میکس ویبر اور معاصر عہد کی تشخیص: رابرٹ زارٹسکی (مترجم: عاصم رضا)

نوٹ:    رابرٹ زارٹسکی   آنرز کالج ، یونیورسٹی اوف ہیوسٹن  میں جدید فرانسیسی تاریخ کے پروفیسر ہیں ۔ ان  کا یہ مضمون 24 جولائی 2019ء کو ’’ فارن افیئرز‘‘ نامی  مجلے میں شائع ہوا ۔

1919ء کے اوائل میں جرمنی   کو ایک ناکام ریاست بننے کا خدشہ لاحق  تھا  ۔بڑے پیمانے پر ہونے والی  جنگ ،   خانہ جنگی  میں تبدیل ہو  چکی تھی  جس نے انقلابیوں  اور  رجعت پسندوں ، عالمگیریت  اور علاقائیت کے حامیوں  نیز عوام الناس اور فوج کو ایک دوسرے کے بالمقابل لا کھڑا کیا ۔میونخ شہر ایک  خونی اکھاڑہ  تھا   : چند مہینوں کے مختصر سے عرصہ  میں   بویریا کے ایک  بادشاہ ، ایک اشتراکی وزیراعظم اورایک  سوویت جمہوریت پسند  ، اس   شہر کے حکمران بنے  ۔ اول الذکرتخت سے معزول ہوا ، دوسرے کا قتل ہوا ، اور تیسرے کے حامیوں نے خون ریزی کا بازار گرم کیا ۔  میونخ  یونیورسٹی کے ایک پروفیسر وکٹر کلیمپرر نے اپنی ڈائری میں لکھا ، ’’ ہر شے نیست و نابود ہے ، خون میں  لت پت ہے ، اور تم ہمیشہ ، ایک ساتھ خوشی اور غمی کے متمنی رہتے ہو ‘‘۔

ایسے واقعات نے ’’ سیاست بطور طرزِ زندگی ‘‘ نامی اس لیکچر کو پس منظر فراہم کیا جس کا بڑی شدت سے انتظار تھا اور جو کلیمپرر کے ساتھی میکس ویبر نے اسی سال (1919ء ) میں دیا تھا ۔(ٹھیک)  سو برس بعد اس سے بہتر متون چند ایک ہی  ہیں جو ہمارے (اپنے ) اپنے زمان و مقام میں شبانہ روز بڑھتے ہوئے  مہلک اور متشدد واقعات  کی تفہیم کی غرض سے رہنمائی کا فریضہ انجام دے پائیں ۔بالخصوص کرشماتی سیاست دان سے متعلق ویبر کی بحث   نیز  ذمہ داری  کی اخلاقیات (  ethics of   responsibility)  اوراذعائی / اعتقاد کی  اخلاقیات(ethics   of   conviction) کے مابین ویبر کے بیان کردہ امتیازات کی بحث، غالباً  ویبر کے معاصر دور کی بجائے ہمارے  زمانے  سے کہیں زیادہ متعلق ہے ۔

ایک تخلیقی انقلابی قوت

1918ء میں جب ویبر میونخ پہنچا تو وہ ’’ ہائیڈل برگ کے افسانوی کردار‘‘  (the   myth   of   Heidelberg) کی حیثیت سے معروف تھا ۔ اُس کو ایسی شہرت قرون وسطیٰ میں قائم ہونے والی اس یونیورسٹی میں ہی حاصل ہو چکی تھی جہاں کئی برس پہلے اس کا شاندارکیریئر ،  نروس بریک ڈاؤن سے دوچار ہونے  کے سبب   ناگہانی طور پر ختم ہو گیا  ۔ سست روی کے ساتھ صحتیاب ہوتے ہی ویبر  اپنی نادرِ روزگار کتاب ’’پروٹسنٹ اخلاقیات  و  سرمایہ داری کی روح  اور معیشت و  معاشرہ ‘‘  (The   Protestant   Ethic   and   the   Spirt   of   Capitalism   and   Economy   and   Society) کو تشکیل کرتے ہوئے  قانون اور تاریخ  کے حوالے سے اپنی تحقیق میں واپس لوٹ گیا ۔ اس کی پیشہ وارانہ قطعیت اور شخصی راستبازی نے دوستوں اور نقادوں دونوں ہی  پر بے حد گہرا اثر چھوڑا ۔ ماہرمعیشت جوزف  شوپیٹر(Joseph   Schumpeter)  ، ویبر کے ’’ عمیق  اثرات‘‘  کی بابت حیرت زدہ تھا؛ وجودی فلسفی کارل جاسپرس(Karl   Jaspers)  نے ویبر میں ’’ ایک ایسے آدمی کو کھوجا جس نے اپنی فکر کو  انسانی تجربے  کی گرفت میں آنےو الی ہر ایک شے کے لیے مختص کر چھوڑا  تھا‘‘  ؛  اور ماہر سماجیات رابرٹ میشل (Robert   Michels) کے بقول ، ویبر ’’ جرمنی کا فردِ موعود  (up-and-coming   man)،  مصیبت کی گھڑی  میں محافظ ‘‘  تھا ۔

