ماہرینِ طبیعیات کو کیونکر تاریخ کامطالعہ کرنا چاہیے؟ میتھیو سٹینلے (ترجمہ: عاصم رضا)

نوٹ: زیرِنظر ترجمہ، تاریخ ِ سائنس کے امریکی پروفیسر میتھیو سٹینلے، نیویارک یونیورسٹی کے ایک مضمون بعنوان ’’Why      should      physicists      study      history ‘‘ پر مشتمل ہے۔ میتھیو سٹینلے کا مذکورہ مضمون، معروف مجلے ’’معاصر طبیعیات‘‘ (Physics      Today) کے شمارہ نمبر 7، جلد نمبر 69، 2016 میں شائع ہوا ۔

جس طرح طبیعیات  دنیا سے متعلق  فہرستِ حقائق تک محدود نہیں ہے ،      تاریخ بھی اسماء اور   تعیناتِ زمان   کا نام نہیں ہے ۔ یہ ایک  قوی اور بصیرت افروز فکر کی حامل بھی ہو سکتی ہے ۔

طبیعیات کی تعلیم کے دوران ، طبیعیات سے متعلقہ چند  چیزوں  پر بہتر انداز سے عبور حاصل نہیں کیا جا سکتا ہے ۔ وہ بے ترتیب  اور غیرہموار دھارے  ہیں جو ہر شے  کو دشوار بنا دیتے ہیں : لوگوں کے ساتھ معاملات خواہ انفرادی ہوں یا اجتماعی ؛ غلط فہمیاں ہوں  ؛دشمنیاں اور یہاں تک کہ  ایک دوسرے سے مطابقت نہ رکھ سکنے والی  دوستیاں ہوں  ۔ ماہرین ِ طبیعیات   اکثر اوقات ایسے مسائل کو خود سائنس کے لیے کارآمد نہیں سمجھتے ۔  تاہم سماجی تعاملات   درحقیقت   سائنس دانوں کے نتائج پر اثر انداز ہوتے ہیں ۔ بیشر ماہرین طبیعیات     کٹھن راہ  سے گزر کر  ایک  سبق کو سیکھتے ہیں کہ وہ ایک ممکنہ مثالی تنہائی کی بجائے   ایک حقیقی سانجھی دنیا میں رہنے کے لیے  خود کو  کیسے لیس کر سکتے تھے ۔

تاریخ مدد کر سکتی ہے ۔ ایک مکمل علمی شعبہ یعنی تاریخ ِ سائنس  غیرہموار دھاروں کا مطالعہ کرتا ہے ۔ ہم مؤرخین ِ سائنس اپنے آپ کو یوں دیکھتے ہیں جیسے کہانیوں میں پائی جانے والی قوت کی صورت گری کررہے ہیں ۔ کیسے کوئی معاشرہ اپنی سوچ میں آنے والی تبدیلی، کے مطابق اپنی تاریخ میں ہونے والی تبدیلیوں کے بارے بات کر سکتا ہے ۔  سائنس کا ایک تاریخی تناظر  ماہرین ِ  طبیعیات  کو یہ بات سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے کہ ان کی ہنرمندی کے دوران کیا کچھ ہو رہا ہے ، اور  یہ بے شمار آلات فراہم کر سکتا ہے جو خود ماہرین ِ طبیعیات کے لئے مفید ہیں ۔

طبیعیات ایک سماجی سرگرمی ہے

تحقیق افراد کے ہاتھوں انجام پاتی ہے ۔ اور افراد پسند و ناپسند ، اناؤں اور تعصبات کے حامل ہوتے ہیں ۔  ماہرین ِ طبیعیات بھی دوسرے لوگوں کی مانند  اپنے پسندیدہ تصورات  کے ساتھ جڑ جاتے ہیں اور غالباً ایک طویل عرصہ تک ان کے ساتھ چمٹے  رہتے ہیں ۔ برقی مقناطیسی ایتھر ایک کلاسیکی مثال ہے  یعنی ایک  بے  پایاں   کارآمد  تصور جو انیسیویں صدی  کی طبیعیات پر  زیادہ عرصہ تک غالب رہا ۔ اگرچہ یہ بات کھل گئی کہ  نظریۂ ایتھر مسائل کو حل کرنے سے زیادہ دشواریاں پیدا کر رہا ہے ، ماہرین ِ طبیعیات 1905ء میں آئن سٹائن کے خصوصی   نظریۂ اضافیت  کے ہاتھوں  اس  کے فالتو (superfluous) قرار دیے جانے کے بعد بھی کئی برسوں تک   وضاحت کی غرض سے اسی تصور کو ایک  مرکزی آلہ کی حیثیت سے  استعمال کرتے رہے ۔ تاریخ ِ طبیعیات   خوبصورت نظریات سے بھری پڑی ہےجو بہت زیادہ وفاداری کے متقاضی ہیں  ۔

لوگ بہت سی جگہوں سے آتے ہیں ، اورماہرین ِ طبیعیات  اپنے گھروں کو دوسروں کی مانند محفوظ رکھنا چاہتے ہیں ۔  اس بات کو فراموش کرنا آسان ہے کہ سو سال قبل پہلی جنگ ِعظیم  کے دوران برطانوی سائنس دانوں نے میدان ِ جنگ کے دوسری جانب  اپنے جرمن ساتھیوں سے بات چیت کرنے سے انکار کر دیا ۔ حتی کہ جنگ کے اختتام  پر جرمن اور ان کے جنگی اتحادیوں کو عالمی سائنسی تنظیموں میں شمولیت  اختیار کرنے سے سرکاری طور پر منع کر دیا گیا ۔ دوسری جنگِ عظیم کے دوران ، ایڈولف ہٹلر کے ہاتھوں میں جوہری بم کے آسیب نے اتحادی  ماہرین ِ طبیعیات کو جوہری ہتھیاروں کے پنڈورا باکس کو کھولنے پر  مجبور کر دیا ۔ بعد ازاں  اس  میں شامل ہونے والے بیشتر سائنس دانوں نے  شدید غم کا اظہار  کیا ۔ تاہم جنگ اور قومیت پرستی  ، طاقت ور محرک  بنتے ہیں ۔

