  کرتے تھے؟

یونگ:اوہ نہیں، بالکل بھی نہیں۔وہ  نہایت  آزاد خیال ،بے حد متحمل اور سمجھ دار  انسان تھے۔

فری مین: کس کے ساتھ آپ زیادہ قلبی تعلق رکھتے تھے- والد یاوالدہ؟

یونگ: اس بات  کا فیصلہ کرنا  دشوار ہے۔ بے شک انسان ہمیشہ  ماں کےزیادہ قریب ہوتا ہے  لیکن جب شخصی  جذبات کی بات آتی ہے  تو  والدہ کے مقابلے میں  ، والد صاحب کے ساتھ میرا تعلق زیادہ بہتر تھا۔ میرے لیے والد صاحب زیادہ قابل فہم (predictable) تھے ، جب کہ والدہ نہایت مشکل شخصیت  تھی ۔

فری  مین: پس  کسی بھی  حوالے سے ، والد کے ساتھ آپ کے رشتے میں خوف کاعنصر شامل نہیں تھا؟

یونگ:با لکل بھی نہیں۔

فری مین: کیا آپ   اپنے والد صاحب کو ان کے فیصلوں میں   معصوم   عن الخطا ء سمجھتے تھے؟

یونگ: ارے نہیں، میں اس بات سے واقف تھا  کہ  وہ     بے حد قصور وار تھے۔

فری مین:  آپ کتنے برس کے تھے جب آپ کواس بات کا  علم ہوا ؟

یونگ:  اب مجھے ذرا سوچنے دیجیے(طویل توقف )  ۔   غالباً گیارہ یا بارہ برس۔(اس بات کا ادراک ) اس حقیقت کے ساتھ  وابستہ تھا کہ میں  خودشعوری کا حامل تھا اور اسی وقت سے میں نے اپنے والد صاحب کو (خود سے ) مختلف  جانا ۔

فری مین:   جی ہاں۔ یوں انکشافِ ذات  (self-revelation) کا لمحہ اور یہ جانکاری  کہ میرے والدین  معصوم عن الخطا ء نہیں ہیں ، دونوں ایک دوسرے کے ساتھ باہم  پیوست ہیں ؟

یونگ: جی ہاں، کسی کے نزدیک ایسا ہی ہو۔ لیکن میں نے یہ جانا کہ میں اپنی والدہ سے ڈرتا تھا مگر دن کے اوقات میں نہیں۔ اس وقت، میں ان سے بالکل واقف تھا نیز وہ میرے لیے قابل فہم تھیں۔ لیکن رات میں مجھے ان سے ڈر لگتا تھا۔

فری مین: اورکیا آپ یاد کر سکتے ہیں،  ایساکیوں تھا؟ کیا  آپ اس خوف کو دہرا سکتے ہیں ؟

یونگ:   مجھے اس بات کا ذرا سا بھی اندازہ نہیں ہے کہ ایسا کیونکر تھا ۔

فری مین: اب آپ اپنے اسکول کے دنوں کے بارے میں  کیا کہیں گے؟کیا آپ بطور طالب علم،   اسکول میں خوش تھے؟

یونگ: آغاز میں ، جیسا کہ آپ جانتے ہیں، میں اپنے دوستوں کی صحبت سےبے حد خوش   تھا، کیونکہ اس سے پہلے میں بہت اکیلا رہاتھا۔ہم گاؤں   کے رہائشی  تھےاور میرا کوئی بھائی  بہن نہیں تھا۔میری بہن بہت عرصے بعد پیدا ہوئی،  جب میں نو برس کا تھا  ۔ لہٰذا میں تنہا رہنے کا عادی تھا، بجزاس کے میں نے رفاقت کی کمی محسوس کی۔  اور اسکول میں اس (رفاقت) کا  حاصل ہونا،  نہایت عمدہ بات  تھی۔ مگرجیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ  گاؤں کے سکول کے اعتبار سے میری قابلیت زیادہ تھی ، چنانچہ جلد ہی  میں اکتانے لگا۔

فری مین: آپ کے والد نےآپ کو کس طرح  کی مذہبی تربیت دی؟

یونگ: اوہ، ہم سوئس ریفارمڈ (Swiss      Reformed )  پروٹسٹنٹ عیسائی  تھے۔

فری مین: کیا آپ کے والد آپ کو باقاعدگی سے کلیسا لے جاتے تھے؟

یونگ: اوہ، خیر،  یہ بالکل فطری بات  تھی۔ سبھی  لوگ اتوار کے دن کلیسا جاتے تھے ۔

فری مین: اور کیاآپ کو خداپر  یقین تھا؟

یونگ: اوہ،جی ہاں۔

فری مین:کیا آپ ابھی بھی خدا پہ یقین رکھتے  ہیں ؟

یونگ:ابھی؟  (توقف)۔  جواب دینا دشوار ہے۔میں جانتا ہوں ۔ مجھے یقین  /اعتقاد کی ضرورت نہیں۔ مجھے معلوم ہے۔

فری مین:  خیر، اب  ہم آپ کی زندگی کے اگلے اہم مرحلے  کی طرف رخ کرتے ہیں۔آپ کو کس شے نے  طبیب بننے پر آمادہ کیا؟