وہ ضرورت  کی گھڑی 1914ء میں آن پہنچی ۔ جنگ چھڑنے پر پچاس برس  کے ویبر نے فوج میں بھرتی ہونے کی کوشش کی تاہم شنید ہے کہ اس  کی درخواست مسترد ہوئی ۔ محاذ ِ جنگ کی بجائے اس نے کئی ہسپتالوں کی سربراہی  کرتے ہوئے داخلی محاذ پر خدمات سرانجام دیں  ۔  ویبر نے  عملے کی تنخواہوں جیسے اہم معاملات سے لے کر کھانے پکانے کے برتن میں اپنے بال دھونے کا شوق رکھنے والی باورچن کے حقیقی معاملات  کو اپنے روایتی جزرسی (باریک بین ) انداز میں  نمٹایا ۔ ویبر نے مورچہ بند  فوجی مڈبھیڑ  کے ہولناک نتائج کو براہ راست دیکھا ۔ اپنی نگہداشت میں  نادار اور اپاہج لوگوں کی دیکھ بھال کے ساتھ ساتھ اس کو اپنے چھوٹے بھائی ، برادرِ نسبتی  اور محاذِ جنگ پر ہلاک ہونے والے بے شمار دوستوں کی موت  کو بھی جھیلنا پڑا ۔

پہلے پہل،  ویبرکو یقین  تھا  کہ جرمنی ایک خالصتاً دفاعی جنگ لڑ رہا تھا ۔ تاہم جلد ہی اس نے جان لیا کہ حکومت ِ وقت احمقوں اور شرپسندوں کے ہاتھوں میں کھیل رہی تھی ۔ یہ یقین اس وقت مزید پختہ ہو گیا جب حکومت نے انکشاف کیا کہ وہ فرانس ، بلجیم اور  روسی سلطنت کے حصوں پر قبضہ کرنے کی خواہش مند تھی  نیز (جرمن بادشاہ ) قیصر  نے جرمن آبدوزوں  (U-boats)کو  اتحادی تاجروں اور مسافروں کے جہاز وں   پر بے لگام  چھوڑ دیا ۔ ویبر نے خبردار کیا کہ ایسا فعل نہ صرف ایک جنگی جرم تھا  بلکہ  بربنائے خطا بھی تھا ۔ یہ حکمت ِ عملی ناکام ہو جائے گی اور جرمنی کو عالم ِ اقوام میں اچھوت بنا  کر دم لے گی ۔ اس نے کہا ، ’’ اگر معاملات ایسے ہی چلتے ہیں تو ہمارے اور  ساری دنیا کے مابین  جنگ یقینی ہے ‘‘  ۔

1918ء میں ویبر بذات خود جنگ کے کئی محاذوں پر تھا ۔ جنگ ِ عظیم اول کو ختم کرنے والے معاہدہ ورسیلز    میں  جرمنی کو جنگی  نقصانات اور اس کے نتیجے  میں ہونے والے نقصانات کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے    ’’ جنگی جرائم   جیسی مہلک شق‘‘   بھی شامل تھی ۔ اگرچہ ویبر نے اعتراف کیا کہ اس کی حکومت کئی غلطیوں کی مرتکب ہوئی ، اس نے اتحادیوں کو خبردار کیا کہ مذکورہ شق نے   ذمہ داری کو تقصیر کے ساتھ گڈمڈ کر دیا  اور بالآخر ہلاکت خیز ثابت ہو گی ۔ اس نے لکھا کہ تقصیر ناقابل واپسی ماضی پر عائد ہوئی جب کہ ذمہ داری نے ایک غیرمتعین مستقبل کی جانب فرائض کو منتقل کر دیا ۔ ماضی  کے اعمال  کا گناہ جرمنی پر ڈالتے ہوئے ، اتحادیوں نے آئندہ کی ذمہ داریوں سے جان چھڑوائی ۔