یہ کوئی استثنائی واقعات نہیں ہیں ۔ ماہرین ِ طبیعیات   سیاسی رائے ، فلسفیانہ ترجیحات اور شخصی جذبات سے لاپرواہ  افراد نہیں ہیں ۔ تاریخ ِ سائنس روز مرہ کی زندگی سے کٹ کر زندگی بسر کرنے والے خالص عقلی عبقری  کے اسطورے کو درہم برہم کرنے میں مدد دے سکتی ہے ۔

اور انسانیت کے نسبتاً زیادہ قریب طبیعیات ایک عمدہ شے ہے ۔ مبتدیوں خاص طور پر طلباء  کے لیے ، یہ طبیعیات کو زیادہ قابل ِ دسترس بناتی ہے۔ بہت سے ہونہار طلباء سائنس کی تعلیم کو ادھورا چھوڑ دیتے ہیں کیونکہ ان کو تعلیمی مواد مجرد (disembodied)اور اپنی زندگیوں سے کٹا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ سائنسی تعلیم کے محققین نے تلاش کیا ہے کہ ان    تمام گم شدہ طلباء کو ’’اِس   شے کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی  لت تھی کہ وہ جن طریقہ ہائے کار کا اکتساب کر رہے ہیں وہ کیسے وجود میں آئے تھے ، ماہرین طبیعیات و کمیا کیونکر فطرت کو اپنے تصورات کے عین مطابق سمجھتے تھے   اور  ان کے سیکھے ہوئے اور عظیم تر کائنات کے مابین کیا تعلقات تھے ‘‘۔ اس بات کا امکان ہے کہ طلباء اس حیرت اور تجسس سے ہاتھ دھو بیٹھیں جس نے پہلی مرتبہ میں ان کو سائنس کی جانب کھینچا ۔ تاریخی بیانیے  فطری طریقے پر علمی ، فلسفیانہ ، سیاسی ، اخلاقی یا سماجی سوالات کو اٹھاتے ہیں  اور یہ امر طلباء کی اپنی  زندگیوں کے لیے طبیعیات کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے ۔ وہ شعبہ دوسرے شعبوں سے  قدرے زیادہ پرکشش ہے جس میں افراد  حسابی مشینوں کی بجائے انسان کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں ۔

طبیعیات کی انسانی جہت کی تفہیم طلباء    (کے اذہان )کو  ماہرین ِ طبیعیات کے حقیقی کام کے بارے میں زیادہ  ہموار  کرے گی ۔  ماہرین ِ طبیعیات گروہ کی صورت میں کام کرتے ہیں ۔ انہیں  بات چیت کرنے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ طبیعیات ایک سماجی سرگرمی ہے ۔ تصورات اور تجرباتی سازوسامان  مستقل  بدلتا رہتا ہے ۔ عمومی نظریۂ اضافیت کے ابتدائی ایام میں ،  آئن سٹائن اور اس کے قریبی لوگوں سے براہ راست رابطے کے بغیر نظریے میں مہارت حاصل کرنا نہایت ہی دشوار تھا  ۔  اور چونکہ  جنگِ عظیم سر پہ تھی ، چند ہی ماہرین ِ طبیعیات کو براہ راست رسائی حاصل ہو سکتی تھی ۔ عمومی نظریۂ اضافیت اسی وقت زیادہ مقبولیت حاصل کر پایا جب  ویلم دی سیٹر (Willem      de      Sitter) نے غیر جانبدار نیدرلینڈ میں  آئن سٹائن سے براہ راست رابطہ کے بعد  اضافیت سے متعلق اپنی مہارت کو برطانیہ میں آرتھر ایڈنگٹن   کو منتقل کیا ۔ خوش قسمتی سے ایڈنگٹن  ایک امن پسند انجمن سے تعلق رکھتا تھا  (Quaker      pacifist) اور ایک جرمن نظریے پر نگاہ ڈالنے کے متمنی  چند برطانوی سائنس دانوں میں سے ایک تھا۔   طبیعیات  میں تحقیقات اسی وقت ہوتی ہیں جب لوگ ایک دوسرے سے بات چیت کرتے ہیں ، اور تبادلہ خیال ہمیشہ آسان نہیں ہوتا ۔

طبیعیات سادہ نہیں ہے

پیچھے مڑ کر دیکھنے پر ہر شے  واضح دکھائی دیتی ہے ۔ تدریسی کتب تجرباتی نتائج کو  بدیہی اور  نظریات کواپنے ثبوت کے واسطے درکار ریاضی کے  چند صفحات  کا محتاج دکھاتی  ہیں ۔ تاہم شفاف تفصیلات  سائنسی نتائج تک پہنچنے کے عمل کے دوران بروئے کار آنے والے  تذبذب اور بے پناہ تحقیق  کا پردہ فاش کرتی ہیں۔ تاریخ طبیعیات ہمیں یاد دہانی کرواتی ہے کہ شمس مرکزیت سے لیکر جوہری نظریے تک جیسے تصورات جو اب ہمیں سادہ دکھائی دیتے ہیں ، ان کو جواز دینا کتنا دشوار تھا ۔

سادگی کی بجائے پیچیدگی نے عمل ِ سائنس پر حکمرانی کی ہے ۔ ہر دریافت لوگوں ، تصورات ، حادثات اور دلائل کے بے ترتیب اکٹھ سے برآمد ہوئی ہے ۔ عام طور سے ایک مشاہدے یا نظریے کے مطلب کو سمجھنے  کی خاطر بہت جدوجہد کرنا پڑتی ہے ۔ مثال کے طور پر، تیل کے قطروں سے متعلق میلیکان کا تجربہ (Millikan      oil     drop      experiment)   ایک غیرمبہم  تجرباتی ڈیزائن اور بروقت مؤثر نظری تعبیر کے ایک ماڈل کی حیثیت سے   تدریسی کتب میں نظر آتا ہے ۔ تاہم   رابرٹ میلیکان  کی لیبارٹری  نوٹ بک پر ایک سرسری نگاہ اجاگر کرتی ہے کہ اس کے لیے اپنے تجرباتی کام کو سرانجام دینا کس قدر دشوار تھا۔

