ایک نوجوان ایکٹوسٹ کے نام ایک خط: تھومس مرٹن (ترجمہ: حسن رحمان)

جم فورسٹ کا خط بنام تھومس مرٹن

1966 کے اوائل میں، مَیں گونا گوں پریشانیوں کا شکار تھا۔ میں اپنی جدوجہد سے بھی نامطمئن تھا۔ باوجود اس کے کہ ویت نام جنگ کے خلاف مزاحمت مسلسل بڑھ رہی تھی، جنگ کی آگ بھی ہر ہفتے بھڑک رہی تھی یعنی محاذ پر امریکی فوجیوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا تھا، ویت نام پر زیادہ سے زیادہ مقدار میں بم برسائے جا رہے تھے اور زخمیوں اور ہلاک شدگان، جن میں اکثریت غیر متحارب عوام کی تھی، کی تعداد بڑھتی چلی جا رہی تھی۔ ’نیپام‘، ایک بم جو ایسا لیس دار مادہ خارج کرتا تھا جو انسانی جسم سے چپک جایا کرتا تھا، کئی لوگوں کی گفتگو میں ایک نیا لفظ بن چکا تھا۔ امریکی ٹیلی ویژن پر ان امریکی فوجیوں کی تصاویر دکھائی جا رہی تھیں جو سگرٹ لائٹر سے ویت نامی کسانوں کے گھروں کو جلا رہے تھے۔ امریکی فضائیہ کے جرنیل کرٹس لیمے نے تجویز دی کہ ’ویت نام پر اتنی بمباری کی جائے کہ وہ پتھر کے زمانے میں لوٹ جائے‘۔ حتی کہ ’فیصلہ کن اقدام‘ اٹھانے، یعنی جوہری ہتھیار (ایٹم بم) استعمال کرنے کی بات بھی کی جا رہی تھی۔   

یہ وہ پس منظر تھا جس میں مَیں نے، 15 فروری کو، مرٹن کے نام ایک اضطرابی خط لکھا۔

’’ویلینٹائن ڈے گزر چکا ہے لیکن ویت نام جنگ کے الاؤکی حدت ذرا بھی کم نہیں ہوئی۔ وہاں محبت نے اپنے اظہار کا ایک مختلف راستہ چنا ہے۔ غالباً یہ بڑی موزوں بات ہے کہ نیویارک ٹائمز میں آج چھپنے والے ایک مضمون کا عنوان ہے: ’’ویت نامی کاشتکار جنگ کے متاثرین ہیں‘‘۔

میں اعتراف کرتا ہوں کہ آج میں ایک بہت تاریک موڈ کا شکار ہوں۔ ایک وجہ یہ کہ میں نظریاتی گفتگوؤں سے نڈھال ہو چکا ہوں۔ آج صبح میں احتجاجی حکمت عملی پر آپ کے لکھے گئے مقالےکے بارے میں کچھ خیالات کا اظہار کرنے بیٹھا۔ میں یہ لکھنے جا رہا تھا کہ کچھ الفاظ مثلاً امن پسند (پیسیفسٹ) کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ردّی کی ٹوکری میں پھینک دینا چاہیے۔ اور یہ کہ عوام سے بات چیت کے لیے یقیناً ہمیں ایک نیا طرزِ گفتگو درکار ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے، جب میں یہ باتیں سوچ رہا ہوں، کہ کوئی سُن بھی رہا ہے؟ ہاں آپ تو ہیں ہی، آپ پڑھیں گے بھی اور شاید میرا تبصرہ کسی موضوع پر آپکی سوچ کا رخ تبدیل بھی کرے گا یا اسے مزید مستحکم کرے گا۔ شاید یہ آپ کو کچھ اور لکھنے پر اکسائے۔ سو آپ تو ہیں ہی، پر کوئی اور بھی ہے جو سُن رہا ہو؟ وہ مسیحی جو بپتسمہ اور مملکتِ مسیحؑ کلیسا میں داخلے کے خواہشمند ہیں، وہ آپ کے الفاظ بڑی عقیدت سے اپنی ڈائری میں تحریر کریں گے اور شاید ان سے متاثر بھی ہوں گے۔ لیکن ساتھ ساتھ ویت نام میں قتل و غارت کا سلسلہ بغیر کسی تعطل کے جاری ہے۔ مجھے اس خیال سے اتنی گھن آتی ہے کہ اسے لکھنے کے بارے میں سوچنا ہی محال ہے۔ امریکی ہوائی جہاز مسلسل ویت نام پر بم گراتے چلے جا رہے ہیں۔ اس وقت میں جو اس خط کی ہرایک سطر لکھنے میں صرف ہوا، ویت نام میں ایک درجن بے گناہ شہری مارے جا چکے ہونگے۔ اس جنگ کا خاتمہ ناقابل تصور ہے۔

