فن پاروں میں صداقت اور امکان پر ایک مکالمہ: گوئٹے (مترجم: طلحہ شہاب)

ایک مخصوص جرمن تھیٹر کے اندر رنگا رنگ نقوش کے حامل تماشائیوں، جو بظاہر دکھائے جانے والے ناٹک میں محو تھے، سے بھری نشست گاہوں کا حامل ایک بیضوی شکل کا دائرہ نما ڈھانچہ نصب تھا ۔بیشتر نشست گاہوں پر موجود حقیقی تماشائی اس (ناٹک) سے غیر مطمئن تھے نیز اس قدر جھوٹا(غیر واقعی) اور ناممکن کھیل دکھائے جانے پر ناگوار تھے۔ بعد ازاں، ایک گفتگو ہوئی جس کا جزوی مفہوم ہم یہاں پیش کرتے ہیں۔

فنکار کا نمائندہ: آئیے، دیکھتے ہیں کہ اگر ہم کسی ذریعے سے تھوڑے بہت متفق ہو سکتے ہیں یا نہیں۔

تماشائی: مجھےنہیں لگتا کہ اس طرح کے ناٹک کا دفاع کیسے کیا جاسکتا ہے۔

نمائندہ: مجھے بتائیے، جب آپ ایک تھیٹر میں جاتے ہیں، کیا آپ اس کی توقع نہیں کرتے کہ جو کچھ آپ دیکھ رہے ہیں وہ برحق اور حقیقی ہو؟

تماشائی: کسی صورت بھی نہیں! میں صرف پوچھتاہوں کہ مجھے صرف برحق اور حقیقی شے ہی دکھائی جائے گی ۔

نمائندہ: میں آپ کی ذاتی رائے کی تردید اور اس بات پر اصرار کرنے کی بدولت معافی کا خواستگار ہوں کہ یہ ہر گز آپ کی مطلوبہ شے نہیں ہے ۔

تماشائی: یہ انوکھی بات ہے! اگر مجھے اس کی طلب نہیں، تو منظر نگار کو کیونکر ضرورت ہے کہ وہ منظر نگاری کے قوانین کے تحت ہر سطر کو کامل انداز میں لکھنے کی تکلیف اٹھائے، اور ہرایک عنصر کو اس کی مخصوص کاملیت کے مطابق کیونکر آشکار کرے؟ لباس پہ اتنی توجہ کیونکر دی جائے؟ اس کی حقانیت کو یقینی بنانے کے لیے اتنی رقم کیونکر خرچ کی جائے کہ شاید وہ لباس مجھے (یا میرے تخیل کو) ان زمانوں میں لوٹا دے؟ نہایت سچائی سے اظہارِ جذبات کرنے والے اداکار کی واہ واہ کیونکر زیادہ ہوتی ہے جو الفاظ و حرکات اور ادائیگی کے ذریعے صداقت (فی الواقعہ حقیقت) کے سب سے زیادہ نزدیک پہنچتا ہے، جو مجھے قائل کرتا ہے کہ ایک نقل کی بجائے شے فی نفسہ میری نگاہوں کے سامنے ہے؟

نمائندہ: آپ اپنے احساسات کو نہایت عمدہ اور بطریق احسن بیان کرتے ہیں لیکن اپنے احساسات کو صحیح طریقے سے جان لینا، شاید آپ کی سوچ سے زیادہ کٹھن ہے۔ آپ اس جواب کی بابت کیا کہیں گے کہ ڈرامائی تشکیل کسی بھی صورت میں برحق دکھائی نہیں دیتی، بلکہ یہ صداقت کی محض ایک ظاہری (صورت) ہے؟

تماشائی: مجھے یہ کہنا چاہیے کہ آپ نے ایک پرفریب دلیل پیش کی ہے جو لفظوں کے ایک کھیل سے کچھ زیادہ ہے۔

نمائندہ: اور میں اس بات پر قائم ہوں کہ جب ہم افعالِ روح کی بابت گفتگو کر رہے ہیں، تو (ایسی صورت میں) ہمارے الفاظ دقیق یا لطیف نہیں ہو سکتے؛ اوراس قسم کا لفظی کھیل، روح کی ایک ضرورت کی جانب اشارہ کرتا ہے، جو ہماری اندرونی کیفیات کے (ہو بہو) لائق اظہارنہ ہونے کے کارن شاہراہ تناقض (way      of      antithesis) کو کھوجتی ہے تاکہ سوال کی ہرایک جہت کا جواب نیز ان (جوابات) کے مابین اوسط کو دریافت کیا جائے۔