فطرت  شاذ ہی سیدھا جواب دیتی ہے۔ چنانچہ  سائنسی محققین کو بعض اوقات اندھے راستوں پر چلنا پڑتا ہے اور عام طور سے سعی و خطا  اور تخمینے لگانے کی ضرورت پڑتی ہے ۔ جوں ہی  ایک مضبوط نتیجہ  حاصل ہوا ، سائنس دان اس تک پہنچنے  کے لیے ہونے والی تمام تر جان توڑ محنت کو بھول جانے کا میلان رکھتا ہے ؛ سادگی بظاہر پیچیدگی سے زیادہ مؤثر دکھائی دیتی ہے ۔ تاہم پیچیدگی ہی درحقیقت تسلی بخش  ہے ۔ طلباء اور نوجوان محققین   کی حوصلہ افزائی اکثر وبیشتر اس  بات کو  سیکھنے کی بدولت ہوتی ہے کہ طبیعیات  سخت محنت طلب ہے اور ان کی کاوشوں  کے لیے موزوں ہے کہ وہ ایک تدریسی کتاب    میں دیے جانے والے اظہار کی مثل نہیں ہیں ۔  عظیم الشان سائنسی ترقیاں  اس بات کی تحسین کے ساتھ مل کر نسبتاً زیادہ نمایاں ہو جاتی ہیں کہ وہ  وجدانی لمحوں کی بجائے جدوجہد اور ناکامیوں  کا صلہ  ہیں  ۔  طبیعیات کے نتائج بدیہی  نہیں ہیں ۔

ہر دفعہ ماہرین ِ طبیعیات اختلاف کرتے ہیں کہ ایک مجموعۂ مواد کو کیسے تعبیر کیا جائے ، وہ ایک تازہ ثبوت فراہم کرتے ہیں کہ طبیعیات سادہ نہیں ہے ۔ کچھ مواد صرف ایک خاص زاویہ نگاہ  سے ہی اہمیت کا حامل  ہوتا ہے ۔ ارنوپینزیس (Arno      Penizias) اور رابرٹ ولسن نے  اپنے اینٹینا میں ادنی فریکوئنسی  کا شور (low-frequency-noise) دیکھا ، نہ کہ آفاقی مائیکرویو تناظر ۔  یہ  اسی وقت اہمیت کا حامل دکھائی دیا جب انہوں نے اس شور کو انفجارِ عظیم (Big      Bang) کی تکوینیات کی روشنی میں دیکھا ۔

تاریخ ِ طبیعیات تجویز کرتی ہے کہ عام طور پر ایک مسئلے کو حل کرنے کے بے شمار طریقے ہوتے ہیں ۔ نظریۂ قدر پر مبنی برقی  حرکیات (Quantum      Electrodynamics)  اپنے پیشروؤں  میں سے  اس وجہ سے برآمد نہیں  ہوئی کہ یہ ان سے صریحاً برتر تھی بلکہ اس کا سبب یہ ہوا کہ فری مین ڈائسن(Freeman      Dyson) نے رچرڈ فائن مین (Richard      Feynman)، جولیان سکیونجر (Julian      Schwinger)، اور سین اٹیرو ٹوموناگا (Sin-itiro      Tomonaga) کے طریقہ ہائے کار کو  ازسرنو طبعی حالت میں بیان  کرتے ہوئے (renormalization)   یکساں  برابری کا حامل دکھایا۔  ان میں سے کوئی بھی طریقہ کار غلط نہ تھا ، ان  سب کو ازسر نو وضع کرنے کی ضرورت تھی ۔ حتی کہ اس وقت ناگزیر سمجھی جانے والی فائن مین کی ڈایاگرامز بھی زیادہ کارآمد نہ تھیں جب وہ پہلی دفعہ منظرِ عام پر آئیں ۔  وہ پریشان کن تھیں ، اور ان کا استعمال واضح نہ تھا۔  دوبارہ سے ڈائسن  ہی ایک نئے تصور کی مقبولیت کا وسیلہ بنا: اس کو ہر ایک کو سکھانا پڑا کہ  فائن مین  کی تصاویر کس شے کے لیے کارآمد ہیں نیز ان کی اہمیت کو تقدس  دینا پڑا ۔ اب جو چیزیں لازمی اور واضح دکھائی دیتی ہیں ، ان کا آغاز کبھی ایسے نہیں ہوا ۔

طبیعیات کو  بے شمار انواع کے افراد کی ضرورت ہوتی ہے

پیچیدگی کو عمدہ طبیعیات میں  تبدیل کرنے کے لیے تخلیقی صلاحیت کی حاجت ہوتی ہے ۔  آپ کبھی نہیں بتا سکتے کہ کون سا انوکھا  تصور ایک پریشان کن مشاہدے کو واضح کرنے میں مدد دے گا ، یا  ایک مساوات کو حل کرنے کی کنجی فراہم کرے گا ۔ تاریخ،  تصورات کی ایک عجیب اتھل پتھل کو منکشف کرتی ہے جو  طبیعیات کی بڑھوتری کے لیے ناگزیر تھی ۔   حرحرکیات (تھرموڈائنامکس )  کے دوسرے قانون کی مثال لے لیجئے ۔  اس کی زیادہ تر  تشکیل و تعبیر  کا ذمہ دار لارڈ کیلون (Lord      Kelvin)  تھا  ۔  تاہم کیلون حرحرکیات  تک اس طرح نہیں پہنچا کہ وہ خالی سلیٹ تھی ۔ وہ   بربادی اور انجیئنرنگ مہارت کے دلدادہ وکٹورین کی حیثیت سے اس  قانون تک پہنچا  ۔(بعینہ ) وہ اس تک    یخ بستہ اختتام ِ کائنات کا مطالعہ کرنے والے مذہبی شخص کی حیثیت سے پہنچا کیونکہ زبور کی آیت نمبر 102ء کے مطابق   یہی شے بامعنی لگتی تھی ، جس کے مطابق آسمان و زمین کی   ہر ایک  شے  لباس کی مانند فرسودہ ہو جائے گی  ۔ اس کے ذاتی پس منظر نے اس کو ایسے آلات سے لیس کیا جنھیں وہ اس وقت دوسرے قانون کہلانے والے  حیرت انگیز مظہر  کے ساتھ  الجھنے کے ضمن میں استعمال کرنے کا خواہاں تھا ۔آپ  کیلون کے مخصوص زاویۂ نگاہ کی اہمیت کو ملاحظہ کر سکتے ہیں جب آپ اس کی تحقیق کا   ، یوں کہہ لیجئے،  حرحرکیات پر کام کرنے والے   ایک جرمن ماہر طبیعیات  کی تحقیق کے ساتھ  موازنہ کرتے ہیں ۔  انہوں نے نہایت مختلف تصورات کو پیش کیا اور متفرق تصورات کو متعارف کروایا ۔  کئی طریقہ ہائے کار کے باہمی تعامل   نے ہمار ے جدید زاویہ نگاہ کو جنم دیا  ، جس کا خیال بھی  کیلون کے انوکھے تصورات  کے بغیر نہیں کیا جا سکتا ۔

