سائنس اور فلسفہ کی باہمی جدائی کا خاتمہ: نکولس میکسول (ترجمہ: عاصم رضا)

نوٹ:    زیرِ نظر  تحریر ،  نکولس میکس ول   کے مضمون ’’ Bring   back   science   and   philosophy   as   natural   philosophy ‘‘ ، جوتیرہ مئی 2019ء کو  آن لائن مجلے ’’ Aeon ‘‘   میں شائع ہوا ، کا ترجمہ ہے ۔ نکولس میکسول   یونیورسٹی کالج  لندن  میں فلسفۂ سائنس  کے ایمریطس قاری ہیں ۔ وہ ’’ علم سے دانش تک ‘‘ (1984) کے مصنف ہیں اور  حال ہی میں ان کی ایک کتاب   ’’ سائنس کی مابعد الطبیعیات اور بامقصدتجربیت : سائنس و فلسفے میں انقلاب ‘‘  (2019) شائع ہوئی ہے ۔

سائنس اور فلسفہ کے مابین    پائے جانے والے  گہرے شگاف  کو ختم کرنا  لازم ہے ۔ صرف اسی صورت میں  ہم   ضروری بنیادی  مسائل کا جواب دے سکتے ہیں۔

اس بات کو تسلیم کرنے کی ٹھوس اور  قطعی  بنیادیں  موجود ہیں کہ ہمیں فلسفہ اور سائنس میں انقلاب برپا کرنے کی ضرورت ہے ، اور ان دونوں  کو پھر سے  یکجا کرتے ہوئے   قدرتی فلسفہ (نیچرل فلسفہ ) کے ایک جدید  موقف کو جنم دینے کی حاجت ہے ۔

ایک زمانہ تھا  جب فلسفہ،  سائنس کا محض ایک جزو نہیں تھا ؛ بلکہ   سائنس ، فلسفہ کی ایک شاخ تھی ۔ ہمیں  اس بات کو یاد کرنے کی ضرورت ہے  کہ جدید سائنس کا آغاز بطور نیچرل  فلسفہ ہوا  یعنی  فلسفہ اور سائنس کی آمیزش کے ذریعے فلسفہ کی پرداخت ۔ آج ہم گلیلیو ، جوہانز کیپلر ،  ولیم ہاروے ، رابرٹ بوئل ، کرسٹیان ہیگنس، رابرٹ ہک ، ایڈمنڈ ہیلی ، اور بالخصوص  اسحاق نیوٹن کو بانیانِ سائنس  کی حیثیت سے، جبکہ  فرانسس بیکن ، رینے ڈیکارٹ، تھامس ہابز ، جان لاک، باروخ (یا باروش ) اسپی نوزا  اور گاڈفرے لائبنز    کو  بطور فلسفی    یاد  کرتے ہیں ۔ تاہم  یہ وہ تقسیم ہے جو ہم ماضی پر عائد کرتے ہیں ۔ یہ ایک    بہت بڑا  تاریخی اشتباہ ہے ۔

اُس زمانے میں وہ سب اپنے آپ کو نیچرل  فلسفی ہی سمجھتے تھے ۔ وہ سب ہی  مابعد الطبیعیات اور فلسفہ  کے بنیادی سوالات  کے ساتھ ساتھ  طبیعیات ،  فلکیات ،  کیمیا ، عضویات ،  ریاضیات   ،  میکانیات اور ٹیکنالوجی کے اختصاصی مسائل   کی بابت   سوچ بچار کرنے کو آمادہ تھے  ۔ بنیادی سوالات کے بارے میں تنقیدی فکر اور تخیل  کی حیثیت سے فلسفہ   زندہ و جاوید تھا نیز بے حد تخلیقی اور بارآور مضمون بھی تھا ۔ کیپلر اور گلیلیو دونوں نے نہایت محتاط مشاہدات اور تجربات سرانجام دیے جیسا کہ اچھے سائنس دانوں کو  کرنے چاہییں ؛ تاہم  انہوں نے   ایک مابعد الطبیعیاتی نظریہ کائنات کو بھی اختیار کیا جس کے مطابق  ’’ کتاب ِ فطرت ، ریاضیات کی زبان میں مرقوم ہے ‘‘  جیسا کہ گلیلیو نے لکھا ۔ انہوں  نے اس زمانے کی   مروجہ  ارسطالیسی مابعد الطبیعیات کے برخلاف   اس زاویہ نگاہ کو اختیار کیا  کہ  قدرتی مظاہر  سادہ ریاضیاتی قوانین    کے مطابق رونما ہوتے ہیں ، اور  اس مابعد الطبیعیاتی زاویے نے   حرکتِ سیارگان (از کیپلر ) اورحرکتِ زمین (از گلیلیو)   سے متعلقہ ان کی عظیم الشان سائنسی  دریافتوں کی قبولیت اور دریافت میں ایک بنیادی کردار ادا کیا ۔ بعد ازاں ڈیکارٹ ، بائل ، نیوٹن اور دیگر نے اس زمانے کے  مابعدالطبیعیاتی زاویہ  نگاہ کہ کائنات جواہر(ایٹم)  پر مشتمل ہے ، کی مختلف صورتوں کو اختیار کیا۔

اس وقت   ماہیت ِ سائنس کے بارے میں نیچرل  فلسفیو ں  نے  ایک بہت بڑی  ٹھوکر کھائی جس کے نتیجے میں  سائنس ، مابعدالطبیعیات  اور فلسفہ سے بچھڑ گئی ۔ نتیجتاً،  نیچرل  فلسفے کی موت واقع ہو گئی اور سائنس و فلسفے کے درمیان   عظیم الشان تقسیم   نے جنم لیا نیز زوالِ فلسفہ کی شروعات ہوئی ۔

اپنی کتاب ’’ اولیات ‘‘ (Principia)کے تیسرے ایڈیشن میں نیوٹن نے  عالمِ بے توجہی میں اپنے اس دعوی کے ساتھ    نیچرل  فلسفہ کو تباہ  کردیا  کہ اس نے  اپنے قانون برائے کشش ِ ثقل کو مظاہر سے استقراء کی بدولت اخذ کیا ۔