تماشائی: بہت خوب۔ اپنی بات کی مزید وضاحت کیجیے اور، براہ ِ کرم، مثالوں کے ہمراہ۔

نمائندہ: مجھے ان (مثالوں) کی مدد حاصل کر کے خوشی ہو گی۔ مثال کے طور پر، جب آپ اوپیرا تھیٹر میں ہوتے ہیں، تو کیا آپ جیتی جاگتی (تروتازہ) اور کامل طمانیت کا تجربہ نہیں کرتے؟

تماشائی: ہاں، میرے نزدیک تمام تر عناصر کی باہمی ہم آہنگی کی صورت میں کامل ترین (تجربہ) حاصل ہوتا ہے۔

نمائندہ: لیکن جب اچھے لوگ وہاں ملتے ہیں اور ایک دوسرے کو اپنے ہاتھوں میں پکڑی ہوئی پرچیوں پر لکھے ہوئے نغمے گا کر خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں نیز تمہیں اپنا پیار، اپنی نفرت، اپنے جذبات اور جنگی و ماتمی نغمے گا کر سناتے ہیں، تو (اس وقت) کیا تم کہہ سکتے ہو کہ تمام تر یا جزوی اظہار، مبنی بر صداقت ہے؟ یا، پھر کہنے دیجیے کہ صداقت کے کسی مظہر کا حامل ہے؟

تماشائی: دراصل، غور و خوض (کی چھلنی سے گزارنے) پر ایسا کہنا میرے لیے دشوار ہے کہ وہ (اظہار) صداقت کا حامل تھا۔ ان میں سے کوئی بھی شے مجھے حقیقی محسوس نہیں ہوتی۔

نمائندہ: تاہم اس کے باوجود آپ (اظہار کی اس) نمائش سے مکمل طور پر مطمئن اور خوش ہوتے ہیں؟

تماشائی: بلا تردید، مجھے ابھی تک یاد ہے کہ اس مجموعی بے یقینی کے سبب کیسے اوپیرا کا مذاق اڑایا جاتا تھا۔ اوراس سب کے باوجود کیسے میں نے اس (اوپیرا) سے غیرمعمولی حظ اٹھایا نیز اس کے مزید مکمل ہونے اور نکھرنے پر زیادہ سے زیادہ تسکین حاصل کرتا ہوں۔

نمائندہ: اور پھر آپ اوپیرا تھیٹر میں ایک کامل فریب کا تجربہ نہیں کرتے؟

تماشائی: فریب، یہ ایک مناسب لفظ نہیں ہے، — اور پھر بھی، ہاں! — لیکن نہیں۔

نمائندہ: یہاں آپ مکمل تضاد کا شکار ہیں، جو کہ حیلہ جوئی (تاویل) سے کہیں زیادہ بدتر ہے۔

تماشائی: چلیے، ہم آہستہ آہستہ آگے بڑھتے ہیں؛ امید ہے کہ جلد ہی ہم (جہالت کی تاریکی سے علم کے) اجالے تک پہنچ جائیں گے۔

نمائندہ: (علم کے) اجالے تک پہنچتے ہی ہم اتفا ق رائے تک پہنچ جائیں گے۔ اس مقام پر کیا آپ مجھے مزید سوالات کرنے کی اجازت دیں گے؟

تماشائی: مجھے (تذبذب کی) دہری مشکل سے دوچار کرنے کے بعد آپ کا فرض ہے کہ سوال و جواب کے ذریعے مجھے اس سے باہر نکالیے۔

نمائندہ: ایک اوپیرا تھیٹر کی نمائش کے دوران آپ کے احساسات کو بجا طور پر دھوکا نہیں کہا جا سکتا؟

تماشائی: میں آپ سے متفق ہوں۔ ہنوذ یہ فریب کی ایک قسم ہے؛ اس سے متصل کوئی شے ۔

نمائندہ: مجھے بتائیے، کیا آپ خود کو تقریباً فراموش نہیں کر بیٹھتے ؟

تماشائی: تقریباً نہیں، بلکہ (اس موقع پر جب) سارے کا سارا (اوپیرا) یا اس کے کچھ اجزاء بہترین ہوں۔