انوکھے  لیکن  نہایت مفید تناظرات اکثر اوقات  ایسے   شعبوں اور مضامین  سے آتے ہیں جن کا بظاہر زیرِ نظر مسئلے سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ہے ۔  جیمز کلارک میکس ول (James      Clerk      Maxwell) نے مؤرخین سے شماریاتی تنوع  کے بارے میں اکتساب کیا ۔ جوہری ماہر طبیعیات  لوئس  الوریز ((Luis      Alvarez  نےآئسوٹوپ  میں اپنی مہارت کو  اپنے بیٹے والٹر  کی ارضیاتی تحقیق   میں  استعمال کیا اور ڈائنوسار کی معدومیت  کے راز کو حل کرنے  میں مدد کی ۔ تاریخ ِ سائنس دکھاتی ہے کہ مختلف شعبوں کے سائنس دانوں کے مابین مکالمہ کتنی اہمیت  کا حامل ہے ۔ متفرق  گروہوں کے مابین  تبادلہ خیال  صحت مند سرگرمی ہے ۔  بظاہر ایک دوسرے سے جدا نظر آنے والے مسائل اکثر ایک دوسرے سے قربت رکھتے ہیں  ، اور آپ کبھی نہیں جانتے کہ  کب آپ کو اپنی دشواریوں کو حل کرنے کی خاطر انوکھے تصورات مل جائیں گے۔

متفرق تصورات  کی حوصلہ افزائی کرنے کے لیے بہترین حکمت عملی یہ ہے کہ ایک متفرق  معاشرے کا بیج بویا جائے ۔  مختلف اندازِ فکر کے حامل غیرمعروف گروہ  اکثر اوقات تازہ  معارف اور انوکھے طریقہ ہائے کار  کو  متعارف کروانے کا ماخذ بنتے ہیں ۔ بے شمار حیرت انگیز مثالیں وجود رکھتی ہیں ، اور انہوں نے محیط پر کام کرنے والے گروہوں کو مرکزی دھارے  کے اندر   نمایاں مقام حاصل کرنے کی راہ دکھلائی ہے ۔  مثلاً، ماریٹا  بلاؤ (Marietta      Blau) نے جوہری آمیزش (nuclear      emulsion) کی تکنیک کو کیسے پروان چڑھایا    جو اس وقت ذراتی طبیعیات   (Particle Physics) کہلانے والے شعبے  کی پیدائش کے لیے نہایت بنیادی حیثیت کی حامل  ہے ، مرکزی دھارے سے باہر کام کرنے والے ایک فرد کا خاصہ تھی ۔  حالتِ جنگ کے آسٹریا سے تعلق رکھنے والی بلاؤ (Blau)کو ایک یہودی خاتون ہونے کی بنیاد پر دہرے اخراج کا سامنا تھا ۔ لیبارٹریوں میں خواتین کا داخلہ اکثر و بیشتر ممنوع تھا ، بعض اوقات اس بنیاد پر کہ ان کے بال بہت جلدی آگ پکڑ لیتے ہیں ۔ نازیوں سے پہلے بھی یہودیوں کو شاذ ہی اعلیٰ مراتب تک  پہنچنے کی اجازت ہوتی تھی ۔ ایسی پابندیوں کا مطلب تھا کہ اگر بلاؤ (Blau)  ذرات کا مطالعہ کرنے کی خواہاں تھی تو اس کو نہایت ارزاں اور سفری شناسدہ آلات (detectors) کی ضرورت تھی جنھیں عام طور پر دستیاب مواد کی مدد سےبنایا جا سکتا تھا ۔  اپنی جداگانہ تکنیک کے ساتھ اس نے ایک مشاہداتی آلہ تخلیق کر لیا جو اس زمانے کی طبیعیات کے مرکزی دھارے میں کام کرنے والے بیشتر ماہرین ِ طبیعیات کے لیے ایک مکمل حیرت انگیز شے تھی  ۔ 

 قدرے غیر معروف گروہ عام طور سےسماجی جمود یا  طویل عرصہ پہلے ہونے والے  سوچے سمجھے فیصلوں کی بدولت  مرکزی دھارے سے دور ہوتے ہیں ۔ اسی سبب طبیعیات میں تنوع پیدا کرنے کی خاطر کام کرنے والے بہت سے لوگ اپنے آپ کو ایک سماجی غلطی کو سدھارنے کی خاطر مدد فراہم کرنے والوں میں شمار کرتے ہیں ۔ فائن مین کو کولمبیا یونیورسٹی میں داخلہ دینے سے انکار کر دیا گیا  کیونکہ  وہاں  کسی نے یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ پہلے ہی یہودی طلباء بہت زیادہ ہو گئے ،  ایک ایسا فیصلہ جو اس وقت بظاہر مہمل و  ناانصافی پر مبنی دکھائی دیتا ہے ۔ یقیناً اس کی مادرِ علمی  میساچوسٹس  انفارمیشن ٹیکنالوجی     یونیورسٹی (MIT) نے      روایتی معیارات  پر  کم کم اترنے والے طلباء کو داخلہ دینے سے متعلق اپنے فیصلوں کی بابت فائدہ اٹھایا ۔

