جدید ٹیکنالوجی اور ویدک مابعد الطبیعیات میں یگانگت: اکھنڈاڈی داس (ترجمہ: عاصم رضا)

 In ترجمہ

تعارف: اکھنڈاڈی داس ایک ویدانتی فلسفی اور وشنو ہندو ماہر الہٰیات ہیں ۔ وہ ہندوستان کی فلسفیانہ اور روحانی روایات پر بی بی سی کے ایڈوائز اور براڈ کاسٹر ہیں ۔ انکا یہ مضمون معروف آن لائن مجلے aeon میں جنوری 2019 میں چھپا۔

 

آپ شاید اس رائے کے حامل ہوں کہ عام طور پر مغربی تخلیق سمجھی جانے والی ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز مشرقی اور مغربی فلسفے کے مابین حائل خلیج کو وسعت عطا کریں گی ۔ تاہم ایک قدیم ہندو فلسفیانہ نظام ویدانت کا مطالعہ کرنے کے دوران میں اس کے برخلاف آثار دیکھتا ہوں ۔کمپیوٹر ، مجازی حقیقت اور مصنوعی ذہانت کی بڑھتی ہوئی واقفیت کے کارن ، ’جدید‘ معاشرے ماضی کی نسبت بہتر مقام پر ہیں کہ اس (ویدانتی ) روایت کے معارف کو سمجھ پائیں ۔

ویدانت ، لگ بھگ آٹھ سو سے پانچ سو قبل مسیح میں سنسکرت زبان میں لکھے جانے والے مٹھی بھر مذہبی متون اپنشد کی مابعد الطبیعیات کا خلاصہ کرتا ہے ۔ اپنشد برصغیر کی بیشتر فلسفیانہ ، روحانی اور صوفیانہ روایات کو بنیاد فراہم کرتے ہیں ۔ اپنشد ہی البرٹ آئن سٹائن ، اروِن شروڈنگراور ورنر ہائزن برگ جیسے جدید سائنس دانوں کے لیے بھی منبع فیض ہیں جب وہ بیسویں صدی میں قدری طبیعیات کو سمجھنے کے جتن کر رہے تھے ۔

ویدانت کے نزدیک عقلی جدوجہد کا آغاز ایک منطقی نقطہ سے ہوتا ہے یعنی ہمارا ذاتی شعور ۔ کیسے ہم اپنے مشاہدے اور تجزیے کے نتائج پر اعتبار کر سکتے ہیں تاوقتیکہ ہم اس بات کو جان لیں کہ کون مشاہدہ اور تجزیہ کر رہا ہے ؟ مصنوعی ذہانت ، مشینی اعصابی جال (neural-nets) اور مشینی عمیق مطالعہ (Deep-Learning) جیسے طریقہ ہائے کار نے چند جدید ناظرین کو یہ دعوی کرنے کی ترغیب دلائی ہے کہ انسانی ذہن محض ایک پیچیدہ عمل کرنے والی نامیاتی مشین ہے اور شعور ، اگر کوئی وجود رکھتا بھی ہے ، تو شاید اس معلوماتی پیچیدگی سے وجود پانے والا ایک ثمر (property)ہے ۔ تاہم یہ نقطہ نظر موضوعی انا اور شعوری سرگرمی کے دوران ہمارے تجربے میں آنے والے ’لالی‘ یا ’مٹھاس‘ جیسے ذہنی مواد سے منسلک حالتوں کے تجربات جیسے پیچیدہ معاملات کو بیان کرنے سے قاصر رہتا ہے ۔ مادےسے مظہریاتی شعور کا جنم کیسے ہو سکتا ہے ، اس سوال کو حل کر لینا ایک نام نہاد مشکل مسئلے کی صورت برقرار رکھتا ہے ۔