متناقض امر یہ ہے کہ  نیوٹن کی ’’ اولیات ‘‘ کا پہلا ایڈیشن (مطبوعہ 1687ء) یقیناً  نیچرل  فلسفے کی ایک عظیم الشان تحقیق  تھی ۔ پہلے ایڈیشن میں نو (9) مقدمات واضح انداز میں ’’مفروضات‘‘ (hypotheses)قرار پائے اوران میں سے بعض تو بالکل مابعد الطبیعیاتی نوعیت کے تھے۔ تیسرے ایڈیشن (مطبوعہ 1726ء) تک آتے آتے ان میں سے پہلے دو مفروضے، پہلے دو’’ قوانین ِ استدلال ‘‘   بن چکے تھے ۔  اور نظام ِ شمسی سے متعلقہ  آخری پانچ مفروضے ،  اگلی اشاعتوں میں ’مظاہر‘ (Phenomena) قرار پائے ۔ ایک مفروضہ بالکل ہی غائب ہو جاتا ہے اور ایک دوسرے  مفروضہ   جو  بنیادی استدلال میں مطلوب نہ تھا ، کو مسلم الثبوت دعوؤں (theorems)کے درمیان چھپا دیا گیا ۔ تیسرے ایڈیشن میں مزید دو ’ قوانین ِ استدلال ‘ موجود ہیں اور دونوں ہی    بنیادی طور پر استقرائی  ہیں ۔ ان میں سے دوسرے کے بارے میں نیوٹن لکھتا ہے : ’’ اس قانون کی پیروی ہم پر لازم ہے کہ  مفروضات کے ذریعے استقراء کی دلیل  سے گریز ممکن نہیں ‘‘ ۔نیز استقراء  اور مفروضوں  کے بارے میں نیوٹن درج ذیل تبصرہ کرتا ہے :

’’ مفروضہ وہ شے ہے جس کو مظاہر سے اخذنہیں کیا جاتا ہے ؛ اور تجرباتی فلسفہ میں  مابعد الطبیعیاتی  یا مادی مفروضوں  کی کوئی جگہ نہیں ۔ اس  نوعِ فلسفہ میں مخصوص  مقدمات کو مظاہر سے اخذ کیا جاتا ہے اور بعد ازاں استقراء کے ذریعے تعمیم کی جاتی ہے ۔ چنانچہ  اس طرح حرکت اور کشش ِ ثقل کے قوانین دریافت ہوئے ‘‘ ۔

اس طرح کے دیگر   طریقوں کی مدد سے  نیوٹن نے نیچرل  فلسفے میں اپنی عظیم الشان تحقیق کو استقرائی سائنس کا عنوان دینے کی ٹھانی ۔

نیوٹن کو نزاع سے چڑ تھی ۔ وہ جانتا تھا کہ اس کا قانون برائے کششِ ثقل نہایت متنازعہ ہے ، چنانچہ  اس نے اپنی کتاب ’’ اولیات ‘‘  کی اگلی اشاعتوں میں  اس تحقیق کے مفروضہ جاتی  ، مابعدالطبیعیاتی اور نیچرل  فلسفہ سے متعلقہ عناصر کو پوشیدہ رکھنے کے لیے تبدیلیاں کیں  ۔اوراپنی تحقیق میں دکھایا  کہ  اس کا قانون ِ کشش ِ ثقل  یکسر غیرمتنازعہ  ہے نیز استقراء کے ذریعے مظاہر سے اخذ کردہ ہے ۔ نیوٹن کی بے پناہ عزت  اور بالخصوص انقلابِ فرانس میں اس کی تحقیقات  کی پذیرائی کی بدولت، بعد میں آنے والے نیچرل   فلسفیوں نے منہاجِ نیوٹن کے مطابق  کام کرنے کو کامیابی کی ضمانت فرض  کر لیا ۔ذرائعِ استقراء   کی بدولت  ہی قوانین و نظریات  تک دسترس یا   پھر ان کو وجود مل سکتا تھا ۔ مابعدالطبیعیات اور فلسفہ  غیرمتعلق قرار پائے اور ان کو نظر انداز کیا جا سکتا تھا  ۔ پس ، جدید سائنس کا جنم ہوا اور جدید سائنس کو جنم دینے والے نیچرل  فلسفے کو خاموشی سے بھلا دیا گیا ۔

نیوٹن کا استقرائی منہاج ہنوز  برقرار ہے ۔ آج کل یہ ’’ استدلال برائے بہترین تشریح ‘‘  (inference   to  the  best  explanation)  کے نام سے معروف ہے ۔ (نیوٹن نے  تشریح   کو  نظرانداز نہیں کیا ۔ اس کے قوانین ِ استدلال کا اصرار تھا  کہ استقراء صرف سادہ ترین نظریے کو تسلیم کرنے کا کہتی   ہے اور عملی اعتبار سے مظاہر کی بہترین تشریح  کرتی ہے) ۔آج کل سائنس دان  شایداس بات کے قائل نہ ہوں کہ نظریات کو استقراء کے ذریعے مظاہر سے ’’ اخذ ‘‘ کیا جا سکتا ہے ، تاہم وہ  اس بات کے قائل ہوتے ہیں کہ  سائنس  میں محض ثبوت  (مع تفصیلی  دلائل )  ہی  نظریات کے ردوقبول کا فیصلہ کرتے ہیں ۔ بالفاظِ دگر، وہ معیاری  تجربیت(standard   empiricism) کی ایک یا دوسری شکل کو سچ مانتے ہیں یعنی اس نظریے کو کہ سائنس میں ثبوت ہی     نظریات کے ردوقبول  کا  فیصلہ کرتا ہے  نیز  نظریات کی   سادگی ، وحدت یا توضیحی اہلیت   بھی کردار  ادا کرتے ہیں  ، تاہم ان معنوں میں نہیں  کہ کائنات یا مظاہر کو سادہ ، متحد یا قابل فہم فرض کر لیتے ہیں ۔ نیوٹن سے  ورثے میں  ملنے والا اہم نکتہ یہ ہے کہ دنیا کے بارے کسی بھی مقدمے کو ’’ ثبوت  کے بغیر ‘‘ سائنسی علم کا جزو تسلیم نہیں کیا جا سکتا ہے ، ’’ انکارِ ثبوت ‘‘ کی تو بات ہی نہ کریں ۔ جوہری اعتبارسے ، ثبوت اور نظریے کے بارے میں  منہاجِ  نیوٹن ابھی تک غالب ہے ۔ سائنس اور فلسفہ کے درمیان در آنے والی  قطعی تقسیم آج بھی برقرار ہے ۔

اس تقسیم کے نتیجے میں فلسفہ  بے حد کمزور ہو گیا ۔ فلسفہ یعنی  نیچرل  فلسفہ   کی ایک شاخ  بننے کی  بجائے سائنس ، فلسفہ سے کٹ کر الگ تھلگ اور خودمختار ہو گئی ۔  فلسفے نے اپنے  وجود کا ایک عظیم الشان حصہ کھو دیا  جبکہ وہی حصہ تو  شروعات  کے لیے  کامیاب ترین جزو تھا ۔