2015ء میں  امریکی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جان رابرٹس  اس تصور سے تشویش کا شکار ہو گئے کہ تنوع  ، طبیعیات میں مددگار ہو سکتا تھا  ۔ رابرٹس  کے تبصرات مایوس کن تھے اگرچہ ا ن کے پس پردہ تصور  غیرمعمولی نہیں  ہے :   خالص عقلیت پر مبنی ایک وحدانی شعبے کی حیثیت سے مقصودِ سائنس  متفرق تناظرات اور زاویہ ہائے نگاہ کی اہمیت کو نگاہوں سے اوجھل کر دیتا ہے ۔ تاہم تاریخ سائنس میں  یہ اہمیت نہایت شرح و بسط سےدرج  ہے  جو  ان دونوں باتوں کی توضیح میں مددگار ہو سکتی ہے کہ کیوں  سفید فام  لوگ ہی سائنس میں آگے ہیں اور  کیونکر یہ نکتہ مستقبل  میں ہونے والی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے ۔ تاریخِ طبیعیات  علمی اور شعبہ جاتی تنوع کی اہمیت کے ضمن میں ایک شاندار مثال ہے ۔ ایک مسئلے پر  تفکر کے بے شمار متفرق طریقوں  کو یکجا کیا جا سکتا ہے اور ان کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے ۔

طبیعیات  اختتام پذیر نہیں ہے

تصورات و تعبیرات کا تنوع  یاد دہانی کرواتا ہے کہ طبیعیات   ترقی پذیر ہے ۔  علم عارضی ہے ۔ ایک مسئلے کو حل کرنے کے لیے  ہمیشہ نت نئے طریقے موجود ہیں  ، اور  سیکھنے کو بھی کوئی نہ کوئی شے موجود ہے ۔ تاریخ ِ طبیعیات کی بدولت   اس بات کا دعوی کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے کہ موجودہ نظریات ہمیشہ  کے لیے  برقرار رہیں گے ۔

بعض  لوگ پریشان ہوتے ہیں کہ  غیریقینیت کی ایسی توثیق کی بدولت سائنس  میں دلچسپی  نسبتاً کم ہو جاتی ہے ۔ دراصل ، اس کے برخلاف درست ہے ۔ اگر طبیعیات تکمیل کے قریب جا پہنچی ہے تو اس   پر کام کیوں کیا جائے ؟     تکمیل کے قریب پہنچی ہوئی دیوار میں چند آخری اینٹیں لگانے کا فعل ہمیشہ دلچسپ نہیں ہوتا ہے ، تاہم  ایک نامکمل ڈھانچے  کو ترقی دینا ایک متجسس چیلنج ہے ۔ اس بات کو جاننا حوصلہ افزاء ہے کہ سب کچھ دریافت نہیں ہو چکا ہے ۔

غیریقینیت کی قبولیت ، طبیعیات اور خاص طور پر سائنس کی تعلیم میں تبدیلی کی متقاضی ہے ۔ طبیعیات کو عام طور سے فہرستِ اشیاء کی حیثیت سے پیش کیا جاتا ہےجنھیں  ماہرین ِ طبیعیات   درست تصور کرتے ہیں ۔ ہم ان فہرستوں کو ’’ درسی کتب‘‘ کہتے ہیں ۔ وہ ماہرین ِ طبیعیات اور دیگر سائنس دانوں کی اصلی کارگزاری  یعنی معموں کو حل کرکے دکھانے کا  ہولناک فریضہ سرانجام دیتی ہیں  ۔ ماہرین ِ طبیعیات  جن اشیاء کے بارے میں جانکاری رکھتے ہیں ، ان کے بارے میں بات کرنے کی بجائے ، درسی کتب  موضوع کے بارے میں نامعلوم شے پر زور دے سکتی تھیں  ۔ وہ اس  پر بات کر سکتی تھیں کہ  ابھی کتنا کام باقی ہے :  کون سے اسرار کو منکشف کرنا ابھی باقی ہے ؟ کون سا ایسا مسئلہ ہے جس کا حل ممکن نہیں ہے ؟ تجسس کا بدلہ دینا چاہیے اور اس بات کو دریافت کرنے پر ہر ایک کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے کہ ’’  اس کے سوا کیا ہے؟‘‘

تدریس میں اس قسم کی تبدیلی کا ایک نتیجہ  تصدیق (proof) پر کم تر اصرار کرنے کی صورت میں  سامنے آئے گا ۔ بعض اشیاء کو قطعیت کے ساتھ درست/ صحیح ثابت کیا جا سکتا ہے ۔ عملی اعتبار سے ، سائنس دان ایک مخصوص دعوے کی خاطر گواہیاں  جمع کرتے ہیں ۔ وہ گواہی  کسی درجے میں اعتماد /یقین فراہم کرتی ہے ۔ اس بات پر اصرار کہ   ہر سائنسی تصور  ایک تصدیقی معیار پر  پورا اترتا ہے یا اس کو پورا اترنا چاہیے ، خطرناک ہے ؛  اس کی بدولت علم پر سوال کھڑے کرنا آسان ہو جاتا ہے کیونکہ ہر ایک دعوی کسی درجے میں تشکیک کا حامل ہوتا ہے ۔

اگر سائنس دان اپنے شبہات کے بارے میں واضح اور کھرے نہیں ہیں ،تو اعتماد کا ایک بحران جنم لیتا ہے جب وہ    غیریقینیت  منکشف ہوتی ہے ۔  اُس  نفسیاتی حقیقت  کو  بڑے فائدے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے  ، مثال کے طور پر ، ان کے ہاتھوں جو سکولوں میں ارتقاء کو پڑھانے کی مخالفت کرتے ہیں ۔ تصدیق اور اس کی عدم موجودگی کی بجائے  گواہی   او ر شک / بے یقینی  کے متفرق درجات سے متعلق بات  چیت   ، درحقیقت سائنس کو عوامی دائرے میں نسبتاً زیادہ تقویت بخشتی ہے ۔  