ویبر نے اس وقت بھی اسی رائے کو اختیار کیا  جب  اس نے  جرمن قوم پرستوں پر تنقید کی  ، جو’’ ہم سب پر حکومت کرنےو الے جنونی جتھے ‘‘کی مذمت کرنے کی بجائے  اپنےہی ملک کو خیالی دشمنوں   سے جنگ ہارنے کا الزام دیتے تھے ۔ خیالی دشمنوں  میں یہودی سرفہرست تھے ۔ شدید قوم پرستی  اوریہود   دشمنی   کی بل کھاتی ہوئی رسیوں میں جکڑی  جرمنی کی علمی حیات سے متنفر  ، ویبر نے   یہودی پروفیسروں کی بابت حکومت کے عائد کردہ کوٹے    کی کھلم کھلا مخالفت کرتے  ہوئے سسٹم  کو  برابھلا کہا  جو’’ قابل یہودیوں پر کم تر ذہانت کے حامل آرین  افراد کو ترجیح دیتا تھا‘‘۔

انھی برسوں میں  ویبر نے بائبل (انجیل ) میں بیان کردہ ایک تقریب  سے مشابہت کے حامل   ایک عوامی اجتماع کی قیادت کی ۔  (ویبرکے )ایک شاگرد یعنی فلسفی کارل لووٹ (  Karl Löwith)کے مطابق ، ’’ بے ترتیبی کے ساتھ اُگی ہوئی داڑھی     کے مالک   ویبر کاچہرہ  ، پیغمبروں کے غمگین دمکتے ہوئے چہروں کی یاد تازہ کرواتا تھا ‘‘۔  اس نے اپنے ساتھیوں اور شاگردوں پر ایک قوی تاثر چھوڑا: ا پنی ممتاز کتاب ’’ معیشت اور معاشرہ‘‘ (Economy   and   Society) میں  ویبر نے کرشماتی صلاحیت  (Charisma) کے جدید تصور کو متعارف کروایا ۔ اس نے اسی تصور ( برائے کرشماتی شخصیت) کو   کامیاب ‘اقتدار ‘ (Herrschaft)  یا سیاسی حکمرانی کے بنیادی عناصر   میں لکھا۔  ہم(عام طور سے ) اس خیال کی جانب میلان رکھتے ہیں کہ یا تو کوئی فرد کرشماتی صلاحیت کا حامل ہوتا ہے یا نہیں ہوتا ۔ تاہم ویبر کے نزدیک ، یہ کہنا  زیادہ  بہتر ہے کہ دوسرے لوگ کسی  بندے کی کرشماتی شخصیت کے حامل ہونے  یا نہ ہونے کی بابت فیصلہ کرتے ہیں ۔ درحقیقت ، کرشماتی  صلاحیت ایک وقتی  مگر اہم  کیفیت (کوالٹی )ہے ۔ مذکورہ صلاحیت بیک وقت ایک معروضی  وصف ہے جس کا مالک ایک  مخصوص قسم کا رہنما ہوتا ہے ، اور ایک ایسی  موضوعی حالت ہے جس کا دارومدار دوسروں کی نگاہ پر ہوتا ہے ۔

کرشماتی صلاحیت کا حامل شخص ’’ تاریخ میں ایک تخلیقی انقلابی قوت‘‘  کے   مالک  کے  مفہوم میں   فریڈرش نطشے کے ’’فوق البشر‘‘  (overman)  سے زیادہ دور نہیں  تھا ۔ ویبر پہ جن لوگوں کے  سب سے زیادہ اثرات تھے ، ان میں نطشے  سرفہرست تھا ۔’’فوق البشر‘‘ انسان  کی مانند کرشماتی صلاحیت کے مالک رہنما  اپنے  اپنے زمانوں کی  متذبذب و  متصادم نظریاتی اور علمی قوتوں سے اوپر اٹھنے کے اہل ہیں ۔ وہ کسی زمانے کے سیاسی جذبات اور قطبین پر غالب آ سکتے ہیں ۔ تاہم چونکہ ایسے جذبات عارضی (تھوڑی مدت کے لیے) ہوتے ہیں ، لہٰذا  کرشماتی صلاحیت کے حامل رہنماؤں  کا عروج بھی مختصر وقت کے لیے ہوتا ہے ۔