آج صبح ہی میں نے ایک معروف کیتھولک ماہانہ جریدے کو ایک تفصیلی خط لکھا کہ اس کا ایک حالیہ اداریہ، جس میں کیتھولک پیس فیلوشپ (CPF) کے ویت نام اعلامیے پر کڑی تنقید کی گئی تھی، کیسے کمزور استدلال پر قائم ہے اور ویت نام کے زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔  میں اپنے آپ کو 1930 کی دہائی کے ایک جرمن شہری کی طرح تصور کر رہا تھا جو یہ کہنے کی کوشش کر رہا ہو کہ یہودیوں کو کیوں کنسنٹریشن کیمپوں میں نہیں بھیجنا چاہیے۔ 

یہ سب بہت واضح ہے۔ ہمیں قتل نہیں کرنا چاہیے۔ ہمیں بے گناہوں کو نہیں مارنا چاہیے۔ ہمیں انسانوں کو زمین پر داغ نہیں سمجھنا چاہیے اور قبیلوں کو زمینی رقبوں کی صورت میں یا اقوام کو بساطِ شطرنج کے خانوں کی طرح نہیں دیکھنا چاہیے۔

لیکن ان حقائق سے امریکی مسیحیوں (اور کیتھولکس) سے زیادہ ناواقف اور کوئی بھی نہیں۔ میں نے کیتھولک حاضرین سے مسیحؑ کے بارے میں بات کرنا چھوڑ دی ہے۔ میں بس ان سے انصاف کے بارے میں بات کرتا ہوں، سادہ، بنیادی انصاف۔ میرا خیال ہے کہ میں سمجھ گیا ہوں کہ قدرتی قانون نے چرچ میں اپنا راستہ کیسے بنایا۔ یہ بس ہم سے یہ چاہتا تھا کہ اگر ہم پاک نہیں بنتے تو تو منصف مزاج تو بنیں۔ یعنی کم از کم اتنا تو ہو۔

ایسا کیوں ہے کہ ہم انسانی زندگی کی اہمیت سے، اس دنیا کی عظیم خوبصورتی سے اور اس اسرار سے لاتعلق ہو چکے ہیں جو ہمارے داخل اور خارج میں پایا جاتا ہے؟

اور ہم کیا کر سکتے ہیں؟ کیا کیا جا سکتا ہے؟ ہم وہ کیسے بن سکتے ہیں جو ہم ابھی نہیں ہیں؟ ہم وہ ذمہ داری کیسے اٹھا سکتے ہیں جس سے ہم ابھی تک گریزاں ہیں؟

میں نہیں چاہتا کہ میری گفتگو سے مایوسی ٹپکے۔ میں ہرگز ہماری جدوجہد سے تائب نہیں ہوا۔ لیکن میں حقیقتاً اس چیونٹی کی طرح محسوس کرتا ہوں جو ایک چوٹی پر چڑھنے کی کوشش کر رہی ہو، اور سونے پر سہاگہ یہ کہ دور سے اسے ایک برفانی تودے کے آ گرنے کا خطرہ بھی لاحق ہو۔ بھاگنے کا کوئی رستہ نہیں ہے لہذا میں ایسا رستہ ڈھونڈ بھی نہیں رہا۔ میں اپنی جدوجہد جاری رکھوں گا اور ہاں، گاہے لمحاتی تسلی میسر آ جاتی ہے؛ دوستوں کی اور فنکاروں کی بدولت تھوڑا سکون مل جاتا ہے۔ میں ہنوز اپنے مذہبی عقیدے پر قائم ہوں۔