نمائندہ: کیا آپ سحر زدہ ہوتے ہیں؟

تماشائی: (جی ہاں)، ایک سے زیادہ مرتبہ ایسا ہو چکا ہے۔

نمائندہ: کیا آپ بیان کر سکتے ہیں کہ کس قسم کے موقع پر ایسا ہوا؟

تماشائی: بہت سے (موقعوں پر)، اس کو بیان کرنا دشوار ہے۔

نمائندہ: تاہم آپ پہلے ہی مجھے بتا چکے ہیں جب ایسا ہونے کا امکان سب سے زیادہ ہوتا ہے، یعنی، جب ہر شے ہم آہنگ ہوتی ہے۔

تماشائی: بے شک۔

نمائندہ: کیا یہ کامل اظہار(نمائندہ) خود اپنے آپ سے یا کسی دوسرے قدرتی عنصر کے ساتھ ہم آہنگ تھا؟

تماشائی: یقیناً، اپنے آپ سے تھا۔

نمائندہ: اور کیا یہ ہم آہنگی ایک فن پارہ تھی؟

تماشائی:لازماً ہونا چاہیے۔

نمائندہ: ہم اس بات کا انکار کر چکے ہیں کہ اوپیرا تھیٹر صداقت کی ایک خاص قسم کا حامل ہے۔ ہم اس بات پر ڈٹے ہوئے ہیں کہ اوپیرا کسی صورت بھی اس شے سے وفادار نہیں ہے جس کی نمائندگی(یا اظہار) کا دعویدار ہے۔ لیکن کیا ہم اس کی مخصوص داخلی صداقت کا انکار کر سکتے ہیں جو بطور فن پارہ اس کی تکمیل سے پیدا ہوتی ہے ؟

تماشائی: ایک عمدہ اوپیرا اپنی ایک (الگ) چھوٹی سی دنیا تخلیق کرتا ہے، جس میں تمام امور متعین کردہ (مقرر) قوانین کے مطابق انجام پاتے ہیں، جسے اس کے اپنے قوانین کے مطابق پرکھنا اور اپنی روح کے مطابق محسوس کرنالازم ہے ۔

نمائندہ: کیا اس سے یہ نتیجہ اخذ نہیں ہوتاکہ فطرت (نیچر) اور فن کی صداقت دو مختلف اشیاء ہیں، نیز فنکار کو اور اس کی (فنکارانہ) جدوجہد کو ایسا نہیں کرنا چاہیے کہ وہ اپنے کام کو فطرت (نیچر) کی کارگزاری کا رنگ دے؟

تماشائی: لیکن پھر بھی اکثر و بیشتر فنکارانہ کاوش میں فطرت کی کارگزاری کا ایک عنصر شامل ہوتا ہے۔

نمائندہ: میں اس شے کا انکار نہیں کر سکتا۔ تاہم دوسری طرف، کیا میں یکساں طور پر صاف گو ہو سکتا ہوں ؟

تماشائی: کیوں نہیں؟ ہمارا کام اس وقت (باہمی) تعریف کرنا نہیں ہے۔

نمائندہ: پھر میں(اس بات کا) اثبات کرنے کا جتن کروں گا کہ ایک فن پارہ صرف اس تماشائی (ناظر) کو ہی فطرت (نیچر) کی کارگزاری کے مشابہ دکھائی دے سکتا ہے جو سراسر غیر تعلیم یافتہ (غیر مہذب) ہو ؛فنکار ایسے شخص کی تحسین کرتا ہے اور اسے سراہتا ہے اگرچہ وہ نچلے ترین درجے پر کھڑا ہوتا ہے۔ تاہم بدقسمتی سے مذکورہ شخص تبھی مطمئن ہو سکتا ہے جب فنکار اس کے درجے تک اتر آئے؛ وہ فنکار کے ساتھ اوپر نہیں اٹھے گا جب کہ اپنی تخلیقی صلاحیت کے بل بوتے پر ایک سچے فنکار کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنے کام کے پورے دائرے کو مکمل کرے۔

تماشائی: آپ کا تبصرہ سوال طلب ہے؛ مگر (اپنی بات کو) جاری رکھیے۔

نمائندہ: آپ اسے جانے نہیں دیں گے جب تک آپ خود اپنی ذات کو ایک درجہ اوپر نہ اٹھا لیں۔

تماشائی: آئیے، اب ذرا مجھے جرح کرنے اور سوال کرنے والے کی جگہ دیجیے تا کہ میں ہمارے (زیرِبحث) موضوع کو ترتیب دیتے ہوئے آگے بڑھاؤں۔