ایک  طلسم کش  کائنات 

ویبر  سے واقف حضرات   اس حوالے سے نہایت معمولی  شک و شبہ کا شکار تھے کہ ویبر’’اپنے بیان کے مطابق ایک کرشماتی صلاحیت کا حامل شخص تھا‘‘ جیسا کہ اس کے ایک دوست نے زور دیتے ہوئے کہا ۔ 1919ء کے ایک خط میں  ایک طالب علم نے ویبر سے التجا کی کہ وہ قوم کی رہنمائی کرے: ’’ اس وقت سوال یہ ہے کہ آیا ہم  گروہوں اور کثرت افراد  کے سامنے سر جھکا ئیں  گے    یا  اپنی توانائیوں  کا رخ  قابل ذکر نتائج پیدا کرنے  کی سمت موڑ دیں   گے ‘‘ ۔ ویبر کی ایک عوامی تقریر کو سننے کے بعد ، ایک ساتھی نے پکار کر کہا ، ’’اس کے الفاظ، اس کے وجود سے  خارج ہونے والے   ایک تلاطم خیز بہاؤ کی حامل  قوت کے ساتھ  کانوں میں سنائی دیتے ہیں‘‘ ۔ ایام ِ جنگ کے بعد،میونخ   کی ابتر صورتحال میں ایسی ہی بلندو بالا  توقعات اور غیرمعمولی صلاحیتیں ویبر کو ایک ایسا کردار عطا کر دیتی  ہیں جو بہت ہی کم اہل علم کے تجربے میں آتا ہے ۔

چند برس قبل ، ویبر اپنے ساتھی معلمین (اسکالرز) کو ایسے ہی کردار کو قبول کرنے کے خلاف خبردار کر چکا تھا ۔ 1917ء میں ویبر نے ’’سائنس بطور طرز زندگی‘‘ (  Science as   Vocation) کے عنوان سے ایک طلباء تنظیم کے سامنے تقریر فرمائی ۔ تقریر نے بہت زیادہ ہلچل پیدا کی اور اس وقت سے ہی ایک کلاسیک کا درجہ اختیار کر چکی ہے ۔ اس  تقریر میں ویبر سوال اٹھاتا ہے کہ سائنس   کو  بطور طرزِ حیات(vocation) اختیار کرنے کا کیا مطلب ہے ۔اصل جرمن  زبان میں  سائنس کےلیےاستعمال ہونے والا   لفظ  (Wissenschaf ) ، ’’معلمی ‘‘  (scholarship) اور ’’تحصیل علم / آموزش‘‘ (learning)کے لیے بھی  مستعمل  ہے ۔تاہم ایسی آموزش نے آخرکار کس تفہیم تک پہنچایا ؟سائنسی طریقہ کار  کے دباؤ نے    قدیم یونان  سے لےکر روشن خیال یورپ تک دیے جانے والے تمام تر جوابات  کو مٹی میں ملا دیا ۔ سائنس اور ٹیکنالوجی  کی  آمد نے  (انسان و کائنات کو) اس مقام پر پہنچا دیا جس کو ویبر نے ’’ کائنات کی طلسم شکنی ‘‘ (  the disenchantment   of   the   world)  کا عنوان دیا : (یعنی)   قوانینِ فطرت کی دریافت اور استعمال کے ذریعے ، ہم نے  کائنات کے بھید اور بڑائی کو اس کے ذاتی  و علو ی یا داخلی و باطنی معانی  سے محروم کر دیا ہے جس کو ہمارے آباؤاجداد نے اس کی  تہوں (پرتوں ) میں تلاش کیا تھا ۔