لیکن میں اپنی پریشانی کا تذکرہ اس لیے کر رہا ہوں کہ شاید آپ کے پاس تسلی کے کچھ الفاظ ہوں جو مجھے سہارا دے سکیں۔ لیکن یہ مت سمجھیں کہ ایسا ہونا ضروری ہے۔ میں آپ کو اپنے روحانی ندی دریا کے طور پر استعمال نہیں کرنا چاہتا۔ لیکن ماضی میں آپ کے عارفانہ الفاظ نے مجھے سوچ کے نئے زاویے ڈھونڈنے میں مدد مہیا کی ہے۔

مرٹن کا جواب، مجھے آج تک موصول ہونیوالے تمام جوابات میں، سب سے زیادہ کارآمد ثابت ہوا۔

عزیزی جم،

تمہارے خط کا شکریہ اور ویت نام جنگ میں عوام کی افسوسناک ہلاکتوں کے بارے میں ضروری  آگاہی مہیا کرنے کا بھی شکریہ۔ میں تمھارے اضطراب اور ’تاریک موڈ‘ کو سمجھ سکتا ہوں۔ مجھے خوشی ہے کہ تم نے اس بارے میں لکھا۔ جیسا کہ تم نے کہا کہ ان سوالات کے کوئی واضح جوابات نہیں ہیں لہذا تمہارے لیے یہ سمجھنا آسان ہوگا کہ میرے پاس ’تاریک موڈ‘ کے مسائل کے لیے کوئی جادوئی حل نہیں ہیں۔ اگر ہوتے، تو انہیں میں اپنے کافی ’تاریک موڈ‘، جنکا مجھے اکثر سامنا کرنا پڑتا ہے، سے نمٹنے کے لیے استعمال کر لیتا۔ لیکن یہ صورتحال اس زندگی کا ایک ناگزیر جزو ہے اور مجھے کچھ زیادہ بہتری کی امید بھی نہیں۔

دراصل میں ایک بات کہوں گا جو غالباً تمہاری اس کیفیت کا سبب ہے۔ دیگر عقلی اور واضح وجوہات کے علاوہ، تم بلاشبہ تھکاوٹ کا بھی شکار ہو۔ میں نہیں جانتا کہ تم جسمانی طور پر تھکے ہوئے ہو یا نہیں، لیکن تم اپنی ذہنی اور جذباتی توانائی CPFاور اس کے مواقف پر صرف کرتے رہے ہو۔ تمہیں ایسا کرنے کی طاقت بہتری کی امید سے ملی لیکن اب یہ امید ماند پڑ رہی ہے لہذا ’تاریک موڈ‘ کی شکل میں اس کا ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ اچھا پہلی بات تو یہ کہ تمھہیں وقتاً فوقتاً ایسے ردعمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے لہذا تمہیں سیکھنا پڑے گا کہ یہ ردعمل آ سکتا ہے اور جب یہ آئے تو تم اس سے کیسے نپٹو گے۔ کوئی ایسا کام مت کرو جو اس ردعمل کو بڑھاوا دے، کجا یہ کہ ایسا کرنا ضروری ہو (اور ایسے موقع آئیں گے)۔    

دوسری بات یہ کہ نتائج کی امید پر تکیہ نہ کرو۔ جب تم اس طرح کے کسی کام، جو بالکل مسیحؑ کے بارہ حواریوں کی طرح کا کام ہے، کا بیڑہ اٹھا لیتے ہو جو تم نے اٹھایا ہے، تمہیں اس صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کہ تمہاری جدوجہد بظاہر بالکل بےثمر رہے یا کوئی کامیابی حاصل نہ کر پائے حتی کہ کچھ ایسے نتائج پر منتج ہو جو تمہاری امیدوں کے یکسر برخلاف ہوں۔ جیسے جیسے تم ان حقائق سے آگاہ ہوتے جاؤ گے، تم اپنی جدوجہد کا محور نتائج کو نہیں بلکہ جدوجہد کی حقانیت، اس کے جوہر اور اس کی سچائی کو بناتے جاؤ گے۔ اور اس راستے میں بھی تمہیں کافی کچھ برداشت کرنا پڑ سکتا ہے کیونکہ دھیرے دھیرے تمھاری جدوجہد کسی آدرش کے لیے نہیں بلکہ چند افراد کے لیے مخصوص ہو جائے گی۔ افراد کا یہ دائرہ چھوٹا اور زیادہ ٹھوس ہوتا جاتا ہے۔ آخر میں، جیسا کہ تم نے بھی سرسری ذکر کیا، یہ ہمارے ذاتی انسانی تعلقات ہیں جو ہر چیز کو بچا پاتے ہیں۔