نیچرل  سائنس سے علیٰحدگی کے بعد  سےلیکر اب تک  فلسفہ کی اہمیت کم  ہوتی رہی ۔ نفسیات ، بشریات ، عمرانیات ، معاشیات ، سیاسیات ، لسانیات ، منطق اورتکوینیات ،   سب  ہی فلسفے سے  کٹ گئے  اور اپنے آپ کو ایک خودمختار  مضمون کی حیثیت سے استوار کر لیا۔  بیسویں صدی کے اوئل تک فلسفہ ایک بحرانی حالت سے دوچار تھا ۔ ذرا بھی واضح  نہ تھا کہ اس کے  پاس کرنے کو آخر کیا رہ گیا ۔ خاص   یورپ میں پھلنے پھولنے  والا براعظمی فلسفہ (continental   philosophy) ایک  جوابی کاوش تھا، جو سائنس اور عقل کو نظرانداز کرتے ہوئے مرصع عبارت آرائی اورغیرمربوط مشاہدات میں مشغول ہو  سکتا تھا ۔    انگریزی بولنے والے علاقوں میں بروئے کار آنے والا   تجزیاتی فلسفہ (analytical   philosophy) ایک دوسری کاوش تھا ، جو اپنے آپ  کو  علمی تجزیے  نیز تصورات  کی ظاہری اور بناوٹی چمک دمک   تلے دبے ہوئے سنجیدہ مسائل تک مخصوص کر سکتا تھا۔

تاہم یہ سب کچھ غیرضروری اور مہمل ہے ۔     فلسفے  کی اہمیت کے ماند پڑنے اور نتیجے میں اس کے  اجزاء کے سائنسی ، کامیاب اور خودمختار ہو نے کی بابت میں نے   اب تک جو کچھ بھی کہا ہے ، لغو ہے ۔ فلسفے کا بنیادی فریضہ جو آج کل غالباً پہلے سے بھی زیادہ اہمیت اختیار کر چکا ہے ، فکر و حیات کے اہم ترین اور بنیادی مسائل کے بارے میں  عقلی یعنی تخیلاتی اور تنقیدی فکر کو  زندہ رکھنا ہے ۔  اس بات کی اہمیت سب سے زیادہ ہے کہ ہمارے بنیادی  ترین مسئلے کے بارے میں ایسی سوچ کو زندہ رکھا جائے  ، جس کو یوں بیان کیا جا سکتا ہے : ہمیں دکھائی دینے والی  انسانی دنیا  جس میں ہم زندگی بسر کرتے ہیں ، دیکھتے ، چھوتے ، سنتے اور سونگھتے ہیں یعنی  جاندار اشیاء، لوگوں ، شعور، اختیار ، اور معانی و قدر کی دنیا   میں  ان سب کا وجود کیونکر ہے اور کیسے بہترین انداز میں نشوونما پا سکتا ہے  ، جبکہ یہ سب کچھ مادی و طبیعی  کائنات  کے  اندر ہے ؟

یہ بنیادی  سوال فکرو حیات کے تمام تر تخصیصی اور مخصوص مسائل کو جکڑ لیتا ہے ۔ فلسفہ کا  موزوں اور بنیادی فریضہ یہ ہے کہ  اس مسئلے کو تعلیم اور علمی تفتیش کے قلب میں زندہ و جاوید رکھے، چنانچہ اس مسئلے کی بابت عقلی سوچ بچار     نہ صرف   اپنی نسبت کہیں زیادہ تخصیصی فکر کو متاثر کرتی ہے  بلکہ  اس  فکر سےاثر بھی  لیتی  ہے   جو قدرتی  ، سماجی ، ٹیکنالوجیکل اورصوری علوم، بشریات و تعلیم  جیسے تخصیصی شعبہ جات  کے ساتھ ساتھ شخصی ، سماجی اور عالمی حیات کے نسبتا  ً زیادہ مخصوص تناظرات میں  بروئے کار آتی ہے ۔

اپنے امتیازی موضوعات ، مسائل  یا  طریقہ ہائے کار سے قدرے آگے نکل کر فلسفہ اگر درست طریقہ  سے عمل میں آئے  تو  اس کے دائرہ کار میں مخصوص مہارتوں کے حامل تمام تر  مضامین کے عنوانات  و مسائل نیز تحقیق کے   سارے  عقلی  طریقہ ہائے کار  بھی آتے ہیں  ۔  مخصوص مہارت کے حامل مضامین سے قدرے زیادہ امتیازی شان کے حامل  اور دیگر اختصاصی مہارتوں کے حامل مضامین  کے ساتھ مل کر جیسا کہ  معاصر مکتبی فلسفہ جدوجہد کرتا ہے ، تو فلسفے کا  ایک بنیادی فریضہ ہے کہ تخصیص (specialization)  کی مزاحمت   کے دوران  بنیادی مسائل سے متعلق  تفکر کو زندہ رکھتے ہوئے  اختصاصی تحقیق کے ساتھ  دو طرفہ  انداز  میں کام کرے ۔ دوبارہ  سے کہوں کہ اگر  درست معنی میں لیا جائے تو فلسفے پر محض  سندیافتہ  فلسفیوں  کی اجارہ داری نہیں ہے ؛  پیشہ ور فلسفیوں کا بنیادی فریضہ  یہ ہے کہ بنیادی مسائل کے بارے میں   کسی فلسفے یا  عقلی استدلال  کے ضمن میں ہر ایک کی حوصلہ افزائی کریں  ، خواہ غیر علمی افراد  ہوں یا      علمی تفتیش کے متنوع و  مخصوص شعبوں سے  متعلقہ   افراد ۔

اس مزاج کے مطابق  فلسفے کے لیے ہمیں ایک عنوان کی ضرورت  ہے ۔ آئیے ، ہم اس کو تنقیدی اساسیت  (critical   fundamentalism)  کہتے ہیں یعنی براعظمی  اور تجزیاتی فلسفے کا ایک مخالف ۔ نیچرل  فلسفے کے دوسرے جنم کی خاطر ، تنقیدی اساسیت ایک طویل شاہراہ پر گامزن ہے  جس کے لیے  تنقیدی اساسیت   ، نظری طبیعیات اور تکوینیات سے لےکر  نیوروسائنس اور ارتقائی حیاتیات تک   قدرتی(نیچرل)  علوم کے متنوع شعبوں     کے بنیادی مسائل کو کھوجتی ہے ۔ سائنسی بنیادوں پر روشن خیالی کے ساتھ بروئے کار آنے والی تنقیدی اساسیت  ،  نہ صرف سائنسی تحقیق کو متاثر کرے گی  بلکہ خود بھی  اس سے متاثرہو  گی ۔  بنیادی سائنسی مسائل کی توضیح اور ممکنہ سائنسی حل تجویز کرنے کی بدولت ، یہ  سائنس میں حصہ ڈالنے کی اہل ہو گی ؛ اور یقیناً ،  خود بھی سائنسی تحقیق  کے نتائج سے متاثر ہو گی ۔  تنقیدی اساسیت   کی یہ  دو طرفہ آمیزش ،  فلسفہ و سائنس  کے ساتھ ساتھ  نیچرل  فلسفہ میں حصہ ڈالے گی !