(اس صورتحال میں ) کوئی کیا کرے؟ ویبر کے نزدیک ، ایک سائنس دان یا   شعبہ تعلیم سے وابستہ کوئی شخص (academic)، بلاشبہ  وہ آخری بندہ ہے جو اس سوال کا جواب دینے کا اہل ہے ۔ یقیناً، ایک سائنس دان  ہمیں بتا سکتا ہے کہ مختلف عناصر کی یکجائی  یا مختلف النوع متون کے تقابلی جائزے کے ذریعے کیا نتیجہ برآمد ہو گا ۔ تاہم وہ یہ نہیں بتا سکتا کہ ایسا کرنے کی معنویت  کیونکر ہے ۔ ایک ماہر سماجیات کی حیثیت سے ویبر نے مخصوص سماجی مظاہر کے ماخذات اور خصائص کی   پڑتال کو اپنی ذمہ داری سمجھ کر اختیار کیا ۔ تاہم ایک سادہ  وجہ  کی بدولت   اس کی پیشہ وارانہ حدود اس (ذمہ داری) سے آگے  نہیں بڑھیں : وہ دعوی نہیں کر سکتا تھا کہ  ایسی دریافتوں کی داخلی قدر (اہمیت) اُن ثقافتی مفروضوں سے بڑھ کر تھی جو اس کی ذات اور اس کے قارئین و سامعین کے مابین مشترک تھیں ۔

چنانچہ شعبہ علم سے وابستہ حضرات برے رہنما (گائیڈ) بنتے  ہیں ۔ جب بڑے سوالات کی نوبت آتی ہے تو ان کے ہاں بڑے جوابات ڈھونڈے سے نہیں ملتے ۔ زیادہ سے زیادہ وہ تجزیے کے لیے آلات مہیا کر تے ہیں نیز اپنے طلباء کی مدد کرتے ہیں تاکہ وہ اپنی اپنی ذمہ داریوں کی منطق اور نتائج کو بہتر انداز میں سمجھ پائیں ۔ مضمون کے اخیر میں ویبر نے نتیجہ اخذ کیا ، ’’ ہماری نوجوان نسل کی اکثریت  جس پیغمبر کے لیے تڑپتی   ہے، وہ موجود نہیں ہے ‘‘۔

اس سب کے باوجود

تاہم دو برسوں کے اندر ہی ویبر ایک پیغمبر کی حیثیت سے وہاں موجود تھا ، یا تو  اس کردارمیں خود کو ڈھالتے ہوئے یا پھر اس پر یہ ذمہ داری  ڈال دی  گئی تھی   ۔  یہ وہ موقع تھا جب لبرل فری سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کی جانب سے اس کو سیاست بطور طرز ِ حیات  کے موضوع پر گفتگو کرنے کی دعوت دی گئی ۔ طلباء کے مطابق ،ایسے سوالات کا جواب دینے کے لیے ’’ہائیڈل برگ کے افسانوی کردار‘‘سے بہتر کون تھا ؟

آغاز میں ہائیڈل برگ کے افسانوی کردار کو(اس معاملے سے )  ذرا دلچسپی نہ تھی ۔ ویبر نے جواب دیا کہ ’’ایک سیاست دان کے طرزِحیات کے بارے میں گفتگو کرنے کے لیے میں آخری بندہ ہوں ‘‘۔ آخرکاروہ کچھ نرم ہوا  لیکن اپنے فیصلے سے متعلق تذبذب / تضاد کا شکار رہا ۔وہ  اپنے تئیں شکوک کا شکار رہا یہاں تک کہ  جنوری کی ایک برفیلی شام کو  ’’سیاست بطور طرزِ حیات‘‘ (Politik   als   Beruf:   Politics   as   Vocation) کے عنوان سے تقریر کرنے  کو  ایک بے لطف ہال میں داخل ہوا ۔ ایک پرامید اور بڑے مجمع کو گھورتے ہوئے اس نے اعلان کیا: ’’  یہ لیکچر  جو میں آپ کی درخواست پہ دے رہا ہوں ، لازمی طور پر آپ کو کئی طریقوں سے مایوس کرے گا‘‘۔ اس نے خبردار کیا کہ وہ معاصر زمانے کے اہم ترین مسائل کو موضوع بنانے کا متمنی نہیں تھا ۔ اس کی بجائے ، وہ  رسمی (فارمل ) اور تحلیلی (analytic) طریقہ کار کی پابندی سختی سے کرے گا ۔  تاہم  ، سنجیدہ علم و فضل  اور سیاسی مشغولیت  ویبر کے لیے     اتنے ہی ناموافق  تھے جتنا کہ رسمی تجزیہ اور پرخلوص توانائی   کے لیے ۔ بلکہ  ایسے ظاہری تناقضات گہرائی میں ایک دوسرے کی تکمیل کرتے تھے ۔