ویدانت موضوعی شعور اور ہمارے دماغ و جسم کی معلومات کو بروئے کار لانے والے نظام (information-processing-system) کو ایک دوسرے میں ضم کرنے کا ایک نمونہ پیش کرتا ہے ۔یہ نظریہ دماغ اور حواس کو ذہن سے جدا کرتا ہے۔ تاہم یہ ذہن اور فعلِ شعور کے مابین بھی تفریق کرتا ہے جس کو یہ ذہنی نتائج کے تجربے سے گزارنے کی صلاحیت کہتا ہے ۔ ہم ثنائی اصولوں کے تحت کام کرنے والے اپنے ثنائی مشینی آلات کے ضمن میں اس تصور سے آگاہ ہیں ۔ کمپیوٹر سے منسلک کیمرہ ، مائیکروفون یا دوسرے حساس آلات کائنات کے بارے میں معلومات اکٹھی کرتے ہیں اور اس کو مادی توانائی کی بے شمار اقسام ، جیسا کہ امواج ِ نور ، ہوائی دباؤ کی لہریں وغیرہ وغیرہ میں تبدیل کر دیتے ہیں جیسا کہ ہمارے جسمانی حواس کرتے ہیں ۔ سینٹرل پراسیسنگ یونٹ (CPU) اس ڈیٹا پر افعال انجام دیتا ہے اور متعلقہ نتائج پیدا کر دیتا ہے ۔ یہ بات ہمارے دماغ کے بارے میں بھی درست ہے ۔ دونوں تناظرات میں دکھائی دیتا ہے کہ ایسے میکانکی طریقہ ہائے کار کے درمیان موضوعی تجربے کا کردار بہت معمولی رہ جاتا ہے ۔

جب کہ کمپیوٹر ہماری مدد کے بغیر ہی بے شمار افعال سرانجام دے سکتے ہیں نیز ہم اپنے اور مشین کے مابین رابطے کی غرض سے مشینی پردہ سیمیں کی مدد سے (ضروری ہدایات ) ان تک بہم پہنچاتے ہیں ۔ بعینہ ، ویدانت فرض کرتا ہے کہ ہمارا شعور ، جس کو ویدانت آتما کہتا ہے ، ذہنی نتائج کا ایک ناظر ہے ۔ آتما افعال سرانجام دیتی ہے اوراسی کو شعور کے بنیادی خصائص کا حامل کہا جاتا ہے ۔ اس تصور کو مشرقی روایات میں مراقبہ کی مشقوں میں کھنگالا جاتا ہے ۔

آپ شاید آتما کو اس طرح تصور میں لے آئیں ۔ فرض کریں کہ آپ سینما میں ایک فلم دیکھ رہے ہیں ۔ یہ ایک ہیجان خیز فلم ہے اور آپ ایک کمرے میں مقید مرکزی کردار کے بارے میں نہایت متجسس ہیں ۔ اچانک ہی فلم میں دروازہ دھڑام سے کھل جاتا ہے اور وہاں کوئی کھڑا ہوتا ہے ۔ آپ ہڑبڑا کے کھڑے ہو جاتے ہیں ۔ تاہم مکئی کے بھنے ہوئے بھٹوں کو گرا دینے کے سوا ، آپ کو کون سا حقیقی خطرہ درپیش ہے ؟ سینما میں اپنے جسم کی موجودگی کے احساس کو عارضی طور پر بھولتے اور پردے پر نظر آنے والے کردار کی شناخت کرتے ہوئے ، ہم اپنی جذباتی حالت سے کھلواڑ کرنے کی اجازت دے رہے ہیں۔ ویدانت سجھاتا ہے کہ آتما یعنی ہمارا شعوری وجود ظاہری کائنات کو بالکل اسی انداز میں شناخت کرتا ہے ۔

اسی تصور کو مجازی حقیقت کی کلی ِ حالت ِ اشتیاق (all-consuming-realm)میں بھی تلاش کیا جا سکتا ہے ۔ کسی کھیل کا آغاز کرتے ہی ہم سے اپنے کردار یا ’اوتار‘ (avatar) کو منتخب کرنے کو کہا جائے، جو دراصل ایک سنسکرت لفظ ہے جس کا مطلب ہے ’اعلیٰ جہت سے نازل ہونے والا‘ ۔ قدیم متون میں ، اس لفظ کو الوہی تجسیم کے لیے بولا جاتا ہے ۔ تاہم کھیلنے والے کے لیے لفظ کا استعمال موزوں لگتا ہے کیونکہ وہ اپنی ’’روایتی‘‘ دنیا سے نیچے اترنے کو منتخب کرتا ہے اور مجازی دنیا میں داخل ہو جاتا ہے ۔ اپنے اوتار کی جسمانی جنس ، جسمانی خوبیوں اور مہارتوں کا تعین کرچکنے کے بعد ہم سیکھتے ہیں کہ اس کے اعضاء اور آلات کو کیسے استعمال کرنا ہے ۔ جلد ہی ہماری توجہ ہمارے مادی جسم سے ہٹ کر مجازی کائنات میں اوتار کی قابلیتوں کی جانب مبذول ہو جاتی ہے ۔