یونگ:    دراصل ، ابتدائی دنوں میں ، میں    ایک ماہرآثار قدیمہ (آرکیالوجسٹ)  بننا چاہتا تھا؛ آشوریات، مصریات، یا اسی قبیل سے متعلق کسی موضوع  سے متعلق  ۔میرے پاس پیسے نہیں تھے اور تعلیم   بہت زیادہ مہنگی تھی۔ میری دوسری چاہت کا تعلق فطرت/نیچر  سے تھا ، بالخصوص  علم الحیوانیات    (Zoology)۔ اپنے مطالعہ کے ابتدائی دنوں میں ، میں نے نام نہاد فلسفیانہ شعبہ (     Philosophical      Faculty Two)   یعنی نیچرل سائنسوں  سے متعلق شعبے میں داخلہ لیا ۔ پھر مجھے جلد ہی اس بات کا اندازہ ہوا کہ   میں نے جس پیشے کو منتخب کیا ہے ، وہ مجھے  ایک استادبنا دے گا ۔لیکن میں نے  اسے نہیں اپنایا ۔ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ میں استاد سے آگے بڑھ پاؤں گا کیونکہ  ہمارے پاس کوئی رقم نہیں  تھی۔اور تبھی  میں نے سوچا  کہ     یہ پیشہ  میری توقع کے مطابق نہیں تھا۔  مجھے استاد نہیں بننا تھا۔درس و تدریس وہ شعبہ نہیں تھا جس کی مجھے تلاش تھی۔اور پس مجھے خیال آیا کہ  میرے دادا ایک  طبیب/معالج   تھے ۔اور علم طب کا مطالعہ کرتے ہوئے مجھے اس بات  سے  واقفیت تھی کہ میرے پاس  نیچرل سائنس اور ایک معالج /طبیب بننے کا موقع میسر تھا ۔ اور آپ جانتے ہی ہیں کہ ایک معالج / طبیب ترقی کر سکتا ہے ،  طب کی پریکٹس کر سکتا ہے ،کسی نہ کسی حد تک اپنی سائنسی دلچسپیوں  کا انتخاب کر سکتا ہے ۔ بہرصورت، مجھے  ایک سکول کا استاد بننے سے زیادہ مواقع میسر ہوتے  نیز انسانوں کے واسطے کچھ کارآمد کرنے کا خیال ، مجھے پرکشش لگا ۔

فری مین: طبیب /معالج/ڈاکٹر بننے کا فیصلہ کرنے  کے بعد ،   کیا آپ کو اسکول میں تربیت لینے اور امتحان پاس کرنے میں کوئی مشکل درپیش ہوئی ؟

یونگ:          مجھے خصوصاً    چند اساتذہ کے ساتھ دشواری پیش آئی۔ انھیں  یقین نہیں تھا کہ میں ایک  مقالہ لکھ سکتا تھا۔ایک واقعہ مجھے یاد ہے،ایک  استاد کی عادت تھی کہ وہ  شاگردوں کےلکھے ہوئے مضامین پر بحث کرتے تھے ۔ انھوں نے  سب سے اچھے مقالے کو پہلے نکالا  ۔ انھوں نے تمام شاگردوں کے مقالے دیکھے مگر میرے مقالے کا کوئی نام و نشاں بھی نہ تھا ۔ اور میں اس بات پہ  نہایت   پریشان تھا اور  میں نےخوب سوچا ۔ یہ تو محال ہے کہ میرا مقالہ اس قدر ناقص ہو ۔ سارے مقالے دیکھنے کے بعد استاد  نے کہا، ’’ایک مضمون پیچھے رہ گیا ہے اور وہ یونگ کا ہے۔ نقل کردہ نہ ہونے پر یہ  مضمون اب تک کا سب سے بہترین مضمون ہوتا ۔ اس نے اسے کہیں سے نقل کیا ہے، چُرایا ہے۔تم ایک چور ہو، یونگ! اور اگر مجھے معلوم ہوتا کہ تم نے یہ کہاں سے چُرایا ہے تو میں تمہیں اسکول سے باہر پھینکوادیتا! ‘‘ ۔ اس پہ میں بپھر گیا اور کہا کہ  میں نے اس مقالے پر بہت زیادہ کام کیا ہے  کیونکہ   یہ میرے لیے ایک بہت ہی دلچسپ موضوع تھا ۔ ان موضوعات کے مقابلے میں جو مجھے بالکل پسند نہ تھے ۔ اور تبھی استاد نے کہا ، ’’ تم جھوٹے ہو ، اور تمہاری چوری کے ثابت ہونے کی صورت میں ، تم سکول سے نکال دیے جاؤ گے ‘‘     [iii]۔

آپ  جانتے ہیں کہ  وہ بات میرے لیے  بے حد سنجیدہ  تھی کیونکہ اس کے علاوہ اور کیا ہو سکتا تھا؟  مجھے اس شخص سے نفرت تھی اور وہ واحد آدمی تھا جسےمیں مار ڈالتا،  اگر  ایک دفعہ کسی تاریک گوشے میں ہماری ملاقات ہوتی! پھر میں اسے دکھاتا کہ میں کیا کر سکتا تھا۔

فری مین:نوعمری کے دنوں میں ، کیا آپ اکثرو بیشترلوگوں کے متعلق ایسے ہی  شدید خیالات  کے حامل تھے؟

یونگ:نہیں، بالکل نہیں۔صرف اس وقت جب مجھے شدید غصہ چڑھ جاتا ۔خیر، پھر میں انھیں پیٹ دیتا۔

فری مین:کیا آپ اکثر و بیشتر غصہ میں رہتے تھے ؟

یونگ: اکثر و بیشتر تو نہیں       ، مگر پھر اچھے کے واسطے!

فری مین:    میرا گمان ہے کہ آپ بہت مضبوط  اور بڑے  تھے؟

یونگ:    جی ہاں،   میں کافی مضبوط تھا۔    آپ جانتے ہی  ہیں  کہ  دیہاتی بچوں کے ہمراہ ایک سخت قسم کی پرورش پائی  تھی۔میں جانتاہوں کہ میں دست درازی کا اہل ہوتا ۔میں اس  بات سے خاصا  خوفزدہ تھا، لہذا اس کے  بجائے ، میں ایسی نازک صورتحال سے بچنے کی کوشش کرتا تھا کیونکہ مجھے خود پر بھروسہ نہیں تھا۔ایک مرتبہ مجھ پر تقریباًسات لڑکوں نے حملہ کیااور میں بپھر گیا۔ میں نے ایک کو اٹھایا اور  اس کی ٹانگوں سے پکڑ کے گول گھمایا۔ اور  میں نے  ان میں سے چارلڑکوں  کو خوب  پیٹااور پھر انہیں اطمینان ہوا۔