طبیعیات ہمیشہ سے ایک جیسی نہیں تھی

مستقبل میں طبیعیات مختلف ہو گی ، اس بات کو تسلیم نہ کرنا اس بات کو ماننے کے مترادف ہے کہ  ماضی میں طبیعیات مختلف تھی ۔  ہر ایک فرض کر لینے کا اہل ہے کہ اشیاء کا موجودہ اسلوب ہی مستند معیار ہے ۔ تاہم تاریخ   اس بات کو واضح کرتی ہے کہ اشیاء ہمیشہ سے ایک جیسی نہیں تھیں ۔   افراد کیونکر متفرق انداز سے سوچتے تھے ، معاصر دنیا  کی تفہیم میں اس نکتے کا علم ایک قوی آلہ ہے ۔تاریخ ہمیں دکھاتی ہے کہ  قدیم اور ان کہے مفروضات پر نگاہ ڈالنے سے کیسے ہم اپنے ذاتی مفروضوں  پر توجہ دینا شروع کرتے ہیں ۔

خود آئن سٹائن  جیسی بڑی شخصیت نے  اس تاریخی طریقہ کار کی حمایت  کی ۔ اپنی جوانی میں اس نےتاریخِ سائنس پر  ارنسٹ ماخ (Ernst      Mach)  کی تحاریر کو پڑھا ، اور اس نے ماخ کے سر اس بات کو سکھانے کا سہرا باندھا کہ سائنسی اصولوں کے بارے میں تنقیدی سوچ کو کیسے برتا جاتا ہے ۔ آئن سٹائن نے ایک دفعہ لکھا کہ ، ’’تاریخی اور فلسفیانہ پس منظر سے واقفیت  اپنی نسل کےان  تعصبات سے ایک قسم کی آزادی مہیا کرتی ہے   جن میں بیشتر سائنس دان مبتلا ہو رہے ہیں ‘‘  ۔ اس نے  شکوہ کیا کہ ماہرین ِ طبیعیات آج کل کے مقبول تصورات کو  قطعی   سمجھنے  کو مائل تھے ۔ اس کے برعکس ، اس نے تجویز دی کہ انہیں ایسے تصورات کی تاریخ  کا مطالعہ کرنا چاہیے نیز اس صورت حال کو سمجھنا چاہیے جس میں وہ بامعنی اور مفید تھے ۔ اس طرح  ایک غیرمعروف ، یوں کہیے 1905ء میں   ایک پیٹنٹ کلرک کی حیثیت سے کام کرنے والے ایک نوجوان ماہرِ طبیعیات   نئے میدانوں میں جھنڈے گاڑنے  کی جرات کرے گا  اور  نئی تخلیقی جہات سامنے لائے گا ۔

تاریخ   مقبول تصورات کی بابت تنقیدی اعتبار سے سوچنے کے لیے آپ کی تربیت کرتی ہے ۔ تاریخ  غیرمعروف  شاہراہوں کی موجودگی کا ثبوت دیتی ہے۔ قدری طبیعیات کے بھیدوں سے متعلق سوچ بچار  کے  لیے کثیر زاویے ہیں ۔ (قدری طبیعیات کی ) کوپن ہیگن تعبیر  کی ہمہ گیریت (ubiquity) اپنے  تئیں بہترین ہونے کا جواز نہیں رکھتی ، اور یقیناً صرف یہی ایک  مفید تعبیر نہیں ہے ۔ خود آئن سٹائن متمنی تھا  کہ ماہرین طبیعیات  قدری میکانیات کی بنیادوں سے متعلق تنقیدی انداز  کو بروئے کار لائیں ۔

مؤرخ اور فلسفی ہاسوک چانگ (Hasok      Chang)   کہتا ہے کہ   سائنسی تعبیرات کی کثرت ،    تاریخ ِ سائنس کو جدید سائنسی تحقیق کے لیے   ایک ماخذ بنا دیتی ہے ۔ وہ اپنے طریقہ کار کو ’’تکملی سائنس ‘‘  (complementary      science) کہتا ہے یعنی ماضی سے گم گشتہ اور غیرحل شدہ  معموں کو بازیافت کرنا ۔ بعض قدیم  تصورات اور مشاہدات جیسا کہ   خنکی کے بارے میں افکار  کو تفصیلی  تحقیق سے گزارنے کی بجائے   بہتر وجوہات کی بنا پر ترک کر دیا گیا  ۔  تکملی سائنس کو عمل میں ڈھالنا  خود احتسابی کی متفرق اقسام کا تقاضا کرتا ہے ۔ مفروضات اور مقبول علم کے بارے میں عمیق اور تنقیدی فکر،   پیشہ وارانہ سائنسی تناظر  کے باب میں دشوار ہو سکتا ہے ، تاہم تاریخ  کے دھارے میں اس کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے ۔

داؤد قیصر (David      Kaiser) کی کتاب ’’  ہپی  لوگوں نے کیسے طبیعیات کو بچایا ‘‘ (How      the      Hippies      Saved      Physics) ایک عمدہ مثال ہے کہ کس نوع کی تنقیدی فکر بروئے کار آ سکتی ہے  ۔ 1960ء اور 1970ء کے بعض ماہرین ِ طبیعیات  اپنے دائرہ علم کے ’’منہ بندرکھواور گنتی کرو‘‘  (shut      up      and      calculate)  والے  کلچر  سے غیرمطمئن تھے  ۔ وہ اپنی مساوات کے پس پردہ عمیق تر فلسفیانہ معانی میں دلچسپی رکھتے تھے ۔ اس معنی کی تلاش کرنے کے لیے ، انہوں نے  اپنے زمانے کے مخالف سر ی کلچر(mystical      counterculture); اور قدری طبیعیات کی تاریخ دونوں سےرجوع کیا ۔ اسی شاہراہ پر ، انہوں نے بیل  کے مسلم الثبوت دعوی (Bell’s      Theorem) میں وسیع تر دلچسپی کے امکانات کو ابھارنے میں مدد کی ۔ سادہ احساس کہ لوگ  متفرق انداز میں سوچتے ہیں ، نہایت طاقت ور ہو سکتا ہے ۔