تم الفاظ سے بیزار ہو اور تم پر کوئی دوش نہیں۔ میں خود بھی بعض اوقات ان سے تنگ پڑ جاتا ہوں۔ سچ کہوں تو میں بھی آدرشوں اور تحریکوں سے بیزار ہوں۔ یہ ایک عجیب و غریب بات ہے لیکن مجھے امید ہے تم میرا مدعا سمجھ پاؤ گے۔ آدرشوں، نعروں اور غیر واضح تصورات میں مشغول ہونا بہت آسان ہے اور یہ ایک ایسا تھیلہ اٹھانے کے مترادف ہے جس میں معنویت کی رمق بھی باقی نہ رہی ہو۔ اور پھر انسان میں بلند سے بلند آواز میں نعرے لگانے کی آرزو جنم لیتی ہے تاکہ اس خالی تھیلے میں کسی طلسماتی طریقے سے معنویت بھری جا سکے۔ تمہارا آدرشوں سے بیزار ہونا تمہیں انکی بےمعنویت سے بچانے میں مدد دیتا ہے۔ تمہارا وجود نعروں کی کثرت کے خلاف شکوہ کناں ہے اور وہ ٹھیک کہہ رہا ہے۔      

یار، امریکہ ایک شدید بیمار ذہنییت میں مبتلا ہے۔ ویت نام جنگ ایک المناک بیماری ہے۔ عوام کے اذہان میں غلط باتیں ڈال دی گئی ہیں اور وہ سر تا پا مفروضوں سے بھر دیے گئے ہیں۔ وہ ٹھیک طریقے سے نہیں سوچ سکتے۔ ان میں اچھا کام کرنے کی کچھ نا کچھ آرزو ضرور ہے اور چند افراد میں تو یہ خواہش بہت زیادہ ہے لیکن صبح شام جو پراپیگنڈہ ان پر انڈیلا جاتا ہے، اس کے بعد کسی بھی فرد کا، وہ جو مرضی کر لے، ٹھیک طرز سے سوچنا ممکن ہی نہیں رہتا۔ ایک عام کیتھولک غالباً باقی عوام سے زیادہ برے حال میں ہے۔ اس کے ذہن میں اس کے مذہب کے کچھ قوانین تو ہیں لیکن وہ اس کی زندگی کو کوئی آہنگ دینے سے قاصر ہیں۔ کسی نے اس سے کبھی اس ہم آہنگی کا مطالبہ بھی نہیں کیا یا اسے سمجھایا بھی نہیں کہ اس ہم آہنگی کی کیا اہمیت ہے۔ اسے بس کچھ بنیادی جنسی اخلاقیات کے بارے میں بتایا گیا ہے (وہ ان کی پابندی کرے یا نہیں، لیکن وہ جانتا ضرور ہے کہ وہ کس مقام پر کھڑا ہے، یا کس غلطی کا ارتکاب کر چکا ہے)۔ اسے بتایا گیا ہے کہ اس زندگی میں صلیب اور قربانی کا عملی مفہوم یہی ہے کہ ہر بیس سال بعد جنگ میں شمولیت اختیار کی جائے۔ اس نے یہ کام مثالی انداز سے، ایک کمال فراخدلی سے سرانجام دیا ہے اور اس کا خمیازہ بھی اس بربریت کی شکل میں بھگتا ہے جو اس کی شخصیت میں نتیجتاً در آئی۔ وہ اس بربریت کا قصوروار نہیں، اور یہ اس کے خیال میں ایک مکمل انسان ہونے کا شاید ایک جزو ہے۔ جنگ اور امن کے اس ماحول میں ، کونسل اس بارے میں جو مرضی کہے، ایک عام کیتھولک اور ایک عام پادری سب ہی اس ذہنیت کا شکار ہیں۔ اور جب سوال ایک دور دراز ہونیوالے جانی نقصان کا ہو جو روزانہ کی بنیاد پر زندگی کو معنی بخش رہا ہو، تو وہ اس نقصان کو انسانی المیے نہیں بلکہ ایک غیر انسانی ہندسے کے طور پر دیکھتے ہیں۔ وہ ہلاک شدگان کو انسان کے طور پر نہیں دیکھنا چاہتے، وہ اپنے علاوہ کسی اور کی ہلاکتیں چاہتے ہیں کیونکہ وہ کرختگی کا شکار ہو چکے ہیں اور اس بربریت کی تسکین کا جو اُن پر مسلط کر دی گئی ہے، یہی جائز طریقہ ہے۔ یہ صرف ملک کے لیے نہیں بلکہ خدا کے لیے بھی درکار ہے۔   