فری مین:  اس کے نتائج کیا برآمد ہوئے ؟

یونگ:  اوہ،مجھے اس کا جواب ہاں میں  دینا چاہیے ! اس کے بعد ہمیشہ ہی شبہ رہتا تھا کہ میں ہی    ہر ایک مصیبت کےپس پردہ  ہوں ۔  میں نہیں تھا مگر وہ خوفزدہ ہوگئے اور مجھ پر دوبارہ  کبھی حملہ نہیں ہوا ۔

فری مین: جب آپ معالج  کہلانے کے اہل ہو گئے، تو آپ کو کس چیز نے  نفسیات میں ماہرِ خصوصی بننے پر  آمادہ کیا؟

یونگ:   خیر، یہ ایک دلچسپ نقطہ ہے۔جب میں نے اپنی تعلیم  کاعملی مرحلہ مکمل کیا اور جب مجھے علم نہیں تھا کہ میں فی الحقیقت کیا کرنا چاہتا   تھا ، مجھے  اپنے اساتذہ میں سے ایک  کی رہنمائی میں کام کرنے کا  عظیم موقع میسر ہوا ۔انھیں میونخ     میں ایک ذمہ داری تفویض ہوئی  اور وہ مجھےایک نائب کے طور پراپنے ہمراہ  لے جانا   چاہتے تھے۔اسی  وقت  اپنے  آخری امتحانات کے  واسطے مطالعے کے دوران میں   ، مجھے  سائیکاٹری یعنی  دماغی امراض کے علاج کی ایک نصابی کتاب ملی ۔اس سے قبل ، میں نے اس کے بارے میں  کبھی نہیں سوچا تھا،کیونکہ اُن دنوں  ہمارے اساتذہ  اس مضمون میں  قطعی دلچسپی نہیں رکھتے تھےاور میں نے فقط کتاب کا تعارف ہی پڑھا تھا جس میں  اپنے ماحول کے ساتھ جذباتی عدم استحکام کی حیثیت سے   ذہنی مرض (Psychosis) کے  بارے میں مخصوص چیزوں سے متعلق معلومات موجود تھیں۔ اس سےگوہر مقصود حاصل ہوا۔اس لمحے میں مجھ پر منکشف ہوا  کہ مجھے  لازماً ایک  ماہرِ نفسیات (alienist) بننا چاہیے۔ اس لمحے میرا دل بے تابی سے دھڑک رہا تھااورجب میں نے اپنے استاد کو بتایا  کہ میں ان کے نگرانی میں کام نہیں کروں گا اور سائیکاٹری   (Psychiatry)    کا مطالعہ کروں گا، وہ میری بات نہیں سمجھ پائے ۔نہ ہی میرے دوست  اس بات کو  سمجھ پائے   کیونکہ  اس وقت سائیکاٹری کی ذرا سی بھی حیثیت نہیں تھی    ۔ لیکن مجھے اپنے  ذات میں طب (میڈیسن ) اور نیچرل سائنس کے علاوہ ۔   چند متضاد چیزوں    کو یکجا  کرنے کاایک عظیم موقع نظر آیاجیسا کہ   میں نے ہمیشہ فلسفیانہ تاریخ اور اسی قبیل کے دیگر  مضامین کا مطالعہ کیا تھا۔ایسا محسوس ہوتا تھا  کہ  جیسےدوندیاں باہم  مل رہی ہوں[iv]۔

فری مین:   اوراس فیصلے کے کتنے عرصے بعد آپ کی ملاقات پہلی مرتبہ  فرائیڈ(Freud) سے ہوئی؟

یونگ:   اوہ، یہ میری تعلیم کے آخر میں ہوا، اوراس کے بہت عرصہ بعد ہی   فرائیڈ سے پہلی ملاقات ہوئی۔آپ  ذرا ملاحظہ کیجیے ،میں اپنی تعلیم  1900ء  میں مکمل کر چکا تھااوراس کے طویل عرعصہ بعد ہی فرائیڈ سےمیری ملاقات ہوئی۔1900ء میں ہی ان کی کتاب ’’خواب کی تعبیر‘‘ (Dream      Interpretation)  اور بریور-فرائیڈ (Breuer-Freud)کی مشترکہ تصنیف  ہسٹیریا   (Hysteria)  کا مطالعہ کر چکا تھا ، لیکن وہ محض ادبی (لٹریری)  نوعیت کا  تھا ۔ اور پھر1907 ء کے اندر ، مجھے ان سے ذاتی شناسائی کا موقع ملا ۔

فری مین:  کیا آپ  مجھے بتائیں گےکہ  یہ واقعہ کیسے پیش آیا؟  کیا آپ ان سے ملاقات کی غرض سے  ویانا (Vienna) گئے تھے؟

یونگ: خیر ، تب میں نے ڈیمینشیا پرایکوکس (Dementia      praecox)[v]،  جو اس زمانے میں شیزوفرینیا    (Schizophrenia)  کو کہتے تھے ، کی نفسیات پر ایک کتاب لکھی تھی۔اور میں نے انہیں یہ کتاب بھیجی اور اس طرح  ان سے شناسائی ہوئی ۔میں دو ہفتوں کے لیے  ویانا  گیا اورپھر ہمارے درمیان میں ایک بے حد طویل اوربصیرت افروز گفتگو  ہوئی اور یوں معاملہ طے پایا۔

فری مین:اور اس طویل اور بصیرت افرو ز  گفتگو  کے نتیجے ہی میں  ذاتی دوستی  کی شروعات ہوئی ؟

یونگ:جی ہاں،اس نے بہت جلد ہی ذاتی دوستی کا رنگ اختیار کر لیا ۔

فری مین: اور فرائیڈ کس طرح   کےآدمی تھے؟

  یونگ : خیر، وہ پیچیدہ فطرت کے مالک تھے۔ میں انہیں بے حد پسند کرتا تھا مگر میں نے جلد ہی اس بات کو جان لیا  کہ جب وہ  کسی شے پر غوروفکر کر چکتے تھے ، تو پھر سمجھو کہ وہ  معاملہ طے شدہ  تھا۔  جبکہ میں پورا وقت تذبذب کا شکار رہتا اور ان سے کسی شے پر خوب بحث  کرنا ناممکن تھا۔ آپ جانتے ہیں  کہ ان کے پاس کوئی خصوصی  فلسفیانہ تعلیم نہیں تھی؛ میں کانٹ   (Kant)          کا مطالعہ کررہا تھا اور اس میں گوڈے گوڈے  غرق تھا، اور فرائیڈ اس سے بہت دور تھے۔ اسی طرح آغاز سے ہی ہمارے درمیان  ایک قسم کا اختلاف موجود تھا[vi]۔