نمائندہ: میں اسے ابھی بھی بہتر سمجھوں گا۔

تماشائی: آپ کہتے ہیں کہ صرف ایک غیر تعلیم یافتہ شخص ہی کسی فن پارے کو فطرت (نیچر) کی کارگزاری سمجھے گا؟

نمائندہ: بے شک۔ آپ کو وہ پرندے یاد ہیں جنھوں نے ایک عظیم استاد کی بنائی ہوئی تصویر میں سے شاہ دانوں (چیریز) کو کھانے کی کوشش کی تھی؟

تماشائی: کیا اس سے پتہ نہیں چلتا کہ شاہ دانوں (چیریز) کو نہایت قابل تعریف انداز میں تصویر کا روپ دیا گیا تھا؟

نمائندہ: کسی صورت بھی نہیں۔ اس کے برعکس مذکورہ مثال مجھے اس بات پہ قائل کرتی ہے کہ ایسے نقاد ہی حقیقی چڑیوں کی مثل تھے (چڑیاں ہی حقیقی صاحب ذوق نقاد تھیں)۔

تماشائی: تاہم میں اس سبب آگے نہیں بڑھ سکتا کہ یہ کام نہایت عمدہ کے علاوہ کچھ اور ہوگا۔

نمائندہ: کیا میں آپ کو ایک زیادہ جدید کہانی سناؤں؟

تماشائی: میں دلائل کی بجائے کہانیاں سننا پسند کروں گا۔

نمائندہ: ایک عظیم ماہر طبیعیات و حیوانیات کے پاس بہت سے گھریلو جانور تھے جن میں سے ایک بوزنہ (بے دُم بندر: Ape) بھی تھا، جو کسی روز کھو گیا اور طویل کھوج کے بعد لائبریری سے دریافت ہوا۔ وہ وحشی جانور قدرتی تاریخ (Natural      History) پر غیر مجلد نسخوں کے مابین زمین پر بیٹھا تھا جو اس کے آس پاس بکھرے پڑے تھے ۔وہ شریف آدمی (اس بے دم بندر کو) اپنے شعبے سے وابستہ کتابوں کے واسطے اس قدر پرجوش دیکھ کر وہاں پہنچا، اور نہایت حیرت اور رنجیدگی کے عالم میں اس شخص نے مذکورہ بندر کو دیکھا کہ وہ مختلف صفحات پر بنی ہوئی حشرات کی تصاویر کو رات کا کھانا سمجھ کر کھا رہا تھا۔

تماشائی: یہ ایک عجیب کہانی ہے ۔

نمائندہ: اور امید ہے کہ برمحل بھی۔ آپ تانبے کی اُن رنگین چادروں کا کسی عظیم فنکار کے فن پارے سے موازنہ نہیں کریں گے؟

تماشائی: بے شک، نہیں۔

نمائندہ: لیکن آپ مذکورہ بندر کو غیر تعلیم یافتہ و تربیت یافتہ شائقین میں شمار کریں گے؟

تماشائی: ہاں، اور لالچی قسم (کے شائقین) میں! آپ نے مجھ میں ایک انوکھے خیال کو جنم دیا۔ کیا ایک غیر تعلیم یافتہ و تربیت یافتہ جوان آدمی بالکل اسی انداز میں ایک فن پارے کے فطری (بموجب نیچر) ہونے کا متمنی نہیں ہوتا تاکہ وہ اسں (فن پارے) سےنہایت فطری (نیچرل) انداز میں محظوظ ہو سکے، جو کہ بالعموم ایک عامیانہ اور بازاری قسم کا راستہ ہے؟

نمائندہ: میں مکمل طور پر اس موقف کا حامی ہوں۔

تماشائی: چنانچہ آپ اس بات پر قائم ہیں کہ ایک فنکار اپنی سطح سے اس وقت نیچے اترتا ہے جب وہ اس اثر کو پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے؟

نمائندہ: مجھے اس کا پختہ یقین ہے۔

تماشائی: لیکن یہاں میں پھر سے ایک تضاد محسوس کرتا ہوں۔ آپ نے مجھے فی الوقت، کم از کم نیم تعلیم یافتہ و تربیت یافتہ، تماشائیوں کی فہرست میں شمولیت کا اعزاز بخشا۔

نمائندہ: ان (تماشائیوں) میں جو سچے صاحب ذوق نقاد بننے کے راستے پر گامزن ہیں۔

تماشائی: پھر مجھے سمجھائیے کہ ایک کامل فن پارہ مجھے فطرت کی کارگزاری کیونکر دکھائی دیتا ہے؟