تم جتنا غصہ کرنا چاہو، کر سکتے ہو، یہ صورتحال ہے ہی ایسی۔ لیکن غصیلے پن کے نقصانات بھی ہیں۔ یہ تمھیں اسی جاہلانہ صورتحال میں دھکیل دیتا ہے۔ ’ہمیں نتائج چاہئیں‘ کے مفروضے کی مثال لو۔ ویت نام میں ہونیوالے اس عظیم احمقانہ پن، جسکی قیمت اتنی بڑی ہے اور اثرات اتنے افسوسناک، کے پیچھے کونسی طاقت کارفرما ہے؟ وہ طاقت امریکی ذہن کا یہ یقین ہے کہ اسے سب پتہ ہے اور یہ سب سے طاقتور ہونے کے ذرائع رکھتا ہے۔ جب ہم اس یقین پر سوال اٹھا پائیں گے، تو ہم اس شک کا علاج کرنے ’کسی بھی‘ حد تک جا سکتے ہیں جو ہمارے اذہان میں ڈال دیا گیا ہے۔ امریکی بالادستی کا پورا مغالطہ اس وقت ویت نام میں خطرے میں ہے۔ اور اس کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے، وہ بہت واضح ہے۔ یہ مغالطہ اپنے آپ کو پاش پاش کر رہا ہے اور نتیجتاً امریکی عوام آدھی پاگل ہو چکی ہے۔ امریکی قومی تشخص ویت نام جنگ کی وجہ سے دھیرے دھیرے تباہ ہو رہا ہے اور بربادی کے اس عمل میں اور بھی کئی نقصان ہو رہے ہیں۔ ہم اب جان پا رہے ہیں کہ امریکی بالادستی کا پورا مغالطہ کس درندگی اور کن انتہاؤں پر استوار ہے۔ ویت نام دراصل امریکی لاشعور کا عکاس ہے۔ نجانے ہم اس تجربے سے باہر آنے اور اپنی بقا میں کامیاب ہو پائیں گے کہ نہیں۔ میرا خیال ہے کہ شاید ہم کامران ٹھہریں۔ لیکن تمہارا، میرا اور ڈٰین بیریگن کا اضطراب اور پریشانی، ہم سب کا غم اسی بیماری کی وجہ سے ہے۔ اور یہ جاننا بہت المناک ہے کہ ہم سب، ہمیں اچھا لگے یا برا، اسی قومی بیماری کے شکنجے میں ہیں۔ یہ امر کہ تمہاری، میری اور ہم جیسوں کی رائے اکثریت کی رائے سے بالکل الگ ہے، بظاہر ہمیں اس بیماری سے محفوظ رکھتا ہے، لیکن کیا حقیقتاً ایسا ہی ہے؟ کیا یہ واقعی ہمیں قومی بیماری کے المناک اثرات سے بچا پاتا ہے؟ ظاہر ہے کہ نہیں۔ ہم نظریاتی سطح پر یہ سمجھتے ہیں، لیکن سچی بات ہے کہ ہم دل سے اس حقیقت کو تسلیم نہیں کرتے اور ہم اپنے آپ پر یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ۱) کم از کم ہم تو شریف، باشعور انسان ہیں ۲) ہماری شرافت اور شعور اس درجے کا ہے کہ یہ اوروں کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔ اب اس خیال میں جزوی سچائی تو یقیناً ہے، میں یہ نہیں کہہ رہا کہ اپنا سماجی اور اخلاقی شعور اوروں کو منتقل نہ کیا جائے۔ لیکن پھر اوروں کا اپنے نظریات کے بارے میں بھی یہی خیال ہے۔  