فری مین: کیا آپ اس وجہ سے بعد ازاں ایک دوسرے سے جدا ہوئے  کیونکہ دلیل و  تجرباتی انداز  کی مانند ،   مزاج  میں بھی تفاوت   تھی وغیرہ وغیرہ؟

یونگ:یقینا ً ، ہمیشہ ہی  مزاجوں میں تفاوت رہی نیز  اُن کا   طریقہ کار  قدرتی طور پر  میرےسے جدا  تھا  کیونکہ ہماری شخصیتیں  ہی ایک دوسرے سے مختلف تھیں ۔ اسی کارن  بعد ازاں ، میری توجہ  نفسیاتی اقسام    (Psychological      Types ) کے ضمن میں  تحقیق  کی جانب مبذول ہوئی  ۔ معین  رویے (attitudes)  موجود ہیں ۔ بعض لوگ ایک طرح سے کام کرتے ہیں تو دوسرے اس کو دوسرے انداز میں  انجام دیتے ہیں ۔   میرے اور فرائیڈ کے درمیان  میں  بھی ایسے ہی اختلافات تھے۔

فری مین: کیا  آپ سمجھتے ہیں  کہ آپ  کی بہ نسبت ، فرائیڈ کا  معیار برائے تجربہ و تصدیق قدرے زیادہ  فروتر تھا؟

 یونگ: خیر، یہ  ایک پڑتال ہے، میں  جس کو انجام دینے کا اہل نہیں ہوں ؛  میں اپنی آپ بیتی نہیں بیان کر رہا  ۔ چند نتائج کے ضمن میں  سمجھتا ہوں کہ میرے اسلوب کا اپنا  ایک الگ مرتبہ ہے۔

فری مین: مجھے بتایئے، کیا فرائیڈ نے  بذات خود کبھی   آپ کا تجزیہ کیا ؟

یونگ: جی ہاں، میں نے اپنے بہتیرے خواب ان کو سنائے  اور انھوں نے بھی ایسا ہی کیا۔

فری مین: اور انھوں نے آپ کو؟

یونگ: جی ہاں، با لکل۔

فری مین: کیا آج بھی  اتنا وقت گزرنے کے باوجود آپ کو  یاد ہے کہ  فرائیڈ کے خوابوں  کی اہم خوبیاں  کیا تھی  جن  پر آپ نے اس وقت غور کیا؟

یونگ: خیر،  ایسی بات کا پوچھنا ناسمجھی  کے مترادف  ہے۔ آپ جانتے  ہی ہیں کہ  پیشہ وارانہ رازداری نامی کوئی شے بھی ہوتی ہے ۔

فری مین: اُن کی وفات کو کئی برس بیت چکے ہیں ؟

یونگ: جی ہاں، مگر یہ آداب،  زندگی سے بڑھ کر قائم رہتے ہیں۔ ۔۔۔میں اس پر گفتگو نہ کرنے کو ترجیح دوں گا۔

فری مین: خیر،  کیا میں آپ سے  کچھ اور پوچھ سکتا ہوں، وہ بھی شاید نا سمجھی پر مبنی  ہے۔ کیا یہ  بات  سچ ہے کہ آپ کے پاس ان تمام خطوط کا ذخیرہ موجود ہے جو آپ نے اور فرائیڈ نے ایک دوسرے کو لکھے اور ہنوذ طباعت سے دور ہیں  ؟

یونگ: جی ہاں۔

فری مین: وہ کب شائع ہوں گے؟

یونگ: خیر، میری زندگی کے دوران میں تو نہیں ۔

فری مین: اپنی حیات کے بعد  ، ان کے شائع ہونے پر   آپ کو کوئی اعتراض نہیں ہو گا؟

یونگ: اوہ، نہیں۔ ذرا بھی نہیں۔

فری مین: کیونکہ ایسا ممکن ہے کہ  شاید  وہ  بہت زیادہ تاریخی اہمیت کے حامل ہوں ۔

یونگ: مجھے ایسا نہیں لگتا ۔

فری مین: پھر آپ نے ان کو اب تک شائع کیوں نہیں کیا؟

یونگ: کیونکہ وہ میرے لیے اس قدر اہمیت کے حامل نہیں تھے۔ مجھے ان میں کوئی خاص اہمیت نظر نہیں آتی۔

فری مین: کیا وہ ذاتی معاملات سے متعلقہ ہیں؟

یونگ: جی ، جزوی طور پر ۔ لیکن مجھے ان کو شائع کروانے کی فکر نہیں۔[vii]

فری مین: خیر، کیا اب ہم اس وقت کی طرف چلیں جب آپ نے حتمی طور پر  فرائیڈ کی صحبت سے علیحدگی اختیار کی۔خیال ہے کہ  آپ کی کتاب ’’لاشعور کی نفسیات‘‘      (Psychology      of      the      Unconscious)     کے شائع ہونے کے ساتھ ہی یہ سب  ہوا[viii]۔  کیا یہ بات  درست ہے؟

یونگ: وہی اصل  وجہ تھی۔ نہیں، میرا مطلب ہے حتمی   وجہ۔  کیونکہ اس کی تیاری میں طویل وقت صرف ہوا ۔  میں ابتداء ہی سے  ذہنی تحفظات کا شکار تھا۔ میں ان کے بہتیرے  خیالات سے متفق نہیں تھا۔