نمائندہ: کیوں کہ یہ آپ کی عمدہ فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ کیونکہ یہ نیچر سے بالاتر ہونے کے باوجود غیر فطری نہیں ہے۔ ایک کامل فن پارہ انسانی روح کا فعل ہوتا ہے، اور ان معنوں میں، فطرت کی ایک کارگزاری پر بھی مبنی ہوتا ہے۔ لیکن چونکہ یہ بکھری ہوئی اشیاء کویکجاکرتا ہے، جنھیں یہ تمام تر تفصیلی اہمیت اور قدروں کے ساتھ پیش کرتا ہے، (لہذا) یہ فطرت سے بالاتر ہے۔ اس کی تفہیم صرف اس ذہن کی مرہون ِ منت ہے جس نے توازن کے ساتھ جنم لیا اور پرورش پائی نیز ایسا (ذہن) ہی اس شے کو دریافت کرتا ہے جو کہ بذاتِ خود کامل اور مکمل ہے اور خود اپنے آپ کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ اس کے برعکس ، ایک عام تماشائی اس بات کا تصور نہیں رکھتا؛ وہ ایک فن پارے اور بازاری اشیاء دونوں کے ساتھ یکساں برتاؤ کرتا ہے۔ لیکن ایک حقیقی صاحب ذوق نقاد نہ صرف نقل کی صداقت کو دیکھتا ہے، بلکہ چناؤ کی مہارت، ساخت کا نکھار اورچھوٹی سی دنیائے فن (آرٹ) کی برتری کو بھی نگاہ میں رکھتا ہے؛ وہ محسوس کرتا ہے کہ اسے فنکار کے مقام تک اوپر اٹھنا ہے تا کہ وہ اس کے کام سے (صحیح طور سے) محظوظ ہو سکے؛ وہ محسوس کرتا ہے کہ اسے لازماً اسے اپنی بکھری ہوئی زندگی میں سے اپنی ذات کو یکجا کر کے نکالنا ہے، فن پارے کے ساتھ جینا ہے، اسے بار بار دیکھنا ہے، اور اس کے ذریعے سے ایک اعلیٰ وجودی درجہ کو پہنچنا ہے۔

تماشائی: بہت خوب کہا، میرے دوست۔ میں نے بسا اوقات تصاویر، ڈرامہ اور شاعری کی دوسری اقسام سے متعلق اسی طرح کے خیالات کا اظہار کیا ہے، اورآپ کی مطلوبہ اشیاء سے متعلق ایک احساس (میرے اندر ) موجود تھا ۔ میں مستقبل میں اپنے آپ اور فن پاروں پر زیادہ توجہ مرکوز کروں گا۔ لیکن اگر میں غلطی پر نہیں ہوں ، تو ہم اپنے موضوعِ اختلاف کو کافی پیچھے چھوڑ آئے ہیں ۔ آپ نے مجھے یہ یقین دلانے کی خواہش کا اظہار کیا تھا کہ اوپیرا تھیٹر میں رنگارنگ نقوش کے حامل تماشائی ہی قابل قبول ہیں، اور میں ابھی تک یقین نہیں کرتا اگرچہ ہم متفق ہو چکے ہیں کہ اس دعوے کی حمایت میں آپ کے دلائل کیا ہیں، اور کس عنوان کے تحت مجھے رنگا رنگ نقوش کے حامل ناظرین کو تسلیم کرنا ہے ۔

نمائندہ: خوش قسمتی سے، آج رات اوپیرا دہرایا جا رہا ہے؛ مجھے بھروسا ہے کہ آپ اس موقع کو ہاتھ سے نہیں جانے دیں گے ۔

تماشائی: کسی صورت بھی نہیں۔

نمائندہ: اوررنگا رنگ نقوش کے حامل مردوں کا کیا؟

تماشائی: (ان کی موجودگی) مجھے (اوپیرا تھیٹر) سے دور نہیں بھگائے گی کیونکہ میں خود کو ایک چڑیا سے برتر شے سمجھتا ہوں۔ نمائندہ: مجھے امید ہے کہ (ہم دونوں) کا مشترکہ مفاد شاید ہمیں جلد ہی پھر سے (کسی جگہ) یکجا کر دے۔

Recommended Posts

Leave a Comment

Jaeza

We're not around right now. But you can send us an email and we'll get back to you, asap.

Start typing and press Enter to search