          پس  ،  فلسفے کے حتمی  زوال  کی بابت محولہ بالا داستان  لغو ہے ۔قدرتی  (نیچرل) و سماجی علوم ، منطق اور لسانیات کا کامیاب انعقاد اور سرگرمی فلسفے کو کسی صورت کمزور نہیں کرتیں ، اگر تنقیدی اساسیت کے مطابق بہ حسن و خوبی سر انجام پائے  ۔   بنیادی مسائل کے بارے میں عقلی (تخیلاتی اور تنقیدی ) فکر کی ضرورت  ابھی تک ویسے ہی برقرار  ہے ۔ اس کی ضرورت ہے کیونکہ سائنس اور پھر  علمی تفتیش بطورکُل ہی  عقلیت کی بنیادی ضروریات کو پورا کر سکتی ہے ۔ (عقلیت متقاضی ہے کہ ایک فرد بنیادی مسائل کے حل کی تلاش  کے بارے میں  لگاتار سوچ بچار کرتا رہے)۔  براعظمی   یا  تجزیاتی فلسفے کو اختیار  کرنے کی بدولت فلسفے کی اپنے ہاتھوں سےخود اپنی قطع و برید جس کے نتیجے میں فلسفہ اپنی مطلوبہ کارگزاریوں میں ناکام ہو جاتا ہے ، بالکل غیر ضروری ہے ۔

تب پھر ایسا کیونکر ہوا ؟غالباً،  ایک اعتبار سے  اس بات کی قدر نہ جاننے کی بدولت ہوا کہ بنیادی مسائل  کے بارے میں مؤثر عقلی استدلال کو زندہ و جاوید رکھنا کس قدر  ناگزیر اور حیات بخش  ہے ، خاص طور پر جب تخصیص   دن بہ دن  زور پکڑ رہی ہو ۔ شبانہ روز بڑھنے والی تخصیص کے  مضرات  کا سدباب کرنے کی بجائے ، بیسویں صدی میں مکتبی / جامعاتی فلسفہ  عالمِ مایوسی  میں نہایت شدومد کے ساتھ خود اپنے تخصیصی مقام کو تلاش کرنے کی جدوجہد پر مائل  ہوا ہے ۔

تاہم ، دہائیوں اور صدیوں تک  تنقیدی اساسیت کے مزاج کو زندہ رکھنے  میں فلسفے کی ناکامی کا اس سے بھی کہیں زیادہ اہم سبب  موجود ہے ۔ یہ ناکامی  فلسفے کی  اس نارسائی سے پھوٹی ہے کہ وہ اپنے  بنیادی ترین مسئلے کو حل نہیں کر پایا ہے یعنی مسئلہ استقراء ۔

میں نے اس جانب اشارہ کرنے سے آغاز کیا کہ کیسے نیوٹن نےاپنی کتاب ’’ اولیات ‘‘ کے تیسرے ایڈیشن میں  اپنے اس   گمراہ کن دعوے کے ساتھ نیچرل  فلسفے کو تباہ کر دیا     کہ وہ مابعدالطبیعیاتی مفروضوں   کی پرو ا کئے بغیر استقراء کے ذریعے مظاہر  سے قانون برائے کششِ ثقل کو اخذ کرتا ہے ۔ بعد میں آنے والے نیچرل   فلسفیوں نے نتیجہ نکالا کہ  مابعد الطبیعیات وفلسفے کو نظرانداز کرنے اورقوانین و نظریات کے ردوقبول میں صرف ’’ ثبوت ‘‘ کو کافی سمجھنے کے ضمن میں ان پر   نیوٹن کی پیروی لازم ہے  ۔ اس کا نتیجہ  فلسفے سے یکسر الگ تھلگ  سائنس  کی صورت میں  برآمد ہوا  ۔ اور سائنس دان آج بھی نیوٹن کے تصورِ سائنس کو بدیہی سمجھتے ہیں ۔ اس تصور کا اہم نکتہ یہ ہے کہ سائنس میں  کائنات کے بارے میں کسی بھی دعوے کو ’’ ثبوت کے بغیر ‘‘   سائنسی علم کے ایک حصے کے طور پر قبول نہ کرنا لازم ہے ، ’’ انکارِ ثبوت ‘‘ کے تو کیا کہنے۔ آخرکار، ’’ ثبوت ‘‘ ہی ہے جو اس بات کا فیصلہ کرتا ہے کہ کس شے  کو سائنسی علم کی حیثیت سےقبولیت ملنی  ہے ۔

تاہم  نیوٹن کے اس تصورِ سائنس نے فلسفے کو ماہیت ِ سائنس کے بارے میں ایک بنیادی مسئلہ ورثے میں دیا  جس کو  آج تک بیشتر فلسفی  حل کرنے میں ناکام ہوئے ۔ یہ مسئلہ استقراء ہے جس کو داؤد(ڈیوڈ)   ہیوم(David   Hume) نے اپنی کتاب ’’ فطرتِ انسانی پر ایک مقالہ ‘‘ (A   Treatise   on   Human   Nature)میں نہایت عمدگی سے بیان کیا ۔ اس کو اس طرح  بیان کیا جا سکتا ہے: کسی قانون یا نظریے کی تائید میں ہم کتنے ہی شواہد اکٹھے کر لیں  ، وہ اس قانون یا نظریے یا اس کے احتمال کو صفر سے بڑھ کر ثابت نہیں کر سکتے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کوئی بھی قانون یا نظریہ ماضی ، حال اور مستقبل کے بارے میں لامتناہی پیشین گوئیاں کرتا ہے ، اور بہت سے واقعات ابھی تک پردۂ غیب  میں ہیں (اور شاید کبھی رونما نہ ہوں) ۔لازم ہے کہ  ہمارے اور نظریے کی ان  لامتناہی پیشین  گوئیوں کے درمیان ہمیشہ لامتناہی فاصلہ برقرار رہے ۔