تم نے کئی کارآمد باتیں کی ہیں، کئی عمدہ خیالات کا اشتراک کیا ہے اور صفِ جاہلاں نے ان خیالات پر اچھا ردعمل دیا ہے لیکن قومی سطح پر تمھاری اس جدوجہد سے کچھ خاص حاصل نہیں ہوا۔ CPF ویت نام کی جنگ کو نہیں روک پائے گی، حتی کہ یہ زیادہ تر کیتھولکس کو جنگ اور امن کے بارے میں ایک مختلف طریقے سے سوچنے پر بھی مجبور نہ کر سکے گی۔  یہ محض کئی کیتھولکس کے اذہان میں موجود تاثرات میں ایک تاثر بن کے رہے گی، ایسا تاثر جسکے بارے میں لوگ ایک غیر واضح جذباتی ردعمل، موافق یا مخالف، رکھتے ہیں۔ پھر بھی غالباً، اگر تم اپنی کوشش جاری رکھو، تم شاید قومی رائے تشکیل دینے اور عوامی ضمیر بیدار کرنے کی طویل جدوجہد کا آغاز کر پاؤ گے۔ تمہیں کتنی کامیابی ملے گی؟ یہ خدا ہی جانتا ہے۔ ایک واضح نتیجے کے ضمن میں تم اور میں محض یہ امید کر سکتے ہیں کہ ہم شاید اس معاشرے کو مسیحی سچائی کا ایک مفہوم دکھانے میں کچھ کامیاب ہو پائیں گے اور اس کے نتیجے میں کچھ لوگ شاید چند معاملات کو راست فکری سے دیکھنے کے قابل ہو جائیں اور یوں خدا کے رحم کے مستحق بن جائیں اور اپنی زندگی میں معنویت تلاش کر پائیں، اور کچھ اور لوگوں کو بھی ایسا کرنے پر مجبور کر دیں۔ جہاں تک بات ہے کسی بڑی تبدیلی کی، تو وہ تمھارے اور میرے ہاتھ میں نہیں، لیکن وہ اچانک رونما ہو سکتی ہے اور ہم اس میں مددگار بن سکتے ہیں۔ لیکن اپنی زندگی ذاتی تسکین کے اس تصور کے گرد تشکیل دینا بے معنی ہے کیونکہ ہو سکتا ہے ہمیں یہ بڑی تبدیلی نصیب نہ ہو  اور ویسے یہ اتنی اہم ہے بھی نہیں۔       

یعنی تمہارے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ تمہاری جدوجہد کے بارے میں تمہاری اپنی رائے بہت زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ تمہارا کام اس کا مشاہدہ کرنے والوں کے ذہن میں تمہارا ایک تشخص بنا رہا ہے۔ تم اس کے ذریعے اپنے آپ کو بے معنویت اور تباہی سے بچانے کی کوشش کر رہے ہو۔ یہ تمہارے کام کا موزوں استعمال نہیں۔ تمھاری جدوجہد سے جو اچھائی جنم لے گی، اسکا منبع تم نہیں بلکہ یہ امر ہوگا کہ اپنے مذہبی عقیدے سے وفاداری کی راہ میں تم نے اپنے آپ کو خدا کی محبت میں استعمال ہونے دیا ہے۔ اس بات پر غور و خوض کرو اور دھیرے دھیرے تم اس سوچ سے آزاد ہو پاؤ گے کہ تمھیں نتائج کے ذریعے کچھ ثابت کرنے کی ضرورت ہے۔ اور تم اس طاقت کے لیے زیادہ مددگار ثابت ہوپاؤگے جو تمہارے شعوری ادراک کے بغیر تمہارے ذریعے کارفرما ہوگی۔   