فری مین:    خاص طور پر کن (خیالات) سے؟

یونگ:   بنیادی طور پر   ان کے خالصتاً  شخصی طریقہ کار  نیز اُن کے ہاں  موجود  انسان کی تاریخی صورت حال  سے  بے اعتنائی سے ۔ آپ جانتے ہیں کہ  ہم  انسان بہت حد تک اپنی تاریخ پرانحصار کرتے ہیں ۔ہماری نشوونما  تعلیم اور والدین کے اثرات کی بدولت ہوتی ہے ، اور جو کسی بھی صورت میں ہماری ذات تک محدود نہیں رہتی ۔ وہ تعصب کا شکار تھے یا وہ تاریخی تصورات، یا پھر جومقتدر[ix] کہلاتے ہیں، کے زیرِ اثر  تھے۔ اور یہ علم نفسیات کا ایک فیصلہ کن عنصر ہے۔ ہم  (انسان ) آج  اور کل تک محدود نہیں ہیں ، بلکہ   ہم ایک بے  کنار عہد سے وابستہ  ہیں  ۔

فری مین: کیا یہ بات  کسی حد تک آپ کا مشاہدہ نہیں تھی  یعنی  آپ  نے  ذہنی انتشار (Psychotic) کے  متنوع کیسز         کا طبی مشاہدہ کیا جس کے نتیجے میں ، آپ کے ہاں فرائیڈ سے اختلاف برپا ہوا ؟

یونگ:جزوی طور پر ، شیزوفرینیا   (Schizophrenic)  کے مریضوں کی بابت  میرے تجربات ہی مجھے  مخصوص عمومی تاریخی حالات کے تصور کی طرف لے گئے۔

فری مین: کیا ماضی میں  کوئی ایسا  کیس  بھی ہے جس پہ دوبارہ سے نگاہ دوڑاتے ہوئے آپ یہ بات محسوس کرتے ہیں کہ شاید وہ آپ کے بدلتے ہوئے  افکار کا نقطۂ آغاز تھا؟

یونگ: جی ہاں، مجھے   اس قسم کے بہتیرے تجربات ہوئے  اور میں واشنگٹن   کے  سائیکاٹریک کلینک میں سیاہ فاموں         کا مشاہدہ کرنے بھی گیا  [x]  تاکہ  اس بات کو دریافت کیا جائے کہ آیا وہ بھی  ہمارے جیسے خواب دیکھتے ہیں ۔ اور  ایسے  تجربات  کی بدولت  ہی  میں  نے یہ مفروضہ قائم کیا  کہ  ہمارے نفس (Psyche)  کے اندر ایک غیرشخصی  پرت موجود ہے اور میں آپ کو اسکی ایک مثال دے سکتا ہوں۔ ہمارے پاس وارڈمیں ایک مریض تھا؛  وہ خاموش طبیعت تھا مگر مکمل طور پر قطع تعلقی کا شکار اور  شیزوفرینیا کا مریض  تھا ۔  وہ  اُس وارڈ میں بیس برس سے تھا۔ وہ در حقیقت اپنی  جوانی کے دنوں میں ہی اس وارڈ سے ایک معمولی پڑھے لکھے  چھوٹے کلرک کی حیثیت سے منسلک ہوگیا تھا۔   میں ایک روز   وارڈ پہنچا   اور وہ یقینی طور سے پُرجوش تھا ۔ اُس نے  مجھے آواز دی ، میرے کوٹ کو  گریبان سے پکڑااورمجھے   کھڑکی کی جانب لے گیا اور کہنے لگا: ’’ڈاکٹر! اسی وقت! اسی وقت آپ  کو دکھائی دے گا  ۔آپ اس کی جانب دیکھیے ۔ سورج کی طرف اوپر دیکھیے  اور سورج کی حرکت کو دیکھیے ۔دیکھیے ، آپ کو بھی (میری طرح)  اپنے سر کو یوں جنبش دینی ہو گی اور پھر آپ کو سورج کا لنگ (phallus)دکھائی دے گا ۔اور  آپ جانتے ہیں کہ یہ ہوا کا منبع ہے۔ اور آپ ذرا دیکھیے کہ آپ کے سر جنبش کے ساتھ ہی سورج حرکت کرتا ہے ، ایک رخ سے دوسرے رخ!‘‘۔ بلاشبہ، میں کچھ نہیں سمجھ پایا ۔ میں نے سوچا ، اوہ! یہ تو وقعی میں پاگل ہے۔ مگر وہ کیس میرے ذہن میں  موجود رہا اور چار سال بعد میں نے  جرمن مؤرخ   ڈیٹریخ      (Dieterich)   کا ایک مضمون پڑھا ، جس نے نام نہاد متھرا  رسومِ عبادت   (Mithra      Liturgy)   کو موضوع بحث بنایا ، جو کہ  عظیم پیرس نامی  جادوئی پیپرس    (Great      Parisian      Magic      Papyrus)   کے اوراق پر  موجود  تحریر کا ایک حصہ تھا۔ اور اس نے  اپنے مضمون میں  نام نہادمتھرا رسومِ عبادت  کا ایک حصہ پیش کیا، مثلاً اس کے مطابق: ’’دوسری نماز کے بعد آپ دیکھیں گے کہ کس طرح سورج کا منڈل آشکار ہوتا ہے، اور اس کے ساتھ ہی آپ  کو ایک لٹکتی ہوئی نالی دکھائی دے گی  جو کہ ہوا کا منبع ہے ، اور جب آپ اپنے چہرے کو  مشرقی علاقوں کی جانب موڑیں گے  تو  یہ بھی اسی جانب حرکت کرے گی ۔ اورجب آپ مغرب کی طرف  منہ کریں گے ، تو یہ بھی آپ کا پیچھا کرے گی‘‘۔ اسی پل میں میرے اندر ایک جھماکا ہوا کہ یہی تھا۔ یہ میرے مریض کا خواب ہے![xi]

فری مین: لیکن آپ اس قدر  پُر یقین  کیسے ہو سکتے تھے  کہ آپ کا مریض لاشعوری طور پر کچھ ایسا یادنہیں کر رہا تھا جواسے کسی نے بتایا تھا؟