ایک دوسرے انداز میں دیکھیں ،  ایک مسلّمہ نظریے کو کتنے ہی شواہد  دستیاب ہوں  تو پھر بھی ہمارے اکھٹے  کئے ہوئے شواہد سے ہمیشہ لامتناہی نظریات وجود میں آ سکتے ہیں جو ابھی تک ہمارے مشاہدے میں نہ آنے والے  مظاہر کے بارے  میں یکسر مختلف پیشین گوئیاں کریں گے ، کیونکہ  وہ (مشاہدات) مستقبل میں ہیں ، یا   وہ ان واقعات و حوادث یا تجربات سے متعلقہ ہیں جو ابھی  رونما  نہیں آئے ۔  مثال کے طور پر، اگر  نیوٹن کا معروف  قانون برائے کششِ ثقل    مسلّمہ نظریہ ہے تو تجرباتی اعتبار سے کامیاب رہنے والا اس کا  حریف  بھی  شاید اس امکان پر  اصرار کرے :   2050ء تک ہر شے اسی طرح رونما ہوتی ہے جیسا کہ  نیوٹن کا نظریہ پیشین گوئی کرتا ہے اور پھر کشش ِ ثقل یک لخت قوتِ دافعہ (repulsive   force) بن جاتی ہے ۔ ایک دوسرا مخالف شاید  یہ بات کرے : ہر شے اسی طرح رونما ہوتی ہے  جیسا کہ نیوٹن کا نظریہ پیشین گوئی کرتا ہے  سوائے خلا میں ہزار ٹن کی کمیت  کے سنہری دائروں کے جو قانون برائے معکوس مکعب (inverse  cube  law) کے ساتھ مطابقت میں ایک دوسرے کو کھینچتے ہیں (نیوٹن کے نظریے میں  پیش کردہ قانون برائے معکوس مربع  کے برعکس ) ۔ یہ دونوں حریف  خوفناک حد تک ایک دوسرے سے جدا ہیں اور کسی حد تک غیرمعقول بھی ہیں : تاہم ، فی الوقت  تجرباتی اعتبار سے وہ بھی اتنے ہی کامیاب ہیں جتنا نیوٹن  کا نظریہ ۔ ہم  نیوٹن کے نظریے  کے بے انت مخالفین نظریات  گھڑ سکتے ہیں جو  باہم متفرق ہیں اور ’’ تجرباتی اعتبار سے کہیں زیادہ ‘‘ کامیاب ہیں  کیونکہ وہ اپنے اندر ایسے  قابل  ِ آزمائش  (testable) مفروضوں کو  سمو لیتے ہیں جن کی پیشین گوئیوں کی توثیق  ہو چکی ہے نیز وہ  نیوٹن کے نظریے میں سے غائب  ہیں ۔

شواہد ایک نظریے کی توثیق نہیں کر سکتے ۔ وہ ایک نظریے کا انتخاب بھی نہیں کر سکتے  کیونکہ  ایک دوسرے سے الگ تھلگ ، لامتناہی مخا لف نظریات بھی دستیاب شواہد کو یکساں برابر یا بہتر انداز میں  مطمئن کر سکتے ہیں  ۔

ہیوم کا پیش کردہ معروف  مسئلہ ِ استقراء ،  درحقیقت  اہل سائنس کے ہاں آج تک  تسلیم کئے جانے والے نیوٹن کے  تصور ِ سائنس کو رد کرتا ہے ۔

ہیوم کی کاٹ سے نیوٹن کے تصور ِ سائنس کو بچانے کی ایک کاوش کچھ یوں  بنتی ہے ۔ کسی بھی نظریے کے ردوقبول کی بابت فیصلہ کرتے ہوئے سائنس  صرف شہادت (ثبوت) کی بجائے دو نکات کو سامنے رکھتی ہے : اول ، ثبوت اور دوم ، سادگی  و وحدت  یا زیرِ نظر نظریے کی توضیحی خوبی ۔ یہ زاویہ سائنس میں سرانجام پانے والے افعال کے ساتھ زیادہ انصاف کرتا ہے ۔ نظریۂ نیوٹن   کی وہ تمام صورتیں جو تجرباتی اعتبار سے درست تاہم ایک دوسرے سے خوفناک حد تک جدا جدا ہیں  اور جن کا اوپر ذکر ہوا ہے ، سب کی سب   بحث سے خارج ہو جاتی ہیں ۔

تاہم ایک مسئلہ ہنوز باقی ہے ۔اگر بالخصوص طبیعیات  دستیاب حقائق کے لیے موجود لامتناہی اور الگ تھلگ یا بہتر  مخالف  نظریات کی بجائے   صرف ’’ متحد ‘‘ (unified)نظریات  کو قبول کرنے پر اڑی رہتی ہے  تو اس کا یقینی مطلب ہے کہ طبیعیات  ، ماہیتِ کائنات کے بارے میں ایک عظیم الشان اور مشتبہ مفروضہ پر استوار ہے خواہ اس بات کو تسلیم کیا جائے یا نہیں ۔ اس سے مراد ہے کہ طبیعیات ایک عظیم الشان مفروضہ قائم  کرتی ہے : کائنات ایسی ہے کہ ایک دوسرے سے الگ تھلگ (disunified) رہنے والے تمام تر نظریات   غلط ہیں ۔ فطرت میں کسی قسم کی ایک وحدت پوشیدہ ہے ۔ یہ مفروضہ سائنسی علم کے ایک مخفی  جزو کی حیثیت  سے قبول کیا جاتا ہے کیونکہ  اس سے متصادم نظریات کو  مسترد کر دیا جاتا  ہے (یا ان کو فرض بھی نہیں کیا جاتا) خوا ہ ان کی تجرباتی کامیابی کیسی ہی ہو ۔تاہم  ایسی مخفی  وحدت کو ’’ ثبوت کے بغیر ‘‘ ہی تسلیم کر لیا جاتا ہے  حتی کہ ’’ انکارِ ثبوت ‘‘ کے معنی میں بھی  (اس ضمن میں اس کا تصادم ایسے لامتناہی نظریات سے ہوتا ہے جو تجرباتی اعتبار سے ہمارےمسلمہ نظریات سے کہیں بڑھ کے کامیاب ہیں )۔  یہ اس شے سے متناقض ہے جس کو میں ’’ نیوٹن کا تصورِ سائنس ‘‘ اور معیاری تجربیت (standard   empiricism) کا عنوان دے چکا ہوں ۔