طبیعیات  بے لچک قوانین پر مشتمل نہیں ہوتی  ہے

پہلی دفعہ تاریخ  ِ سائنس کا سامنا کرنے والے افراد کو عموماً دھچکا لگتا ہے کہ سائنس کا حقیقی عمل اس  مرحلہ وارسائنسی  طریقہ کار سے  نہایت ہی کم مشابہت رکھتا ہے جس کو انہوں نے سکول کے زمانے میں سیکھا تھا ۔ سائنس دان  مسائل کو حل کرنے والے ایک بے لچک اور خطی طریقہ کار  کی پیروی نہیں کرتے ہیں ۔ بعض اوقات  وہ ایک مفروضہ سے آغاز کرتے ہیں ، بعض اوقات ایک عجیب و غریب  مشاہدے سے اور بعض اوقات ایک سیدھے سادے تجربے میں درپیش ایک غیرفطری (weird)  بے قاعدگی سے  ۔  خود آئن سٹائن نےزندگی کے آخری ایام میں اس نکتے پر روشنی ڈالی کہ ایک سائنس دان کو لازماً  ’’کسی اصول کی پروا نہ کرنے والا  ایک موقع پرست‘‘ (Unscrupulous      Opportunist) ہونا چاہیے  جو نت نئی آزمائش کے نمودار ہونے پر متفرق طریقہ ہائے کار  کو اختیار کرتے ہوئے خود کو اس کے مطابق ڈھال لے ۔

ایک بے لچک طریقہ کار کو بروئے کار لانے کی بجائے  سائنس دان  ہر ممکن دستیاب  ثبوت   سے کام لیتے ہوئے ایک بہترین  ممکنہ بیان  سے آغاز کرتے ہیں۔  اس دعوی کو فرض کیجئے کہ نظریات متضاد مشاہدات کی بنیاد پر مسترد ہوتے ہیں۔ انیسیوں صدی  کی ابتداء میں  یورینس کا مدار  نیوٹن کے قوانین  برائےکشش ثقل کے ساتھ  ناموافق دکھائی دیتا  تھا ۔ ایک ردعمل یہ ہوتا کہ نیوٹن کے قوانین برائے کشش ثقل کو  مسترد کر دیا جاتا ۔۔ یقیناً بہت ہی کم  لوگوں نے ایسا کیا ۔  نیوٹن کا نظریہ برائے کشش ثقل  اس قدر بارآور / مفید ثابت ہو چکا تھا کہ اس کو رد کرنے کے لیے ایک سے زیادہ بے قاعدگیوں کو مشاہدہ میں لانے کی ضرورت پڑتی ۔  اس مسئلے کا ایک آسان حل یہ تھا کہ ایک نیا سیارا نیپچون تاریکی میں پوشیدہ تھا ۔ چنانچہ سامنے کی بات ہے کہ بعد ازاں ، مدارِ عطارد میں  درپیش تضاد کو بھی اسی طریقے سے بیان کر نا چاہیے ۔  نیوٹن کے قوانین برائے کشش ثقل کودوبارہ سے  بچانے کی خاطر   ماہرین ِ فلکیات نے سورج ِ کی روشنی   میں چھپ جانے والے ایک سیارے ’’ویلکان ‘‘  (Vulcan) کو تلاش کیا ۔تاہم  آخرِ کار ،  آئن سٹائن نے تجویز دی کہ عطار کے مدارد میں در آنے والی بے قاعدگی اس کے اپنے نظریہ کی تائید میں نیوٹن کو ترک کرنے کی خاطر ایک عمدہ وجہ ہے  ۔

بعض اوقات ، ایک بے قاعدگی  کسی نظریے کو مسترد کرنے کی خاطر ایک عمدہ وجہ بنتی ہے ، اور بعض اوقات  ایک نظریے کو بچانے کی خاطر ایک بالکل ہی نئے عنصر کو ایجاد کرنا بہتر ہے ۔  متفرق صورتِ احوال  ، متفرق طریقہ ہائے کار کا تقاضا کرتی ہیں ۔ ماہرین ِ طبیعیات عموماً اپنے انتخاب (choice)  کی تائید میں مناسب وجوہات کے حامل ہوتے ہیں ، تاہم ان کو ایسے انتخابات  کی پیچیدگی اور دشواری کو تسلیم کرنے کی ضرورت ہوتی ہے ۔

سائنسی دریافتوں سے وابستہ کہانیاں بھی قابلِ اعتناء ہوتی ہیں ۔ کوئی شخص خصوصی نظریہ اضافیت کی بنیاد  کے بالکل مختلف نسخوں (versions) کو  آسانی کے ساتھ تلاش کر سکتا ہے ۔  کیا یہ مائیکل سن  اور مورلے (Michelson-Morley) کے تجربہ سے براہ راست اخذ ہونے والا نتیجہ تھا؟  یا، کیا یہ زمان و مکان کی ماہیت پر  آئن سٹائن کے فلسفیانہ غوروفکر  سے پھوٹا؟ یا ،  تاریخی بنیادوں کے باوجود ، کیا اس کو  میکس ول (Maxwell) کی مساوات سے تجریدی معنوں میں  اخذ کرنا چاہیے ؟   آپ    اپنی سنی ہوئی کہانی کے مطابق طبیعیات کو متفرق انداز سے متصور کرتے ہیں ۔ داستان گو ؤں کو یقینی بنانا چاہیے کہ تاریخی ثبوت  بہترین انداز سے ان کی کہانیوں کی تائید  میں ہیں ۔