یونگ: اوہ نہیں، یہ قطعی  طور پر  نا قابل تصور ہے کیونکہ  وہ چیز نا معلوم تھی۔ پیرس میں  ایک  جادوئی ورق تھا اور وہ شائع بھی نہیں ہوا تھا۔اِس واقعہ کے  فقط چار سال بعد ہی شائع ہوا[xii]، مریض کے ساتھ میرےمشاہدے کے بعد۔

فری مین:  اور آپ نے یہ محسوس کیا کہ یہ اس بات کی تصدیق تھی کہ ایک ایسا لاشعور بھی موجود تھا جو  شخصی لاشعور  سے نسبتاً بڑھ کے  تھا ؟

یونگ: خیر،  وہ میرے واسطے کسی قسم کی تصدیق نہیں تھی  ،  لیکن یہ ایک اشارہ تھا اور میں نے اشارہ پکڑا ۔

فری مین:اب مجھےاس بات سے  آگاہی  دیجیے  کہ آپ نے نفسیاتی انواع(Psychological      Types)پر کام شروع کرنے کا ارادہ سب سے پہلے کب کیا؟ کیا یہ بھی کسی  خاص  کلینیکل   تجربے کا نتیجہ تھا؟

یونگ:    ایسا سے تھوڑا کم ہے۔ اس کی وجہ بالکل ذاتی تھی ، مثلا فرائیڈ اور ایڈلر  کی نفسیات  اور میرے اپنے ذاتی  سبھاؤ کے ساتھ انصاف کرنے کے لیے ۔ اس   نے مجھے یہ بات سمجھنے میں مدد فراہم کی   کہ فرائیڈ نے ایسا نظریہ کیوں دیا،           یا ایڈلر نے کیونکر  طاقت کے اصول کا نظریہ پیش کیا ۔

فری مین: کیا آپ نے اس بات کو اخذ کیا  کہ خود  آپ  کا تعلق کس  نفسیاتی قسم  سےہے؟

یونگ: قدرتی طور پر میں نے اپنی توجہ بہت حد تک  اسی  تکلیف دہ سوال  پہ مرکوز رکھی    ہے۔

فری مین: اور کیاآپ  نتیجے پر پہنچے؟

یونگ:  دیکھیے ،  نفسیاتی قسم  کوئی جامد شے نہیں ہے ۔ یہ زندگی کے دورانیے میں بدلتی رہتی ہے، لیکن میں بلاشبہ طور پر خیال کی قوت سے متصف  تھا۔ بچپن کے ابتدائی حصے کے بعد ہی سے میں نے ہمیشہ سوچ بچار سے کام لیا  اور میری قوتِ  ادراک بھی بے حد مضبوط تھی ۔احساس کے حوالے سے مجھے ہمیشہ ایک یقینی  مشکل   سے دوچار ہونا پڑا  نیز  حقیقت کے ساتھ میرا رشتہ  بھی  خصوصی طور پر اتنا عمدہ نہیں تھا۔ میں اکثرو بیشتر  چیزوں کی حقیقت  سے دور ہی رہتا تھا ۔ اور یہ سب  معلومات آپ کو ایک  تشخیص کے واسطے  تمام ضروری مواد بہم پہنچاتا ہے!

فری مین: 1930ء  میں ،  جب آپ جرمنی کے مریضوں کے ساتھ بہت کام کر رہے تھے،تو اس وقت ، میرا گمان ہے ، کہ   آپ نے  دوسری ممکنہ  جنگِ عظیم کے بارے میں   پیشن گوئی کی تھی ۔ آج کی معاصر  دنیا   پہ نگاہ ڈالنے  پر، کیا    آپ محسوس کرتے ہیں کہ ایک تیسری جنگ عظیم  بھی ممکن ہے؟

یونگ: میں  اس حوالے سے کوئی واضح دلیل نہیں  رکھتا  ہوں ،  لیکن اتنے آثار موجود ہیں کہ انسان جو کچھ دیکھتا ہے اس کے بارے میں جانکاری نہیں رکھتا ۔ کیا یہ درخت ہیں؟ یا کیا یہ لکڑی ہے؟ یہ کہنا دشوار ہے کیونکہ لوگوں کے خواب اندیشوں  پر مشتمل  ہوتے ہیں۔  مگر دیکھیے ،  یہ  بات کہنا بہت مشکل ہے خواہ ان کا اشارہ جنگ کی طرف  ہو ، کیونکہ یہ خیال لوگوں کے ذہنوں میں سب سے اوپر ہے۔ پچھلے زمانوں  میں ایسی بات کہنا  قدرے آسان تھا۔ لوگوں نے جنگ کے بارے میں نہیں سوچا تھا،      لہذا یہ بات  قدرے واضح  تھی  کہ خوابوں سے کیا مراد ہے ۔ موجودہ دور میں ایسا نہیں ہے۔ ہم اندیشوں  اور خوف سے اس قدر بھرے پڑے ہیں کہ کوئی  ان کے مصداق کے بارے نہیں جانتاہے ۔  ایک چیز یقینی ہے۔   ہمارے نفسیاتی رویوں میں ایک بڑی تبدیلی آنے والی ہے۔ یہ یقینی ہے۔

فری مین:    مگر  کیوں؟

یونگ: کیونکہ ہمیں زیادہ سے زیادہ نفسیات کی ضرورت ہے۔ ہمیں انسانی  فطرت کو سمجھنے کی زیادہ  ضرورت ہے، کیونکہ انسان بذات خود ہی سب سے بڑا خطرہ ہے ۔ وہ ایک  بہت بڑا خطرہ ہے، اورافسوس ناک بات ہے کہ ہم اس  خطرے کی بابت  بے خبر ہیں ۔ ہم انسان کے متعلق کچھ نہیں جانتے  یا  بہت کم جانتے ہیں۔ اس کے ذہن کو پڑھنا ضروری ہے کیونکہ ہم ہی آنے والے شر کی ابتداء ہیں۔

فری مین: آپ اس بارے میں کیا سوچتے ہیں  کہ کیا انسان کو  زندہ  رہنے کے لیے گناہ اور شر کے تصورات کی ضرورت  پڑتی ہے؟کیا یہ ہماری فطرت کا حصہ ہے ؟