نتیجہ یقینی ہے : سائنس   وحدت کو ایک مستقل  مابعدالطبیعی مفروضہ  تسلیم کئے بغیر   قدم آگے نہیں بڑھا سکتی خواہ  کھلم کھلا اعتراف کرے یا ڈھکے چھپے انداز میں ۔ ’ مابعد الطبیعی ‘ اس وجہ سے کیونکہ نہ تو ثبوت  کے ذریعے اس کی قطعی توثیق ہوتی ہے اور نہ ہی اس کو جھوٹا ثابت کیا جاتا ہے ۔نیوٹن سے ورثے میں ملنے والا   موجودہ  راسخ العقیدہ  تصورِ سائنس  جسے معاصر سائنس دان  بدیہی امر سمجھتے ہیں کہ  سائنس کے لیے ثبوت کا ہونا  اور ثبوت کی عدم موجودگی میں ماہیت ِ کائنات کے بارے میں مابعد الطبیعی مفروضوں کو وضع  نہ کرنا لازم ہے  ، غیرمستحکم ہے اور یقیناً اس کو مسترد کر دینا چاہیے ۔

پھر ہم اس کی جگہ کس کو دیتے ہیں ؟ اس سوال کا جواب دینے کے لیے اس امر کی تحسین  نہایت ضروری  ہے کہ  اپنی ترقی کے کسی بھی مرحلے میں طبیعیات کے قبول کردہ  مابعد الطبیعی مفروضہ برائے وحدت  کی ایک مخصوص ہیئت  ، نئے نظریات کی کھوج اور سابقہ نظریات  کے ردوقبول دونوں  پر  نہایت گہرا اثرڈالتی ہے ۔پھر بھی  یہ مفروضہ ایک قیاس (conjecture) ہے جس کی مقبول عامِ ہیئت کا کسی بھی زمانے میں غلط ہونا قریب قریب لازم ہے  جیسا کہ تاریخی دستاویزات نشاندہی کرتی ہیں (   سترھویں صدی سے لیکر اب تک جوہری نظریے تا  سٹرنگ تھیوری  ، مابعد الطبیعی تصورات بنیادی تبدیلی سے گزر چکے ہیں )۔ہماری مطلوبہ جدید سائنس   وحدت کے   اس  قابل ِ ذکر ، مؤثر اور مشتبہ  مابعد الطبیعی مفروضے کی موجودگی کا کھلم کھلا اعتراف کرتی ہے ، اور اس کو مستقل تفتیش کا موضوع بناتی ہے ، متبادلات وضع کئے جاتے ہیں اور پھر ان پر تنقید ہوتی ہے  تاکہ    عام مقبولیت  حاصل کرنے والے اس  مفروضے کی مخصوص ہیئت کو بہتر بنانے کی سعی جاری رہے ۔

بامقصد  تجربیت (aim-oriented empiricism) جیسا کہ میں  نے اس جدید تصورِ سائنس کو عنوان دیا ہے ، مابعد الطبیعی مفروضے کو ایک سلسلہ ہائے مفروضات  کی صورت میں پیش کرتا ہے ۔ جوں جوں ہم درجہ بہ درجہ اوپر جاتے ہیں ، مفروضات  پہلے سے زیادہ غیرمادی  اور ممکنہ طورپر نسبتاً زیادہ درست  اور اس امر  سے زیادہ قریب ہونے لگتے ہیں کہ سائنس کو یا  تلاشِ علم کو ہر ممکن طریقے سے ان کی صداقت کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اس طرح   ہم مفروضات کا ایک فریم ورک / تناظر ( مع منسلکہ طریقہ ہائے کار) تخلیق کر لیتے ہیں  جس میں اعلیٰ درجوں کے مفروضات  ممکنہ طور پر زیادہ درست ہوتے ہیں اور نچلے درجوں میں  پائے جانے والے  زیادہ سے زیادہ مادی مفروضات (مع منسلکہ طریقہ ہائے کار )  کو تنقیدی کسوٹی سے گزارا جا سکتا ہے ، اور اس امید کے ساتھ کہ شاید وہ بہتر ہو جائیں ۔

اس سلسلے میں سب سے اوپر ہم  نے اس مفروضے کو رکھا ہے کہ کائنات کا جزوی علم  ممکن ہے (partially knowable) یعنی  ہم بقائے زندگی  کو درکار ضروری مقامی صورت حال کا علم حاصل کرنے سے آغاز کر سکتے ہیں ۔ اگر یہ مفروضہ غلط ہے تو بھی ہم نے مطلوبہ  شے کو حاصل کر لیا  خواہ ہم کچھ بھی فرض کرتے ہیں۔ یہ کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا ہے اور  اس مفروضے کو قائم کرنے  کے ضمن میں  تلاشِ علم کے سلسلے میں زیادہ مدد فراہم کر پائے  خواہ کائنات کیسی ہی   ہو ۔ اگرچہ ہمارے پاس اس مفروضے کو درست ماننے  کے لیے کوئی دلیل نہیں ہے تاہم پھربھی ہمارے پاس خاطر خواہ عملی بنیادوں پر  جواز ہے کہ  اس مفروضے کو اپنے سائنسی علم کا ایک جزو تسلیم  کیا جائے  ۔

اس سے نچلے (چھٹے درجہ )  پر  یہ مفروضہ ہے کہ کائنات ماقبل ممکن الادراک (meta  knowable) ہے ؛  ہم اس کے بارے ایک درست  قیاس آرائی کر سکتے  ہیں ، اور اس قیاس آرائی کو مان لینا  ہی ہمارے لیے اس کو ممکن بنا دیتا ہے جیسا کہ ہم اپنے علم اور اس میں بڑھوتری کے لیے طریقہ ہائے کار کو بہتر بنا لیتے ہیں ۔ بالفاظِ دگر، کائنات ایسی ہے کہ بڑھوتری ِ علم اور خودارتقائے علم کے  ذرائع کے مابین ایک مثبت اور دوطرفہ تعامل جیسی کوئی شے ہو سکتی ہے ۔

پانچویں درجہ  پر یہ مفروضہ ہے کہ کائنات  کسی نہ کسی صورت  میں قابلِ ادراک (comprehensible)ہے ۔ مظاہر میں پوشیدہ کوئی شے ایسی ہے جو واقعات  کے اس انداز میں رونما ہونے کی ذمہ  دار ہے جس کے مطابق اصولی اعتبار سے ہر شے کی توضیح و تفہیم ہو سکتی ہے ۔ یہ ’’ مخفی  شے ‘‘ شاید خدا ہو یا آفاقی مقصد ( وہی کہ تمام تر واقعات ایک ترتیب کے مطابق رونما ہوتے ہیں ) ، یا طبیعی قانون کا ایک وحدانی اسلوب ۔ ماقبل ممکن ادراک   کے مطابق  ،آغاز کرنے کو  صلاحیتِ فہم   ایک عمدہ مفروضہ ہے کیونکہ  درست ہونے پر یہ ہمیں ادراک پذیری کی اس صورت  تک پہنچا دیتا ہے  جو بڑھوتریِ علم میں عظیم ترین  کامیابی  کی جانب   لے جاتا ہے ۔ ہم توضیحی نظریات کی بے شمار اقسام کو پیش کرتے ہیں ، اگر کوئی ایک مخصوص تجرباتی کامیابی سے ہمکنار ہوتی ہے تو ماقبل ممکن الادراک مفروضہ  ہمیں اس مخصوص انداز   کے مطابق توضیحات کرنے والے نظریات پر توجہ مرکوز کرنے  کا جواز بخشتا ہے ۔