ویبر نے جرمنی ، سلطنت متحدہ برطانیہ  اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ  میں جدید سیاسی جماعتوں کے ظہور کا باہمی  تقابل کیا ۔ ویبر کی نگاہ میں جوں جوں ان ممالک میں بیوروکریسی مضبوط ہوئی اور عقل کا دور دورہ ہوا ، سیاسی حضرات نے سیاست کے لیے زندگی گزارنے کی بجائے سیاست پر گزربسر شروع کر دی ۔ اس ارتقاء سے کیا مراد بر آئی ، ایک سیاسی زندگی کی ماہیت کے لیے ہی نہیں بلکہ اس کی چاہت کی غرض سے؟  اپنے نوٹسز پر وقتا فوقتا نظر ڈالتے اور اپنے بازوؤں کو بکثرت ہلاتے  ہوئے ویبر نے کہا کہ  کسی کو بھی خودنمائی سے چھٹکارا حاصل نہیں ، بالخصوص تعلیم  (یونیورسٹی)  کے مقدس  پیشہ (ادارے/شعبے) سے وابستہ افراد میں ۔  اگرچہ ایک عالم میں خود بینی ( یا جھوٹا پندارِ ذات  )  خاص طور سے کوئی خطرناک وصف نہیں ہے تاہم  ویبر کے بقول ، سیاست دانوں کے لیے(یہ وصف) لازماً مضر ہے جو ’’اپنے باطن   ‘‘میں   طاقت کےمتلاشی ہوتے ہیں ۔  ایک سیاست دان کےلیے  طاقت کی خواہش  معمول ہے ۔  طاقت  کی خواہش نہ رکھنے والا سیاست دان  اور لفظوں میں دلچسپی نہ رکھنے والا لکھاری دونوں ہی  یکساں احمق ( اور ترکیبی اعتبار سے بے جوڑ) ہیں۔ ویبر کے نزدیک ،صورت حال اس وقت غیرمعمولی رخ اختیار کر لیتی ہے جب   ’’طاقت کی خاطر ہونے والی کشمکش  معروضی نہیں رہتی اور خالصتاً شخصی  نرگسیت  کا روپ دھار لیتی ہے‘‘۔

چنانچہ  ویبر نے   اپنے سامعین کی  توجہ اس سوال کی معنویت کی جانب مبذول کروائی : ’’ایک  شخص کو  کیسا ہونا چاہیے اگر اس کواپنےہاتھ  میں  تاریخ کے پتوار کو تھام  لینے کی اجازت مل  جاتی ہے؟‘‘ (یہاں ایک انوکھا صنفی امتیاز  بھی ہے کیونکہ ویبر کی بیوی میریانا(Marianne) جرمن ڈیموکریٹس کے ایک رکن  کی حیثیت سے بیڈن (Baden) میں   وفاقی پارلیمنٹ  میں خدمات سرانجام دے چکی تھی )۔ ایسے افراد  دو قسم کے مہلک نقائص سے دوچار ہیں: موضوعیت اور غیرذمہ داری ۔ آرزو ِ توجہ میں مبتلا  ہردلعزیز  رہنما (demagogue) میں یہ دونوں گناہ(sin) باہم یکجا ہو جاتے ہیں۔ہر دلعزیز رہنما چونکہ  ہر حال میں من پسند نتیجہ دیکھنے کا متمنی ہوتا ہے لہذا  (ویبر کے نزدیک)  ’’وہ مستقل اداکار بن جانے کے خطرے سے دوچار رہتا ہے‘‘ ۔اپنے ہی وضع کردہ گمانوں (خیالات و تصورات)  میں پہلے سے ہی گرفتار (یا  نرگسیت زدہ )  اس قسم کا رہنما     ،’’ اپنے اعمال کے نتائج کی ذمہ داری‘‘   کو سنجیدگی سے  نہیں لے سکتا ۔(چنانچہ ) ایسی عدم معروضیت   کے نتیجے میں ، ’’ وہ  حقیقی طاقت کی بجائے طاقت کی دلفریب  و ظاہری چمک دمک کے حصول کی طرف لپکتا ہے ‘‘ ۔ اسی اثناء میں ،  (احساس ) ذمہ داری کا فقدان ، ’’ (ہماری )توجہ اس جانب مبذول کرواتا   ہے کہ وہ  (شخص ) طاقت کو   کسی حقیقی مقصد سے منہا کر کے  محض طاقت برائے طاقت  سمجھ کراس سے  لطف اندوز ہو تا ہے‘‘ ۔