یونگ: صریحاً ۔

فری مین: اور ایک نجات دہندہ (redeemer)کی؟

یونگ:    یہ ایک نا گزیر  نتیجہ  ہے۔

فری مین:    یہ ایک ایسا تصور نہیں ہے  جو ہم انسانوں کے زیادہ عقلیت پرست ہونے سے غائب ہو جائے گا؛  یہ ایسی چیز ہے جو ۔۔۔۔

یونگ: میں اس بات پر یقین نہیں کرتا  کہ انسان کبھی اپنے وجود کے تخلیقی نمونے سے انحراف کا مرتکب ہو گا۔ ایسے تصورات ہمیشہ رہیں گے۔ مثال کے طور پر، اگر آپ براہ راست  شخصی  نجات دہندہ  میں یقین نہیں رکھتے، جیسا کہ ہٹلر    کے ساتھ تھا، یا روس میں سورما کو مقدس حیثیت حاصل تھی ، تو پھر یہ ایک تصور ہے،یہ  ایک علامتی تصورہے ۔

فری مین: آپ نے  ایک دو مقامات پر موت کے بارے میں  چند جملے لکھے ہیں  جنہوں نے مجھے حیرت میں ڈال دیا  ہے۔ اس وقت  مجھے خاص طور پر  یہ بات یاد آتی ہےکہ  آپ  کے بقول ، موت نفسیاتی طور پر اتنی ہی اہم ہے جتنی کہ  پیدائش اور اسی طرح یہ زندگی کا ایک ناگزیر  حصہ ہے۔ لیکن  اگر موت ایک انجام ہے تو پھر یقینا ًیہ پیدائش کی طرح نہیں ہو سکتی ۔  کیا ایسا ہی ہے ؟

یونگ:  جی ہاں، اگر یہ ایک انجام  ہے اور یہاں ہم اس انجام  کے بارے میں قطعی پر اعتماد نہیں ہیں  کیونکہ آپ جانتےہی   ہیں کہ  نفس(Psyche) کی کچھ ایسی مخصوص قوتیں ہیں کہ یہ مکمل طور پر زمان و مکاں تک محدود نہیں ہے ۔ آپ مستقبل کے خواب دیکھ سکتے ہیں   یا پیش بینی کر  سکتے ہیں، آنے والی چیزوں کا ادراک کر سکتے ہیں وغیرہ۔ دیکھیے ،ان حقائق کا انکار  فقط  لا علمی ہی  کی بدولت ہوتا ہے؛ یہ قطعی ثابت شدہ بات  ہے کہ ان کا وجود ہے اور ہمیشہ سے موجود ہیں۔ ایسے  حقائق  کی موجودگی اس بات  کی گواہ ہے   کہ نفس یا کم از کم  اس کے  کچھ گوشے اپنی موجودہ حدوں پہ اکتفا نہیں کرتے ۔ تو   پھر کیا؟ جب نفس صرف زمان و مکاں میں رہنے کے لیے ان اصولوں کا ماتحت نہیں ہے، اوریہ بات واضح  ہے،تو  پھر اس حد تک نفس ان قوانین کا محکوم نہیں ہے، اور اس سے  زندگی کا ایک  عملی تسلسل  مراد ہے جو کہ زمان و مکاں سے پرے ایک طرح کا نفسی وجود ہے۔

فری مین: کیا آپ از خود اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ موت ایک ممکنہ انجام  ہے، یا آپ اس پر یقین رکھتے ہیں کہ۔۔۔۔

یونگ:  میں یہ بات نہیں کر سکتا ۔ دیکھیے ، لفظ’ یقین/اعتقاد ‘ میرے لیے ایک مشکل شے ہے۔ میں اعتقاد نہیں رکھتا ۔ میرے پاس ایک خاص مفروضے کے واسطے  ایک سبب کا ہونا لازمی ہے۔ میں کسی شے کو جانتا ہوں اور تبھی میں جانکاری رکھتا ہوں  یعنی مجھے  اس پر یقین کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی ۔ مثال کے طور پر ، میں خود کو اس بات کی  اجازت نہیں دیتا کہ   کسی شے  پہ  اعتقاد کی غرض سے اس پر یقین کرلوں  ۔ میں اس پر یقین نہیں کر سکتا۔ مگر جب ایک مفروضے کے لیے موزوں اسباب موجود ہوں، تو پھر میں قبول کرلوں   گا۔۔۔ قدرتی طور پر، مجھے کہنا چاہیے: ’’ہمیں فلاں اور فلاں امکان کے مطابق  تعین کرنا تھا‘‘۔

فری مین: خیر، آپ نے ہمیں اس بات سے  آگاہ  کردیا ہے  کہ ہمیں موت کو بھی ایک  منزل سمجھنا چاہیے –

یونگ: جی ہاں۔

فری مین: -اور اس سے دور بھاگنا گویا زندگی سے کنارہ کرنا اور اسے بے مقصد بنانا ہے۔

یونگ: جی ہاں۔

فری مین: آپ لوگوں کو کیا نصیحت کریں گے تاکہ   اپنے  بڑھاپے  میں وہ  اس بات پر یقین کرنے کے قابل ہو جائیں  ، جبکہ ان میں سے بیشتر ، درحقیقت، اس یقین کے حامل  ہیں  کہ موت ہر شے کا انت ہے؟