چوتھے درجہ پر یہ مفروضہ ہے کہ کائنات طبیعی اعتبار سے قابل ِ ادراک(physically   comprehensible)ہے؛ ہر قسم کے مظاہر میں طبیعی قوانین کا ایک وحدانی اسلوب دوڑتا رہتا ہے  جس کے مطابق اصولی اعتبار سے تمام تر  طبیعی موجودات کی توضیح و تفہیم ہو سکتی ہے ۔ طبیعی اعتبار سے  قابل ِ ادراک ہونے سے متعلق اس  مفروضے نے   سائنس میں گلیلیو کے زمانے سے لے کر اب تک حیران کن بارآوری  دکھائی ہے ۔ سائنس کے پے درپے نظریات نے وسیع تر سلسلہ ہائے مظاہر کو پہلے سے کہیں زیادہ ایک دھاگے میں پرودیا ہے ۔ یہ بات نظریۂ نیوٹن ، میکس ویل کی برقی مقناطیسیت  ، آئن سٹائن  کی خصوصی اور عمومی اضافیت ، ورنر ہائزن برگ، ا رون شروڈنگر ،  پال ڈیراک ، عبدالسلام، سٹیون وائن برگ  اور دیگر کے نظریاتِ قدر(quantum   theories) سب کے لیے درست ہے ۔ ماقبل ممکن الادراک    مفروضے کے مطابق ایسی صورت  ِ احوال میں ہم  طبیعی اعتبار سے قابل ِ ادراک مفروضے  کو تسلیم کرنے کا جواز رکھتے ہیں (تاوقتیکہ کوئی بہترشے  سامنے آجائے )۔

سلسلہ ہائے مفروضات  کےتیسرے  درجہ  کے مطابق ہم طبیعی اعتبار سے قابل ِ ادراک ہونے کی ایک مخصوص ہیئت کے حامل ہیں جو  طبیعیات کے معاصر نظری علم کے ساتھ بہترین انصاف کرتی ہے ، اور آئندہ کی ترقی کے لیے بہترین وعدے کرتی ہیں ۔ آج کل ، اس مفروضے کو سٹرنگ تھیوری کہا جا سکتا ہے : ہر شے دس یا گیارہ جہات کے مکان -زمان  (space  time)میں ننھے قدری دھاگوں (quantum-strings)   پر مشتمل  ہے ۔

دوسرے درجہ  پر ہم  طبیعیات کے معروف ترین بنیادی نظریات  کے حامل ہیں یعنی عمومی اضافیت اور نام نہاد معیاری ماڈل (standard   model)  ( بنیادی ذرات اور ان کے مابین قوتوں کے لیے  نظریہ قدر پر مبنی  دائروی نظریہ ) (quantum   field   theorem   of   fundamental   particles)۔ اور سلسلۂ مفروضات کے  آخری درجہ میں ہم تجرباتی مظاہر یعنی  تجربے  پر استوار ہونے والے کم تر تجرباتی قوانین   کے حامل ہیں ۔

یہ سلسلہ ہائے  مفروضات  اور اس سے متعلقہ  طریقہ ہائے کار،   طبیعیات کے مابعد الطبیعیاتی  پیش قیاسی قضیوں کو نکھارنے میں  تخیلاتی کھوج اور تنقیدی تفتیش پر کسی حد تک توجہ دیتے ہوئے      سہولت فراہم کرتے ہیں جب کہ  سلسلہ ہائے مفروضات کے نچلے طبقوں میں   سائنسی ترقی کے لیے کارآمد ہونے کے نسبتاً زیادہ امکانات ہیں ۔ یہ اس بات کی یقین دہانی کے ذریعے ہوتا ہے  کہ نچلے طبقے کے نئے ممکنہ مفروضوں پر جزوی اعتبار سے اعلیٰ طبقے کے مفروضوں  اور جزواً عظیم الشان تجرباتی کامیابی حاصل کرنے والے طبیعی نظریات کی بدولت   کارآمد شرائط عائد ہوتی ہیں  ۔ نچلے درجات کے ان مابعد الطبیعی مفروضوں کا انتخاب کیا جاتا ہے جو یا تو تحریک فراہم کرتے ہیں ، یا  تجرباتی اعتبارسے طبیعیات میں  سب  سے زیادہ  ترقی پسند منصوبوں کے ساتھ وابستہ ہوتے ہیں ، یا   اس عظیم الشان امید کو برقرار رکھتے ہیں ۔ ان طریقوں  سے  بامقصد تجربیت کے نظام ِ مراتب پر مبنی یہ   فریم ورک  مابعدالطبیعاتی دعووں   (theses)  میں  نکھارکی سہولت دیتا ہے جو نچلے درجات میں تو قبول کیے جاتے ہیں تاہم  ان کے غلط ہونے کے امکانات بہت زیادہ ہیں ۔

جوں جوں  طبیعیات میں نظری علم   خوب تر ہوتا  ہے ، مابعد الطبیعیاتی پیش قیاسی مفروضے   نکھرتے جاتے ہیں اوراس شاہراہ پرہنمائی  کا فریضہ سر انجام دیتے رہتے  ہیں ۔ مابعد الطبیعیاتی مفروضوں  اور ان سے منسلکہ  طریقہ ہائے کار اور طبیعیات میں نظری علم کی بہتری کے مابین ایک دو طرفہ  مثبت تعامل جیسی کوئی شے وجود رکھتی ہے ۔ جوں جوں ہمارا سائنسی علم خوب تر ہوتا ہے اور کائنات کے متعلق تفہیم میں اضافہ ہوتا ہے ، خود    ماہیت ِ سائنس کے بارے  میں ہم  بہتر  ہوتے  ہیں ۔ ہم سائنسی علم میں ترقی کے لیے طریقہ ہائے کار کو نکھارتے ہیں ۔( بامقصدتجربیت کے بارے میں مزید تفصیلی معلومات کے لیے ، ملاحظہ فرمائیے  میری  کتاب بعنوان ’’ کائنات کی ادراک پذیری ‘‘ (مطبوعہ 1998) ،  میرا تحقیقی مقالہ بعنوان ’’ کیا سائنس ثابت کر چکی ہے کہ کائنات طبیعی اعتبار سے قابل ِ ادراک ہے؟ ‘‘ (مطبوعہ 2013)؛ اور میری کتابیں بعنوان ’’ سائنسی ترقی کی تفہیم ‘‘ (مطبوعہ  2017) ، ’’ نیچرل فلسفے کی شان میں ‘‘ (مطبوعہ 2017)، ’’ کارل پوپر ، سائنس اور روشن خیالی ‘‘ (مطبوعہ  2017) ۔ آخری کتاب کوانٹرنیٹ سے حاصل کیا جا سکتا ہے ۔)۔