ایسے سیاسی اداکاروں سے متعلق ویبر کی بیان کردہ صورت ، اس کی  معاصردنیا  اور ہمارے زمانے دونوں  کے باب میں یکساں  درست ہے ۔ یہاں تک کہ ایسے افراد کے متعلق اس کی بتائی ہوئی صورت  زیادہ درست ہے جو(محولہ بالا صورت  کے برعکس )  اخلاقی مقاصد  کی غرض سے طاقت کے حصول میں کوشاں ہوتے ہیں ۔ وہ دو قسم ( کے لوگوں  ) کی بات کرتا ہے: (پہلے)، وہ لوگ جو’’ اعلیٰ مقاصد کی  اخلاقیات ‘‘  (ethics   of   ultimate   ends) کو  ترجیح دیتے ہیں ، اور (دوسرے) وہ لوگ جو ’’ ذمہ داری  کی   اخلاقیات ‘‘  (ethics   of   responsibility) کے ساتھ وابستہ ہوتے ہیں ۔  اول الذکر  سے ویبر یہ مراد لیتا ہے کہ وہ لوگ جو اپنے اعتقاد ات کی پیروی کے نتائج و عواقب  کے بارے میں  دریافت نہیں کرتے یا پھر ان سے متعلق کسی قسم کی  اذیت میں مبتلا نہیں ہوتے ۔ مقصد ہر دوسرے خیال پر حاوی ہو جاتا ہے ۔ آخرکار،اپنی ذات اور دوسری اشیاء (انسان و کائنات) دونوں کی قربانی کو جواز مل جاتا ہے تاوقتیکہ  ’’ پاک ارادوں کی شمع گل نہیں ہوجاتی ‘‘ ۔

دوسری جانب ، ذمہ داری کی اخلاقیات ہمیشہ اس بات پر زور دیتی ہے کہ (معاملات کی )   دوسری جہت (  another hand) بھی ہے ۔ اس قسم کی اخلاقیات کو بروئے کار لانے والے  لوگ  اس حقیقت   سے آگاہ ہیں جس کو ویبر ’’  انسانوں کے عمومی نقائص‘‘ کہتا ہے ، یعنی  ہم ناقص ، خطاکار (fallible)، اور عین بشر(all   too   human)  ہیں ۔ (چنانچہ ) نتیجہ یہ برآمد ہوتا ہے کہ نتائج و عواقب کو ہمیشہ مدنظر رکھنا لازم ہے ۔ اس نوع اخلاقیات کا پیروکار ،’’ جہاں تک وہ ان (نتائج) کی پیش بینی کے قابل ہے ، خود کو اس مقام پر   نہیں سمجھتا  کہ دوسروں  پر اپنے نتائجِ اعمال کا بوجھ ڈال دے    ؛ وہ کہے گا کہ ان نتائج کی ذمہ داری میرے اعمال کے سر ہے‘‘ ۔ اس (پیروکار)  پر لازم ہے کہ کسی مخصوص نوعیت کے فعل سے متعلق   تمام تر  جانے پہنچانے   مرئی اورغیرمرئی  حقائق کے مکمل بیان  کی غرض سے ہمیشہ آمادہ  رہے  ۔ بقول ویبر ، ایسے شخص سے ملاقات نہایت ہی حوصلہ افزا تجربہ    ہے ، جو اپنے اعمال کے نتائج و عواقب  کے حوالے سے  اپنی ذمہ داری کو بخوبی جانتا ہے ، ’’  (نیز) دل و جان سے اس ذمہ داری کو محسوس کرتا ہے ۔ بعد ازاں ، وہ ذمہ دارانہ  اخلاقیات پر عمل پیرا ہوتا ہے ، اور  اس مقام کے قریب پہنچ جاتا ہے جہاں وہ  کہتا ہے : میں اس جگہ قائم ہوں ؛ میں اس کے سوا کوئی دوسرا فعل انجام نہیں دے  سکتا‘‘ ۔