ویدی نفسیات میں آتما کی سرشت ہے کہ وہ آہنکارا(Ahankara) یا مصنوعی انا (pseudo-ego) کے نفسیاتی تشخص کو اختیار کر لیتی ہے ۔ ایک لاپرواہ شعوری ناظر کی بجائے ، ہم اپنے آپ کو سماجی روابط اور جسم کی مادی خوبیوں کے حوالے سے بیان کرنے کا انتخاب کرتے ہیں ۔ لہذا، میں اپنی جنس ، نسل ، قدکاٹھ ، عمر اور اپنے خاندانی ، پیشہ وارانہ اور معاشرتی کردار اور ذمہ داریوں کے حوالے سے خود پر یقین رکھتا ہوں ۔ ایسی شناخت کے تحت ، میں خود پر بیتنے والے اور حالات کے پیدا کردہ حسب ِ حال جذبات جیسا کہ خوشی ، امتحان یا پریشانی میں مشغول ہو جاتا ہوں ۔

مجازی کائنات پر مبنی کھیل کے دوران ، ہمارا اوتار ہمارے حقیقی وجود اور اس کے الجھاؤ کی ایک ڈھیلی ڈھالی نقالی کرتا ہے ۔ دوسروں کےاوتار کے ساتھ ہمارے رابطے کے دوران ہم شاید اپنی حقیقی شخصیت یا احساسات کے بارے میں تھوڑا بہت آشکار کر پائیں اوراس کے ردعمل میں دوسروں کے بارے میں کچھ جان پائیں ۔ بلا شبہ اوتاروں کے مابین روابط ، خاص طور پر مسابقت یا مقابلہ بازی کی صورت میں اکثر و بیشتر شدیداور اوتاروں کے پس پردہ افراد کے احساسات سے بظاہر بے نیاز معلوم پڑتے ہیں ۔ آن لائن کھیلوں کے دوران بننے والے رابطہ دیگر تعلقات کا نعم البدل نہیں ہیں ۔ اس کی بجائے ، جیسا کہ جان ہاپکنز یونیورسٹی کے محققین نے اندازہ لگایا ہے کہ اس بات کے امکان نہایت ہی کم ہیں کہ حقیقی دنیا میں بھرپور سماجی زندگی بسر کرنے والے لیکن مشینی کھیل کھیلنے والے (gamers) ، مایوسی اور مشینی کھیلوں کے عادی ہو جائیں ۔

ایسے مشاہدات ویدانت کے دعوی کی عکاسی کرتے ہیں کہ آہنکار یا مصنوعی انا میں جذب ہو نے کے کارن بامعنی تعلقات قائم کرنے کی ہماری صلاحیت زائل ہو جاتی ہے ۔ جس قدر میں ایک مادی وجود کی حیثیت سے اپنے آپ کو حسی شہوات کا حامل گردانتا ہوں ، اتنا ہی میں اپنی خواہشات کو تسکین دینے والی اشیاء کو صورت دے سکتا ہوں نیز باہمی خود غرضی پر مبنی تعلقات کو قائم کر سکتا ہوں ۔ تاہم ویدانت سجھاتا ہے کہ محبت مفروضہ تشخص کی بجائے ، وجود کے عمیق ترین حصوں سے پھوٹنی چاہیے ۔ ویدانت دعوی کرتا ہے کہ محبت روح کے روح سے سمبندھ کا تجربہ ہے ۔ آہنکارا کی بنیاد پر دوسروں کے ساتھ روابط قائم کرنا ، الفت کی محض ایک مضحکہ خیز نقالی پیش کرتا ہے ۔