آخرکار سب سے اہم بات کسی جھوٹ کے پیچھے زندگی صرف کرنا نہیں بلکہ زندہ رہنا ہے، اور ہم بہترین چیزوں کو بھی فرضی داستانوں میں تبدیل کر دیتے ہیں۔ اگر تم اپنے آپ کو مختلف تحریکی مقاصد کے شکنجے سے نکال پاؤ اور محض مسیحؑ کے سچ  کی بالادستی کی جدوجہد کرو، تو تم زیادہ کام کر پاؤ گے اور ناگزیر مایوسیوں کی ٹوٹ پھوٹ کا نسبتاً کم شکار ہو گے۔ کیونکہ مجھے آگے ڈھیر ساری مایوسی، اضطراب اور الجھن کے علاوہ کچھ نظر نہیں آ رہا۔ مجھے امید ہے کہ ہم ایک عالمی جنگ سے بچ پائیں گے لیکن کیا ہم اس سے بچنے کے اہل ہیں؟ میں ہمارے بارے میں اور اس ملک کے بارے میں اتنا پریشان نہیں جتنا ان لوگوں کے بارے میں جو عالمی جنگ کی صورت میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔ جنہوں نے نیویارک حتی کہ امریکہ کا نام بھی نہیں سُنا ہوگا۔ یہ افسوسناک ہوگا کہ وہ ہماری حماقت اور ہمارے گناہوں کی قیمت چکائیں۔   

امید کی ایک روشن کرن اس جدوجہد میں نہیں جو ہمارا خیال ہے کہ ہم کر سکتے ہیں، بلکہ خدا میں ہے۔ وہ خدا جو اس جدوجہد میں سے ایک ایسے طریقے سے کچھ بہتری برآمد کر سکتا ہے جس سے ہم آگاہ نہیں ہو سکتے۔ اگر ہم اس کی رضا کے مطابق چلیں، تو ہم بہتری کے اس عمل میں کچھ ہاتھ بٹا پائیں گے۔ لیکن ہم لازماً پہلے سے اس بارے میں نہیں جان سکتے۔۔۔۔۔

اب میں امن پسندی کے تصور کی طرف آتا ہوں: میرا خیال ہے کہ ہمارے مقاصد کے لیے یہ لفظ بالکل بیکار ہے۔ یہ ہرگز اس منزل کو بیان نہیں کرتا جسکی طرف CPF گامزن ہے اور مجھے لگتا ہے کہ یہ اسکی ایک غلط تصویر پیش کرتا ہے۔ آج امن پسندی کی بات کرنا لوگوں کو جنگ کا حمایتی (یعنی جنگ ایک طرزِ زندگی کے طور پر) ہونے کا جواز مہیا کرتا ہے، جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ گویا امن پسندی کا کوئی متبادل بھی ہے۔ انسان امن پسند بھی ہو سکتا ہے اور جنگ پسند بھی۔ لیکن ویت نام جنگ کا مخالفت کا علاوہ کوئی راستہ نہیں۔ اور یہ کوئی اخلاقی آدرش یا تحریکی معاملہ نہیں ہے، بلکہ جیسا کہ تم نے کہا یہ سادہ سا بنیادی انسانی انصاف کا، قدیمی فطری قانون کا معاملہ ہے۔

اچھا اب بہت ہو گیا۔ میں بس تمہارے خط کا جواب دینا چاہتا تھا لیکن شاید میں زیادہ ہی جذباتی ہو گیا۔ لیکن یہ کم از کم ایک اشارہ تو ضرور ہے، اور اگر اس اشارے کا کوئی فائدہ نہیں تو پھر بھی یہ اتنا تو ظاہر کرتا ہے کہ میں تمھارے کام آنا چاہتا ہوں۔ میں یقیناً تمہیں اور ٹوم کو اپنی دعاؤں میں یاد رکھوں گا۔ 

نیک خواہشات کے ساتھ۔ فی المسیحؑ

تھومس مرٹن

ماخذ: Thomas      Merton’s      Letter      to      a      Young      Activist

Recommended Posts

Leave a Comment

Jaeza

We're not around right now. But you can send us an email and we'll get back to you, asap.

Start typing and press Enter to search