کسی شخص کو ایسی تحقیق کے بارے میں بہت زیادہ تشویش کا شکار نہیں ہونا چاہیے جو بظاہر سائنسی طریقہ کار  پر سوال اٹھاتی ہے یا اس  کے وجود کو خطرے میں ڈالتی ہے ۔  طبیعیاتی تحقیق کے بہت سے طریقہ ہائے کار ہیں ، اور منہاجی ضابطوں  کی خلاف ورزی  کے سبب   سٹرنگ تھیوری   پر  حملہ آور ہونا شاید مناسب نہ تھا  ، اگرچہ اس بات کا امکان تھا کہ ماہرین ِ  سٹرنگ تھیوری  ان  ابتدائی نصیحتوں  پر غور کرنے کے خواہاں تھے کہ وہ خوبصورت نظریات کے ساتھ حد سے بڑھی ہوئی دلچسپی  کے حامل تھے۔ ماہرینِ طبیعیات آج کل عام طور پر تاریخ سائنس  کے حوالے سے تربیت یافتہ نہیں ہیں، اگرچہ آئن سٹائن اور نیلز بوہر دونوں تربیت یافتہ تھے ۔اور ان کے  وضع کردہ فلسفیانہ اصول عام طور پر متروک ہیں ۔ کارل پوپر کا تصور کہ لائق تکذیب (Falsifiablity) ہونا ہی  سائنس کی علامت ہے  ، اس وقت بہت زیادہ مستعمل نہیں ہے ۔ مثال کے طور پر ، علم نجوم (astrology) مکمل طور پر لائق ِ تکذیب ہے ، تاہم اس کو سائنس تصور نہیں کیا جاتا ہے ۔ حتی کہ فی زمانہ معروف بائز ین ازم (Bayesianism)  کو بھی اب تک صرف ایک مرتبہ ہی اختیار  کیا جا سکتا ہے ۔ تاریخ ِ سائنس دکھاتی ہے کہ کیسے سائنس کی تعریفات اور معیارات  مختلف زمانوں میں تبدیل ہو چکے ہیں اور، امید ہے کہ یہی بات معاصر فلسفہ سائنس میں اہم تحقیق کرنے والوں سے استفادہ کرنے کی ہمت دیتی ہے ۔

تصورات اور ان کی شرائط

تاریخ سے سبق ملتا ہے کہ علم میں قطعیت نہیں ہوتی ۔ تاریخی  اندازِ فکر  چبھتے سوالات پر مشتمل ہوتی ہے : ماضی میں لوگ کسی شے کو درست کیوں کہتے تھے؟  میں  ماضی کے  برعکس کو کیونکر درست تصور کرتا ہوں؟

تاریخ   سے وابستگی آپ کو  سبق دے گی کہ تصورات کو ان کی شرائط پر سمجھا جائے ۔ ارسطو ایک شخص نہیں تھا جو  نیوٹن کی طبیعیات میں ناقص تھا ، وہ ایک بالکل ہی  مختلف تناظر کا حامل تھا ۔ ماضی میں لوگ مختلف اشیاء کے بارے میں تشویش کا شکار ہوتے  اور اپنے مسائل کو متفرق انداز میں حل کرنے کی کوشش کرتے تھے ۔ مؤرخین کی ناپسندیدہ شے (واہمہ) و ہ نام نہاد پراگندہ حال تاریخ (Whig      History) ہے جو ماضی کی ہر شے کا تصفیہ  اس کی موجودہ صورت کے مطابق  کرتی ہے ۔ اس نوع کے فیصلے سے پرہیز ہی دنیا اور اہلِ دنیا کی بامعنی تفہیم کی خاطر ایک حیرت انگیز آلہ ہے ۔ اگر آپ سمجھ سکتے ہیں کہ لوگ کیونکر حرارت کو مادے کی ایک قسم سمجھتے تھے ، تو آپ سمجھ سکتے ہیں کہ کسی مجلس میں آپ کے ساتھ کام کرنے والا کیونکرضد پر اڑا ہے۔

تاریخی انداز فکر اپنے موضوع کو متحرک متصور کرتا ہے ۔ یہ سائنس کوقضیات کی ایک قطار  کی بجائے  بطور سلسلۂ سوالات  تصور کرنے میں  آپ کی مدد کرتا ہے ۔ وہ سوالات مستقبل میں  اٹھتے رہیں گے ، اوراس سے مدد ملتی ہے کہ اب تک کیا  کون سے سوالات اٹھائے جا چکے ہیں ۔

میں اس بات کو بیان کرنے میں کوتاہی نہیں کروں گا کہ بلاشبہ ، تاریخ ِ سائنس دلچسپ ہے ۔  یہ دلفریب کہانیوں  سے بھری پڑی ہے جو آپ کو مسحور کر دیں گی ۔ کون اس بات  کو مزید جاننے کی  خواہش نہیں رکھتا کہ   اپنے تجربات میں جیمز جول (James      Joule) بیئر سے متعلق اپنی مہارت  کو کام میں لاتا تھا ، یا   رنگوں سے متعلق نسبتاً زیادہ جاننے کی غرض سے نیوٹن نے اپنی آنکھ میں ایک خنجر گھونپ لیا ؟

اگرچہ میں ایسے تحفظات کو سن چکا ہوں کہ ایسی کہانیاں اضطراب (پریشاں خیالی) کا باعث بنتی ہیں جو ہدایاتِ سائنس یا کمیتی تحقیق سے دور لے جاتی  ہے ۔  تاریخ کو تدریس اور تفکر کے ساتھ مدغم کر دینا ایک عمدہ حکمت عملی ہے ۔ ایسا کرنے سے ہم طبیعیات  کی تعلیم لینے والوں اور ماہرینِ طبیعیات کو  دنیا کا ایک بہتر شہری بنا پائیں گے نیز اس کی بدولت سائنس کے  پیشوں میں    زیرک طلباء  کی دلچسپی کو بڑھانے میں مدد ملے گی۔  حتی کہ غیر سائنسی علوم کی تعلیم حاصل کرنے والوں کے ہاں  ، ان کے سائنسی فہم  اور سائنسی تصورات میں ان کی دلچسپی میں اضافہ کرنے کی خاطر  تاریخ ِ سائنس ایک بہترین طریقہ ہے۔ آخرکار تاریخ ِ سائنس  ، سائنس دانوں کو سوچنے کے نت نئے انداز سے آشنا کرتی ہے او ر پہلے سے معلوم اشیاء کو دوبارہ سے کھوجنے کی خاطر ان کو مجبور کرتی ہے ۔ کسی بھی شعبہ کے لیے ایسی علمی لچک ناگزیر ہے ، تاہم طبیعیات اور دیگر سائنسی علوم  جیسے مؤثر اور معتبر مضامین کے لیے  خاص اہمیت کی حامل ہے ۔ ہم کیسے واقفیت حاصل کرتے ہیں کہ ہم کیا جانتے ہیں ، اور ہماری واقفیت کی دیگر صورتوں کے کیا امکانات ہو سکتے تھے ؟

Recommended Posts

Leave a Comment

Jaeza

We're not around right now. But you can send us an email and we'll get back to you, asap.

Start typing and press Enter to search