جیسا کہ ویبر ہمیں یاد دہانی کرواتا ہےکہ اعلی ٰ مقاصد کی   اخلاقیات اور ذمہ داری کی   اخلاقیات کی حدود شاید ہمارے گمان کے مطابق قطعی اور واضح نہیں ہیں ۔ ہم اپنے اعتقادات کے ساتھ چمٹے رہنے کے باوجود ایک مخصوص عمل کی انسانی قیمتوں کاپورا تخمینہ لگا سکتے ہیں ۔ بعینہ ، اپنے اعتقادات کو چھو ڑ دینے  پر آمادگی کے باوجود  ،  ہم ان  کی اہمیت و معنویت  کی کامل  داد دے سکتے ہیں ، خواہ کسی وقت  ان (اعتقادات ) کے نتائج (ہمارے لیے  کتنے ہی )  ناقابل برداشت  (کیوں نہ ) ہوجائیں۔ مزید براں ، ویبراس بات پر  زور دیتا ہے کہ اس طرح کے دو راستوں کے مابین انتخاب کرنے  کے واسطے  کوئی ایک صحیح یا غلط راستہ نہیں ہے ۔ اسی وجہ سے صرف وہی لوگ دونوں طرح کی اخلاقیات کو اختیار کر سکتے ہیں  ، ’’  جو سیاست کو درست معنوں میں کُل وقتی اوڑھنا بچھونا بنا چکے ہیں‘‘ ۔

(تاہم) ویبر کو اس بات کی ضرورت نہیں تھی کہ وہ  جنگ کی بدولت  پریشان حال اور ملکی بدامنی سے دوچار، اپنے سامعین کے روبرو سیاسی طرزحیات کی بابت اپنی المیاتی تفہیم  کی اہمیت کو اجاگر کرے    ۔ (سیاست کو ) اوڑھنا بچھونا بنانے والوں کو ہمیشہ حوصلہ شکن رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ اسی سبب  ویبر نے زور دیا : ’’   یہ بات فقط اسی کو  زیب دیتی ہے کہ وہ  سیاست کو کل وقتی اوڑھنا بچھونا بنا لے ، جس کو یقین ہے کہ وہ ان لمحات میں شکست و ریخت کا شکار نہیں ہو گا جب اس کے زاویہ نگاہ کے مطابق دنیا ، یا تو نہایت احمق ہے یا پھر اس کے ارادوں کے سامنے نہایت بودی  (ذلیل / کھوٹی )ہے ۔ وہی  شخص  جو ان تمام حالات  کے  روبرو  کہہ سکتا ہے  ، کہ ’باوجود اس امر کے ‘،  سیاست اسی کا اوڑھنا بچھونا ہے‘‘ ۔

اگر صرف  دنیائے سیاست کو لیا جائے ، تو حماقت اورکھوٹ (baseness) دونوں عناصر   ہی ویبر کے  اورہمارے زمانے  میں  وافر ہیں ۔ اور اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ ایسے کم ہمت یا  احمق  مرد و خواتین موجود ہیں اوران کا وجود  ہمیشہ رہے گا   جنھوں نے  ایسے کرشماتی رہنماؤں کے ساتھ خود کو نتھی کر لی ہے جو نسلی اور مذہبی بنیادوں پر نفرت  کی آگ کو بھڑکاتے ہیں ۔ ویبر  نے اس قسم کی  آتشِ نفرت کے تحت  پھیلنے والی  مایوسی کے خلاف  بھی تجاویز پیش کیں ۔  اگرچہ اس نے انسانیت کے روبرو  قدرتی دنیا کےضمن میں  شبانہ روز  بڑھتی ہوئی طلسم شکنی   (disenchantment) کی خاطر ایک نہایت قوی مقدمہ استوار کیا ، اس کی زندگی اور تحریرات دنیائے سیاست کو ایک جائے پناہ فراہم کرتے ہیں تاکہ وہ ایسی قسمت سے بچ سکے ۔

Recommended Posts

Leave a Comment

Jaeza

We're not around right now. But you can send us an email and we'll get back to you, asap.

Start typing and press Enter to search