طبیعیات و مابعد الطبیعیات اور سائنس و فلسفہ کی تالیف پر مبنی  نیچرل  فلسفہ، حاصل فکر  ہے ۔ مابعد الطبیعیات ، منہاجیات ، علمیا ت ، اور  فلسفے کے  روایتی موضوعات  سب ہی  سائنس کا ایک ناگزیر اور کارآمد جزو بن چکے ہیں ۔تنقیدی اساسیت پر مبنی تصورِ فلسفہ  کو بہت زیادہ تائید حاصل ہے ۔  بامقصدتجرباتی و  نیچرل  فلسفے کے تناظرمیں  سائنس  تقریباً ، فلسفے کا ایک تخصیصی جزو بن چکی ہے ! سائنس اور فلسفے کے مابین جدائی جو مؤخر الذکر کے لیے  بے حد مضر تھی ، اختتام پذیر ہے ۔ بلاشبہ ، سائنس کے لیے فلسفہ  ایک کارآمد اور حیات بخش   کردار ادا کرتا ہے؛ اس کے بعض مسائل سائنسی تحقیق  میں صف ِ اول پر ہیں ۔ اور اس پر مستزاد ، بامقصد تجرباتی و نیچرل فلسفہ   وہ کام کرتا ہے جو نیوٹن کی سائنس نہیں کر سکتی ؛ یہ ہیوم کے مسئلہ استقراء کو حل کرتا ہے  ( بحوالہ ’’ سائنسی ترقی کی تفہیم ‘‘ )۔

مزید براں ، چند دوسرے اہم تر حاصلات بھی ہیں ۔  ایک تصور ِ عقلیت یعنی بامقصد عقلیت    کی صورت گری کی خاطر  تجربیت کی تعمیم ہو سکتی ہے  ، جس کا  مفید اطلاق غیرمعین  مقاصد کی حامل کسی بھی انسانی  جدوجہد  پر ہوتا  ہے ۔بارہا  زندگی  میں   شخصی ، سماجی ، شعبہ جاتی  اور عالمی  سطح پر  ہمارے افعال کے حقیقی مقاصد  غیر معین  ہیں ، یا تو اس وجہ سے کہ وہ دوسری مطلوبہ اغراض کے ساتھ متصادم ہوتے ہیں ، یا اس وجہ سے کہ ان کو عملی جامہ پہنانا ممکن  نہیں ہوتا ، یا پھر دونوں صورتیں ہوتی ہیں ۔ایک بہتر  اور متمدن دنیا کے حصول کی خاطر انسانیت کے ایک نہایت دشوار مقصد کے ساتھ  اس کی پیوستگی  صاف دکھائی دیتی ہے ۔ تہذیب کو تخلیق کرنے کی تمام تر سابقہ  کاوشوں نےخواہ دائیں بازو پر مبنی ہوں یا بائیں بازو پر ،  بالکل متضا  د نتائج مہیا کیے ہیں  یعنی زمین پر جہنم کی مختلف اقسام کو پیدا کیا ہے ۔ بامقصد تجربیت کے حصول کے لیے استعمال ہونے والے طریقہ ہائے کار کی تعمیم کرتے ہوئے ، ہمیں سب سے بڑھ کر  اس مقام پر  بامقصد  عقلیت کو بروئے کار لانے کی ضرورت ہے  ۔

ہمیں تہذیبی مقاصد کو مدارجِ  مقاصد کی صورت میں پیش کرنے کی ضرورت ہے ۔ جوں جوں ہم اوپر کے درجات کی طرف جاتے ہیں ، ویسے ویسے وہ پہلے سے کم تخصیصی  اور کم مشتبہ  ہوتے جاتے ہیں ۔ اس طرح  ہم خود کو نسبتاً کم دشوار مقاصد اور طریقہ ہائے کار پر مبنی  ایک تناظر مہیا کرتے ہیں جس کے مطابق     کم تخصیصی ، مشتبہ  اور متنازعہ مقاصد اور ان سے منسلکہ طریقہ ہائے کار کو  اپنے افعال اور جینے کے مطابق نکھارا جا سکتا ہے۔مختصراً، ہم سائنسی ترقی سے سیکھ سکتے ہیں کہ ایک بہتر  اور متمدن دنیا کی جانب سماجی ترقی کو کیسے حاصل کیا جائے ۔ سائنس کے ان عمومی  طریقہ ہائے کار کو سماجی زندگی میں برتنے کے نتیجے میں ، ہم ایک متمدن دنیا کی جانب حقیقی سماجی ترقی کو حاصل کرنے کا آغاز کر سکتے ہیں جو کسی حد تک سائنس کے ذریعے حاصل ہونے والی علمی ترقی سے وابستہ ہے ۔ امید ہے کہ ہم  اپنے مستقبل  کو خطرے میں ڈالنے والے سنجیدہ عالمی مسائل کو حل کرنے کا آغاز کر سکیں گے : موسمی تبدیلی ، قدرتی دنیا کی تباہی ، آبادی میں اضافہ ، جوہری ہتھیاروں کی آفات  اور دیگر ۔ چنانچہ بامقصد عقلیت کو برتنے والے ہمارے مسائل پر کام اس قدر اہمیت کا حامل  ہےکہ ہمیں ہنگامی بنیادوں پر یونیورسٹیوں کے تمام تر وسائل اس کام کوسیکھنے پر لگا  نے کی ضرورت ہے ۔ علمی اداروں/ دنیا کو  بدلنے کی ضرورت ہے کیونکہ  اس کا بنیادی فریضہ  اختلافات اور مسائلِ حیات کو حل کرنے میں انسانیت کا مددگار بننا ہے   ، اگر ہم   ایک حقیقی متمدن دنیا کی جانب ترقی    کے خواہاں ہیں ۔

Recommended Posts

Leave a Comment

Jaeza

We're not around right now. But you can send us an email and we'll get back to you, asap.

Start typing and press Enter to search