آتما کی صورت میں ہم اپنی تمام عمر ایک ہی موضوعی وجود کی حیثیت سے برقرار رہتے ہیں ۔ ہمارا جسم ، ذہنیت اور شخصیت ڈرامائی انداز میں تبدیلی سے گزرتے رہتے ہیں تاہم اس سب کے دوران ہم اپنے آپ کو ایک مستقل ناظر کے طور پر جانتے ہیں ۔ تاہم اپنے آس پاس ہر شے کو تغیر کا شکار دیکھتے ہوئے ، ہم اس شک میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ ہم بھی تغیر اور بڑھاپے کے شکار ہیں نیز معدومیت کی جانب رواں دواں ہیں ۔ ہومر کے لکھاریوں کی مانند دوسری صدی قبل مسیح کے ایک مصنف پتنجلی کا منظم کردہ یوگ ، آتما کو بے رحم ذہنی اذیت سے آزاد کروانے کے ایک عملی طریقے نیز شعور ِ محض کی اقلیم میں اس کو ایک مناسب مقام عطا کرنا کا متمنی ہے ۔

مجازی حقیقت میں ، اکثر اوقات برائی کی قوتوں کے ساتھ جنگ ، خطروں کا سامنا اور مجازی دنیا میں فنا ہونے سے بچنے کے لیے ہم کو دعوت دی جاتی ہے ۔ ہماری جدوجہد کے باوجود، ناگزیر ہمیشہ ہو کر رہتا ہے یعنی ہمارا اوتار مارا جاتا ہے ۔ کھیل ختم ۔ معروف بات ہے کہ کھلاڑی خاص طور پر بیمار کھلاڑی اپنے اوتاروں کے ساتھ گہرے رشتے میں بندھ جاتے ہیں اور اپنے اوتاروں کو نقصان پہنچنے پر رنج کا شکار ہو سکتے ہیں ۔ خوش قسمتی سے ، عام طور پر ہمیں ایک دوسرا موقع دیا جاتا ہے : کیا آپ دوبارہ سے کھیلنا چاہتے ہیں ؟ یقیناً ، ہم چاہتے ہیں ۔پچھلی مرتبہ کے سیکھے ہوئے اسباق سے کام لیتے ہوئے شاید ہم پہلے سے زیادہ بہتر ایک نیا اوتار تخلیق کرتے ہیں ۔ یہ شے ویدانت کے عقیدہ تناسخ کی عکاسی کرتی ہے خاص طورپر حلول کی صورت میں یعنی ایک شعوری وجود کا ایک دوسرے مادی جسم میں منتقل ہو جانا ۔

بعض مبصرین ویدانت کی تعبیر یوں کرتے ہیں کہ اس کے نزدیک حقیقی کائنات نہیں ہے اور جو کچھ بھی ہے وہ صرف شعوری ادراک ہی ہے ۔ تاہم ویدانت کے متون کا ایک وسیع مطالعہ مجازی حقیقت سے نسبتاً زیادہ یگانگت رکھتا ہے ۔ مجازی کائنات کلیت میں اعداد و شمار (data) ہیں تاہم اس وقت ’حقیقی‘ بن جاتی ہے جب وہی معلومات اپنے آپ کو سکرین پر تصاویراور آوازوں یا کن ٹوپ (headset) کے ذریعے ہمارے حواس کے سامنے ظاہر کرتی ہے ۔ بعینہ ویدانت کے نزدیک قابل مشاہدہ اشیاء کی صورت میں خاجی کائنات کا متغیر ظہور ہوتا ہے جو اس کو مشاہدہ کرنے والے ابدی و دائمی ماہیت ِ شعور کے مقابلے میں ادنی ٰ ’حقیقی ‘ بنا دیتا ہے ۔

قدیم رشی عارضی کائنات میں خود کو مشغول کر لینے سے مراد لیتے ہیں کہ آتما کو ایک فریب میں مبتلا ہونے کی اجازت مل جائے یعنی ہمارا شعور ایک خارجی منطر کا کوئی حصہ ہے اور اس کے ساتھ ہی تکلیف سے گزرے یا حظ اٹھائے ۔ اس بات کو تصور میں لانا دلفریب ہے کہ پتنجلی اور دوسرے بانیان ِ ویدانت مجازی حقیقت سے کیا خلق کرتے : غالباً ، سراب اندر سراب تاہم ایک ایسا سراب جو ہمیں ان کے پیغام کی توانائی کو سمجھنے میں ہمیں مدد فراہم کرتا ۔

Recommended Posts

Leave a Comment

Jaeza

We're not around right now. But you can send us an email and we'll get back to you, asap.

Start typing and press Enter to search