یونگ:  میں نے بہت سے بوڑھے لوگوں کا علاج کیا ہے، اور اس  شے پہ نگاہ ڈالنا   نہایت دلچسپ امر ہے کہ لاشعور  اس حقیقت کے ساتھ  کیا کر رہا ہے کہ وہ  مکمل خاتمے   سے خوفزدہ رہتا  ہے۔ لاشعور  اس حقیقت کو نظر انداز کرتا ہے۔ زندگی یوں پیش آتی ہے جیسے یہ چلتی جا رہی ہو، اور میرا خیال ہے کہ ایک بوڑھے انسان کے لیے فقط جینا ہی بہتر ہے، اگلے روز کا منتظر رہنا، جیسے اسے صدیاں گزارنی ہوں اور پھر ہی  وہ مکمل طور پر جیتا ہے۔ مگر جب وہ خوفزدہ ہوتا ہے، اور مستقبل کو نگاہ میں نہیں رکھتا ،  تو وہ ماضی میں دیکھتا ہے اور   خوف  کے ہاتھوں مفلوج اور جامدہو جاتا ہے، اور پھر اپنے مقررہ وقت سے پہلے ہی مر جاتا ہے۔ لیکن جب وہ اپنی زندگی کے دوران میں مستقبل میں درپیش  غیر معمولی تجربات کا منتظر رہتا ہے، پھر ہی وہ زندہ رہتا ہے۔ اور یہی  وہ شے ہےجو لاشعور کو مطلوب  ہے۔ بلاشبہ ، یہ بات یقینی ہے کہ ہم سب نے مرنا ہے  اور موت ہی  ہر شے کا ایک دردناک انجام ہے؛  لیکن اسکے باوجود ہمارے اندر  کوئی شے ایسی ہے جو اس بات کو  ظاہری طور پر قبول نہیں کرتا۔ لیکن یہ محض ایک حقیقت  ہے، ایک نفسیاتی حقیقت-مجھے اس بات میں ذرا دلچسپی نہیں کہ  اس حقیقت سے کچھ ثابت ہوتا ہے ۔ یہ سادہ سی بات ہے۔ مثال کے طور پر، میں شاید اس بات سے ناواقف ہوں کہ  ہمیں نمک کی ضرورت کیوں پڑتی  ہے ، لیکن ہم اس کو کھانے میں ترجیح دیتے ہیں کیونکہ ہمیں بہتر محسوس ہوتا ہے۔ اور اسی طرح ایک خاص   انداز میں سوچنے پر شاید آپ قدرے بہتر محسوس کریں ۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ  اگر آپ قدرتی  تقاضوں کے مطابق سوچ بچار کرتے ہیں ،  تبھی  آپ مناسب انداز میں  سوچتے ہیں ۔

فری مین:  اور اسی بات  کے بل بوتے پر، میں آپ سے آخری سوال دریافت کرنا چاہتا ہوں ۔جوں جوں  دنیا تکنیکی   اعتبار سے کارآمد اور مؤثر ہو   رہی   ہے،  دن بہ دن ایسا دکھائی دیتا ہے کہ  لوگوں کے لیے اجتماعی رویے اور  اکٹھا رہنا بے حد ضروری ہے۔ کیا آپ اس بات کو ممکن سمجھتے ہیں  کہ انسان کےاعلیٰ مدارج تک پہنچنے کا تعلق  شاید اس بات سے جڑا ہے کہ وہ اپنی انفرادیت کو ایک طرح کے اجتماعی لاشعور میں ضم کردے ؟

یونگ:     ایسا ہونا محال ہے ۔میں سمجھتا ہوں کہ  اس کا ردعمل بھی ہو گا۔اس اجتماعی تحلیل کے خلاف ایک ردعمل ابھرے گا ۔ انسان اپنی تنسیخ   کبھی بھی برداشت نہیں کرتا۔ایک  دفعہ تو ردعمل ہو گا اور میں اسے شروع ہوتا دیکھ رہا ہوں۔دیکھیے ،  جب میں اپنے مریضوں کے بارے میں سوچتا ہوں، وہ سب اپنے وجود کو تلاش کرتے ہیں اور عدمیت یا پھر بے معنویت کے اندر مکمل طور پر ٹوٹ کر بکھرنے کے خلاف اپنے ہونے کا یقین کرنا چاہتے ہیں ۔ انسان  ایک لایعنی  زندگی نہیں گزار سکتا ۔


[i] یونگ کا        خط بنام برنیٹ، 30جون، 1960خطوط (Letters) ، اشاعت ایڈلر(Adler)، جلد نمبر 2 ۔ملاحظہ کریں۔

[ii] سی ایف۔یونگ، Memories,      Dreams,      Reflections،صفحہ نمبر 32f.-44f.۔

[iii] Ibid، صفحہ نمبر72ff./64ff.۔ “The      Gifted      Child”, CW 17،پیراگراف 232 بھی۔

[iv] Memories,      Dreams,      Reflections، صفحہ نمبرf/111 108.

[v] “The      Psychology      of      Dementia      Praecox”, CW 3.

[vi] فرائیڈ کےساتھ اس ملاقات کے لئیے، Memories,      Dreams,      Reflections، باب نمبر5، اور The      Freud/Jung      Letters، صفحہ نمبر24، ملاحظہ کریں۔

[vii] فرائیڈ اور یونگ خاندانوں کےمعاہدے کے تحت، خطوط 1974میں چھپوا دئیے گئے تھے۔ اشاعت کی طرف لے جانے والےواقعات کی جانچ کے لئیے The      Freud/Jung      Letters، خصوصاً تعارف، صفحہ نمبر xix-xxxiv، ملاحظہ کریں۔

[viii] Wandlungen      und      Symbole      der      Libido (1912).      Revised      1952      as Symbole      der      Wandlung=Symbols      of      Transformation, CW 5.

[ix] آرکی ٹائپ (Archetype) کے لئیے دوسرا لفظ۔

[x] St.      Elizabeth      Hospital,      Washington,      D.C.، ستمبر 1912۔ The      Freud/Jung      Letters، صفحہ نمبرJ323،.n.2

[xi] CW 5, pars. 15off. Cf. also CW 8, pars. 228 and 318, and CW 9 I, par. 105.

[xii]    Albrecht      Dieterich کی Eine      Mithrasliturgie دراصل اولاًسن 1903میں شائع ہوئی تھی، دماغی ہیجان (Delusion) کے مشاہدے سے پہلے۔The      Concept      of      the      Collective      Unconscious””،CW 9 I, par. 105, n.5.، ملاحظہ کریں۔

Recommended Posts

Leave a Comment

Jaeza

We're not around right now. But you can send us an email and we'll get back to you, asap.

Start typing and press Enter to search